Ayah 61:1اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تسبیح خواں ہے جو کچھ آسمانوں زمین میں ہے
1 ؎ زیر نظر آیت وہی آیت ہے جو اس سے پہلے سورة الحدید اور سورة الحشر کی پہلی آیت کے طور پر گزر چکی ہے اور اس جگہ سورة الصف میں بھی بطور پہلی آیت بیان کی گئی ہے اور جو مفہوم گزشتہ سورتوں میں اجاگر کیا گیا ہے بالکل اسی مضمون کی نسبت سے یہ آیت بیان ہوئی ہے ۔ اس لیے آپ سورة الحدید اور سورة الحشر کی پہلی آیت کی تفسیر پر ایک بار دو بار نظر ڈال لیں تو مفید ہوگا ۔ ایک بات مزید قابل غور ہے کہ ان تین سورتوں میں تو لفظ (سبح) بیان ہوا ہے لیکن آگے آنے والی سورت ( یسبح) سے شروع ہو رہی ہے اور ( یسبح) کا لفظ قرآن کریم میں سات بار آیا ہے ۔ مادہ اگرچہ دونوں لفظوں کا ایک ہے یعنی س ب ح لیکن ان دونوں اسلوبوں میں جو فرق ہے وہ نمایاں ہے کہ ماضی بیان واقعہ اور بیان حقیقت کے لیے آتا ہے اور مضارع تصویر حال اور استمرار کا فائدہ دیتا ہے اور دونوں اسلوب اللہ تعالیٰ کے لیے تسبیح کے معاملہ میں خاص ہیں اور وہی ذات ہے جو تسبیح و تمحید کے لائق ہے ۔
Ayah 61:2اے ایمان والو ! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟
2 ؎ اسلام کی نظر میں جب تک انسان کا قول اور فعل دونوں ایک نہ ہوں ایمان مکمل نہیں ہوتا ۔ بلا شبہ اظہار ایمان کے لیے قول کی ضرورت ہے کہ قول زبان کا فعل ہے اور اگر زبان کسی کے پاس ہے تو اس کے سا تھ اقرار کرنا بھی ضروری ہے لیکن اس کے اقرار کی اس وقت کوئی قیمت نہیں رہتی جب اس کے قول و اقرار کی تصدیق اس کا عمل نہ کرے اور اگر کسی شخص کا فعل اس کے قول کے مخالف ہو تو نہ صرف یہ کہ اس کے قول کی کوئی قیمت نہیں رہتی بلکہ وہ الٹا مجرم ہوجاتا ہے اور یہ جرم کفر سے بھی زیادہ برا ہے یہی وجہ ہے کہ قوم و اقرار کرنے والے شخص کا فعل جب اس کے قول و اقرار کے خلاف ہوتا ہے تو اسلام کی زبان میں اس کو منافق کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور منافقت کو کفر سے بھی زیادہ برا سمجھا جاتا ہے اور بلا شبہ منافق کافر سے بھی برا ہوتا ہے ۔ افسوس کہ جو بات اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے پسند نہیں فرمائی اس کو ہمارے مفسرین خود رب کریم کی ذات کے لیے ضروری نہیں سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کے قول اور فعل میں تضاد بیان کرتے ہیں اور اس بیان کو قدرت پر محمول کرتے ہیں حالانکہ یہ بات اتنی ہی غلط ہے جتنی کہ گدھے کے سر پر سینگ۔ حالانکہ سچی اور درست بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول اور فعل میں تضاد ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے۔
؎ ایں خیال است و محال است و جنوں
اللہ تعالیٰ کی ذات قول و فعل کے تضاد سے پاک ہے اور جو ایسی باتوں کو قدرت پر محمول کرتے ہیں وہ دانایان روزگار بالکل ناداں ہیں اگرچہ وہ اس بات کو تسلیم نہ کریں اور ظاہر ہے کہ جو شخص غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کو تسلیم کرے اس کو آخر نادان کون کہہ سکتا ہے ؟ وہی تو دانائے روزگار ہے ۔ یہ بات آپ کو معلوم ہی ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام یعنی قول ہے اور یہ ساری کائنات اور اس کا نظام اللہ تعالیٰ ہی کا فعل ہے اس لیے دونوں میں تضاد ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے۔
Ayah 61:3جو لوگ کریں کچھ اور کہیں کچھ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناراضگی کا باعث ہیں
3 ؎ (مقتا) کا مادہ م ق ت ہے اور اس مادہ کے جو الفاظ قرآن کریم میں بیان ہوئے وہ مقت ، مقتا اور مقتکم کے ہیں ۔ مقت کا لفظ سورة المو من کی آیت 10 میں آیا ہے۔ ( مقتا ً ) سورة النساء کی آیت 22 ، سورة فاطر کی آیت 39 ، سورة المؤمن کی آیت 35 میں اور ( مقتکم) کا لفظ بھی سورة المؤمن ہی کی آیت 10 میں آیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ المقت اشد الابغاض اور یہ کہ المقت بغض من امر قبیح رکبہ ” حد درجہ کا بغض “ اور یہ وہ بغض ہے جو کسی قبیح حرکت کے باعث ہو مطلب یہ ہے کہ انسان کی یہ حرکت کہ وہ زبان سے کچھ کہے اور فعل سے کچھ کرے ، ایسی بری حرکت ہے جو اللہ تعالیٰ کی دشمنی اور شدت بغض کا سبب بنتی ہے ۔ اس لیے اس کی برائی کا اندازہ خود ہی لگا لو کہ یہ کتنی بری چیز ہے ۔ یہ گویا گزشتہ آیت کی مزید تشریح کی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ لوگ بہت ہی برے لوگ ہیں جو زبانوں سے کچھ کہیں اور افعال ان کے کچھ ہوں اور دونوں میں واضح تضاد موجود ہو اور یہ وہی بات ہے کہ دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت۔ احادیث میں ہے کہ ” نبی اعظم و آخر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب معراج میں میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے ۔ جب ہونٹوں کو کاٹا جاتا تو وہ پھر پہلے کی طرح درست ہوجاتے ۔ میں نے پوچھا اے جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ جبریل نے کہا یہ آپ کی امت کے خطباء میں جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ، جو کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے “ اس میں مذہبی رہنمائوں ، علمائے اسلام ، مفتیان شرح متین ، شیوخ الاشیاخ اور حضرت العلام کے لیے ایک بہت بڑی نصیحت ہے اگر وہ نصیحت حاصل کرنا چاہیں لیکن اس وقت ہمارے عوام و خواص کی جو حالت ہے وہ بالکل اس کے برعکس ہے اور پھر لطف یہ ہے کہ اس کو مزید اس کے برعکس بنا کر ، دیکھ کر ہم خوش ہیں۔ حکومت کے ایوانوں سے لے کر مسجد و مکتب اور محراب و منبر تک سارے خواص پر ایک ایک نظر پھیرتے چلے جائو اس طرح کا تضاد موجود نہ ہو اتو میرے لیے جو سزا آپ تجویز کریں اور اگر حالات ہر جگہ ایسے ہی نظر آئیں تو اپنی اصلاح کی فکر کریں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے اور نفاق سے اتنے دور رہو جتنے آسمان و زمین ایک دوسرے سے دورر ہیں۔
Ayah 61:4بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں
4 ؎ اسلام صلح و آتشی کا دین ہے اور وہ امن و سلامتی کا داعی ہے ۔ قتل و غارت ، خونریزی اور بد امنی اس کے مزاج کے بالکل خلاف ہیں لیکن اس وقت میں بات اسلام کے مزاج کی کر رہا ہوں نہ کہ موجودہ مسلمان کے مزاج کی ۔ بدقسمتی سے ہم جب بھی دھیان کرتے ہیں تو جو بات اسلام کے مزاج کے خلاف پاتے ہیں وہ مسلمان کا مزاج بن کر رہ گئی دیکھتے ہیں اور جب اس بات کا ذکر کرتے ہیں تو پر پھیا میں کسی جاتی ہیں اور ہم کو برا بھلا کہا جاتا ہے کہ یہ ساون کا اندھا ہے اس لیے اس کو ہر طرف ہر اہی ہرا نظر آتا ہے ۔ ہاںٖ ! مجھے جو کہہ سکتے ہو کہہ لو لیکن خدا لگتی کہو ، ذرا عقل کے ناخن لو اور سوچ سمجھ کر بات کرو کہ جو ہم کہتے ہیں کیا یہ سچ نہیں ہے ؟ کیا یہ گروہ بندی اسلام کے مزا ج کے مطابق ہے ؟ کیا ہر ایک کا اپنے آپ کو صحیح اور دوسروں کو غلط سمجھنا اور وہ بھی بغیر کسی دلیل کے اسلام کے مزاج کے مطابق ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا یہ ساری باتیں اس وقت مسلمانوں میں بدرجہ اتم موجود نہیں ہیں ؟ بلا شبہ اسلام نے جنگ اور جہادبالسیف کی اجازت دی ۔ نہیں ! بلکہ قومی زندگی کے لیے اس کو ضروری قرار دیا ہے لیکن اس کے لیے ضروری شرطیں بھی عائد کی ہیں اور اسی میں پہلی اور شرط اول امیر کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے لیے اولوالامر ایک ہو اور ایک کی موجودگی میں اگر کوئی دوسرا حکم دینا شروع کر دے تو اس کا سر قلم کردینے کا حکم دیا ہے۔ کیا یہ شرط عالم اسلام کے لیے اور اس سے نیچے اتر کر کسی ایک اسلامی مملکت کے لیے ضروری قرار دی گئی ہے ؟ باقی کو چھوڑ دو صرف آپ اپنے ملک پاکستان کی بات کرو کیا اس ملک عزیز میں ایک امیر مسلمانوں کا موجود ہے جس کے حکم سے ہم نے جہاد جاری کر رکھا ہے ؟ کیا اندرون ملک اسلام کا دور دورہ ہے اور یہ ملک من حیث القوم دوسرے ممالک کو اسلام کی طرف دعوت دینا چاہتا ہے ؟ کیا ہمارے ہاں جتنے مکاتب فکر ہیں ان سب مکاتب فکر ، پھر جس قدر گروہ تشکیل پا گئے ہیں اور جس طرح ہر گروہ نے اپنا اپنا ایک امیر تصور کرلیا ہے اور اس امیر کے ذریعہ سے جس طرح جہاد کی تحریکیں جاری ہیں کیا ان کا کوئی شرعی جواز موجود ہے ؟ کیا اسلام میں ان امیروں کی کوئی حیثیت ہے ؟ اگر ہے تو وہ کہاں ہے ( ھاتوابرھا لکم ان کنتم صدقین)
بہر حال جہاد کی اول شرط کہ وہ سبیل اللہ ، اللہ تعالیٰ کی راہ میں ، اس کی رضا کے مطابق ہو اور اس کا مقصد حق کی سر بلندی اور باطل کی سر کو بی ہو ، نیکی کی قوتوں کو پھیلانا اور جہاں نیکی کی قوتیں پابند ہو کر رہ گئی ہوں ان کو آزاد کرانا ہے اور یہ کام ہر کافر نہیں بلکہ یک جماعتی اسلام کا ہے اور اس مقصد کے لیے اسلامی حکومت نے افواج اسلام کا سلسلہ چلایا ہے ، ان کو حکم ملنا چاہئے اور ان کو جہاد کے لیے تیار کر کے جہاد ان سے جاری کرانا اور جہاں جس طرح کے جہاد کی ضرورت ہو اس سے کام لینا فرض ہے اور عوام کو افواج اسلام میں ضرورت پڑے تو ان کے قواعد کے مطابق ان کو کمک پہنچانا چاہئے ، ان کے ساتھ تعاون لازم و ضروری ہے نہ یہ کہ ان کو بیرکوں میں بند کر کے ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کے تحت منافقت سے کام لیتے ہوئے دین کے نام پر منافقت کو دین اسلام کا ایک عنصر بنا کر رکھ دینا چاہئے۔ لاریب مسلمانوں کے لیے ضروری ہے اور اسلام کی اہم ہدایت ہے کہ جب میدان کار زار میں اتر پڑیں تو جہاد کرنے کے لیے مسلمانوں کو سیسہ پلائی دیوار کی طرح جسم و جان ہونا چاہئے اور پھر میدان جنگ میں کام آنا اتنا ضروری ہے کہ اگر زندگی رہی تو وہ غازی بن کر نکلیں ورنہ شہادت کا درجہ حاصل کرنا چاہئے ، بھاگنے کا کوئی تصور اسلام میں نہیں ہے اور بد امنی کی شرارت کو ختم کرنے کے لیے جان لڑا دینا فرض اولین ہے لیکن اسلام کا جہاد بدامنی پھیلانے اور شرات کرنے کا نام بالکل نہیں جیسا کہ آج کل ہماری مذہبی اور سادسی جماعتیں دنیوی فوائد حاصل کرنے کے لیے نہلے پر دہلا مار رہی ہیں کہ نہ امن سے رہو اور نہ دوسروں کو رہنے دو اور اس طرح جو تمہارا امن برباد کرتے ہیں تم ان کا امن برباد کر دو ۔ ہرگز نہیں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جو تمہارا امن برباد کرتے ہیں ان امن برباد کرنے والوں کو برباد کر دو تاکہ دونوں طرف امن قائم ہوجائے۔ گویا اسلام کہتا ہے کہ پاگل کو مارنے سے پہلے اس کی ماں کو مارو تاکہ وہ نت نئے پاگل پیدا نہ کرے۔
اس لیے اوپر مذکورہ آیت میں وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف اور صرف ان باہمت جوانمردوں سے محبت اور پیار کرتا ہے جن کی جنگ کی غرض وغایت محض حق کا بول بالا کرنا ہو اور جب وہ کسی میدان کا رزار میں معرکہ آراء ہوں تو ان میں انتشار اور افتراق کا نام و نشان تک نہ ہو ۔ بڑے منظم ہو کر دشمن کی طرف بڑھیں اور ان کی منظم پیش قدمی کو دیکھ کر دیکھنے والے باور کرلیں کہ یہ غیر منظر افراد کی بھیڑ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مضبوط اور مستحکم دیوار ہے جس میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال کر اس کو یکجان کردیا گیا ہے۔ اس جہاد کی ظاہری شکل و صورت نماز موقت تھی لیکن ہماری اس ظاہری صورت حال کا جو حال ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور اس کا ماحصل جو جہاد فی سبیل اللہ ہے اس کی صورت بھی سب کے سامنے ہے اور جو کچھ ہماری حکومت ، سیاسی پارٹیاں اور مذہبی جماعتیں کر رہی ہیں وہ بھی کسی کے پوشیدہ نہیں ہے۔ ہمارا گروہی جہاد بھی سب کے سامنے ہے اور مذہبی فریضہ کی جس طرح ہم دھجیاں بکھیر رہے ہیں وہ بھی سب کو معلوم ہے اور ہماری طاقت وقوت اور سطوت کا جو حال ہے وہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ جہاد کے لیے مانگا ہوا مال ہی ہے جو ہم نے زیب تن کر رکھا ہے اور وہی مال ہے جن سے ہم نے اپنے ذات بنک بیلنس (Bank Balance) تیار کر رکھے ہیں اور اگر کہیں جہاد کا مال نہیں پہنچ سکا تو وہاں ہم نے زکوٰۃ سے یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے ایک اندھا اور کانا قانون اسلام ہی ملک میں قائم کر رکھا ہے اور اس طرح ہم نے سیسہ پگھلا کر اس مال کو مخصوص لوگوں کے ہاتھوں میں بند کر رکھا ہے تاکہ کسی فریب کے کام وہ نہ آسکے ۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہی سے دست بدعا ہیں کہ وہ ہم کو دین کے سمجھنے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی توفیق دے لیکن اس کا قانون یہی ہے کہ وہ محض ان لوگوں کو توفیق دیتا ہے جو خود اپنی حالت کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون کی خلاف ورزی نہ کرتا ہے اور نہ ہی ہونے دیتا ہے۔
Ayah 61:5موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے اندھے پن کی مذمت اور فاسقوں کو ہدایت نہ دینے کا اعلان
5 ؎ دنیا کی تاریخ میں ہمارے سامنے ایک قوم کا نقشہ حیات اس طرح نظر آتا ہے کہ وہ تقریباً ساڑھے چار سو سال سے مصر کے قاہر و جابر بادشاہوں اور مصری قوم کے ہاتھوں میں غلام اور مظلوم چلی آتی ہے اور غالب قوم کے سخت سے سخت مصائب و مظالم کا شکار بن رہی ہے۔ کہ اچانک اسی مردہ قوم میں سے بجلی کی کڑک اور آفتاب کی چمک کی مانند ایک بر گزیدہ ہستی سامنے آتی ہے اور اس کی صدائے حق اور اعلان ہدایت سے تمام قلم روباطل لرزہ براندام ہوجاتی ہے اور ایوان ظلم و کفر میں ایک بھونچال آجاتا ہے۔ وہ دنیا کی ایک زبردست متمدن طاقت کے مقابلہ میں یہ اعلان کرتی ہے کہ میں خدائے واحد کا رسول اور ایلچی ہوں اور تجھ کو ہدایت کی پیروی اور مظلوم قوم کی آزادی کا پیغام سنانے آیا ہوں ۔ فرعونی طاقت اپنے تمام مادی اسباب کے ساتھ اسکا مقابلہ کرتی ہے مگر ہر مرتبہ شکست کا منہ دیکھتی ہے اور آخری بازی میں حق کی کامیابی اور باطل کی ہلاکت کا ایسا حیرت زا نقشہ سامنے آتا ہے کہ وہ مادی طاقت بحر قلزم میں غرق ہوجاتی ہے اور غلام و مظلوم قوم اور دنیوی اسباب و وسائل سے محروم قوم آزادی کے گیت گاتی نظر آتی ہے۔ یہ ہے وہ عجیب و غریب فطرت اور حیرت کن طبیعت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی قوم بنی اسرائیل جو ان تمام معرکہ ہائے حق و باطل کو آنکھوں سے دیکھنے اور حق کی کامیاب کے ساتھ اپنی نجات پا جانے کے شکریہ میں آج موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلا مطالبہ یہ کرتی ہے کہ ہم کو بھی ایسے معبود ، حاجت روا اور مشکل کشا بنا دے جیسا کہ مجاور اور درباروں میں بیٹھے ہوئے پوج رہے ہیں اور مزے سے زندگی بسر کر رہے ہیں ۔
اصل بات یہ ہے کہ اگرچہ بنی اسرائیل نبیوں کی اولاد در اولاد تھے اور ابھی تک ان میں وہ اثرات بھی کسی حد تک پائے جاتے تھے جو ان کے باپ دادا سے ورثہ میں ملے تھے تا ہم صدیوں میں مصری بت پرستوں ، ستارہ پرستوں ، سورج پرستوں اور قبر پرستوں میں بود و ماند کرنے اور ان کے حاکمانہ اقتدار میں غلام رہنے کی وجہ سے ان میں صنم پرستی ، ستارہ پرستی ، سورج پرستی ، قبرپرستی اور گائو پرستی کا جذبہ کافی حد تک سرایت کرچکا تھا اور وہی جذبہ تھا جو ان درباری پجاریوں کو دیکھ کر ان میں ابھر آیا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے ایسا نا پاک مطالبہ کر بےٹھر جس کا ذکر ہم عروۃ الوثقیٰ جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 138 تا 140 میں کرچکے ہیں ۔
پھر وہ وقت آیا کہ ایک اور عجیب و غریب واقعہ آپ کو پیش آیا جس کو حیرت زا بھی کہہ سکتے ہیں اور افسوسناک بھی اور جس سے بنی اسرائیل کی ذہیت اور اخلاقی پستی مزید بےنقاب ہوجاتی ہے وہ یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) جبل طور یا جو رب کے پہاڑ پر پروردگار عالم سے راز و نیا میں مصروف ہیں اور بنی اسرائیل کے لیے آئین الٰہی یعنی تورات حاصل کرنے میں مشغول ہیں اور نیچے وادی سینا میں بنی اسرائیل نے سامری کی قیادت میں خود ہی اپنا معبود ایک گو سالہ منتخب کر کے اس کی سمادھ لگا لی اور اس کی پرستش شروع کردی اور اس کی تفصیل ہم عروۃ الوثقیٰ جلد اول میں سورة البقرہ کی آیت 92 ، 93 جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 158 تا 160 ، جلد پنجم سورة طہٰ آیت 85 تا 92 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ ” اے میری قوم ! تم مجھے کیوں دکھ دیتے ہو حالانکہ تم کو اچھی طرح معلوم ہوچکا ہے کہ میں اللہ رب کریم کی طرف سے پیغام لے کر تمہاری طرف آیا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے عقل و فکر اور فہم و فراست کی جو صلاحتیں انہیں بخشی تھی جب انہوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا اور دانستہ راہ حق کو چھوڑ کر گمراہی کے راستہ پر چل پڑے اور آیات بینات جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کی تھیں وہ بھی ان کے لیے مؤثر ثابت نہ ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے مطابق ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا اور یہ سنت اللہ ہے اور اسی کو ہم قانون سے تعبیر کرتے ہیں کہ جو قوم یا فرد بھی راہ ضلالت پر پورے جوش و خروش سے گامزن ہو آخر کار وہ اسی منزل پر پہنچ جاتا ہے کہ اس سے حق پذیری کی صلاحیتیں سلب کرلی جاتی ہیں ، وہ آنکھ جو نور حق کو دیکھ سکتی ہے اور پہچان سکتی ہے وہ اندھی ہوجاتی ہے اور ظاہر ہے کہ اندھے کو کیا نظر آتا ہے ؟ زیر نظر آیت کے اس حصہ میں اس بات کا ذکر ہے کہ انہوں نے جب حق سے انحراف کیا اور اذیت رسائی سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے قبول حق سے ان کے منہ پھیر دیئے اور ایسے فاسق و فاجر لوگ جو جان بوجھ کر گمراہی کو پسند کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ انہیں ہدایت جیسی گراں بہا نعمت سے محروم کردیتا ہے۔ یہ تو بنی اسرائیل کی قوم کا اس وقت کا حال بیان کیا گیا ہے لیکن آج ہماری قوم مسلم کا کیا حال ہے ؟ اس پر آپ خود نگاہ ڈال لیں اور اگر اس وقت کے بنی اسرائیل سے چند قدم آگے بڑھتی نظر آئے تو بنی اسرائیل کا ماتم نہ کرتے رہیں بلکہ اپنی قوم کی طرف بھی دھیان دیں اور اچھی طرح یاد رکھیں کہ اگر قوم بنی اسرائیل نے اپنی انہی حرکتوں کے باعث اپنے نبی و رسول سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دکھ دیا تھا تو آج قوم مسلم بھی اپنے کر ادر ، اخلاق اور اعمال سے نبی اعظم و آخر ﷺ کو ویسا ہی دکھ دے رہے ہیں اور اللہ کے کسی بھی رسول کو دکھ دینے والے لوگ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور آخرت بھی ان کی برباد ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری قوم مسلم کو بھی سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔