60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 60:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ، تم ان کی طرف دوستی کا پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ یقینا انھوں نے اس حق سے انکار کیا جو تمہارے پاس آیا ہے، وہ رسول کو اور خود تمہیں اس لیے نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان لائے ہو، جو تمہارا رب ہے، اگر تم میرے راستے میں جہاد کے لیے اور میری رضا تلاش کرنے کے لیے نکلے ہو۔ تم ان کی طرف چھپا کر دوستی کے پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ میں زیادہ جاننے والا ہوں جو کچھ تم نے چھپایا اور جو تم نے ظاہر کیا اور تم میں سے جو کوئی ایسا کرے تو یقینا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

1۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ :”عدو“ ”عدا یعدو عدوا وعداوۃ“ سے ”فعول“ بمعنی ”فاعل“ کے وزن پر ہے ، دشمن۔ ”فعیل“ اور ”فعول“ دونوں صیغے واحد ، تثنیہ ، جمع اور مذکر و مؤنث کے لیے ایک ہی لفظ کے ساتھ آجاتے ہیں ، اس لیے ترجمہ ”میرے دشمنوں“ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کہنے کے بجائے کہ کفار اور مشرکین کو دوست نہ بناؤ ، یہ فرمایا کہ میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ پھر ”عدوی“ (میرے دشمنوں) کا ذکر پہلے کیا اور ”عدوکم“ (اپنے دشمنوں) کا ذکر بعد میں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر و مشرک کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ، کیونکہ ان کی دشمنی کی بنیاد نہ وطن ہے نہ نسب اور نہ مال ، بلکہ انہوں نے مسلمانوں کی دشمنی صرف اللہ تعالیٰ کی دشمنی کی وجہ سے اختیار کر رکھی ہے۔ اللہ کی دشمنی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی توحید ، اس کے دین اور اس کے رسول کو نہیں مانتے ، اس لیے انہوں نے ان کی شدید مخالفت اور دشمنی اختیار کر رکھی ہے۔”عدوی“ کو ”عدوکم“ سے پہلے لانے کی مناسبت یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے دین کے دشمن پہلے ہیں ، پھر اس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ آیت میں کفار و مشرکین کی عداوت کا حوالہ دے کر مسلمانوں کو ان کی دوستی سے منع فرمایا گیا ہے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر کفار کی دوستی سے منع کیا گیا ہے اور ساتھ ہی دوستی سے ممانعت کی کوئی نہ کوئی وجہ بیان کی گئی ہے۔ دیکھئے سورة ٔ آل عمران (28) ، نسائ (144) ، مائدہ (51، 57) اور سورة ٔ توبہ (23، 24) ان تمام وجوہات میں بنیادی بات یہی ہے کہ وہ تمہارے اور تمہارے دین کے دشمن ہیں ، جب تک کافر نہ ہوجاؤ وہ کبھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے۔ دیکھئے سورة ٔ بقرہ (120) اور سورة ٔ نسا (89)۔ 2۔ تُلْقُوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ ”المودۃ“ ”تلقون ‘ کا مفعول بہ ہے اور اس پر ”بائ“ تاکید کے لیے آئی ہے ، اس صورت میں معنی یہ ہے کہ تم ان کی طرف دوستی کا پیغام بھیجتے ہو۔ دوسرا معنی یہ کہ ”تلقون“ کا مفعول بہ محذوف ہے :”ای تلقون الیھم الاخبار بالمودۃ“ یعنی تم دوستی کی وجہ سے ان کی طرف خبریں پہنچاتے ہو (جن کا اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں کو کسی صورت علم نہیں ہونا چاہیے)“۔ 3۔ وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَا جَآئَ کُمْ مِّنَ الْحَِق : یعنی انہوں نے تو وہ حق ماننے ہی سے انکار کردیا ہے جو تمہارے پاس آیا ہے اور تم ہو کہ امن کی طرف دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ 4۔ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِیَّاکُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِ اللہ ِ رَبِّکُمْ :”ان تومنوا باللہ ربکم“ سے پہلے لا محذوف ہے ، یعنی انہوں نے صرکفر اور معمولی دشمنی ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ رشتہ داری اور محبت کے تمام سلسلے قطع کر کے رسول کو اور تمہیں اتنی ایذا دی کہ تم سب کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کردیا ، صرف اس وجہ سے کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو۔ اس جملے کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورة ٔ بروج (8) اور سورة ٔ حج (40) ”یخرجون“ مضارع کا صیغہ لانے کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ انہوں نے تمہیں نکالا ہے بلکہ وہ تمہیں نکالنے پر ابھی قائم ہیں اور اب بھی تمہیں تمہارے گھروں میں واپس نہیں آنے دے رہے۔ اس میں مسلمانوں کو کفار کی دشمنی کے لیے ابھارا گیا ہے کہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ وہ تمہارے رسول کو اور تمہیں نکال رہے ہیں اور تم ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہو۔ 5۔ اِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِھَادًافِیْ سَبِیْلِیْ۔۔۔۔۔:”جھادًا“ اور ”ابتغاء مرضاتی“ دونوں ”خرجتم“ کے مفعول لہٗ ہیں اور ”ان کنتم“ شرط کی جزا محذوف ہے جو آیت کے پہلے جملے ”لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیائ“ سے معلوم ہو رہی ہے ، یعنی اگر تم میرے راستے میں جہاد کے لیے اور میری رضا تلاش کرنے کے لیے نکلے ہو تو میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ۔ 6۔ تُسِرُّوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ۔۔۔۔: یعنی تم پر تعجب ہے کہ تم چھپ کر ان کی طرف دوستی کے پیغام بھیجتے ہو ، حالانکہ میں ان باتوں کو جو تم نے چھپائیں اور جو ظاہر کیں تم سے اور ہر ایک سے بڑھ کر جاننے والا ہوں۔ سو تمہیں یہ سوچ کر بھی ایسی حرکت سے اجتناب کرنا چاہیے کہ تمہارا مالک تمہارے ہر کام سے پوری طرح آگاہ ہے کہ تم اپنی کوئی حرکت اس سے کسی طرح بھی نہیں چھپا سکتے۔ 7۔ وَمَنْ یَّفْعَلْہُ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ : یعنی یہ صرف حاطب ؓ یا کسی مہاجر کی مشرکین مکہ کے ساتھ دوستی کا معاملہ نہیں ، بلکہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں میں سے جو بھی یہ کام کرے گا وہ یقینا سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ 8۔ اس آیت سے مخلصین پر اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کا اظہار بھی ہورہا ہے کہ اتنی بڑی غلطی کرنے والوں کو ”یایھا الذین امنوا“ کے ساتھ خطاب ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی معصیت اور گناہ کی وجہ سے آدمی کافر نہیں ہوتا ، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے حاطب ؓ کی غلطی سے در گزر فرمایا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی آدمی کے معاملات میں اس کی سابقہ زندگی کو بھی مد نظر رکھا جائے گا۔
Ayah 60:2

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر وہ تمہیں پائیں تو تمہارے دشمن ہوں گے اور اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں تمہاری طرف برائی کے ساتھ بڑھائیں گے اور چاہیں گے کاش ! تم کفر کرو۔

1۔ اِنْ یَّثْقَفُوْکُمْ یَکُوْنُوْالَکُمْ اَعْدَآئً۔۔۔۔: اس میں پچھلی آیت کے آخری جملے کی وجہ بیان فرمائی ہے ، یعنی تم میں سے جو شخص اس توقع پر کفار و مشرکین سے دوستی رکھے اور ان کی طرف خفیہ پیغام بھیجے کہ وہ مشکل وقت میں اس کے کام آئیں گے یا اس کے اہل و عیال کا خیال رکھیں گے تو وہ سیدھے راستے س بھٹک کر غلط راستے پر چل پڑا ہے ، کیونکہ ان کافروں کے دلوں میں تمہارے لیے اس قدر بغض و عناد ہے کہ وہ تمہیں زندہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے ، کسر صرف اتنی ہے کہ ان کا بس نہیں چل رہا اور تم ان کے قابو نہیں آرہے۔ اگر کسی وقت ان کا بس چل جائے اور تم ان کے قابو میں آجاؤ تو وہ پہلے کی طرح تمہارے دشمن ہی ہوں گے اور اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی کے ساتھ تمہاری طرف بڑھائیں گے ، تم پر دست درازی اور زبان درازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ، جیسا کہ فرمایا :(کَیْفَ وَاِنْ یَّظْہَرُوْا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلَاذِمَّۃً) (التوبۃ : 8)”(مشرکین کے کسی عہد کا اعتبار) کیسے ہوسکتا ہے جبکہ وہ اگر تم پر غالب آجائیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کریں گے اور نہ کسی عہد کا“۔ 2۔ وَوَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ :”لو“ مصدریہ ہے :”ای ودوا کفر کم“ یعنی ان کی خواہش یہی ہوگی کہ تم کافر ہوجاؤ ، اس کے بغیر وہ تم سے کسی طرح بھی راضی نہیں ہوں گے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ بقرہ (109، 120) اور سورة ٔ نساء (89)۔
Ayah 60:3

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن ہرگز نہ تمہاری رشتہ داریاں تمہیں فائدہ دیں گی اور نہ تمہاری اولاد، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔

1۔ لَنْ تَنْفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْج یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ :”ارحام“ ”رحم“ کی جمع ہے ، رشتہ داری۔ مراد ”ذو وا الارحام“ ہے ، رشتہ دار۔ یعنی وہ رشتہ دار اور اولاد جن کی خاطر تم اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہو قیامت کے دن وہ تمہیں ہرگز کوئی فائدہ نہیں دیں گے کہ تمہیں اس گناہ کی سزا سے یہ کہہ کر بچا لیں کہ انہوں نے ہماری خاطر خاطر یہ غلطی کی تھی۔ 2۔ یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ دوسرا یہ کہ وہ قیامت کے دن تمہارے درمیان اور تمہارے ارحام و اولاد کے درمیان جدائی ڈال دے گا ، کسی کو کسی کا ہوش نہ ہوگا ، جیسا کہ فرمایا :(یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ) (عبس : 34 تا 37)”جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ (سے)۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ اس دن ان میں سے ہر شخص کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بےپروا بنا دے گی“۔ پچھلی آیت میں ان لوگوں کا حال بتایا جن سے دوستی کی جا رہی ہے اور اس آیت میں ان لوگوں کا حال بیان کیا جن کی خاطر کفار سے دوستی کی جا رہی ہے۔ 3۔ وَ اللہ ُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ : اس میں فرماں برداروں کے لیے وعدہ اور نافرمانوں کے لیے وعید ہے۔
Ayah 60:4

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

یقینا تمہارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ تھا، جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بیشک ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمہیں نہیں مانتے اور ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہوگیا، یہاں تک کہ تم اس اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ، مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے کہنا (تمھارے لیے نمونہ نہیں) کہ بیشک میں تیرے لیے بخشش کی دعا ضرور کروں گا اور میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز (کے دلوانے ـ) کا مالک نہیں ہوں، اے ہمارے رب ! ہم نے تجھی پر بھروسا کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

1۔ قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ :”اسوۃ“ اور ”قدوۃ“ کے معنی ہیں جس کی پیروی کی جائے ، نمونہ (اچھا ہو یا برا) اس لیے ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کو اسوۂ حسنہ فرمایا۔ یعنی اللہ کے دشمن کفار و مشرکین کے ساتھ دوستی کے سلسلے میں تمہارے لیے ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں میں پہلے سے ایک اچھا نمونہ موجود تھا جو تمہارے پیش نظر رہنا چاہیے تھا۔”والذین معہ“ سے مراد ان پر ایمان لانے والے ساتھی ہیں۔ 2۔ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَئٰٓ ؤُا مِنْکُمْ۔۔۔۔”بر وا“ ”بری“ کی جمع ہے ، جیسے ”کریم“ کی جمع ”کرماء“ ہے۔ یعنی ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھی تمہارے لیے اس بات میں نمونہ ہیں کہ انہوں نے اپنی مشرک قوم سے ، ان کے شرک سے اور ان کے معبودوں سے بری اور لا تعلق ہونے کا اعلان کردیا۔ ”ومما تعبدون“ میں ”ما“ مصدر یہ بھی ہوسکتا ہے اور موصولہ بھی۔ 3۔ کَفَرْنَا بِکُمْ : ہم تمہیں نہیں مانتے ، نہ تمہارے دین کو ، نہ تمہارے خداؤں کو اور نہ ان کی عبادت کو۔ 4۔ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَآئُ اَبَدًا۔۔۔۔۔۔: یعنی ہمارے اللہ پر ایمان لانے اور تمہارے کفر پر قائم رہنے کے بعد ہمارے اور تمہارے درمیان کھلی دشمنی اور دلی بغض ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا ہے ، یہاں تک کہ تم اکیلے پر ایمان لے آؤ۔ 5۔ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰہِیْمَ لِاَبِیْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ : یعنی ابراہیم ؑ کی پوری زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے ، سوائے اس بات کے جو ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے کہی کہ میں تمہارے لیے بخشش کی دعا ضرور کروں گا۔ اس بات میں وہ تمہارے لیے نمونہ نہیں ہیں اور نہ ہی اس میں ان کی پیروی جائز ہے۔ مشرکین کے لیے استغفار کی ممانعت اور ابراہیم ؑ کے استغفار کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ توبہ کی آیات (113، 114) کی تفسیر۔ 6۔ وَمَآ اَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللہ ِ مِنْ شَیْئٍ : یعنی میں تمہارے لیے استغفار ضرور کروں گا ، مگر میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کے دلوانے کا مالک نہیں ، وہ چاہے گا تو تمہیں بخش دے گا ، نہیں تو عذاب دے گا۔ معلوم ہوا کہ یہ اختیار پیغمبروں کے پاس بھی نہیں کہ وہ جسے چاہیں بخشوا لیں ، خوہ وہ ابراہیم ؑ کے والد ہوں یا نوح ؑ کا بیٹا یا ہمارے نبی ﷺ کے چچا ابو طالب ہوں۔ 7۔ رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا : یہ ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کا کلام ہے جو ”الا قول ابراہیم لا بیہ۔۔۔“ سے پہلے کلام کے ساتھ ملا ہوا ہے اور ان چیزوں میں شامل ہے جن میں ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کی پیروی کا حکم ہے۔ گویا ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے یہ کہا :(اِنَّا بُرَئٰٓ ؤُا مِنْکُمْ۔۔۔۔۔ حَتّٰی تُوْمِنُوْا بِ اللہ ِ وَحْدَہٗٓ) اور اپنے رب سے یہ کہا :(رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا۔۔۔۔۔ انک انت العزیز الحکیم) یہ دونوں باتیں کہنے میں وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں اور ہمیں ان کی پیروی کا حکم ہے۔ 8۔ وَاِلَیْکَ اَنَبْنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ :”انبنا“ ”اناب ینیب انابۃ“ (افعال) سے جمع متکلم ماضی معلوم کا صیغہ ہے۔”المصیر“ ”صار یصیر“ سے مصدر میمی ہے۔ ”علیک“ اور ”الیک“ پہلے آنے سے قصر کا مفہوم حاصل ہو رہا ہے کہ اے ہمارے رب ! ہم نے تجھی پر بروسہ کیا ، کسی اور پر نہیں اور تیری ہی طرف رجوع کیا ، کسی اور کی طرف نہیں ، (تو نے ہی سب کو پیدا کیا) اور (آخر کار) تیری ہی طرف واپس آنا ہے۔
Ayah 60:5

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہمیں ان لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا جنھوں نے کفر کیا اور ہمیں بخش دے اے ہمارے رب ! یقینا تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

1۔ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ یونس (85) کی تفسیر۔ 2۔ وَاغْفِرْلَنَا رَبَّنَا۔۔۔۔: پہلی تمام دعائیں حرف عطف کے بغیر ہیں اور یہ واؤ عطف کے ساتھ ہے ، کیونکہ پہلی تمام دعاؤں میں دنیوی زندگی میں اپنے دین کی اصلاح اور اس پر استقامت مانگی گئی ہے اور اس میں اخروی زندگی کی اصلاح کی درخواست ہے۔ دونوں کے درمیان مغایرت کی وجہ سے درمیان میں واؤ عطف لائی گئی ہے۔ ابن عاشور)۔
Ayah 60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

بلا شبہ یقینا تمہارے لیے ان میں اچھا نمونہ تھا، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور جو کوئی منہ پھیرے تو یقینا اللہ ہی وہ ذات ہے جو بےپروا ہے، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔

1۔ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْہِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔۔۔۔: اس سے پہلے ”قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم“ میں یہی بات ذکر ہوئی ہے ، لام قسم کے ساتھ اسے دوبارہ لانے سے ایک تو اس حکم کی تاکید مقصود ہے اور ایک اس کے بعد ”لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر“ لا کر یہ بتانا مقصود ہے کہ ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھی ان لوگوں کے لیے نمونہ نہیں جن کی ساری جدوجہد دنیا کے لیے ہے ، بلکہ وہ صرف ان لوگوں کے لیے نمونہ ہیں جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں۔ 2۔ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللہ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ احزاب (21) کی تفسیر۔ 3۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللہ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ : یعنی جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت کی امید سے منہ موڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بھی اس کی کوئی پرواہ نہیں ، کیونکہ وہ تو غنی وحمید ہے اور غنی وحمید بھی ایسا کہ اس کے سوا کوئی غنی وحمید ہے ہی نہیں۔ مزید دیکھئے سورة ٔ فاطر (15) ، حج (64) اور سورة ٔ حدید (24) کی تفسیر۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

قریب ہے کہ اللہ تمہارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم ان میں سے دشمنی رکھتے ہو، دوستی پیدا کر دے اور اللہ بہت قدرت رکھنے والا ہے اور اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

1۔ عَسَی اللہ ُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْہُمْ مَّوَدَّۃً : اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے مشترک رشتہ داروں سے قطع تعلق کا جو حکم دیا اس کے مطابق اپنے عزیزوں سے ناتا توڑنا اگرچہ نہایت مشکل کام تھا مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور کسی قربت کی پروا نہیں کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق و اخلاص کو دیکھ کر اس آیت کے ساتھ ان کی دلجوئی فرمائی اور انہیں بشارت دی کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جن کے ساتھ دین کی وجہ سے تمہاری دشمنی ہے دوستی پیدا کر دے ، تمہارے یہ عزیز مسلمان ہوجائیں اور دشمنی پھر محبت میں بدل جائے۔ 2۔ وَ اللہ ُ قَدِیْرٌ: ظاہریہ ممکن نظر نہیں آتا تھا کہ جن لوگوں نے مسلمانوں کو مکہ سے نکالا ، مدینہ میں بھی چین نہ لینے دیا ، بدر و احد ، خندق اور دوسرے معرکے برپا کیے وہ دوبارہ دوست بن جائیں گے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ، اس کے لیے دلوں کو پھیر دینا کچھ مشکل نہیں ، چناچہ ان آیات کے نزول کے بعد تھوڑی مدت ہی گزری تھی کہ مکہ فتح ہوگیا اور قریش اور دوسرے قبائل فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے اور سوائے ان کفار کے جو قتل ہوگئے تھے ، آخر کار سب مسلمان ہوگئے ، حتیٰ کہ جزیرۂ عرب میں کوئی مشرک باقی نہ رہا۔ ابو سفیان اور دوسرے قریشی سردار جو مسلمانوں کے خلاف لڑتے آئے تھے ، اب اسلام کی سربلندی کے لیے سربکف ہو کر لڑنے لگے۔ 3۔ وَ اللہ ُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ : یعنی مشرکین نے اب تک اہل ایمان سے جو عداوت رکھی اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت و رحمت کی وجہ سے اس سے در گزر فرما کر انہیں ایمان لانے اور مسلمانوں کے دوست بن جانے کی توفیق عطاء فرمانے والا ہے۔
Ayah 60:8

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

1۔ لَا یَنْہٰکُمُ اللہ ُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ۔۔۔۔۔: اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ ایک محارب جو مسلمانوں سے ضد اور عناد رکھتے تھے ، انہیں ایذا دینے ، ان کے گھروں سے نکالنے اور ان سے لڑنے میں سر گرم تھے ، یا ایسے لوگوں کی پشت پناہی اور مدد کرتے تھے۔ دوسرے مسالم جو کافر تو تھے مگر روادادر تھے ، غیر جانبدار بن کر رہے ، مسلمانوں کو نہ کوئی دکھ پہنچایا اور نہ ان کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ لیا۔ ان میں مکہ کے ارد گرد رہنے والے کئی قبائل تھے ، جیسے بنوخزاعہ اور بنو حارث وغیرہ جو مسلمانوں کے حلیف تھے یا کفار قریش کے مقابلے میں مسلمانوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ اہل مکہ میں بھی اس طرح کے کئی لوگ تھے ، خصوصاً بنو ہاشم اور بنو مطلب کے اکثر لوگوں کی ہمدردیاں مسلمانوں کے ساتھ تھیں۔ مہاجرین کی بہت سی رشتہ دار عورتیں اور بچے جو مکہ میں تھے اور ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تے مگر ان سے انس اور تعلق رکھتے تھے۔ مسلمانوں کی دلی خواہش ایسے لوگوں سے تعلق رکھنے کی تھی ، اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایسے لوگوں سے نیک سلوک اور ان کے حق میں انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا۔ اسماء بنت ابی بکرؓ بیان کرتی ہیں کہ میری ماں نبی ﷺ کے زمانے میں (معاہدہ ٔ صلح کے دوران حسن سلوک کی) امید رکھتے ہوئے میرے پاس آئی ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا :”کیا میں اس سے حسن سلوک کروں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”ہاں !“ ابن عینیہ نے فرمایا :”اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی (لا ینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلو کم فی الدین) ”اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی“۔ (بخاری ، الادب ، باب صلۃ الوالد المشرک : 5978) اسی طرح ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے عمر ؓ کو ایک ریشمی حلہ عطاء فرمایا ، انہوں نے وہ اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ (بخاری ، الادب ، باب صلۃ الاخ المشرک ، 5981)
Ayah 60:9

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ تو تمہیں انھی لوگوں سے منع کرتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی کہ تم ان سے دوستی کرو۔ اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

اِنَّمَا یَنْہٰکُمُ اللہ ُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰـتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ۔۔: ان لوگوں سے مراد وہ کفار ہیں جن کا تذکرہ شروع سورت سے آرہا ہے۔
Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کی جانچ پڑتال کرو، اللہ ان کے ایمان کو زیادہ جاننے والا ہے۔ پھر اگر تم جان لو کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس نہ کرو، نہ یہ عورتیں ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہوں گے۔ اور انھیں دے دو جو انھوں نے خرچ کیا ہے اور تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کرلو، جب انھیں ان کے مہر دے دو۔ اور کافر عورتوں کی عصمتیں روک کر نہ رکھو اور تم مانگ لو جو تم نے خرچ کیا ہے اور وہ (کفار) مانگ لیں جو انھوں نے خرچ کیا ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

1۔ یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ۔۔۔۔۔: ان آیات میں مشرکین سے قطع تعلق کی وجہ سے پیش آنے والے کئی معاملات کا حکم بیان فرمایا ، مثلاً کفار کی بیویاں جو مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مسلمانوں کے پاس آجائیں ، انہیں واپس کیا جائے گا یا نہیں اور میاں بیوی میں سے کسی ایک کے مسلمان ہوجانے سے ان کا باہمی نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں وغیرہ۔ 2۔ حدیبیہ کے موقع پر کفا ر کے نمائدے سہیل بن عمرو نے صلح کی جو شرائط طے کی تھیں ان میں سے ایک شرط جو مسلمانوں کو منظور نہ تھی مگر سہیل نے اس کے بغیر صلح کرنے سے انکار کردیا ، یہ تھی (لا یاتیک منا احد وان کان علی دینک الا رددتہ الینا وخلیت بیننک وبینا) (بخاری ، المغازی ، باب غزوۃ الحدیبیۃ : 4180، 4181)”اور ہم میں سے جو بھی آپ کے پاس آئے گا خواہ وہ آپ کے دین پر ہو ، آپ اسے ہماری طرف واپس کریں گے اور ہمارے اور اس کے درمیان کوئی دخل نہیں دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا عجیب تصرف دیکھئے کہ سہیل اس میں یہ صراحت نہ لکھوا سکا کہ اس میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے :(فقال سھیل و علی انہ لا یاتیک منا رجل وان کان علی دینک الا وددتہ بالینا) (بخاری ، الشروط ، باب الشروط فی الجھاد وا لمصاحۃ۔۔۔۔۔۔: 2731، 2732)”سہیل نے کہا ، یہ شرط بھی کہ ہماری طرف سے جو آدمی بھی آپ کے پاس جائے گا ، چاہے وہ آپ کے دین ہی پر کیوں نہ ہو ، آپ اسے ہمیں واپس کردیں گے۔“ اب اس کے بعد کفار یہ کہہ ہی نہیں سکتے تھے کہ آپ مسلمان ہونے والی عورتوں کو واپس کیوں نہیں کرتے۔ جب معاہدہ طے ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے تمام صحابہ کو قربانی کرنے اور سر منڈوانے کے ساتھ احرام کھولنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر سہیل کا بیٹا ابو جندل ؓ مسلمان ہو کر آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے باپ کے مطالبے پر اسے واپس کردیا ، اس کے علاوہ بھی صلح کی اس مدت میں آپ کے پاس مکہ سے جو مرد آیا آپ نے اسے واپس کردیا خواہ وہ مسلمان ہی تھا۔ اب کئی عورتیں جو ایمان لے آئی تھیں ہجرت کر کے مدینہ پہنچیں ، ان میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط بھی تھیں۔ اس وقت وہ جان تھیں ، ان کے گھر والے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہیں واپس کردینے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہدایات نازل فرمائیں۔ (بخاری ، المغازی م، باب غزوۃ الحدیبیۃ : 4180، 4181) 3۔ فَامْتَحِنُوْہُنَّ اَﷲُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِہِن۔۔۔۔: ایمان والوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کی جانچ پڑتال کرو کہ وہ ایمان ہی کی وجہ سے ہجرت کر کے آئی ہیں یا کوئی اور وجہ ہے۔ اس جانچ پڑتا میں تم اس بات کی مکلف نہیں کہ ان کے دل میں چھپی ہوئی بات معلوم کرو ، یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے ، تمہارا کام یہ ہے کہ اگر وہ ان باتوں کا عہد کریں جو اگلی آیت (12) میں آرہی ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس مت کرو۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کر کے آنے والے کسی مرد کے امتحان کا حکم نہیں دیا ، کیونکہ ان کے امتحان کے لیے ہجرت اور جہاد کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مہاجرین کے صادق الایمان ہونے کی شہادت دی ہے۔ (دیکھئے حشر : 8) جب کہ عورتوں پر جہاد فرض نہیں جس سے کھرے کھوٹے کی تمیز ہوتی ہے۔ (شنقیطی) 4۔ لَاہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّوْنَ لَہُنَّ : اس میں انہیں واپس نہ کرنے کی علت بیان فرمائی ہے کہ نہ مومن عورتیں کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ ہی کافر مرد مومن عورتوں کے لیے حلال ہیں ، اس لیے اگر کوئی عورت مسلمان ہوجائے تو اسے اس کے کافر خاوند سے جدا کرلیا جائے گا۔ پھر اگر وہ اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کا انتظار کرے اور خاوند مسلمان ہوجائے تو نکاح برقرار رہے گا ، خواہ عورت پہلے ہجرت کر کے آئی ہو اور خاوند بعد میں ہجرت کرے ، جیسا کہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے ، انہوں نے فرمایا :(رد النبی ﷺ ابنتہ زینب علی ابی العاص بن الربیع ، بعد ست سین بالنکاح الاولی ولم یحدث نکاحا) (ترمذی ، النکاح ، باب ما جاء فی الروجین الشمرکین یسلم احدھما : 143) وقال الالبانی صحیح)”رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی زینب ؓ کو ابو العاص بن ربیع ؓ کے ساتھ چھ سال کے بعد پہلے نکاح ہی میں واپس بھیج دیا اور نیا نکاح نہیں کیا“۔ اور اگر عورت اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کا انتظار نہ کرے تو اسے اجازت ہے کہ کسی مسلمان کے ساتھ نکاح کرلے ، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ 5۔ وَاٰتُوْہُمْ مَّآ اَنْفَقُوْا : یعنی ہجرت کر کے آنے والی مسلم عورتوں کے مشرک خاوند نے ان کے نکاح پر جو خرچ کیا ہے وہ انہیں واپس کر دو۔ یاد رہے کہ یہ احکام ان مشرکین کی عورتوں کے بارے میں ہیں جن کی مسلمانوں کے ساتھ صلح ہو۔ 6۔ وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ اِذَآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ : یعنی اگر وہ اپنے خاوندوں کے مسلمان ہو کر آنے کا انتظار نہ کریں اور نکاح کرنا چاہیں تو مسلمانوں کو ان سے نکاح کرنے کی اجازت ہے ، جب ان شرطوں کو ملحوظ رکھا جائے جو نکاح کے لیے ضروری ہیں ، مثلاً ولی کی اجازت ، عدت پوری ہونا ، مہر کی ادائیگی وغیرہ۔ 7۔ وَلَا تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ :”عصم“ ”عصمۃ“ کی جمع ہے ، مراد نکاح ہے اور ”الکوافر“ ”کافرۃ ‘ ‘ کی جمع ہے ، جیسے ”ضاربۃ“ کی جمع ”ضوارب“ ہے ، کافر عورتیں۔ یعنی جو مرد مسلمان ہوجائیں اور ان کی بیویاں کفر پر قائم رہیں ان کے لیے انہیں اپنے نکاح میں باقی رکھنا جائز نہیں ، بلکہ طلاق دے دینا لازم ہے ، چناچہ مسور اور مروان بن حکم سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن کفار قریش سے معاہدہ کیا تو آپ کے پاس کچھ مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ۔۔۔۔ وَلَا تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ) (الممتحنۃ : 10) ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں۔۔۔ اور کافر عوتوں کی عصمتیں روک کر نہ رکھو۔“ تو عمر بن خطاب ؓ نے اس دن اپنی دو (مشرک) عورتوں کو طلاق دے دی ، جن میں سے ایک کے ساتھ معاویہ بن ابو سفیان نے اور دوسری کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کرلیا (جو اس وقت شرک پر تھے)۔ (بخاری الشروط ، باب الشروط فی الجھاد۔۔۔۔۔۔ 2731، 2732) ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب ؓ کے نکاح میں تھی ، انہوں نے اسے طلاق دے دی تو اس سے معاویہ بن ابو سفیان نے نکاح کرلیا اور ام حکم بنت ابو سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھی ، انہوں نے اسے طلاق دے دی تو اس سے عبد اللہ بن عثمان ثقفی نے نکاح کرلیا۔ (بخاری الطلاق ، باب نکاح من اسلم من المشرکات وعدتھن : 5287) 8۔ وَسْئَلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ وَلْیَسْئَلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا۔۔۔۔۔: اس کا عطف ”واتوھم ما نفقوا“ پر ہے۔ ہجرت کر کے آنے والی عورتیں یا ان مشرکین میں سے ہوتی تھیں جن کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی جنگ تھی ، ان کے متعلق عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : ”مشرکین کا تعلق رسول اللہ ﷺ اور مومنوں سے دو طرح کا تھا، ایک اہل حرب (لڑائی والے) مشرک ، آپ ﷺ ان سے لڑتے اور وہ آپ ﷺ سے لڑتے تھے اور ایک اہل عہد (معاہدے والے) مشرک۔ اہل حرب مشرکین میں سے کوئی عورت جب ہجرت کر کے آتی تو اسے اس وقت تک نکاح کا پیغام نہیں دیا جاتا تھا جب تک وہ حیض آنے کے بعد پاک نہیں ہوتی تھیں۔ جب پاک ہوجاتی تو اس کے لیے نکاح حلال ہوجاتا ، پھر اگر اس کا خاوند اس کے نکاح کرنے سے پہلے ہجرت کر کے آجاتات و وہ اسے واپس کردی جاتی اور اگر ان کا کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتے تو دونوں آزاد ہوجاتے اور انہیں وہ حقوق حاصل ہوجاتے جو دوسرے مہاجرین کو حاصل تھے۔ (پھر معاہدے والوں کے متعلق مجاہد کی حدیث کی طرح ذکر کیا) اور اگر معاہدے والے مشرکین کا کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتے تو انہیں واپس نہیں کیا جاتا تھا اور ان کی قیمتیں دے دی جاتی تھیں“۔ (بخاری ، الطلاق ، باب نکاح من اسلم من المشرکات و دتھن : 5286) ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورتوں کی دوسری قسم ان مشرکین کی بیویاں تھیں جن کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا معاہدہ ٔ صلح تھا۔ اس آیت میں ان کا حکم بیان ہوا ہے کہ انہیں مشرکین کی طرف واپس مت کرو، بلکہ انہوں نے ان کے نکاح پر جو کچھ خرچ کیا ہے وہ انہیں دے دو اور کافر عورتوں کو بھی روک کر مت رکھو ، بلکہ انہیں طلاق دے دو اور چونکہ تمہاری آپس میں صلح ہے اس لیے جن مشرک عورتوں کو تم نے چھوڑا ہے ان پر کیا ہوا خرچ تم مشرکین سے مانگ لو اور وہ ان عورتوں پر کیا ہوا خرچ تم سے مانگ لیں جو ہجرت کر کے تمہارے پاس آئی ہیں۔
Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی کافروں کی طرف چلی جائے، پھر تم بدلہ حاصل کرو تو جن لوگوں کی بیویاں چلی گئی ہیں انھیں اتنا دے دو جتنا انھوں نے خرچ کیا ہے اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔

وَ اِنْ فَاتَکُمْ شَیْئٌ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ اِلَی الْکُفَّارِ۔۔۔۔: یعنی اگر کافر ان عورتوں کا مہر مسلمانوں کو واپس نہ کریں جو کافر ہو کر یا کافر رہ کر دارالاسلام سے کفار کے ہاں چلی جائیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ کافروں کا جو مال لوٹیں اس میں سے ان مسلمان شوہروں کا خرچ ادا کریں جن کی بیویاں دارالکفر کو بھاگ جائیں ، یا دارالکفر سے جو عورتیں مسلمان ہو کر دارالاسلام میں آجائیں ان کے مہر کافروں کو واپس کرنے کے بجائے ان مسلمان شوہروں کو ادا کریں جن کی بیویاں دارالکفر کو بھاگ جائیں۔ (فعاقبتم“ (پھر تم بدلا حاصل کرو) کے مفہوم میں دونوں چیزیں شامل ہیں ، یعنی لڑائی میں مال غنیمت حاصل کرنا یا مقابلہ میں ان کی عورتوں کا مہر ادا کرنا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں ، اس ”فعاقبتم“ کے مفہوم میں وسعت ہے ، اگر کفار کا مہر ادا کرنا باقی ہو تو مسلمانوں کو وہ دے دیا جائے ، ورنہ مال غنیمت سے اس کے نقصان کی تلافی کردی جائے۔ ابن جریر نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ (اشرف الحواشی)
Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے نبی ! جب تیرے پاس مومن عورتیں آئیں، تجھ سے بیعت کرتی ہوں کہ وہ نہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ کوئی بہتان لائیں گی جو اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے درمیان گھڑ رہی ہوں اور نہ کسی نیک کام میں تیری نافرمانی کرینگی تو ان سے بیعت لے لے اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کر۔ یقینا اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

1۔ یٰٓـاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ۔۔۔۔: عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ جو مومن عورتیں آپ ﷺ کی طرف ہجرت کر کے آتیں آپ ان کا امتحان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ لیتے تھے :(یٰٓـاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ۔۔۔۔ غفور رحیم) تو ان مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کرلیتی رسول اللہ ﷺ اسے فرماتے :(قد بایعتک) ”میں نے تم سے بیعت لے لی“۔ صرف کلام کے ساتھ اور اللہ کی قسم ! آپ ﷺ کے ہاتھ سے بیعت لیتے وقت کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا ، آپ ان سے صرف ان الفاظ کے ساتھ بیعت لیتے تھے :(قد بایعتک علم ذلک) (بخاری ، التفسیر ، سورة الممتحنۃ ، باب :(اذا جاء کم المومنات مھاجرات): 4891)”میں نے ان باتوں پر تم سے بیعت لے لی“۔ امیمہ بنت رقیہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں چند عورتوں کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ سے بیعت کرنے کے لیے آئی ، تو آپ ﷺ نے ہم سے قرآن کی اس آیت کے مطابق بیعت لی :(علی ان لا یشرکن باللہ شئاً۔۔۔) اور فرمایا (فیما استطعتن واطقتن) ”جتنی تم استطاعت اور طاقت رکھو“۔ ہم نے کہا : ”اللہ اور اس کا رسول ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والے ہیں“۔ ہم نے کہا : ”یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ ہم سے مصافحہ نہیں کرتے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :(انی لا اصافح النساء انما قولی لا مراۃ واحدۃ کقولی لمائۃ امراۃ) (اسند احمد : 6، 357، ح : 27009، ترمذی السیر ، باب ما جاء فی بیعۃ النساء : 1597، وصححہ الترمذی والالبانی)”میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ، میری بات ایک عورت سے اسی طرح ہے جیسے ایک سو عورتوں سے ہو“۔ 2۔ جب رسول اللہ ﷺ نے بیعت جیسے اہم موقع پر کسی عورت سے مصافحہ نہیں کیا تو کسی اور کے لیے غیر محرم عورت سے مصافحہ کیسے جائز ہوسکتا ہے ؟ کفار کی تقلید میں غیر محرم عورتوں سے مصافحے کا رواج اور تقدس کے پردے میں پیروں کا اجنبی عورتوں سے مصافحہ دونوں حرام ہیں ، کیونکہ نیت کے خلل کے ساتھ وہ زناکا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں اور سد ذرائع (گناہ کے ذریعوں سے روکنا) شریعت کا مسلم اصول ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(فالعینا زنا ھما النظر والا ذنان زناھما الاستماع واللسان زناہ الکلام والید زناھا البطش والرجل زناھا الخطا و القلب یھوی ویتمنی ویصدق ذلک الفرج ویکذبہ) مسلم ، القدر ، باب قدر علی ابن آدمی حظہ من الزنی وغیرہ : 21، 26571) ”پس آنکھیں ، ان کا زنا دیکھنا ہے اور کان ، ان کا زنا سننا ہ اور زبان ، اس کا زنا کلام ہے اور ہاتھ ، اس کا زنا پکڑتا ہے اور پاؤں ، اس کا زنا چلنا ہے اور دل خواہش کرتا ہے اور تمنا کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کردیتی ہے یا اس کی تکذیب کردیتی ہے“۔ 2۔ جاہلی معاشرے میں اللہ کے ساتھ شرک ، چوری ، زنا ، قتل اولاد اور بہتان کا رواج عام تھا، اس لیے ان کا خاص طور پر ذکر کر کے ان سے منع فرمایا ، جیسا کہ وفد عبد القیس کو خاص طور پر ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا ، جن میں شراب بنائی جاتی تھی ، کیونکہ وہ مسلمان ہوچکے تھے مگر ابھی تک ان میں شراب نوشی کا رواج باقی تھا۔ رہی دوسری منع کردہ چیزیں یا وہ چیزیں جن پر عمل کا حکم دیا ہے ، تو وہ سب ”ولا یعصینک فی معروف“ میں آگئی ہیں۔ یہاں چونکہ عورتوں کی آمد کا ذکر ہے اس لیے ان کا نام لیا ، ورنہ رسول اللہ ﷺ مردوں سے بھی انہی باتوں پر بیعت لیتے تھے۔ عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر جب آپ کے گرد آپ کے اصحاب کی ایک جماعت موجود تھی فرمایا :(با یعونی علی ان لا نشرکو ا باللہ شیئا ، ولا تسرقوا ، ولا تزنوا ، ولا تقتلوا ، اولاد کم ، ولا تاتوا ، بیھتان ، تفترونہ ، بین ایدیکم وارجلکم ولا تعصوا فی معروف ، فمن و فی منکم فاجرہ علی اللہ ، ومن اصاب من ذلک شیاء فعوقب فی الدنیا فھو کفارۃ لہ ، ومن اصاب من ذلک شیاء ثم سترہ اللہ فھو الی اللہ ، ان شاء عفا عنہ وان شاء عاقبہ ، فبایعناہ علی ذلک) (بخاری ، الایمان ، باب علامۃ الایمان حب الانصار : 18)”مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرو گے اور چور ی نہیں کرو گے اور زنا نہیں کرو گے اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور کوئی بہتان نہیں لاؤ گ جسے تم اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ کر کے لا رہے ہوگے اور کسی نیک کام میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ پھر تم میں سے جس نے اس عہد کو پورا کیا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ان میں سے کوئی کام کرلیا ، پھر اس دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے گناہ دور کرنے کا باعث ہے اور جس نے ان میں سے کوئی کام کیا ، پھر اللہ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو وہ اللہ کے سپرد ہے ، اگر چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے سزا دے“۔ تو ہم نے اس پر آپ ﷺ سے بیعت کرلی“۔ حدیبیہ اور فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کے علاوہ بھی آپ ﷺ نے عورتوں سے ان باتوں پر بیعت لی ہے ، چناچہ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے موقع پر مردوں کو خطبہ دینے کے بعد عورتوں کی طرف آئے اور فرمایا :(یٰٓـاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ۔۔۔۔۔) پھر جب آپ آیت کی تلاوت سے فارغ ہوئے تو عورتوں کی مخاطب کر کے فرمایا :(آنتن علی ذلک ؟) ”کیا اس پر قائم ہو ؟“ ان میں سے ایک عورت نے کہا ، جس کے سوا کسی نے جواب نہیں دیا :(نعم)”جی ہاں !“ (بخاری ، العدین باب موعظۃ الامام النساء ، یوم العبد : 979) 4۔ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَہُنَّ : اس میں حمل گرانا بھی شامل ہے ، خواہ جائز ہو یا ناجائز۔ 5۔ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُہْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْہِنَّ وَاَرْجُلِہِنَّ :”بھنان“ کسی کے ذمے گھڑ کر لگایا ہوا جھوٹ جسے سن کر وہ مبہوت اور ششدر رہ جائے۔ اکثر مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ کوئی عورت کسی دوسرے عورت کا بچہ لا کر خاوند اور دوسرے لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرے کہ اس کی ولادت اس کے شکم سے ہوئی ہے ، خواہ وہ کوئی گرا ہوا بچہ اٹھا کرلے آئی ہو یا کسی اور طرح سے لے آئی ہو۔ ظاہر ہے یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب خاوند مدت تک غائب رہا ہو ، یا خاوند کے بجائے کسی اور سے بچے کو جنم دے کر اسے خاوند کا بچہ ظاہر کرے۔”بین ایدیھن وارجلھن“ (ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان) کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی ولادت عورت کے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان ہوتی ہے۔ مگر ”بہتان“ کو انہی صورتوں کے ساتھ خاص کرنا مشکل ہے ، کیونکہ ایک تو بہتان کا لفظ عام ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے مردوں سے بیعت لی تو ان کے لیے بھی یہ الفاظ استعمال فرمائے :(ولا تاتوا ببھتان تفترونہ بین ایدکم وارجلکم) (بخاری : 18) اور نہ تم کوئی بہتان لاؤ گے جو اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے درمیان گھڑ رہے ہوں“۔ جیسا کہ پچھلے فائدے میں یہ حدیث گزری ہے۔ ظاہر ہے بہتان کی یہ صورتیں مردوں سے متعلق تصور نہیں کی جا سکتیں۔ عربی زبان میں ”بین ایدیھم“ کا معنی ”سامنے“ ہوتا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(یعلم ما بین ایدھم) (البقرہ : 255)”وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے“۔ ”وارجھلم“ کا لفظ اس کی تاکید کے لیے ہے ، اس لیے اس کا سادہ مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس بات کا وجود ہی نہیں اسے گھڑ کر پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنے سامنے لا کر پیش نہ کردیا کریں۔ اور یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ اس بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہ قیامت کے دن ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف شہادت دیں گے ، وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے سامنے کسی پر بہتا ن نہ لگا دیا کریں ، بلکہ انہیں چاہیے کہ اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ چار گواہوں کی موجودگی میں بہتان لگا کر رہی ہیں۔ اس مطلب کی تائید دوسری جگہ بہتان باندھنے والوں کے ملعون ہونے کے سلسلے میں ہاتھوں اور پاؤں کی شہادت کے ذکر سے ہوتی ہے ، جیسا کہ فرمایا :(اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْٰاخِرَۃِص وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ یَّوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْہِمُ اللہ ُ دِیْنَہُمُ الْحَقَّ وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللہ ہُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ (النور : 23 تا 25)”بیشک وہ لوگ جو پاک دامن بیخبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں لعنت کیے گئے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ اس دن اللہ انہیں ان کا صحیح بدلا پورا پورا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے ، جو ظاہر کرنے والا ہے۔“ الغرض آیت میں بہتان کی ایک صورت نہیں بلکہ ہر قسم کے بہتان سے اجتناب کا عہد لیا گیا ہے۔ 5۔ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ : اس جملے میں پوری شریعت پر عمل کا اقرار آگیا۔ اس اقرار میں ”فی معروف“ کی شرط لگانے کی کئی توج ہیں ہیں ، ایک یہ کہ اس سے اس بات کی صراحت مقصود ہے کہ رسول حکم ہی معروف کا دیتا ہے ، پھر اس کی معصیت کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے۔ دوسری یہ کہ اگرچہ یہ بات ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حکم معروف کے سوا ہی نہیں سکتا، مگر اس کے ساتھ ”معروف“ (نیک) ہونے کی قید اس لیے لگائی تا کہ سب کو معلوم ہوجائے کہ مخلوق کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام میں جائز نہیں ، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت بھی اس طرح کے ساتھ مشروط ہے۔ تیسری یہ کہ یہاں معاملہ عورتوں کا ہے ، انہیں مطلق اطاعت کے حکم سے کہ وہ آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کریں گی ، شیطان کسی کے دل میں گمراہی کا وسوسہ پیدا کرسکتا تھا ، اس کا راستہ روکنے کیلئے یہ قید لگا دی۔ 7۔ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کئی صورتیں مروی ہیں ، جن میں سے ایک اسلام کی بیعت ہے ، ایک جہاد کی ، ایک بعض باتوں کی پابندی کی ، مثلاً یہ کہ وہ کسی سے سوال نہیں کریں گے اور ایک کبائر سے توبہ اور اطاعت کے عہد کی۔ آپ ﷺ کے بعد صحابہ کرام سے یہ تو ثابت ہے کہ انہوں نے لوگوں سے اسلام لانے کی بیعت لی اور امراء سے اطاعت کی بیعت کی ، مگر خلفیہ یا امیر کے علاوہ کسی اور شخص کا لوگوں سے اپنا مرید بنانے کی بیعت لینا ، جیسا کہ صوفیہ کا طریقہ ہے ، صحابہ کرام کے دور بلکہ پورے خیر القرون میں ثابت نہیں ، کیونکہ اس سے مسلمانوں میں فرقے اور گروہ پیدا ہوتے ہیں۔ پھر یہ معاملہ نقشبندی ، سہروردی ، چشتی اور قادی تک محدود نہیں رہتا ، بلکہ ہر ایک اپنی الگ گدی اور الگ حلقہ قائم کرلیتا ہے جو صرف اس کے حکم کا پابند ہوتا ہے اور ہر پیر و مرشد کا تقاضا ہوتا ہے کہ مرید کا علم چونکہ ناقص ہے اس لیے اگر اس کا مرشد اسے شریعت کے صریح خلاف حکم دے تو وہ بھی اس کے لیے ماننا ضروری ہے ، کیونکہ اس میں بھی کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ان حضرات نے ”فی معروف“ کی قید بھی اڑا دی ، چناچہ ان کے لسامن الغیب حافظ شیرازی کہہ گئے ہیں ؎ بمے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بیخبر نبود زراہ و رسم منزلہا ”اگر پیر مغاں تمہیں حکم دیتا ہے تو مصلے کو شراب سے رنگ لو ، کیونکہ سالک منزلوں کے راہ و رسم سے بیخبر نہیں ہوتا“۔ حقیقت یہ ہے کہ پیری مریدی کا یہ سلسلہ امت کے کتاب و سنت سے دوری اور اس کے باہمی افتراق کا خوف ناک باعث ہے۔ آپ لاکھ قرآن و سنت سنائیں ، پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والا یہی کہے گا کہ کیا ہمارے پیر کو یہ معلوم نہیں۔ رہی یہ بات کہ ہم بطور استاذ اور ہادی پیر کی بیعت کرتے ہیں ، تو ایک تو اس کے لیے بیعت کی ضرورت نہیں ، پھر اپنے آپ کو ایک ہی استاذ اور ہادی کے حکم کا پابند بنانا کہاں سے ثابت ہوا ؟ آپ متعدد اساتذہ اور رہنماؤں سے تعلیم اور رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں اور کرنی چاہیے۔ ہاں ، رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی ہر صورت ہی درست تھی، کیونکہ وہ نبی تھے ، ان کے ہوتے کسی اور کسی بیعت نہ تھی اور نہ ہی اس سے افتراق یا انتشار پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ پھر خلیفہ اور امیر کی بیعت درست ہے ، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے اور ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے کسی اور کی بیعت جائز نہیں۔ 8۔ فَبَایِعْہُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَہُنَّ اللہ ط اِنَّ اللہ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ : یعنی اگر وہ ان باتوں کا عہد کریں تو آپ ان کی بیعت قبول کرلیں اور اس سے پہلے ان سے جو لغزشیں ہوئیں یا آئندہ بشری کمزور ی کی بنا پر ہوں گی ان کے لیے اللہ سے استغفار کریں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ غصے ہوگیا، جو آخرت سے اسی طرح ناامید ہوچکے ہیں جس طرح وہ کافر ناامید ہوچکے ہیں جو قبروں والے ہیں۔

1۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللہ ُ عَلَیْھِمْ : سورت کے شروع میں ”لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیا“ میں مشرکین کی دوستی سے منع فرمایا تھا، آخر میں یہود کی دوستی سے منع فرمایا۔ قرآن مجید میں ”مغضوب علیہم“ عموماً یہود کو کہا گیا ہے۔ دیکھئے سورة ٔ فاتحہ میں ”غیر المغضوب علیھم“ کی تفسیر۔ 2۔ قَدْ یَـئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الکُفَّارُمِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ : اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے ، ایک یہ کہ ”من“ بیانیہ ہے اور ”اصحب القبور“”الکفار“ کا بیان ہے۔ یعنی ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ تعالیٰ غصے ہوگیا (کیونکہ انہوں نے حق کو جانتے ہوئے اور یہ پہچانتے ہوئے کہ آپ ﷺ سچے نبی ہیں، آپ پر ایمان لانے سے انکار کردیا ، اس لیے) وہ آخرت (کی ہر خیر) سے ناامید ہوچکے ، جس طرح وہ کافر آخرت (کی ہر خیر) سے ناامید ہوچکے جو قبروں والوں میں سے ہیں ، یعنی وہ کافر جو فوت ہوچکے اور اپنی آنکھوں سے اپنے عذاب کو دیکھ کر ہر خیر سے مایوس ہوچکے ان کی طرح یہ یہودی بھی جان بوجھ کر حق کو جھٹلانے کی وجہ سے آخرت (کی ہر بھلائی) سے مایوس ہیں ، سو انہیں دوست مت بناؤ۔ متن میں ترجمہ اسی مفہوم کے مطابق کیا گیا ہے اور طبری نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”من“ ابتدائیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ تعالیٰ غصے ہوا ، جو آخرت کے واقع ہونے سے اسی طرح ناامید ہیں جس طرح کفار قبروں والوں کے واپس آنے سے ناامید ہوچکے ہیں۔ یہ دونوں تفسیریں درست ہیں۔ 3۔ بعض اہل علم نے ”مغضوب علیہم“ کو عام رکھا ہے اور فرمایا ہے کہ جس طرح ”ک عدوی وعدوکم“ کے الفاظ عام ہیں ، اسی طرح ”مغضوب علیہم“ کے الفاظ بھی عام ہیں ان میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین و منافقین سبھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے سبھی کی دوستی سے منع فرمایا ہے اور ان سب پر اللہ کا غضب بھی ہے۔ سبھی آخرت میں کسی بھی خیر کی توقع سے محروم ہیں اور سب کافر اس بات سے بھی ناامید ہوچکے ہیں کہ مرنے والے ان کے پاس دوبارہ آئیں گے۔ قرآن مجید میں یہود کے علاوہ دوسرے کفار کے لیے بھی ”غضب“ کا لفظ آیا ہے۔ دیکھئے سورة ٔ اعراف (71) ، نحل (106) ، شوریٰ (16) اور سورة ٔ فتح (6)۔