Ayah 59:1سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ج۔۔۔۔۔۔: اس آیت کی تفسیر سورة ٔ حدید کی پہلی آیت اور سورة ٔ بنی اسرائیل کی آیت (44) میں گزر چکی ہے ، یہاں صرف چند باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس مقام سے متعلق ہیں :(1) سورة ٔ حدید میں ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ والارض“ ہے ، جب کہ یہاں ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ“ ہے۔ ابن عاشور ؒ تعالیٰ نے اس کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ سورة ٔ حدید کی ابتداء میں زمین و آسمان کی ہر چیز کے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنے کو بطور دلیل بیان کیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ کی توحید اور ان صفات کے ثبوت کے لیے جو بعد کی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ چونکہ وہ سب کچھ جو زمین و آسمان میں پایا جاتا ہے مجموعی طور پر اس کی دلیل ہے ، اس لیے ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ“ میں اسے اکٹھا کردیا ہے۔ جب کہ سورة ٔ حشر کی ابتداء میں اللہ کی تسبیح کا ذکر مسلمانوں پر اس احسان کی یاد دلانے کے لیے ہے جو زمین پر پیش آنے والے ایک واقعہ کی صورت میں ہوا اور وہ ہے بنو نضیر کی جلا وطنی اور مسلمانوں کا ان کی راضی اور اموال کا مالک بن جانا۔ اس لیے اس میں زمین والوں کو خاص طور پر الگ ذکر کرنے کے لیے ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ“ فرمایا۔ یہی معاملہ سورة ٔ صف ، سورة ٔ جمعہ اور سورة ٔ تغابن کا ہے ، ان سب میں ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ“ کے بجائے ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ“ کہ اگیا ہے ، کیونکہ ان کے بعد مذکور چیزوں کا تعلق خاص طور پر زمین والوں کے ساتھ ہے۔
2۔ بنو نضیر کے واقعہ کے ذکر سے پہلے ”سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ“ لانے کا مقصد یہ ہے کہ اس جیسے طاقتور قبیلے کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا وہ مسلمانوں کی طاقت کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ تھا ، جو ہر عیب اور عجز سے پاک ہے ، یہ کام جو مسلمانوں کی تعداد اور قوت کے لحاظ سے ممکن ہی نہ تھا ، اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل معمولی ہے ، کیونکہ وہ سبحان ہے ، اللہ تعالیٰ کی صفات ”العزیز الحکیم“ لانے میں بھی حکم ہے کہ جب وہ کسی کو غالب کرنا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا اور اس واقعہ میں بھی اس کی بیشمار حکمتیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں مسلمانوں کے لیے سبق بھی ہے کہ جب آسمانوں کی ہر چیز اور زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے تو تمہیں بھی اس کی بیشمار نعمتوں پر ، جن میں بنو نضیر کی جلا وطنی کی نعمت بھی ہے اس کی تسبیح کرنی چاہیے۔
Ayah 59:21۔ ہُوَالَّذِیْٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ :”ھو“ مبتداء کے بعد ”الذی“ خبر معرفہ لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو رہا ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ جس کی تسبیح ہر وہ چیز کرتی ہے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز بھی جو زمین میں ہے اور جو اکیلا ہی عزیز و حکیم ہے، اسی نے اہل کتاب میں سے ان لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا جنہوں نے کفا کیا ، اس کے سوا انہیں نکالنے والا اور کوئی نہیں۔ یہ اس لیے فرمایا کہ مسلمان جنگ کے بغیر ان کے جلا وطن ہوجانے کو اپنی بہادری نہ سمجھیں ، بلکہ اللہ کا انعام سمجھ کر اس کی تسبیح و تحمید کریں اور اسی کا شکر بجا لائیں۔ ابن کثیر ؒ تعالیٰ نے ”ہُوَالَّذِیْٓ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ“ کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد بنو نضیر کے یہود ہیں۔ یہ بات ابن عباس ، مجاہد ، زہری اور بہت سے لوگوں نے کہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ان سے صلح کرلی اور معاہدہ کیا کہ نہ آپ ان سے لڑیں گے اور نہ وہ آپ سے لڑیں گے ، مگر انہوں نے آپ کے ساتھ کیے ہوئے اس عہد کو توڑدیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا وہ عذاب نازل فرمایا جو ہٹایا نہیں جاسکتا اور ان پر اپنا وہ فیصلہ جاری فرمایا جسے ٹالا نہیں جاسکتا۔ چناچہ نبی ﷺ نے انہیں جلا وطن کردیا اور انہیں ان کے ان مضبوط و محفوظ قلعوں سے نکال باہر کیا جن کے حاصل ہونے کا مسلمانوں کو کبھی طمع تک پیدا نہ ہوا تھا اور جن کے متعلق یہود یہ سمجھتے تھے کہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لینے والے ہیں ، مگر وہ ان کے کسی کام نہ آئے اور اللہ کی طرف سے ان پر ایسی گرفت آئی جو ان کے وہم و گمان میں نہ تھی۔
حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اسی واقعہ کی تفصیلات مذکور ہیں جن میں ان کے عہد توڑنے کے متعدد واقعات کا ذکر ہے۔ ان میں سے ایک وہ ہے جو سنن ابو داؤد میں مروی ہے ، عبد الرحمن بن کعب بن مالک نے نبی ﷺ کے اصحاب ؓ میں سے ایک صحابی سے بیان کیا :”رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تھے ، ابھی بدر کا معرکہ نہیں ہوا تھا کہ کفار قریش نے عبد اللہ بن ابی کی طرف اور اوس خزرج میں سے ایک کے بت پرست ساتھیوں کی طرف خط لکھا کہ تم نے ہمارے ساتھی کو جگہ دے رکھی ہے ، ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تم ہر حال میں اس سے لڑو گے یا اسے نکال دو گے یا ہم سب اکٹھے ہو کر تم پر حملہ آور ہوں گے، تمہارے لڑنے والوں کو قتل کریں گے اور تمہاری عورتیں لوٹ کرلے جائیں گے۔ جب یہ خط عبد اللہ بن ابی اور اس کے بت پرست ساتھیوں کے پاس پہنچا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے جنگ کے لیے جمع ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی تو آپ ان سے ملے اور فرمایا :(لقد بلغ و عیدقریش منکم المبالغ ما کانت تکید کم با کثر مما تریدون ، ان تکیدوا بہ انفسکم تریدون ان تقاتلوا ابناء کم واخوانکم)”قریش کی دھمکی تم پر بہت گہرا اثر کرگئی ہے ، وہ تمہارے نقصان کی اس سے زیادہ کوئی تدبیر نہیں کرسکتے تھے جتنی تم خود اپنے خلاف کر رہے ہو کہ تم اپنے ہی بیٹوں اور بھائیوں سے جنگ کرنا چاہتے ہو“۔ جب انہوں نے نبی ﷺ سے یہ بات سنی تو وہ منتشر ہوگئے۔ کفار قریش کو بھی یہ خبر پہنچ گئے ، چناچہ انہوں نے بدر کے واقعہ کے بعد یہود کو خط لکھا کہ تم اسلحے اور قلعوں والے لوگ ہو، تمہیں ہر حال میں ہمارے ساتھی سے لڑناہو گا ، یا ہم یہ کردیں گے اور وہ کردیں گے اور ہمارے درمیان اور تمہاری عورتوں کی پازیبوں کے درمیان کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکے گی۔ جب یہ خط بنو نضیر کو پہنچا تو انہوں نے عہد توڑنے پر اتفاق کرلیا اور رسول اللہ ﷺ کو پیغام بھیجا کہ آپ اپنے ساتھیوں میں سے تیس آدمیوں کے ساتھ ہماری طرف آئیں ، ہم میں سے بھی تیس علماء آپ کی طرف آئیں گے اور ہم ایک درمیانی جگہ میں ملیں گے۔ وہ آپ کی بات سنیں گے، اگر انہوں نے آپ کی تصدیق کردی اور آپ پر ایمان لے آئیے تو ہم بھی آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ چناچہ صحابی نے ان کا واقعہ بیان کیا کہ جب اگلا دن ہوا تو نبی ﷺ نے لشکروں کو لے جا کر ان کا محاصرہ کرلیا اور انہیں فرمایا :(انکم واللہ ! لا تامنون عندی الا بعھد تعاھد و نی علیہ) ”اللہ کی قسم ! تمہیں میرے ہاں امن نہیں ہوگا جب تک تم نئے سرے سے میرے ساتھ کوئی عہد نہیں کرو گے“۔ انہوں نے آپ کو کسی قسم کا عہد و پیماں دینے سے انکار کردیا ، تو آپ ﷺ نے اس دن ان سے جنگ جاری رکھی ، پھر اگلے دن لشکروں کو لے کر بنی قریظہ کی طرف گئے اور بنو نضیر کو چھوڑ دیا اور انہیں بھی معاہدہ کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے آپ ﷺ سے معاہدہ کرلیا۔ آپ انہیں چھوڑ کر واپس آگئے اور لشکر لے کر بنو نضیر کے پاس پہنچ گئے اور ان سے جنگ جاری رکھی ، حتیٰ کہ وہ جلا وطن کی شرط پر قلعوں سے اتر آئے ، چناچہ بنو نضیر جلا وطن ہوگئے اور اپنے ساز و سامان ، گھروں کے دروازوں اور ان کی لکڑیوں میں سے جو اونٹوں پر لاد کرلے جاسکتے تھے لے گئے : بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص تھے ، وہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو عطاء فرمائے تھے اور صرف آپ کے لیے مخصوص فرمائے تھے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وَمَآ اَفَآئَ اللہ ُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْہُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّلَا رِکَابٍ) (الحشر : 6)”اور جو (مال) اللہ نے ان سے اپنے رسول پر لوٹایاتو تم نے اس پر نہ کوئی گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ“۔ یعنی وہ لڑائی کے بغیر حاصل ہوئے۔ تو نبی ﷺ نے ان کا زیادہ تر حصہ مہاجرین کو دے دیا اور اسے ان کے درمیان تقسیم کردیا اور ان میں سے کچھ حصہ دو انصاریوں کو بھی دیا جو ضرورت مند تھے۔ ان دو کے سو ا انصار میں سے کسی کو اس میں سے نہیں دیا اور اس میں سے رسول اللہ ﷺ کا صدقہ باقی رہ گیا جو بنو فاطمہ کے پاس رہا“۔ (ابو داؤد الخراج والفی ، والامارۃ ، باب فی خبر النضیر : 3004، قال الالبانی صحیح الاسناد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بنو نضیر نے نہ صرف عہد توڑ دیا تھا بلکہ معاہدے کی تجدید سے بھی صاف انکار کردیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے عہد توڑنے کی وجہ سے ان کا محاصرہ کیا اور آخر کار انہیں جلا وطن کردیا۔
ابن کثیر ؒ تعالیٰ نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرمایا :”اصحاب سیر و مغازی نے غزوۂ بنو نضیر کا قصہ اور اس کا سبب جو بیان کیا ہے وہ اختصار کے ساتھ اس طرح ہے کہ جب بئر معونہ پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو شہید کردیا گیا ، جن کی تعداد ستر (70) تھی، تو ان میں سے ایک عمرو بن امیہ ضمری ؓ بچ کر بھاگ نکلے ، مدینہ کی طرف واپس آتے ہوئے انہوں نے موقع پا کر قبیلہ بنو عامر کے دو آدمیوں کو قتل کردیا (اور یہ سمجھے کہ وہ بئر معونہ کے شہداء کا کچھ بدلہ لے رہے ہیں) حالانکہ یہ قبیلہ نبی ﷺ سے معاہد ہ کرچکا تھا اور آپس نے انہیں امن و امان دے رکھنا تھا ، لیکن اس کی خبر عمرو ؓ کو نہیں تھی۔ جب وہ مدینہ پہنچے اور رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :”تم نے انہیں قتل کر ڈالا، اب میں ہر صورت ان کی دیت دوں گا“۔ بنو نضیر اور بنو عامر میں بھی حلف و عقد اور آپس میں مصالحت تھی ، اس لیے رسول اللہ ﷺ ان کی طرف چلے تا کہ کچھ وہ دیں اور کچھ آپ ﷺ دیں اور بنو عامر کو راضی کرلیا جائے۔ قبیلہ بنو نضیر کے قلعے مدینہ کے مشرق کی جانب کئی میل کے فاصلے پر تھے۔ جب آپ ﷺ ان کی دیت کے سلسلے میں تعاون حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا : ”ہاں، اے ابو القاسم ! جیسے آپ پسند فرمائیں گے ، ہم ہر طرح سے آپ کی مدد کریں گے“۔ ادھر آپ سے ہٹ کر انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس سے بہتر موقع کب ہاتھ لگ گا ، اس وقت آپ ﷺ قبضے میں ہیں ، آؤ کام تمام کر ڈالو ، چناچہ یہ مشورہ ہوا کہ جب دیوار سے آپ لگے بیٹھے ہیں اس گھر پر کوئی چڑھ جائے اور وہاں سے بڑا سا پتھر آپ پر پھینک دے اور ہماری جان ان سے چھڑا دے۔ عمرو بن جحاش بن کعب نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور چھت پر چڑھ گیا۔ چاہتا تھا کہ پتھر لڑھکا دے ، اتنے میں اللہ تعالیٰ نے جبریل ؑ کو نبی ﷺ کے پاس بھیجا اور حکم دیا کہ آپ ﷺ یہاں سے اٹھ کھڑے ہوں۔ چناچہ آپ ﷺ فوراً اٹھ گئے ، آپ کے ساتھ اس وقت آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی تھی ، جن میں ابوبکر و عمر اور علی ؓ بھی تھے۔ آپ ﷺ وہاں سے فوراً مدینہ کی طرف چل پڑے۔ ادھر جو صحابہ آپ کے ساتھ نہیں تھے اور مدینہ میں آپ کے منتظر تھے ، وہ آپ کے دیر کردینے کی وجہ سے آپ ﷺ کو ڈھونڈنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ اس دوران انہیں مدینہ سے آنے والے ایک آدمی نے بتایا کہ آپ ﷺ مدینہ پہنچ گئے ہیں ، چناچہ وہ صحابہ واپس پلٹ آئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں اپنے ساتھ یہود کے غدر کی بات بتائی اور ان کے ساتھ جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا اور صحابہ کو لے کر ان کی طرف چل پڑے۔ یہود لشکروں کو دیکھ کر اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے۔ آپ ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا ، پھر حکم دیا کہ ان کے کھجور کے درخت جو آس پاس ہیں ، وہ کاٹ دیے جائیں۔ اب تو یہود چیخنے لگے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ آپ تو زمین میں فساد کرنے سے اوروں کو روکتے تھے اور فسادیوں کو برا کہتے تھے ، پھر یہ کیا ہونے لگا ؟ پس ادھر تو درخت کٹنے کا غم اور ادھر جو کمک آنے والی تھی اس کی طرف سے مایوسی ، ان دونوں چیزوں نے ان یہودیوں کی کمر توڑ دی“۔ (ابن کثیر)۔
2۔ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ :”الحشر“ کا معنی اکٹھا کرنا“ ہے۔ ”اول“ صفت ہے جو اپنے موصوف کی طرف مضاف ہے۔ گویا اصل میں ”للشحر الاول“ ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کو پہلے ہی اکٹھ پر ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ یا ”اول“ کا لفظ ”الحشر“ کی طرف مضاف حقیقی ہے اور معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اکٹھ کے اول (شروع) ہی میں نکال باہر گیا ، لڑنے کی نبوت ہی نہیں آئی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ خود ہی جلا وطنی پر آمادہ ہوگئے۔ شاہ ولی اللہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔”در اول جمع کردن لشکر“۔ اور شاہ عبد القادرنے ترجمہ کیا ہے :”پہلے بھی بھیڑ (ٹکراؤ) ہوتے“۔
3۔ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا : بنو نضیر مدینہ سے دو میل کے فاصلے پر آباد تھے ، یہ لوگ صنعت و حرفت اور تجارت کے علاوہ سود خوری کی وجہ سے مال دار تھے ، ان کے پاس ہر قسم کا سامان حرب موجود تھا اور انہوں نے نہایت مستحکم قلعے بنا رکھے تھے۔ تعداد میں بھی وہ مسلمانوں سے کم نہ تھے ، بنو قریظہ اور خیبر کے یہودی ان کی پشت پر تھے اور انہیں عبد اللہ بن ابی اور منافقین کی اشیر باد بھی حاصل تھی کہ ہم لڑائی میں ہر طرح سے تمہاری مدد کریں گے۔ اس لیے مسلمانوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ مڈ بھیڑ ہوتے ہی لڑائی کے بغیر نکل جائیں گے۔
4۔ وَظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ مَّانِعَتُہُمْ حُصُوْنُہُمْ مِّنَ اللہ ِ :”ظن“ کا معنی گمان بھی ہے اور یقین بھی ، جیسا کہ سورة ٔ بقرہ کی آیت (46) (الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ) میں ہے۔ یعنی یہود کو گمان بلکہ یقین تھا کہ وہ اتنے محفوظ ہیں کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بھی بچا لینے والے ہیں۔
5۔ فَاَتٰـہُمُ اللہ ُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا :”حسب یحسب“ گمان کرنا۔ ”احتسب“ میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے مبالغہ ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ ان کے پاس وہاں سے آیا جہاں سے انہیں ادنیٰ گمان بھی نہ تھا۔
6۔ وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ :”قذف“ کا معنی پتھر وغیرہ پھینکنا ہے ، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دفعتاً اچانک شدت کے ساتھ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ اس میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کہاں سے ان کے پاس آیا ، یعنی وہ اپنے قلعے ، ان کی دیواریں ، دروازے اور چھتیں مضبوط کرتے رہے اور گلی کو چوں سے داخل ہونے کے راستے بند کرتے رہے ، مگر اللہ تعالیٰ نے براہ ِ راست ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب یعنی شدید خوف ڈال دیا۔ جب ہی قائم نہ رہا تو ان کے قلعے انہیں کیا بچاتے ؟ جتنے حمایتی تھے سب انہی کی طرح شدید خوف زدہ ہو کر انہیں چھوڑ گئے ، چناچہ انہوں نے خود ہی اس شرط پر اتر آنے کی درخواست کی کہ ہمیں جان و مال کی امان دی جائے ، ہم یہاں سے نکل جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلحہ کے سوا جو چیز بھی وہ لے جاسکیں ساتھ لے جانے کی اجازت دی اور انہیں جلا وطن کردیا۔ چناچہ ان میں سے کچھ لوگ خیبر میں جا آباد ہوئے اور کچھ شام کی طرف چلے گئے۔ دشمن کے دل میں رعب ڈال دینا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مدد ہے اور ہمارے نبی کریم ﷺ کی اس کے ساتھ جتنی مدد کی گئی اتنی کسی اور پیغمبر کی نہیں کی گئی۔ جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اعطیت خمسا لم یعطھن احدقبلی ، نصرت بالرعب مسیرۃ شھر) (بخاری ، التیم ، باب : 335)”مجھے پانچ چیزیں عطاء کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی کو عطاء نہیں کی گئی (وہ یہ کہ) ایک مہینے کے فاصلے سے رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے“۔ آگے باقی چار چیزیں بیان فرمائیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں میں ان کے شرک کرنے کی وجہ سے رعب ڈالنے کے ساتھ مسلمانوں کی مدد کا بھی وعدہ فرمایا ہے ، دیکھئے سورة ٔ آل عمران (150، 151)
7۔ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَہُمْ بِاَیْدِیْہِمْ : جب انہیں یقین ہوگیا کہ اب جانا ہی جانا ہے تو انہوں نے اندر ہی اندر اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کو گرانا شروع کردیا۔ اس کا باعث ایک تو مسلمانوں پر حسد تھا کہ وہ ان کے کام نہ آسکیں اور دوسرا یہ کہ ان کے دروازے ، کھڑکیاں ، شتہیر اور بالے وغیرہ ساتھ لے جاسکیں۔
8۔ وَاَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ : وہ لوگ محاصرے کے اندر اپنے مکان گرا رہے تھے اور مسلمان گرا رہے تھے اور مسلمان باہر سے ان کی فصلیں ، دیواریں اور مکان گرا رہے تھے ، تا کہ اندر داخلے کا راستہ کھلا ہوجائے اور لڑائی ہو تو وسیع میدان میسرہو سکے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جتنی چیزیں لے جاسکتے تھے نکال کرلے جا رہے تھے اور مسلمان ان کے گرائے ہوئے گھروں سے باقی سامان نکالنے کے لیے انہیں مزید تہہ و بالا کر رہے تھے۔
9۔ فَاعْتَبِرُوْا یٰٓـاُولِی الْاَبْصَارِ تو اے آنکھوں والو ! عبرت حاصل کرو کہ کفر و سرکشی اور بدعہدی کا انجام کیا ہوتا ہے ، کیونکہ سعادت مند وہی ہے جو دوسروں کو دیکھ کر عبرت حاصل کرلے۔ ابن جزی نے اپنی تفسیر ”التسھیل لعلوم التنزیل“ میں فرمایا :”جو لوگ فقہ میں قیاس کو ثابت کرتے ہیں انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے ، حالانکہ ان کا اس آیت سے استدلال ضعیف ہے اور آیت کے مفہوم سے خارج ہے“۔
Ayah 59:31۔ وَلَوْ لَآ اَنْ کَتَبَ اللہ ُ عَلَیْہِمُ الْجَلَآئَ۔۔۔۔۔:”جلال یجلوجلائ“ (ن) ”الرجل“ آدمی کو اس کے شہر سے نکال دینا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ان کے متعلق پہلے سے فیصلہ انہیں جلا وطن کرنے پر اکتفا کا تھا ، تا کہ انہیں عبرت ہو اور وہ اپنی اصلاح کرسکیں۔ اگر اس نے پہلے یہ نہ لکھا ہوتا تو انہیں دنیا ہی میں عذاب دیتا ، ان کے مرد قتل کیے جاتے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی اور غلام بنا لیا جاتا ، جیسے بعد میں بنو قریظہ کو عبرت حاصل نہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ (دیکھئے بخاری : 4032) یہاں ایک سوال ہے کہ جلا وطنی بھی تو عذاب ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ عذاب سے مراد جسمانی سزا ہے ، جس کا احساس واضح اور شدید ہوتا ہے۔
2۔ وَلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ : یعنی اگر وہ جلا وطنی کی وجہ سے دنیا کے عذاب ، قتل ، اسیری اور غلامی سے بچ گئے تو بےفکر نہ ہوں ، اگر وہ اسی طرح کفر پر قائم رہے تو ان کے لیے آخرت میں آگ کا عذاب تیار ہے۔
Ayah 59:4ذٰلِکَ بِاَنّہُمْ شَآقُّوا اللہ َ وَرَسُوْلَہ۔۔۔۔۔: اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ انفال (13) کی تفسیر۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں ”ومن یشاق اللہ“ کے بعد ”ورسولہ“ کو حذف کردیا ہے ، اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ رسول کی مخالفت اللہ تعالیٰ ہی کی مخالفت ہے۔
Ayah 59:51۔ مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ۔۔۔۔:”لینۃ“ کے متعلق تین قول ہیں ، ایک یہ کہ اس سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ ابن جریر نے اسے ترجیح دی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ”لینۃ“ برنی اور عجوہ کے سوا کھجور کا درخت ہے اور تیسرا قول یہ کہ ہر درخت کو ”لینۃ“ کہا جاتا ہے ، کیونکہ جب تک وہ زندہ ہے اس میں ”لیونۃ“ (نرمی) پائی جاتی ہے۔ (شنقیطی) بنو نضیر کی بستیوں کے ساتھ ان کا ایک نہایت خوب صورت باغ تھا جسے ”بویرہ“ کہتے تھے ، اس میں کھجوروں کے بہت سے درخت تھے (یہ آج کل بھی بویرہ کے نام سے معروف ہے جو مسجد قباء کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ شنقیطی) رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کیا تو بعض ضرورتوں اور حکمتوں کے پیش نظر بعض درختوں کو کاٹنے کا اور بعض کو جلانے کا حکم دیا اور بعض اسی طرح رہنے دیے ، جیسا کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا :(حرق رسول اللہ ﷺ نخل بنی النضیر وقطع وھی البویرۃ فنزلت :(ما قطعتم من لینۃ او ترکتموھا قائمۃ علی اصولھا فباذن اللہ) (بخاری ، المغازی ، باب حدیث بنی النضیر۔۔۔۔: 4031)”رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلوا دیئے اور کٹوا دیئے۔ یہی بویرہ جگہ ہے (جس کا حسان ؓ نے ذکر کیا ہے ، جیسا کہ آگے آئے گا) تو یہ آیت اتری :(مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِھَا فَبِاِذْنِ اللہ ِ) (الحشر : 6)”جو بھی کھجور کا درخت تم نے کاٹا یا اسے اس کی جڑوں پر کھڑا چھوڑا تو وہ اللہ کی اجازت سے تھا“۔
درختوں کے کاٹنے اور جلانے پر یہود اور منافقین نے شور مچایا کہ محمد (ﷺ) درختوں کو کاٹ کر ”فساد فی الارض“ کا ارتکاب کر رہے ہیں ، جب کہ ان کا دعویٰ اصلاح کا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دلائی کہ تم نے جو بھی درخت کاٹا اسے اس کی جڑوں پر قائم رہنے دیا تو یہ سب کچھ اللہ کے اذن سے تھا ، یعنی اگرچہ جنگ کے موقع پر عام حکم یہی ہے کہ درخت اور کھیت جلانے اور کاٹنے سے اجتناب کیا جائے ، مگر اس موقع پر جو درخت جلائے گئے یا کاٹے گئے یا باقی رہنے دیے گئے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ اذن سے ہوا ، اس لیے مخالفین کی باتوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
2۔ وَلِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ :”الفسقین“ میں بنونضیر کے علاوہ انہیں عہد توڑنے اور لڑائی کے لیے ابھارنے والے یہودی ، مکہ کے مشرکین اور مدینہ کے منافقین سبھی شامل ہیں۔ یعنی کھجوروں کے درخت کاٹنے ، جلانے یا باقی رکھنے کا عمل دوسری بہت سی مصلحتوں کے علاوہ اس لیے بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ فاسقوں کو ذلیل کرے۔ کاٹنے اور جلانے میں ان کی تذلیل تو ظاہ رہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی زندگی بھر کی کمائی کو جلایا اور کاٹا گیا مگر وہ کاٹنے اور جلانے والوں کا ہاتھ نہ روک سکے۔ اس میں بنو نضیر، دوسرے یہودیوں ، منافقین مدینہ اور مشرکین مکہ سب کی ذلیل تھی کہ انہوں نے یہ سب کچھ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلیا اور اف تک نہ کرسکے ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے شاعر حسان بن ثابت ؓ نے مشرکین مکہ پر طنزو تشنیع کے تیر ب راستے ہوئے کہا :
وھان علی سراۃ بنی لوی حریق بالبویرۃ مستطیر
”بنولوی (قریش) کے سرداروں نے وہ آگ آسانی سے برداشت کرلی جو بویرہ کے مقام پر پھیل رہی تھی (یعنی انہیں اس پر کوئی غصہ آیا نہ غیرت اور نہ ہی وہ حسب وعدہ بنو نضیر کی مدد کو پہنچے)“۔ (بخاری ، المغازی ، باب حدیث بنی التضیر۔۔۔: 4022) اور جو درخت باقی رہے ان میں ان سب کی تذلیل یہ تھی کہ وہ مسلمانوں کے قبضے میں آئے اور کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ ان کے قبضے سے چھڑا سکیں۔
3۔”وَلِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ“ (اور تا کہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے) میں حرف عطف واؤ سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے کچھ عبادت محذوف ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ اذن اس لیے دیا تا کہ بنو نضیر کے محاصرے کے لیے راستہ صاف ہوجائے ، ان کے لیے کوئی چھپاؤ باقی نہ رہے ، محاصرے میں سختی پیدا کی جائے ، انہیں قلعوں سے نکل کر میدان میں آکر لڑنے پر ابھارا جائے اور تا کہ مسلمانوں کو عزت عطاء فرمائے اور تا کہ نافرمانوں کو ذلیل کرے۔
4۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر جنگی ضرورت کا تقاضا ہو تو درختوں اور کھیتوں کو کاٹا، جلایا اور عمارتوں کو گرایا جاسکتا ہے ، بلا ضرورت یہ کام جائز نہیں۔
5۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو قرآن کے علاوہ اور احکام بھی دیئے گئے ، کیونکہ یہاں جس کے متعلق فرمایا کہ ”وہ اللہ کے اذن سے تھا“ وہ ”اذن“ قرآن میں نہیں بلکہ وحی خفی کے ذریعے سے دیا گیا ہے، جسے حدیث کہتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وحی الٰہی صرف قرآن تک محدود نہیں۔
Ayah 59:61۔ وَمَآ اَفَآئَ اللہ ُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْہُمْ۔۔۔۔:”فاء یفیء فیئا“ (ض) جیسا کہ فرمایا :(حَتّٰی تَفِیْٓئَ اِلٰٓی اَمْرِ اللہ ِ) (الحجرات : 9) ”یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔“”افاء یفیی“ (افعال) لوٹانا۔ ”فے“ ان اموال کو کہا جاتا ہے جو جنگ کے ساتھ حاصل ہوں انہیں غنیمت کہا جاتا ہے (بعض اوقات غنیمت پر بھی فے کا لفظ بول دیا جاتا ہے)۔ ان اموال کو ”فے“ اس لیے کہتے ہیں کہ دنیا کے تمام اموال حقیقت میں مسلمانوں کی ملکیت ہیں اور ان پر کفار کا قبضہ ناجائز ہے ، جب مسلمان انہیں حاصل کرتے ہیں تو وہ اپنے اموال واپس لیتے ہیں۔”اوجفتم“ ”وجف یجف وجفا ووجیفا“ (ض) ”الفرش“ گھوڑے کا دوڑنا۔”او جف یوجف ایجافا“ دواڑانا۔ ”خیل“ گھوڑوں کی جماعت۔ ”رکاب“ سواری کے اونٹوں کے لیے اسم جمع ہے۔
2۔”وما افاء اللہ علی رسولہ منھم“ اس جملے کا عطف ”ما قطعتم من لینۃ۔۔۔۔“ پر ہے اور مقصد غزوۂ بنی نضیر میں مسلمانوں کو عطاء ہونے والی نعمتوں میں سے ایک اور نعمت کا بیان ہے۔
3۔ بنو نضیر اپنی جلا وطنی کے ساتھ جو مکان ، باغات اور زمینیں چھوڑ گئے ان کے متعلق فرمایا کہ ان کے جو اموال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو واپس لوٹائے ہیں ان پر تمہارا کوئی حق نہیں ، کیونکہ تم نے انہیں گھوڑے یا اونٹ دوڑا کر یعنی جنگ کرکے حاصل نہیں کیا ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل کے ساتھ کسی قابل ذکر لڑائی کے بغیر وہ سب اپنے رسول کو عطاء فرما دیئے ہیں۔ یاد رہے کہ بنو نضیر کی بستیاں مدینہ سے صرف دومیل کے فاصلے پر تھیں اور مسلمانوں نے پیدل جا کر ہی ان کا محاصرہ کرلیا تھا ، صرف رسول اللہ ﷺ سوار ہو کر گئے اور انہیں نے اس رعب کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ڈالا ، جنگ کیے بغیر ہی ہتھیار ڈال دیئے اور اپنے آپ کو نبی ﷺ کے فیصلے کے حوالے کردیا۔
4۔ وَّلٰـکِنَّ اللہ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ ط۔۔۔۔۔۔: یعنی بنو نضیر کے اموال پر قبضہ تمہارے گھوڑے یا اونٹ دوڑانے کے نتیجے میں نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو اپنے دشمنوں میں سے جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ، وہ اس کے ڈالے ہوئے رعب کی وجہ سے لڑائی کے بغیر ہی اپنے آپ کو حوالے کردیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔
5۔ یہ پہلے اموال تھے جو جنگ کے بغیر محض محاصرے کے نتیجے میں حاصل ہوئے۔ انہیں اصطلاح میں ”فے“ کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بدر میں لڑائی کے نتیجے میں جو اموال حاصل ہوئے انہیں ”غنیمت“ کہا جاتا ہے۔ ان کی تقسیم کا قاعدہ اللہ تعالیٰ نے سورة ٔ انفال میں بیان فرما دیا :(وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ ِﷲِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ) (الانفال : 41)”اور جان لو کہ تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو تو بیشک اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے“۔ یعنی اس میں سے پانچواں حصہ اللہ ، اس کے رسول ، ذوی القربیٰ ، یتامی ٰ ، مساکین اور ابن سبیل کے لیے ہوگا اور باقی چار حصے لڑنے والوں میں تقسیم کردیئے جائیں گے۔ رہے اموال فے جو بنو نضیر سے حاصل ہوئے ، ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان پر تمہارا کوئی حق نہیں ، بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو عطاء فرمائے ہیں۔ یہی معاملہ ان تمام بستیوں کا ہے جو بعد میں جنگ کے بغیر حاصل ہوئیں ، مثلاً بنو قریظہ کی بستیاں اور خیبر کے وہ علاقے جو جنگ کے بغیر فتح ہوئے ، مثلاً فدک وغیرہ ، ان سب کو مکمل طور پر رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں دے دیا گیا کہ آپ جس کو جتنا چاہیں دے دیں یا اپنے پاس رکھیں۔ البتہ مستحقین کی چند اقسام متعین کردی گئیں کہ مال کی تقسیم انہی میں رہنی چاہیے۔ ان مستحقین کا بیان اگلی آیت میں فرمایا۔ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا :(کانت اموال بنی النضیر مما افاء اللہ علی رسولہ ﷺ مما لم یوجف المسلمون علیہ بخیل ولا رکاب ، فکانت لرسول اللہ ﷺ خاصۃ ، ینفق علی اھلہ منھا نفقۃ سنتہ ، ثم یجعل ما بقی فی السلاح والکراع ، عدۃ فی سبیل اللہ) (بخاری ، التفسیر ، باب قولہ :(ما افاء اللہ علی رسولہ): 4885)”بنو نضیر کے اموال ان اموال میں سے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو بطور فے عطاء فرمائے تھے ، جن پر مسلمانوں نے نہ گھوڑے دواڑئے تھے اور نہ اونٹ ، چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص تھے۔ آپ ان میں سے اپنے گھر والوں کو ایک سال کا خرچ دیتے ، پھر جو باقی ہوتا اسے جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کے لیے اسلحے اور گھوڑوں میں صرف کردیتے تھے“۔
Ayah 59:71۔ مَآ اَفَآئَ اللہ ُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰی :”القریٰ“ میں الف لام عہد کا ہے ، اس لیے ترجمہ ”ان بستیوں“ کیا گیا ہے۔
2۔ فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی۔۔۔۔: اس آیت میں ایک عام اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو اموال بھی جنگی کاروائیوں کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں وہ بیت المال کی ملکیت تصور ہوں گے ، ان میں سے مجاہدین کو کچھ نہیں ملے گا ، کیونکہ یہ ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس اجتماع قوت کا نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ ، اس کی امت اور اس کے قائم کردہ نظام کو عطاء فرمائی ہے۔ لہٰذا یہ اموال اموال غنیمت سے بالکل جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں ، انہیں اموال فے کہا جاتا ہے اور ان کا اطلاق منقولہ اور غیر منقولہ دونوں قسم کے اموال پر ہوگا۔ اموال فے میں جزیہ و خراج کی آمدنی بھی شامل ہے جو ایک اسلامی ریاست کو غیر مسلموں سے حاصل ہوتی ہے۔ ان کی تقسیم کا مکمل اختیار رسول اللہ ﷺ کو عطاء کیا گیا اور آپ کے بعد یہ اختیار مسلمانوں کے امیر کو حاصل ہوتا ہے ، جسے وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ مدات میں خرچ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اموال فے کی وہ مدات بھی بیان فرما دیں جہاں انہیں خرچ کیا جائے گا۔ یہ وہی مدات ہیں جن میں اموال غنیمت کا خمس خرچ کیا جاتا ہے، اموال فے کا خمس نہیں بلکہ وہ پورے کے پورے انہی میں خرچ کیے جائیں گے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ انفال (41) کی تفسیر۔
3۔ کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَآئِ مِنْکُمْ ط :”دولۃ“ ”دال یدول دولۃ“ (ن) ”الزمان“ زمانے کا ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنا ، جیسا کہ فرمایا :(وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ ج) (آل عمران : 140)”اور یہ تو دن ہیں ، ہم انہیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔“”دولۃ“ وہ چیز جو ایک دوسرے سے لی جائے ، کبھی اس کے پاس ہو کبھی اس کے پاس۔
”تا کہ مال فے تم میں سے مال داروں کے درمیان ہی گردش کرنے والا ہو“۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا مطلب اتنا ہی ہے کہ اموال فے کو مجاہدین پر تقسیم نہ کیا جائے ، جن کے اکثر پہلے ہی غنی ہوچکے ہیں ، محتاج اور مسکین نہیں رہے ، بلکہ انہیں نادار لوگوں تک پہنچایا جائے ، تا ہم اس میں اسلام کے معاشی نظام کی بنیاد بھی بیان کردی گئی ہے کہ مسلمانوں میں دولت کا بہاء فقراء سے اغنیاء کی طرف نہیں ہوتا کہ دولت مند زیادہ سے زیادہ دولت مند اور غریب زیادہ سے زیادہ غریب ہوتے چلے جائیں ، بلکہ دولت کا بہاؤ اغنیاء سے فقراء کی طرف ہوتا ہے اور اس سے پورے معاشرے کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ دولت کے چند ہاتھوں میں جمع ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ سود ہے ، اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دے دیا۔ دولت کی تقسیم کے لیے زکوٰۃ فرض کی گئی ، اموال غنیمت میں سے خمس نکالنے کا حکم دیا گیا ، مال فے سارا ہی پانچ مدات میں تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا ، نفلی صدقات کی بار بار تلقین کی گئی ، بہت سی فروگزداشتوں پر کفارے رکھے گئے اور میراث کا ایسا قانون بنادیا کہ ہر مرنے والے کی دولت یکجا رہنے کے بجائے پھیل جائے۔ بخل کی شدید مذمت کی گئی اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بار بار تاکید کی گئی اور اس کی فضیلت بیان کی گئی۔ ان احکام پر عمل کیا جائے تو دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو ہی نہیں سکتی۔
4۔ وَمَآ اٰتٰـکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا ج : سلسلہ ـ کلام کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اموال فے میں سے رسول تمہیں جو کچھ دے وہ لے لو اور جس سے روک دے اس سے رک جاؤ۔ آپ کے فیصلے کو کسی چون و چرا اور ملال کے بغیر تسلیم کرلو ، چونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارادہ یہ تھا کہ بنو نضیر کے اموال مہاجرین ہی میں تقسیم کردیئے جائیں ، تا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں ، تو گویا انصار سے کہا جا رہا ہے کہ اگر رسول کسی موقع پر تمہیں نہ دے تو مطالبہ نہ کرو ، یہ رسول کی صواب دید پر ہے کہ وہ تمام مستحقین کو دے یا بعض کو زیادہ مستحق سمجھ کر دے اور دوسروں کو نہ دے۔ سیاق کے مطاب آیت کا مطلب یہ ہے کہ مگر آیت کے الفاظ عام ہیں ، اس لیے یہ صرف اموال کی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ اس میں حکم دیا گیا ہے کہ ہر معاملے میں آپ ﷺ کی اطاعت کرو۔ اس کی وضاحت اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : ”ما اتا کم الرسول فخذوہ وما منعکم فلا تاخدوہ“ کہ رسو ل تمہیں جو دے وہ لے لو اور جو نہ دے وہ نہ لو ، بلکہ فرمایا جس سے روک دے اس سے رک جاؤ ، جس سے منع کر دے اس سے باز آجاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت کا مقصد آپ کے حکم کی اطاعت ہے، چناچہ اس آیت نے آپ ﷺ کے حکم کو مستقل قانون کی حیثیت دے دی ہے اور یہ شرط نہیں رکھی کہ وہی حکم مانو جو قرآن مجید میں ہو ، اس لیے آپ ﷺ کا جو حکم بھی صحیح حدیث سے ثابت ہو واجب العمل ہے۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(دعونی ما ترکتکم ، انما ھلک من کانا قبلکم بسوالھم واختلافھم علی انبیائھم ، فاذا نھیتکم عن شی فاجتنبوہ ، واذ ا امرتکم بامر فاتوا منہ ما استطعم) (بخاری ، الاعتصام ، بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء ، بسنن رسول اللہ ﷺ : 7288)”مجھے اس وقت تک رہنے دو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں ، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء سے سوال اور ان سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ تو جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے دور رہو اور جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے جتنا کرسکتے ہو کرو۔“ اور جلیل القدر صحابی عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بھی اس آیت سے یہی بات صحیح ہے ، چناچہ ان کے شاگرد علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے فرمایا : (لعن اللہ الواشمات والموتشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن ، المغیرات خلق اللہ) ”اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو جلد میں سوئی کے ساتھ نیل بھر کر نقش و نگار بنانے والی ہیں اور جو بنوانے والی ہیں اور جو چہرے کے بال اکھاڑنے والی ہیں اور جو خوب صورتی کے لیے سامنے کے دانتوں میں فاصلے بنانے والی ہیں ، اللہ کی پیدا کردہ شکل کو بدلنے والی ہیں“۔ بنو اسد کی ایک عورت ام یعقوب کو یہ بات پہنچی تو وہ آئی اور کہنے لگی : ”مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے فلاں فلاں کا م کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے ؟“ تو انہوں نے فرمایا :”میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت کی ہے اور جو اللہ کی کتاب میں موجود ہے ؟“ اس عورت نے کہا :”میں نے دو تختیوں کے درمیان جتنا قرآن ہے سارا پڑھا ہے ، مگر مجھے اس میں یہ بات نہیں ملی جو آپ کہہ رہے ہیں“۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : ”اگر تم اسے پڑھتی تو تمہیں ضرور مل جاتی ، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا :(وَمَآ اٰتٰـکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا ج)”اور رسول تمہیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمہیں روک دے تو رک جاؤ“۔ اس نے کہا : ”کیوں نہیں ؟“ فرمایا :”تو آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے“۔ اس نے کہا :”میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ کے گھر والے یہ کام کرتے ہیں“۔ فرمایا :”جاؤ اور دیکھو“۔ وہ گئی ، دیکھا مگر اسے اپنے مطلب کی کوئی چیز دکھائی نہ دی ، تو (ابن مسعود ؓ نے) فرمایا :”اگر وہ (میری بیوی) ایسی ہوتی تو ہمارے ساتھ نہ رہتی“۔
(بخاری، التفسیر ، باب :(وما اتاکم الرسول فخذوہ): 4886)
5۔ وَاتَّقُو اللہ َط اِنَّ اللہ شَدِیْدُ الْعِقَابِ : یعنی اللہ سے ڈرتے رہو اور یادر کھو ! اگر تم نے آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل نہ کی یا آپ کے منع کردہ سے باز نہ آئے تو اللہ کی سزا بہت سخت ہے۔
Ayah 59:81۔ لِلْفُقَرَآئِ : یہ پچھلی آیت میں مذکور :”وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ“ سے بدل ہے۔ گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ ان چاروں سے مراد فقراء مہاجرین ہیں اور انصار اور ان کے بعد آنے والے جو ان کے نقش قدم پر چلنے والے ، ان سے محبت کرنے والے اور ان کے لیے دعا کرنے والے ہیں۔
2۔ الْمُہٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ : یعنی ایک تو وہ فقراء ہیں پھر مہاجر ہیں۔ مراد ان سے وہ لوگ ہیں جو اس وقت مکہ معظمہ اور عرب کے دوسرے علاقوں سے صرف اس جرم میں نکال دیے گئے تھے کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ یہ لوگ اپنے وطن میں گھر بار اور جائیداد وغیرہ سب کچھ رکھتے تھے مگر اب خالی ہاتھ تھے ، نہ ان کے پاس رہنے کے لیے گھر تھے نہ ضرورت کے لیے مال۔ بنو نضیر کا علاقہ فتح ہونے سے پہلے ان کی رہائش اور معاش کا کوئی مستقبل بندوست نہ تھا۔ انصار نے انہیں اپنے ساتھ اپنے گھروں میں رکھا ہوا تھا اور انہیں اپنے باغات اور زمینوں کی آمدنی میں بھی شرکت کر رکھا تھا۔ اس آیت میں فرمایا کہ یہ لوگ مال فے کے حق دار ہیں ، تا کہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں ، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کے مشورے سے بنو نضیر کے باغات اور زمینیں فقراء مہاجرین میں تقسیم کردیں اور ان کے پاس انصار کی جو زمینیں اور باغات تھے وہ انصار کو واپس کردیئے گئے۔ صرف دو انصاریوں کو ان اموال میں سے کچھ نہ کچھ دیا گیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مال فے میں صرف اس زمانے کے مہاجرین کا حصہ تھا ، بلکہ قیامت تک جو لوگ مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنے ملک سے نکال دیئے جائیں انہیں جگہ دینا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانا مسلمان ملکوں کا فرض ہے۔ اس کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ اموال فے بھی خرچ کیے جائیں گے۔
3۔ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہ ِ وَرِضْوَانًا : یعنی ہجرت سے ان کا مقصد دنیا کی کوئی چیز نہیں ، بلکہ انہوں نے محض اللہ کا فضل یعنی جنت اور اس کی رضا کی تلاش کے لیے ہجرت کی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے وعدہ فرمایا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ توبہ کی آیت (72) کی تفسیر۔
4۔ وَّیَنْصُرُوْنَ اللہ وَرَسُوْلَہٗ ط : اور وہ اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی یعنی ان کے دین کی مدد کرتے ہیں۔
5۔ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ : یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے عمل کے ساتھ اپنے قول میں سچے ہونے کو ثابت کردیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کے صادق ہونے کی شہادت دی ہے ، اگلی آیت میں انصار کے بھی ”المفلحون“ ہونے کی شہادت دی ہے۔ سورة ٔ انفال میں دونوں کے متعلق فرمایا :(اولیک ھم المومنون حقا ً) (الانفال : 73)”وہی سچے مومن ہیں۔“ اب اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو انکے صدق یا ایمان میں شک کرے یا ان کے متعلق زبان درازی کرے ! ؟
Ayah 59:91۔ وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُالدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ :”بوا یبوی“ (تفعیل) جگہ دینا ، ٹھکانہ دینا ، جیسا کہ فرمایا :(وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ) (یونس : 93) ’ ’ اور بلا شبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانہ دیا ، با عزت ٹھکانہ۔”تبوا یتبوا“ کسی جگہ میں ٹھکانہ بنانا ، مقیم ہونا۔”الدار“ میں الف لام عہد کا ہے ، اس گھر میں جہاں مہاجرین ہجرت کر کے پہنچے۔ ”دار ہجرت“ مدینہ منورہ کا لقب ہے ، امام مالک ؒ تعالیٰ کو اسی لیے ”امام دار الجھرۃ“ کہا جاتا ہے کہ وہ مدینہ منورہ میں رہتے تھے۔ یعنی اموال فے فقراء مہاجرین کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے مہاجرین کے آنے سے پہلے ہی دار ہجرت اور ایمان میں جگہ بنا لی تھی ، یعنی پہلے ہی مدینہ میں رہتے تھے اور ایمان لے آئے تھے۔ ایمان لانے کے لیے یہاں ایمان میں جگہ اور ٹھکانہ بنانے کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یہ استعارہ ہے جس میں ایمان کو ایک مضبوط پناہ گاہ اور ٹھکانے کے ساتھ تشبیہ دی ہے ، جس میں وہ پہلے ہی داخل ہوچکے تھے۔ ان لوگوں سے مراد تمام انصار ہیں جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس وقت ایمان لائے جب کوئی مہاجر مدینہ میں نہیں آیا تھا ، یعنی بیعت عقبہ اولیٰ والے انصار اور وہ بھی جو رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے ایمان لا چکے تھے جب کچھ مہاجرین آچکے تھے اور کچھ آنے والے تھے اور مکہ فتح ہونے تک مسلمان ہونے والے تمام انصار بھی ، کیونکہ وہ بھی کئی مہاجرین سے پہلے ایمان لے آئے تھے۔
2۔ یُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَیْہِمْ : یہ انصار کی دوسری فضیلت ہے کہ وہ ہجرت کر کے اپنے پاس آنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح انصار نے ہجرت کر کے آنے والوں کو گلے لگایا اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے مہاجرین کو اپنی جائیداد ، گھر بار ، زمینوں اور باغوں میں شریک کرلیا اور اتنے اصرا ر کے ساتھ ان میں سے ہر ایک کو اپنے گھروں میں ٹھہرانے کی کوشش کی کہ مہاجرین کو قرعہ ڈال کر ان کے گھروں میں تقسیم کیا گیا ، جیسا کہ ام علاء انصاریہ ؓ نے فرمایا :(انھم اقتسموا المجھاجرین قرعۃ، قالت فطار لنا عثمان بن مظعون، وانزلناہ فی ابیاتنا) (بخاری ، التفسیر ، باب رویہ النسائ، 7003) ”انصار نے مہاجرین کو قرعہ کے ساتھ تقسیم کیا ، ہمارے حصے میں عثمان بن مظعون آئے ، تو ہم نے انہیں اپنے گھروں میں ٹھہرا لیا“۔
اس محبت کا مظہر مواخات تھی ، جس کی وجہ سے سعد بن ربیع انصاری ؓ نے عبد الرحمن بن عوف ؓ کو اپنی ساری جائیداد اور تمام مکانوں میں سے نصف کی اور دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق کے بعد ان کے نکاح میں دینے کی پیش کش کی ، جس پر انہوں نے انہیں برکت کی دعا دی مگر یہ پیش کش قبول نہ کی۔ (دیکھئے بخاری : 2049) انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا :(یا رسول اللہ ! ما راینا رمثل قوم یدمنا علیھم احسن مواساۃ فی قلیل ، ولااحسن بدلا فی کثیر ، لقد کفونا المثونۃ ، واشر کونا فی المھنا ، حتی لقد حسبنا ان یدھبوا بالاجر کلہ ، قال لا ، مااینتم علیھم ، ودعوتم اللہ عزوجل لھم) (مسند احمد : 3، 200، 201، ح : 13075، قال المحقق ، سنادۃ صحیح علی شرط الشیخین، ترمذی : 2487) ”اے اللہ کے رسول ! ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے جن کے پاس ہم آئے ہیں ، جو تھوڑے میں اچھی سے اچھی غم خواری کرتے ہوں اور زیادہ میں بہتر سے بہتر خرچ کرتے ہوں۔ وہ ہماری جگہ خود محنت مشقت کر رہے ہیں اور انہوں نے آمدنی میں ہمیں شریک کر رکھا ہے ، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوتا ہے کہ سارا اجر وہی لے جائیں گے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :”نہیں ، جب تک تم ان کی تعریف کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دعا کرتے رہو گے“۔ انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کو بلایا تا کہ بحرین کا علاقہ بطور جاگیر ان کے لیے لکھ دیں۔ انہوں نے کہا :”جب تک ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اتنا ہی نہ دیں ہم نہیں لیں گے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا :(اما لا ، فاصبروا حتیٰ تلقونی ، فانہ سیصیبکم بعدی اترۃ) (بخاری ، مناقب الانصار ، باب قول النبی ﷺ للانصار : ”اصبروا حتی ً تلقوانی علی الحوض“: 3794)”اگر تم نہیں لیتے تو صبر کرو ، یہاں تک کہ مجھ سے آملو ، کیونکہ میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی“۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انصار نے نبی ﷺ سے کہا :”اے اللہ کے رسول ! ہمارے کھجوروں کے درخت ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیجئے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”نہیں۔“ تو انصار نے (مہاجرین سے) کہا : ’ ’ تمہ ہماری جگہ محنت کرو گے اور ہم تمہیں پھلوں کی پیداوار میں شریک کرلیں گے“۔ مہاجرین نے کہا :”ہم نے تمہاری بات سنی اور مان لی“۔ (بخاری ، الحرث والمزارعۃ ، باب اذا قال اکنفی موونۃ النحل۔۔: 2325)
3۔ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا : یعنی انصار کے دل میں مہاجرین کی ایسی محبت اور ہمدردی ہے کہ مہاجرین کو کوئی چیز دی جائے تو انصار کے دل میں اپنے لیے اس کی خواہش تک پیدا نہیں ہوتی ، اس کا مطالبہ تو بہت دور کی بات ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کی چھوڑی ہوئی تمام زمینیں اور باغات مہاجرین کو دے دیئے اور انصار نے بخوشی اسے قبول کرلیا۔
4۔ وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ط :”خص یخص خصاصۃ وخصاصا وخصاصاء (ع)“”افتفر“ محتاج ہونا ”خصاصۃ“ فقر و فاقہ۔ اپنی ضرورت سے زائد چیز خرچ کرنا بھی اگرچہ خوبی ہے ، مگر وہ تھوڑا بہت جو آدمی کے پاس ہو ، خود فقر و فاقہ برداشت کرتے ہوئے اسے دوسرے پر خرچ کردینا بہت ہی اونچی بات ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا :”یا رسول اللہ ﷺ ! کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :(جھد المقل وابداء بمن نقول) (ابو داؤد ، الزکاۃ ، باب الرخصۃ فی ذلک : 1677، وقال الالبانی صحیح)”کم مال والے کی کوشش اور ابتداء اس سے کرو جس کی تم پرورش کر رہے ہو“۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا ، آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کے پاس پیغام بھیجا ، ان کی طرف سے جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(من یضم او یضیف ھذا ؟)”اس مہمان کو اپنے ساتھ کون لے جائے گا ؟“ انصار میں سے ایک آدمی نے کہا :”میں لے جاؤ گا۔“ چناچہ وہ اسے لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے کہا :”رسول اللہ ﷺ کے مہمان کی خاطر تواضع کرو“۔ اس نے کہا :”ہمارے پاس بچوں کے کھانے کے سوا کچھ نہیں“۔ اس نے کہا :”کھانا تیار کرلو ، چراغ جلا لو اور بچے جب کھانا مانگیں تو انہیں سلا دو۔“ اس نے کھاناتیار کرلیا ، چراغ جلا دیا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر وہ اس طرح اٹھی جیسے چراغ دراست کرنے لگی ہے اور اس نے چراغ بجھا دیا۔ میاں بیوی دونوں اس کے سامنے یہی ظاہر کرتے رہے کہ وہ کھا رہے ہیں ، مگر انہوں نے وہ رات خالی پیٹ گزار دی۔ جب صبح ہوئی اور وہ انصاری رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :(صحک اللہ اللیلۃ او عجب من فعالکما) ”آج رات تم دونوں میاں بیوی کے کام پر اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا فرمایا کہ اس نے تعجب کیا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌط وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ) (الحشر : 9) ”اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں ، خواہ انہیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں“۔ (بخاری ، مناقب الانصار ، باب قول اللہ عزوجل :(ویوثرون علی انفسھم۔۔۔۔۔) : 3798۔ مسلم : 2054) صحیح میں اس انصاری کا نام بھی مذکور ہے کہ وہ ابو طلحہ ؓ تھے۔
5۔ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ۔۔۔۔۔”یوق“ ”و فی یقی و قایۃ“ (ض) (بچانا) سے فعل مضارع مجہول ہے ، اصل میں ”یوفی“ تھا، ”من“ کے جزم دینے کی وجہ سے الف گرگیا۔ راغب نے فرمایا :’ ’ الشح بخل مع حرص و فتک فیا کانت عادۃ“”شح“ وہ بخل ہے جس کے ساتھ حرص بھی ہو اور یہ آدمی کی عادت ہو۔”یعنی“ شح یہ نہیں کہ آدمی کسی وقت بخل کر جائے یا حرض سے کام لے لے ، بلکہ یہ دونوں چیزیں اس کی عادت ہوں۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ ”شح“ یہ ہے کہ جو آدمی کے پاس ہو اس پر بخل کرے اور جو نہیں اس کی حرص رکھے۔”وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ“ سے ظاہ رہے کہ ہر انسان میں یہ عادت پائی جاتی ہے ، بچتا وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ بچائے اور جنہیں اس بری خصلت سے بچا لیا جائے وہی کامیاب ہیں۔ آیت میں ”شح“ سے بچنے کی تاکید اور فضیلت کا ب یان ہے ، پھر جو کوشش کرے اللہ تعالیٰ اسے بچا لیتا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَاط وَاِنَّ اللہ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ) (العنکبوت : 69)”اور وہ لوگ جنہوں نے ہمارے بارے میں پوری کوشش کی ہم ضرور ہی انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے اور بلا شبہ اللہ یقینا نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔ اور ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ومن یستعفف یعفہ اللہ ومن یستغن یعنہ اللہ ، ومن یتصبر یصبرہ اللہ ، وما اعطی احد عطاء خیرا و اوسع من الصبر) (بخاری ، الزکۃ باب الاستعفاف عن المسئلۃ : 1469) ”اور جو (سوال سے) بچے گا اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا اور جو غنی بننے کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اسے غنی بنا دے گا اور جو صبر کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر عطاء کردے گا اور کسی شخص کو کوئی ایسا عطیہ نہیں دیا گیا جو صبر سے اچھا اور زیادہ وسیع ہو“۔ اور جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اتقوا الظلم فاک الظلم ظلمات یوم القیامۃ واتقوا الشح فان الشح اھلک من کان قبلکم حملھم علی ان سفکوا دماء ھم واستحلوا محارمھم) (مسلم ، البروالصلۃ ، باب تحریم الظلم : 2587)”ظلم سے بچو ، کیونکہ ظلم قیامت کے دن بہت سی تاریکیاں ہوگا اور ’ ’ شح“ (بخل و حرص) سے بچو ، کیونکہ شح نے ان لوگوں کو ہلاک کردیا جو تم سے پہلے تھے۔ اس نے انہیں اس بات پر ابھارا کہ انہوں نے اپنے خون بہائے اور اپنے اوپر حرام چیزوں کو حلال کرلیا“۔
6۔ اس آیت میں انصار کی جو صفات بیان ہوئی ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ انہی کے ساتھ خاص ہیں بلکہ وہ مہاجرین میں بھی بدرجہ اتم موجود تھیں۔ ان کی ہجرت ہی ان تمام صفات کی جامع ہے ، کیونکہ آدمی کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ اللہ ، اسکے رسول اور ایمان والوں کی محبت اور انہیں اپنے جان و مال پر ترجیح دیے بغیر ہجرت کرسکے۔ پھر ہر موقع پر انصار کی طرح مہاجرین نے بھی جس طرح اپنے مال و جان کو اللہ کی راہ میں قربان کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ جنگ تبوک کے موقع پر ابوبکر صدیق ؓ گھر میں جو کچھ تھا سب لے آئے اور عمر ؓ آدھا سامان لے آئے۔ یہ ”شیخ“ سے محفوظ ہونے اور ایثار کی بلند ترین مثالیں ہیں۔ اسی طرح پہلی آیت میں مہاجرین کے جو اوصاف بیان ہوئے ہیں ان کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صرف انہی کے ساتھ خاص ہیں ، بلکہ وہ انصار میں بھی موجود تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا ذکر اکٹھا فرمایا ہے اور دونوں کو ایک دوسرے کے دوست اور سچے مومن قرار دیا ہے۔ چناچہ فرمایا :(اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓئِکَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ ط) (الانفال : 72)”بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور انپے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی ، یہ لوگ ! انکے بعض بعض کے دوست ہیں“۔ اور اس کے بعد فرمایا :(وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْا اُولٰٓـئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا) (الانفال : 74)”اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں“۔ غرض مہاجرین و انصاری میں سے کوئی بھی فضیلت میں کمی نہیں ، تا ہم مہاجرین کو اپنی نصیحت کی وجہ سے انصار پر ایک قسم کی برتری حاصل ہے ، اس لیے ان آیات میں ان کا ذکر پہلے آیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے حنین کی غنیمتوں کی تقسیم کے موقع پر انصار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :(اترضون ان یدھب الناس بالشاۃ والبعیر ، وتذھبون بالنبی ﷺ الی رحالکم ؟ لولا الھجرۃ لکنت امرا من الانصار ولو سلک الناس وادیا وشعبا لسلکت وادی الانصار وشعبھا ، الانصار شعار والناس دثار) (بخاری ، المغازی ، باب غزوۃ الطائف فی شوال سنۃ ثمان : 433)”کیا تم پسند کرتے ہو کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم نبی ﷺ کو اپنے گھروں کی طرف لے جاؤ ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک آدمی ہوتا اور اگر لوگ کسی وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار شعار (جسم کے ساتھ ملا ہوا کپڑا) ہیں اور دوسرے لوگ دثار (اوپر لیا جانے والا کپڑا) ہیں“۔