Ayah 59:101۔ وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْم بَعْدِہِمْ : اس کا عطف مہاجرین و انصار پر ہے جن کا ذکر پچھلی دو آیات میں گزرا۔ یعنی اموال فے مہاجرین و انصار کے فقراء کے لیے ہیں اور ان فقراء کے لیے جو ان کے بعد آئے۔ یہ اموال فے کے مستحقین کی تیسری قسم ہے۔ ان میں تابعین ، تبع تابعین اور قیامت تک آنے والے تمام مسلمان شامل ہیں ، اگر ان میں سے وہ صفات موجود ہوں جن کا اس آیت میں ذکر ہے۔
2۔ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ۔۔۔۔۔: ان میں سے پہلی صفت جو ”الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ“ سے ظاہر ہے ، یہ ہے کہ وہ مہاجرین و انصا کو مومن مانتے ہوں اور انہی چیزوں پر ایمان رکھتے ہو جن پر ان کا ایمان تھا۔ دوسری صفت یہ ہے کہ وہ ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوں۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ مہاجرین و انصار صحابہ اور ان کے پیروکاروں سے نہ صرف محبت رکھتے ہوں بلکہ دعا بھی کرتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں ان کے بارے میں کوئی کینہ یا دشمنی باقی نہ رہنے دے اور نہ ہی پیدا ہونے دے۔ مفسرابن کثیر ؒ تعالیٰ نے فرمایا کہ امام مالک ؒ تعالیٰ نے اس آیت سے کیا ہی خوب صورت استنباط کیا ہے کہ رافضی جو صحابہ کو گالی دیتا ہو ، اس کا مال فے میں کوئی حصہ نہیں ، کیونکہ اس میں وہ اوصاف نہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ”وَالَّذِیْنَ جَآئُ وْ مِنْم بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ“ میں ذکر فرمائے ہیں۔ ام المومنین عائشہ ؓ نے اس آیت کے مفہوم کے پیش نظر اپنے بھانجے عروہ سے فرمایا :(یا ابن اختیی ! امرو ا ان یستغفروا الاصحاب النبی ﷺ فسبوھم) (مسلم ، التفیر ، باب فی تفسیر آیات منفرقہ، 22، 30) ”اے میرے بھانجے ! ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ نبی ﷺ کے صحابہ کے لیے مغفرت کی دعا کریں ، لیکن وہ انہیں گالیاں دینے لگے“۔ بعض نے فرمایا : جس کے دل میں کسی صحابی کے متعلق کینہ ہو اور وہ تمام صحابہ کے لیے رحم کی دعا نہ کرتا ہو وہ ان لوگوں میں شامل نہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بالترتیب ایمان والوں کے تین مراتب بیان فرمائے ہیں ، مہاجرین ، انصار اور ان کے وہ پیروکار جن میں وہ اوصاف ہوں جو آیت میں مذکور ہیں ، سو جو شخص ان صفات والے پیروکاروں میں سے نہ ہو وہ مومنوں کی اقسام سے خارج ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ رافضی لوگوں سے ، جو صحابہ کو گالی دیتے ہیں ، یہود و نصاریٰ ہی اچھے رہے ، کیونکہ یہود سے پوچھا گیا کہ تمہاری ملت میں سے بہتر لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا ، موسیٰ ؑ کے اصحاب۔ نصاریٰ سے پوچھا گیا ، تمہاری ملت میں سب سے بہتر لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا ، عیسیٰ ؑ کے اصحاب۔ رافضیوں سے پوچھا گیا کہ تمہاری ملت میں سب سے برے لوگ کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا ، محمد ﷺ کے اصحاب۔ (نعوذ باللہ من ذلک)۔
3۔ رَبَّنَآ اِنَّکَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ : اپنے سے پہلے ایمان والوں کے لیے مغفرت کی دعا اور اپنے سینوں کو ان کے کینے سے پاک رکھنے کی دعا کے آخر میں اللہ تعالیٰ کو اس کے ان دو اسمائے حسنیٰ کا واسطہ دیا ، کیونکہ یہ دونوں چیزوں اس کی رافت و رحمت ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔
Ayah 59:111۔ اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا۔۔۔۔۔: اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیات عبد اللہ بن ابی اور اس کے دوسرے منافق ساتھیوں کے بارے میں ازیں کہ انہوں نے بنو نضیر کے یہود کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنے قلعوں میں ڈٹ جاؤ ، اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یقینا یہ لوگ جھوٹے ہیں ، اگر انہیں نکالا گیا تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ مفسر آلوسی نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ سورت بنو نضیر کے واقعہ سے پہلے اتری ہے ، جب کہ محدثین اور سیرت نگاروں کے مطابق یہ سورت بنو نضیر کے واقعہ کے بعد اتری ہے ، جب وہ جلا وطن کیے جا چکے تھے۔ آلوسی نے اشارے ہی پر اکتاف کیا ہے کہ ان آیات کو بنو نضیر کے متعلق سمجھنا درست نہیں۔ ابن عاشور نے اپنی تفسیر ”التحریر والتنویر“ میں لکھا ہے کہ منافقین نے جن کفار اہل کتاب کو یہ بات کہی تھی وہ بنو نضیر نہیں بلکہ بنو قریظہ اور خیبر کے یہودی تھی، کیونکہ بنو نضیر کا قصہ تو اس سے پہلے تمام ہوچکا تھا۔ اب وہ منافقین باقی ماندہ یہودیوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے کی تلقین کر رہے تھے اور انہیں یقین دلا رہے تھے کہ ہم ہر حال میں تمہارا ساتھ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مسلمانوں کو حوصلہ دلایا کہ فکر مت کرو ، یہ کسی صورت میں بھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔
ابن عاشور کی بات ہی درست ہے۔ ان آیات کو طبری میں مذکور ابن عباس ؓ کے جس قول کے مطابق بنو نضیر کے متعلق قرار دیا گیا ہے اس کی سند ثابت نہیں ، اس میں طبریٰ کے شیخ محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں۔
2۔”اَلَمْ تَرَ“”الم تعلم“ کے معنی میں ہے۔ نبی کریم ﷺ کی نبوت کے بہت سے دلائل میں سے یہ بھی ایک دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو منافقین کی اس بات سے آگاہ کردیا جو ان کے درمیان انتہائی راز کی بات تھی۔
3۔ یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِھِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ : جیسا کہ اوپر گزرا کہ ان کفار اہل کتاب سے مراد بنو قریظہ اور خیبر کے یہودی ہیں ، انہیں منافقین کے بھائی قرار دینے سے ظاہر ہے کہ جس طرح ایمان والے آپس میں دوست اور بھائی ہیں (دیکھئے حجرات : 10۔ انفال : 72) اسی طرح کفار بھی ہیں ایک دوسرے کے دوست اور بھائی ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ) (الانفال : 73)”اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے بعض بعض کے دوست ہیں۔“ بھائی ہونے سے مراد نسی اخوت نہیں ہے ، کیونکہ عبد اللہ بن ابی اور دوسرے اکثر منافقین اوس و خزرج کے مشرکین میں سے تھے ، اہل کتاب سے ان کی اخوت کفر ہی میں تھی۔
4۔ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ وَلَا نُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًا : اس میں منافقین یہود کے دل میں آنے والے اس خطرے کا تدراک کر رہے ہیں کہ یہ لوگ اپنے قبیلوں اوس وخزوج میں سے مسلمان ہونے والوں کے رشتہ دار ہیں ، ان مسلمانوں نے انہیں ہماری مدد سے منع کیا تو یہ مدد سے ہاتھ کھینچ لیں گے ، اس لیے منافقین کہہ رہے ہیں کہ فکر مت کرو ، ہم تمہارے بارے میں کسی کی بات نہیں مانیں گے۔
5۔ وَ اللہ ُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ : اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی ہی بات کافی تھی کہ قسم کھا کر فرما دیا کہ بلا شبہ وہ یقینا جھوٹے ہیں ، مگر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں ان کی ایک ایک بات ذکر ک کے فرمایا کہ وہ ان میں سے کوئی وعدہ پورا نہیں کریں گے۔ علم بلاغت میں اسے اطناب کہتے ہیں ، یعنی کسی جگہ مختصر بات کا موقع ہوتا ہے ، کسی جگہ توسط کا اور کہیں ضرورت ہوتی ہے کہ بات کو خوب لمبا کر کے بیان کیا جائے۔ یہاں منافقین کے جھوٹ کو واضع کرنے اور انہیں ذلیل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بات کو لمبا کیا ہے۔ (ابن عاشور)۔
Ayah 59:121۔ لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَہُمْ وَلَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَہُمْ : اور ایسا ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : بنو قریظہ تہ تیغ کردیئے گئے اور خیبر والوں کو آخر کار جلا وطن ہونا پڑا مگر کوئی منافق ان کی مدد کو نہ پہنچ سکا۔
2۔ وَلَئِنْ نَّصَرُوْھُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَار : یہ بات بطور فرض کہی گئی ہے۔
3۔ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ : عربوں کا عام طریقہ تھا کہ بعض اوقات وہ میدان سے بھاگ جاتے اور پلٹ کر پھر حملہ آور ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر بالفرض یہ منافقین ان کی مدد کے لیے آئے بھی تو پیٹھ دے کر بھاگ جائیں گے اور ایسے بھائیں گے کہ ان اہل کتاب کی مدد کے لیے دوبارہ کوئی نہیں آئے گا۔
Ayah 59:131۔ لَاْ اَنْـتُـمْ اَشَدُّ رَھْبَۃً فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنَ اللہ ِ : اس میں مسلمانوں کا حوصلہ بڑھایا ہے، کیونکہ جب انہیں معلوم ہوگا کہ دشمن ان سے شدید خوف زدہ ہے تو وہ بڑھ چڑھ کر حملے کریں گے۔
2۔ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ : کیونکہ اگر وہ سمجھ دار ہوتے تو مخلوق کے بجائے خالق سے ڈرتے۔
Ayah 59:141۔ لَایُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ۔۔۔۔۔”حصن“ کا معنی قلعہ ہے۔۔”محصنۃ“ قلعہ بنائی ہوئی محفوظ بستیاں۔”جدر“ ”جدار“ کی جمع ہے، دیواریں۔ یعنی یہ یہودی ایسے نا مرد اور بزدل ہیں کہ کبھی اکٹھے ہو کر میدان میں تمہارا سامنا نہیں کریں گے ، بلکہ قلعہ بند بستیوں میں یادیواروں کے پیچھے رہ کر ہی لڑیں گے۔ اسی طرح لڑنے والے ہمیشہ ذلیل ہی ہوتے ہیں ، کیونکہ جو میدان میں نکلنے کی جرأت نہیں رکھتا اسے قلعے اور دیواریں بھی نہیں بچا سکتیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ اصحاب رسول اللہ ﷺ کھلے میدان میں لڑنا پسند کرتے تھے اور چونکہ وہ شہادت کی تلاش میں لڑتے تھے ، اس لیے دشمن پہلی چوٹ ہی میں پیٹھ پھیر کر بھاگ اٹھتا تھا۔ یہودی چونکہ موت سے بچتے تھے اس لیے وہ میدان میں آنے کے بجائے قلعوں اور دیواروں کی پناہ کے ذریعے سے زندگی بچانے کی کوشش میں رہتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی قلعہ بند بستیاں بھی انہیں ذلت اور موت سے نہ بچا سکیں۔
2۔ بَاْسُہُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌ: یعنی یہ یہودی اور منافقین تمہارے مقابلے میں تبھی آسکتے تھے جب وہ آپس میں ایک ہوتے ، جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسلام دشمنی میں اکٹھے ہیں ، ورنہ ان کی آپس کی لڑائی بہت سخت ہے۔ منافقین و یہود اور مشرکین کا ایک دوسرے سے یہی معاملہ ہے۔ پھر ان میں سے ہر ایک گروہ کے افراد آپس میں بھی ایک نہیں بلکہ ایک دوسرے سے شدید دشمنی رکھتے ہیں ، ایسے لوگوں میں یہ حوصلہ کہاں کہ وہ تمہارے مقابلے میں اکٹھے ہو کر میدان میں نکلیں۔
3۔ تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰی :”شتی“ ”شتیت“ کی جمع ہے، جیسے ”قتیل“ کی جمع ”قتلیٰ“ ہے ، یعنی تم انہیں گمان کرو گے کہ وہ اکٹھے ہیں ، حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں۔
4۔ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّایَعْقِلُوْنَ : اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو کام کے انجام کو نہیں سوچتے اور عقل سے کام نہیں لیتے ، بلکہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں ، جس کا نتیجہ باہمی اختلاف اور عداوت ہی ہے۔ ”قوم“ کے لفظ سے ظاہر ہے کہ یہ ان کے ایک آدھ آدمی کا معاملہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مزاج ہی یہ ہے۔
5۔ ان آیات میں مسلمانوں کی تربیت ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مخالفت ، عناد اور دشمنی سے بہت زیادہ اجتناب کریں اور اچھی طرح سمجھ لیں کہ کوئی بھی قوم دشمن پر اسی وقت غالب ہوسکتی ہے جب ان کے دل ایک دوسرے کے کینے اور عداوت سے پاک اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں اور وہ قومی و اجتماعی مفاد کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے یک زبان و یک جان ہوں۔
5۔ مفسر ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں :”اس آیت کے حکیمانہ مضمون کو اور مسلمانوں کی اندرونی حالت نوعی و صنفی ، پھر صنفی در صنفی کو دیکھیں تو بےساختہ منہ سے نکلتا ہے کہ یہ آیت ہمارے ہی حق میں اتری ہے۔ خواہ حالی نے اس حالت کا نقشہ یوں کھینچا ہے ؎
نہ سنی میں اور جعفری میں ہو ملت نہ نغمانی و شافعی میں ہو الفت
وہابی سے صوفی کی کم نہ ہو نفرت مقلد کرے نا مقلد پہ لعنت
رہے اہل قبلہ میں جنگ ایسی باہم کہ دین خدا پر ہنسے سارا عالم
کسی ایک غرض عام کے لیے ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے ، ابتداء میں اگر ہوتے ہیں تو انتہاء میں بگڑ جاتے ہیں کچھ شک نہیں کہ یہ اطوار انہی لوگوں میں ہوتے ہیں جو قومی اغراض عامہ سے ناواقف ہوتے ہیں ، اس لیے ان کے حق میں یہ الٰہی فیصلہ بالکل حق اور بجا ہے :(ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّایَعْقِلُوْنَ)”یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔ (ثنائی)
Ayah 59:15کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِہِمْ۔۔۔۔:”کمثل الذین“ سے پہلے مبتداء محذوف ہے : ’ ’ ای مثلھم“ یعنی ان بنو قریظہ کا حال جنہیں منافقین لڑنے پر ابھار رہے ہیں اور اپنی ہر طرح کی مدد کا یقین دلا رہے ہیں ان لوگوں کے حال جیسا ہے جو ان سے پہلے قریب ہی تھے۔ مراد ان سے بنو نضیر ہیں جنہوں نے اپنی بد عہدی کا وبال چکھا ، وہ اپنی تمام تر قلعہ بندیوں ، فوجی تیاریوں ، بہادری کے دعوؤں اور منافقین و مشرکین کی امداد کے وعدوں کے باوجود پہلی چوٹ بھی نہ سہ سکے اور اپنی زمینیں ، باغات اور مکانات مسلمانوں کے لیے چھوڑ کر ذلیل و رسوا ہو کر جلا وطن ہوگئے اور ان کے لیے آئندہ بھی دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا ہے۔
Ayah 59:16کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ۔۔۔۔۔۔ یعنی بنو قریظہ کو لڑنے پر ابھارنے والے منافقوں کا حال شیطان کے حال جیسا ہے اور وہ انہیں اسی طرح بےیارو مدد گار چھوڑ دیں گے جیسے شیطان انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے کہ وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے ، پھر سب وہ اس کے پیچھے الگ کر کفر کا ارتکاب کرلیتا ہے تو شیطان کہہ دیتا ہے کہ میرا تجھ سے کوئی تعلق نہیں ، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کتنے انسانوں کو اس طرح گمراہ کیا اور گمراہ کرنے کے بعد ان سے بری ہوگیا۔ قرآن مجید میں اس کی مثال دنیا میں بدر کے موقع پر شیطان کی کفار قریش کو اپنی حمایت کا یقین دلا کر یین موقع پر فرار اختیار کرنا اور ان سے برأت کا اظہار کرنا بیان ہوئی ہے۔ (دیکھئے انفال : 48) اور قیامت کے دن اس کا اپنے تمام پیروکاروں سے برأت کا اعلان سورة ٔ ابراہیم (22) میں مذکور ہے۔
Ayah 59:17فَکَانَ عَاقِبَتَہُمَآ اَنَّہُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْہَا۔۔۔۔: یعنی قیامت کے د ن نہ شیطان اور دوسرے گمراہ کرنے والے آگ سے یہ کہہ کر بچ سکیں گے کہ ہم نے انہیں کفر کی صرف دعوت دی تھی ، اس پر مجبور نہیں کیا تھا ، اب ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ کہہ کر بچ سکیں گے کہ ہمیں تو شیطان نے یا ان لوگوں نے گمراہ کیا تھا ، اس لیے ہمارے بجائے انہیں عذاب دیا جائے ، بلکہ گمراہی کی دعوت دینے والے بھی جہنم میں جائیں گے اور ان کے کہنے پر گمراہ ہونے والے سب لوگ بھی اور تمام ظالموں کی یہی جزا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ اعراف (38، 39) عنکبوت (12، 13) ، سباہ (31، 32) اور سورة ٔ ق (23 تا 29)
Ayah 59:181۔ یٰٰـٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہ : غزوۂ بنو نضیر میں مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کے انعامات ، یہود کی عہد شکنی کی سزا اور منافقین کی ریشہ دوانیوں اور ان کے انجام کے ذکر کے بعد تمام مسلمانوں کو نصیحت کی جا رہی ہے۔”یٰٰـٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا“ کے الفاظ کے ساتھ مخلص مسلمانوں کو بھی خطاب ہے اور منافق مسلمانوں کو بھی جو یہود سے دوستی رکھتے اور انہیں اپنی مدد کا یقین دلاتے تھے۔ دونوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور قیامت کے دن کی تیاری کی نصیحت کی گئی ہے ، تا کہ مخلص مسلمان دنیا میں ملنے والی فتوحات اور نعمتوں کی خوشی میں آخرت کی تیاری کو نہ بھول جائیں اور منافقین میں سے جن کے دلوں میں ایمان کی کوئی رمق باقی ہے وہ اپنی روش پر نادم ہوں اور اللہ سے ڈر کر نفاق سے باز آجائیں اور آنے والے وقت کی فکر کرلیں۔
2۔ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ :”اتقو اللہ“ پر ”وانظروا“ کے ساتھ عطف کے بجائے ”والتنظر نفس“ کے ساتھ عطف یہ احساس دلانے کے لیے ڈالا گیا ہے کہ یہ حکم ہر شخص کے لیے ہے۔ ’ ’ نفس“ کو نکرہ لانے سے بھی عموم مراد ہے۔ گویا ”نفس“ یہاں ”کل نفس“ کے معنی میں ہے ، کیونکہ جس طرح نکرہ نفی کے سیاق میں آئے تو عموم مراد ہوتا ہے ، اسی طرح اگر نکرہ امر ، دعا اور ان جیسی چیزوں مثلاً شرط کے سیاق میں آئے تو وہاں بھی عموم مراد ہوتا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ) (التوبۃ : 6)”اور اگر مشرکین میں سے کوئی ایک تجھ سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے“۔ (ابن عاشور)۔
3۔ مَّا قَدَّمَتْ لِغَد :”غد“ (کل) سے مراد آخرت ہے۔ دنیا آج ہے اور آخرت کل ، جو مرنے کے ساتھ ہی شروع ہوجاتی ہے۔ دور ہونے کے باوجود اسے ”غد“ کہنے میں یہ سبق ہے کہ اسے دور مت سمجھو، کیونکہ جو آنے والا ہے وہ قریب ہی ہے ، خصوصاً جس کا علم ہی نہ ہو کہ کب آئے گا اور جو اگلے لمحے ہی آسکتا ہو اس کے ”غد“ ہونے میں کیا شبہ ہے۔
4۔ وَاتَّقُوا اللہ ط اِنَّ اللہ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ : یہاں ”اتقوا اللہ“ کو دوبارہ لایا گیا ہے ، اس کی تین توجیہیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں ، ایک یہ کہ تکرار کا مقصد اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی تاکید ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ پہلے ”اتقوا اللہ“ کے ساتھ اللہ سے ڈرنے کا اور آخرت کی تیاری کا حکم دیا ، اس کے بعد ”اِنَّ اللہ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ“ کے ساتھ اس کی وجہ بیان کرنا تھی ، کیونکہ ”ان“ تعلیل کے لیے ہوتا ہے ، لیکن چونکہ پہلے ”اتقو اللہ“ کے بعد فاصلہ زیادہ ہو رہا تھا ، اس لیے ”اتقوا اللہ“ کو دوبارہ لا کر اس کی وجہ بیان فرما دی کہ اللہ سے ڈرجاؤ ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ تمہارا کوئی کام اس سے مخفی نہیں جس پر تم اس کی گرفت سے بچ جاؤ ، یا اچھا ہے تو اس کے انعام سے محروم رہو۔ تیسری توجیہ یہ ہے کہ پہلے ”اتقوا اللہ“ سے مراد تقویٰ یعنی اللہ سے ڈرنے کا حکم ہے جس کی بدولت آدمی نیکی کرتا ہے اور گناہ سے بچتا ہے اور دوسرے ”اتقوا اللہ“ سے مراد اس پر دوام ہے ، یعنی ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو ، کیونکہ تم جو کچھ کرتے ہو یا کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح با خبر ہے۔ اس معنی کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ بعد میں فرمایا :(ولا تکونوگالذین نسو اللہ) اور ان لوگوں یعنی منافقین کی طرح نہ ہوجاؤ جو (ایمان لانے کے بعد) اللہ کو بھول گئے، بلکہ ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو۔
Ayah 59:191۔ وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللہ۔۔۔۔: ایمان والوں کو اللہ کے تقویٰ اور آخرت کی تیاری کے حکم کے بعد اس کے احکام سے بےتوجیہی اور غفلت سے منع فرمایا ، کیونکہ اس کا نتیجہ فسق اور نافرمانی ہوتا ہے اور اس کے لیے یہ اسلوب اختیار فرمایا کہ انہیں ان لوگوں کی طرح ہوجانے سے منع فرمایا جنہوں نے اللہ کے احکام پر عمل کو ترک کردیا ، تا کہ ایسے لوگ اور ان کا انجام ان کے سامنے رہے اور وہ ان کے نقش قدم پر چلنے سے بچتے رہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ’ ’ صراط انعمت علیھم“ کے بعد ”غیر المغضوب علیھم ولا الضالین“ فرمایا ہے۔
رہی یہ بات کہ وہ کون لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں :(نسو اللہ) کہ وہ اللہ کو بھول گئے ، تو قرآن مجید میں یہ الفاظ منافقین کے متعلق آئے ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(اَلْمُنٰـفِقُوْنَ وَالْمُنٰـفِقٰتُ بَعْضُہُمْ مِّنْم بَعْضٍم یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْکَرِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَیَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَہُمْط نَسُوا اللہ فَنَسِیَہُمْط اِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ) (التوبہ : 67)”منافق مرد اور منافق عورتیں ، ان کے بعض بعض سے ہیں ، وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے منع کرتے ہیں وہ اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کو بھول گئے تو اس نے انہیں بھلا دیا۔ یقینا منافق لوگ ہی نافرمان ہیں“۔ ان کے علاوہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے متعلق بھی یہ الفاظ آئے ہیں ، چناچہ یہود کے متعلق فرمایا :(یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖلا وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ) (المائدہ : 13)”وہ کلام کو اس کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور وہ اس میں سے ایک حصہ بھول گئے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی“۔ اور نصاریٰ کے متعلق فرمایا :(وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓی اَخَذْنَا مِیْثَاقَہُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہ) (المائدۃ : 14) ”اور ان لوگوں سے جنہوں نے کہا بیشک ہم نصاریٰ ہیں ، ہم نے ان کا پختہ عہد لیا ، پھر وہ اس کا ایک حصہ بھول گئے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی“۔ اور مشرکین کے متعلق فرمایا :(الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَھْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْھُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاج فَالْیَوْمَ نَنْسٰہُمْ کَمَا نَسُوْا لِقَآئَ یَوْمِھِمْ ھٰذَا) (الاعراف : 51)”وہ جنہوں نے اپنے دین کو دل لگی اور کھیل بنا لیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا تو آج ہم انہیں بھلا دیں گے ، جیسے وہ اپنے اس دن کی ملاقات کو بھول گئے“۔ اس سورت میں چونکہ اس سے پہلے بنو نضیر کے یہود کا اور انہیں بد عہدی پر ابھارنے والے منافقین کا ذکر ہے ، اس لیے بظاہر یہاں ”گا لذین نسوا اللہ“ سے یہی دونوں مراد ہیں، اگرچہ الفاظ کے عموم میں ہر کافر و منافق داخل ہے۔
2۔ فَاَنْسٰہُمْ اَنْفُسَہُمْط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ : یعنی اللہ تعالیٰ کو بھلانے اور اس کی عبادت ترک کرنے کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی اپنی جانوں کی فکر بھی فراموش کروا دی۔ چناچہ وہ اپنے اچھے برے کی فکر سے بھی بےپرواہ ہوگئے ، نہ دنیا میں اپنی جانوں کی بھلائی کا اہتمام کیا اور نہ ہی آخرت کے عذاب سے انہیں بچانے کی کوشش کی ، اس بناء پر گناہوں اور نافرمانیوں میں پڑے رہے۔
3۔ نسیان سے مراد یہاں اللہ کے احکام پر عمل ترک کرنا ہے۔ دیکھئے سورة ٔ طہٰ :(115، 126)۔
Ayah 59:20لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ۔۔۔: یہ اوپر کی آیات کا خلاصہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے اور آخرت کی تیاری کرنے والے جنتی ہیں اور اسے بھولنے والے اور گناہ اور نافرمانی کی زندگی بسر کرنے والے جہنمی ہیں اور جہنمی اور جنتی دونوں برابر نہیں ہیں۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ص (28) ، سجدہ (18) اور سورة ٔ جاثیہ (21) کی تفسیر۔”اصحب النار“ سے مراد کفار ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَـآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ)”اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ آگ والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں“۔ اور ”اصحب الجنۃ“ سے مراد مومن ہیں۔ (دیکھئے احقاف : 13، 14)”اصحب النار“ اور ”اصحب الجتۃ“ دونوں کا ایک ہی جگہ ذکر دیکھنے کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (81، 82)۔
Ayah 59:211۔ لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ۔۔۔۔: یعنی یہ یہود اور منافقین قرآن مجید کی آیات سننے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ، حالانکہ وہ تو ایسی عظیم الشان اور پر تاثیر کتاب ہے کہ اگر ہم اسے کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ بھی اللہ کے ڈر سے دب جاتا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ، جیسا کہ فرمایا :(ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً) (البقرہ : 74)”پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں جیسے ہیں یا سختی میں ان سے بھی بڑھ کر ہیں“۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہاڑوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے ادراک اور سوجھ بوجھ رکھی ہے۔ ان کے سامنے امانت پیش کی گئی ، مگر وہ اس سے ڈر گئے اور انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا۔ (دیکھئے احزاب : 72) پہاڑوں اور جمادات میں ادراک کے وجود کے لیے سورة ٔ بقرہ (73) بنی اسرائیل (44) ، بخل (48، 49) اور سورة ٔ ص (18) کی تفاسیر پر نظر ڈال لیں۔
2۔ وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ۔۔۔۔۔ یعنی ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ غور و فکر کریں کہ ایسی زبردست تاثیر والی چیز بھی ان کے دلوں پر اثر انداز نہیں ہورہی تو اس کا سبب کیا ہے ، پھر اس سبب کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
Ayah 59:221۔ ہُوَ اللہ ُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَ : اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کی ضمیروں اور صفات کا ذکر چالیس (40) مرتبہ آیا ہے، چوبیس (24) بار لفظ ”اللہ“ کے ساتھ اور سولہ (16) مرتبہ ضمیر ظاہر یا صفات عالیہ کے ساتھ۔ غرض پوری سورت ہی اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور اس کے عجیب و غریب تصرفات کے ذکر سے بھرئی ہوئی ہے ، اس لیے اس کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی صفات عزیز و حکیم کے ساتھ ہوئی ہے اور اختتام بھی اس کی ایسی صفات کے ساتھ ہوا ہے جن کے ذکر سے ایمان والوں کے دلوں میں اس کی خشیت و محبت میں اضافہ ہو اور سرکشوں کو اس کی گفت اور ہیبت و جلال سے خوف دلای جائے۔ ساتھ ہی ان صفات میں توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے کے دلائل بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہر صفت کا سورت میں مذکور واقعات و مضامین میں سے کسی نہ کسی کے ساتھ تعلق بھی ہے۔ (ابن عاشور ، ملخص)
2۔ ہُوَ اللہ ُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُو : اللہ تعالیٰ کی صفات میں سب سے پہلے اس کے ”الہٰ واحد“ ہونے کی صفت بیان فرمائی ، کیونکہ یہ دوسری تمام صفات کی اصل ہے۔ دوسری تمام صفات اس صفت کی دلیل ہیں کہ عبادت اس اکیلے کا حق ہے ، اس لیے قرآن مجید میں اسم مبارک ”اللہ“ کے بعد اکثر اس صفت کا ذکر آتا ہے ، جیسا کہ آیت الکرسی میں اور سورة ٔ آل عمران کے شروع میں فرمایا :(اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم)”اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، زندہ ہے ، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے“۔
3۔ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ :”الغیب“ اور ”الشھادۃ“ مصدر ہیں جو اسم فاعل کے معنی میں ہیں ، یعنی غائب و شاید۔ مبالغے کے لیے اسم فاعل کی جگہ مصدر کا لفظ استعمال کیا گیا ، جیسا کہ ”زیدعادل“ کے بجائے مبالغے کے لیے ”زید عدل“ کہہ دیتے ہیں کہ زید سراپا عدل ہے۔”الغیب والشھادۃ“ پر الف لام استغراق کا ہے ، یعنی وہ ہر غائب و حاضر کو جاننے والا ہے۔ وحدانیت کے بعد دوسری صفت علم بیان فرمائی ، کیونکہ معبود ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہو اور اس کا علم کامل ہو۔ وہ معبود کیسا جسے معلوم ہی نہیں کہ کوئی میری عبادت کر رہا ہے۔ (دیکھئے احقاف : 5، 6) ”الغیب والشھادۃ“ دوسروں کے اعتبار سے فرمایا، ورنہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز غائب نہیں۔ اگر کوئی کہے کہ ”عالم الغیب“ تو واقعی صرف اللہ تعالیٰ ہے مگر ”عالم الشہادت“ تو اور لوگ بھی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ”الشہادت“ کا علم بھی اس کے سوا کسی کے پاس نہیں ، چند چیزیں جاننے والے کو ”عالم الشہادت“ نہیں کہا جاسکتا۔ مزید دیکھئے سورة ٔ رعد (9، 10) اور سورة ٔ اعلیٰ (7) کی تفسیر۔
4۔ ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ فاتحہ کی تفسیر۔
Ayah 59:231۔ ہُوَ اللہ ُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُو : مزید صفات کے بیان کے لیے یہ جملہ دوبارہ ذکر فرمایا۔ تکرار سے مقصود اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ”اللہ“ کی عظمت اور اس کی وحدانیت کا خاص اہتمام ہے۔
2۔ ”الملک“: یہ دوسری خبر ہے ، اس پر الف لام کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہ وہی ہے ، کوئی اور نہیں ، کیونکہ دوسرا اگر بادشاہ ہے تو چند لوگوں کا ہے ، سب کا نہیں اور کچھ وقت کے لیے ہے ، ہمیشہ کے لیے نہیں ، جب کہ اللہ تعالیٰ سب کا بادشاہ اور ہمیشہ کے لیے بادشاہ ہے ، جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے ؎
سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے حکمران ہے کا وہی باق بتان آزری
مزید دیکھئے سورة ٔ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر۔ قرآن مجید میں اکیلے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کا ذکر متعدد صفات پر ہے ، دیکھئے سورة ٔ روم (26) ، حدید (5) ، فرقان (2) ، یٰسین (83) اور آل عمران (26)۔
3 القدوس : نہایت پاک۔ ”الملک“ کے بعد ”القدوس“ لانے میں ایک مناسبت یہ ہے کہ بادشاہ ہونے کے باوجودوہ دنیا کے حکمرانوں میں پائے جانے والے عیوب اور خامیوں سے نکل پاک ہے۔
4۔ السلم : سراسر سلامتی ہے ، یعنی سلامتی والا ہے۔ خود ہر آفت اور مصیبت سے سالم ہے اور سب کو سلامتی دینے والا اور محفوظ رکھنے والا ہے ، دوسرے صاحب قوت لوگوں کی طرح ناحق تباہی و بربادی پھیلانے والا نہیں۔ ایک دعا میں یہ الفاظ ہیں (اللھم انت السلام و منک السلام) (مسلم ، المساجد ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفۃ ، 562)”اے اللہ ! تو ہی سراسر سلامتی والا ہے اور تجھی سے سلامتی ملتی ہے“۔
5۔ المومن : امن دینے والا۔ جسے بھی امن ملتا ہے اسی سے ملتا ہے۔
6۔ المھیمن : نگران، نگہبان۔ تیسیرا القرآن میں ہے :’ الھیمن“ کہتے ہیں : ”ھیمن الطائر علی فراخہ“ یعنی پرندے نے اپنے پر اپنے بچوں ڈ پر بچھا دیئے ، جیسے مرغی خطے کے وقت اپنے چو وزوں کو اپنی پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے۔ لہٰذا ”المھیمن“ وہ ذات ہے جو (1) کسی کو خوف سے امن دے (2) ہر وقت نگہبانی رکھے اور (3) کسی کو کوئی حق ضائع نہ ہونے دے۔ (منتہی الارب)
7۔ العزیز الجبار ”الجبار“ اپنی مرضی منوانے والا ، جو دوسرے کو اپنا کام کرنے پر مجبور کر دے۔ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق پر جبار ہے ، کیونکہ ان میں سے کسی کی جرأت نہیں کہ وہ اس سے جو کروانا چاہے وہ نہ کرے ، جیسا کہ فرمایا :(ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ وَھِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَھَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْکَرْھًاط قَالَتَآ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ) (حم السجدۃ : 11) ”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہو اور وہ ایک دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ آؤ خوشی سے یا مجبوری سے۔ دونوں نے کہا ہم خوشی سے آگئے“۔ کوئی اس حد سے تجاوز نہیں کرسکتا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کردی ہے ، جیسا کہ انسان ایک ٹانگ تو اٹھا کر کھڑا ہوسکتا ہے مگر دونوں نہیں۔ جبر کا ایک معنی ٹوٹی ہوئی ہڈی جوڑنا اور نقصان پورا کرنا بھی ہے ، یعنی وہی ہے جو ہر ایک کا نقصان پورا کرنے والا ہے۔
8۔ المتکبر : اس کے دو مفہوم ہیں ، ایک یہ کہ کوئی شخص فی الحقیقت بڑا نہ ہو مگر بڑا بننے کی کوشش کرے ، خواہ وہ کوئی جن ہو یا انسان اور یہ صفت انتہائی مذموم ہے۔ دوسرا وہ جو فی الحقیقت بڑا ہو اور وہ بڑا ہی ہو کر رہے اور یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے سزا وار ہے اور اس کے حق میں یہ ایک خوبی ہے جو دوسری کسی مخلوق میں نہیں پائی جاتی۔ کائنات کی باقی تمام چیزیں خواہ جان دار ہوں یا بےجان اس کے مقابلے میں چھوٹی اور حقیر ہیں۔ (تیسرالقرآن)
9۔ سُبْحٰنَ اللہ ِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ : یعنی یہ صفات دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے پاک ہے جنہیں مشرکین نے اس کا شریک بنا رکھا ہے۔
Ayah 59:241۔ ہُوَ اللہ ُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ :”خلق ، برء اور تصویر“ پیدائش کے تین مراحل ہیں ، پہلا مرحلہ یہ کہ کوئی چیز بنانے سے پہلے اس کا پورا اندازہ لگانا اور نقشہ و خاکہ بنانا ہوتا ہے ، یہ خلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا پہلے ہی ایک اندازہ اور نقشہ طے کردیا ہے کہ وہ کیسی ہوگی ، مثلاً انسان کی کیا شکل ہوگی ، درخت کیسا ہوگا وغیرہ۔ دوسرا مرحلہ ان چیزوں کو وجود میں لانا ہے جن سے اسے بنایا جانا ہے اور انہیں تراش خراش اور ڈھال کر وہ صورت قبول کرنے کے قابل بنانا جو اس کے لیے طے کی گئی ہے۔ یہ ”برئ“ ہے۔ مثلاً انسان کو مٹی سے بنایا ، مٹی کا گارا بنایا ، پھر آدم ؑ کا ڈھانچہ بنایا۔ تیسرا اور آخری مرحلہ تصویر ہے جس کے ساتھ کوئی چیز مکمل ہو کر وجود میں آجاتی ہے۔ کائنات کی ہر بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی چیز کو اللہ تعالیٰ نے تصویر عطاء فرمائی ہے، زمین و آسمان ہوں یا چیونٹی اور ذرہ ، ہر چیز کو پیدا کرنے کے تمام مراحل اسی کے ہاتھ میں ہیں، انسان اگر کچھ بناتا بھی ہے تو اس کے ہر کام کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے ، جیسا کہ فرمایا :(واللہ خلقکم وما تعملون) (الصافات : 96)”اور اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو“۔ ان تینوں اسماء میں سے ہر ایک مطلق بنانے اور پیدا کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ اعراف (11) کی تفسیر۔
2۔ لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی : یعنی ان آیات میں جو اسماء اور صفات بیان ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ صرف انہی کے ساتھ متصف نہیں ، بلکہ ہر بہترین اسم و صفت کا وہی مستحق ہے۔ دیکھئے سورة ٔ اعراف (180) کی تفسیر۔
3۔ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِج وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ : سورت کی ابتداء بھی اسی بات سے ہوئی ہے اور انتہاء بھی۔ ابتداء میں ”سبح للہ“ ہے اور انتہاء میں ”یسبح لہ“ ہے۔ اس میں ماضی ، حال اور مستقبل تینوں زمانے آگئے۔ آیت کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حدید کی پہلی آیت اور سورة ٔ بنی اسرائیل (44) کی تفسیر۔
4۔ معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ ”اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم“ کہے، پھر سورة ٔ حشر کی آخری تین آیتیں پڑھے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ستر ہزار (000، 70) فرشتے مقرر کردیتے ہیں جو شام تک اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔ اگر وہ اس دن فوت ہوجائے تو شہید فوت ہوگا اور جو شام کو انہیں پڑھ لے اسے بھی یہ مرتبہ ملے گا۔“ (ترمذی ، فضائل القرآن ، باب فی فضل قرأۃ آخر سورة الحشر : 2922۔ مسند احمد : 5، 26، ح : 20306) مسنداحمد کے محققین اور شیخ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ تفصیل مسند احمد کی تحقیق میں ملاحظہ فرمائیں۔