58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ بیشک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

1۔ قَدْ سَمِعَ اللہ ُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا : یہ آیات خولہ بنت ثعلبہ ؓ کے بارے میں اتریں۔ بعض روایات میں ان کا نام خویلہ اور بعض میں جمیلہ آیا ہے۔ ان کے خاوند اوس بن صامت انصاری ؓ تھے جو عباد ہ بن صامت ؓ کے بھائی تھے ، بوڑھے تھے اور خولہ کے ان سے بچے بھی تھے۔ انہوں نے کسی بات پر ناراض ہو کر ان سے ظہار کرلیا ، یعنی یہ کہہ دیا : ”انت علی کظھر امی“ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹ کی طرح ہے۔“ جاہلیت میں جو شخص بیوی سے ظہار کرتا وہ اسے ماں ہی کی طرح ہمیشہ کے لیے حرام سمجھ لیتا تھا۔ خولہ کے سامنے تو دنیا اندھیرا ہوگئی ، اس عمر میں کہاں رہوں گی ، بچوں کا کیا کروں گی ؟ باپ کے پاس رہے تو ضائع ہوجائیں گے ، میرے پاس رہے تو انہیں کہاں سے کھلاؤں گی ؟ وہ یہ شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں۔ سنن ابو داؤد میں ہے کہ خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ ؓ نے کہا میرے خاوند اوس بن صامت ؓ نے مجھ سے ظہار کرلیا تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی ، میں آپ ﷺ کے پاس شکایت کرتی تھی اور رسول اللہ ﷺ اس کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے تھے اور فرماتے تھے (اتق اللہ فانہ ابن عمک) ”اس کے بارے میں اللہ سے ڈر ، کیونکہ وہ تمہارا چچازاد ہے“۔ مگر میں نہیں ٹلی ، حتیٰ کہ ”قَدْ سَمِعَ اللہ ُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا“ سے کر کفارہ کے فرض کے بیان تک قرآن نازل ہوا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یعت رقبۃ)“ وہ ایک گردن آزاد کرے۔“ اس نے کہا :”وہ تو اس کے پاس ہے نہیں۔ ‘ ‘ آپ ﷺ نے فرمایا :(فیصوم شھرین متتابعین)”پھر دو ماہ پے در پے روزے رکھے“۔ اس نے کہا :”اے اللہ کے رسول ! وہ بڑا بوڑھا ہے ، روزے رکھ نہیں سکتا“۔ فرمایا :(فلیطعم ستین مسکینا)”پھر ساٹھ (60) مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“ اس نے کہا : ”اس کے پاس کوئی چیز نہیں جس کا صدقہ کرے۔“ کہتی ہیں کہ اس وقت کھجوروں کا ایک ٹوکر ا لایا گیا ، میں نے کہا : ”یا رسول اللہ ﷺ ! میں ایک اور ٹوکرے کے ساتھ اس کی مدد کردیتی ہوں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا :(قد احسنت اذھبی فاطعمی بھا عنہ ستین مسکینا وارجعی الی ابن عمک) (ابو داؤد ، الطلاق ، باب فی الظھار : 2214، وقال الالبانی حسن)”تم نے بہت اچھا کیا ، جاؤ اس کی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اور اپنے چچا زاد کے پاس واپس چلی جاؤ“۔ 2۔ قَدْ سَمِعَ اللہ ُ : حرف ’ ’ قد“ تحقیق کے لیے آتا ہے اور اس کام کے واقع ہونے کے لیے بھی جس کی توقع کی جا رہی ہو۔ یہاں پہلے معنی کا تو محل نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سننے میں کسی کو شک نہیں کہ اس کا یقین دلانے کے لیے حرف تحقیق لایا جائے ، تو مطلب یہ کہ نبی ﷺ سے جھگڑا کرنے والی عورت اپنی فریاد سنے جانے کی جو توقع کر رہی تھی اللہ تعالیٰ نے پوری فرمادی۔ سننے سے مراد یہاں صرف سن لیتا ہی نہیں بلکہ سننا اور سن کر مراد پوری کرنا ہے ، جیسے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دعا سن لی ، یعنی سن کر قبول فرمائی۔ 2۔ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا : وہ جھگڑا یہی تھا کہ وہ کہتی تھی میرے بارے میں کوئی گنجائش نکالیں ، میرے خاوند نے مجھے طلاق نہیں دی ، صرف ”انت علی کظھر امی“ کہا ہے۔ اب میں بڑھاپے میں کہاں جاؤں اور بچوں کا کیا کروں ؟ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح حکم نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اکٹھے رہنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ 4۔ وَتَشْتَکِیْٓ اِلَی اللہ ِ ق :”شکا یشکو شکوی وشکایۃ“ اپنے دکھ تکلیف کا اظہار کرنا۔ ”تشتکی“ (افتعال) میں حرف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہے ، یعنی وہ جھگڑنے والی اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت شکایت کر رہی تھی اور اپنے دکھ درد کا شدت سے اظہار کر رہی تھی۔ 5۔ وَ اللہ ُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَاط اِنَّ اللہ سَمِیْعٌم بَصِیْرٌ :”ان“ تعلیل کے لیے ہوتا ہے۔ اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا ، کیونکہ اللہ تو سب کچھ سننے والا ، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔”سمع“ (سننا) وہ صفت ہے جس کے ساتھ آوازوں کا علم ہوتا ہے اور ”بصر“ (دیکھنا) وہ صفت ہے جس کے ساتھ نظر آنے والی چیزوں کا علم ہوتا ہے۔ یونان کے مشرک فلاسفہ سے متاثر ہو کر بعض مسلم متکلمین نے ان کا یہ قاعدہ مان لیا کہ محل حوادث حارث ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کو سمیع وبصیر ماننا ممکن نہ رہا ، کیونکہ اگر مانا جائے کہ اللہ تعالیٰ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام چیزوں کو دیکھتا ہے تو سنائی دینے والی اور نظر آنے والی چیزیں تو حادث ہیں ، نبی سے نئی وجود میں آتی ہیں ، اگر اللہ تعالیٰ سنتا اور دیکھتا ہو تو محل حوادث ہوگا اور ان کے قاعدے کے مطابق خود بھی حادث ہوگا ، ہمیشہ سے اور قدیم نہیں ہوگا ، اس لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سننے ، دیکھنے ، کلام کرنے اور ایسی تمام صفات کا یا تو انکار کردیا جن میں حدوث پایا جاتا ہے یا ان کی ایسی تاویل کردی جو در حقیقت انکار ہی ہے ، اکثر مفسرین نے یہی روش اختیار کی ہے۔ تفسیر جلالین کو دیکھ لیجئے ، اس میں ہے :”ان اللہ سمیع بصیر“ عالم“ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ سننا ، دیکھنا اور جاننا تینوں الگ الگ صفات ہیں ، صرف عالم مان لینے سے سمیع وبصیر نہیں مانا جاسکتا اور یہ قاعدہ کہ ”محل حواث حادث ہوتا ہے“ قرآن مجید کے صریح الفاظ سے ٹکراتا ہے، اس لیے غلط ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ رحمن کی آیت (92) (کل یوم ھو فی شان) کی تفسیر۔ اگر کوئی کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو سمیع وبصیر مانیں تو وہ بندوں کی مثل ٹھہرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب ”علیم“ ماننے سے وہ بندوں جیسا نہیں ٹھہرتا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ”علیم“ کا لفظ بندوں پر بھی بولا ہے :(انا نبشرک بغلم علیم) (الحجر : 53) (بیشک ہم تجھے ایک علیم لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں) تو سمیع وبصیر ماننے سے بندوں کی مثل کیسے بن جائے گا ؟ مزید دیکھئے سورة ٔ شوریٰ کی آیت (11):(لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌج وَھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ) کی تفسیر۔ 6۔ ام المومنین عائشہ ؓ نے فرمایا :(الحمد للہ الذی وسع سمعہ الاصوات ، لقد جاء ت المجادلۃ الی النبی ﷺ وانا فی ناحیۃ البیت ، تشکور زوجھا وما اسمع ما تقول فانزل اللہ :(قَدْ سَمِعَ اللہ ُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا) (ابن ماجہ ، المقدمۃ ، باب فیما انکرت الجھمیۃ، 188)”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس کی سماعت تمام آوازوں پر وسیع ہے ، وہ جھگڑنے والی عورت نبی ﷺ کے پاس آئی جب کہ میں گھر کے ایک طرف موجود تھی ، وہ اپنے خاوند کی شکایت کر رہی تھی اور میں وہ نہیں سنتی تھی جو وہ کہہ رہی تھی ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں :(قَدْ سَمِعَ اللہ ُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا)”یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی“۔ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام اللہ تعالیٰ کے سننے کا کیا مطلب سمجھتے تھے۔ اس لیے امام ابن ماجہ نے اپنی سنن کے شروع ہی میں یہ حدیث اس بات میں ذکر فرمائی ہے جس کا عنوان ہے :”با فیما انکرت الجھمیۃ“ ”یہ بات ان چیزوں کو ثابت کرنے کے لیے ہے جن کا جہمیہ نے انکار کیا ہے۔“ اور امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری کی ”کتاب التوحید“ کے ”باب قول اللہ تعالیٰ“ (وکان اللہ سمعیاً بصیراً)“ کے تحت اسے اللہ تعالیٰ کی صفت سمع وبصیر ثابت کرنے کے لیے ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 58:2

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

وہ لوگ جو تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں ان کے سوا کوئی نہیں جنھوں نے انھیں جنم دیا اور بلاشبہ وہ یقینا ایک بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ یقینا بےحد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے۔

1۔ اَلَّذِیْنَ یُظٰہِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَآئِہِمْ مَّا ہُنَّ اُمَّہٰـتِہِمْ ط۔۔۔۔۔۔:”یظھرون“”ظھر“ سے نکلا ہے جس کا معنی ”پیٹھ“ ہے۔ عرب سواری کو ”ظھر“ کہتے ہیں۔ یہ استعارہ ہے ، جس میں بیوی سے جماع کو گھوڑے وغیرہ کی پشت پر سوار ہونے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ ”انت علی کظھر امی“ (تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے) کا مطلب یہ ہے کہو جس طرح میرے لیے اپنی ماں پر سوار ہونا اور اس سے جماع حرام ہے ، اسی طرح تم بھی میرے لیے میری ماں کی طرح ہو۔ جاہلیت میں لوگ بیوی کو ماں کہہ دیتے تو اسے ماں کی طرح حرام قرار دے لیتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اس رسم بد کو ختم کردیا ، فرمایا منہ کے ساتھ بیوی کو ماں کہنے سے وہ ماں نہیں بن جاتی ، آدمی کی ماں وہی ہے جس نے اسے جنم دیا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ احزاب (4) کی تفسیر۔ 2۔ وَاِنَّہُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا ط :”منکرا“”انکر ینکر“ (افعال) سے اسم مفعول ہے ، وہ بات جسے انسانی طبیعت یا عقل یا شرع نہ پہنچانتی ہو بلکہ اس کا انکار کرتی ہو۔ ”زوا“ جھوٹ۔ یعنی بیوی کو ماں کی طرح کہنے والے ایسی بات کہتے ہیں جو نہ انسانی طبیعت مانتی ہے، نہ عقل اور نہ ہی شرع، کیونکہ ماں کے ساتھ بیٹے کا رشتہ اکرام و احترام کا ہے ، جبکہ بیوی کے ساتھ خاوند کا رشتہ ایک خاص تعلق کا ہے جو ماں کے ساتھ سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ پھر جس عورت نے آدمی کو جنم ہی نہیں دیا بلکہ اس کا اس کے ساتھ مباشرت کا تعلق رہا ، اسے ماں کہنا بری بات اور کتنا بڑا جھوٹ ہے۔ 3۔ وَاِنَّ اللہ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ : یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری کوتاہیوں اور غلطیوں کے باوجود ان سے بہتر در گزر کرنے والا اور ان پر پردہ ڈالنے والا ہے۔ خصوصاً جب غلطی کرنے والا پلٹ آئے اور توبہ کر کے آئندہ ایسی باتوں سے باز رہے۔ 4۔ اس آیت میں کئی چیزیں ظہار کے حرام ہونے پر دلالت کر رہی ہیں ، پہلے اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ ”ما ھن امھتھم“ (وہ ان کی مائیں نہیں) ، اس میں ظہار کرنے والے کو جھوٹا قرار دیا ہے ، دوسری اور تیسری یہ کہ اللہ نے ان کا نام منکر اور زور رکھا ہے اور چوتھی اللہ تعالیٰ کا فرمان ”ان اللہ لعفو غفور“ ہے ، کیونکہ غفور و مغفرت گناہ ہی سے ہوتی ہے۔
Ayah 58:3

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اس سے رجوع کرلیتے ہیں جو انھوں نے کہا، تو ایک گردن آزاد کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ ہے وہ (کفارہ) جس کے ساتھ تم نصیحت کیے جاؤ گے، اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پوری طرح باخبر ہے۔

1۔ وَالَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِ ھِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا۔۔۔۔۔۔۔۔۔:”ثم یعودون لما قالوا“ کی تفسیر میں بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں ان پر پہلی بار کوئی مؤاخذہ نہیں ، البتہ اگر یہی بات دوبارہ کریں تو ان پر یہ کفار ہے ، مگر یہ بات اس لیے درست نہیں کہ آیت جس واقعہ پر نازل ہوئی اس میں خاوند نے خولہ ؓ کو ایک ہی بار ”انت علی کظھر امی“ کہا تھا۔ دوسری مرتبہ یا بار با ایسا کہنے کا کہیں ذکر نہیں ، اس لیے آیت کا وہی مطلب درست ہوگا جو صحیح حدیث کے مطابق ہو ، چناچہ ”یعودن لما قالوا“ کا مطلب فراء اور بعض مفسرین نے تو یہ لیا ہے کہ یہاں ”لام“ بمعنی ”عن“ ہے ، یعنی پھر وہ اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی ہے ، تو ان پر یہ کفارہ ہے اور بعض نے فرمایا کہ یہاں ’ ’ لام ‘ ‘”الیٰ“ کے معنی میں ہے ، کلام میں کچھ عبارت حذف بھی ہے اور ”ما قالوا“ کا مطلب ”ما حرموا“ ہے : ”ای ثم یعودون الی تحلیل ما حرموا“ یعنی پھر دوبارہ لوٹیں اس کو حلال کرنے کی طرف جسے انہوں نے حرام کہا ہے“۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں الفاظ میں ابہام کیوں رکھا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ماں کہنے کے بعد پھر اس سے بیو ی والا معاملہ کرنا ایک قسم کی کراہت رکھتا ہے ، اس لیے اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے صراحت کے بجائے کنایہ سے کام لیا ہے۔ 2۔ ظہار کا کفارہ مقرر کرنے سے ظاہر ہے کہ یہ طلاق نہیں بلکہ بیوی کو اپنے آپ پر حرام قرار دینے کے قبیل سے ہے۔ عام معاملات میں حلال کو اپنے آپ پر حرام کرنے کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے (دیکھئے تحریم : 1، 2) مگر منکر و زور بات ہونے کی وجہ سے ظہار کا کفارہ سخت ہے۔ اب ظہار کرنے والے کے سامنے دو ہی صورتیں ہیں ، اگر وہ بیوی سے قطع تعلق پر مبصر ہے تو زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک اس کا انتظار کیا جائے گا کہ کفار ادا کر کے دوبارہ تعلق استوار کرلے (دیکھئے بقرہ : 226) پھر اسے کہا جائے گا کہ یا اسے طلاق دو یا کفارہ ادا کر کے اسے بیوی بنا کر رکھو۔ پھر اگر وہ اپنی بات سے رجوع پر تیار ہو تو کفارو بالترتیب تین چیزوں میں سے ایک چیز ہے ، اگر آدمی کے پاس طاقت ہو تو ہاتھ لگانے یعنی جماع سے پہلے ایک گردن آزاد کرے۔ یہ شرط اس لیے لگائی ہے کہ بیوی کے پاس جانے کی رغبت میں اس کے لیے اتنا بھاری جرمانہ آسان ہوجائے گا۔ 3۔ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ط :”رقبۃ“ کا معنی گردن ہے ، مراد لونڈی یا غلام ہے، یعنی جزبول کر کل مراد لیا گیا ہے ، تو ظہار کا کفارہ یہ ہے کہ اگر آدمی کے پاس طاقت ہو تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک لونڈی یا غلام آزاد کرے۔ پہلے کی شرط اس لیے لگائی ہے کہ بیوی کے پاس جانے کی رغبت میں اس کے لیے اتنا بھاری جرمانہ آسان ہوجائے اگ۔ 4۔ ذٰلِکُمْ تُوْ عَظُوْنَ بِہٖ ط : یعنی ہاتھ لگانے سے پہلے گردن آزاد کرنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ اس سے تمہیں آئندہ کے لیے نصیحت ہوگی کہ ایسا کام نہیں کیا کرتے۔ 5۔ وَ اللہ ُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ : یعنی اگر تم ظہار کے بعد گردن آزاد کیے بغیر ایک دوسرے کو ہاتھ لگاؤ گے تو کسی اور کو خبر ہو یا نہ ہو اللہ تعالیٰ تمہارے ہر کام سے پوری طرح با خبر ہے ، تم نہ اس سے چھپ سکتے ہو اور نہ اس کی گرفت سے بچ سکتے ہو۔ 6۔ بیوی کو ماں کی طرح اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے پر جو کفارہ ہے اگر اسے بہن یا بیٹی یا کسی بھی ایسی عورت کی طرح حرام کہہ دے جس سے نکاح حرام ہے تو اس پر بھی وہی کفارہ ہے ، کیونکہ نکاح کی حرمت میں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ، اس لیے جو حکم ماں کہنے کا ہے وہی سب کا ہوگا۔
Ayah 58:4

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر جو شخص نہ پائے تو دو پے درپے مہینوں کا روزہ رکھنا ہے، اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پھر جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

1۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا ج : اس سے معلوم ہوا کہ اگر گردن آزاد کرنے کی طاقت ہے تو روزوں سے کھانا کھلاناے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ 2۔ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ : پھر جو شخص ہاتھ لگانے سے پہلے دو ماہ کے پے در پے روزے رکھنے کی طاقت نہ رکھے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ ظہار کرنے والا خود کمزوری کی وجہ سے پے در پے اتنے روزے نہ رکھ سکتا ہو یا شدت شہوت کی وجہ سے اتنے دن صبر نہ کرسکتا ہو ، ”فمن لم یسطع“ میں دونوں شامل ہیں ، جیسا کہ سلمہ بن صخر بیاضی ؓ نے اپنی بیوی کو ماہ رمضان گزرنے تک کے لیے ماں کہہ دیا ، پھر کسی رات اس سے جماع کر بیٹھے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :(حررقبۃ) ایک گردن آزاد کرو“۔ انہوں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا :”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! میرے پاس اس گردن کے سوا کوئی گردن نہیں“۔ فرمایا :(فصم شھرین متتابعین) ”پھر وہ ماہ پے در پے روزے رکھ“۔ انہوں نے کہا :”مجھ پر روزوں ہی کی توجہ سے تو یہ مصیبت آئی ہے۔“ فرمایا :(فاطعم وسفا من تمر بین ستین مسکینا) (ابو داؤد ، کتاب الطلاق ، باب فی الظھار : 2213)”پھر ساتھ مسکینوں میں ایک و سق کھجور تقسیم کر دو“۔ 3۔ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا ط : اس سے معلوم ہوا کہ ایک ہی مسکین کو ساٹھ دن کھانا کھلانے سے یا ساٹھ دنوں کا کھانا دینے سے یہ کفار ادا نہیں ہوگا ، بلکہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا ، خواہ ایک وقت میں کھلا دے یا مختلف وقتوں میں۔ آیت کے الفاظ کے مطابق اس کا بلا تکلف مطلب یہ ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو ایک دفعہ پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے۔ (شوکانی)۔ 4۔ ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ ط : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان سے مراد ان کے احکام کے سچا ہونے پر یقین رکھنا اور ان پر عمل کرنا ہے ، کیونکہ ایمان میں تصدیق ، اقرار اور عمل تینوں چیزیں شامل ہیں۔ 5۔ وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللہ ِ ط : یعنی ظہار کا حرام ہونا اور اس سے رجوع کی صورت میں اس پر کفارہ لازم ہونا اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں ، جن سے تجاوز حرام ہے۔ 6۔ وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ :”الکافرین“ انکار کرنے والے۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ اللہ کے حکموں کو نہیں مانتے وہ حقیقت میں کافر ہیں ، چاہے دنیوی احکام میں اور مرد م شماری کی رو سے مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
Ayah 58:5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ذلیل کیے جائیں گے، جیسے وہ لوگ ذلیل کیے گئے جو ان سے پہلے تھے اور بلاشبہ ہم نے واضح آیات نازل کی ہیں اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللہ وَرَسُوْلَہٗ۔۔۔۔:”یحادون“ ”حد“ سے مشتق ہے جس کا معنی جانب ہے۔ ایک مغاعلہ عموماً مقابلہ کے معنی کے لیے آتا ہے ، یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ، اللہ اور اس کے رسول ایک جانب ہوں تو وہ ان کے مقابلے میں دوسری جانب ہوتے ہیں۔”کبتوا“ ”کبت یکبت کبتا“ (ض) ذلیل کرنا ، ہلاک کرنا ، لعنت کرنا ، دھکے دے کر نکال دینا۔ اللہ تعالیٰ نے شروع سورت سے یہاں تک ظہار کی حرمت اور اس کے کفارہ کے احکام بیان فرمائے اور بتایا کہ یہ احکام اس لیے مقرر کیے گئے ہیں کہ لوگ ظہار اور اس جیسی بری رسوم سے باز آجائیں جن کے وہ جاہلیت میں عادی تھے ، تا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کے خوگر ہوجائیں اور ان کے احکام پر اخلاص کے ساتھ عمل کریں۔ اس کے بعد فرمایا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کریں گے ، ان کے احکام کی نافرمانی کریں گے اور ان کے مقابلے پر اتر آئیں گے انہیں دنیا میں ذلیل کیا جائے گا ، جس طرح ان قوموں کو ذلیل کیا گیا ، جنہوں نے ان سے پہلے اللہ اور اس کے رسولوں کی مخالفت کی اور یہ احکام اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں اور ان کا انکار کرنے والوں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ 2۔”کبتوا“ ماضی مجہول کا صیغہ ہے، لفظی معنی ہے ”ذلیل کیے گئے“۔ مراد یہ ہے کہ“ ذلیل کیے جائیں گے“۔ آئندہ ہونے والی بات کو ماضی کے صیغے کے ساتھ اس لیے فرمایا کہ اس کا ہونا اتنا یقینی ہے کہ سمجھویہ کام ہی ہوچکا ہے۔ اس میں کفار کے لیے وعید اور مسلمانوں کے لیے خوش خبری ہے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ بدر اور دوسرے معرکوں میں کفار اور ان کے مدد گار یہود و منافقین بری طرح ذلیل ہوئے ، انہیں شکستوں پر شکستیں ہوئیں اور انہیں قتل ، قید مال و اولاد سے محرومی ، غلامی اور جلا وطنی کی ذلتیں اٹھانا پڑیں ، حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں مکہ فتح ہوگیا۔ پھر پورے جزیرۂ عرب پر اسلام کے مکمل غلبے کے ساتھ کفار و منافقین پر ذلت و رسوال کی مہر ثبت ہوگئی اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے خلفاء کے ہاتھوں مشرق سے مغرب تک اسلام غالب ہوا اور کفار و منافقین ذلیل و رسوا ہوئے۔
Ayah 58:6

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا، پھر انھیں بتائے گا جو انھوں نے کیا۔ اللہ نے اسے محفوظ رکھا اور وہ اسے بھول گئے اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

1۔ یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللہ ُ جَمِیْعًا۔۔۔۔: اس کا تعلق پچھلی آیت کے آخری جملے ”وللکفرین عذاب مھین ‘ ‘ سے ہے ، یعنی ان کافروں کے لیے اس دن بھی رسوا کرنے والا عذاب ہے ، جب اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع فرمائے گا ، پھر وہ خود کرتے رہے اس سے انہیں آگاہ کرے گا ، تا کہ وہ اس کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ 2۔ اَحْصٰہُ اللہ ُ وَنَسُوْہُ ط : اس سوال کا جواب ہے کہ ہزاروں لاکھوں سالوں کے بعد اگر سب لوگوں کو زندہ کر بھی لیا گیا تو انہوں نے جو کچھ کیا اسے مدتیں گزر چکی ہوں گی ، اللہ تعالیٰ اتنی بیشمار مخلوق کے بیشمار اعمال انہیں کیسے بتائے گا۔ فرمایا وہ اپنا کیا ہوا بیشک بھول چکے ہوں ، مگر اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ محفوظ کر رکھا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ کہف (49) کی تفسیر۔ 3۔ وَ اللہ ُ عَلٰی کُلِّ شّیْئٍ شَہِیْدٌ : کیونکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپی ہیں رہ سکتی ، وہ ہر چیز کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ (دیکھئے مائدہ : 117۔ نجم : 17) اگلی آیت میں اس کی مزید تاکید ہے۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ کوئی تین آدمیوں کی کوئی سر گوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ کوئی پانچ آدمیوں کی مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم ہوتے ہیں اور نہ زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں بھی ہوں، پھر وہ انھیں قیامت کے دن بتائے گا جو کچھ انھوں نے کیا۔ یقینا اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

1۔ اَلَمْ تَرَ : اس کے لیے دیکھئے سورة ٔ فیل کی پہلی آیت اور سورة ٔ نور کی آیت (41) کی تفسیر۔ 2۔ اَنَّ اللہ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط : یعنی اللہ تعالیٰ ان کے اعمال ہی کو نہیں بلکہ آسمان و زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو جانتا ہے۔ 3۔ یہاں سے آیت (19) تک مسلسل منافقین کے طرزعمل پر گرفت کی گئی ہے۔ 4۔ مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰـثَۃٍ اِلاَّ ھُوَ رَابِعُہُمْ۔۔۔۔۔:”نجا ینجو نجوا و نجوی و ناجی منا جاۃ و نجاء ، الرجل“ کسی آدمی سے اپنے دل کی بات دوسروں سے چھپا کر کرنا۔”نجوی“ اس سے اسم مصدر ہے ، سر گوشی۔ زیادہ تر اس کا استعمال برے کاموں کی سر گوشیوں اور سازشوں کے لیے ہوتا ہے ، مثلاً چوری ، ڈاکے ، قتل یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ مشورہ کرنا۔ خیر کے کاموں میں اس کا استعمال کم ہوتا ہے ، کیونکہ عموماً انہیں چھپانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یعنی تھوڑے سے تھوڑے یا زیادہ سے زیادہ لوگوں کی کوئی مجلس ، کوئی سرگوشی اور کوئی خفیہ سے خفیہ مشورہ نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ سے مخفی ہو اور اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ نہ ہو ، بلکہ جو بھی تین آدمی چھپ کر مشورہ کررہے ہوں ان کے ساتھ چوتھا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور جو بھی پانچ آدمی چھپ کر مشورہ کررہے ہوں ان کے ساتھ چھٹا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور اس سے کم یا زیادہ جہاں بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔”الا ھو معھم“ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حدید (14) کی تفسیر۔
Ayah 58:8

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں سر گوشی کرنے سے منع کیا گیا، پھر وہ اس چیز کی طرف لوٹتے ہیں جس سے انھیں منع کیا گیا اور آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں ؟ انھیں جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے، پس وہ برا ٹھکانا ہے۔

1۔ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نُہُوْا عَنِ النَّجْوٰی۔۔۔۔۔: یہاں سے یہود اور منافقین کے طرز عمل پر گرفت کا آغاز ہو رہا ہے ، جو انہوں نے اختیار کر رکھا تھا۔ یہود نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر رکھا تھا اور آپ کی مجلسوں میں آتے جاتے تھے اور منافقین بظاہر ایمان لا چکے تھے اور مسلمانوں کی جماعت کے فرد تھے ، مگر ان کی دوستی یہود ہی کے ساتھ تھی۔ منافقین اور یہود نے اندر ہی اندر اپنا الگ جتھا بنا رکھا تھا، انہیں جب بھی موقع ملتا خفیہ مجالس میں مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے ، فتنہ برپا کرنے اور مشرکین سے مل کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتے۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں آتے تو آپس میں کھسر پھسر کرتے رہتے ، جس سے مجلس کی بےوقتی ہوتی اور اس بات کا اظہار ہوتا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ بعض اوقات وہ آپس میں سر گوشی کرتے ہوئے کسی مسلمان کو دیکھ کر آپس میں آنکھ مارتے ، تا کہ وہ سمجھے کہ وہ اس کے متعلق کوئی بات کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے اس رویے سے سخت تکلیف ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایسی مجالس سے منع کیا جن میں وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خفیہ مشورے اور سازشیں کرتے تھے اور مسلمانوں کی مجلسوں میں علیحدہ سرگوشیوں سے بھی منع کیا ، مگر وہ باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ آیات نازل فرما کر ان پر اپنی ناراضی کا اظہار فرمایا۔ 2۔ وَیتَنٰـجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ ز : اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ان کے خفیہ مشورے اور سرگوشیاں یا تو ایسے گناہوں پر مشتمل ہوتی تھیں جن کا تعلق ان کی ذات سے تھا یا ایسے گناہوں پر جن میں دوسروں پر ظلم و زیادتی ہوتی ، یا پھر ان کی سرگوشیاں رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی پر مشتمل ہوتی تھیں۔ 3۔ وَاِذَاجَآئُ وْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللہ :”حیی یحییٰ حیاۃ“ (حشیی یخشی) زندہ ہونا۔ ”حیی یحی تحیۃ“ (تفعیل) زندگی اور سلامتی کی دعا دینا ، سلام کہنا۔ (دیکھئے نسائ : 86) یعنی جب یہ یہودی اور ان کے ہم نوا منافقین آپ ﷺ کے پاس آتے ہیں تو ایسے الفاظ کے ساتھ آپ کو سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کے آپ ﷺ کو سلام کا ذکر خاص اس آیت میں ہے :(یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا) (الاحزاب : 56)”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اس پر صلوٰۃبھیجو اور سلام بھیجو ، خوب سلام بھیجنا“۔ اور ذکر عام اس آیت میں ہے :(قل الحمد للہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی) (النمل : 59)”کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنہیں اس نے چن لیا“۔ یہودی آپ کو ”السلا م علیکم“ کے بجائے ”السام علیکم“ (تم پر موت ہو) کہتے۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین نے بھی یہود کی دیکھا دیکھی یہ کام شروع کردیا تھا، جیسا کہ انہوں نے یہود سے سیکھ کر آپ ﷺ کو متوجہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والا ”راعنا“ گالی کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا تھا ، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا اور اس کے بجائے ”انظرنا“ کہنے کا حکم دیا۔ (دیکھئے بقرہ : 104) عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا :(السام علیک یا ابا القاسم) ”اے ابو لقاسم ! تجھ پر موت ہو۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :(وعلیکم) ’ ’ اور وہ تمہی پر ہو“۔ عائشہ ؓ کہتی ہیں میں نے کہا :(بل علیکم السام والذام) ’ ’ بلکہ تم پر موت اور مذمت ہو“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یا عائشہ ! لا تکونی فاحشۃ) ”اے عائشہ ! نازیبا الفاظ کہنے والی نہ بن“۔ عائشہ ؓ نے کہا : آپ نے وہ نہیں سنا جو انہوں نے کہا ہے ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا :(او لیس قد وددت علیھم الذی قالوا ، قلت وعلیکم) ”تو کیا میں نے وہ بات انہی پر لوٹا نہیں دی جو انہوں نے کہی ہے ؟ میں نے کہہ دیا : ”وعلیکم“ کہ ”وہ تمہیں پر ہو۔“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمادی :(واذا جاء وک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ)”اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کیا“۔ (مسلم ، السلام ، باب النھی عن ابتداء ، اھل الکتاب بالسلام۔۔۔: 11، 2165، مسند احمد : 2، 229، 23، ح : 25978) 4۔ ا وَیَقُوْلُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ لَوْلَا یُعَذِّبُنَا اللہ ُ بِمَا نَقُوْلُ ط۔۔۔۔: اور وہ اپنے دل میں یا آپس کی مجلس میں اسے رسول اللہ ﷺ کے رسول نہ ہونے کی دلیل قرار دیتے تھے کہ اگر یہ رسول ہوتے تو یہ الفاظ کہتے ہوئے ہم پر عذاب آجاتا ، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے سچا ہونے کے لیے یہی دلیل کافی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی اس حرکت سے آگاہ کردیا۔ رہا عذاب ، تو اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ گناہ پر اسی وقت گرفت فرمائے ، اس نے تو ان لوگوں کو بھی مہلت دے رکھی ہے جو اسے گالی دیتے ہیں ، تا کہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں مہلت نہیں ملی اور اس نے ہر کام کی طرح ان کے عذاب کے لیے بھی ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ چناچہ مرنے کے بعد ان کے لیے جہنم کا عذاب تیا ر ہے اور وہ انہیں کافی ہے ، اس کے ہوتے ہوئے کسی اور سزا کی ضرورت نہ رہے گی۔
Ayah 58:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرو اور نیکی اور تقویٰ کی سرگوشی کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔

یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ۔۔۔۔۔: جیسا کہ آیت (7) کے فوائد میں گزرا کہ ”نجویٰ“ کا لفظ عموماًبرے مقاصد کے لیے سرگوشیوں پر استعمال ہوتا ہے جو حرام ہیں ، لیکن بعض اوقات ”نجوی“ (خفیہ مشورہ) اچھے مقاصد کے لیے بھی ہے، اس کی اجازت ہے ، بلکہ اس کی ترغیب دی گئی ہے اور یہ باعث اجر ہے۔ (دیکھئے نساء : 114) اس آیت میں ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو گناہ ، زیادتی اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی والی سرگوشیوں اور خفیہ مجلسوں سے منع فرمایا ، کیونکہ یہ ایمان کے دعویٰ کے خلاف ہے اور نیکی اور تقویٰ والی سرگوشیوں کی اجازت بلکہ نصیحت فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے سوگوشی کی ہر ایسی صورت سے منع فرمایا جس سے کسی مسلمان کی دل آزادی ہوتی ہو۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اذا کنتم ثلاثۃ فلا یتناجی رجلان دون الآخر حتیٰ تختلطو ا بالناس ، اجل ان یحزنہ) (بخاری ، استذان ، باب اذا کانوا کثر من ثلاثۃ فلا باس بالمسارۃ المناجاۃ : 6290۔ مسلم : 2184)”جب تم تین آدمی ہو تو وہ آدمی تیسرے کے بغیر آپس میں سر گوشی نہ کریں ، یہاں تک کہ تم دوسرے لوگوں کے ساتھ مل جاؤ ، کیونکہ یہ چیز اسے غمگین کرے گی۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر تین سے زیادہ آدمی ہوں تو کوئی دو آدمی آپس میں سر گوشی کرسکتے ہیں۔ البتہ چار یا پانچ یا زیادہ آدمی ایک شخص کو اکیلے چھوڑ کر الگ سرگوشی کریں تو اس اکیلے کا غمگین اور پریشان ہونا تو لازمی بات ہے ، اس لیے اس حدیث کے مطابق وہ بھی ناجائز ہے۔ تین آدمیوں میں سے دو اگر ایسی زبان میں بات شروع کردیں جو تیسرا نہیں جانتا تو اس حدیث کے مطابق وہ بھی جائز نہیں۔ ہاں اگر دو آدمی تیسرے سے اجازت لے کر آپس میں سر گوشی کرلیں تو یہ جائز ہے ، جیسا کہ ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اذا کنتم ثلاثۃ فلا یتناج اثنان دون الثالث الا باذنہ فان ذلک یحزنہ) (مسند احمد : 2، 146، ح : 6338۔ مصنف عبد الرزاق ، ح : 19806، وسندہ صحیح)”جب تم تین آدمی ہو تو وہ دو آدمی تیسرے کے بغیر سرگوشی نہ کریں ، مگر اس کی اجازت کے ساتھ ، کیونکہ یہ چیز اسے غمگین کرے گی“۔
Ayah 58:10

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

یہ سرگوشی تو شیطان ہی کی طرف سے ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو غم میں مبتلا کرے جو ایمان لائے، حالانکہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر انھیں ہرگز کوئی نقصان پہنچانے والا نہیں اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔

اِنَّمَا النَّجْوٰی مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔۔۔۔۔:”حزن یحزن“ (س) غمگین ہونا اور ”حزن یحزن“ (ن) غمگین کرنا۔ اس میں مسلمانوں کی تسلی دلائی ہے کہ یہود و منافقین کی یہ سرگوشیاں دراصل شیطان کی کار ستانی ہے ، جس سے وہ ایمان والوں کو غمگین کرنا چاہتا ہے۔ اگر تم ایسی کوئی بات دیکھو تو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو تو شیطان تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور نہ ان سرگوشیوں سے تمہارا کچھ نقصان ہوسکتا ہے ، اس لیے اللہ ہی پر توکل رکھو اور غمگین ہو کر شیطان کو خوش رہونے کا موقع نہ دو۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل جاؤ تو کھل جاؤ، اللہ تمہارے لیے فراخی کر دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوجاؤ، اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پوری طرح باخبر ہے۔

1۔ٰیٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِیْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوْا۔۔۔۔۔: پچھلی آیات میں مجلس کے آداب میں سے سرگوشی سے ممانعت کا ادب بیان ہوا ، اس آیت میں اس کے مزید کچھ آداب بیان ہوئے ہیں۔ ان آداب کی ضرورت اس لیے پڑی کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں ہر شخص آپ کے زیادہ سے زیادہ قریب رہنے کی خواہش رکھتا تھا، جس سے مجلس میں تنگی پیش آتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ادب سکھایا کہ جب حاضرین مجلس کی سہولت کے لیے کہا جائے کہ کھل جاؤ ، تا کہ سب لوگ آسانی سے کھلے ہو کر بیٹھ سکیں تو کھل جاؤ ، صرف میر مجلس کے قریب کے پیش نظر ایک دوسرے کے اوپر چڑھ کر بیٹھے رہنے پر اصرار نہ کرو۔ اسی طرح اگر مجلس میں کچھ اور لوگ آجائیں اور ان کی جگہ بنانے کے لیے کھل جانے کے لیے کہا جائے تو کھل جاؤ اور دل میں تنگی محسوس نہ کرو۔ 2۔ یَفْسَحِ اللہ ُ لَکُمْ :”یفسح“ فعل مضارع معلوم ہے جو ”تفسحوا“ امر کا جواب ہونے کی وجہ سے محروم ہے ، آگے ملانے کے لیے اسے کسرہ دیا گیا ہے ، یعنی تم مجلس میں کشادگی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے فراخی کر دے گا ، اس فراخی میں سب سے پہلے فراخی تو دل کی فراخی ہے کہ خوش دلی سے کھل جاؤ گے تو دلوں کی تنگی دور ہوگی اور ان میں بھائیوں کے لیے وسعت پیدا ہوگی۔ اس کے علاوہ بھی اللہ دنیا و آخرت کے ہر معاملے میں تمہیں فراخی عطا فرمائے گا ، کیونکہ ہر عمل کا بدلہ ہی جیسا ہوتا ہے ، جیسا کہ عثمان بن عفان ؓ نے بیان کیا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا :(من بنی مسجد اللہ بنی اللہ لہ فی الجنۃ مثلہ) (مسلم ، المساجد ، باب فضل بناء المساجد والحث علیھا : 25، 533، بخاری : 450)”جو شخص اللہ کے لیے مسجد بنائے اللہ اس کے لیے اس کی مثال جنت میں (گھر) بنائے گا“۔ اور ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(من نفس عن مومن کر بۃ من کرب الدنیا نفس اللہ عنہ کر بۃ من کرب یوم القیامۃ ومن یسر علی معسر یسر اللہ علیہ فی الدنیا والآخرۃ ومن ستر مسلما ًسترہ اللہ فی الدنیا والآخرۃ واللہ فی عون لعبد ما کان العبدما کان العبد فی عون اخیہ) (مسلم ، الذکر، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن و علی الذکر : 2699)”جو شخص کسی مومن سے دنیا کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا۔ اور جو کسی تنگی والے پر آسانی کرے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جو شخص کسی مسلم (کے عیبوں) پر پردہ ڈالے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس (کے عیبوں) پر پردہ ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے“۔ 3۔ وَاِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا :”نشر ینشز نشزا“ (ض، ن)”الرجل عن مکانہ“ آدمی کا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہونا۔ جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہوجاؤ تو اٹھ کھڑے ہوجاؤ ، یعنی جب مجلس کا امیر یا مجلس کے منتظمین حاضرین میں سے کسی کے علم و فضل اور شرف و مرتبہ کے پیش نظر اسے امیر کے قریب لانے کے لیے کہیں تو اسے چاہیے کہ اٹھ جائے اور اپنے دل میں کوئی تنگی یا ملال نہ لائے ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لیلنی منکم اولو الاحلام والنھی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم) (مسلم ، الصلاۃ ، باب تسویۃ الصفوف واقامنھا۔۔۔ 432)”تم میں سے میرے قریب وہ لوگ ہوں جو سمجھ اور عقل والے ہوں ، پھر جو ان سے (سمجھ اور عقل میں) قریب ہوں“۔ اسی طرح اگر امیر کسی شخص سے یا کچھ لوگوں سے مشورہ کرنے کے لیے یا ان کی بات سننے کے لیے کسی کو اس کی جگہ سے اٹھ جانے کے لیے کہے تو اسے کسی ملال کے بغیر اٹھ جانا چاہیے۔ یہ ادب اس لیے مقرر فرمایا کہ بعض اوقات عام سمجھ والے مسلمان رسول اللہ ﷺ سے محبت کی وجہ سے یا منافقین اپنے خبث باطن کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے قریب ساری جگہ گھیر لیتے ، پھر کوئی بزرگ صحابی مثلاً ابوبکر و عمرؓ وغیرہ آتے تو ان کے لیے جگہ نہ چھوڑتے اور اگر اٹھنے کے لیے کا جاتا تو برا مناتے۔ ظاہر ہے اگر اس ادب کا خیال نہ رکھا جائے تو کسی امیر کی کوئی مجلس صحیح طریقے سے چل ہی نہیں سکتی۔ اسی طرح اگر میرا مجلس کو برخاست کر دے اور سب کو اٹھ جانے کے لیے کہے تو انہیں اٹھ جانا چاہیے اور اس میں اپنی توہین محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ 4۔ یَرْفَعِ اللہ ُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔۔۔۔:”یرفع“ فعل مضارع ہے جو ”فانشزوا“ امر کا جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے کسرہ اسے آگے ملانے کے لئے دیا گیا ہے۔ یعنی جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہوجاؤ تو اٹھ کھڑے ہوجاؤ۔ جب تم اللہ کا حکم سمجھ کر تواضع اختیار کرو گے اور اٹھنے میں کسی طرح کی توہین یا کسر شان کا خیال دل میں نہیں لاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو درجوں میں بلندکر دے گا جو ایمان لائے ، کیونکہ ایمان کا تقاضا تواضع ہے اور ایمان اور کبر کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال حبۃ من خردل من کبر ولا یدخل النار من کان فی قلبہ مثقال خردل من ایمان) (ابو داؤد ، اللباس ، باب ما جاء فی الکبر ، 4091، وقال الالبانی صحیح)”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر کبر ہوگا اور وہ شخص آگ میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہوگا“۔ 5۔ یَرْفَعِ اللہ ُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ لا : بظاہر یہاں الفاظ یہ ہونے چاہئیں تھے کہ ”یرفع اللہ الذین نشزوا منکم“ یعنی ”جب تمہیں کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہوجاؤ تو اٹھ کھڑے ہوجاؤ) تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اٹھ کھڑے ہوں گے درجات میں بلند کر دے گا“۔ مگر اللہ تعالیٰ نے منافقین کو نکالنے کیلئے ”امنوا منکم“ کی قید لگا دی کہ منافقین اس حکم پر اٹھ کھڑے ہوں تب بھی انہیں رفع درجات کا شرف حاصل نہیں ہوسکتا ، ان کا ٹھکانہ ”الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ج“ (آگ کا سب سے نچلا درجہ) ہی ہے۔ دیکھئے سورة ٔ نساء (145) 8۔ وَالَّذِیْنَ اُوْتُو الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ط : یہ ”الذین امنوا“ ہی کی صفت ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام ؓ کو ”الذین امنوا العلم“ قرار دیا ہے۔ دیکھئے سورة ٔ محمد (16) کی تفسیر اور ایمان کا ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ بھی علم کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا ، جیسا کہ فرمایا :(فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ اللہ ُ) (محمد : 19)”پس جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“۔ ہاں، علم اور ایمان کے مدارج میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ اسی طرح جنت میں علم کے لحاظ سے اہل ایمان کے مدارج میں بلندی ہوگی۔ عبد اللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یقال لصاحب القرآن اقرا وارتق ورتل کما کنت ترتل فی الدنیا فان منزلک عند آخر آیۃ تقروھا) (ابو داؤد، الوتر ، باب کیف یستحب الترتیل فی القراء ۃ : 4214، وقال الالبانی حسن صحیح)”قرآن والے شخص سے کہا جائے گا پڑھ اور چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا ، تیرا مقام آخری آیت کے پاس ہے جسے تو پڑھے گا“۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ (ان اللہ یرفع بھذا الکتاب اقواما ویضع بہ آخرین“ (مسلم صلاۃ المسافرین ، باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ۔۔۔۔: 1412، عن عمر ؓ) یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا درجات میں بلندی عطاء فرمائے گا ، وہ جس قدر ایمان اور علم میں زیادہ ہوں گے اتنے ہی درجوں میں بلند ہوں گے۔ اس آیت سے علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ 7۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ”الذین امنوا منکم“ اور ”والذین اوتوا العلم“ کو عطف کے ساتھ ذکر فرمایا ہے ، جو مغایرت کے لیے ہوتا ہے ، تو یہ دونوں ایک ہی موصوف کی صفت کیسے ہوسکتے ہیں ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں موصوف میں مغایریت مراد نہیں صفات میں مغایرت مراد ہے اور بعض اوقات ایک ہی موصوف کی صفات اس طرح بھی لائی جاتی ہیں ، جیسا کہ سورة ٔ اعلیٰ میں ہے :(سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَھَدٰی وَالَّذِیْٓ اَخْرَجَ الْمَرْعٰی) (الاعلیٰ : 1 تا 4)”اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو سب سے بلند ہے ، وہ جس نے پیدا کیا ، پس درست بنایا۔ اور وہ جس نے اندازہ ٹھہرایا ، پھر ہدایت کی ، اور وہ جس نے چار اگایا“۔ 8۔ وَ اللہ ُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ : یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے پوری طرح با خبر ہے کہ تم اٹھنے کا حکم ملنے پر خوش دلی سے اٹھ کھڑے ہوتے ہو یا نفاق اور کبر کی وجہ سے مجبوراً اٹھتے ہو اور وہ تمہیں تمہارے عمل کے مطابق ہی جزا دے گا۔
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ پیش کرو، یہ تمہارے لیے زیادہ اچھا اور زیادہ پاکیزہ ہے، پھر اگر نہ پاؤ تو یقینا اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

1۔ یٰـٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ۔۔۔۔: ہر مسلمان نبی ﷺ سے مناجات اور خلوت میں گفتگو کی خواہش رکھتا تھا ، جس سے نبی ﷺ کو مشقت اٹھانا پڑتی تھی۔ اس پر مزید منافقین کا رویہ تھا کہ انہوں نے محض اپنی بڑائی جتانے کے لیے نبی ﷺ سے سرگوشیاں شروع کردیں۔ ایک ایک آدمی آپ کا خاصا وقت لے جاتا ، اس سے دو سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ، کیونکہ انہیں عام فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملنا ، خود نبی ﷺ پر بھی ان کا یہ طرز عمل شاق گزرتا ، مگر آپ مروت و اخلاق کی وجہ سے کسی کو منع نہ فرماتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جو شخص بھی اپ ﷺ سے علیحدگی میں گفتگو کرنا چاہیے وہ اس سے پہلے صدقہ دے کر آئے ، البتہ نادار مسلمانوں کے لیے گنجائش رکھی کہ اگر صدقہ کرنے کے لیے تمہارے پاس کچھ نہ ہو اور تمہیں علیحدگی میں گفتگو کرنا ضروری ہو تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ منافقین عموماً مال دار تھے مگر سخت بخیل تھے ، لہٰذا انہوںں نے بخل کی وجہ سے علیحدگی میں گفتگو کر کے آپ کا وقت ضائع کرنا ترک کردیا۔ 2۔ ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاَطْھَرُ ط : یعنی اس حکم کا مقصد صرف رسول اللہ ﷺ سے مشقت ہٹانا نہیں بلکہ تمہاری تربیت بھی ہے کہ جب بھی تمہیں رسول اللہ ﷺ سے علیحدگی میں گفتگو کی خواہش ہوگی اور ہر بار اس سے پہلے تم صدقہ کرو گ تو اس سے فقراء کا فائدہ ہوگا اور تمہیں خرچ کرنے کی عادت پڑے گی ، بخل کی کمینگی دور ہوگی ، مال میں برکت ہوگی ، آفات و مصائب اور جہنم سے حفاظت ہوگی اور اموال و قلوب کو طہارت حاصل ہوگی۔
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس سے ڈر گئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقے پیش کرو، سو جب تم نے ایسا نہیں کیا اور اللہ نے تم پر مہربانی فرمائی تو نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔

ئَ اَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقٰتٍ ط : اس سے ظاہر ہے کہ اس حکم کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ علیحدگی میں گفتگو کا رجحان ، جو بہت بڑھ گیا تھا ، رگ گیا۔ منافقین اپنے بخل کی وجہ سے رک گئے اور مخلص مسلمان ، جو نادار تھے ، غربت کی وجہ سے محتاط ہوگئے۔ 2۔ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَتَابَ اللہ ُ عَلَیْکُمْ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کے نزول کے بعد کسی نے نہ تو رسول اللہ ﷺ سے کوئی راز دارانہ بات کرنے کی جرأت کی اور نہ اس مقصد کے لیے صدقہ دینے کی نوبت آئی ، بلکہ انہیں احساس ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ سے راز دارانہ گفتگو کے بارے میں ان کی روش اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آئی ، اس لیے وہ اس پر نادم ہوئے اور اپنے رویے سے باز آگئے۔ ”وقاب اللہ علیکم“ یعنی اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر مہربانی فرمائی اور آپ سے مناجات سے پہلے صدقے کا حکم منسوخ کر رہا۔ 3۔ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ۔۔۔۔۔۔۔: یعنی جب یہ وقتی حکم تم سے اٹھا لیا گیا تو ان احکام کی پابندی کرتے رہو جن پر عمل تمہارے لیے ہمیشہ لازم ہے۔ ان میں سب سے اہم نماز اور زکوٰۃ ہے ، اس کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے ہر حکم کی اطاعت پر کار بند رہو اور یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح با خبر ہے۔ 4۔ یہ حکم اگرچہ منسوخ ہوگیا مگر اس سے جو مقصود تھا وہ حاصل ہوگیا ، مسلمان تو آپ ﷺ سے محبت اور آپ کے ادب کی وجہ سے علیحدگی میں لمبی گفتگو سے اجتناب کرنے لگے اور منافقین اس خوف سے کہ ہم نے ایسا کیا تو ہمارا نفاق کھل جائے گا اور ہم پہچان لیے جائیں گے۔
Ayah 58:14

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے ان لوگوں کو دوست بنا لیا جن پر اللہ غصے ہوگیا، وہ نہ تم سے ہیں اور نہ ان سے اور وہ جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔

1۔ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قوْمًا غَضِبَ اللہ ُ عَلَیْہِمْ : اس آیت میں منافقین کے تین اواف بان کرتے ہوئے ان کی حالت پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے ، ان میں سے پہلا وصف یہ ہے کہ ایمان کے دعوے کے باوجود ان کی دوستی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو ایمان والوں کے بد ترین دشمن ہیں اور جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اگرچہ تمام کفار ہی پر اللہ کا غضب ہے اور منافقین تمام کفار سے درستی کرتے تھے ، مگر ”مغضوب علیھم“ خاص طور پر یہود کا لقب ہے ، جیسا کہ ”غیر المغضوب علیھم“ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ بقرہ (16، 90) ، آل عمران (112) ، اعراف (152) ، مائدہ (160) اور سورة ٔ ممتحنہ (13) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو یہود و نصاری اور کفار کی دوستی سے صریح الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ آل عمران (28) ، نسائ (144) ، مائدہ (51) اور سورة ٔ توبہ (23)۔ 2۔ مَا ہُمْ مِّنْکُمْ وَلَا مِنْہُمْ لا : یہ منافقین کا دوسرا وصف ہے کہ بظاہر مسلمان ہونے کے باوجود فی الواقع وہ تم میں سے نہیں ہیں ، کیونکہ اگر وہ حقیقی مومن ہوتے تو کفار کو کبھی دوست نہ بناتے۔ (دیکھئے مائدہ : 81) اور اسی طرح وہ یہود میں سے بھی نہیں ، کیونکہ وہ انہیں بھی حق پر نہیں سمجھتے ، ان کی دوستی محض غرض کی دوستی ہے کہ اگر مسلمانوں پر کوئی گردش آئی تو ان کی دوستی کام آئے گی۔ دیکھئے سورة ٔ نسائ (142، 143) کی تفسیر۔ 3۔ وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ : یعنی یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں جھوٹ بولتے ہیں اور اس پر قسمیں بھی کھاتے ہیں۔ اس جھوٹ سے مراد ایک تو مومن ہونے کا دعویٰ ہے۔ (دیکھئے منافقون : 1۔ توبہ : 56) پھر مختلف اوقات میں اللہ اور رسول اور مسلمانوں کے خلاف ان کے کسی قول یا فعل پر جب گرفت کی جاتی تو وہ جھوٹ بول دیتے کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی، نہ یہ کام کیا ہے اور اس پر قسمیں کھا جاتے۔ (دیکھئے توبہ : 62، 74، 95، 96۔ منافقون : 6، 7) سیرت کی کتابوں میں ایسے بہت سے واقعات مذکور ہیں۔
Ayah 58:15

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے بہت سخت عذاب تیار کیا ہے، بیشک یہ لوگ، برا ہے جو کچھ کرتے رہے ہیں۔

اَعَدَّ اللہ ُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا ط۔۔۔۔۔: عذاب شدید سے مراد ”الدرک الاسفل من النار“ ہے۔ دیکھئے سورة ٔ نسائ (145)۔
Ayah 58:16

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انھوں نے اپنی قسموں کو ایک طرح کی ڈھال بنا لیا، پس انھوں نے اللہ کی راہ سے روکا، سو ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔

1۔ اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً۔۔۔۔۔: یعنی ایک طرف انہوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال بچانے کے لیے مسلمان ہونے کی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور دوسری طرف وہ مسلمانوں کے اندر رہ کر جب موقع ملتا ہے شکوک و شبہات پیدا کر کے بہت سے لوگوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے روک دیتے ہیں۔ مزید دیکھئے سورة ٔ آل عمران (156، 168) نساء (72) اور سورة ٔ احزاب (18)۔ 2۔ فَلَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ : دنیا میں یہ رسوائی کہ نہ مسلمانوں میں ان کی کوئی عزت ہے اور نہ کفار میں سے کوئی ان پر اعتماد کرتا ہے اور قیامت کے دن ان کے لیے ”الدرک الاسفل من النار“ کی شکل میں عذاب تیار ہے۔
Ayah 58:17

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

ان کے اموال اللہ کے مقابلے میں ہرگز ان کے کسی کام نہ آئیں گے اور نہ ہی ان کی اولاد۔ یہ لوگ آگ میں رہنے والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھْمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ۔۔۔۔: نفاق کا بڑا باعث مال و اولاد کی محبت ہے ، اس لیے فرمایا قیامت کے دن یہ اموال و اولاد ان کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ آل عمران (116، 117)
Ayah 58:18

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ بیشک وہ کسی چیز پر (قائم) ہیں، سن لو ! یقینا وہی اصل جھوٹے ہیں۔

یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللہ ُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَہٗ۔۔۔۔۔ یعنی منافقین کی جھوٹ بولنے اور اس پر قسم کھانے کی عادت اتنی پکی ہے کہ موت اور حشر و نشر کے بعد کمی بھی نہیں جائے گی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اسی طرح جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے جس طرح دنیا میں مسلمانوں کے سامنے کھاتے ہیں اور سمجھیں گے کہ قسم کی صورت میں ان کے پاس کچھ نہ کچھ بنیاد موجود ہے، جس پر وہ قائم ہیں۔ فرمایا سن لو ، وہی اصل اور کامل جھوٹے ہیں کہ غلام الغیوب کے سامنے بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے۔ دیکھئے سورة ٔ انعام (22 تا 24)
Ayah 58:19

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

شیطان ان پر غالب آ گیا، سو اس نے انھیں اللہ کی یاد بھلا دی، یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں۔ سن لو ! یقینا شیطان کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

1۔ اِسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰہُمْ ذِکْرَ اللہ ِ ط۔۔۔: یعنی منافقین کے ان اعمال کی وجہ سے ان پر شیطان غالب آگیا اور اس طرح مسلط ہوگیا ہے کہ اس نے انہیں اللہ کی یاد تک بھلا دی ہے۔ یہ لوگ شیطانی گروہ ہیں اور شیطان کا گروہ ہی کامل خسارے والے لوگ ہیں۔ 2۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان کا آدمی پر غلبہ ہوجاتا ہے ، ان اعمال میں سے ایک نماز با جماعت کا ترک ہے۔ ابو درداء ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ما من ثلاثۃ فی قریۃ ولا بدولا تقام فیھم الصلاۃ الا قداستحوذ علیھم الشیطان فعلیک بالجماعۃ فانما یا کل الذئب القاصیۃ) (ابوداؤد ، الصلاۃ باب الشدید فی ترک الجماعۃ : 547)”کوئی بھی بستی یا باد یہ نہیں جس میں تین آدمی (ہی) ہوں اور ان میں نماز با جماعت نہ ہوتی ہو مگر اس پر شیطان غالب آچکا ہے ، اس لیے تم جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ بھیڑیا صرف اسی بکر ی کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور جانے والی ہو“۔ قرآن مجید میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے، فرمایا :(وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی لا)”اور جب وہ (منافق) نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں“۔
Ayah 58:20

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہی سب سے زیادہ ذلیل ہونے والوں میں سے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللہ وَرَسُوْلَـہٗٓ۔۔۔۔: یہ حزب الشیطان کے اس خسارے کا بیان ہے جو پچھلی آیت میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ ذلیل ہونے والوں میں سے ہیں۔ مزید دیکھئے اسی سورت کی آیت (5، 6) اور سورة ٔ توبہ کی آیت (23) کی تفسیر۔
Ayah 58:21

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ضرور بالضرور میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، یقینا اللہ بڑی قوت والا، سب پر غالب ہے۔

1۔ کَتَبَ اللہ ُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ط : کفار کے ”الاذلین“ ہونے کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اہل ایمان کی عزت اور ان کے غلبے کا بیان فرمایا، تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (71 تا 173) کی تفسیر۔ 2۔ اِنَّ اللہ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ : یہ اللہ اور اس کے رسولوں کے غالب آنے کی علت ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت قوت والا اور سب پر غالب ہے ، پھر اس پر غالب کون آسکتا ہے ؟
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہیں پائے گا کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی، یا ان کا خاندان۔ یہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اس نے ایمان لکھ دیا ہے اور انھیں اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ قوت بخشی ہے اور انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں، یاد رکھو ! یقینا اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

1۔ لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ۔۔۔۔۔۔: یعنی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی دو ایسی چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں ، خواہ وہ آدمی کے کتنے قریبی رشتہ دار ہوں ، اس لیے منافقین جو ایمان کے دعوے کے باوجود کفار سے دوستی رکھتے ہیں ان کا ایمان کا دعویٰ غلط ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ آل عمران (28) اور سورة ٔ توبہ (23، 24) 2۔ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ : یعنی یہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھنے والوں سے دوستی نہیں رکھتے ، خواہ وہ کتنے قریبی رشتہ دار ہوں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان نقش کردیا ہے۔ اس کا مصداق صحابہ کرام ؓ ہیں ، کیونکہ انہوں نے ان تمام لوگوں سے دستی اور دلی تعلق کا رشتہ کاٹ پھینکا تھا جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت اور دشمنی رکھتے تھے ، خواہ وہ ان کے باپ تھے یا بیٹے یا بھائی یا خاندان کے لوگ۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نے کفر کی حمایت میں مسلمانوں سے لڑنے والے قریب ترین رشتہ داروں کو بھی قتل یا قید کرنے سے دریغ نہیں کیا ، خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی تھے یا کوئی اور رشتہ دار۔ جنگ بدر میں جب قیدیوں کے متعلق مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کردیا جائے ، تو عمر ؓ نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر ایک کو اس کے رشتہ دار کے سپرد کیا جائے ، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے اور اللہ تعالیٰ کو عمر ؓ ہی کا مشورہ پسند آیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ انفال (67) کی تفسیر۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے چچا عباس اور عقیل بن ابی طالب ؓ اسیر ہوئے تو دوسرے قیدیوں کی طرح فدیہ دے کر رہا ہوئے۔ اسی طرح آپ کے داما ابو العاص اس شرط پر رہا ہوئے کہ آپ کی بیٹی زینب ؓ کو واپس بھجوا دیں گے۔ 3۔ وَاَیَّدَ ھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ ط : یعنی انہیں اپنی طرف سے ایک عظیم روحانی قوت عطاء فرما کر ان کی مدد فرمائی۔ 4۔ وَیُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ۔۔۔۔ : یہ ہے جنتوں میں داخلے اس میں ابدی قیام اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا وہ تصدیق نامہ جو صحابہ کرام ؓ کو اللہ کی جانب سے حاصل ہوا۔ پھر ان لوگوں کی بدنصیبی کا کیا عالم ہوسکتا ہے جو ان سے دشمنی رکھتے اور ان کے بارے میں بد زبانی کرتے ہیں۔ 5۔ اُولٰٓئِکَ حِزْبُ اللہ ِط :”حزب اللہ“ خبر معرفہ ہونے سے حصر کا مفہوم پیدا ہورہا ہے ، یعنی اللہ کی جماعت اور گروہ صرف یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کو اپنا بنا لیا اور اپنے ان عزیزوں سے بیگانہ ہوگئے جو اس سے اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے تھے۔ یاد رکھو ! صرف اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔