57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

اللہ کا پاک ہونا بیان کیا ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

1۔ سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج : یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کا خالق ومالک اللہ عزوجل ہر عیب اور کمی سے پاک ہے ، اس کی ذات وصفات ، افعال و احکام غرض ہر چیز کسی بھی طرح کے عیب اور نقص سے پاک ہے۔ اس سورت میں اور سورة ٔ صف اور سورة ٔ حشر کے شروع میں ”سبح“ (ماضی) آیا ہے ، سورة ٔ جمعہ اور سورة ٔ تغابن میں ”یسبح“ (مضارع) آیا ہے ، جس میں حال و استقبال دونوں شامل ہیں اور سورة ٔ بنی اسرائیل میں ”سبحن“ (مصدر) آیا ہے ، جس میں دوام پایا جاتا ہے۔ یعنی کائنات کا ذرہ ذرعہ ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کا ہر عیب سے پاک ہوتا بیان کرتا چلا آتا ہے ، اب بھی کر رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ سورة ٔ اعلیٰ میں ”سبح“ امر کے ساتھ بھی آیا ہے۔ 2۔ اس میں مشرکین پر چوٹ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ہر عیب سے پاک ہونے کا اعلان کر رہی ہے اور تم ہو کہ اس کے لیے شریک اور اس کے لیے اولاد بنا کر اس پر اتنا بڑا عیب لگا رہے ہو جس سے بڑا عیب اور جس سے بڑی گالی اس کے لیے ہو ہی نہیں سکتی۔ تمہیں پیدا اس نے کیا ، تمہاری پرورش وہ کر رہا ہے اور تمہاری ہر ضرورت پوری وہ کرتا ہے ، تمہاری موت و حیات اس کے ہاتھ میں ہے ، مگر تم اس کے بےبس بندوں میں سے کسی کو داتا کہتے ہو ، کسی کو دستگیر ، کسی کو مشکل کشا اور کسی کو گنج بخش ، کسی کو تم نے اولاد دینے والا بنا رکھا ہے تو کسی کو حکومت دینے والا ، کسی کو خزانے بخشنے والا تو کسی کو شفاء دینے والا ، کسی کے متعلق کہتے ہو کہ وہ اللہ کی تقدیر کا رخ پھیر دیتا ہے اور کسی کے بارے میں کہتے ہو کہ وہ کمان سے نکلا ہوا تیر راستے سے واپس لے آتا ہے۔ اب آسمان و زمین کی ہر چیز کی گواہی کو دیکھو اور اپنے طرز عمل کو دیکھو۔ عبد اللہ بن عباس ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں :(قال اللہ کذبنیی ابن آدم ولم یکن لہٗ ذلک وشتمنی ولم یکن لہ ذلک ، فاماتکذمیہ ایای فزعم انی لا اقدر ان اعیدہ کما کان واما شتمہ ایای فقولہ لی ولد ، فسبحانی ان اتخذ صاحبۃ او ولدا) (بخاری ، التفسیر ، سورة البقرۃ ، باب :(وقالوا اتخذ اللہ ولدا سبحانہ): 4482)”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، ابن آدم نے جھٹلا دیا ، حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا اور اس نے مجھے گالی دی ، حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں اسے دوبارہ بنانے پر قادر نہیں ہوں اور اس کا مجھے گالی دینا اس کا یہ کہنا ہے کہ میری کوئی اولاد ہے، حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ میں کوئی بیوی یا اولاد بناؤں“۔ اس سورت میں اور مذکورہ بالا دوسری سورتوں کی آیات میں ”تسبیح“ کے لفظ اور اس حدیث میں ’ سبحانی“ کے لفظ پر غور فرمائیں تو تسبیح کا مفہوم کافی حد تک واضح ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تسبیح کے ذکر کے بعد اپنی دس سے زیادہ صفات بیان فرمائیں اور سب کے بعد کفر و شرک چھوڑ کر ایمان لانے کی دعوت دی ، فرمایا :(اٰمِنُوْا بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ ط) (الحدید : 7) ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمہیں (پہلوں کا) جانشنی بنایا ہے“۔ 3۔ تسبیح کا لغوی معنی کیا ہے ، قرآن آیات میں اس کا مفہوم کیا ہے ، یہ تسبیح زبان حال سے ہے یا قول کے ساتھ ؟ ان سب باتوں کے لیے دیکھئے سورة ٔ بنی اسرائیل (43، 44) کی تفسیر۔ 4۔ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ :”العزیز“ ”عز یعز“ (ض) سے مبالغے کا صیغہ ہے ، سب پر غالب ہے ، کوئی کام ایسا نہیں جو وہ کرنا چاہے اور نہ کرسکے اور کوئی ہستی ایسی نہیں جو اسے کسی کام سے روک سکے۔”الحکیم“ کمال حکمت والا۔ اس کا ہر کا محکم ہے اور دانائی پر مشتمل ہے ، اس لیے کہ وہ ماضی ، حال اور مستقبل کا کامل عامل رکھتا ہے۔ اس کے کسی کام میں کوئی غلطی نہیں ، وہ عزیز ہے تو حکیم بھی ہے ، اس کا غلبہ اندھے کی لاٹھی نہیں ، بلکہ اس کے ساتھ کمال حکمت بھی شامل ہے۔”العزیز الحکیم“ خبر پر الف لام سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا کہ عزیز و حکیم صرف وہ ہے ، کوئی اور نہیں۔
Ayah 57:2

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

1۔ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج :”لہٗ“ خبر کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہوگیا ، یعنی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے ، کسی اور کی نہیں۔ دوسرے کسی کے پاس بادشاہی اگر ہے تو سارے آسمانوں اور زمین کی نہیں بلکہ زمین کے کسی چھوٹے سے قطعے کی تھوڑے سے وقت کے لیے اور وہ بھی اسی کی عطاء کردہ اور ہر لمحے دوسروں کی محتاج۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر۔ پھر کائنات کے سارے اختیارات کے مالک کے مقابلے میں کسی اور کی عبادت کا کیا جواز ہے ؟ 2۔ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ج : اگرچہ یہ دونوں صفات ”لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج“ کے مضمون میں شامل ہیں ، مگر انہیں خاص طور پر الگ اس لیے ذکر فرمایا کہ یہ دونوں کام زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے ان تصرفات میں سے ہیں جن کی حقیقت اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور مخلوق میں سے کوئی دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان میں اس کا کوئی دخل ہے اور اس میں قیامت کے امکان کی بھی دلیل ہے جس کا مشرک انکار کرتے ہیں اور ان کے بنائے ہوئے خداؤں کے باطل ہونے کی طرف اشارہ بھی ہے ، یعنی ”لا یملکون موتا ولا حیوۃً ولا نشور ًا“ کہ باطل معبود تو نہ کسی موت کے مالک ہیں اور نہ زندگی کے اور نہ اٹھائے جانے کے۔ دیکھئے سورة ٔ فرقان (3) 3۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ اس کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی سب سے پہلے ہے اور سب سے پیچھے ہے اور ظاہر ہے اور چھپا ہوا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

ہُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ ج۔۔۔۔:”ظھر یظھر“ (ف) کا معنی پوشیدہ کے مقابلے میں ظار ہونا بھی ہے اور بلند اور غالب ہونا بھی جیسا کہ فرمایا :(لیظھرہٗ علی الدین کلہ) (التوبۃ : 33) ”تا کہ وہ اسے ہر دین پر غالب کر دے“۔ یہاں بھی ”ھو“ مبتداء کی چاروں خبروں ”الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ ج“ پر الف لام کی وجہ سے حصر پیدا ہو رہا ہے ، یعنی وہی ہے جو سب سے پہلے ہے ، اس کی کوئی ابتداء نہیں اور وہی سب سے آخر ہے ، اس کے بعد کوئی نہیں ، اس کی انتہاء بھی کوئی نہیں ، اس کے سوا سب فناء ہونے والے ہیں ، اس پر فنا نہیں۔ وہی ہے جس کا وجود ظاہر ہے ، جو کائنات کی ہر چیز سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اسے بنانے والا موجود ہے ، جو ہر چیز پر غالب ہے کہ اس نے جو چاہا بنادیا اور جو چاہتا ہے بنا دیتا ہے ، کوئی اس سے اوپر نہیں جو اسے روک سکے اور وہی ہے جس کی ذات پوشیدہ ہے جس کا آنکھیں ادراک نہیں کرسکتیں۔ اس کے سوا کسی میں ان چاروں صفات میں سے ایک صفت بھی نہیں پائی جاتی۔ اس آیت کی بہترین تفسیر خود رسول اللہ ﷺ سے آئی ہے ، ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم اپنے ستر پر لیٹیں تو یہ کہیں :(اللھم رب السماوات ورب الارض و رب العرش العظیم ، ربنا ورب کل شیئ، فالق الحب وشوی ، ومنزل التوراۃ والانجیل والفرقان ، اعوذ بک من شرکل شیء انت آخذ بنا صیتہٖ ، اللھم انت الاول فلیس قبلک شیء وانت الآخر فلیس بعدک شیء وانت الظاھر فلیس فوقک شیء وانت الباطن قیس دونک شیء ، اقض عنا الدین واغننا من الفقر) (مسلم ، الذکر والدعا ، باب ما یقول عند النوم و اخذالمضجع : 2713)”اے اللہ ! اے آسمانوں کے رب اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب ! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب ! دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑ نکالنے والے اور تورات و انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے ! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگنا ہوں جس کی پیشانی کے بالوں کو تو پکڑے ہوئے ہے۔ اے اللہ ! تو ہی اول ہے ، سو تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور تو ہی آخر ہے ، سو تیرے بعد کوئی چیز نہیں اور تو ہی ظاہر ہے ، سو تجھ سے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو ہی باطن ہے ، سو تجھ سے ”دون ‘ ‘(بعد) کوئی چیز نہیں۔ تو ہم سے قرض ادا کرے اور ہمیں فقیر سے غنی کر دے“۔ 2۔”الباطن“ کی ایک تفسیر وہ ہے جو عام طور پر کی جاتی ہے ، یعنی پوشیدہ۔ اس کے مطابق ”لیس دونک شئی“ کا مطلب یہ ہے کہ تو ہی پوشیدہ ہے ، سو تجھ سے زیادہ پوشیدہ کوئی چیز نہیں۔ یہ مفہوم ”لا تدرکہ الابصار“ میں بیان ہوا ہے ، دیکھئے سورة ٔ انعام (103) کی تفسیر اور ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی حدیث میں بھی یہی بات ہوئی ہے ، انہوں نے فرمایا :(قام مینا رسول اللہ ﷺ بخمس کلمات فقال ان اللہ عزوجل لا ینام ولا ینبغی لہ ان ینام، یحنض القسط و یرفعہ یرفع الیہ عمل اللیل قبل عمل النھار و عمل النھار قبل عمل اللیل، حجابہ النوروفی روایۃ ابی بکر النار لو کشفہ لا حرقت سبحات وجھہ ما انتھی الیہ بصرہ من خلقہ) (مسلم الایمان باب فی قولہ ؑ :”ان اللہ لا ینام۔۔۔۔۔“: 179)”رسول اللہ ﷺ نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں ، چناچہ آپ نے فرمایا :”اللہ عزوجل سوتا نہیں اور اس کے لائق نہیں کہ وہ سوئے ، وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اسے اٹھاتا ہے ، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے۔ اس کا حجاب نور ہے (اور ابوبکر کی روایت میں ہے کہ نار ہے) اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی کرنیں اس کی خلوق میں سے ان تمام چیزوں کو جلا دیں جن تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے“۔ 3۔ اور ”الباطن“ کی ایک تفسیر وہ ہے جو مفسر طبری نے بیان فرمائی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں :”والظاھر ‘ ‘ یقول وھو الظاھر علی کل شئی دونہٗ وھو العالی فوق کلی شیء فلاشیء اعلیٰ منہ“”والباطن“ یقول وھو الباطن جمیع الاشیاء ، فلا شیء اقرب الی شیء منہ ، کمال قال :(وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ) (ق : 16)”یعنی“ ”والظاھر“ کا مطلب یہ ہے کہ وہی اپنے سوا ہر چیز پر ظاہر ہے اور وہی ہر چیز کے اوپر بلند ہے ، کوئی چیز اس سے بلند نہیں اور ”والباطن“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام اشیاء سے باطن ہے ، چناچہ کوئی چیز کسی چیز سے اس سے زیادہ قریب نہیں ، جیسا کہ فرمایا :(وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ) (ق : 16) ”اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں“۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہر چیز سے زیادہ بلند بھی وہی ہے اور ہر چیز کے زیادہ سے زیادہ قریب بھی وہی ہے۔ بہت سے اہل علم نے اس قرب سے مراد علم کے لحاظ سے قریب ہونا اور ”الباطن“ کا معنی علم کے لحاظ سے ہر چیز کے قریب کیا ہے۔ بحث آگ آیت (4) ”وھو معکم“ میں کچھ تفصیل سے آرہی ہے۔
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے۔

۔ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ اعراف (54) کی تفسیر۔ 2۔ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط : اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ اعراف (54) اور سورة ٔ طہٰ (5) کی تفسیر۔ اس آیت میں مذکور تمام جملے لانے کا مقصد بھی یہ ہے کہ جب یہ سب کچھ اللہ واحد نے کیا ہے تو پھر اس پر ایمان کیوں نہیں لاتے اور اس کے ساتھ شریک کیوں ٹھہراتے ہو، جیسا کہ یہ بات آگے آیت (7) ”امنوا باللہ“ میں صراحت کے ساتھ آرہی ہے۔ 3۔ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا۔۔۔۔: اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے تعلق رکھنے والی چیزوں میں ان چیزوں کے بجائے جو زمین پر موجود ہیں ان چیزوں کا ذکر فرمایا جو اس میں داخل ہوتی ہیں یا اس سے نکلتی ہیں۔ اسی طرح آسمان میں موجود چیزوں کے ذکر کے بجائے ان کا ذکر فرمایا جو اس سے اترتی ہیں یا اس کی طرف چڑھتی ہیں ، کیونکہ جو زمین میں داخل ہونے والی اور اس سے نکلنے والی چیزوں کو جانتا ہے وہ اس کے اوپر موجود چیزوں کو بالاولیٰ جانتا ہے اور جو آسمان سے اترنے والی اور اس میں چڑھنے والی چیزوں کو جانتا ہے وہ فضاء اور خلاء میں موجود نظر آنے والی اور نظر نہ آنے والی چیزوں کو اور ستاروں کی گردش اور ان کے نظام کو بالا ولیٰ جانتا ہے۔ زمین میں داخل ہونے والی چیزوں میں سے بارش کا پانی ہے جو زمین کی گہرائیوں میں داخل ہوتا ہے ، نباتات کے بیج ہیں اور زمین میں دفن ہونے والے اجسام وغیرہ ہیں اور اس سے نکلنے والی چیزوں میں سے نباتات ، معدنیات ، گیسیں اور وہ جانور ہیں جو اپنے غاروں اور ٹھکانوں سے نکلتے ہیں۔ آسمان سے اترنے والی چیزوں میں سے بارش ، برف ، ہوائیں ، اللہ تعالیٰ کے احکام ، اس کے فرشتے اور اس کی رحمت وغیرہ ہیں اور اس میں چڑھنے والی چیزوں میں سے وہ چیزیں ہیں جو فضاء کے طبقات میں بلند ہوتی ہیں۔ مثلاً سمندر وغیرہ سے اٹھنے والے آبی بخارات ، مٹی اور ریت وغیرہ کی آندھیاں اور بگولے ، فضاء میں اڑنے والے پرندے ، جسموں سے جدا ہو کر اوپر جانے والی ارواح اور عالم بالا سے معلومات چرانے کے لیے اوپر جانے والے شیاطین ، بندوں کے اعمال اور فرشتے جو اترتے اور چڑھتے ہیں۔ (التحریر والتنویر فی سورة سبا) 4۔ وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ ط :”اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو“ اس جملے سے پہلے اسی آیات میں یہ جملہ گزر چکا ہے :(ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط)”وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ، پھر وہ عرش پر بلند ہوا“۔ تو یہ آیت دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بیک وقت کیسے درست ہوسکتی ہیں ؟ اس معاملے میں بعض لوگوں نے ان دونوں کا انکار کردیا اور یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نہ عرش پر ہے اور نہ کسی اور جگہ ، بلکہ وہ لا مکان ہے اور جو شخص یہ پوچھ بھی لے کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے وہ کافر ہوگیا ، کیونکہ اس کے لیے مکان (جگہ) تسلیم کرنے سے اس کا اس جگہ کا محتاج ہونا لازم آتا ہے۔ ان نادانوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ان کا فتویٰ کس کس پر لگ رہا ہے اور نہ یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ خود فرما رہے ہیں : (ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط) کہ پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔ قیامت کے دن آٹھ فرشتوں کے عرش ِ الٰہی کو اٹھائے ہونے کا ذکر سورة ٔ حاقہ میں موجود ہے ، فرمایا :(وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَہُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ) (الحاقہ : 17) ”اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے“۔ اور قیامت کے دن فرشتوں کے عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہونے کا ذکر سورة ٔ زمر میں موجود ہے ، فرمایا :(وَ تَرَی الْمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ) (الزمر : 75)”اور فرشتوں کو دیکھے گا عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے“۔ اور یہ سوال کرنا کہ اللہ کہاں ہے ، خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے ، چناچہ معاویہ بن حکم السلمی ؓ بیان کرتے ہیں : ”میری ایک لونڈی احد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں نے دیکھا تو بھیڑیا اس کی بکریوں سے ایک بکری لے جا چکا تھا ، میں بھی بنی آدم سے ہوں ، مجھے اسی طرح غصہ آجاتا ہے جیسے انہیں غصہ آتا ہے ، تو میں اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے اسے مجھ پر بہت بڑا (گناہ) قرار دیا ، میں نے کہا : ”یا رسول اللہ ﷺ ! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :(التنی بھا) ”اسے میرے پاس لاؤ“۔ میں اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اس سے کہا :(ابن اللہ ؟) ”اللہ کہاں ہے ؟“ اس نے کہا :(فی السمائ) ”آسمان میں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :(من انا ؟) ”میں کون ہوں ؟“ اس نے کہا (انت رسول اللہ) ”آپ اللہ کے رسول ہیں“۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :(اعتقھا فانھا مومنۃ) ”اسے آزاد کر دو ، کیونکہ یہ مومنہ ہے“۔ (مسلم ، المساجد و مواضع الصلاۃ ، باب تحریم الکلام فی الصلاۃ۔۔۔۔۔ 537) خلاصہ یہ ہے کہ یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ لامکان ہے ، قرآن و حدیث کا صریح انکار ہے اور یہ عقیدہ رکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ بھی ہے ، مگر اس طرح سے جسے وہی جانتا ہے اور جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے عرش پر مستوی ہونے کے انکار کی ایک انتہاء یہ تھی کہ وہ کسی جگہ بھی نہیں ، جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہستی ہی کا انکار ہے۔ دوسری انتہاء ان لوگوں نے اختیار کی جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر جگہ موجود ہے اور ہم جہاں بھی ہوں وہ ہمارے ساتھ اس طرح ہے جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں ، مگر یہ بات بھی غلط ہے ، کیونکہ اسی آیت میں ”وھو معکم این ماکنتم“ (اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو) اسے پہلے ”ثم استوی علی العرش“ میں اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر بھی موجود ہے۔ اب اگر ”وھو معکم این ما کنتم“ کا مطلب یہ لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر جگہ اس طرح ہمارے ساتھ ہے جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں تو ایک ہی آیت کے دو جملے ایک دوسرے سے ٹکراتے اور متعارض ٹھہراتے ہیں ، اس لیے ”وھو معکم این ما کنتم“ کا وہی مطلب درست ہوگا جو ”الرحمن علی العرش استوی“ پر ایمان لازم ہے اسی طرح ”وھو معکم“ پر ایمان بھی لازم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلام عرب میں معیت (ساتھ ہونے) کا معنی اگرچہ اس طرح ساتھ ہونا بھی ہے جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں ، مگر یہ لفظ مختلف مواقع کے لحاظ سے اس کے علاوہ معانی کے لیے بھی آتا ہے ، چناچہ معیت کا ایک معنی وہ ہے جو سورة ٔ بقرہ کی آیت (153) (ان اللہ مع الصبرین) (بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) اور سورة ٔ توبہ کی آیت (40) (لا تجزن ان اللہ معنا) (غم نہ کر ، یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے) میں ہے۔ ظاہ رہے ان آیات کے مطابق اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے بےصبروں کے ساتھ نہیں ، اسی طرح وہ ہجرت کے وقت غار ثور میں اور سارے سفر میں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے ساتھ تھا ، مشرکین کے ساتھ نہیں۔”وھو معکم این مان“ میں یہ معنی بھی مراد نہیں ، کیونکہ اس معنی میں معیت صرف اللہ کے مخلص بندوں کا نصیب ہے۔ معیت کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ایک چیز دور ہونے کے باوجود ان چیزوں کے ساتھ بھی ہو جن سے وہ دور ہے ، چناچہ ”وھو معکم“ میں معیت سے یہی معنی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے ، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ بھی ہے۔ رہی یہ بات کہ کس طرح ہے ؟ تو اس کی اصل اور پوری کیفیت وہی جانتا ہے۔ اگر مخلوق میں ایسا ہونا ممکن نہ بھی ہو تو اللہ تعالیٰ مخلوق پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے :(لیس کمثلہ شئی) (الشوریٰ : 11)”اس کی مثل کوئی چیز نہیں“۔ مگر مخلوق میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں کہ ایک چیز کسی ایک جگہ ہونے کے باوجود دوسری جگہ موجود لوگوں کے ساتھ ہو۔ اس کی ادنیٰ سی مثال سورج اور چاند ہیں کہ بلندی پر ہونے کے باوجد ہم جہاں جاتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں ، حالانکہ وہ زمین پر ہمارے اندر موجود نہیں ہوتے ، مگر سب کہتے ہیں کہ رات میں سفر کرتا رہا اور چاند سارے سفر میں میرے ساتھ رہا۔ معیت کا یہ معنی معروف ہے اور اپنے مقام پر حقیقی معنی ہے۔ جب سورج اور چاند کا یہ معاملہ ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفت تو ان کی صفت سے کہیں بلند ہے ، چناچہ وہ عرش پر ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ ہے ، خواہ ہم کہیں بھی ہوں ، اگرچہ اپنی صفت ”الباطن“ کی وجہ سے اور حجاب میں ہونے کی وجہ سے ہمیں نظر نہیں آتا۔ قیامت کے دن جب وہ اہل جنت کو اپنے دیدار کی نعمت سے سرفراز فرمانے کا ارادہ کرے گا اور اپنا حجاب کھولے گا تو تمام جنتی اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے کسی تکلیف کے بغیر اور کسی قسم کے ہجوم یا بھیڑ کے بغیر اسے دیکھیں گے اور یہ مثال خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا :(یا رسول اللہ ! ھل نری ربنا یوم القیامہ ؟ فقال رسول اللہ ﷺ ھل تضارون فی القمر لیلۃ البدر ؟ قالو الا یا رسول اللہ ! قال فھل تضارون فی الشمس لیس دونھا سحاب ؟ قالو الا یا رسول اللہ ! قال فانکم ترونہ کذلک) (بخاری ، التوحید ، باب قول اللہ تعالیٰ (وجوہ یرمنا۔۔۔۔): 7437)”یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”کیا تم چودھویں کی رات کو چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو ؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : ”نہیں اے اللہ کے رسول !“ آپ ﷺ نے فرمایا :”تو کیا تم سورج کو دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو جس کے سامنے کوئی بادل نہ ہو ؟“ لوگوں نے کہا : ”نہیں یا رسول اللہ ﷺ !“ آپ ﷺ نے فرمایا :”تو تم اسے اسی طرح دیکھو گے“۔ یہاں شیخ محمد بن صالح بن عثیمین ؒ تعالیٰ کی تالیف ”القواعد المثلیٰ فی صفات اللہ واسماء ہ الحسنیٰ“ (المثال الخامس والسادس) سے ان کی ایک تحریر کا ترجمہ لکھا جاتا ہے ، وہ لکھتے ہیں :”دوسری وجہ یہ ہے کہ ”معیت“ کے معنی کی حقیقت ”علو“ کے مناقض اور خلاف نہیں ، کیونکہ دونوں کا جمع ہونا مخلوق کے حق میں ممکن ہے (کہ ایک چیز بلندی پر بھی ہو اور ساتھی بھی ہو) کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ہم چلتے رہے اور چاند بھی ہمارے ساتھ تھا اور اسے تنافض نہیں سمجھا جاتا اور نہ کوئی اس سے یہ سمجھتا ہے کہ چاند زمین پر اتر آیا ہے۔ تو جب یہ مخلوق کے حق میں ممکن ہے تو خالق کے حق میں تو بالاولیٰ ممکن ہے ، جو اپنے علو کے ساتھ ہر چیز کو محیط بھی ہے ، کیونکہ معیت کی حقیقت کے لیے ضروری نہیں کہ دونوں ایک جگہ اکٹھے ہوں۔ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ”الفتوی الحمویۃ (ص 103)“ (دیکھئے ابن القاسم کے مرتب کردہ“ مجموع الفتاویٰ“ کی جلد پنجم) میں اسی وجہ کی طرف اشارہ کیا ہے ، چناچہ انہوں نے لکھا ہے :”یہ اس لیے کہ لغت میں جب لفظ ”مع“ کسی قید کے بغیر بولا جاتا ہے تو اس کا معنی لغت میں مطلق ساتھ ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ، پھر جب اسے کسی خاص معنی کے ساتھ مقید کیا جائے تو اس معنی میں ساتھ ہونے پر دلالت کرتا ہے ، چناچہ کہا جاتا ہے کہ ہم چلتے رہے اور چاند یا ستارہ ہمارے ساتھ تھا اور کہا جاتا ہے کہ فلاں سامان میرے ساتھ ہے ، کیونکہ وہ تمہارے پاس ہوتا ہے ، خواہ وہ تمہارے سر کے اوپر ہو۔ سو اللہ تعالیٰ حقیقت میں اپنی مخلوق کے ساتھ اور حقیقت میں اپنے عرش پر بھی ہے“۔ 5۔ سلف صالحین میں سے بہت سے اہل علم نے ”وھو معکم“ کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے اور وہ اپنے علم ، رؤیت اور قدر ت کے ساتھ ہمارے ساتھ ہے اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ زیر تفسیر آیت میں ”وھو معکم“ سے پہلے ہر چیز کے علم کا ذکر ہے اور بعد میں ہر چیز کو دیکھنے کا۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ بھی ہے ہم جہاں بھی ہوں ، مگر وہ زمین پر اپنی مخلوق کے ساتھ اس طرح نہیں جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور اس میں بھی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ، اسے دیکھنے والا اور اس پر پوری قدرت اور تصرف رکھنے والا ہے۔ یہ تمام صفات حسنیٰ اس کے لیے ثابت ہیں ، مگر معیت کا معنی علم یا قدرت نہیں بلکہ یہ بذات خود ایک صفت ہے جس کی اصل کیفیت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس لیے اس بات پر ایمان رکھنا لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے اور ہمارے ساتھ ہے ہم جہاں بھی ہوں۔ رہی یہ بات کہ کس طرح ہے ؟ تو اس کی اصل کیفیت وہی جانتا ہے ، چاند یا سورج کی مثالیں صرف سمجھانے کے لیے ہیں کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش کے اوپر ہے ، وہ مخلوق کے ساتھ ہوسکتا ہے اور ہے۔ موجودہ زمانے میں اس کی ایک اور ادنیٰ سی مثال بجلی ہے کہ وہ اپنے اصل ٹھکانے میں ہونے کے باوجود ہزاروں میل دور تک موجود ہوتی ہے اور اس کا وجود سب محسوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی معیت اور مخلوق پر مؤثر ہونے کے لیے یہ مثال بھی نہایت ادنیٰ مثال ہے ، جبکہ اللہ کی صفات بہت اعلیٰ ہیں ، چناچہ فرمایا (وللہ المثل الاعلیٰ) (النحل : 60)”اور اللہ کی سب سے اونچی صفت ہے“۔ اس کے لیے عرش پر رہ کر ہر ایک کے ساتھ ہونا بالکل معمولی بات ہے۔
Ayah 57:5

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

1۔ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج : یہ جملہ آیت (2) میں گزرا ہے ، دوبارہ تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ 2۔ وَاِلَی اللہ ِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ :”الی اللہ“ پہلے لانے کا مطلب یہ ہے کہ تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جانے ہیں، کسی اور کی طرف نہیں ، لہٰذا وہی تمام اعمال کا فیصلہ فرمائے گا اور ان کی جزاء یا سزا دے گا۔
Ayah 57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ۔۔۔۔: اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ آل عمران (27) ، حج (61) ، لقمان (29) ، ہود (5) اور سورة ٔ رعد (10)۔
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن میں اس نے تمہیں (پہلوں کا) جا نشین بنایا ہے، پھر وہ لوگ جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے خرچ کیا ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

1۔ اٰمِنُوْا بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ : سورت کے شروع سے یہاں تک اس حقیقت کے اعلان کے بعد کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز نے اللہ کا (ہر عیب اور کمی سے) پاک ہونا بیان کیا ہے ، اللہ تعالیٰ کی دس سے زیادہ صفات بیان ہوئی ہیں جو یہ ہیں :”العزیز، الحکیم ، لہ ملک السموات والارض ، یحییٰ و یمیت ، وھو کل علی شئی قدیر ، ھو الاول والاخرو الظاھر والباطن ، وھو بکل شئی علیم ، یولج الیل فی النھار و یولج النھار فی الیل“ ان صفات کے بیان کے بعد اس بات کی دعوت دی ہے کہ ان صفات کے مالک اللہ تعالیٰ پر اور اس کا پیغام لے کر آنے والے پر ایمان لاؤ۔ اس کے مخاطب اگرچہ کفار بھی ہیں ، مگر بعد میں پورے سلسلہ کلام سے ظاہر ہے کہ یہاں سے خطاب ان مسلمانوں کو ہے جو ایمان لا چکے تھے ، مگر ایمان کے تقاضے پورے کرنے میں کوتاہی کر رہے تھے اور جہاد فی سبیل اللہ میں جان و مال کی قربانی سے گریز کر رہے تھے۔ یہ وہی بات ہے جو سورة ٔ نساء کی آیت (136) (یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ) (اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر) میں بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے ایمان میں پختگی پیدا کرو اور اس کے تقاضوں پر عمل کرو ، جن میں سے ایک بہت بڑا تقاضا اس کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ 2۔ وانفقوا : یہاں خرچ کرنے سے مراد عام بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا نہیں بلکہ جہاد فی سبیل اللہ اور مجاہدین و مہاجرین کی ضروریات کے لیے خرچ کرنا ہے۔ دلیل اس کے آگے والی آیت (10) ہے :(وَمَا لَکُمْ اَلاَّ تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ)”اور تمہیں کیا ہے تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے“۔ اور ”فی سبیل اللہ“ کا خاص اطلاق جہاد پر ہوتا ہے۔ دیکھئے سورة ٔ توبہ کی آیت (60) کی تفسیر۔ 3۔ٗمِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ ط : اس میں کئی طرح سے خرچ کرنے کی ترغیب ہے ، ایک یہ کہ یہ مال تمہارا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہے جو اس نے تم سے پہلے لوگوں کو دیا تھا ، اب اس نے تمہیں اس میں پہلوں کا جانشین بنادیا ہے اور دیکھنا چاہتا ہے کہ تم اس کی مرضی کے مطابق خرچ کرتے ہو یا نہیں۔ (دیکھئے انعام : 165) غلام کا یہ کام نہیں کہ مالک کے مال کو وہاں خرچ نہ کرے جہاں وہ اسے خرچ کرنے کے لیے کہتا ہے ، بلکہ اپنی مرضی سے خرچ کرتا پھرے یا جمع کرنے لگ جائے۔ دوسرا یہ کہ پہلے لوگوں کی طرح یہ تمہارے پاس بھی نہیں رہے گا۔ اگر تم نے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرلیا تو یہ آخرت کے لیے تمہارا ذخیرہ بن جائے گا اور اگر تم نے خرچ نہ کیا تو کچھ اور لوگ اس میں تمہارے جانشین بن جائیں گے۔ پھر اگر انہوں نے اسے نیکی میں خرچ کیا تو وہ تم سے بہتر رہے کہ وہ مال جو تم نیکی میں خرچ نہ کرسکے انہوں نے کردیا ، تم محروم رہے اور اگر انہوں نے بدی میں خرچ کیا تو تمہاری دولت بھی ان کی بدی میں معاون ٹھہری۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یقول العبد ما لی ما لی ، انما لہ ٗ من مالہ ثلاث ، ما اکل فافنی او لبس فابلی او اعطی فاقتنی ، وما سوی ذلک فھو ذاھب وتار کہ للناس) (مسلم ، کتاب الزھد والرقائق ، باب الدنیا سبحن للمؤمن وجنۃ للکافر : 2959)”بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال ، اس کے مال میں سے اس کی اپنی تو صرتین چیزیں ہیں ، جو اس نے کھایا اور فنا کردیا ، یا پہنا اور بوسیدہ کردیا ، یاد دے دیا اور ذخیرہ بنا لیا اور جو اس کے علاوہ ہے تو یہ جانے والا ہے اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑ جانے والا ہے“۔ 4۔ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَاَنْفَقُوْا : یہ لوگ ایمان لائے اور انہوں نے خرچ کیا ان میں سے سب سے پہلے ابوبکر ؓ ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لائے اور تبوک کے موقع پر صدقہ کے اعلان پر سارا مال لے آئے ، ان میں عمر ؓ بھی ہیں جو آدھا مال لے آئے اور عثمان ؓ تعالیٰ عنہ بھی اور وہ تمام صحابہ کرام ؓ بھی جنہوں نے خو شحالی میں بھی خرچ کیا اور تنگدرست کے باوجود محنت مشقت کر کے بھی صدقہ کیا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ توبہ (79) کی تفسیر۔ 5۔ لَہُمْ اَجْرٌ کَبِیْرٌ :”فی سبیل اللہ“ خرچ کرنے والوں کی فضیلت کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (274) اور سورة ٔ انفال (60)۔
Ayah 57:8

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہے تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے، جب کہ رسول تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور یقینا وہ تم سے پختہ عہد لے چکا ہے، اگر تم ایمان والے ہو۔

1۔ وَمَا لَکُمْ لاَ تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ ج۔۔۔۔۔۔: یہ خطاب بھی مسلمانوں ہی سے ہے ، اس کی دلیل آیت کا آخری جملہ والی آیت (10) (لاَ یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰـتَلَ ط) بھی اس کی دلیل ہے۔ جس طرح پچھلی آیت میں ایمان والوں کو ایمان لانے اور خرچ کرنے کا حکم ہے ، اسی طرح اس آیت میں بھی انہیں جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے ؟ یعنی اس پر ایمان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے اس کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ، حالانکہ رسول خود تمہارے درمیان موجود ہے اور بہ نفس نفیس تمہیں اس بات کی دعوت دے رہا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ اور اس پر یقین رکھتے ہوئے اس کی راہ میں خرچ کرو۔ 2۔ وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ :”اخذ“ کا فاعل ”الرسول“ کی ضمیر بھی ہوسکتی ہے اور لفظ ”اللہ“ کی ضمیر بھی ، یعنی جب تم نے ایمان قبول کیا تھا اس وقت اللہ نے تم سے اطاعت کا پختہ عہد لیا تھا، اسی طرح کلمہ ٔ اسلام کے ساتھ تم رسول کو بھی اپنی اطاعت کا پختہ عہد دے چکے ہو ، تو اب اطاعت سے گریز اور جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنے سے دریغ کیوں کر رہے ہو ؟ اللہ تعالیٰ کے عہد لینے کا ذکر اس آیت میں ہے :(وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہ ِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ لا اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاز وَاتَّقُوا اللہ ط اِنَّ اللہ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ) (المائدہ : 7)”اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو اور اس کا عہد جو اس نے تم سے مضبوط باندھا ، جب تم نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا اور اللہ سے ڈرو ، بیشک اللہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے“۔ اور رسول اللہ ﷺ کو عہد دینے کا ذکر اس حدیث میں ہے جو عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے ، انہوں نے فرمایا :(بایعنا رسول اللہ ﷺ علی السمع والطاعۃ فی المنشط والمکرہ وان لا ننازع الامر اھلہ ٗ ، وان نقوم او نقول بالحق حیثما کنا ، لا نحاف فی اللہ لومۃ لائم) (بخاری ، الاحکام ، باب کیف یبابع الامام الناس ؟: 7199، 7200) ”ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ نشاط اور ناگواری دونوں حالتوں میں سمع و طاعت کریں گے اور صاحب امر سے امارات میں جھگڑا نہیں کریں گے اور جہاں بھی ہوں گے حق کہیں گے ، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے“۔ 3۔ بعض مفسرین نے ”وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَکُمْ“ سے ”الست بربکم“ والا عہد مراد لیا ہے ، جس کا ذکر سورة ٔ اعراف (172) میں ہے ، مگر یہاں آیات کا سیاق اس کی موافقت نہیں کرتا ، اس لیے پہلی تفسیر ہی درست ہے۔ ابن کثیر ؒ تعالیٰ نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے۔
Ayah 57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات اتارتا ہے، تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے اور بلاشبہ اللہ تم پر یقینا بےحد نرمی کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔

1۔ ہُوَالَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہٖٓ اٰیٰتٍم بَیِّنٰتٍ۔۔۔۔۔: اس آیت کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ مائدہ (15، 16) 2۔ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حج (65)۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہے تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، جب کہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ تم میں سے جس نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور جنگ کی وہ (یہ عمل بعد میں کرنے والوں کے) برابر نہیں۔ یہ لوگ درجے میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنھوں نے بعد میں خرچ کیا اور جنگ کی اور ان سب سے اللہ نے اچھی جزا کا وعدہ کیا ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، خوب باخبر ہے۔

1۔ وَمَا لَکُمْ اَلاَّ تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ وَِﷲِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط :”میراث ‘ ‘ اصل میں اس ملکیت کو کہتے ہیں جو پچھلے مالک کے انتقال پر اس کے زندہ رہنے والے وارثوں کو ملتی ہے۔ یہ ملکیت جبری ہوتی ہے ، مرنے والا چاہے یا نہ چاہے ، جو وارث ہوتا ہے اس کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔”وَِﷲِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط“ میں خبر ”للہ“ کو پہلے لانے سے حضر پیدا ہوگیا کہ زمین و آسمان کی وارثت صرف اللہ کے لیے ہے ، کیونکہ آخر کار سب نے فنا ہونا ہے اور جن چیزوں کے مالک تم سمجھے جاتے ہو سب اسی کی طرف لوٹ جانے والی ہیں۔ تو جب یہ مال تمہارے پاس رہنے والا ہی نہیں بلکہ اس نے تمہارے ہاتھ سے نکلنا ہی نکلنا ہے اور اگر تم خرچ نہیں کرو گے تو جبراً تم سے لے لیا جائے گا ، تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے اللہ کی راہ میں خوشی سے خود ہی خرچ نہ کرو کہ اس صورت میں مالک بھی راضی ہوجائے گا اور جو کچھ تم دو گے اللہ کے ذمے قرض ہوجائے گا۔ جو بےحساب اضافے کے ساتھ تمہارے لیے محفوظ رکھے گا ، جیسا کہ اگلی آیت میں آرہا ہے۔ آدمی کے مال کی طرح اس کی جان کا بھی یہی حال ہے۔ ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎ جاں بجاناں دہ ، وگرنہ از تو بستاند اجل خود تو مصنف باش اے دل ایں نکویا آن نکو ”جان محبوب کو دے دے ، ورنہ موت تجھ سے لے لے گی۔ اے دل ! تو خود ہی انصاف کر کہ یہ بہتر ہے یا وہ بہتر ہے ؟“۔ 2۔ لاَ یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰـتَلَ ط : یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جو بعد میں آنے والے جملے ”اُولٰٓـئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْم بَعْدُ وَقٰـتَلُوْا ط“ سے واضح ہو رہی ہے۔ گویا پوری عبارت اسی طرح ہے :”لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل ومن انفق من بعد الفتح وقاتل“ یعنی ”تم میں سے وہ شخص جس نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور جنگ کی اور وہ شخص جس نے فتح کے بعد خرچ کیا اور جنگ کی برابر نہیں ہیں“”الفتح“ سے مراد فتح مکہ ہے ، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(اذا جاء نصر اللہ والفتح) (النصر : 1)”جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے“۔ یا صلح حدیبیہ ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(انا فتحنا لک فتحاً مبینا) (الفتح : 1) ”بیشک ہم نے تجھے فتح دی ، ایک کھلی فتح“۔ اور دونوں بھی مراد ہوسکتی ہیں۔ اس طرح صحابہ کے تین درجے ہوں گے ، پہلے درجے میں صلح حدیبیہ سے پہلے ایمان لا کر خرچ اور قتال کرنے والے سابقین اولین اور مہاجرین و انصار دوسرے درجے میں صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ہجرت و نصرت کا شرف حاصل کرنے والے صحابہ کرام اور تیسرے درجے میں فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے صحابہ کرام ہوں گے ، جو ہجرت یا نصرت کا شرف حاصل نہیں کرسکے ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لا ھجرۃ بعد الفتح) (بخاری ، الجھاد والسیر ، باب فضل الجھاد والسیر : 2783)”فتح مکہ کے بعد (اب) ہجرت نہیں رہی“۔ اس بات کی دلیل کہ صلح حدیبیہ سے پہلے خرچ اور قتال کرنے والے ان لوگوں سے درجے میں بلند ہیں جو فتح مکہ سے پہلے اور صلح حدیبیہ کے بعد ایمان لائے ، وہ حدیث ہے جو انس ؓ سے مروی ہے ، انہوں نے فرمایا :(کان بین خالد بن لوبیدہ و بین عبد الرحمن بن عوف کلام ، فقال خالد لعبد الرحمن تستطیلون علینا بایام سبقتمونا بھا ، فبلعنا ان ذلک ذکر للنبی ﷺ ، فقال دعوالی اصحابی ، فوالذی نفسی بیدہ ! لو انفقتم مثل احد ، او مثل الجبال ذھبا ما بلغتم اعما لھم) (مسند احمد : 3، 266، ح : 13812، مسند احمد کے محقق نے اسے صحیح کہا ہے)”خالد بن ولید ؓ اور عبد الرحمن بن عوف ؓ کے درمیان کچھ بات ہوگئی تو خالد ؓ نے عبد الرحمن ؓ سے کہا : تم ہم پر ان چند دنوں کی وجہ سے بڑھ کر باتیں بنا رہے ہو جن میں تم ہم سے پہلے اسلام لے آئے“۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس بات کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا :”میرے ساتھیوں کو میری خاطر چھوڑ دو ، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم احد کے برابر یا پہاڑوں کے برابر سونا خرچ کرو ، تب بھی تم ان کے اعمال کو نہیں پہنچ سکتے“۔ 3۔ فتح سے پہلے خرچ اور قتال کرنے والوں کا درجہ اس لیے بڑا ہے کہ فتح سے پہلے مسلمان تعداد میں کم اور قوت میں کمزور تھے ، ان کی مالی حالت بھی بہت کمزور تھی ، ان حالات میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اور جہاد میں حصہ لینا دونوں نہایت مشکل اور دل گردے کا کام تھے ، جب کہ فتح کے بعد یہ صورت حال بدل گئی ، مسلمان قوت و تعداد میں بڑھتے چلے گئے اور ان کی مالی حالت بھی پہلے سے بہت بہتر ہوگئی اور پورا جزیرۂ عرب فوج درج فوج اسلام میں داخل ہونے لگا۔ اس لیے فرمایا کہ پہلے مشکل کے دور اور بعد کے دور میں مسلمان ہونے والے اور جہاد میں خرچ کرنے والے اور لڑکے والے برابر نہیں ہوسکتے ، بلکہ پہلوں کا درجہ بڑا ہے۔ 4۔ ابوبکر صدیق ؓ شرف اور فضلیت میں امت کے تمام افراد سے بڑھ کر ہیں ، کیونکہ ایمان لانے میں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور لڑنے میں وہ تمام صحابہ سے پہلے ہیں ، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی زندگی میں نماز کے لیے آگے کیا اور اسی بناء پر مسلمانوں نے انہیں خلافت کے منصب کے لیے مقدم رکھا۔ 5۔ وَکُلاًّ وَّعَدَ اللہ ُ الْحُسْنٰی ط : اس میں یہ صراحت فرما دی کہ صحابہ کرام ؓ کے درمیان اگرچہ درجے اور فضیلت میں تفاوت ہے ، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بعد میں مسلمان ہونے والے صحابہ کرام کو کوئی فضیلت حاصل نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ سے اچھی جزا یعنی جنت کا وعدہ کیا ہے اور تمام اصحاب رسول اللہ ﷺ جنتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی صحبت اور زیارت میں تاثیر ہی ایسی تھی کہ جس شخص نے بھی ایمان کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان پر فوت ہوا ، بعد کا کوئی آدمی اس کے درجے کے برابر نہیں ہوسکتا۔ دیکھئے سورة ٔ فتح کی آخرت آیت کی تفسیر میں مذکورہ حدیث ، جس صحبت و رفاقت کا شرف رکھنے والی مبارک ہستیوں سے بغض اور عداوت ہے اور وہ ان کے جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ سے آنکھیں بند کر کے ان کی معمولی لغزشوں کی وجہ سے ان پر تبرے بازی اور دشنام طرازی کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لا تسبو ا اصحابی ، فلو ان اخذ کم انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مد احدھم ولا نصیفہ) (بخاری ، فضائل الصحابہ ، باب قول النبی ﷺ : ’ لو کنت متحذا خلیلا“: 3673)”میرے ساتھیوں کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کوئی شخص احد کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو ان کے کسی شخص کے ایک مد (آدھا کلو اناج) کے برابر نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کے نصف کے برابر ہوسکتا ہے“۔ 6۔ وَ اللہ ُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ : ایمان ، انفاق اور قتال فی سبیل اللہ کی ترغیب کے آخر میں فرمایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح با خبر ہے ، وہ ایک کے عمل کو خوب جانتا ہے کہ کس درجے کا ہے اور اس میں کتنا اخلاص ہے اور وہ اس کے مطابق ہی اسے جزا دے گا۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، تو وہ اسے اس کے لیے کئی گناکر دے اور اس کے لیے باعزت اجر ہو۔

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللہ قَرْضًا حَسَنًا۔۔۔۔: اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (244، 245) اور ”اجرکریم“ کے لیے دیکھئے سورة ٔ انفال (74) اور سورة ٔ حج (50)
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس دن تو ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھے گا ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہی ہوگی۔ آج تمہیں ایسے باغوں کی خوشخبری ہے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہو، یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔

یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ۔۔۔۔۔: یعنی قیامت ے دن جب سورج لپیٹ دیا جائے گا (دیکھئے تکویر : 1) اور چاند بےنور ہوجائے گا (دیکھئے قیامہ : 8) اور ستارے بکھر کر گرجائیں گے (دیکھئے انفطار : 2) تو اس وقت سب لوگ سخت اندھیرے میں ہوں گے جہنم کے اوپر صراط (پل) رکھا جائے گا جس پر سے ہر ایک کو گزرنا ہوگا ، جیسا کہ فرمایا :(وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَاج کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا) (مریم : 71)”اور تم میں سے جو بھی ہے اس وارد ہونے والا ہے ، یہ ہمیشہ سے تیرے رب کے ذمے قطعی بات ہے ، جس کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔“ وہاں روشنی صرف ایمان اور عمل صالح کی ہوگی ، جتنا ایمان کامل ہوگا اتنی ہی روشنی تیز ہوگی۔ کافر اور منافق دنیا میں گمراہی کے اندھیرے میں رہے تو وہاں بھی وہ اندھیرے میں ہوں گے۔ مومن مردوں اور عورتوں کی روشنی ان کے ایمان و عمل کے مراتب کے مطابق ان کے آگے اور دنئیں جانب دوڑا رہی ہوگی اور وہاں انہیں یہ کہہ کر جنت کی بشارت دی جائے گی :(بُشْرٰکُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاط ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ) (الحدید : 12)”آج تمہیں ایسے باغوں کی خوش خبری ہے جن کے تلے نہریں چلتی ہیں ، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہو، یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے“۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے کہیں گے جو ایمان لائے ہمارا انتظار کرو کہ ہم تمہاری روشنی سے کچھ روشنی حاصل کرلیں۔ کہا جائے گا اپنے پیچھے لوٹ جاؤ، پس کچھ روشنی تلاش کرو، پھر ان کے درمیان ایک دیوار بنادی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس کی اندرونی جانب، اس میں رحمت ہوگی اور اس کی بیرونی جانب، اس کی طرف عذاب ہوگا۔

1۔ یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰـفِقُوْنَ وَالْمُنٰـفِقٰـتُ۔۔۔۔۔: دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ رہنے کی طرح منافقین وہاں بھی شروع میں ایمان والوں کے ساتھ ہوں گے ، مگر جب وہ اپنے ایمان کی روشنی میں جنت کی جانب روانہ ہوں گے کہ تو منافق مرد اور عورتیں ان سے کہیں گے ہمارے پاس روشنی نہیں ، تم ہمیں اندھیرے میں چھوڑ کر اتنی تیزی سے نہ جاؤ ، بلکہ تھوڑا انتظار کرلو اور ہمیں موقع دو کہ ہم بھی تمہاری روشنی میں جنت کی طرف چلتے جائیں۔ 2۔ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَٓائَکُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ط : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ ان سے کہا جائے گا کہ میدان حشر جہاں جنت یا جہنم میں بھیجے جانے کا فیصلہ ہوا ہے اور جہاں سے روشنی ملتی ہے ، تم وہیں واپس جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ ایمان و عمل کی روشنی ہے جو یہاں حاصل نہیں ہوسکتی ، اسے حاصل کرنے کی جگہ دنیا ہے ، وہاں جاؤ اور وہاں سے یہ روشنی لے کر آؤ۔ 3۔ فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ ط۔۔۔۔۔: مومن و منافق یہ باتیں کر رہی رہے ہوں گے کہ ان کے درمیان ایک عظیم دیوامر حائل کردی جائے گی۔ (بسور میں تنوین تعظیم کی ہے) جس سے انہیں دور سے دکھائی دینے والی مومنوں کی روشنی بھی نظر آنا ختم ہوجائے گی۔ اس دیوار کی اندرونی جانب رحمت ہوگی اور بیرونی جانب جدھر منافق ہوں گے ، عذاب ہوگا۔ اس دیوار میں ایک عظیم دروازہ ہوگا ، جس سے مومن اس کی اندرونی جانب چلے جائیں گے ، پھر دروازہ بند کردیا جائے گا اور منافق اس سے باہر عذاب میں رہ جائیں گے۔
Ayah 57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

وہ انھیں آواز دیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم انتظار کرتے رہے اور تم نے شک کیا اور (جھوٹی) آرزوؤں نے تمہیں دھوکا دیا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور اس دغاباز نے تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکا دیا۔

1۔ یُنَادُوْنَہُمْ اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ ط : منافق انہیں پکار پکار کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ، کیا ہم کلمہ نہیں پڑھتے تھے ، کیا تمہارے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے تھے ، زکوٰۃ اور حج ادا نہیں کرتے تھے اور ہر کام میں تمہارے ساتھ نہیں ہوتے تھے ؟ تم ہمیں ساتھ کیوں نہیں لے جاتے ؟ 2۔ قَالُوْا بَلٰی وَلٰـکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ : یعنی تم مسلمان ہو کر بھی نہ دل سے مسلمان ہوئے اور نہ پوری طرح ایک طرف ہو کر مسلمان کے ساتھی بنے ، بلکہ تم نے اپنے آپ کو نفاق کے فتنے ہی میں مبتلا رکھا۔ 3۔ وَتَرَبَّصْتُمْ : اور تم انتظار میں رہے کہ کب مسلمانوں پر کوئی آفت آتی ہے۔ 4۔ وَارْتَبْتُمْ : یہ ”ریب“ سے باب افتعال ”ارتاب یرتاب ارتیابا“ کے ماضی معلوم کا صیغہ ہے ، یعنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان و یقین کے بجائے تم شک اور تذبذب میں رہے۔ 5۔ وَغَرَّتْکُمُ الْاَمَانِیُّ :”الامانی“”امینۃ“ کی جمع ہے ، یعنی تمہیں ان آرزوؤں نے دھوکے میں رکھا کہ بس چند دن میں مسلمان تباہ ہوجائیں گے اور اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ 6۔ حَتّٰی جَآئَ اَمْرُ اللہ ِ : حتیٰ کہ تمہیں موت آگئی اور توبہ اور اخلاص عمل کا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ 7۔ وَغَرَّکُمْ بِ اللہ ِ الْغَرُوْرُ :”الغرور“ سے مراد شیطان ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ فاطر (5، 6)۔
Ayah 57:15

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

سو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے انکار کیا، تمہارا ٹھکانا ہی آگ ہے، وہی تمہاری دوست ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْکُمْ فِدْیَۃٌ۔۔۔۔۔: اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن کفار و منافقین کا ٹھکانہ ایک ہی ہوگا ، جو آگ ہے۔ وہاں وہ مال نہ منافقین کے کام آئے گا جس کی وجہ سے وہ نفاق کا شکار رہے ، نہ کفار کے کہ اس کے ساتھ فدیہ دے کر عذاب سے چھوٹ جائیں اور نہ ہی آگ کے سوا ان کا کوئی یار و مددگار ہوگا اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ آل عمران (91)۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے اور اس حق کے لیے جھک جائیں جو نازل ہوا ہے اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنھیں ان سے پہلے کتاب دی گئی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔

1۔ الم یان للذین آمنوا۔۔۔۔۔”لم یان“”انی یانی ان یا و انی“ (ض (ناقص یائی سے جحد معلوم ہے ، کسی چیز کا وقت کا آجانا ، جیسا کہ فرمایا :(غیر نظرین انہ) (الاحزاب : 53)”اس (کھانے) کے (پکنے کے) وقت کا انتظار نہ کرنے والے“۔ پچھلی آیت میں قیامت کے دن مومن مردوں اور عورتوں اور منافق مردوں اور عورتوں کا حال ذکر فرمایا ، جسے سن کر لرز اٹھتے ہیں اور خوف زدہ ہو کر عاجزی سے اپنے رب کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ان سے کما حقہ اثر قبول نہ کرنے پر ایمان والوں کو متنبہ فرمایا کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی نصیحت کی وجہ سے اور اس کی طرف سے نازل ہونے والے حق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز ہو کر جھک جائیں ؟ ایمان والوں سے مراد وہ تمام ایمان والے ہیں جنہیں اس سے پہلے ایمان لانے ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور لڑنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس میں سستی اور کوتاہی پر عتاب کیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں اتنا عتاب سن کر اور قیامت کے دن منافقین کا انجام بد سن کر بھی کیا ایمان والوں کے لیے اللہ کے سامنے جھکنے اور اس کے احکام پر تن دہی سے عمل کرنے کا وقت نہیں آیا ؟ جب کہ ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ اللہ کی آیات سن کر دل نرم ہوجائے اور اللہ کو یاد کرتے ہوئے فوراً نصیحت کا اثر قبول کرے ، کیونکہ ایمان والوں کی یہی شان ہوتی ہے ، جیسا کہ فرمایا :(اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللہ ُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰـتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ) (الانفال : 2)”(اصل) مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو انہیں ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔“ اور فرمایا :(اَﷲُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتَابًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَق تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْج ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللہ ِ ط) (الزمر : 23)”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی ، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے، (ایسی آیات) جو بار بار دہرائی جانے والی ہیں ، اس سے ان لوگوں کی کھالوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ، پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہوجاتے ہیں“۔ 2۔ ولا یکونوا گا لذین اوتو الکتب۔۔۔:”قست“ اصل میں ”قسوت“ ہے ، باب اس کا ”قسا یقسو قسوۃ و قساوۃ“ آتا ہے ، سخت ہوجانا۔ یعنی کیا ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ۔۔۔۔۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب یعنی تورات اور اس کے بعد انجیل دی گئی کہ شروع میں ان کا یہ حال تھا کہ اللہ کی آیات سن کر ان کے دل نرم ہوجاتے اور وہ ڈر جاتے تھے اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے تھے ، پھر جیسے جیسے انبیاء کے زمانے سے دوری ہوتی گئی وہ خواہشات اور دنیا کی لذتوں کے پیچھے پڑتے گئے اور اللہ کے احکام جاننے کے باوجود ان پر عمل چھوڑ بیٹھے ، جس سے ان کے دل سخت ہوگئے اور انہوں نے دانستہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرلیا۔ شرک ، زنا ، قتل ناحق ، چوری ، سود خوری اور دوسرے گناہ عام ہوگئے۔ اللہ کی آیات سن کر دل نرم ہونے اور ان کے سامنے جھک جانے کے بجائے انہوں نے ان میں تحریف شروع کردی ، جس کے نتیجے میں وہ راہ راست سے بہت دور چلے گئے اور باہمی ضد اور عناد میں بہت سے فوقوں میں بٹ گئے۔ 3۔ وکثیر منھم فسقون : یعنی اب بھی ان کا یہی حال ہے کہ ان میں سے بہت زیادہ لوگ فاسق ہیں۔”فقست قلوبھم“ میں ان کی قلبی حالت کا بیان ہے اور ”فسقون“ میں ان کا عملی حالت کا بیان ہے۔ دوسری جگہ اس قسوت ِ قلب کا سبب اور اس کا نتیجہ کچھ تفصیل سے بیان فرمایا ہے، وہاں ان کے دوسرے عہد توڑنے کے ساتھ قرض ِ حسن دینے کا عہد توڑنے کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ مائدہ کی آیت (12، 13) کی تفسیر۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جان لو کہ بیشک اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے، بلاشبہ ہم نے تمہارے لیے آیات کھول کر بیان کردی ہیں، تاکہ تم سمجھو۔

1۔ اِعْلَمُوْٓا :”جان لو“ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یہ بات نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ زمین کو مرنے کے بعد زندہ کردیتا ہے ، بلکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا :(وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہ یَعْلَمُ مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ فَاحْذَرُوْہُ ج) (البقرہ : 235)”اور جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے ، پس اس سے ڈرو“۔ مقصد یہ ہے کہ یہ بات پوری توجہ سے سنو ، اس پر غور کرو اور ہر وقت اسے پیش نظر رکھو۔ 2۔ اَنَّ اللہ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ط۔۔۔۔: اس میں اللہ کی طرف رجوع کی اور گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کی ترغیب اور اپنی رحمت و مغفرت کی امید دلائی ہے ، یعنی اگر تمہاری کوتاہیوں کی وجہ سے دلوں میں سختی پیدا ہوچکی ہے اور ان میں آیات الٰہی سننے سے نرمی پیدا نہیں ہوتی تو اب بھی موقع ہے کہ اس کی تلافی کرلو ، پھر جب تم پلٹ آؤ گے تو وہ اللہ جو زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیتا ہے ، وہ تمہارے مردوں دلوں کو بھی زندگی بخش دے گا۔
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بلاشبہ صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں اور جنھوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا، انھیں کئی گنا دیا جائے گا اور ان کے لیے باعزت اجر ہے۔

1۔ اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ :”المصدقین“ اصل میں باب تفعل سے ”المتصدقین“ ہے ، تاء کو صاد سے بدل کر صاد میں ادغام ک دیا۔ صاد کی تشدید سے صدقے میں مبالغے اور کثرت کا اظہار مقصود ہے ، یعنی بہت صدقہ کرنے والے مرد اور بہت صدقہ کرنے والی عورتیں۔”المزمل“ اور ”المدثر“ میں بھی ایسے ہی ہے۔ 2۔ وَاَقْرَضُوا اللہ قَرْضًا حَسَنًا۔۔۔۔۔: یہاں ایک سوال ہے کہ ”اقرضو اللہ“ فعل کا ”المصدقین“ اسم فاعل پر عطف کس طرح ڈالا گیا ہے ؟ اس کے جوابات میں سے ایک جواب یہ ہے کہ ”المضدقین“ دراصل ”الذین تصدقوا“ کے معنی میں ہے ، اس لیے ”اقرضوا“ کا عطف ”تصدقوا“ پر جو ”متصدقین“ کے ضمن میں موجود ہے۔ ”متصدقین“ کو اسم فاعل کی صورت میں دوام کے اظہار کے لیے لایا گیا ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے اسی سورت کی آیت (11) کی تفسیر دیکھئے۔ البتہ یہاں ”المضدقین“ کے لفظ میں صدقے کی کثرت اور اس پر دوام کی بات اس سے زائد ہے۔