Ayah 57:191۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِ اللہ ِ وَرُسُلِہٖٓ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ۔۔۔۔:”الصدیقون“ اور ’ ’ الشھدائ“ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ نساء کی آیت (69) کی تفسیر۔ اس آیت پر بھی ایک سوال ہے کہ صدیقین اور شہداء تو ایمان کے بلند درجے پر فائز لوگ ہوتے ہیں ، جب کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والے سب لوگوں کو صدیقین اور شہداء کہا گیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانے والوں سے مراد یہاں اس ایمان میں کامل لوگ ہیں۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ آیت (7) (امنوا باللہ ورسولہ) میں ایمان والوں کو ایمان کامل لانے کا حکم ہے ، یعنی اللہ اور اس کے رسولوں پر کامل ایمان رکھنے والے ہی صدیقین اور شہداء ہیں۔”اولیک ھم الصدیقون“ میں حصر کا مفہوم ہے ، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیقین اور شہداء کے لیے جو درجے ہیں وہ ہر مدعی ایمان کو حاصل نہیں ہوجائیں گے ، بلکہ یہ صرف ان لوگوں کے لیے خاص ہیں جو اللہ اور اس کے رسولوں پر سچا اور پکا ایمان لائیں گے۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ کمال ایمان کے کئی مراتب ہیں ، جیسا کہ صدیقیت و شہادت کے کئی مراتب ہیں ، اگرچہ سب پر صدیق یا شہید کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جابر بن عتبک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الشھادۃ سبع سوی القتل فی سبیل اللہ المطعون شھید ، والغریق شھید ، وصاحب ذات الجنب شھید ، والمبطون شھید ، وصاحب الحریق شھید ، والذی یموت تحت الھدم شھید ، والمراۃ تموت بجمع شھیدۃ) (مستدرک حاکم ، 1، 352، ح : 1300، وصححہ الالبانی فی صحیح الجامع : 3739)”اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاوہ شہادت کی سات قسمیں ہیں ، طاعون سے مرنے والا شہید ہے اور غرق ہونے والا شہید ہے اور ذات الجنب والا شہید ہے اور پیٹ کی تکلیف سے مرنے والا شہید ہے اور آگ سے مرنے والا شہید ہے اور گرنے والی دیوار وغیرہ کے نیچے آکر مرنے والا شہید ہے اور ولایت کے وقت مرنے والی عورت شہید ہے۔“ ظاہر ہے کہ حدیث میں مذکور سب لوگ شہید ہیں ، مگر اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے کا د رجہ سب سے بلند ہے۔
2۔ لَہُمْ اَجْرُہُمْ وَنُوْرُہُمْ ط : یعنی صدیقیت یا شہادت کے مراتب کے مطابق اجر اور نور اہل ایمان ہی کا حصہ ہے ، کفار یا منافقین کا نہیں۔
3۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِنَآ۔۔۔۔: اس سے معلوم ہوا کہ جہنم میں ہمیشہ وہی لوگ رہیں گے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کیا اور ان کی تکذیب کی ، کیونکہ ”اصحب الجحیم“ (بھڑکتی آگ کے ساتھ اور اس میں رہنے والے) وہی ہیں ، گناہ گار مومن جہنم میں گئے بھی تو ہمیشہ اس میں نہیں رہیں گے ، اس لیے وہ ”اصحب الجحیم“ نہیں ہیں۔
Ayah 57:201۔ اِعْلَمُوْٓا : پچھلی آیات سے اس آیت کی مناسبت یہ ہے کہ نفاق کا سبب اور اللہ کی راہ میں جہاد سے گریز اور مال خرچ کرنے سے دریغ کا باعث دنیا کی زندگی کی محبت ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کی حقیقت بیان فرمائی۔
2۔ اَنَّمَا الْحَیٰـوۃُ الدُّنْیَا :”الحیوۃ الدنیا“ سے مراد انسان کے وہ کام ہیں جو وہ اس زندگی میں صرف دنیا میں حاصل ہونے والے فوائد کے لیے کرتا ہے ، ورنہ اس زندگی میں وہ آخرت کے لیے اعمال صالحہ کے ذریعے سے ہمیشہ کی سعادت بھی حاصل کرسکتا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃًج وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ) (النحل : 97)”جو بھی نیک عمل کرے ، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے ، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انہیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے ، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے“۔
3۔ لَعِبٌ وَّلَھْوٌ : اس کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ عنکبوت (64) کی تفسیر۔
4۔ وَّزِیْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌم بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ط : یہ سچے اور مخلص اہل ایمان یعنی صدیقین و شہداء کے مقابلے میں ایمان سے محروم دنیا دار لوگوں کا حال ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام خواہشوں اور دلچسپیوں کا ذکر ان پانچ باتوں میں فرما دیا ہے۔ شاہ عبد القادر ؒ تعالیٰ لکھتے ہیں :”آدمی کو اول عمر میں کھیل چاہیے ، پھر تماشا ، پھر بناؤ سنگھار، پھر ساکھ بڑھانا اور نام و نمود حاصل کرنا اور جب مرنا قریب ہو تو مال اور اولاد کی فکر کرنا کہ میرے بعد میرا گھر بنا رہے ہیں اور اولاد آسودگی سے زندگی بسر کرے۔ یہ سب دھوکے کا سامان ہے ، آگے کچھ اور کام آئے گا (ایمان اور عمل صالح) یہ کچھ کام نہ آئے گا۔“ موضح بتصرف)
5۔ کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ۔۔۔۔۔:”غیث“ بارش ، جیسا کہ فرمایا :(وَہُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْم بَعْدِ مَا قَنَطُوْا) (الشوریٰ : 28)”اور وہی ہے جو بارش برساتان ہے ، اس کے بعد کہ وہ ناامید ہوچکے ہوتے ہیں“۔”الکفار“ سے مراد یہاں کاشت کار ہیں ، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :(یعجب الزراع) (الفتح : 29)”کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے۔“ کیونکہ کفر کا معنی چھپانا ہے اور کاشت کار بیج کو زمین میں چھپا دیتا ہے۔ آیت کے دوسرے الفاظ اور تمثیل کی تشریح کے لیے دیکھئے سورة ٔ یونس (24) ، زمر (21) اور سورة ٔ کہف (45) کی تفسیر۔ اس کے علاوہ دیکھئے سورة ٔ آل عمران (14، 15) کی تفسیر۔ بعض مفسرین نے ”الکفار“ سے مراد حقیقی کافر لیے ہیں ، ان کے مطابق اگرچہ بارش سے اگنے والی کھیتی مومن و کافر سبھی کو خوش کرتی ہے ، مگر کفار کا ذکر خصوصاً اس لیے فرمایا کہ وہ اس پر زیادہ خوش ہوتے ہیں ، کیونکہ ان کی خوشی کا تمام سرمایہ حیات دنیا ہے۔
6۔ وَفِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَّمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللہ ِ وَرِضْوَانٌ ط : یعنی بات صرف اتنی نہیں کہ دنیا کی زندگی ختم ہو اور جان چھوٹ جائے ، بلکہ اصل معاملہ اس کے بعد آخرت کا اور اس کی ہمیشہ کی زندگی کا ہے کہ وہاں دو میں سے ایک بات سے ہر حال میں واسطہ پڑنے والا ہے ، ایک طرف شدید عذاب ہوگا اور دوسری طرف اللہ کی بخشش اور اس کی زبردست رضا ہوگی ، ”رضوان“ مصدر میں مبالغے کا مفہوم ہے۔
7۔ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ : یعنی جس نے ساری جدوجہد دنیا کی زندگی بنانے کے لیے کی وہ دھوکے میں پڑگیا ، کیونکہ اس نے جو کچھ کمایا دنیا کی زندگی ختم ہونے کے ساتھ ختم ہوگیا اور آخرت میں اس کے لیے کچھ باقی نہ رہا۔ البتہ ایسے لوگوں کے لیے دنیا کی زندگی دھوکا نہیں جنہوں نے اسے آخرت کے حصو ل کا بذریعہ بنایا ، کیونکہ ان کے اعمال دنیا کے فنا ہونے کے باوجود باقی رہنے والے ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِیْنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَالْبٰـقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ اَمَلًا) (الکہف : 46)”مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب میں بہتر اور امید کی رو سے زیادہ اچھی ہیں“۔
Ayah 57:21سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ :’ سابقوا“ ”سبق یسبق سبقا“ (ض، ن) سے باب مفاعلہ کا امر حاضر ہے۔ اس میں مقابلے کا مفہوم پایا جاتا ہے ، یعنی ایک دوسرے کے مقابلے میں ایسے اعمال کی طرف آگے بڑھو جن سے تم مغفرت اور جنت کے مستحق بن سکو۔ مثلاً میدان قتال کی پہلی صفت میں ہونا ، امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ میں شامل ہونا اور اللہ کی راہ میں دوسروں سے بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا وغیرہ۔ یہ آیت سورة ٔ آل عمران کی آیت (133) سے ملتی جلتی ہے ، اس کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔
2۔ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ :”السمائ“ کا لفظ یہاں بطور جنس استعمال ہوا ہے ، مراد تمام آسمان ہیں۔ دلیل اس کی سورة ٔ آل عمران کی یہ آیت ہے :(وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ لا)”اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دوڑو اپنے رب کی جانب سے بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے برابر) ہے“۔
3۔ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِ اللہ ِ وَرُسُلِہٖ ط : یہاں اتنا ہی ذکر ہے کہ جنت ایمان والوں کے لیے تیار کی گئی ہے ، جبکہ سورة ٔ آل عمران (133 تا 135) میں ان ایمان والوں کے چند اعمال کا بھی ذکر ہے جن کی وجہ سے وہ اللہ کے فضل کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ ان میں پہلا عمل خوشی اور تکلیف میں خرچ کرنا ہے ، جس کا ذکر یہاں ”انفقوا“ میں گزر چکا ہے۔
4۔ ذٰلِکَ فَضْلُ اللہ ِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط۔۔۔۔۔۔: اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں داخلہ محض اللہ کے فضل کے ساتھ ہوگا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں اور انسان جتنے بھی عمل کرلے وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ ایک نعمت کا بھی بدل نہیں ہوسکتے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے :(لن یدخل احدا عملہ لخنہ، قالوولا انت یا رسول اللہ ؟ قال لا ، ولا انا الا ان یتغمدنی اللہ بفضل ورحمۃ) (بخاری لم منی ، باب تغنی المریض الموت : 5673)”کسی بھی شخص کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا“۔ لوگوں نے کہا : ’ ’ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو بھی نہیں ؟“ فرمایا :”نہیں ، مجھے بھی نہیں، الایہ کہ اللہ مجھے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے“۔ البتہ اعمال صالحہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے حصول کا سبب بنتے ہیں ، دیکھئے سورة ٔ اعراف (43) کی تفسیر۔
Ayah 57:221۔ مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ۔۔۔۔۔:”اصاب“ کا مفعول بہ محذوف ہے : ”ای ما اصابکم او ما اصاب اخذ من مصیبۃ۔۔۔۔“ ”یعنی تمہیں یا کسی کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے خواہ زمین میں ہو یا تمہاری جانوں میں۔۔۔۔۔“ سورت کی ابتداء سے جہاد میں مال و جان خرچ کرنے کی تاکیدآ رہی ہے ، چونکہ اس راہ میں کئی طرح کی جسمانی و ذہنی اور مالی و جانی مصیبتیں پیش آتی ہیں ، مثلاً بھوک ، پیاس ، فقر ، خوف ، غم ، تھکاوٹ ، بیماری ، زخم ، چوٹ ، گرفتاری اور قتل وغیرہ ، اس لیے آدمی جہاد پر جانے سے گریز کرتا ہے اور اپنے آپ کو ان مصیبتوں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے اور اگر جہاد کے لیے چلا جائے تو ان مصائب کے پیش آنے پر پریشان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو مالی یا جانی مصیبت تمہیں پیش آنی ہے وہ ہر حال میں آکر رہے گی ، تم اس سے بچنے کی جتنی بھی کوشش کرلو اس سے بھا گ نہیں سکتے۔ ہر آنے والی مصیبت یا راحت اللہ تعالیٰ نے اس کے پیدا کرنے اور تمہاری جانوں کو پیدا کرنے ، بلکہ زمین کو پیدا کرنے سے بھی پہلے ایک کتاب میں لکھ دی ہے ، کسی کو طاقت نہیں کہ اس لکھے ہوئے کو مٹا دے یا بدل دے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ قمر (49) اور سورة ٔ توبہ (51) کی تفسیر۔
2۔ فی الارض : اس سے زمین پر آنے والی عام مصیبتیں مراد ہیں ، مثلاً قحط ، طوفان ، سیلاب ، زلزلے اور وبائیں وغیرہ ، جن سے انسان متاثر ہوتا ہے۔
3۔ ولا فی انفسکم : اس سے وہ مصیبتیں مراد ہیں جو انسان کی ذات پر آتی ہیں ، مثلاً بیماری ، زخم ، بھوک ، پیاس ، گرفتاری، فقر ، خوف ، غم ، پیاروں کی موت اور اپنی موت وغیرہ۔”ولا فی انفسکم“ میں حرف نافیہ ”لا“ کو دوبارہ ان مصیبتوں کی اہمیت کی وجہ سے ذکر فرمایا : کیونکہ آدمی اپنی جان پر آنے والی مصیبتوں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے ، دوسروں پر آنے والی مصیبتوں سے وہ ذہنی طور پر متاثر ہوتا ہے ، حسی طور پر نہیں۔
4۔ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَہَا ط :”برایبرا براو بروا“ (ف) پیدا کرنا۔ ”ھا“ ضمیر ”مصیبۃ“ کی طرف بھی جاسکتی ہے ، ”الارض“ کی طرف بھی اور ”انفسکم“ کی طرف بھی۔ یہ کلام الٰہی کی بلاغت ہے کہ تینوں مراد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مصیبت کو اس مصیبت کے پیدا کرنے سے پہلے ، انسان کے پیدا کرنے سے پہلے اور زمین کے پیدا کرنے سے بھی پہلے لکھ دیا ہے۔
5۔ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللہ ِ یَسِیْرٌ : یعنی انسان کو چونکہ آئندہ کا کچھ علم نہیں ، اس لیے اس کے لیے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ آئندہ کی بات پہلے لکھ دے ، مگر اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بالکل ہی معمولی بات ہے ، کیونکہ وہ گزشتہ اور موجودہ کی طرح آئندہ کی ہر بات کو بھی جانت ہے ، مزید دیکھئے سورة ٔ قمر (49) کی تفسیر۔
Ayah 57:231۔ لِّکَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ۔۔۔۔:”لا تاسوا“ ‘”اسی یا سی اسی“ (خشیی یخشی) (غمگین ہونا) سے نفی مضارع معلوم ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے فرمایا :(فَـلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰـسِقِیْنَ) (المائدہ : 26)”پس تو ان نافرمان لوگوں پر غم نہ کرو“۔ اور شعیب ؑ نے اپنی قوم کو ہلاک ہونے پر فرمایا :(فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰـفِرِیْنَ) (الاعراف : 93)”تو میں نہ ماننے والے لوگوں پر کیسے غم کروں“”اتکم“”اتی یاتی اتینا“ (ض) آنا اور ”آتی یوتی ایتائ“ (الاعراف : 93)“ تو میں نے نہ ماننے والے لوگوں پر کیسے غم کروں۔“”اتکم“ ”اتی اتیانا“ (ض) آنا اور ”آتی یوتی ایتائ“ (افعال) دینا۔ یعنی ہم نے تمہیں یہ بات بتادی ہے ، تا کہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل جائے ، خواہ ملنے کے بعد چلی جائے یا مل ہی نہ سکے ، اس پر تم غم نہ کرو اور اللہ تعالیٰ تمہیں جو کچھ دے اس پر پھول نہ جاؤ ، کیونکہ جب تم جان لوگے کہ ہر چیز اللہ کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے تو ہاتھ سے نکلنے والی چیز پر تم زیادہ غمگین نہیں ہوگے اور ملنے والی چیز پر اتراؤ گے نہیں ، کیونکہ جسے معلوم ہو کہ جانے والی چیز نے جانا ہی تھا تو وہ اس کے جانے پر زیادہ جزع فزع نہیں کرتا ، اس لیے کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو اس کے لیے تیار رکھتا ہے۔ اس طرح جب اسے معلوم ہو کہ جو فائدہ اسے حاصل ہونا ہے وہ ہونا ہی ہونا ہے ، ممکن ہی نہیں کہ حاصل نہ ہو تو وہ اس کے حاصل ہونے پر اترائے گا نہیں ، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ میری بہادری سے حاصل نہیں ہوا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی اللہ کی تقدیر سمجھ کر نقصان پر صبر کرے گا اور فائدے پر اپنی خوبی سمجھنے کے بجائے اللہ کا شکر کرے گا۔
2۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے آدمی کو کوشش بھی کرنی چاہیے ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوشش کے بعد اگر ناکامی ہو تو غم نہیں بلکہ صبر کرنا چاہیے اور کامیابی کی صورت میں فخر و غرور نہیں بلکہ شکر بجا لانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کو تقدیر پر ایمان کا فائدہ قرار دیا ہے اور اسی عقیدہ پر کار بند رہ کر زندگی میں اعتدال رہتا ہے اور آدمی افراط و تفریط سے محفوظ رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(المومن القوی خیر واجب الی اللہ من المومن الضعیف و فی کل خیر ، احرص علی ما ینفعک واستعن باللہ ولا تعجز و ان اصابک شی فلا تقل لو انی فعلت کان کداوکدا ولکن قل قدر اللہ وما شاء فعل فان لو تفتع عمل الشیطان) (مسلم ، القدر ، باب فی الامر بالقوۃ وترک العجز۔۔۔۔: 2664، عن ابی ہریرۃ ؓ)”طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں بھلائی موجود ہے۔ جو چیز تجھے نفع دے اس کی حرص کر اور اللہ سے مدد مانگ اور عاجز نہ ہو اور اگر تجھے کوئی (نقصان دہ) چیز پہنچے تو یہ مت کہہ کہ اگر میں اس طرح کرتا تو اس طرح اور اس طرح ہوجاتا ، بلکہ یوں کہہ کہ اللہ نے قستم میں (اسی طرح) لکھا تھا اور جو اس نے چاہا کردیا ، کیونکہ ”لو“ (اگر) کا لفظ شیطان کا کام کھول دیتا ہے“۔
3۔ یہاں ایک سال ہے کہ مصیبت پر غم اور راحت پر خوشی انسانی فطرت ہے ، پھر ہاتھ سے نکلنے والی چیز پر غم سے اور عطا ہونے والی چیز پر خوش ہونے سے کیوں منع فرمایا ، جب کہ ان پر ہمارا اختیار ہی نہیں ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ منع اس غم سے کیا گیا ہے جو اس حد تک پہنچ جائے کہ آدمی جزع فزع اور اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرنے لگے۔ اگر اللہ کی رضا پر راضی رہے تو غم پر کوئی مواخذہ نہیں ، بلکہ اس پر صبر کا اجر بھی ملتا ہے۔ اگر غم ہی نہ ہو تو صبر کس بات پر ہوگا ؟ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : (ان العین تدمع والقلب یحزن ، ولا نقول الا ما یرضی ربنا وانا بفراقک یا ابراہیم ! لمحزونون) (بخاری الجنائز ، باب قول النبی ﷺ :”انا بک لمحزونون“: 1303)”آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور ہم اس کے سوا جو ہمارا رب پسند فرمائے کچھ نہیں کہتے اور یقینا تیری جدائی سے اے ابراہیم ! ہم غمزدہ ہیں۔“ اسی طرح منع اس خوش ہونے سے کیا گیا ہے جو آدمی کو شکر کے بجائے فخر و غرور تک پہنچا دے۔ دلیل اس کی آیت کے آخری الفاظ ”واللہ لا یحب کل محتال فخور“ ہیں۔ ہر خوشی سے منع نہیں کیا گیا ، کیونکہ اگر خوشی ہی نہ ہو تو شکر کس بات پر کرے گا ؟۔
4۔ وَ اللہ ُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِ :”محتال“”خ ی ل“ سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے ، جو اپنے خیال میں بڑا بننے والا ہو، متکبر۔”فخور“ ”فخر“ میں سے مبالغے کا صیغہ ہے ، جو دوسروں کے سامنے بہت فخر کرنے والا ہو۔ تقدیر کو مد نظر نہ رکھنے کا نتیجہ ہر کامیابی کو اپنی بہادری اور کارکدگی سمجھنا ہے ، جس سے آدمی میں تکبر اور فخر پیدا ہوتا ہے ، حالانکہ اگر آدمی کی اپنی کارکردگی بھی ہو تو وہ ، بلکہ اس کا اپنا وجود سب اللہ تعالیٰ کی عطاء ہے اور اس نے یہ سب کچھ پہلے لکھ دیا ہے ، پھر جو شخص اس پر شکر کے بجائے تکبر و فخر کرتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ محبت کیسے کرسکتا ہے ؟
5۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں بیان فرمائی ہیں ، ایک ”اعلموا انما الحیوۃ الدنیا لعب ولہو۔۔۔۔“ اور دوسری ”ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم۔۔۔۔“ پھر فرمایا :(لکیلا ناسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بما اتکم) مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہیں دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کا فانی ہونا مثال دے کر اس لیے سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں جو کچھ دے اس پر پھول نہ جاؤ ، بلکہ یاد رکھو یہ عارضی اور فانی ہے اور ہم نے یہ بات کہ ہر مصیبت پہلے سے لکھی ہوئی ہے ، اس لیے بتائی ہے کہ تم اس کے آنے پر زیادہ غم نہ کرو ، گویا یہ لف کثیر غیر مرتب ہے۔ یہ تفسیر بھی پر لطف ہے۔
Ayah 57:241۔ نِالَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ط : مراد اس سے منافقین ہیں جو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوچکے تھے ، مگر جب جہاد کا موقع آتا تو جنگ میں شرکت سے گریز کرتے اور خرچ کرنے سے بخل کرتے ، بلکہ اپنے ہم نواؤں کو بھی خرچ کرنے سے منع کرتے تھے ، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :(ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہ ِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْاط وَ ِﷲِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰـکِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لَا یَفْقَھُوْنَ (المنافقون : 7)”یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے رسول کے پاس ہیں ، یہاں تک کہ وہ منتشر ہوجائیں ، حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور لیکن منافق نہیں سمجھتے۔“
2۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللہ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ : ضمیر فصل ”ھو“ لانے سے اور خبر ”الغنی الحمید“ پر الف لام لانے سے حصر پیدا ہو رہا ہے کہ اللہ ہی غنی وحمید ہے ، کوئی اور نہیں۔ یعنی جو شخص اتنی نصیحت سن کر بھی جہاد خرچ کرنے سے منہ موڑے اور سمجھے کہ اس کے خرچ نہ کرنے سے اسلام اور مسلمانوں کا کوئی نقصان ہوجائے گا تو اس کا یہ خیال باطل ہے ، کیونکہ آسمان و زمین کے تمام خزانوں کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے (جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا) اور غنی وہ اکیلا ہی ہے ، دوسرے سب اس کے محتاج ہیں ، جو کوئی بھی خرچ کرتا ہے اس کے دیے میں سے خرچ کرتا ہے اور اپنے فائدہ کے لیے خرچ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے خرچ کرنے سے بےنیاز ہے۔ غنی کے ساتھ حمید کی صفت بیان فرمائی ، کیونکہ بہت سے اغنیاء عارضی غنی کے مالک ہونے کے باوجود اپنی غنی کو مذموم کاموں میں استعمال کرتے ہیں مگر اللہ ایسا غنی ہے کہ وہ ہر مذموم صفت اور فعل سے پاک ہے اور تمام کمالات اور خوبیوں کا مالک ہے۔
Ayah 57:251۔ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ۔۔۔۔: اوپر کی آیات میں جس خرچ کی تاکید کی گئی ہے اس کا تعلق جہاد سے ہے۔ کفار اور اہل کتاب کو جب بدر اور دوسرے مقامات پر شکستوں پر شکستیں ہوئیں تو انہوں نے پروپیگنڈا شروع کردیا جو آج تک جاری ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور اسلام اللہ کا دین کیسے ہوسکتے ہیں ؟ ان کے نزدیک تو سب سے بڑی نیکی جنگ اور خون ریزی ہے ، بھلا اللہ کے رسولوں اور اس کے نیک بندوں کا خون ریزی سے کیا تعلق ہے ؟ وہ تو امن و سلامتی والے ہوتے ہیں اور دنیا کے دھندوں سے الگ تھلگ رہبانیت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں تین باتیں واضح فرمائیں ، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول بھیجے انہیں واضح دلائل دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل فرمائی ، تا کہ لوگ راہ راست پر چل سکیں اور باہمی معاملات میں عدل و انصاف پر قائم رہیں۔ دوسری یہ کہ عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ ظلم و جور کا خاتمہ کیا جائے ، جو قوت و سلطنت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے کتاب و میزان کے ساتھ لوہا اتارا ، جس میں دو سے بیشمار فائدوں کے ساتھ یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے سے جہاد ہوتا ہے ، جس کے ساتھ عدل و انصاف قائم ہوتا ہے اور ایمان والوں کا امتحان ہوتا ہے کہ اللہ کے دین کی مدد کرنے والے مومن کون ہیں اور اس سے جان چھڑانے والے منافق کون ہیں۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ نوح اور ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد میں جتنے رسول آئے سب کا مقصد حق اور عدل کا قیام ہی تھا۔ عیسیٰ ؑ بھی انہی کے طریقے پر تھے۔ یہود کی سنگ دلی کے مقابلے میں ان کے پیرو کاروں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر رافت و رحمت رکھی تھی۔ اس نرمی کا بہانہ بنا کر ان کے بعض نام لیواؤں نے رہبانت اختیار کی اور جہاد چھوڑ دیا ، حالانکہ یہ ان کی اپنی ایجاد کردہ بدعت تھی ، اللہ کا حکم ہرگز نہ تھا۔ مسلمانوں میں ترک جہاد کا باعث بھی نصرانیوں کی تقلید میں یہی رہبانیت بنی۔
2۔ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ۔۔۔۔۔: اس کی تفسیر کے لیے دیکھیء سورة ٔ شوریٰ کی آیت (17) کی تفسیر۔
2۔ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ : لوہا اگرچہ زمین سے نکلتا ہے مگر اس نعمت کی عظمت کا احساس دلانے کے لیے ”انزلنا“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے ، جیسا کہ چوپاؤں کے متعلق فرمایا (وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ ط) (الزمر : 6)”اور اس نے تمہارے لیے چو پاؤں میں سے آٹھ قسمیں (نر و مادہ) اتاریں۔“ اس میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہر نعمت کا اصل سر چشمہ آسمان ہی ہے ، جہاں سے اللہ کا حکم صادر ہوتا ہے تو ہر چیز وجود میں آتی ہے اور اس تعلق کی طرف بھی اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ بندوں کے دلوں میں لوہے کو حاصل کرنے اور اس کے استعمال کے طریقوں کا القاء فرماتا ہے۔
4۔ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ : اس میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ لوہے کے دوسرے ”منافع ‘ ‘ کو بعد میں ذکر فرمایا ہے اور سخت لڑائی کا ذکر پہلے فرمایا ہے۔ اس سے جہاد اور اسلحہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ منافع سے مراد وہ بیشمار مشینیں ، آلات اور سواریاں ہیں جو ایجادہو چکی ہیں اور آئندہ ہوں گی۔
5۔ وَلِیَعْلَمَ اللہ ُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَیْبِ ط : جہاد کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک لمحے میں کفار کو نیست و نابود کرسکتا ہے ، مگر وہ جہاد کے ذریعے سے اپنے بندوں کا امتحان کرتا ہے کہ اسے دیکھئے بغیر کون اس کی خاطر لڑتا اور اس کے دین کی مدد کرتا ہے اور کون پیچھے رہتا ہے۔”ولیعلم اللہ“ کے لیے دیکھئے سورة ٔ آل عمران (140 تا 142) اور سورة ٔ عنکبوت (3) کی تفسیر۔
6۔ اِنَّ اللہ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ : یعنی اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جہاد کا حکم اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں دیا ، بلکہ انہی کے فائدے کے لیے اور امتحان کے لیے دیا ہے ، کیونکہ وہ تو بڑی قوت والا اور سب پر غالب ہے۔
Ayah 57:26وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰہِیْمَ۔۔۔۔: اس آیت میں پہلے نوح اور ابراہیم ؑ کی بہت بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ دوسرے تمام انبیاء (علیہم السلام) انہی کی اولاد سے تھے ، اس کے بعد اس میں بینات اور کتاب و میزان لے کر آنے والے تمام انبیاء کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کی امتوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان میں بگاڑ کا باعث کیا تھا۔
2۔ فَمِنْہُمْ مُّہْتَدٍج وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰـسِقُوْنَ :”من“ تبعیض کے لیے ہے ، یعنی ان میں سے بعض راہ راست پر چلنے والے ہیں اور ان کے زیادہ لوگ نافرمان ہیں۔ یعنی ان کے بگاڑ کا اصل باعث یہ تھا کہ وہ اپنی خواہش کے خلاف کسی کا حکم ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایمان اور عمل صالح والے لوگ کم اور نافرمان لوگ ہمیشہ زیادہ رہے ہیں۔ مزید دیکھئے سورة ٔ ص (24) کی تفسیر۔
Ayah 57:271۔ ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِہِمْ بِرُسُلِنَا :”قفینا“ ”قفا“ سے مشق ہے ، جس کا معنی گدی (گردن کا پچھلا حصہ) ہے۔ ”اثار“ ”اثر“ کی جمع ہے۔ نشان قدم۔ مراد یہ ہے کہ پہلے رسولوں کے بعد دوسرے رسول اس طرح بھیجے جس طرح ایک گردن کے پیچھے دوسرا اس کے نشان قدم پر چلتا ہوا آرہا ہو۔ سب کی تعلیم ایک تھی اور سب ایک ہی راستے کے مسافر تھے۔
2۔ وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَیْنٰـہُ الْاِنْجِیْلَ : عیسیٰ ؑ کا الگ خاص طور پر ذکر فرمایا ، کیونکہ نبی کریم ﷺ سے پہلے سب سے آخر میں وہی تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں انجیل عطاء فرمائی ، جس میں تورات پر عمل کی تاکید کی تھی اور اسکے بعض سخت احکام میں نرمی کا اعلان تھا ، جیسا کہ فرمایا :(وَلِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ) (آل عمران : 50) ”اور تاکید میں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کی گئی تھیں۔“ البتہ وہ بھی اسی راستے پر چلنے والے تھے جس پر پہلے رسول چلتے تھے ، جس میں جہاد کی تعلیم بھی تھی۔
3۔ وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّرَحْمَۃً ط :”رافعہ“ وہ رحمت جو کسی سے تکلیف یا نقصان دور کرنے سے تعلق رکھتی ہو ، جیسا کہ فرمایا :(وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللہ ِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ج) (النور : 2) ”اور تمہیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے ، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔“ جبکہ ”رحمۃ“ کا لفظ عام ہے ، جس میں ہر طرح کا رحم شامل ہے ، خصوصاً جس میں نفع پہنچانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ دیکھئے سورة ٔ حج کی آیت (65):(ان اللہ بالناس لرء ورحیم) کی تفسیر۔ عیسیٰ ؑ کی پیروی کرنے والوں کے دلوں میں رافت و رحمت رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کو جو کتاب انجیل عطاء فرمائی تھی وہ بنیادی طور پر احکام کی نہیں بلکہ وعظ و تذکیر کی کتاب تھی ، جس میں انہیں خاص طور پر نرمی اور رحم کے اخلاق اختیار کرنے پر زوردیا گیا تھا ، چناچہ انہوں نے اس پر عمل کیا ، پھر عیسیٰ ؑ کی سیرت پر عمل نے ان میں یہ صفت مزید پختہ کردی ، چونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کے فضل سے ہوا ، اس لیے فرمایا کہ ہم نے اس کی پیروی کرنے والوں کے دلوں میں رافت و رحمت رکھ دی۔
انجیل میں رافت و رحمت پر زور دینے کی وجہ یہ تھی عیسیٰ ؑ کو بنی اسرائیل کے نفوس کی اصلاح کے لیے اور ان کی دلوں سے اس سختی کو دور کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا جو طویل مدتیں گزرنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں پیدا ہوچکی تھی ، جیسا کہ فرمایا :(ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً ط) (البقرۃ : 74) ’ ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں جیسے ہیں ، یا سختی میں (ان سے بھی) بڑھ کر ہیں“۔ عیسیٰ ؑ کے اصحاب یہود کے برعکس آپس میں نہایت نرم اور مہربان تھے ، ہمارے رسول ﷺ کے اصحاب میں بھی یہ وصف بہت نمایاں تھا ، جیسا کہ فرمایا :(وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ) (الفتح : 29)”اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں ، آپس میں نہات رحم دل ہیں“۔
4۔ وَرَہْبَانِیَّۃَ نِابْتَدَعُوْہَا :”رھب یرھب رھبا“ (ف) ڈرنا۔ ”راھب“ ڈرنے والا۔ ”رھبان“ (بروزن فعلان) ک بہت ڈرانے والا۔”رھبانیۃ“ کی نسبت اسی ”رھبان“ کی طرف ہے ، یعنی رہبان کا طریقہ اختیار کرنا ، جو شدت خوف سے شادی نہیں کرتا کہ بیوی بچے اس کی عبادت میں رکاوٹ نہ بنیں ، لوگوں سے علیحدگی اختیار کرتا ہے کہ اسے عبادت سے غافل نہ کریں۔ کھانے پینے کی لذیذ اشیاء سے اجتناب کرتا ہے کہ دنیا کی حرص اور نفس کی خواہشوں سے بچ سکے ، اس لیے وہ آبادی سے الگ جنگل بیابان میں کٹیا بنا کر عبادت میں مصروف ہوجاتا ہے۔ یہ طریقہ انبیاء کا طریقہ نہیں ، نہ انہوں نے اس کی تعلیم دی ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ ان کا طریقہ تو اللہ کی توحید اور اس کے دین کی طرف دعوت دینا اور لوہے کے استعمال کے ساتھ اس کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا قلع قمع کرنا ہے۔ سو جن لوگوں نے ترک دنیا کا راستہ اختیار کرکے دعوت و جہاد کا کام چھوڑ دیا ، یہ طریقہ ان کی اپنی ایجاد تھی ، اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں :(لما کان من امر عثمان بن مظعنون الذی کان من ترک النساء بعث الیہ رسول اللہ ﷺ فقال یا عثمان ! انی لم او مر بالرھبانیۃ ارغبت عن سنتیی ؟ قال لا یا رسول اللہ ! قال ان من سنتی ان اصلی وانام ، واصوم واطعم، وانکح و اطلق ، فمن رغب عن سنتی فلس منی) (سنن دارمی ، 2، 179، ح : 2169، قال المحقق حسین سلیم اسد الدارنی ، اسنادہ صحیح والحدیث متفق علیہ)”جب عثمان بن مظعون ؓ کے عورتوں کو ترک کرنے والا معاملہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا :”اے عثمان ! مجھے رہبانیت کا حکم نہیں دیا گیا ، کیا تم نے میرے طریقے سے بےرغبنتی اختیار کرلی ہے ؟“ انہوں نے کہا : ”نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ نے فرمایا :”میرے طریقے میں سے یہ ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا (بھی) ہوں اور روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا (بھی) ہوں اور میں نکاح بھی کرتا ہوں اور طلاق بھی دیتا ہوں ، تو جو شخص میرے طریقے سے بےرغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں“۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ تین آدمی رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کے گھروں کی طرف آئے ، وہ نبی ﷺ کی عبادت کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ جب انہیں (اس کے بارے) بتایا گیا تو گویا انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے :”کہاں ہم اور کہاں نبی ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو تو پہلے پچھلے سب پناہ معاف فرما دیئے ہیں“۔ تو ان میں سے ایک نے کہا : ”میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا“۔ دوسرے نے کہا : ”میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا ، کبھی روزے کے بغیر نہیں رہوں گا“۔ تیسرے نے کہا :”میں عورتوں سے الگ رہوں گا ، کبھی نکاح نہیں کروں گا“۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا :(انتم الذین قلتم کذا وکذا ؟ اما واللہ ! انی لا خشا کم للہ واتقاکم لہ ، لکنی اصوم و افطر ، اصلی وارقد واتزوج النساء ، فمن رغب عن سنتی فلیس منی) (بخاری ، النکاح ، باب الترغیب فی النکاح۔۔۔۔۔۔ 5063)”تمہی لوگوں نے یہ یہ باتیں کہی ہیں ؟ سن لو ! اللہ کی قسم ! میں تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور اس کے تقویٰ والا ہوں ، لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا ، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، تو جو میرے طریقے سے بےرغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں“۔
4۔ مَا کَتَبْنٰـہَا عَلَیْہِمْ : یعنی ہم نے انہیں رہبانیت کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ انہوں نے اسے خود ہی ایجاد کرلیا تھا۔
6۔ اِلَّا ابْتِغَآئَ رِضْوَانِ اللہ ِ : یہ سننا منقطع ہے اور ”الا“ ”لکن“ کے معنی میں ہے :”ای ما کتبنا ھا علیم لکن فعلوھا ابتغاء رضوان اللہ“ ”یعنی ہم نے انہیں اس کا حکم دیا ، مگر انہوں نے (ترک دنیا کا) یہ کام اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیا“۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے :”لکن کتبنا علیھم ابتغاء رضوان اللہ“ یعنی ہم نے انہیں رہبانیت کا حکم تو نہیں دیا ، لیکن ہم نے انہیں اللہ کی رضا حاصل کرنے کا حکم دیا۔
7۔ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ج : رہبانیت اختیار کرنے والوں کی دو طرح سے مذمت فرمائی ، ایک یہ کہ انہوں نے دین میں وہ بات ایجاد کی جس کا انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے رہبانیت ایجاد کر کے اپنے آپ پر ترک دنیا کی جو پابندیاں عائد کی تھیں انہیں اس طرح نہ نبھا سکے جس طرح نبھانے کا حق تھا۔ ہمارے شیخ محمد عبدہٗ لکھتے ہیں :”یعنی انہوں نے دو جرم کیے ، ایک رہبانیت (درویشی) کو دین کا جزو لا یفنک قرار دے لیا اور پھر اس درویشی کے حقوق و آداب کی بھی نگہداشت نہ کرسکے۔ چناچہ انہوں نے ابتداء میں توحید اور درویش کو ایک ساتھ نبھانے کی کوشش کی ، لیکن مسیح ؑ کے تیسری صدی بعد سے اپنے بادشاہوں کے بہکانے میں آگئے اور تثلیت کے چکر میں پھنس کر توحید کو چھوڑ دیا ، پھر درویشی تو در کنار اصل ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ درویشی کو جاہ و ریاست طلبی کا ذریعہ بنا لیا اور باطل طریقوں سے لوگوں کا مال کھانے لگے۔ الغرض جہاد کے فریضہ کو چھوڑ کر تصوف کی رسوم اختیار کرنا ہی رہبانیت ہے ، جس کی قرآن نے مذمت کی ہے اور پھر درویشی یا دینی پیشوائی کو (اللہ کی رضا کے بجائے) جاہ و ریاست اور دنیا طلبی کا ذریعہ بنانا تو ناقابل عفو گناہ ہے ، جو یہود و نصاریٰ میں عام وباء کی شکل اختیار کر گیا تھا“۔ (اشرف الحواشی) شاہ عبد القادر فرماتے ہیں :”یہ فقیری اور تارک ِ دنیا بننا نصاریٰ نے رسم نکالی ، جنگل میں تکیہ لگا کر بیٹھتے ، نہ بیوی رکھتے نہ اولاد ، نہ کماتے نہ جوڑتے ، محض عبادت میں رہنے ، خلق سے نہ ملتے۔ اللہ نے بندوں پر یہ حکم نہیں رکھا ، مگر جب اپنے اوپر نام رکھا ترک دنیا کا ، پھر اس پردے میں دنیا چاہنی بڑا وبال ہے“۔ (موضح) آج کل روزانہ اخبارات میں نصرانی چرچوں میں پادریوں اور راہبوں کے زنا اور قوم لوط کے عمل کی خبریں اسی ”فما رعوھا حق رعایتھا“ کی عملی تفسیر ہیں۔
8۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان ”لتتبعن سنن من قبلکم“ کے مطابق امت مسلمہ میں بھی رہبانیت تصوف کی صورت میں رائج ہوگئی۔ (دیکھئے بخاری : 3456) دنیا میں اسلام کو غالب کرنے اور جہاد کے بجائے تک ِ دنیا کمال ٹھہرا ، تو توحید کے بجائے پیر پرستی اور قبر پرستی پھیل گئی۔ احسان کی منزل یہ تھی کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے گویا اسے دیکھ رہا ہے ، سوا گر یہ اسے نہیں دیکھتا تو وہ اسے یقینا دیکھ رہا ہے۔ تصوف میں اس کے بجائے کمال یہ ٹھہرا کہ شیخ کا تصور اس طرح رکھو کہ ایک لمحہ بھی دل و دماغ اور آنکھوں سے جدا نہ ہو۔ رسو ل اللہ ﷺ نے اللہ کا قرب حاصل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑا جو نہ بتایا ہو، یہاں ان طریقوں کو چھوڑ کر نصرانی راہبوں اور ہندو جوگیوں کے طریقے اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ٹھہرے ، مثلاً روزے رکھنے کے بجائے ترک حیوانات جمالی و جلالی کیا گیا، یعنی کوئی حیوان یا اس سے نکلنے والی چیز مثلاً گوشت یا دودھ یا گھی نہ رکھا جائے۔ قرآن مجید کی تلاوت اور مسنون اذکا ار کے بجائے سانس بند کر کے خود ساختہ وظیفوں کو ، جن کے ساتھ تصور شیخ کا شرک ہو ، ولایت کے حصول کا مستند طریقہ قرار دیا گیا۔ محنت اور کمائی کے بجائے لوگوں کے نذر انوں یا گدائی کے ٹکڑوں پر گزر کرنا فقر کی منزل قرار پایا۔ قرآن کی دعوت کے ساتھ جہاد کی تلوار لے کر دنیا پر اسلام کو غالب کرنے کی جدوجہد کے بجائے جنگلوں بیابانوں یا مقبروں اور خانقاہوں میں ”ہو حق“ کی ضربیں مقصد حیات قرار پائیں۔
مسجدیں ویران ہوئیں اور مقبرے آباد ہوئے اور یہ کام کرنے والوں کی پارسائی اور روحانی اقتدار کے اتنے جھوٹے قصے مشہور کیے گئے کہ نصرانی راہبوں اور ہندو جوگیوں کی ولایت کے افسانے ان کے مقابلے میں ہیچ ہوگئے۔ احبارو رہبان کے باطل طریقوں کے ساتھ لوگوں کے مال کھانے اور اللہ کی راہ سے روکنے کا کوئی طریقہ باقی نہ رہا جو یہاں اختیار نہ کیا گیا ہو۔ جو لوگ دنیاوی مصروفیت کی وجہ سے یہ کام نہ کرسکے انہوں نے بھی کتاب و سنت پر عمل کے بجائے ان خدا رسیدہ ہستیوں کی خدمت کو نجات کے لیے کافی سمجھا اور انہیں قیامت کے دن اپنا کار ساز سمجھا اور انہیں قیامت کے دن اپنا کار ساز سمجھ کر عمل سے فارغ ہوگئے۔ نتیجہ کفار کے غلبے اور مسلمانوں کی ذلت اور غلامی کی صور ت میں سب کے سامنے ہے۔ اس کا علاج اب بھی وہی ہے جو اس مبارک سورت میں بتایا گیا ہے کہ رہبانیت کے بجائے پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق بسر کی جائے ، لوگوں کے بنائے ہوئے طریقوں کے بجائے کتاب و سنت سے ثابت اعمال کی پابندی کی جائے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے اس کی راہ میں جہاد کیا جائے اور جان و مال کی قربانی سے کسی قسم کا دریغ نہ کیا جائے۔ کیونکہ جس طرح تورات و انجیل کی تعلیم رہبانیت کے بجائے قتال فی سبیل اللہ تھی اسی طرح قرآن مجید کی تعلیم بھی یہی ہے ، دلیل اس کی یہ آیت ہے :(اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَط یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَقف وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ ط) (التوبۃ : 111)”بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں ، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے ، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں ، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں ، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے“۔
9۔ فَاٰ تَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْہُمْ اَجْرَہُمْ : ان میں دو قسم کے لوگ شامل ہیں ، ایک وہ جو رہبانیت اور اس کے خود ساختہ عقائد و اعمال مثلاً تثلیث ، قبر پرستی اور ترک دنیا کے بجائے صحیح ایمان و عمل پر قائم ہے ، جو تورات و انجیل سے ثابت تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کا اجر عطاء فرما دیا اور دوسرے وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا اور آپ پر ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی ان کا اجر عطاء فرما دیا۔
10۔ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰـسِقُوْنَ : یعنی ان میں سے بہت سے لوگ وہ تھے جو اپنی خواہش کے خلاف اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔
Ayah 57:281۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ۔۔۔: مفسرین نے اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی ہے ، ایک یہ کہ ”یا ایھا الدین امنوا“ کے الفاظ کے مخاطب اہل کتاب ہیں جو اس سے پہلے اپنے نبی پر ایمان کا دعویٰ رکھتے تھے ، انہیں حکم دیا جا رہا ہے کہ اللہ سے ڈر جاؤ اور اس کے رسول محمد ﷺ پر ایمان لے آؤ ، تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت سے دوہرا حصہ عطا فرمائے گا۔ اس کی تائید سورة ٔ قصص کی آیات (52 تا 54) سے ہوتی ہے اور اس حدیث سے بھی جو ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ثلاثۃ لھم اجران رجل من اھل الکتاب امن بینہ ، وامن بمحمد ﷺ والعبد المملوک اذا ادی حق اللہ وحق موالیہ ، ورجل کانت عندہٗ امۃ یصلوھا فادیھا ، فاحسن تادیبھا وعلمھا فاحسن تعلیمھا ثم اعتقھا فتزوجھا فلہ اجران) (بخاری ، العلم ، باب تعلیم الرجل امنہ واھلہ ، 97)”تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کے لیے دو اجر ہیں ، ایک اہل کتاب میں سے کوئی آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد ﷺ پر ایمان لایا اور ایک وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو ، جب وہ اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے اور ایک وہ آدمی جس کے پاس ایک لونڈی تھی ، وہ اس سے صحبت کرتا تھا ، تو اس نے اسے ادب سکھایا اور اچھی طرح ادب سکھایا اور اسے تعلیم دی اور اچھی طرح تعلیم دی ، پھر اسے آزاد کردیا اور اس سے نکاح کرلیا ، تو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں“۔
اس تفسیر میں جو بات بیان ہوئی ہے وہ اپنی جگہ درست ہے ، مگر یہاں ”یایھا الذین امنوا“ سے اہل کتاب میں سے مسلمان ہونے والے مرد لینا سیاق کے خلاف ہے ، کیونکہ شروع سے آخر تک خطاب ان لوگوں سے ہے جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے ، انہی کو اپنی ایمان میں اخلاص پیدا کرنے اور اللہ کی راہ میں قتال اور خرچ کا حکم آرہا ہے۔ اس آیت میں بھی انہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے رسول پر کما حقہ ایمان لانے کا حکم اور اس کی جزاء کے طور پر اپنی نعمت کا دوہرا حصہ اور نو ر عظیم عطاء کرنے کی بشارت کا ذکر ہے۔ اس لیے صحیح تفسیران حضرت کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ”یایھا الذین امنوا“ کے ساتھ خطاب ان لوگوں سے ہے جو محمد ﷺ پر ایمان لائے ، خواہ وہ اہل کتاب میں سے اسلام لائے ہوں یا مشرکین میں سے ، یا پیدا ہی اسلام پر ہوئے ہوں ، ان سب سے کہا جارہا ہے کہ صرف زبان سے ایمان کے اقرار اور دعویٰ پر اکتفا نہ کرو ، بلکہ سچے دل کے ساتھ ایمان لاؤ ، اس کا حق ادا کرو اور اس کے تقاضے پورے کرو، تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت کا دوسرا حصہ عطاء کرے گا۔
اس دوہرے حصے سے مراد ہماری اس امت کی خصوصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے محض اپنے فضل سے پہلی امتوں کی بہ نسبت دوسرے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ نبی ﷺ نے یہ بات ایک مثال کے ساتھ واضح فرمائی ، آپ ﷺ نے فرمایا :(مثلکم ومثل اھل الکتابین کمثل رجل استاجر اجراء ، فقال من یعمل لی من غدوۃ الی نصف النھار علی قیراط ؟ فعملت الیھود ، ثم قال من یعمل لی من نصف النھار الی صلاۃ العصر علی قیراط ؟ فعملتالناریٰ ثم قال من یعمل لی من العصر الی ان تغیب الشمس علی قیراطین ؟ قانتم ھم ، فغضب النھود، والنصاری ، فقالو ما لنا اکثر عملاً ، واقل عطاء ؟ قال ھل نقصتکم من حقکم ؟ قالو الا قال فدلک فصی اوتیہ من اشائ) (بخاری ، الاحارۃ ، باب الاحارۃ الی نصف النھار : 2268، 3459، عن ابن عمر ؓ)”تمہاری مثال اور دونوں کتابوں (تورات ون انجیل) والوں کی مثال اس آدمی کی مثال کی طرح ہے جس نے کئی مزدوروں کو اجرت پر رکھا اور کہا : ”کون ہے جو میرے لیے صبح سے نصف النہار تک ایک قیراط پر کام کرے گا ؟“ تو نصاریٰ نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا :”کون ہے جو میرے لیے عصر سے سورج غروب ہونے تک دو قیراط پر کام کرے گا“۔ تو تم وہ لوگ ہو۔ اس پر یہود و نصاریٰ ناراض ہوگئے اور کہنے لگے :”ہمیں کیا ہے کہ ہم نے کام زیادہ کیا اور اجرت کم ملی ؟“ اس نے کہا : ”کیا میں نے تمہارے حق میں کوئی کمی کی ہے ؟”انہوں نے کہا :”نہیں !“ اس نے کہا :”پھر یہ میرا افضل ہے ، جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں“۔
2۔ ویجعل لکم نورا تمثون بہ۔۔۔: یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی بدولت اللہ تعالیٰ تمہیں کتاب و سنت کی صورت میں وحی الٰہی کا ایسا عظیم نور عطاء کرے گا جس کے ذریعے سے تم دنیا و آخرت میں ہر جگہ آسانی کے ساتھ چلتے رہو گے ، کسی مسئلے میں تمہیں کوئی الجھن یا اندھیرا پیش نہیں آئے گا ، جیسا کہ فرمایا :(اَﷲُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط) (البقرہ : 257)”اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے ، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے“۔ اور قیامت کے دن کے اندھیروں میں وہ نور عطا کرے گا جس میں چلتے ہوتے تم جنت تک پہنچ جاؤ گے ، جس کا ذکر اس سے پہلے ”یوم تری المومنین والمومنت یسعی نور ھم بین ایدیھم وبا یمانھم“ میں گزر چکا ہے اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ غفو ر و رحیم ہے۔
Ayah 57:291۔ لِّئَـلَّا یَعْلَمَ اَہْلُ الْکِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْئٍ مِّنْ فَضْلِ اللہ ِ : یعنی اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی رحمت میں سے دو حصے اور عظیم نور دینے کی بشارت اس لیے دی ہے تا کہ اہل کتاب تمہارے متعلق یہ نہ جانیں کہ یہ مسلمان اللہ کے فضل میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے۔
2۔ وَاَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللہ ِ۔۔۔۔: سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے ”ولیعلموا“ (اور تا کہ وہ جان لیں) محذوف ہے ، یعنی اور تا کہ وہ جان لیں کہ فضل اہل کتاب یا کسی اور کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ چناچہ اس نے اپنی مشیت سے اس آخری نبی پر اخلاص کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنے خاص فضل کے لیے منتخب فرمایا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
2۔ ابن جریر اور دوسرے کئی مفسرین نے فرمایا کہ ”لِّئَـلَّا یَعْلَمَ اَہْلُ الْکِتٰبِ“ کا معنی ”لیعلم اھل الکتاب ‘ ‘ ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی رحمت سے دو حصے اور نور عظیم کی بشارت اس لیے دی ہے تا کہ اہل کتاب (جو اپنے سوا کسی کو اللہ تعالیٰ کا افضل عطاء ہونے کے قائل ہی نہیں) جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل سارے کا سارا اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
اس تفسیر پر یہ اعتراض ہے کہ اس میں ”لا“ کو زائد مانا گیا ہے ، حالانکہ اللہ کے کلام میں کوئی لفظ زائد کیسے ہوسکتا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں ”لا“ زائد ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بےکار ہے ، بلکہ اسے بعد میں آنے والے ”الا یقدرون“ میں موجودنفی کی تاکید کے لیے لایا گیا ہے ، جیسا کہ ایک جگہ فرمایا :(ما منعک ان تسجد) (ص : 75)”تجھے کس چیز نے روکا تو سجدہ کرے ؟“ اور دوسری جگہ فرمایا :(ما منعک الا تسجد“ (الاعراف : 21)”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ نہیں کرتا ؟“ یہاں ”الا تسجد“ میں ”لا“ اس نفی کی تاکید کے لیے ہے جو ”منعک“ کے ضمن میں موجود ہے۔”لِّئَـلَّا یَعْلَمَ اَہْلُ الْکِتٰبِ“ کی یہ تفسیر بھی درست ہے اور بہت عمدہ ہے۔