Ayah 61:1سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ۔۔۔۔: اس سورت کا مضمون اللہ کے راستے میں جہاد و قتال ہے ، ابتداء اس کی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے ذکر سے کی گئی ہے۔ اللہ کی تسبیح سے ابتداء کی سورت کے مضمون سے مناسبت یہ ہے کہ وہ ہستی جس کی تسبیح ہر وہ چیز کرتی ہے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز بھی جو زمینوں میں ہے ، تو تمام مخلوق کی طرح انسان کے لیے بھی اس کی تسبیح کرنا لازم ہے۔ پھر جو لوگ تسبیح کی بجائے اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں تو ایمان والوں پر ان کے ساتھ لڑنا فرض ہے ، کیونکہ وہ ساری کائنات کے الٹ چل رہے ہیں اور تسبیح کے بجائے اللہ تعالیٰ کے لیے شریک بنا کر اس کے تمام عیوب و نقائص سے پاک ہونے کی نفی کر رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر توہین کیا ہوگی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک لہٗ اور تمام صفات کمال کا مالک ماننے کے بجائے اس کے لیے اولاد اور شریک بنا کر اسے عاجز و محتاج ثابت کر رہے ہیں اور اس اکیلے کی عبادت کے بجائے ان چیزوں کو اس کی عبادت میں شریک بنا رہے ہیں جن کا زمین و آسمان کی پیدائش یا بقاء میں کوئی حصہ ہی نہیں۔ اسی طرح ان لوگوں پر بھی چوٹ ہے جو ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں قتال کے وعدے اور دعوے کے باوجود اس کی راہ میں لڑنے سے گریز کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی تسبیح کا حق عملاً ادا نہیں کیا۔
”سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ۔۔۔۔۔“ کی تفسیر سورة حدید اور سورة ٔ حشر کی ابتداء گزر چکی ہے ، اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی صفت ”العزیز“ لانے میں اشارہ ہے کہ جب وہ ہر ایک پر غالب ہے تو تم اس کے دشمنوں کے ساتھ لڑنے سے کیوں ڈرتے ہو اور صفت ”الحکیم“ لانے میں اشارہ ہے کہ اس نے تمہیں جو حکم دیا ہے کہ کفار سے لڑو اور انہیں اور ان کے کفر و شرک کو کسی صورت غالب نہ آنے دو تو یہ حکم بےمقصد نہیں ، بلکہ کمال حکمت پر مبنی ہے اور دنیا و آخرت میں تمہاری عزت اور کامیابی کا ضامن ہے۔ (ابن عاشور)۔
Ayahs 61:2–3یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ : ان آیات میں ان لوگوں پر تعجب اور شدید ناراضی کا اظہار ہے جو وہ بات کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔ اس میں کئی طرح کے لوگ شامل ہیں ، عبد اللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں :’ ’ ہم نے آپس میں یہ ذکر کیا کہ کون ہے جو رسول اللہ ﷺ کے پاس جائے اور آپ سے پوچھے کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ محبوب ہے ، مگر ہم میں سے کوئی بھی نہ اٹھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف ایک آدمی بھیجا اور ہمیں جمع کرنے کے بعد یہ سورت یعنی سورة ٔ صف پوری پڑھ کر سنائی“۔ (مسند احمد : 5، 452، ح : 23788) مسند احمد کے محققین نے فرمایا :“ امناق صحیح علی شرط الشیخین“ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے ان آیات کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا :(کان ناس من المومنین قبل ان یفرض الجھاد یقولون لوددنا ان اللہ دل علی احب الاعمال الیہ فنعمل بہ ، فاخبر اللہ نبیہ ان احب الاعمال الیہ ایمان باللہ لا شک فیہ ، وجھاد اھل معصیتہ الذین خالفوا الایمان ولم یقروا بہ فلما نزل الجھاد ، کرہ ذلک اناس من المومنین وشق علیھم امرہ، فقال اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ) (یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ) (الصف : 2) (طبری : 22، 6، ح : 34359)”مومنوں میں سے کچھ لوگ جہاد فرض ہونے سے پہلے کہتے تھے“۔ ”ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ہاں سب اعمال سے زیادہ محبوب عمل بتائے تو ہم وہ کریں“۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو بتایا کہ تمام اعمال میں سے محبوب وہ ایمان باللہ ہے جس میں کوئی شک نہ ہو اور اس کی نافرمانی کرنے والوں سے جہاد ہے جنہوں نے ایمان کی مخالفت کی اور اس کا اقرار نہیں کیا۔ پھر جب جہاد (کا حکم) نازل ہوا تو مومنوں میں سے کچھ لوگوں نے اسے ناپسند لوگو جو ایمان لائے ہو ! کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے“۔ (یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ)”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے“۔
اس سے معلوم ہوا کہ ان آیات سے مراد وہ لوگ ہیں جو جہاد فرض ہونے سے پہلے اس کی تمنا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ہمیں معلوم ہو کہ سب سے محبوب عمل کون سا ہے تو ہم وہ کریں گے ، مگر جب جہاد کا حکم نازل ہوا تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اس سے گریز کیا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَج فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللہ ِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَۃًج وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَج لَوْ لَآ اَخَّرْتَنَآاِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍط قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌج وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰیقف وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ) (النسائ : 77، 78)”کیا تو نے ان لوگوں دیکھا جس نے کہا گیا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو ، پھر جب ان پر لڑنا لکھا گیا اچانک ان میں سے کچھ لوگ ، لوگوں سے ڈرنے لگے ، جیسے اللہ سے ڈرنا ہو یا اس سے بھی زیادہ ڈرنا اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب ! تو نے ہم پر لڑنا کیوں لکھ دیا ، تو نے ہمیں ایک قریب وقت تک مہلت کیوں نہ دی۔ کہہ دے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے اور آخرت اس کے لیے بہتر ہے جو متقی بنے اور تم پر دھاگے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے موت تمہیں پالے گی ، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو“۔ اور فرمایا :(وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌج فَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ مُّحْکَمَۃٌ وَّذُکِرَ فِیْھَا الْقِتَالُلا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ) (محمد : 20)”اور وہ لوگ جو ایمان لائے کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی ؟ پھر جب کوئی محکم سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں لڑائی کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں بیماری ہے ، وہ تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے اس شخص کا دیکھنا ہوتا ہے جس پر موت کی غشی ڈالی گئی ہو“۔ اسی طرح وہ لوگ بھی مراد ہیں جنہوں نے تمہیں کا تھا کہ ہم جنگ میں پیٹھ نہیں دکھائیں گے ، مگر اس عہد پر قائم نہ رہے ، جیسا کہ فرمایا :(وَلَقَدْ کَانُوْا عَاھَدُوا اللہ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَط وَکَانَ عَھْدُ اللہ ِ مَسْئُوْلا) (الاحزاب : 15)”حالانکہ بلا شبہ یقینا اس سے پہلے انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ کا عہد ، ہمیشہ پوچھا جانے والا ہے“۔
2۔”لم تقولون مالا تفعلون“ کے الفاظ میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ایسے کاموں کا دعویٰ کرتے ہیں جو انہوں نے نہ کیے ہیں نہ کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ہم نے جہاد کیا ، ہم نے دشمن کا منہ موڑ دیا ، ہم نے یہ کیا اور وہ کیا ، حالانکہ انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہوتا ، ان کی خواہش ان کارناموں پر اپنی تعریف کی ہوتی ہے جو انہوں نے نہیں کیے۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَـلَا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِج وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ)”ان لوگوں کو ہرگز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انہوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انہوں نے نہیں کیے ، پس تو انہیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہرگز خیال نہ کر اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے“۔
3۔ لم تقولون مالا تفعلون“ میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کسی سے کوئی بھی ایسا وعدہ کرتے ہیں جسے پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ عبد اللہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میری امی نے مجھے بلایا ، جب کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر تشریف رکھتے تھے ، کہنے لگی :”آؤ، میں تمہیں کچھ دو“۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :(وما اردت ان تعطیہ ؟) ”تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟“ اس نے کہا :”میں اسے کھجوریں دوں گی“۔ آپ ﷺ نے فرمایا :(اما انک لو لم تعطیہ شیئا کتبت علیک کذبۃ) (ابو داؤد الادب ، باب التشدید فی الکذب :(499، وقال الالبانی حسن)”یاد رکھو ! اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا“۔
4۔ بعض حضرات اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ آدمی جو عمل خود نہ کرتا ہو کسی دوسرے کو بھی اس کی دعوت نہ دے ، حالانکہ یہاں اس کام کے وعدے یا دعوے پر سر زنش ہے جو انسان نہ کرتاہو ، ایسے کام کی دعوت پر سرزش نہیں۔ فرائض پر عمل اور ان کی دعوت تو ہر ایک پر لازم ہے ، اگر ان کی دعوت دے مگر خود عمل نہ کرے تو اس پر واقعی گرفت ہے ، مگر وہ ترک عمل پر ہے دعوت پر نہیں۔ مزید دیکھئے سورة ٔ بقرہ کی آیت (44) (اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ“ کی تفسیر۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر خود عمل نہ کرو تو دوسروں کو کہنا چھوڑ دو ، بلکہ اپنی کوتاہی پر ندامت اور شرمندگی کے احساس کے ساتھ دعوت و تبلیغ جاری رکھنی چاہیے اور امید کرنی چاہیے کہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کوتاہی دور کرنے کی توفیق بھی عطاء فرمائے گا۔ علاوہ ازیں ہر مسلمان پر دین کی ہر بات آگے پہنچانا فرض ہے۔ فرائض کے بارے میں خود عمل اور دوسروں تک پہنچانا دو کام فرض ہیں ، جب کہ مستحباب و فضائل کو آگے پہنچانا فرض ہے ، خود عمل کرے تو اجر ہے ، نہ کرسکے تو مؤاخذہ نہیں ، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا :(بلغوا عنی ولو آیۃ) (بخاری ، احادیث الانبیاء ، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل : 3461، عن عبد اللہ بن عمرو ؓ ”مجھ سے آگے پہنچا دو ، خواہ ایک آیت ہو“۔ اور فرمایا :(فلیبلغ الشاھد الغائب قرب مبلغ او عی من سامع) (بخاری ، الحج ، باب الخطبۃ ایام منی : 1741، عن ابی بکرۃ ؓ)”تو جو موجود ہے وہ اس تک پہنچا دے جو موجود نہیں ، کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں پہنچایا جائے ، سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں“۔ امر بالمعروف اور نہ عن المنکر کی تاکید کے لئے دیکھئے سورة ٔ آل عمران (104، 110)۔
5۔ کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللہ ِ۔۔۔:”مت یمقت مقتا ‘ ‘(ن)”ابغضہ بغضا شدیدا“ ان آیات میں اس وعدے یا دعوے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی شدید ناراضی کا اظہار کئی طرح سے فرمایا ہے جس پر عمل نہ کیا جائے۔ سب سے پہلے ڈانٹ اور ملامت کے لیے استفہام انکاری کے ساتھ فرمایا کہ ایمان لانے کے باوجود تم وہ کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ، پھر اس کام کی شناعت کے اظہار کے لیے اس کی ضمیر لانے کے بجائے دوسری آیت میں انہی الفاظ کو دہرایا ہے ، چناچہ پہلے فرمایا :(لم تقولون مالا تفعلون) پھر فرمایا :(ان تقولو مالا تفعلون) پھر ناراضی کی شدت کے اظہار کے لیے ”مقتا“ کا لفظ استعمال فرمایا، جس کا معنی شدید بغض ہے اور اس کے ساتھ ”کبر“ فرمایا کہ یہ شدید بغض ”کبیر“ بھی ہے۔ پھر ”عند اللہ“ کا لفظ ہے کہ یہ شدید بغض کسی عام شخص کا نہیں بلکہ اس عمل سے تم اللہ جل جلالہ کی شدید ناراضی کا نشانہ بن رہے ہو۔
Ayah 61:41۔ اِنَّ اللہ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ۔۔۔۔۔:”مرصوص“”الرصاص“ سیسہ (سکہ)”رص یرص رصا“ (ن) ایک چیز کو دوسری کے ساتھ خوب جوڑ دینا ، چمٹا دینا۔ اس میں سیسے کے اجزا کے باہم متصل ہونے کی تشبیہ ملحوظ ہے۔ ”بنیان“”بنی یبنی بنائ“ (ض) سے مصدر یہ بمعنی اسم مفعول بنائی ہوئی عمارت۔”بنیان مرصوص“ ایسی عمارت جس کے اجزاء ایک دوسرے سے سیسے کی طرح ملے ہوئے ہوں۔
2۔ اس جگہ اس آیت کا آنا دلیل ہے کہ پہلی آیات کا تعلق قتال فی سبیل اللہ سے ہے۔
3۔ اس آیت سے قتال فی سبیل اللہ کرنے والوں کی فضیلت ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہیں۔ ابو سعیدخدری ؓ بیان کرتے ہیں :(قبل یا رسول اللہ ! ای الناس افضل ؟ فقال رسول اللہ ﷺ مومن بجاھد فی سبیل اللہ بنفسہ وما لہ ، قالوا ثم من ؟ قال مومن فی شعب من الشعاب یتقی اللہ و یدع الناس من شرہ) (بخاری ، الجھاد والسیر، باب افضل الناس مومن مجاھد بنفسہ۔۔۔۔: 2786)”لوگوں نے کہا ”یا رسول اللہ ﷺ ! لوگوں میں سے افضل (سب سے بہتر) کون ہے ؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”وہ مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ جہاد کرتا ہے“۔ انہوں نے کہا : ’ ’ پھر کون ؟“ فرمایا :”وہ مومن جو گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں ہے ، اللہ سے ڈرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے“۔
4۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی محبوبیت انہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جن میں یہ اوصاف موجود ہوں ، ایک یہ کہ وہ جان بچانے والے نہ ہوں بلکہ لڑنے والے اور جان و مال قربان کرنے والے ہوں۔ دوسرا یہ کہ وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی سر بلندی کے لیے لڑیں۔ تیسرا یہ کہ وہ صف باندھ کر نظم و تربیت کے ساتھ لڑیں ، اس میں اطاعت امیر بھی شامل ہے کہ جہاں ان کی ذمہ داری لگا دی جائے وہاں ڈٹے رہیں ، اس کے بغیر نہ صف بنتی ہے نہ قائم رہتی ہے۔ چوتھا یہ کہ وہ عقیدہ و مقصد میں ، ایک دوسرے سے محبت میں اور ایک دوسرے پر اعتماد میں پوری طرح یک جان ہوں ، جس طرح ”بنیان مرصوص“ میں کوئی رخنہ نہیں ہوتا ان میں بھی کسی قسم کا کوئی رخنہ نہ پایا جائے۔ پھر جس طرح ”بنیان مرصوص“ اپنی جگہ سے نہیں ہٹتی ان کے قدم بھی کسی صورت میدان سے اکھڑنے نہ پائیں ، جیسا کہ اصحاب رسول ﷺ میں یہ تمام اوصاف پائے جاتے تھے۔ دیکھئے سورة ٔ فتح کی آیت (29) (اشد اء علی الکفار رحماء بینھم) کی تفسیر۔
Ayah 61:51۔ وَاِذْ قَالَ مُوسٰی لِقَوْمِہٖ یٰـقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ۔۔۔۔۔: قتال فی سبیل اللہ کی فضیلت کے ذکر اور اس سے گریز پر ملامت کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کا اپنی قوم سے خطاب ذکر فرمایا ، جس میں انہوں نے ان کی اس اذیت رسانی کا شکوہ اور اس پر ملامت کی جو انہوں نے موسیٰ ؑ کے ساتھ روا رکھی کہ جب وہ انہیں اپنے لیے اللہ کا رسول جانتے اور مانتے تھے تو ان پر لازم تھا کہ وہ ان کی تکریم کرتے ، ان کی اطاعت کرتے اور ان کے ساتھ مل کر دشمنان اسلام سے جہاد کرتے ، مگر انہوں نے ان کے ساتھ عام رویے میں ، ان کے احکام کی تعمیل میں اور جہاد کے لیے نکلنے کے معاملے میں ، غرض ہر طرح سے انہیں تکلیف پہنچائی۔ یہاں جس ایذاء کی طرف خصوصاً اشارہ ہے اور جس کی وجہ سے انہیں موسیٰ ؑ سے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ”القوم الفسقین“ کا لقب ملا وہ ان کا جہاد کے لیے نکلنے سے صاف انکار ہے۔ مقصود مسلمانوں کو ان کا طریقہ اپنانے سے اجتناب کی تلقین ہے۔ تکریم و اطاعت کے معاملے میں ان کی ایذاء کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ احزاب (69) کی تفسیر اور جہاد کے لیے نکلنے سے ان کے صاف انکار کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ مائدہ (20 تا 26) کی تفسیر۔
2۔ فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللہ ُ قُلُوْبَہُمْ :”زاغوا“ ”زاغ یزیغ زیغا“ (ض (ٹیڑھا ہونا۔”ازاع“ اس سے باب افعال ہے ، ٹیڑھا کردیا۔ یعنی جب وہ اطاعت کے بجائے ہر کام میں ٹیڑھے چلے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی راہ پر ڈال دیا ، کیونکہ وہ ٹیڑھی راہ پر چلنے والوں کو زبردستی سیدھی راہ پر نہیں چلاتا ، کیونکہ اس سے آزمائش کا مقصد فوت ہوجاتا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(نولہ ماتولی) (النسائ : 115)”ہم اسے اسی طرح پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا“۔
3۔ وَ اللہ ُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ : جہاد سے انکار کی وجہ سے سورة ٔ مائدہ کی آیت (25) میں موسیٰ ؑ نے اور سورة ٔ مائدہ ہی کی آیت (26) میں اللہ تعالیٰ نے قوم موسیٰ کی ”القوم الفسقین“ کا خطاب دیا ہے۔
4۔ رسول اللہ ﷺ کو کفار کے علاوہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے منافقین سے بھی بہت اذیت پہنچی۔ زبانی اذیت کے علاوہ جہاد کے مواقع پر انہوں نے کئی دفعہ غداری کی ، جنگ احد کے موقع پر عبد اللہ ابھی تین سو (300) آدمیوں کو ، جو لشکر کا تقریباً تیسرا حصہ تھے ، عین میدان جنگ سے نکال کرلے گیا۔ جنگ خندق میں بھی انہوں نے کفار سے مل کر سازشوں میں اور مسلمانوں کی حوصلہ شکنی میں کوئی کمی نہیں کی۔ سورة ٔ آل عمران (154 تا 168) اور سورة ٔ احزاب (9 تا 20) میں اللہ تعالیٰ نے اس کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ زبانی اذیت کے لیے دیکھئے سورة ٔ توبہ (58، 61، 74) ، احزاب (57) اور منافقون (8)۔ اگرچہ آپ ﷺ کو نبوت کے اعلان ہی سے کفار کی طرف سے مسلسل اور بےپناہ تکلیفیں پہنچیں ، مگر اپنی جماعت میں شامل لوگوں کی طرف سے ایذا کا احساس زیادہ ہوتا ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں آپ ﷺ کو تسلی دلائی ہے کہ اگر کچھ منافق قسم کے لوگ آپ کو تکلیف دیتے ہیں اور جہاد میں جانے سے پس و پیش کرتے ہیں تو آپ غم نہ کریں ، آپ کے ساتھ تو پھر بھی جہاد کرنے والوں اور جان و مال قربان کرنے والوں کی عظیم جماعت موجود ہے ، موسیٰ ؑ کو تو اپنوں کی طرف سے اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی ، ان کی قوم نے جہاد کے لیے نکلنے ہی سے صاف انکار کردیا۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ چیزیں تقسیم تو ایک آدمی نے کہا :”یہ ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کے چہرے کا ارادہ نہیں کیا گیا“۔ میں نے نبی ﷺ کو یہ بات بتائی تو آپ ﷺ ناراض ہوئے حتیٰ کہ میں نے غصے کے آثار آپ ﷺ کے چہرۂ مبارک میں دیکھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :(یرحم اللہ موسیٰ لقد اوذی باکثر من ھذا فصبر) (بخاری ، الدعوات ، باب قول اللہ تبارک و تعالیٰ) (وصل علیھم)۔۔۔۔: 6336)”اللہ تعالیٰ موسیٰ ؑ پر رحم فرمائے ، انہیں اس سے زیادہ اذیت دی گئی مگر انہوں نے صبر کیا۔“ اللہ تعالیٰ نے یہاں موسیٰ ؑ کے ساتھ عیسیٰ ؑ کا بھی ذکر فرمایا، کیونکہ ان کے ساتھ بھی چند لوگوں کے سوا بنی اسرائیل نے ایسا ہی سلوک کیا۔
Ayah 61:61۔ وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ۔۔۔۔۔:”مصدقا لما بین یدی من التورۃ“ کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی درست ہیں ، ایک یہ کہ میں اپنے سے پہلے نازل شدہ کتاب تورات کی تردید نہیں بلکہ تصدیق کرنے والا ہوں۔ دیکھئے سورة ٔ مائدہ (46) کی تفسیر۔ دوسرا یہ کہ میرا وجود ان بشارتوں کو سچا ثابت کرنے والا ہے جو میرے متعلق تورات میں دی گئی ہیں ، میں ان کا مصداق ہوں ، لہٰذا تم پر لازم ہے کہ مجھ پر ایمان لاؤ۔
2۔ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ : اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ ؑ نے رسول اللہ ﷺ کے اسم مبارک ”احمد“ کی صراحت کے ساتھ آپ ﷺ کی آمد کی خوش خبری دی تھی۔ جبیر بن معطم ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے :(ان لی اسماء ، انا محمد وانا احمد وانا الما حی الذی یمحواللہ بی الکفر ، وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی ، وانا العاقب) (بخاری ، التفسیر ، باب قولہ تعالیٰ :(یاتی من بعدی احمد): 4896)”میرے کئی نام ہیں ، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ساتھ اللہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر (اکٹھا کرنے والا) ہوں کہ لوگ میرے پیچھے جمع کیے جائیں گے اور میں عاقب (سب نبیوں کے بعد آنے والا) ہوں“۔
”احمد“ (افعل) اسم تفصیل ہے جو اسم فاعل اور اسم مفعول دونوں کے معنی میں آتا ہے۔ اسم فاعل کے معنی میں ہو تو مطلب ہوگا۔”بہت زیاد ہ حمد کرنے والا“ اور حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد کرنے والے اور آپ کی امت کے لوگ ”احمددوں“ (بہت زیاد ہ حمد کرنے والے) ہیں۔ اگر اسم مفعول کے معنی میں ہو تو معنی ہے ”جس کی بہت تعریف کی گئی“۔ اس صورت میں یہ اسم مبارک ”محمد“ کا ہم معنی ہے۔ اسم تفصیل کے اسم مفعول کے معنی میں آنے کی مثال قرآن مکید میں ملتی ہے ، فرمایا :(اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِینَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہٰٓؤُلَآئِ اَھْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا) (النسائ : 51)”کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ، وہ بتوں اور باطل معبود پر ایمان لاتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ان سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں جو ایمان لائے ہیں“۔ اس آیت میں ”اھدی“ اسم فاعل کے معنی میں (زیادہ ہدایت دینے والے) نہیں بلکہ اس مفعول کے معنی میں ہے، یعنی ”زیادہ ہدایت دیے گئے“۔ اسی طرح سورة ٔ فاطر (42) میں بھی ”اھدی“ اسم مفعول کے معنی میں ہے۔
عیسیٰ ؑ کی اس بشارت میں دو چیزیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں ، ایک رسول اللہ ﷺ کی آمد کے زمانے کی تعیین کی وہ مسیح ؑ کے بعد آئے گا ، دوسرا اسم مبارک ”احمد“ کی صراحت ، تا کہ آپ کے متعلق کوئی ابہام یا پوشیدگی نہ رہے۔ جہاں تک نام کا تعلق ہے تو قرآن کے بیان کے مطابق یہ بات یقین ہے کہ انجیل میں یہ نام موجود تھا۔ اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر قرآن کا یہ بیان غلط ہوتا تو نزول قرآن کے زمانے کے نصرانی ضرور اس کی تردید کرتے۔ موجودہ انجیلوں میں اس نام کا مذکور نہ ہونا اس کی نفی کی دلیل نہیں بن سکتا ، کیونکہ اس وقت اصل انجیل دنیا میں موجود ہی نہیں۔ ہمارے سامنے جو انجیلیں عربی ، انگریزی یا اردو میں ہیں یہ سب ترجمہ در ترجمہ ہیں۔ ان ترجموں میں باہمی اختلاف اس قدر ہے جتنا خود ان انجیلوں میں ہے۔ یہ ترجمہ کرنے والے حضرات ہر لفظ کا ترجمہ کرتے جاتے ہیں خواہ وہ کسی کا نام ہو ، حالانکہ نام میں تبدیلی یا اس کا ترجمہ نہیں کیا جاتا۔ پھر جب کتمان حق اور تحریف کی عادت بھی ہو تو بات کہاں سے کہاں جا پہنچے گی۔ اس کے باوجود زمانے کی تعیین کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کے ساتھ انجیل میں یہ بشارت کئی جگہ موجود ہے جو آپ کے سوا کسی اور منطبق نہیں ہوتی۔ یہاں انجیل یوحنا سے چند حوالے نقل کیے جاتے ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ کی آمد کی بشارت دی گئی ہے۔ مسیح ؑ نے فرمایا :”اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مدد گار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے ، یعنی سچائی کا روح۔“ (یوحنا، باب 14، فقرہ : 16، 17) ”لیکن مدد گار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا“۔ (یوحنا ، باب 14، فقرہ : 26)”اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا ، کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں“۔ (یوحنا ، باب 14، فقرہ : 30) ”لیکن جب وہ مدد گار آئے گا جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا ، یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا“۔ (یوحنا ، باب 15 ، فقرہ : 26) ”مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں مگر تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا ، لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا“۔ (یوحنا ، باب 16 ، فقرہ : 12، 13)
یہ حوالے یوحنا کی انجیل سے نقل کیے گئے ہیں جو نصرانیوں کے تمام فرقوں کے ہاں مسلم ہے۔ انجیل برناباس میں آپ ﷺ کے نام ”محمد“ کی صراحت بار بار آئی ہے ، مگر موجودہ نصرانی جو پال کے پیروکار ہیں وہ چونکہ اسے نہیں مانتے ، اس لیے یوحنا کی انجیل کے حوالے نقل کیے گئے ہیں۔ ان میں رسو ل اللہ ﷺ کی بشارت ایسی صفات کے ساتھ دی گئی ہے جو آپ کے سوا کسی اور پر صادق ہی نہیں آتیں۔ مثلاً ”وہ تمہیں دوسرا مدد گار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے“۔ اور ”وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا“۔ اور ”دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں“۔ غوری کیجئے ! مسیح ؑ کے بعدرسول اللہ ﷺ کے سوا اور کون ہے جس پر یہ صفات صادق آتی ہوں۔
3۔ فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ : بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے مراد مسیح ؑ ہیں ، کیونکہ آیت کے شروع میں ان کے خطاب کا ذکر ہے ، مگر راجح بات یہ ہے کہ اس سے مراد نبی ﷺ ہیں ، یعنی پھر جب وہ ”احمد“ جس کی بشارت عیسیٰ ؑ نے دی تھی واضح نشانیاں لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے پہچاننے کے باوجود کھلا جادو کہہ کر جھٹلا دیا ، جیسا کہ فرمایا :(فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖ فَلَعْنَۃُ اللہ ِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ) (البقرہ : 89)”پھر جب ان کے پاس وہ چیز آگئی جسے انہوں نے پہچان لیا تو انہوں نے اس کے ساتھ کفر کیا ، پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہے“۔ ابن جریر طبریٰ نے یہی معنی کیا ہے اور ابن کثیر اور بہت سے مفسرین نے اسی معنی پر اکتفا کیا ہے ، اس کی تائید بعد کی آیت میں ”وھو ید عیٰ الی الاسلام“ کے الفاظ سے بھی ہوتی ہے ، کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت اسلام کی دعوت والے احمد ﷺ تھے نہ کہ مسیح ؑ۔
4۔ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ : یعنی آپ جو نشانیاں اور معجزات لے کر آئے ان کے متعلق انہوں نے کہہ دیا کہ یہ کھلا جادو ہے ، یا مبالغے کے لیے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جادوگر کے بجائے مجسم جادو کہہ دیا ، جیسے ”زید عادل“ کے بجائے ”زید عدل“ کہہ دیتے ہیں۔
Ayah 61:7وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہ ِ الْکَذِبَ وَھُوَ یُدْعٰٓی۔۔۔۔۔: یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اسلام میں داخل ہونے کی اور اللہ کا فرماں بردار بن جانے کی دعوت دی جا رہی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ دے۔ اللہ پر جھوٹ یہ ہے کہ اس کے بھیجے ہوئے رسول کو ، جس کی بشارت اس سے پہلے ان کے نبی عیسیٰ و موسیٰ (علیہما السلام) دے چکے تھے ، انہوں نے جادوگر اور اس کی لائی ہوئی بینات کو جادو کہہ دیا۔ دیدہ و دانستہ جھوٹ باندھنے والے ایسے ظالم لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ یہی مضمون سورة ٔ انعام (20، 21) میں بیان ہوا ہے۔
Ayahs 61:8–9یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللہ ِ بِاَفْوَاہِھِمْ وَ اللہ ُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ۔: ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ٔ توبہ (32، 33) کی تفسیر۔
Ayah 61:10یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ۔۔۔۔۔: یہی مضمون ایک اور انداز میں سورة ٔ توبہ (111) میں بیان ہوا ہے ، تفسیر ہاں ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں ایمان و جہاد عذاب الیم سے نجات کی بشارت سنائی ہے ، جب کہ سورة ٔ توبہ (38، 39) میں ترک جہادپر عذاب الیم کی وعید سنائی ہے۔
Ayah 61:11تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاھِدُوْنَ۔۔۔۔: یہ اس تجارت کی تفسیر ہے ، یعنی وہ تجارت یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔”تُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ“ فعل مضارع فعل امر کے معنی میں ہے ، اسے مضارع لانے سے امر کی تاکید مقصود ہے ، جیسا کہ کسی کام کی تاکید مقصود ہو تو یہ کہنے کے بجائے کہ یہ کام کرو ، کہا جاتا کہ تم یہ کام کرو گے۔
Ayah 61:12یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَ نْھٰرُ :”یعفر“ اور ’ ’ یدخل“ پر جزم ”تومنون“ اور ”تجاھدون“ کا جواب ہونے کی وجہ سے آئی ہے ، کیونکہ وہ امر کے معنی میں ہیں اور امر کے جواب میں مضارع آئے تو اس پر جزم آتی ہے۔
2۔ وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ :”مسکن طیبۃ“ کا خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ آدمی کی پسندیدہ ترین چیزوں میں اس کا مسکن بھی ہے جسے چھوڑے بغیر جہاد ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے پسندیدہ مساکن چھوڑنے کے عوض ”مسکن طیبۃ“ کی بشارت سنائی ، جن میں دوام کی خوبی بھی ہے ، جب کہ دنیا کے مساکین کسی کے پاس رہنے والے نہیں۔ سورة ٔ توبہ میں فرمایا :(قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللہ ُ بِاَمْرِہٖط وَ اللہ ُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ) (التوبۃ : 24)”کہہ دے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات ، جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کردو ، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا“۔
2۔ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ : خبر ”الفوز العظیم“ پر الف لام سے حصر کا مفہوم پیدا ہورہا ہے ، یعنی فوز عظیم صرف یہ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت کے سوا کوئی اور چھوٹی کامیابی بھی ہے ، بلکہ ”العظیم“ کا لفظ صرف اس کامیابی کی عظمت کے بیان کے لیے آیا ہے ، ورنہ کامیاب صرف وہ ہے جو آخرت میں کامیاب ہے ، کوئی دوسرا حقیقت میں کامیاب ہے ہی نہیں ، جیسا کہ فرمایا :(فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَط وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ) (آل عمران : 185)”پھر جو شخص آگ سے دور کردیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں“۔
Ayah 61:13وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا۔۔۔۔:”اخری“ محذوف موصوف ”نعمۃ“ کی صفت ہے جو مبتداء ہے ، خبر اس کی ”لکم“ محذوف ہے :”الی ولکم نعمۃ اخری“ یعنی اور تمہارے لیے مغفرت ذنوب اور دخول جنت کے علاوہ ایک اور نعمت ”نصر من اللہ فتح قریب“ بھی ہے جو تمہیں پسند ہے۔ آخرت کی نعمتوں کے ساتھ دنیوی نعمتوں کا ذکر کر کے جہاد کی ترغیب دلائی ہے ، دنیا میں فتح و کامرانی بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ، مگر یہ مومن کے لیے اصل مقصود نہیں۔ اس لیے پہلے حاصل ہونے کے باوجود اس کا ذکر بعد میں فرمایا اور آخرت میں حاصل ہونے والی نعمتوں کا ذکر پہلے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے ساتھ اپنی نصرت اور فتح قریب کا یہ وعدہ پورا فرمایا، چناچہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں مکہ فتح ہوگیا ، پھر پورا جزیرۂ عرب مشرکین سے پاک ہوگیا۔ اس کے بعد اتنی تھوڑی مدت میں اسلام کا جھنڈا پورا دنیا پر لہرانے لگا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ، چناچہ مسلمان قصر و کسریٰ کی سلطنتوں کے مالک بن گئے اور انہوں نے ایسے عمدہ طریقے سے کاروبار سلطنت چلایا جس کی خوبی دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں۔
Ayah 61:141۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللہ ِ۔۔۔۔:”الحواری“ ”حار یحور حورا“ (ن)”الثوب“ کپڑے کو دھونا اور خوب سفید کرنا۔ دھوبی کو اسی لیے حواری کہتے ہیں کہ وہ کپڑے کو دھو کر سفید کردیتا ہے۔ ”حواری“ صاف سفید میدے کو کہتے ہیں جس سے چھان نکال دیا گیا ہو۔ خالص دوست اور بےغرض مدد گار کو اسی لیے حواری کہتے ہیں کہ اس کا دل ہر قسم کے کھوٹ سے پاک صاف اور خیر خواہی اور محبت میں خالص ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان لکل نبی حواربا وان حواری الزبیر بن العوام) (بخاری ، فضائل الصحابۃ ، باب مناقب الزبیر بن العوام ؓ : 3719)
”ہر نبی کا کوئی حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر بن عوام ؓ ہے“۔
2۔ کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللہ :”الی اللہ“ کی ترکیب دو طرح سے ہے ، ایک یہ کہ ”من انصاری فی الدعو الی اللہ“ اللہ کی طرف دعوت میں میرے مدد گار کون ہیں ؟“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللہ ِ) (یوسف : 108)”کہہ دے یہی میرا راستہ ہے ، میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔“ اور دوسری ترکیب یہ ہے :”من انصاری ذاھباً الی اللہ“ ”اللہ کی طرف جاتے ہوئے میرے مدد گار کون ہیں ؟“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کے متعلق فرمایا :(وَقَالَ اِنِّیْ ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ) (الصافات : 99)”اور اس نے کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں ، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا“۔ مزید دیکھئے سورة ٔ آل عمران (52) کی تفسیر۔
3۔ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ ِ۔۔۔۔: جہاد فی سبیل اللہ کے دوران کئی مرحلے آتے ہیں جن میں سب سے آخری مرحلہ اللہ کے دشمنوں سے قتال اور جنگ کا ہوتا ہے ، جس کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان سورت کے شروع سے آرہا ہے۔ اس سے بھی مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب حق کی طرف دعوت دینے والا اکیلا ہوتا ہے یا اس کے ساتھ چند آدمی ہوتے ہیں۔ دوسرے تمام لوگ اس کے دشمن ہوتے ہیں جو گالی گلوچ ، استہزاء ، مار پیٹ ، غرض ہر طرح کی تکلیف دے کر اس دعوت حق سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، حتیٰ کہ بعض اوقات اس کے ساتھیوں کو یا ان کے ساتھ اسے بھی قتل کردیا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں حق کی طرف دعوت دینے والے کے ساتھ کھڑا ہونا ، اپنی جان و مال کی پروانہ کرتے ہوئے تمام تکلیفیں برداشت کرنا اور حق پر ثابت قدم رہنا بڑے عزم و ہمت والے لوگوں کا کام ہے ، جیسا کہ فرمایا :(لَتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْقف وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًاط وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ) (آل عمران : 186) ’ ’ یقینا تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور یقینا تم ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ، ضرور بہت سی ایذاء سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور متقی بنو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں سے ہے“۔ پھر یہ سب کچھ سہتے ہوئے کئی لوگ قید کردیئے جاتے ہیں ، کئی معذور ہوجاتے ہیں ، کئی شہید ہوجاتے ہیں اور آخر میں وہ مرحلہ آتا ہے جب اللہ کے دشمنوں سے جنگ ہوتی ہے اور اس وقت جو لوگ دشمنوں کے مقابلے میں قلیل اور ضعیف ہونے کے باوجود میدان میں ڈٹ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی خاص مدد فرماتا ہے اور انہیں فتح و نصرت سے ہم کنار کر کے دشمن پر غلبہ عطاء فرما دیتا ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کے سامنے عیسیٰ ؑ کے مخلص ساتھیوں کا نمونہ پیش کر کے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ بھی ان کی طرح رسول اللہ ﷺ کی دعوت (من انصاری الی اللہ) پر لبیک کہیں اور ہر تکلیف پر صبر کرتے ہوئے جان و مال کی قربانی کے ذریعے سے ان کا ساتھ دیں۔
یہ بات معلوم ہے کہ عیسیٰ ؑ کو دشمنوں سے قتال کا مرحلہ پیش نہیں آیا ، اس وقت کے یہود نے انہیں پہچان لینے کے باوجود اتنا ستایا اور تنگ کیا کہ ان کے لیے دعوت دینا بھی مشکل ہوگیا۔ اس وقت انہوں نے یہ کہا کہ اللہ کی طرف دعوت دینے میں اور اس کے راستے پر چلنے میں میرے مدد گار کون ہیں ؟ حواریوں نے کہا ، ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔ اس وقت بنی اسرائیل کے دو گروہ ہوگئے ، ایک وہ جو ان پر ایمان لے آئے اور ان کے فرمان ”من انصاری الی اللہ“ پر ”نحن انصار اللہ“ کہہ کر لبیک کہا ، پھر جان و مال کے ساتھ ہر طرح سے ان کی مدد کی اور اس راستے میں دشمنوں کی طرف سے دی جانے والی تکلیفوں پر صبر کیا۔ دوسرے وہ جنہوں نے انہیں رسول ماننے سے انکار کردیا ، انہیں جھوٹا کہا اور ان کی ماں پر تہمتیں لگائیں ، حکومت وقت سے مل کر انہیں گرفتار کروایا اور اپنے گمان کے مطابق انہیں سولی پر چڑھا کر دم لیا ، اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گمان کی تردید فرمائی ہے۔ دیکھئے سورة ٔ آل عمران (52 تا 55) اور سورة ٔ نسائ (57، 58)
ہمارے نبی کریم ﷺ کو بھی سب سے پہلے یہی مرحلہ پیش آیا ، چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور آپ نے اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو کفار مکہ کی طرف سے شدید مزاحمت کی گئی اور آپ کو اور آپ کے ساتھ مسلمان ہونے والے مردوں اور عورتوں کو سخت تکلیفیں دی گئیں ، جس کی وجہ سے بہت تھوڑے لوگ ایمان لانے کی جرأت کرسکے ، پھر کئی حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے اور کئی مکہ میں ظلم و ستم سہتے رہے۔ آزمائشوں اور تکلیفوں کا یہ سلسلہ کئی سال جاری رہا ، حتیٰ کہ کفار قریش نے آپ کو دعوت سے مطلق روک دیا۔ آپ ہر سال حج کے لیے آنے والے قبائل کے پاس جا کر ایک ایک قبیلہ کو کہتے کہ کون ہے جو مجھے اپنے ساتھ لے جا کر اللہ کا پیغام پہنچانے میں میری مدد کرے۔ کئی سال کے بعد وہ موقع آیا کہ اللہ تعالیٰ نہ مدینہ کے کچھ لوگوں کو آپ کی دعوت پر انصا ر اللہ بننے کی توفیق عطاء فرمائی۔ جابر بن عبد اللہ اللہ عنہما فرماتے ہیں :(کان النبی ﷺ بعرض نفسہ علی الناس باموقف فیقول ھل من رجل یحملنی الی قومہ ، فان قریش قد منعونی ان ابلغ کلام ربی عزوجل ، فاتاہ رجل من ھمدان فقال ممن انت ؟ فقال الرجل من ھمدان ، قال فھل عند قومک من منعۃ ؟ قال نعم ، ثم ان الرجل خشی ان یخفرہٗ قومہ ٗ ، فاتی رسو ل اللہ ﷺ فقال آتیھم ، فا خبر ھم ، ثم آتیک من عام قابل ، قال نعم ، فانطلق و جاء وقد الانصار فی رجب) (مسند احمد : 3، 390، ح : 15192، قال المحقق ، اسنادہ صحیح علی شرط البخاری)
”نبی ﷺ اپنے آپ کو حج کے موقع پر موقف میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور کہتے تھے :”کیا کوئی آدمی ہے جو مجھے اپنے ساتھ اپنی قوم کے پاس لے جائے ؟ کیونکہ قریش نے مجھے رب کا کلام پہنچانے سے منع کردیا ہے۔“ تو ہمدان کا ایک آدمی آپ کے پاس آیا ، آپ نے فرمایا :”تم کن لوگوں سے ہو ؟“ اس آدمی نے کہا :”ہمدان سے“۔ آپ نے فرمایا :”تو کیا تیری قوم کے پاس کچھ حفاظت اور دفاع مل سکتا ہے ؟“ اس نے کہا :”ہاں !“ پھر وہ آدمی ڈر گیا کہ کہیں اس کی قوم اس کا کیا ہوا ، عہد پورا نہ کرے ، چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا :”میں ان کے پاس جاؤں گا اور انہیں بتاؤں گا ، پھر آئندہ سال آپ کے پاس آؤں گا“۔ آپ نے فرمایا :”ٹھیک ہے“۔ چناچہ وہ چلا گیا اور انصار کا وفد رجب میں آگیا“۔
4۔ فَاَیَّدْنَاج الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّھِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰھِرِیْنَ : یعنی عیسیٰ ؑ کی دعوت پر بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے انہیں رسول ماننے سے انکار کردیا۔ انکار کرنے والے یہودی تھی اور ایمان لانے والے نصرانی۔ ایمان لانے والے قلیل تھے اور کفر کرنے والے بہت زیادہ تھے۔ ان یہودیوں نے مسیح ؑ کو اللہ کا پیغام پہنچانے سے روکنے کی ہر کوشش کی اور مسیح ؑ اور ان کے ساتھیوں پر بد ترین مظالم کیے ، مگر نہ عیسیٰ ؑ نے اللہ کی طرف دعوت کو ترک کیا اور نہ ہی ان کے ساتھیوں نے ان کا ساتھ دینے سے کوئی کوتاہی کی ، حتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کو اپنی طرف اٹھا لیا ت اس وقت بھی ایمان والوں کی استقامت میں کمی نہیں آئی ، وہ بدستور ڈٹے رہے اور اسلام کی طرف دعوت دیتے رہے ، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کفار کے ساتھ قتال کی توفیق عطاء فرمائی۔ پھر جب وہ قلت تعداد کے باوجود میدان میں ڈٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں قوت بخشی اور ان کی مد د فرمائی ، تو وہ اپنے دشمن پر غالب آگئے اور ان کے دشمن یہودی مغلوب ہوگئے جو آج تک مغلوب چلے آرہے ہیں۔ پھر جب عیسیٰ ؑ کے نام لیوا شر ک میں مبتلا ہوگئے اور انہیں رب تعالیٰ یا رب کا بیٹا کہنے لگے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے امت ِ مسلمہ کو ، جو عیسیٰ ؑ پر صحیح ایمان لانے والی تھی ، ان پر غالب کردیا۔
5۔ ہمارے نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھ بھی کفار کے ظلم و ستم سہتے رہے اور سہ رہے تھے ، اس میں ان کے لیے بشارت ہے کہ اگر تم عیسیٰ ؑ کے حواریوں کی طرح اللہ تعالیٰ کے انصار ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں بھی تمہارے دشمنوں پر غالب کرے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کفار پر غلبہ عطاء فرما دیا ، اس فرق کے ساتھ کہ مسیح ؑ اپنے ساتھیوں کا غلبہ دینے سے پہلے اٹھا لیے گئے ، جب کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وہ نظارہ آنکھوں سے دکھادیا جس کا ذکر سورة ٔ نصر میں ہے، فرمایا :(اِذَآ جَآئَ نَصْرُ اللہ ِ وَالْفَتْحُ وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللہ ِ اَفْوَاجًا) (النصر : 1، 2)”جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔ اور لوگوں کو دیکھے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔“ ہاں ، عیسیٰ ؑ جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ بنفس نفیس اس فتح اور غلبے میں شریک ہوں گے جو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھی مسلمانوں کو ان کے دشمنوں اور دجال پر عطاء فرمائے گا۔