62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 62:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

اللہ کا پاک ہونا بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، (جو) بادشاہ ہے، بہت پاک ہے، سب پر غالب ہے، کمال حکمت والا ہے۔

یُسَبِّحُ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ۔۔۔۔: اس آیت کے معانی سورة ٔ حدید (1) اور سورة ٔ حشر (1، 24) میں گزر چکے ہیں۔ اس سے پہلے تمام رسولوں کی ابتداء میں ”سبح“ ماضی کے صیغے کے ساتھ آیا ہے ، یہاں مضارع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جو حال اور استقبال کے لیے ہے ، جس میں تجدد اور استمرار پایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز ہر عیب اور کمی سے اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ پاک ہونے کی شہادت دے رہی ہے اور ہمیشہ دیتی رہے گی۔ 2۔ اس آیت میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا آئندہ آیت کے ساتھ تعلق اسی کی تفسیر میں آرہا ہے۔
Ayah 62:2

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔

1۔ ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ : اس آیت کی دلیل بنا کر بعض اہل کتاب کہتے ہیں کہ محمد ﷺ صرف عربوں کے لیے رسول تھے ، کیونکہ ”الامین“ عرب قوم کو کہتے ہیں ، لہٰذا آپ غیر عرب لوگوں اور یہود و نصاریٰ کے لیے رسول نہیں تھے۔ لیکن ان کی یہ بات درست نہیں ، کیونکہ قرآن مجید میں ”الامین“ کا لفظ ایک معنی میں نہیں بلکہ مختلف مواقع پر مختلف معانی کے لیے آیا ہے۔ کہیں وہ اہل کتاب کے مقابلے میں ان لوگوں کے لیے استعمال کیا گیا جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں ہے ، جیسا کہ فرمایا :(وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْاُمِّیّٖنَ ئَ اَسْلَمْتُمْ) (آل عمران : 20)”اور ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے اور امیوں (ان پڑھ لوگوں) سے کہہ د ے کیا تم تابع ہوگئے ؟“ یہاں امیوں سے مراد مشرکین عرب ہیں ، انہیں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) سے الگ گروہ قرار دیا گیا ہے۔ کہیں یہ لفظ خود اہل کتاب کے ان پڑھ لوگوں کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسے فرمایا :(وَمِنْہُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْکِتٰبَ الِآَّ اَمََانِیَّ)”اور ان میں سے کچھ امی (ان پڑھ) ہیں ، جو کتاب کا علم نہیں رکھتے سوائے چند آرزوؤں کے“۔ اور کسی جگہ پر لفظ خالص یہودی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے ، جس کے مطابق اس سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو یہودی نہیں ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ) (آل عمران : 75)”یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا ہم پر ان پڑھوں کے بارے میں (گرفت کا) کوئی راستہ نہیں۔“ یعنی ان کے اندر غیر یہود کا مال مار کھانے کی بددیانتی پیدا ہونے کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ امیوں کے بارے میں ہم پر گرفت کوئی راستہ نہیں۔ یہود کی اس اصطلاح کا پس منظر یہ ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کے متعلق تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہ تھے کہ ان میں کوئی نبی مبعوث ہوسکتا ہے ، یا انہیں آسمانی کتاب مل سکتی ہے۔ (دیکھئے آل عمران : 73) وہ اپنے سوا تمام اقوام کو نا شائستہ ، بد مذہب اور حقیر و ذلیل سمجھتے تھے۔ زیر تفسیر آیات میں ”الامین“ سے مراد صرف عرب نہیں ، یہودی اصطلاح کے مطابق وہ سب لوگ ہیں جو یہودی نہیں ، کیونکہ یہاں ”الامین“ کے تحت دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہے ، یعنی ”ھو الذی بعث فی الامین رسولا منھم“ میں عرب ”امیین“ کا ذکر ہے ، جنہیں یہ شرف حاصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نسبا ً ان میں سے تھے اور اس سے اگلی آیت میں غیر عرب امیین کا ذکر ہے جو بعد میں اسلام لانے والے تھے ، اس میں فرمایا :(وآخرین منھم لما یلحقوا بھم وھو العزیز الحیکم)”اور ان (امیین) میں سے کچھ اور لوگوں میں بھی (اس رسول کو بھیجا) جو ابھی تک ان سے نہیں ملے اور وہی سب پر غالب ، کمال حکمت والا ہے“۔ اس کی دلیل کہ ان امیین سے مراد غیر عرب ہیں ، ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے ، وہ فرماتے ہیں :(کنا جلو سا عند النبی ﷺ فانزلت علیہ سورة الجمعۃ :(واخرین منھم لمایلحقوا بھم) قال قلت من ھم یا رسول اللہ ؟ فلم یراجعہ حتی سال ثلاثا ، و فینا سلمان الفارسی ، وضع رسول اللہ ﷺ یدہ علی سلمان ثم قال لو کان الایمان عند الثریا لنالہ رجال اور جل من ھولا) بخاری ، التفسیر ، سورة الجمعۃ : 4897)”ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے تو آپ پر سورة ٔ جمعہ نازل ہوئی :(وآخرین منھم لما یلحقوا ابھم) میں نے پوچھا : ’ یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں ؟“ آپ نے جواب نہ دیا ، یہاں تک کہ میں نے تین مرتبہ سوال کیا۔ ہم میں سلمان فارسی ؓ بھی موجود تھے ، رسول اللہ ﷺ نے اپناہاتھ سلمان پر رکھا ، پھر فرمایا :”اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوتا تو ان لوگوں میں سے کچھ آدمی یا (فرمایا) ایک آدمی اسے ضرورحاصل کرلیتا“۔ دراصل اس سورت میں یہود پر چوٹ ہے کہ وہ لوگ جنہیں تم امی کہتے ہو اور اپنے مقابلے میں ذلیل اور حقیر سمجھتے ہو انہی میں اس اللہ نے ایک رسول مبعوث کیا ہے جو ”الملک القدوس“ اور ”العزیز الحکیم“ ہے اور یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے وہ چاہتا ہے عطاء کردیتا ہے۔ تم پر یہ بتاؤ کہ تمہیں اس کا ٹھیکیدار کس نے اور کب بنایا ہے کہ جسے تم چاہو اسی کو یہ فضل عطاء ہو ، دوسرے کو عطاء نہ ہو ؟۔ رہی یہ بات کہ اگر مان بھی لیں کہ رسول اللہ ﷺ کو عرب و عجم کے امیین کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ، تو اس سے آپ کا یہود و نصاریٰ کی طرف مبعوث ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آیت کے الفاظ سے یہ ظاہر ہے کہ آپ یہود کے سواسب لوگوں کی طرف رسول ہیں ، مگر اس میں یہ صراحت نہیں کہ آپ یہود و نصاریٰ کی طرف رسول نہیں۔ یہ مطلب اس آیت کا مفہوم مخالف ہے جو حجت نہیں ہوتا ، مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وَمَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِہٖ مِنْ کِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ) (العنکبوت : 48)”اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا۔“ اب اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ آپ ﷺ دائیں ہاتھ سے نہیں لکھتے بلکہ بائیں ہاتھ سے لکھتے تھے تو یہ غلط ہے۔ خصوصاً یہاں تو مفہوم مخالف مراد لیا ہی نہیں جاسکتا ، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے متعدد مقامات پر اس بات کی صراحت فرما دی ہے کہ آپ کو تمام لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّـلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْراً وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ) (سبا : 28) ”اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے اس حال میں کہ خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے“۔ اور فرمایا :(قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہ ِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا) (الاعراف : 158)”کہہ دے اے لوگو ! بیشک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں“۔ ان دونوں آیات کی تفسیر میں مزید دلائل ملاحظہ فرمائیں۔ 2۔ سورت کی پہلی آیت ”یُسَبِّحُ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ“ میں مذکور اللہ تعالیٰ کی صفات کی اس آیت میں مذکور رسول اللہ ﷺ کی صفات کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اس اللہ کی تسبیح کر رہی ہے اور اس کے ہر عیب اور کمی سے پاک ہونے کی شہادت دے رہی ہے جو ”الملک“ (بادشاہ) ہے۔ (دیکھئے حشر : 23) اپنی سلطنت کا انتظار کرنے والا، اس میں اپنے احکام بھیجنے والا ہے اور اپنے احکام پہنچانے کے لیے جسے چاہتا ہے منتخب فرماتا ہے۔ اس نے اپنے شہنشاہی اختیار کے تحت ان لوگوں میں سے رسول بھیجنے کے بجائے جو اپنے آپ کو اہل کتاب ، پڑھے لکھے اور مہذب سمجھتے تھے اور دوسروں کو حقیر جانتے تھے ، امی لوگوں میں ایک رسول انہی میں سے بھیج دیا۔”یتلوا علیھم ایتہ“ جو اس کے احکام پر مشتمل آیات انہیں مسلسل پڑھ کر سناتا ہے۔”القدوس“ وہ بادشاہ قدوس ہے۔ (دیکھیے حشر : 23) اس نے ان میں ایسا رسول بھیجاجو انہیں ہر قسم کے کفر و شرک اور تمام قباحتوں اور آلودگیوں سے پاک کرتا ہے۔”العزیز“ (سب پر غالب) ہے ، اس کا رسول انہیں اس کی کتاب کی تعلیم دیتا ہے جو اس کے کامل غلبے کی دلیل اور ترجمان ہے۔ ”الحکیم“ (کمال حکمت والا) ہے ، اس کا رسول انہیں اس کی عطاء کردہ حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ 3۔ قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کی یہ صفات چار مقامات پر آئی ہیں ، سورة ٔ بقرہ کی آیت (129) میں اہل عرب کو اپنا احسان یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ ان صفات والا پیغمبر وہ ہے جس کے لیے ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے کہ وہ اسے ان کی اولاد میں مبعوث فرمائے ، سو تمہیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ سورة ٔ بقرہ ہی کی آیت (151) میں فرمایا کہ ان اوصاف والا پیغمبر عطاء کرنے پر میری نعمت کو پہچانو ، مجھے یاد رکھو، میرا شکر ادا کرو اور میری نا شکری مت کرو۔ سورة ٔ آل عمران (164) میں یہ احسان یاد دلاتا کہ اتنی اعلیٰ صفات کا رسول اس نے خود ان میں مبعوث فرمایا ، جس پر وہ سب احوال گزرتے ہیں جو بطور انسان ان سب پر گزرتے ہیں۔ احد اور دوسرے مقامات پر دوسروں کی طرف اسے بھی زخم کھانا پڑتے ہیں ، سو وہ ان کے لیے ایک کامل نمونہ ہے۔ چوتھا مقام یہ آیت ہے جس میں یہود کے زعم کو باطل کرنا مقصود ہے ، اس لیے بعد میں ”مثل الذین حملوا لثورۃ“ سے ان کی نالائقیوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ 4۔ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت تمام انسانوں کے لیے ہے ، مگر آپ ﷺ کو عرب امیین میں پیدا کرنے اور انہیں اسلام کی دعوت کے اولین مخاطب بنانے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ کار فرما تھی۔ تفسیر قاسمی میں یہ بات نہایت خوبصورت اور جامع الفاظ میں بیان کی گئی ہے ، وہ لکھتے ہیں :”وانما اوثرت بعثہ صلوات اللہ علیہ فی الامین لانھم احد الناس اذھانا ، واقواھم جنانا ، واصفاھم فطرۃ وافصحھم بیانا ، لم تفسد فطرتھم بغواشی المتحضربن ولا بافانین تلاعب اولیک المتمدنین ، ولذا انقلبوا الی الناس بعد الاسلام بعلم عظیم و حکمۃ باھۃ و ساصۃ عادلۃ ، فادوا بھا معظم الامم ودو خوا بھا اعظم الممالک“”امی لوگوں میں آپ ﷺ کی بعثت کو اس لیے ترجیح دی گئی کہ وہ ذہن کے لحاظ سے سب لوگوں سے تیز ، دل کے لحاظ سے سب سے قوی ، فطرت کے لحاظ سے سب سے صاف اور بیان میں سب سے زیادہ فصیح تھے۔ ان کی فطرت شہری لوگوں کی آلودگیوں سے بگڑی نہیں تھی اور نہ ہی ان نام نہاد تمدن و تہذیب والوں کے مختلف کھیل تماشوں سے فاسد ہوتی تھی۔ اسی لیے اسلام لانے کے بعد وہ لوگوں کے پاس ایسا عظیم علم ، حیران کن حکمت و دانائی اور عدل پر مبنی سیاست لے کر آئے جس کے ساتھ انہوں نے دن یا کی بڑی بڑی اقوام کی قیادت کی اور عظیم ترین ممالک کو اپنا زیر فرمان بنا کر چھوڑا“۔ 5۔ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ :”ان“ اصل میں ”انھم“ ہے ، تخفیف کے لیے ”ان“ کو ”ان“ کردیا اور اس کے اسم ”ھم“ ضمیر کو حذف کردیا اور اس بات کی دلیل کہ یہ ”ان“ نافیہ یا شرطیہ نہیں وہ ”لام“ ہے جو ”لفی ضلل“ پر آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے امی لوگ کس طرح کی کھلی گمراہی میں تھے اس کا حال رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد جعفر بن ابی طالب ؓ نے نجاشی کے دربار میں بیان کیا ، جب اس بادشاہ نے کفار قریش کے وفد کی شکایت پر انہیں ساتھیوں سمیت بلا کر حقیقت حال دریافت کی۔ انہوں نے فرمایا :(ایھا الملک ! کنا قوما اھل جاھیلۃ نعبد الاصنام ، وناکل المیتۃ و ناتی الفواحش ، و نقطع الارحام ، ونسیء الجوار ، یا کل القوی منا الضعیف ، فکنا علی ذلک حتیٰ بعث اللہ الینا رسولاً منا نعرف نسبہ، و صدقہ ، و امانتہ ، و عفافہ ، فدعانا الی اللہ لنوحدہ ، و نعبدہٗ و نخلع ما کنا نعبدنحن وآباؤ نا من دونہ من الحجارۃ والاوثان) (مسند احمد : 1، 202، ح : 1740، قال المحقق اسنادہ حسن)”اے بادشاہ ! ہم جاہلیت والے لوگ تھے ، بتوں کی عبادت کرتے تھے ، مردار کھاتے تھے ، فواحش کا ارتکاب کرتے تھے ، قطع رحمی کرتے تھے ، پڑوسیوں سے بدسلوکی کرتے تھے اور ہم میں سے قوت والا کمزور کو کھا جاتا تھا۔ ہم اسی حال میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک رسول بھیجا جس کے نسب ، صدق ، امانت اور پاک دامنی کو ہم جانتے تے۔ اس نے ہمیں اللہ کی طرف دعوت دی کہ ہم اسے ایک مانیں ، اس کی عبادت کریں اور ان پتھروں اور تھانوں سے یکسر علیحدگی اختیار کریں جن کی عبادت اللہ کو چھوڑ کر ہمارے آباء و اجداد کرتے تھے (اس کے بعد جعفر ؓ نے انہیں اسلام کے احکام بیان فرمائے)“۔
Ayah 62:3

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ اور لوگوں میں بھی (آپ کو بھیجا) جو ابھی تک ان سے نہیں ملے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ۔۔۔:”اخرین“ کا عطف ”فی الامین“ پر ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کو عرب امیوں میں بھیجا جن کی وہ نسل میں سے ہے اور اسے غیر عرب امیوں میں بھی بھیجا جو ابھی مسلمان ہو کر عربوں کے ساتھ ملے ، مگر آئندہ مسلمان ہو کر ان کے ساتھ ملنے والے ہیں۔ تفصیل کے لیے اسی سورت کی آیت (2) کی تفسیر کا پہلا فائدہ ملاحظہ فرمائیں۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”یعنی یہی رسول دوسرے ان پڑھوں کے واسطے بھی ہے ، وہ فارس کے لوگ (ہیں) وہ بھی نبی کی کتاب نہ رکھتے تھے۔ حق تعالیٰ نے اول عرب پیدا کیے اس دین کو تھامنے والے ، پیچھے عجم میں ایسے کامل لوگ اٹھے“۔ (موضح)
Ayah 62:4

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے اس کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔

ذٰلِکَ فَضْلُ اللہ ِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ۔۔۔۔۔: یعنی امیوں میں نبی معبوث کرنا اور اسے بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لیے رسول بنانا اللہ کا فضل ہے ، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، وہ یہود یا کسی اور کی خواہش کا پابند نہیں کہ اسی کو اپنے فضل سے نوازے جسے وہ چاہیں اور نہ ہی یہ کسی کی محنت و کوشش پر موقوف ہے کہ کوئی ریاضت اور محنت کے ساتھ نبوت کا منصب حاصل کرلے ، بلکہ یہ سراسر اللہ کے انتخاب اور اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(اَﷲُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ) (الحج : 75)”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی“۔ اور فرمایا :(اَﷲُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسٰلَتَہٗ) (الانعام : 124)”اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے“۔ اور فرمایا :(وَ اللہ ُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُط وَ اللہ ُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ) (البقرہ : 105) ”اور اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے خاص کرلیتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے“۔
Ayah 62:5

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

ان لوگوں کی مثال جن پر تورات کا بوجھ رکھا گیا، پھر انھوں نے اسے نہیں اٹھایا، گدھے کی مثال کی سی ہے جو کئی کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، ان لوگوں کی مثال بری ہے جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلادیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

1۔ مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرٰۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا۔۔۔۔۔:”اسفارا“”سفر“ کی جمع ہے ، بڑی کتاب۔ ”سفر یسفر“ (ن) ”الکتاب“ لکھنا۔ ”السافر ای الکاتب“ جمع اس کی ”سفرۃ“ ہے ، جیسا کہ فرمایا :(بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ کِرَامٍم بَرَرَۃٍ) (عبس : 15، 16)”ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ جو معزز ہیں ، نیک ہیں“۔ 2۔ بعض اہل علم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے تین باتوں میں یہود کا رد فرمایا، انہوں نے فخر کیا کہ وہ اہل کتاب ہیں جب کہ عرب امی ہیں ، تو اس کی تردید کرتے ہوئے انہیں اس گدھے کے ساتھ تشبیہ دی جو بڑی بڑی کتابیں اٹھائے ہوئے ہو۔ انہوں نے فخر کیا کہ وہ اللہ کے دوست اور محبوب ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(فتمنوا الموت) (الجمعۃ : 6)”(اگر ایسا ہے) تو موت کی تمنا کرو“۔ تیسرا یہ کہ ان کے ہاں ”سبت“ (ہفتے کا دن) ہے جو مسلمانوں کے پاس نہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یوم جمعہ کی صورت میں مسلمانوں پر اتنے احسان کا ذکر فرمایا ، جس سے یہود اپنی نادانی کی وجہ سے محروم رہ گئے۔ (الکشاف) 3۔ تورات کا بوجھ رکھا جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر عمل کی ذمہ داری ڈالی گئی ، جیسا کہ فرمایا :(اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا وَحَمَلَھَا الْاِنْسَان) (الاحزاب : 72)”بیشک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔“ ”ثم لم یحملوھا“ پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ، یعنی جس طرح گدھے پر کتابیں لدی ہوں اور وہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا ہے ، اسی طرح وہ لوگ ہیں جن پر تورات کا بوجھ ڈالا گیا کہ اس پر عمل کریں ، مگر انہوں نے پرواہی نہیں کی کہ اس میں کیا ہے اور وہ ان سے کیا چاہتی ہے۔ 4۔ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللہ ِ : اللہ کی آیات کو جھٹلانے سے مراد ان بشارتوں کو جھٹلانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تورات میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق نازل فرمائیں۔ (دیکھئے اعراف : 157)”بئس“ فعل ذم ہے، ”مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللہ ِ“ اس کا فاعل ہے اور اس کا مخصوص بالذم محدوف ہے ، یعنی ”ھذا المثل“ یعنی ان لوگوں کی یہ مثال جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا بری مثال ہے ، جس کا مصداق ایمان والوں کو نہیں بننا چاہیے۔ جیسا کہ کسی مسلمان کو کتے کی مثال کا مصداق بھی نہیں بننا چاہیے کہ اس پر کتے کی مثال صادق آئے۔ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لیس لنا مثل السوئ، الذی یعود فی ھبتہ کالکلب یرجع فی قیثہ) (بخاری ، الھبۃ و فضلھا ، باب لا یحل لا حد ان یرجع فی ھبتہ و صدقتہ : 2622)”یہ بڑی مثال ہمارے لیے نہیں ہے ، وہ شخص جو اپنے ہبہ میں لوٹتا ہے اس کتے کی مانند ہے جو اپنی قے میں لوٹتا ہے“۔ 5۔ استاد محمد عبدہ ؒ تعالیٰ لکھتے ہیں :”کیا وجہ ہے کہ ان علماء کا حال اس سے مختلف ہو جو قرآن و حدیث کا علم رکھتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے ، یا یہودیوں کی طرح ان کی من مانی تاویلیں کرتے ہیں۔“ شاہ عبد القادر ؒ تعالیٰ لکھتے ہیں :”یہود کے عالم ایسے تھے کتاب پڑھی اور دل میں کچھ اثر نہ ہوا ، اللہ ہم کو پناہ دے“۔ (موضح) 6۔ وَ اللہ ُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ : یعنی جاننے کے باوجود نہ ماننا صریح ظلم ہے اور ایسے ظالموں کو اللہ بھی راہ راست پر چلنے کی توفیق نہیں دیتا، کیونکہ نہ چاہنے والوں کو زبردستی راہ راست پر چلانا اس کا دستور نہیں۔
Ayahs 62:6–8

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

کہہ دے اے لوگو جو یہودی بن گئے ہو ! اگر تم نے گمان کر رکھا ہے کہ بیشک تم ہی اللہ کے دوست ہو (دوسرے) لوگوں کے سوا تو موت کی تمنا کرو، اگر تم سچے ہو۔

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور وہ کبھی اس کی تمنا نہیں کریں گے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

کہہ دے بلاشبہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو، سو یقینا وہ تم سے ملنے والی ہے، پھر تم ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

قُلْ یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ ہَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ۔۔۔۔۔: ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (94 تا 96) کی تفسیر۔
Ayah 62:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خریدو فروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔

1۔ یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ۔۔۔۔۔: اہل کتاب کی شقاوت اور امیین کی سعادت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہود و نصاریٰ پر جمعہ کا دن فرض کیا گیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے میں اختلاف کیا۔ یہود نے اپنے لیے ہفتے کا دن اور نصاریٰ نے اتوار کا دن عبادت کے لیے مقرر کرلیا ، جبکہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو جمعہ کے دن کی ہدایت عطاء فرما دی ، جس سے انہیں یہودو نصاریٰ دونوں پر سبقت حاصل ہوگئی۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ نحل کی آیت (124) :(انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ) کی تفسیر۔ 2۔ یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا۔۔۔۔۔۔: یہ آیت واضح دلیل ہے کہ جمعہ ان تمام لوگوں پر فرض ہے جو ایمان لا چکے ہیں ، خواہ وہ شہر میں رہتے ہوں یا کسی بستی یا بادیہ میں۔ امام بخاری ؒ تعالیٰ نے اپنی صحیح میں باب قائم کیا ہے : ”باب الجمعۃ فی القریٰ والمدن“ (بستیوں اور شہروں میں جمعہ کا باب) اور اس میں ابن عباس ؓ کی حدیث لائے ہیں ، انہوں نے فرمایا :(ان اول جمعۃ جمعت بعد جمعۃ فی مسجد رسول اللہ ﷺ فی مسجد عبد القیس بجواثی من البحرین) (بخاری ، الجمعۃ ، باب الجمعۃ فی القریٰ والمدن : 892)”پہلا جمعہ جو رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں جمعہ کے بعد ادا کیا گیا عبد القیس قبیلے کی مسجد میں ہوا جو بحرین کے جواثی ٰ مقام پر تھی“۔ ابو داؤد میں ابن عباس ؓ کی اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں :(بجواثاء قریۃ من قری البحرین) (ابو داؤد ، الصلاۃ ، باب الجمعۃ فی القریٰ : 1068) ”جواثا بحرین کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے“۔ آیت میں جمعہ کے دن صلاۃ کی ندا پر اللہ کے ذکر کی طرف سعی کا حکم ہے اور باجماعت صلاۃ ادا کرنا صرف شہر میں نہیں بلکہ ہر بستی اور بادیہ میں فرض ہے۔ ابو درواء ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ، آپ فرما رہے تھے :(ما من ثلاثۃ فی قریۃ ولا بدولا تقام فیھم الصلاۃ الا قد استحوذ علیھم الشیطان فعلیک بالجماعۃ فانما یا کل الذنب القاصیۃ) (ابوداؤد الصلاۃ ، باب فی التشدید فی ترک الجاعۃ : 547)”کوئی تین آدمی نہیں جو کسی بستی یا بادیہ میں ہوں ، جن میں نماز قائم نہ کی جاتی ہو مگر ان پر شیطان غالب آچکا ہوتا ہے۔ سو جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ بھیڑیا صرف اس بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور ہو“۔ ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے عمر بن خطاب ؓ کو خط لکھ کر جمعہ کے متعلق سوال کیا ، انہوں نے لکھا (جمعوا حیثما کنتم) (مصنف ابن ابی شیبۃ : 2، 101، ح : 5108)”تم جہاں بھی ہو جمعہ ادا کرو“۔ اس کی مسند بخاری و مسلم کی شرط پر ہے۔ جن لوگوں نے جمعہ کے لیے شہر یا حاکم وغیرہ کی شرط لگائی ہے ان کے پاس قرآن و سنت کی کوئی دلیل نہیں اور مشہور روایت ”لا جمعۃ ولا تشریق الا فی مصر جامع“ (جمعہ اور عید جامع شہر کے سوا نہیں) رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں۔ یہ علی ؓ کا قول مشہو رہے ، جو عمر ؓ کے صحیح سند کے ساتھ مروی قول کے خلاف ہے، جب صحابہ میں اختلاف ہو تو اصل کتاب و سنت کی طرف رجوع واجب ہے (دیکھئے نسائ : 59) اور کتاب و سنت کے مطابق تمام مسلمانوں پر ہر جگہ جمعہ فرض ہے ، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے ، البتہ چند لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ طارق بن شہاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الجمعۃ حق واجب علی کل مسلم فی جماعۃ الا اربعۃ عبد مملوک او امراۃ او صبی او مریض) (ابو داؤد ، الصلاۃ ، باب الجمعۃ للمملوک والمراۃ : 1067، قال الالبانی صحیح)”جمعہ ہر مسلم پر جماعت کے ساتھ اد ا کرنا واجب حق ہے سوائے چار کے ، غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو یا عورت یا بچہ یا مریض“۔ اور عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لیس علی مسافر جمعۃ) (المعجم الاوسط للطبرانی 1، 249، ح : 818، وقال الالبانی صحیح۔ دیکھئے الجامع الصغیر : 5405)”مسافر پر جمعہ نہیں ہے“۔ جن لوگوں پر جمعہ فرض نہیں اگر وہ جمعہ کے لیے آئیں تو اجر کا باعث ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عورتیں بھی جمعہ کے لیے آتی تھیں ، اس سے اجر کے علاوہ قرآن کی آیات سن کر انہیں یاد کرنے کا موقع ملتا ، قرآن و سنت سن کر علم میں اضافہ ہوتا اور نصیحت سن کر اصلاح ہوتی تھی۔ ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان ؓ فرماتی ہیں :(ما اخذت) (ق والقرآن المجید) الاعن لسان رسول اللہ ﷺ یقروھا کل یوم جمعۃ علی المنبر اذا حطب الناس) (مسلم ، الجمعۃ ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ : 52، 873) ”میں نے سورة ٔ (ق والقرآن المجید) رسول اللہ ﷺ کی زبان سے سن کر یاد کی ، آپ اسے ہر جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے منبر پر پڑھا کرتے تھے“۔ صحیح مسلم کے اسی باب کی ایک روایت (873) میں ام ہشام ؓ ہی کے الفاظ ہیں :(ما حفظت) (ق) الا من فی رسول اللہ ﷺ یخطب بھا کل جمعۃ) مطلب اوپر گزر چکا ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے مردوں کو منع فرمایا کہ وہ عورتوں کو اس بات سے روکیں کہ وہ مسجد میں آکر اجر اور قرآن و سنت کے علم سے اپنا حصہ حاصل کریں۔ عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لا تمنعوا النساء حظوظھن من المساجد اذا اسنادنو کم) (مسلم ، الصلاۃ ، باب خروج النساء الی المساجد۔۔۔۔: 140، 442)”عورتوں کو مساجد میں سے ان کے حصے میں آنے والی چیزوں سے مت روکو ، جب وہ تم سے اجازت مانگیں“۔ جمعہ کے دن کی بدعات میں سے ایک بدعت ظہر احتیاطی ہے۔ کچھ لوگ جن کا خیال ہے کہ اسلامی حاکم کے بغیر جمعہ نہیں ہوتا اور دیہات میں بھی جمعہ نہیں ہوتا ، شہروں اور گاؤں میں جمعہ کی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد احتیاطاً ظہر کی چار رکعتیں بھی پڑھتے ہیں ، یہ بد ترین بدعت ہے ، کیونکہ اس کی بنیاد شک پر ہے جو کفار کا معمول ہے ، جیسا کہ فرمایا :(بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍّ یَّلْعَبُوْنَ) (الدخان : 9)”بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں“۔ 3۔ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ :”الصلاۃ“ پر ”الف لام“ عہد کا ہے ، مراد وہ نماز ہے جو جمعہ کے دن کے ساتھ خاص ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہ نماز جمعہ ہے جو اس دن ظہر کی جگہ ادا کی جاتی ہے اور ندا سے مراد اذان ہے۔ دیکھئے سورة ٔ مائدہ کی آیت (58) کی تفسیر۔ آج کل عام طور پر جمعہ کے دن خطبے سے پہلے دو اذانیں کہی جاتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر اور عمر ؓ کے زمانے میں یہ دو اذانیں نہیں بلکہ ایک ہی اذان تھی۔ سائب بن یزید ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں :(کان النداء یوم الجمعۃ اولہ ٗ اذا جلس الامام علی المنبر علی عھد النبی ﷺ و ابی بکر و عمر ؓ عنھما فلما کان عثمان ؓ و کثر الناس راد النداء الثالث علی الزورائ) (بخاری ، الجمعۃ ، باب الاذان یوم الجمعۃ : 912)”جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھتا تھا۔ نبی ﷺ ، اور ابوبکر اور عمر ؓ کے عہد میں یہی معمول تھا۔ پھر جب عثمان ؓ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے اور لوگ زیادہ ہوگئے تو انہوں نے (بازار میں ایک مقام) زوراء پر تیسری اذان کا اضافہ کردیا“۔ یاد رہے کہ اس تیسری اذان سے مراد وہ اذان ہے جو آج کل خطبے سے پندرہ منٹ یا آدھ گھنٹہ پہلے کہی جاتی ہے ، اس کے بعد کی دو اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔ تیسری اذان رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر اور عمر ؓ کے دور میں نہیں کہی جاتی تھی ، عثمان ؓ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی کثرت کے پیش نظر اس کا اضافہ کیا ، مگر ان کے زمانے میں یہ اذان مسجد میں نہیں کہی جاتی تھی بلکہ بازار میں کہی جاتی تھی ، تا کہ لوگوں کو اطلاع ہوجائے۔ آج کل نہ اس اذان کا اہتمام مسجد سے الگ بازار میں کیا جاتا ہے ، نہ لاؤڈ سپیکر کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی ہے اور نہ ہی مسجد میں خطبے سے پہلے دو اذانیں عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کا طریقہ ہے۔ اس لیے خطبے سے پہلے مسجد میں ایک ہی اذان کہی جانی چاہیے جو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کا طریقہ ہے اور عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کا عمل بھی یہی ہے۔ 4۔ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللہ ِ :”سعی سعیاً“ (ف) کا معنی دوڑنا بھی ہے اور کوشش کرنا بھی ، جیسا کہ فرمایا :(وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلاَّ مَا سَعٰی) (النجم : 93)”اور یہ کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی“۔ یہاں دوسرامعنی مراد ہے ، یعنی نہایت کوشش اور اہتمام کے ساتھ آؤ ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کے لیے دوڑ کر آنے سے منع فرمایا ہے۔ 5۔ وذروا البیع : اگرچہ جمعہ کے لیے پہلے آنا پہلے فضیلت کا باعث ہے اور اس کے متعلق احادیث مشہور و معروف ہیں ، مگر آخری حد جس کے بعد جمعہ کی طرف روانگی یا اس کے لیے درکار کام کے سوا ہر کام حرام ہوجاتا ہے وہ جمعہ کی اذان ہے۔ یہاں ”البیع“ کا ذکر اس خاص واقعہ کے پیش نظر آیا ہے جو اگلی آیت میں آرہا ہے ، ورنہ اللہ کے ذکر کی طرف سعی جس طرح بیع ترک کرنے کے سوا نہیں ہوسکتی دوسرے تمام کام ترک کرنے کے بغیر بھی نہیں ہوسکتی اور ظاہر ہے کہ جب سعی فرض ہے تو ہر وہ کام حرام ہے جو اس سے روکنے والا ہے۔ 6۔ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : ظاہر ہے آخرت کے ثواب کے مقابلے میں دنیا کے فائدوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ 7۔ جمعہ کے دن غسل کرنا ، اچھے کپڑے پہننا ، خوشبو لگانا، پہلے آنا ، خاموشی کے ساتھ خطبہ سننا اور دوسرے متعلقہ احکام و فضائل کتب احادیث میں تفصیل سے مذکور ہیں۔
Ayah 62:10

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب نماز پوری کرلی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل سے (حصہ) تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔

2۔ فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ۔۔۔: یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو ، تو کیا نماز کے بعد مسجد سے نکلنا ضروری ہے اور کیا کاروبار بھی ضرور ی ہے یا گھر میں آرام بھی کیا جاسکتا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اگرچہ اصل یہی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے وہ فرض ہوتا ہے ، مگر قرینہ موجود ہو تو امر استحباب کے لیے بھی ہوتا ہے اور بیان جواز کے لیے بھی۔ یہاں اذان کے بعد بیع سے منع فرمایا تھا، اب اس ممانعت کی حد بیان فرما دی کہ یہ ممانعت نماز پوری ہونے تک ہے ، اس کے بعد بیع کی اجازت ہے اور تمہیں اختیار ہے کہ مسجد سے نکل کر کاروبار میں مصروف ہوجاؤ ، لیکن اگر کوئی مسجد میں رہے یا گھر چلا جائے ، کاروبار نہ کرے تو مضائقہ نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ اللہ نے احرام کی حالت میں شکار سے منع فرمایا ، جیسا کہ فرمایا :(لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ) (المائدہ : 95)”شکار کو مت قتل کرو ، اس حال میں کہ تم احرام والے ہو“۔ پھر فرمایا :(وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا) (المائدۃ : 2)”اور جب تم احرام کھول دو تو شکار کرو“۔ یہاں شکار کا حکم دینے کا یہ مطلب نہیں کہ احرام کھولنے والے شخص پر شکار کرنا فرض ہے ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ احرام کھولنے کے بعد شکار کی اجزت ہے۔ 2۔ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللہ ِ : اللہ کے فضل سے مراد یہاں روزی تلاش کرنا ہے ، یعنی جس طرح یہود کے لیے یوم السبت (ہفتہ) کو سارا دن شکار منع تھا ، تم پر ایسی کوئی پابندی نہیں ، صرف اذان سے لے کر نماز سے فراغت تک خطبہ اور نما ز میں حاضری کے سوا ہر کام منع ہے ، اس کے بعد جس حلال طریقے سے روزی کما سکتے ہو کماؤ۔ 2۔ وَاذْکُرُوا اللہ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ : یعنی روزی کی تلاش میں مصروفیت کے دوران بھی اللہ کی یاد سے غافل نہ ہوجاؤ بلکہ اسے بہت زیادہ یاد کرتے رہو۔ اللہ کی یاد دل سے بھی ہوتی ہے ، زبان سے بھی اور ہر کام اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے ہوئے اس کے حکم کے مطابق ادا کرنے کے ساتھ بھی۔ مزید دیکھئے سورة ٔ احزاب (41، 42) کی تفسیر۔
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور جب وہ کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اٹھ کر اس طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں، کہہ دے جو اللہ کے پاس ہے وہ تماشے سے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔

1۔ وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَ نِانْفَضُّوْٓا اِلَیْھَا۔۔۔۔: اس سے پہلے عام تراجم کے مطابق اس آیت کا ترجمہ اور جب وہ کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اٹھ کر اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں“۔ کیا گیا تھا۔ اس ترجمہ کی وجہ یہ ہے کہ لفظ ”اذا“ عموماً مستقبل کے لیے آتا ہے ، حالانکہ اس مقام پر یہ لفظ مستقبل نہیں بلکہ ماضی کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، لہٰذا آیت کا مذکورہ بالا ترجمہ درست نہیں ، بلکہ درست ترجمہ یہ ہے :”اور جب انہوں نے کوئی تجارت دیکھی یا تماشا تو اٹھ کر اس کی طرف چلے گئے اور انہوں نے تجھے کھڑا چھوڑ دیا“۔ قرینہ اس کا یہ ہے کہ یہ فعل صحابہ کرام ؓ سے صرف ایک دفعہ سر زد ہوا ہے ، اس کے بعد انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا ، اس لیے یہ کہنا کہ وہ جب بھی کوئی تجارت یا تماشا دیکھتے تھے تو اٹھ کر چلے جاتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو کھڑا چھوڑ جاتے تھے ، ہرگز درست نہیں ، بلکہ یہاں ماضی میں ہونے والے معاملے کا ذکر ہے جو صرف ایک دفعہ واقع ہوا ہے۔ مفسر ابراہیم میر سیالکوٹی نے ’ ’ شہادۃ القرآن“ (جلد دوم) میں اس کے متعلق بہت عمدہ بحث لکھی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ”اذا“ اور ”اذا“ دو کلمے ظروف زمانیہ میں سے ہیں۔ ”اذا“ ماضی کے لیے آتا ہے اور کبھی بمعنی مستقبل بھی ہوتا ہے، جیسا کہ ”اذا“ مستقبل کے لیے اور کبھی ماضی کے لیے بھی آتا ہے ، چنانچ مغنی (مغنی اللبیب) میں ”اذا“ کی بحث میں لکھا ہے :”احدھما ان تجیی للماضیی کما تجیی اذا للمستقبل“”اذا“ بمعنی ”اذا“ کی مثال یہ آیت ہے :(وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَ نِانْفَضُّوْٓا اِلَیْھَا وَتَرَکُوْکَ قَآئِمًا) (الجمعۃ : 11) ”اور جس وقت انہوں نے تجارت یا کھیل کا سامان دیکھا تو اس کی طرف اٹھ گئے اور تجھے کھڑا چھوڑ دیا“۔ اور یہ آیت (حَتّٰی اِذَاضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْھِمْ اَنْفُسُھُمْ) (التوبۃ : 118)”یہاں تک کہ جس وقت زمین ان پر باوجود فراخ ہونے کے تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان کو گراں معلوم ہوئیں“۔ اور ”اذا“ بمعنی“ اذا یعنی مستقبل کی مثال یہ آیت ہے :(فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ اِذِالْاَغْلٰلُ فِیْٓ اَعْنَاقِہِمْ) (المومن : 70، 71)”پس یہ لوگ اس وقت ضرور جان لیں گے ، جب ان کی گردنوں میں طوق پڑیں گے“۔ کیونکہ ”سوف“ جو خاص استقبال کے لیے موضوع ہے ، قرینہ موجود ہے“۔ اس کے بعد مولانا میر سیالکوٹی نے اشعار عرب سے اس کی مثالیں ذکر فرمائی ہیں۔ 2۔ وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَ نِانْفَضُّوْٓا اِلَیْھَا۔۔۔۔۔”فض یفض فضا“ (ن) ”الشثی“ کسی چیز کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردینا۔”انفض“ (انفعال) بکھر جانا ، منتشر ہوجانا۔ مدینہ میں ایک تجارتی قافلے کی آمد پر صحابہ کے اٹھ کر چلے جانے پر ناراضی کا اظہار ہو رہا ہے۔ جابر بن عبد اللہ ؓ نے بیان کیا کہ جمعہ کے دن ایک قافلہ آیا جب کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، تو بارہ آدمیوں کے سوا سب اس کی طرف اٹھ کر چلے گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (واذا راوا تجارۃ او لھوا انفضوا لیھا) (بخاری ، التفسیر ، باب :(واذاروا تجارۃ او لھوا): 4899) جابر بن عبد اللہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے ، اس دوران مدینہ میں ایک قافلہ آیا تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب جلدی سے اٹھ کر چلے گئے ، حتیٰ کہ آپ کے پاس صرف بارہ آدمی رہ گئے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (والذی نفسی بیدہ ! لوتتا بعتم حتی لا یبقی منکم احد لسال بکم الوادی النار ، فنزلت ھذہ الایۃ) (وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَ نِانْفَضُّوْٓا اِلَیْھَا وَتَرَکُوْکَ قَآئِمًا) وقال فی الاثنی عشر الذین تبتوا مع رسول اللہ ﷺ ابوبکر و عمر) (مسند ابی یعلی : 3، 468، ح : 1979، قال المحقق حسین ، سلیم اسد ، المادۃ صحیح)”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم سب ایک دوسرے کے پیچھے چلے جاتے ، حتیٰ کہ تم میں سے ایک بھی باقی نہ رہتا تو یہ وادی تمہیں آگ کے ساتھ بہا کرلے جاتی“۔ اس پر یہ آیت اتری :(وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْوَ نِانْفَضُّوْٓا اِلَیْھَا وَتَرَکُوْکَ قَآئِمًا) جابر ؓ نے فرمایا : ”ان باقی رہنے والے بارہ آدمیوں میں ابوبکر اور عمرؓ بھی تھے“۔ 3۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے ، اس لیے عذر کے بغیر بیٹھ کر خطبہ نہیں دینا چاہیے۔ عبد اللہ بن عمر ؓ نے فرمایا :”رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ، پھر بیٹھ جاتے ، پھر کھڑے ہوجاتے ، جیسا کہ آج کل کرتے ہیں“۔ (مسلم ، الجمعۃ ، باب ذکر الخطبتین قبل الصلاۃ وما فیھامن الجلسۃ : 861) 4۔ جابر بن سمرہ ؓ نے فرمایا :(کانت للنبی ﷺ خطبتان یجلس بینھما یقرا القرآن و یذکر الناس) (مسلم ، الجمعۃ ، باب ذکر الخطبتین قبل الصلاۃ وما فیھما من الجلسۃ : 862)”نبی ﷺ دو خطبے دیا کرتے تھے ، ان دونوں کے درمیان بیٹھے تھے ، آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے“۔ اس حدیث سے کئی باتیں ثابت ہوئیں ، ایک یہ کہ جمعہ کے دو خطبے ہیں ، جو کھڑے ہو کردیئے جاتے ہیں اور ان کے درمیان بیٹھا جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ جمعہ کے خطبے میں یہ چیزیں ہوں تو وہ رسول اللہ ﷺ والا خطبہ ہے ورنہ نہیں ، ایک یہ کہ اس میں قرآن مجید ضرور پڑھا جائے خواہ ایک آیت ہی ہو اور دوسری یہ کہ اس میں نصیحت کی جائے ، اگر کسی خطبے میں تذکیر (نصیحت) نہیں تو وہ رسول اللہ ﷺ والا خطبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ نصیحت کا مقصد یہی ہے کہ لوگ اسے سمجھیں اور اس پر عمل کریں اور یہ مقصد تبھی حاصل ہوسکتا ہے جب لوگوں کو ان کی زبان میں سمجھایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمعہ مسلمانوں کی ہفتہ وار عید ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے ذکر ، اس کی حمد وثناء ، قرآن و سنت کی تعلیم اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا اہتمام ہوتا ہے اور وہ آئندہ سات دنوں کے لیے نئے سرے سے مصروف عمل ہوجاتے ہیں۔ چونکہ یہ مذہبی شعار ہے اس لیے کوئی حکومت بھی اس اجتماع کو ختم نہیں کرسکتی۔ مسلمانوں کو عمل کے اندر کوتاہی یا دین حق سے انحراف یا کفار سے جہاد میں غفلت کی صورت میں ان کے علماء انہیں ان کا فریضہ یاد دلاتے ہیں ، مگر جس طرح دوسرے کئی شعار کا حال خراب ہوا جمعہ کے متعلق بھی بعض لوگوں نے اپنے پاس سے ایسی کئی پابندیاں لگا دیں جن کی وجہ سے مسلمان عملاً اس کے فوائد سے محروم ہوگئے۔ ہر جمعہ کو تمام مسلمان قرآن و سنت کا جو علم حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے آگاہ ہوتے تھے ، اب اپنے مسائل کے لیے ان علماء کے محتاج ہوگئے جو قرآن و حدیث سے مسائل لینے کی بجائے کسی ایک فقہی مکتب کے مقلد تھے ، ان علماء کے مطابق قرآن مجید کا ترجمہ عام آدمی کے لیے پڑھنا ہی درست نہ تھا۔ مدت تک برصغیر میں قرآن مجید کے فارسی یا اردو ترجمے کی کسی کو جرأت ہی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق عام مسلمان کا کام یہ ہے کہ وہ خود قرآن یا حدیث دیکھنے کے بجائے عالم سے مسئلہ پوچھے اور اس عالم کا کام یہ ہے کہ قرآن یا حدیث میں سے مسئلہ بتانے کے بجائے اپنے امام کا قوم بیان کرے۔ اس جمعہ میں قرآن یا حدیث کے بیان کا جو امکان تھا وہ انہوں نے اس طرح ختم کیا کہ اس کے لیے شہر اور حاکم کی شرط لگا دی ، تو چند مقامات کے سوا باقی ہر جگہ جمعہ ویسے ہی بند ہوگیا ، جبکہ عورتوں کے لیے مسجد میں آنا سرے سے ممنوع قرار دیا۔ پھر یہ شرط لگائی کہ جمعہ کا خطبہ صرف عربی میں ہوگا ، تا کہ کوئی شخص قرآن و سنت سے واقف نہ ہو سکے ، حالانکہ جس امام کے و ہ مقلد ہیں ان کے نزدیک نماز میں بھی قرآن کی تلاوت فارسی یا کسی اور زبان میں کی جاسکتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں مدتوں یہی سلسلہ جاری رہا ، آخر کار جب عمل بالحدیث کا غلغلہ بلند ہوا اور تقلید کی پابندیوں سے آزاد علماء نے اردو میں خطبہ شروع کیا اور لوگوں کو اصل قرآن و سنت سننے کا موقع ملا تو بجائے اس کے کہ وہ حضرات بھی اردو میں خطبہ دیتے ، انہوں نے اذان کے بعد والے دو خطبے عربی میں ضروری قرار دینے پر اصرار جاری رکھا ، مگر اس کے ساتھ اپنے مذہب کے دفاع کے لیے اردو میں ایک خطبے کا اضافہ کردیا اور اس کا نام تقریر رکھ دیا ، حالانکہ خطبہ ہو یا خطاب یا تقریر ، ایک ہی چیز ہے۔ ان حضرات نے یہ خیال نہیں فرمایا کہ اس طرح انہوں نے اردو میں خطبہ دے کر ایک تو وہی کام کیا جس سے وہ دسروں کو روکتے تھے اور ایک یہ کہ انہوں نے دو خطبوں کے بجائے تیسرے خطبے کی بدعت ایجاد کرلی۔ یاد رکھیں کہ اگر ہم رسول اللہ ﷺ والا خطبہ جمعہ دینا چاہتے ہیں تو اس میں تذکیر (نصیحت) ضروری جز ہے ، بلکہ یہ خطبے کا اصل مقصود ہے اور وہ لوگوں کو ان کی زبان میں سمجھائے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے خطبے صرف دو ہونے چاہئیں اور عربی کے ساتھ ساتھ اسے مخاطب لوگوں کی زبان میں بھی سمجھانے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ 5۔ قُلْ مَا عِنْدَ اللہ ِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّھْوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِ۔۔۔۔: یعنی اللہ کی خاطر تم جس لہو (کھیل تماشے) اور تجارت کو چھوڑو گے اللہ کے پاس اس سے کہیں بہتر بدلا دنیا اور آخرت دونوں میں موجود ہے۔ 6۔ صحابہ کرام ؓ سے نادانی میں یہ عمل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر تنبیہ فرمائی ، اس کے بعد صحابہ کرام ؓ نے جس طرح اللہ کے ذکر اور نماز کو تجارت وغیرہ پر ترجیح دی اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة ٔ نور (36، 37) میں فرمایا ہے۔