63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 63:1

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

جب منافق تیرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم شہادت دیتے ہیں کہ بلاشبہ تو یقینا اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ بلاشبہ تو یقینا اس کا رسول ہے اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ بلاشبہ یہ منافق یقینا جھوٹے ہیں۔

1۔ اِذَا جَآئَ کَ الْمُنٰـفِقُوْنَ :”الْمُنٰـفِقُوْنَ“”النافقائ“ سے مشتق ہے جو ”یربوع“ (چوہے سے ملتے جلتے ایک جنگلی جانور) کے بل کا ایک منہ ہوتا ہے ، وہ اسے اس طرح بناتا ہے کہ اس جگہ مٹی کی طرف اتنی تہہ رہنے دیتا ہے کہ سر مارے تو کھل جائے ، اس منہ کو وہ چھپا کر رکھتا ہے اور دوسرا منہ ظاہر کردیتا ہے۔ منافق بھی چونکہ اپنا کفر چھپاتا اور ایمان ظاہر کرتا ہے ، اس لیے اس کا یہ نام رکھا گیا ہے۔ یہ ایک خالص اسلامی اصطلاح ہے ، مراد اس سے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہیں۔ 2۔ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے کچھ عرصہ پہلے اوس اور خزرج کے درمیان ہونے والی جنگ بعاث میں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے ، ابھی وہ سوچ ہی رہے تھے کہ وہ اپنا ایک متفقہ سردار مقرر کرلیں ، بلکہ طے کرچکے تھے کہ عبد اللہ بن ابی کی باقاعدہ تاج پوشی کر کے اسے اپنا سردار بنالیں۔ اسی اثناء میں چند سعادت مند حج کے لیے مکہ گئے اور رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر مسلمان ہوگئے۔ اگلے دو سالوں میں مزید لوگوں نے جا کر بیعت کی اور آخری بار انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ آنے کی دعوت دی۔ ان سالوں میں مدینہ کے ہر گھر میں اسلام پہنچ چکا تھا، رسول اللہ ﷺ کی آمد پر اوس و خزرج کے بااثر لوگوں سمیت ان کی اکثریت مسلمان ہوگئی۔ آپ ﷺ کی وجہ سے عبد اللہ بن ابی اور اس کے حامیوں کی سردار ی کی امید ناکام ہوئی تو وہ آپ ﷺ کے شدید دشمن بن گئے۔ کچھ مدت تک تو وہ کھلم کھلا عداوت کا اظہار کرتے رہے ، مگر بدر کی عظیم الشان فتح کے بعد ان کے پاس مدینہ میں رہنے کے لیے مسلمان ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تو وہ مسلمان ہوگئے ، حتیٰ کہ عبد اللہ بن ابی بھی مسلمان ہوگیا ، مگر ان کا اسلام صرف جان بچانے کے لیے اور وہ فوائد حاصل کرنے کیل یے تھا جو مسلمانوں کو عزت و قوت اور فتح و غنیمت کی صورت میں حاصل تھے۔ یہ لوگ نمازیں پڑھتے ، روزے رکھتے ، زکوٰۃ دیتے اور جہاں غنیمت کی امید ہوتی جہاد میں بھی جاتے تھے ، مگر دل سے اب بھی ایمان نہیں لائے تھے بلکہ ہر موقع پر انہوں نے مسلمانوں کو دھوکا دیا اور نقصان پہنچایا۔ جنگ احد میں یہ لوگ لشکر کا تیسرا حصے لے کر میدان جنگ سے واپس چلے گئے بنو نضیر بنو قریظہ اور خیبر والوں کو جنگ پر اور مسلمانوں کے خلاف ڈٹ جانے پر ابھارتے رہے ، خندق اور دوسرے مواقع پر انہوں نے کفار کے ساتھ ساز باز رکھی اور جب موقع ملتا رسول اللہ ﷺ ، مسلمانوں اور اسلام کے متعلق گستاخانہ باتیں کرتے ، جیسا کہ اگلی آیات میں آرہا ہے لیکن جب ایسی باتیں سامنے آنے پر ان سے باز پرس کی جاتی تو وہ قسمیں کھا جاتے کہ ہم مسلمان ہیں اور آپ ﷺ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ان کی گستاخیوں سے در گزر فرماتے رہے ، کیونکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوچکے تھے اور مخلص مسلمانوں کے عزیز اور رشتہ دار بھی تھے۔ اگر آپ انہیں قتل کرتے تو بہت سی بد گمانیاں پیدا ہونے کا اندیشہ تھا، اس لیے آپ سب کچھ برداشت کرتے رہے ، حتیٰ کہ آخر کار آپ ﷺ کے صبر و ضبط اور عفو و حلم کی وجہ سے ان کی حقیقت کھل کر سب کے سامنے آگئی اور وہ مخلص مسلمانوں کی نگاہ میں بالکل بےقدر و قیمت ہو کر رہ گئے ، ان کا کوئی اعتبار باقی نہ رہا۔ ان کا کچھ حال سورة ٔ بقرہ (8 تا 20) ، آل عمران ، نساء ، مائدہ ، توبہ ، سورة ٔ احزاب اور دوسرے مقامات پر گزر چکا ہے۔ 3۔ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللہ :”ان“ اور ”لام تاکید“ عموماً قسم کے جواب میں آتے ہیں اور قسم جیسی تاکید کا فائدہ دیتے ہیں۔ شہادت اس بات کی خبردینے کو کہتے ہیں جس کا دل سے یقین ہو۔ منافقین کی عادت تھی کہ وہ قسمیں کھا کر اپنی وفاداری کا یقین دلانے کی کوشش کرتے رہتے تھے، جب کہ مخلص مسلمانوں کو اس کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ مزید دیکھئے سورة ٔ نسائ (62) ، توبہ (56، 62، 74، 96) اور سورة ٔ مجادلہ (18) کی تفسیر۔ 4۔ وَ اللہ ُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ۔۔۔۔: یہ منافقین کا قول نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، اس لیے اگر وقف کرنا ہو تو ”انک لرسول اللہ“ پر کرنا چاہیے ، آیت شروع کر کے ”انک لرسولہ“ پر وقف سے وہم پڑھتا ہے کہ یہ دونوں جملے منافقین کا قول ہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق فرمائی کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں تو یہ کیوں فرمایا کہ اللہ شہادت دیتا ہے کہ بلاشبہ یہ منافق یقینا جھوٹے ہیں اور منافق جھوٹے کس طرح ہوئے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ انکا یہ کہنا جھوٹ نہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، بلکہ یہ سچ ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر اس کی تصدیق فرمائی کہ ”واللہ یعلم انک لرسولہ“ یعنی اللہ جانتا ہے کہ بلاشبہ آپ یقینا اس کے رسول ہیں، منافقین کو جھوٹا اس لیے فرمایا کہ انہوں نے کہا ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، حالانکہ وہ اس بات کی شہادت نہیں دیتے بلکہ یہ بات صرف زبان سے کہہ رہے ہوتے ہیں ، دل سے وہ آپ کو اس کا رسول نہیں مانتے۔ شہادت میں سچے وہ تب ہوتے جب وہ دل اور زبان دونوں سے آپ کی رسالت کا اقرار کرتے۔ زمخشری نے فرمایا کہ اگر درمیان میں جملہ ”واللہ یعلم انک لرسولہ“ نہ ہوتا تو کلام اس طرح ہونا تھا :”اذا جاء ک المنافقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ وللہ یشھد ان المنافقین لکاذبون ‘ ‘”جب تیرے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم شہادت دیتے ہیں کہ بلا شبہ تو یقینا اللہ کا رسول ہے اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ بلا شبہ یہ منافق یقینا جھوٹے ہیں“ لیکن اس سے وہم پڑ سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس بات میں جھوٹا کہہ رہے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، اس لیے درمیان میں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں ، پھر فرمایا اور اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں ، یعنی ان کا یہ کہنا جھوٹ ہے کہ ہم شہادت دیتے ہیں۔
Ayah 63:2

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا، پس انھوں نے اللہ کی راہ سے روکا۔ یقینا یہ لوگ جو کچھ کرتے رہے ہیں برا ہے۔

اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً۔۔۔۔۔: اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ مجادلہ کی آیت (16) کی تفسیر۔”سبیل اللہ“ سے مراد اسلام بھی ہے اور جہاد بھی۔
Ayah 63:3

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ بیشک وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، سو وہ نہیں سمجھتے۔

1۔ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا :”ذلک“ کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا مومن ہونے کی جھوٹی قسمیں کھانا اور اللہ کی راہ سے روکنا وغیرہ اس لیے ہے کہ وہ ایمان لائے ، پھر انہوں نے کفر کیا۔ ایمان لا کر کفر تین طرح سے ہے ، ایک یہ کہ وہ ظاہر میں ایمان لائے اور مسلمان ہوگئے مگر دل میں کافر ہی رہے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے پاس آئے تو ایمان کی شہادت دی ، پھر کفار کے پاس گئے تو انہیں اپنے کفر کا یقین دلایا ، جیسا کہ فرمایا :(وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْآ اٰمَنَّاج وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰـطِیْنِہِمْلا قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ) (البقرۃ : 14)”اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب اپنے شیطانوں کی طرف اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں“۔ منافقین کی اکثریت ہی تھی اور ایک یہ کہ ان میں سے بعض شروع میں تو صحیح ایمان لائے ، پھر دنیوی اغراض کی وجہ سے کافر ہوگئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ منافقین میں سے جو لوگ تائب ہوئے اور ان کا اسلام خالص ہوا وہ اس گروہ سے تھے۔ 2۔ فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا یَفْقَہُوْنَ : یعنی ان کے ایمان لانے کے بعد کفر کرنے کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کردی گئی تو وہ نہ دنیا اور آخرت میں نفاق کے نقصان کو سمجھتے ہیں نہ انہیں اس پر کوئی شرمندگی ہوتی ہے اور نہ ہی توبہ کی توفیق ملتی ہے۔
Ayah 63:4

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب تو انھیں دیکھے تجھے ان کے جسم اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں تو تو ان کی بات پر کان لگائے گا، گو یا وہ ٹیک لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں، ہر بلند آواز کو اپنے خلاف گمان کرتے ہیں۔ یہی اصل دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہ۔ اللہ انھیں ہلاک کر ے، کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔

1۔ وَ اِذَا رَاَیْتَہُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُہُمْ : اکثر منافقین خوش حال ، صاحب حیثیت ، تیز طرار اور ہوشیار لوگ تھے ، ان کی خوش حالی اور مال کی حرص بھی ان کے نفاق کا باعث تھی۔ ان کا سردار عبد اللہ بن ابی معاشی لحاظ سے بھی رئیس تھا اور دیکھنے میں بڑا خوب صورت ، لمبے قدوالا اور جسیم تھا۔ زید بن ارقم ؓ نے اس کے اور اس کے ساتھیوں کے متعلق فرمایا : (کانوا رجالاً اجمل شئی) (بخاری : 4903)”وہ بہت خوبصورت آدمی تھے“۔ مزید تفصیل آگے آیت (7) کی تفسیر میں دیکھئے۔ جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ (بدر کے قیدیوں میں سے) عباس مدینہ میں تھے ، انصار نے انہیں پہنانے کے لیے کپڑا تلاش کیا مگر انہیں عبد اللہ بن ابی کی قمیص کے علاوہ کوئی قمیص نہ ملی جو ان کے جسم پر پوری آتی ہو ، چناچہ انہوں نے وہی ان کو پہنا دی۔ (نسائی ، الجنائز ، باب القمیص فی الکفن : 1903، وقال الالبانی صحیح) اہل علم فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی کی وفات پر آپ ﷺ نے اسے اپنی قمیص جو پہنائی اس پر دوسری مصلحتوں کے علاوہ اس احسان کا بدلا اتارنا بھی مقصود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پچھلی آیت میں ”فھم لا یفقھون“ کے الفاظ کے ساتھ منافقین کی ناسمجھی بیان کرنے کے ساتھ ہی فرمایا کہ اے مخاطب ! جب تو انہیں دیکھے تو ڈیل ڈول اور خوبصورتی کی وجہ سے ان کے جسم تجھے بہت اچھے دکھائی دیں گے اور اگر وہ بات کریں تو ایسے فصیح و بلیغ ہیں کہ تو ان کی بات سنتا ہی رہ جائے۔ ان کی چرب زبانی کا ذکر سورة ٔ بقرہ (204) میں بھی آیا ہے۔ یہاں بعض مفسرین نے ”واذا رایتھم تعجبک اجسامھم“ میں مخاطب رسول اللہ ﷺ کو قرار دیا ہے ، مگر بہتر ہے کہ اسے ہر مخاطب کے لیے عام رکھا جائے ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ تو شروع سے انہیں دیکھتے آرہے تھے۔ 2۔ ظاہر ہے کہ ”اذا رایتھم“ (جب تو انہیں دیکھے) سے عبد اللہ بن ابی اور اس جیسے منافق مراد ہیں ، کیونکہ تمام منافق تو حسین و جمیل نہیں تھے اور نہ ہی ایسے فصیح و بلیغ تھے۔ (التسہیل)۔ 3۔ کَاَنَّہُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ:”خشب“”خشبۃ“ کی جمع ہے ، لکڑیاں۔ اس وزن کی یہ جمع بہت کم آتی ہے۔ مفسرین نے اس کی نظیر ”ثمرۃ“ کی جمع ”ثمر“ لکھی ہے۔”مسندۃ“ باب تفعیل سے اسم مفعول ہے ، دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھی ہوئی۔ یعنی جیسے لکڑیوں میں طول و عرض اور خوبصورتی کے باوجود عقل اور سمجھ نہیں ہوتی اسی طرح یہ بھی عقل اور سمجھ سے عاری ہیں۔ جب یہ آپ کی مجلس میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوں تو یہ مت سمجھیں کہ یہ آدمی ہیں ، بلکہ یوں سمجھیں کہ لکڑیاں ہیں جو ٹیک لگا کر دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی ہیں ، گویا بظاہر خوبصورت نظر آتے ہیں۔ زمخشری نے فرمایا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حسین و جمیل اور جسیم و عریض ہونے کے باوجود ان سے کسی نفع کی امید نہیں ، جس طرح کار آمد لکڑی چھت ، دروازے یا کھڑکیوں میں یا کہیں نہ کہیں استعمال ہوتی ہے ، مگر بےکار لکڑیوں کو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ 4۔ یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْحَۃٍ عَلَیْہِمْ : اس میں ان کی بزدلی کا نقشہ کھینچا ہے کہ جوں ہی کوئی آواز بلند ہوتی ہے یا شور اٹھتا ہے تو وہ اسے اپنے آپ پر پڑنے والی افتاد ہی سمجھتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کفار کا حملہ ہوگیا ہو جس میں ہمیں لڑنا پڑے اور اس میں ہماری موت ہو۔ (دیکھئے احزاب : 19) یا رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو ہمارے خبث باطن کا پتہ چل گیا ہو اور ہمارے خلاف کارروائی کا حکم آگیا ہو ، یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں رسوا کرنے والی یا ہمارے قتل کے حکم والی کوئی آیت یا سورت اتری ہو۔ (دیکھئے توبہ : 64) 5۔ ہُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْہُمْ :”العدو“ خبر پر الف لام لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو رہا ہے کہ تمہارے اصل دشمن یہی ہیں ، کیونکہ کھلم کھلا کفار کی عداوت ظاہر ہے جس سے بچاؤ آسان ہے ، یہ گھر کے بھیدی اور آستین کے سانپ ہیں جو مسلمان بن کر ہر وقت تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کی عداوت زیادہ خطرناک ہے اور اس سے بچنا بہت مشکل ہے ، اس لیے ان سے ہوشیار رہیں۔ 6۔ قَاتَلَہُمُ اللہ ُ : یہ بد دعا کا کلمہ ہے ، اللہ انہیں ہلاک کرے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دعا یا بد دعا کی کیا ضرورت ہے ، وہ تو جو چاہے کرسکتا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں ان کے حق میں لوگوں کی زبان پر آنے والی بد دعا نقل کی گئی ہے۔ مراد ان کی مذمت ہے۔ 7۔ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ : یعنی اتنے واضح دلائل کے باوجود ایمان چھوڑ کر یہ لوگ کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔
Ayah 63:5

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جائے آؤ اللہ کا رسول تمہارے لیے بخشش کی دعا کرے تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں اور تو انھیں دیکھے گا کہ وہ منہ پھیر لیں گے، اس حال میں کہ وہ تکبر کرنے والے ہیں۔

1۔ وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَکُمْ۔۔۔۔۔:”لووا“ ”لوی یلوی لیا“ (ض) (پھیرنا) سے باب تفعیل ہے ، جس سے سر پھیرنے میں مبالغہ یا اس کا تکرار مقصود ہے۔ آیت (7) میں اس کا سبب نزول آرہا ہے۔ 2۔ وْا رُئُ وْسَہُمْ وَرَاَیْتَہُمْ یَصُدُّوْنَ وَہُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ :”صد یصد صدا و صدودا“ (ن) ”صدا“ (متعدی) روکنا اور ”وصدودا“ (لازم) اعراض کرنا ، منہ پھیرلینا۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر معذرت کرلینے کی ترغیب پر تم انہیں دیکھو گے کہ وہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیں گے۔
Ayah 63:6

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

ان پر برابر ہے کہ تو ان کے لیے بخشش کی دعا کرے، یا ان کے لیے بخشش کی دعا نہ کرے، اللہ انھیں ہرگز معاف نہیں کرے گا، بیشک اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

سَوَآئٌ عَلَیْہِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَہُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ۔۔۔۔۔:”استغفرت“ اصل میں ”ء استغفرت“ ہے۔ ہمزۂ تسویہ آنے کے بعد ہمزۂ وصل کی ضرورت نہ رہی ، اس لیے وہ گرگیا۔ اس میں ہمزہ استفہام کا نہیں ہے ، بلکہ اسے ہمزہ ٔ تسویہ کہتے ہیں۔ (دیکھئے بقرہ : 6) آیت کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ توبہ (80) کی تفسیر۔ اس سے مقصود آپ ﷺ کی ان کے لیے معافی کی امید کو ختم کرنا ہے ، کیونکہ منافقون کی تمام شرارتوں اور بےادیبوں کے باوجود آپ ﷺ اپنی طبعی رحمت و شفقت کی بناء پر چاہتے تھے کہ ان کے لیے معافی کی دعا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے لیے معافی کی دعا سے منع فرما دیا ، کیونکہ ان کا فسق حد سے بڑھ چکا تھا۔
Ayah 63:7

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ منتشر ہوجائیں، حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور لیکن منافق نہیں سمجھتے۔

1۔ ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہ ِ۔۔۔۔: اس آیت میں اور اس سے اگلی آیت میں ان منافقین کے فسق کے نمونے کے طور پر ان کے کچھ گستاخانہ جملے ذکر فرمائے ہیں ، جن سے ان کی اسلام اور مسلمانوں سے شدید نفرت اور دلی بغض کا اظہارہو رہا ہے۔ گویا بتایا جا رہا ہے کہ یہ ہے کہ ان کا بد ترین فسق جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نہیں دیتا اور جس کی وجہ سے ان کے حق میں رسول اللہ ﷺ کے استغفار کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں :(خجنا مع النبی ﷺ فی سفر اصاب الناس فیہ شدۃ ، فقال عبد اللہ بن ابی لا صحابہ لا تفقوا علی من عند رسول اللہ حتیٰ ینفضوا من حولہ وقال لئن رجعنا الی المدینۃ لیخر جن الاعز منھا الاذل فاتیت النبی ﷺ فاخبرتہ فارسل الی عبد اللہ بن ابی فسالہ ٗ فاجتھد یمینہ ما فعل ، قالوا کذب زید رسول اللہ ﷺ فوقع فی نفسی مما قالوا شدۃ ، حتیٰ انزل اللہ عزوجل تصدیقی فی :) (اذا جائک المنفقون) فد عا ھم النبی ﷺ لیستغفرلھم فلووا رو وسھم وقولہ :(خشب مسندۃ) (قال کانو رجالا اجمل شی) (بخاری ، التفسیر ، باب :(واذا رایتھم تعجبک اجسامھم۔۔۔۔) : 4903)”ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، اس سفر میں لوگوں کو بہت سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا تو عبد اللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا :”ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں ، یہاں تک کہ وہ اس کے گرد سے منتشر ہوجائیں“۔ اور اس نے کہا :”اگر ہم مدینہ واپس پہنچے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ ذلیل تر کو اس میں سے ضرور نکال باہر کرے گا“۔ یہ سن کر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی۔ آپ ﷺ نے عبد اللہ بن ابی کی طرپیغام بھیج کر اسے بلایا اور اس سے یہ بات پوچھی تو اس نے بہت پکی قسم کھا کر کہا کہ اس نے ا ایسا نہیں کیا۔ لوگوں نے کہا :”زید نے رسول اللہ ﷺ سے جھوٹ کہا ہے“۔ تو میرے دل میں ان کی بات سے بہت تکلیف پہنچی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ”اذا جاء ک المنافقون“ میں میری تصدیق نازل فرما دی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا، تا کہ ان کے لیے استغفار کریں تو انہوں نے اپنے سر پھیر لیے“۔ اور (زید ؓ نے) اللہ کے فرمان ”خشب مسندۃ“ کے متعلق فرمایا :”وہ بہت خوبصورت آدمی تھے“۔ 2۔ وَ ِﷲِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔۔۔:”للہ“ کو پہلے لانے کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کے خزانوں کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے ، اور کوئی نہیں۔ منافقین نے خود تو کیا خرچ کرنا تھا ، وہ تو پرلے درجے کے حریص اور بخیل تھے، وہ مخلص مسلمانوں کو بھی مہاجرین پر خرچ کرنے سے روک رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ اگر وہ ان پر خرچ نہیں کریں گے تو وہ بھوک سے مرجائیں گے۔ حالانکہ سارے خزانوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے ، وہ جس طرح چاہے انہیں رزق دے سکتا ہے ، مگر یہ منافقین کی بےسمجھی ہے کہ وہ مہاجرین کا رزق اپنے ہاتھ میں سمجھ رہے ہیں ، اس لیے یہاں ”لا یفقھون“ کا لفظ فرمایا کہ ایسا سمجھنے والا بےسمجھ ہے۔
Ayah 63:8

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں یقینا اگر ہم مدینہ واپس گئے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ اس میں سے ذلیل تر کو ضرور ہی نکال باہر کرے گا، حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ہے اور لیکن منافق نہیں جانتے۔

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ : جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : (کنا فی غزاۃ قال سفیان مرۃ فی جیش فکسع رجل من المھاجرین رجلا ً من الانصار فقال الانصاری یا للانصار و قال المھاجری یا للمھاجرین فسمع ذلک رسول اللہ ﷺ فقال مال بال دعویٰ جاھلیۃ ؟ قالوا یا رسول اللہ ! کسع رجل من المجاجرین رجلاً میں الانصار فقال دعوھا فانھما متنۃ ، فسمع بذلک عبد اللہ بن ابی فقال فعلوھا ؟ اما واللہ ! لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعزمنھا الاذل فبلغ النبی ﷺ فقام عمر فقال یا رسول اللہ ! دعنی اضرب عنق ھذا المنافق فقال النبی ﷺ دعہ لا یتحدث الناس ان محمدا یقتل اصحابہ و کانت الانصار اکثر من المھاجرین حین قدموا المدینۃ ، ثم ان المجاجرین کثروا بعد) (بخاری ، التفسیر ، باب قولہ :(سواء علیھم استغرت لھم): 4905) ”ایک بار ہم ایک لشکر میں تھے تو ایک مہاجر آدمی نے ایک انصاری کو اس کے پیچھے کی جانب لات مار دی“۔ تو انصاری نے کہا :”اوانصاریو !“ اور مہاجر نے کہا : ”اومہاجرو !“ رسول اللہ ﷺ نے سنا تو فرمایا :”جاہلیت کی اس پکار کا کیا معاملہ ہے ؟“ لوگوں نے بتایا کہ ایک مہاجرنے ایک انصاری کے پیچھے کی جانب لات مار دی ہے ، تو آپ نے فرمایا :”اس (جاہلیت کی پکار) کو چھوڑ دو ، کیونکہ یہ بہت بد بودار ہے“۔ یہ بات عبد اللہ بن ابی نے سنی تو کہنے لگا : ”انہوں نے ایسا کیا ہے ؟ یاد رکھو ! اگر ہم مدینہ واپس پہنچے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ ذلیل تر کو اس سے ضرور نکال باہر کرے گا“۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو عمر ؓ کھڑے ہوگئے اور کہا :”یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں“۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا : ”اسے رہنے دو ، لوگ یہ بات نہ کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔“ اور انصار مہاجرین سے زیادہ تھے جب وہ مدینہ میں آئے ، پھر جب میں مہاجرین زیادہ ہوگئے“۔ 2۔ وَ ِﷲِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰـکِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ : یعنی یہ منافقین جو کہہ رہے ہیں کہ زیادہ عزت والا ذلیل تر کو نکال باہر کرے گا ، تو انہیں معلوم نہیں کہ زیادہ عزت والا بلکہ ساری عزت کا مالک کون ہے۔ سو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ عزت کا اصل مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، پھر وہ ہے جسے وہ عزت عطاء فرمائے۔ (دیکھئے نسائ : 139)۔ (آل عمران : 26) اور اس نے عزت اپنے رسول اور مومن بندوں کے لیے مقرر فرمائی ہے۔ سو یہ سوچ لیں کہ اگر عزت والے نے ذلیل تر کو مدینہ سے نکالنے کا ارادہ کرلیا تو اس فیصلے کی زد بھی انہیں منافقین پر پڑے گی ، مگر ان جاہلوں کو علم ہی نہیں۔ 3۔ جابر بن عبد اللہ ؓ سے جو حدیث اوپر نقل کی گئی ہے، ترمذی میں اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں :(فقال لہ ابنہ عبد اللہ بن عبد اللہ : واللہ ! لا تنقلب حتی تقر انک الذلیل و رسول اللہ ﷺ العزیزففعل) (ترمذی ، تفسیر القرآن ، سورة المنافقون : 3315، وقال الالبانی صحیح)”تو اس (عبد اللہ بن ابی) کے بیٹے عبد اللہ بن عبد اللہ ؓ نے اس سے کہا :”اللہ کی قسم ! تم واپس نہیں جاؤ گے حتیٰ کہ اقرار کرو کہ تم ہی ذلیل ہو اور رسول اللہ ﷺ ہی عزیز ہیں“۔ چناچہ اس نے ایسے ہی کیا۔“
Ayah 63:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْھِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ :”لا تلہ“”لھو“ میں سے باب افعال ”الھی بلھی“ کا نہی مؤنث غائب کا صیغہ ہے ، ”کم“ اس کا مفعول بہ اور ’ ’ اموالکم ولا اولادکم“ فاعل ہے۔ فاعل جمع مکسر ہونے کی وجہ سے فعل واحد مؤنث کا صیغہ لایا گیا ہے۔ 2۔ منافقین کے برے اعمال کا حال بیان کرنے کے بعد تمام ایمان لانے والوں کو خواہ وہ مخلص ہیں یا منافق ، ان دو چیزوں سے ہوشیار رہنے کی نصیحت فرمائی جو انسان کے لیے فتنہ ہیں اور نفاق کا باعث بنتی ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ) (التغابن : 15)”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو محض ایک آزمائش ہیں“۔ اور فرمایا، دیکھنا ! تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کریں کہ ان کی وجہ سے نماز چھوڑ دو ، یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنا یا جہاد کے لیے نکلنا چھوڑ دو ، یا ان کی وجہ سے جھوٹ اور خیانت کا ارتکاب کرنے لگو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر آدمی کو اس کے اموال و اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کریں تو وہ قابل مذمت نہیں ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اموال و اولاد کے علاوہ کوئی اور چیز اللہ کے ذکر سے غافل کرتی ہے تو وہ بھی مذموم ہے ، مثلاً کھیل تماشے ، دوستوں کی مجلس اور نام و نمود کی خواہش وغیرہ۔ کعب بن عیاض ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نا :(ان لکل امۃ فتنۃ ، وان فتنۃ امتی المال) (مسند احمد : 4، 160، ح : 17471، قال المحقق حدیث صحیح)”ہر امت کے لیے کوئی نہ کوئی فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے“۔ یعلی ٰعامری ؓ بیان کرتے ہیں کہ حسن اور حسین ؓ دوڑتے ہوئے نبی ﷺ کی طرف آئے ، آپ نے انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا اور فرمایا :(ان الولد مبخلۃ مجبنۃ) (ابن ماجہ ، الادب، باب برالوالدولا حسان الی البنات : 3666)”بیشک اولاد بخیل بننے اور بزدل بننے کا باعث ہے“۔ مزید دیکھئے سورة ٔ کہف کی آیت (46) :(اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِیْنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) کی تفسیر۔ 3۔ عَنْ ذِکْرِ اللہ ِ :”ذکر اللہ“ سے صرف نماز ، روزہ اور زبانی ذکر مراد نہیں ، بلکہ ہر کام کے وقت اپنے رب کو یاد کھنامراد ہے کہ اگر مالک کی اجازت ہے تو وہ کام کرے ، اگر نہیں تو نہ کرے۔ اسی طرح ہر وہ کام کرنے کی حتیٰ الوسع کوشش کرے جس کا اس نے حکم دیا ہے اور اس سے رک جائے جس سے اس نے منع فرمایا ہے۔ 4۔ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓـئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ :”الخسرون“ پر الف لام لانے اور اس سے پہلے ضمیر فصل سے تاکید اور حصر کا مفہوم پیدا ہوگیا کہ اصل خسارے والے صرف وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے اموال و اولاد اللہ کی یاد سے غافل کردیں۔ اگر اللہ کی یاد پر قائم رہنے کی وجہ سے اموال و اولاد کا نقصان ہوجائے تو اللہ تعالیٰ نے اسے خسارہ تسلیم ہی نہیں فرمایا ، کیونکہ اموال و اولاد وفانی ہیں اور اللہ کی یاد باقی کو چھوڑ کر فانی میں مشغول ہوجائے اصل خسارے میں پڑنے والا ہے۔
Ayah 63:10

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہیں دیا ہے، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے، پھر وہ کہے اے میرے رب ! تو نے مجھے قریب مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں سے ہوجاتا۔

1۔ وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰـکُمْ۔۔۔۔۔:”من ما رزقنکم“ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ کی تیسری آیت کی تفسیر۔ نفاق سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ نعمتوں میں سے جتنا ہو سکے مرنے سے پہلے خرچ کرنے کا حکم دیا۔ 2۔ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ۔۔۔۔: یعنی مرتے وقت یہ دعا اور تمنا کرنا بےکار ہے ، عقل مند کا کام یہ ہے کہ مہلت سے فائدہ اٹھائے اور مرنے سے پہلے آخرت کا سامان تیا ر کرے۔ دیکھئے سورة ٔ ابراہیم (44) اور سورة ٔ مومنون (99، 100)۔ 3۔ فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ :”فاصدق“ اصل میں ”فاتصدق“ ہے ، اس پر نصب اس لیے آیا ہے کہ یہ ”لولا“ کے جواب میں ہے جو تحضیض کے لیے ہے اور اس میں طلب اور شرط کا مفہوم پایا جاتا ہے اور اس پر ”فائ“ آرہی ہے جس کے بعد ”ان“ ناصبہ مقدر ہے اور ”اکن“ مجزوم اس لیے ہے کہ اس کا عطب جواب شرط کے محل پر ہے اور اس پر ”فائ“ نہیں آرہی ، گویا اصل کلام اس طرح ہے :”رب اخرنی الی اجل قریب فان اخرتنی اتصدق واکن من الصالحین“۔
Ayah 63:11

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور اللہ کسی جان کو ہرگز مہلت نہیں دے گا جب اس کا وقت آگیا اور اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔

1۔ وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللہ ُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُہَا : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ یونس کی آیت (49) کی تفسیر۔ 2۔ وَ اللہ ُ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اس میں تنبیہ ہے کہ ہر کام کرتے وقت یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے ہر عمل کی پوری خبر ہے۔ اس کے علاوہ اس میں نیک عمل والوں کے لیے وعدہ ہے اور برے عمل والوں کے لیے وعید ہے۔