64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 64:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

اللہ کا پاک ہونا بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

یُسَبِّحُ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ : اس کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ حدید (1) اور سورة ٔ حشر (1) کی تفسیر۔ ”یسبح“ (مضارع) کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ جمعہ کی پہلی آیت کی تفسیر 2۔”لَہُ الْمُلْکُ“ کے لیے دیکھئے سورة ٔ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر اور ”ولہ الحمد“ کے لیے دیکھئے سورة ٔ فاتحہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔ 3۔ فرمایا آسمان و زمین میں جو بھی چیز ہے وہ زبان قال و حال سے شہادت دے رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور ہر کمی سے پاک ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی متعدد صفات خلق ، قدرت اور علم وغیرہ اور ان کے مظاہر بیان فرمائے جن سے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید ، تسبیح ، قیامت اور رسالت کا حق ہونا ثابت ہوتا ہے ، پھر کفار کے قیامت اور رسولوں کے انکار کا رد فرمایا اور انہیں اللہ ، اس کے رسول اور اس پر نازل کردہ وحی پر ایمان لانے کا حکم دیا۔
Ayah 64:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور تم میں سے کوئی ایمان دار ہے اور اللہ اسے جو تم کر رہے ہو، خوب دیکھنے والا ہے۔

1۔ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَّمِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ: یعنی اتنی صفات کے مالک ہی نے تمہیں پیدا کیا اور دوسری مخلوقات کی طرح تمہیں بھی ہر بات میں اپنے تکوینی حکم کا پابند کردینے کے بجائے ایمان و فکر دونوں راستے واضح فرما کر تمہیں ان میں سے کسی ایک پر چلنے کا اختصار بخشا۔ اب حق تو یہ تھا کہ تم اپنے پیدا کرنے والے کا شکر ادا کرتے ہوئے اس پر ایمان لاتے ، مگر اس کے بجائے تم دو گروہوں میں بٹ گئے ، چناچہ تم میں سے کچھ کفر کرنے والے ہیں اور کچھ ایمان لانے والے۔ اب یہ خیال مت کرنا کہ تمہارے اس کفر پر تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی ، یا ایمان لانے پر کوئی جزا نہیں ملے گی ، بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو ، اللہ تعالیٰ اسے پوری طرح دیکھنے والا ہے ، وہ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق سزا یا جزا دے گا۔ یہاں ”فمنکم کافر“ کا ذکر پہلے اس لیے فرمایا کہ مقصود ناراضی کا اظہار ہے کہ اتنی صفات کے مالک اور اپنے خالق کے ساتھ بھی ختم میں سے کئی کفر کرنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ کفر کرنے والے زیادہ ہیں۔ (دیکھئے بنی اسرائیل : 89۔ سبا : 20) اس آیت میں وہی بات بیان ہوئی ہے جو تفصیل کے ساتھ سورة ٔ الدھر کی ان آیات میں ہے ، فرمایا :(اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰـہُ سَمِیْعًام بَصِیْرًا اِنَّا ھَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا اِنَّـآ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاْ وَاَغْلٰلاً وَّسَعِیْرًا اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْرًا) (الدھر : 2 تا 5)”بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا ، ہم اسے آزماتے ہیں ، سو ہم نے اسے خوب سننے والا ، خوب دیکھنے والا بنادیا۔ بلا شبہ ہم نے اسے راستہ دکھادیا ، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ نا شکرا۔ یقینا ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔ بلا شبہ نیک لوگ ایسے جام سے پئیں گے جس میں کافور ملا ہوا ہوگا۔ 2۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ خلق کے وقت کوئی کافر نہیں ہوتا ، بلکہ پیدا ہوتے وقت ہر انسان فطرت پر ہوتا ہے ، پھر بعد میں کفر اختیار کرتا ہے یا ایمان پر قائم رہتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ روم (30 تا 32) کی تفسیر۔ 3۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام لوگوں کی دو ہی قسمیں ہیں ، یا تو مومن ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر ، یوم آخرت پر اور تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں یا پھر کافر ہیں ، تیسری کوئی قسم نہیں جو نہ مومن ہوں نہ کافر۔ مومن گناہ کرے تو اس کی وجہ سے اسے ایمان سے خارج یا کافر قرار نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی یہ کہا جائے گا کہ یہ نہ مومن ہے نہ کافر ، بلکہ وہ نا قص ایمان والا مومن ہے اور اسے اس وقت تک مومن ہی کہا جائے گا جب تک وہ ان چیزوں پر ایمان رکھتا ہے جن کا دین ہونا سب کو معلوم ہے۔ اگر وہ ان میں سے کسی چیز کا انکار کرے یا ایسا کام کرے جو مرتد ہونے کی علامت ہے تو پھر وہ مومن نہیں بلکہ کافر ہے۔
Ayah 64:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اس نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور اس نے تمہاری صورتیں بنائیں تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

1۔ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ : جس سے مراد یہاں حکمت و مصلحت ہے اور ان کی پیدائش کی بیشمار حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام چیزیں پیدا فرما دیں جو انسان کی بقاء کے لیے ضروری تھیں اور انہیں انسان کی خدمت پر مامور کردیا ، جیسا کہ فرمایا :(ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا) (البقرہ : 29)”وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمہارے لیے پیدا کیا“۔ مزید دیکھئے سورة ٔ زمر (5) 2۔ وَصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ : اللہ تعالیٰ نے جو چیز پیدا فرمائی اچھی پیدا فرمائی۔ (دیکھئے سجدہ : 7) یہاں فرمایا کہ اس نے تمہاری صورت بنائی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں۔ (دیکھئے مومن : 64۔ انفطار : 6 تا 8) دوسری جگہ فرمایا کہ ہم نے انسان کو (اچھی ہی نہیں بلکہ) سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا فرمایا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ) (التین : 4)”بلا شبہ یقینا ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے“۔ ظاہر ی شکل و صورت میں بھی اور ذہنی اور عقلی استعداد کے لحاظ سے بھی انسان کو بہترین بناوٹ عطاء ہوئی ہے ، کسی دوسری مخلوق میں ایسی عقلی استعداد نہیں ہے ، کوئی انسان کتنا بھی بد صورت ہو ، کبھی نہیں چاہے گا کہ اسے کسی اور مخلوق کی شکل میں تبدیل کردیا جائے ، خواہ وہ کتنی خوبصورت ہو۔ 3۔ وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ : یعنی ساری کائنات کی پیدائش خصوصاً انسان کو اتنی بہترین بناوٹ میں پیدا کرنا بےمقصد نہیں بلکہ تمہاری آزمائش کے لیے ہے ، جیسا کہ فرمایا :(لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) (ھود : 7) ”تا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے“ اور اس کے لیے تمہیں مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہو کر اس کی طرف واپس جانا ہے۔
Ayah 64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو اور اللہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے۔

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ۔۔۔۔: یہ اس سوال کا جواب ہے کہ جب انسان کے جسم کا ہر ذرہ منتشر ہوجائے گا اور اس نے جو کچھ کیا وہ معدوم ہوچکا ہوگا تو اسے دوبارہ کیسے زندہ کیا جائے گا اور اسکے اعمال کی کسی کو کیا خبرہو گی کہ ان کے مطابق اسے جزا یا سزا دی جائے۔ فرمایا وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے (اور وہ ہر جاندار کے زندگی میں ٹھکانے کو جانتا ہے اور اس بات کو بھی مرنے کے بعد وہ کہاں ہے۔ دیکھئے ہود : 6) اس لیے اسے کچھ مشکل نہیں کہ جو جہاں بھی ہے اسے دوبارہ زندہ کر دے اور وہ تمہارے اعمال سے واقف ہے خواہ تم انہیں چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو۔ (دیکھئے رعد : 9، 10) بلکہ وہ سینوں کی بات اور نیتوں کو بھی خوب جاننے والا ہے ، سو اسکے لیے تمہارے اعمال کا محاسبہ کچھ مشکل نہیں۔ پچھلی آیات میں مذکور صفات خصوصاً خلق میں اس کی کامل قدرت کا بیان تھا ، اس آیت میں اس کے کامل عمل کا بیان ہے ، پھر جو علیم بھی ہے اور قدیر بھی اور جس نے پہلے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے ، وہ تمہیں دوبارہ پیدا کیوں نہیں کرسکتا اور محاسبہ کیوں نہیں کرسکتا ؟۔
Ayah 64:5

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جنھوں نے اس سے پہلے کفر کیا، پھر اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

1۔ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ : یعنی اگر تم اپنے اس خالق پر ایمان نہ لائے اور اس کے ساتھ کفر پر ڈٹے رہے جو ان صفات کا مالک ہے اور جس کی طرف تمہیں واپس جانا ہے، تو کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچتی جنہوں نے اس سے پہلے اپنے خالق ومالک کے علاوہ اس کے رسولوں اور آخرت کا بھی انکار کیا ، مثلاً قوم نوح ، عاد وثمود اور آل فرعون وغیرہ جو مال و دولت اور قوت و شوکت میں تم سے کہیں زیادہ تھے۔ (دیکھئے روم : 9) قریش مکہ کا گزر اکثر شام اور یمین کی طرف سفر میں ان کی برباد شدہ بستیوں پر ہوتا تھا اور عرب میں ان کے واقعات مشہور تھے۔ 2۔ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ : یعنی انہوں نے دنیا ہی میں اپنے کفر اور سرکشی کا وبال چکھ لیا ، مگر یہ ان کی پوری اور اصل سزا نہ تھی بلکہ یہ صرف دنیا میں ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا جو دوسروں کو عبرت دلانے کے لیے دکھایا گیا تھا ، جس سے تمہیں بھی عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ اصل سزا کے طور پر ان کے لیے نہایت درد ناک عذاب تیار ہے۔
Ayah 64:6

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آتے تھے تو انھوں نے کہا کیا کوئی بشر ہماری رہنمائی کریں گے ؟ پس انھوں نے انکار کردیا اور منہ پھیرلیا اور اللہ نے پروا نہ کی اور اللہ بےپروا ہے، تمام خوبیوں والا ہے۔

1۔ ذٰلِکَ بِاَنَّہٗ کَانَتْ تَّاْتِیْہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ :”بانہ“ میں ”ہ“ ضمیر کو ضمیر شان کہا جاتا ہے ، اس کا مقصد اس بات کی اہمیت کا اظار ہوتا ہے جو بعد میں آرہی ہوتی ہے۔ ”بینات“ کا لفظی معنی واضح اور روشن چیزیں ہے۔ رسول جو بینات لے کر آئے ان میں وہ معجزے بھی شامل ہیں جو ان کی رسالت کی واضح دلیل تھے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیات اور عقلی دلائل بھی جو بالکل واضح اور روشن تھے ، جنہیں سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں تھی ، ان بینات کو دیکھ اور سن کر ان کے رسول ہونے کا یقین حاصل ہوتا تھا۔ 2۔ فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ یَّہْدُوْنَنَا :”بشر“ اسم جنس ہے جو جمع پر بھی بولا جاتا ہے ، جیسا کہ یہاں ”یھدوننا“ سے ظاہر ہے اور واحد پر بھی ، جیسا کہ فرمایا :(بَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُہٗٓ) (القمر : 24)”کیا ایک آدمی جو ہمیں سے ہے اکیلا ، ہم اس کے پیچھے لگ جائیں ؟“ کفار کے قول میں ’ ’ بشر“ کو تحقیر کے لیے بطور نکرہ استعمال کیا گیا ہے ، گویا وہ کہہ رہے ہیں ”کیا یہ عام سے بشر ہماری رہنمائی کریں گے ؟“ وہ کسی بشر کو رسول ماننے کے لیے تیار نہیں تھے ، خواہ اس کی رسالت ہر طرح سے ثابت ہوجائے۔ ان کے خیال میں رسول فرشتہ ہونا چاہیے یا خود اللہ کو ان کے پاس آنا چاہیے۔ (دیکھئے فرقان : 21) یہی وتیرہ پہلے تمام انبیاء کے منکرین کا تھا اور یہی کفار قریش نے اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر ان کے اس باطل خیال کا ذکر کیا اور اس کا رد فرمایا۔ دیکھئے بنی اسرائیل (94، 95) ، ابراہیم (10، 11) ، کہف (110) ، مومنون (33) ، شعرائ (86) ، یٰسین (15) اور سورة ٔ انعام (91)۔ 3۔ فَکَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَی اللہ ُ۔۔۔: جب انہوں نے بشر کی رسالت کو محال قرار دیا تو اس کا واضح نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے رسولوں پر ایمان لانے سے انکار کردیا اور منہ پھیرلیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی کچھ پروا نہ کی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں ، وہ ساری کائنات سے مستغنی اور بےپرواہ ہے۔ وہ اکیلا تمام خوبیوں کا مالک ہے ، کسی کے کفر سے اسے کوئی نقصان نہیں اور نہ ہی کسی کے ایمان سے اس کا کوئی فائدہ ہے۔ ایمان کا فائدہ اور کفر کا نقصان خود انسان ہی کو ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ آل عمران (97) اور سورة ٔ زمر (7) کی تفسیر۔ 4۔ کفار کا معاملہ عجیب ہے ، وہ بشر کو رسول ماننے کے تیار نہیں مگر پتھر ، لکڑی اور دھات کے بتوں کو رب مانتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ بینات دیکھ کر بھی یہ کہہ کر ایمان نہیں لاتے کہ ”کیا کوئی بشر ہماری رہنمائی کریں گے ؟“ گویا انہیں کسی بشر کی رہنمائی قبول نہیں ، خواہ وہ کتنی درست اور کتنی عمدہ ہو ، جبکہ وہ اپنے بڑوں کی غلط راہ پر اندھا دھند چل رہے ہیں ، حالانکہ وہ بھی بشر تھے ، جیسا کہ فرمایا :(قَالُوْٓا اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِہِمْ مُّقْتَدُوْنَ) (الزخرف : 22)”انہوں نے کہا کہ بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور بیشک ہم انہی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں“۔ اگر کسی بشر کی راہ پر چلنا انہیں منظور نہیں تو بڑوں کی راہ پر کیوں چلتے ہیں ؟ اصل بات یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ پر چلنے کے لیے تیار نہیں ، کیونکہ شیطان نے انہیں اور ان کے بڑوں کو اپنی راہ پر لگا رکھا ہے۔
Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کیا کہ وہ ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔ کہہ دے کیوں نہیں ؟ میرے رب کی قسم ! تم ضرور بالضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر تمہیں ضرور بالضرور بتایا جائے گا جو تم نے کیا اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

1۔ زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا :”زعم“ کا لفظ گمان کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے ، کسی بات کا دعویٰ کرنے کے معنی میں بھی اور جھوٹ کہنے کے معنی میں بھی۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کا دعویٰ حرف تاکید ”لن“ کے ساتھ ذکر فرمایا ، مگر یہ دعویٰ کرنے کو زعم قرار دیا۔ گویا ان کا تاکید کے ساتھ کہنا کہ انہیں ہرگز اٹھایا نہیں جائے گا ، سراسر گمان اور جھوٹ ہے۔ گمان اس لیے کہ ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ علم نہیں جس کی بنیاد پر وہ یقین سے کہہ سکیں کہ دوبا ہ زندگی نہیں ہوسکتی۔ انسان کے پاس ایسا ذریعہ علم نہ کبھی آج سے پہلے تھا ، نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ ہوسکتا ہے ، پھر اس دعویٰ کو اس زور شور سے بیان کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ انسان زیادہ سے زیادہ یہی کچھ کہہ سکتا ہے کہ مرنے کے بعد جی اٹھنے اور نہ اٹھنے کے دونوں احتمال موجود ہیں ، لیکن جی اٹھنے کی تردید میں وہ کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتا۔ 2۔ قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ : یعنی جب وہ محض گمان کی بنیاد پر اتنی تاکید کے ساتھ قیامت کا انکار کر رہے ہیں تو آپ ان کے رد میں اس سے زیادہ تاکید کے ساتھ کہیں کہ میں تمہارے اس دعوے کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے وحی کے علم کی بنیاد پر پورے یقین کے ساتھ اپنے رب کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ تم ضرور بالضرور اٹھائے جاؤ گے۔ رسول اللہ ﷺ کے مخاطب مانتے تھے کہ آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قسم کے ساتھ یہ بات کہنے کا حکم دیا ، تا کہ انہیں اس کا یقین ہوجائے ، کیونکہ انسان کی عادت ہے کہ قسم کھا کر بات کی جائے تو اسے یقین ہوجاتا ہے۔ یہ تیسری جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو قسم کھا کر قیامت کا یقین دلانے کا حکم دیا ہے۔ پہلے سورة ٔ یونس میں فرمایا :(وَیَسْتَنْبِئُوْنَکَ اَحَقٌّ ہُوَط قُلْ اِیْ وَرَبِّیْٓ اِنَّہٗ لَحَقٌّط وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ) (یونس : 53)”اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ سچ ہی ہے ؟ تو کہہ ہاں ! مجھے اپنے رب کی قسم ! یقینا یہ ضرور سچ ہے اور تم ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہو“۔ پھر سورة ٔ سبا میں فرمایا :(وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَۃُط قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّکُمْ)”اور ان لوگوں نے کہا جنہوں نے کفر کیا ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ کہہ دے کیوں نہیں ، قسم ہے میرے رب کی ! وہ تم پر ضرورہی آئے گی۔“۔ 3۔ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ : اس میں دوبارہ زندہ کیے جانے کا مقصد بیان فرمایا کہ ساری کائنات کو تمہارے فائدے کے لیے مسخر کرنے اور تمہیں ایمان و کفر میں اختیار دینے کے بعد یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم سے کوئی باز پرس ہی نہ کی جائے ؟ اس لیے اٹھائے جانے کے بعد تمہیں وہ سب کچھ ضرور بالضرور بتایا جائے گا جو تم نے کیا۔ بتانے سے مراد محاسبہ اور سزا دینا ہے ، جیسا کہ دھمکی دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ میں بہت جلد تمہیں بتاؤں گا کہ تم نے کیا کیا۔ 4۔ وَذٰلِکَ عَلَی اللہ ِ یَسِیْرٌ : یعنی تمہیں دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان اور بالکل معمولی بات ہے ، کیونکہ جس نے تمہیں پہلی دفعہ بنا لیا اس کے لیے دوبارہ بنا لینا تو زیادہ آسان ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ یٰسین (78، 79) ، لقمان (28) اور سورة ٔ روم (27) کی تفسیر۔ کفار مکہ جیسا کہ متعدد آیات سے ظاہر ہے ، اس بات کے قائل تھے کہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے۔
Ayah 64:8

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

سو تم اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، خوب باخبر ہے۔

1۔ فَاٰمِنُوْا بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَالنُّوْرِ الَّذِیْٓ اَنْزَلْنَا : اس ”فائ“ کو فصیحہ کہتے ہیں ، کیونکہ وہ اس شرط کا اظہار کر رہی ہوتی ہے جو وہاں مقدر ہے ، یعنی جب تم یہ سب کچھ جان چکے تو اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لے آؤ جو ہم نے نازل کیا ہے ، یعنی دل اور زبان سے انہیں سچا مان کر ان کے احکام کی پیروی کرو۔ ”النور“ سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے ، کیونکہ اسی سے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ روشن ہوتا ہے ، اس میں قرآن و سنت دونوں شامل ہیں۔ دیکھئے سورة ٔ شوریٰ (52) کی تفسیر۔ 2۔ وَ اللہ ُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ : خیبر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزاء دے گا۔ اس میں ایمان لانے والوں کے لیے وعدہ اور ایمان نہ لانے والوں کے لیے وعید ہے۔
Ayah 64:9

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں جمع کرنے کے دن کے لیے جمع کرے گا، وہی ہار جیت کا دن ہے اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں ہمیشہ، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

1۔ یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ : یہ ”لتبعثن ثم لتنبون“ کا ظرف ہے ، قیامت کے دن ”یوم الجمع“ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس دن تمام پہلے اور پچھلے ایک میدان میں جمع کیے جائیں گے۔ (دیکھئے ہود : 103۔ صافات : 49، 50۔ شوریٰ : 7۔ مرسلات : 38)”یوم الجمع“ کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس دن انسان کے جسم کی ہر ہڈی اور ہر ذرہ جو منتشر ہوچکا ہوگا جمع کردیا جائے گا ، جیسا کہ فرمایا :(اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَہٗ) (القیامہ : 3)”کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے“۔ 2۔ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ :”غبن“ (ن) ”فلانا فی البیع“ بیع میں دوسرے کو نقصان پہنچا کر خود فائدہ حاصل کرلینا۔ طبریٰ نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول نقل فرمایا ہے ، انہوں نے ”ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ“ کے متعلق فرمایا :(ھو اسم من اسماء یوم القیامۃ و ذلک ان اھل الجنۃ یغبنون اھل النار)”یعنی یوم التغابن قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور یہ نام اس لیے ہے کہ اس دن جنتی جہنمیوں کو نقصان میں رکھ کر خود فائدہ حاصل کریں گے“۔ ابن کثیر ؒ نے فرمایا کہ اس نفع نقصان کی تفصیل خود اللہ تعالیٰ نے آگے بیان فرما دی ہے کہ ایمان اور عمل صالح والوں کو کیا حاصل ہوگا اور کفر و تکذیب والوں کے حصے میں کیا آئے گا۔ 3۔ وَمَنْ یُّؤْمِنْم بِ اللہ ِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا۔۔۔: یہ اس دن کی ہار جیت میں سے جیت والوں کے حصے کا بیان ہے۔
Ayah 64:10

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہ آگ والے ہیں، اس میں ہمیشہ رہنے والے اور وہ لوٹ کر جانے کی بری جگہ ہے۔

وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِنَآ : یہ اس دن کی ہار والوں کے حصے کا بیان ہے۔
Ayah 64:11

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت نہیں پہنچی مگر اللہ کے اذن سے اور جو اللہ پر ایمان لے آئے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

1۔ مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ۔۔۔۔: اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ حدید کی آیت (22) کی تفسیر۔ 2۔ اِلَّا بِاِذْنِ اللہ ِ : اس سے پہلی آیات میں اللہ کی توحید ، رسولوں کی رسالت اور قیامت کا بیان تھا ، اس آیت میں تقدیر پر ایمان کا بیان ہے جس سے آدمی کے دل میں تکلیفیں برداشت کرنے اور ان پر صبر کرنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت میں ایمان والوں کے لیے تسلی اور کفار کے اس اعتراض کا جواب بھی ہے کہ ایمان والوں پر مصیبتیں کیوں آتی ہیں۔ فرمایا جو مصیبت بھی آتی ہے اللہ کے اذن سے آتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں پہلے سے مقدر ہوچکی ہوتی ہے۔ یہ دنیا میں مومن و کافر سب پر آتی ہے ، کیونکہ اس کے بغیر امتحان اور آزمائش کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ مومن و کافر پر اس کا اثر اور نتیجہ مختلف ہوتا ہے ، مومن اپنے رب پر راضی رہتا ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت کی روشنی ، یقین اور اطمینان کی نعمت اور آخرت میں جنت عطاء فرماتا ہے اور کافر اپنے رب پر ناراض ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ دنیا کے اندر ہر وقت پریشان اور سراپا شکوہ بنا رہتا ہے اور آخرت میں اس کے لیے جہنم ہے۔ 3۔ یعنی جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اللہ کے حکم سے اور اس کے طے شدہ فیصلے اور تقدیر کے مطابق پہنچتی ہے۔ 4۔ وَمَنْ یُّؤْمِنْم بِ اللہ ِ یِہْدِ قَلْبَہ : یعنی جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ جان لے کہ یہ اللہ کے فیصلے اور اس کی تقدیر سے ہے ، پھر اس پر صبر کرے ، ثواب کی نیت رکھے اور اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے فیصلے کے سپرد کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور دنیا میں اس کے ہاتھ سے جو کچھ نکلا یعنی اس سے جو کچھ لیا گیا اس کے بدلے میں اس کے دل میں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق اور سچا یقین عطاء فرماتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو کچھ اس سے لیا گیا اس کی جگہ وہی یا اس سے بہتر چیز عطاء فرما دیتا ہے۔ اس آیت کی طرح سورة ٔ بقرہ (155 تا 157) میں مصیبت پر صبر کرنے والوں کو ”المھتدون“ (ہدایت والے) قرار دیا۔ طبریٰ نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ”وَمَنْ یُّؤْمِنْم بِ اللہ ِ یِہْدِ قَلْبَہٗ“ کے متعلق ابن عباس ؓ کا قول نقل فرمایا ہے :(یعنی یھد قلبہ للیقین فیعلم ان ما اصابہ لم یکن لیخطئہ وما اخطاہ لم یکن لیصیبہ) (طبریٰ 22، 21، ح : 3459)”یعنی (آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ پر ایمان رکھے) اللہ تعالیٰ اس کے دل کو یقین کی ہدایت دیتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اس پر جو مصیبت آئی وہ کسی صورت اس سے خطاب کرنے والی نہیں تھی اور جو خطاء کرگئی وہ کسی صورت اس پر آنے والی نہیں تھی“۔ اور اعمش نے ابو ظبیان سے بیان کیا کہ ہم علقمہ کے پاس تھے ، ان کے پاس یہ آیت پڑھی گئی :(وَمَنْ یُّؤْمِنْم بِ اللہ ِ یِہْدِ قَلْبَہٗ) اور اس کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا :”اس سے مراد وہ آدمی ہے جسے کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ، اس پر راضی ہوجاتا ہے اور اسے تسلیم کرلیتا ہے۔“ (ابن جریر و ابن ابی حاتم بسند صحیح)۔ صہیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(عجباً لا مر المومن ان امرہ کلہ خیبر و لیس ذاک لا حد الا للمومن ان اصابتہ سراء شکر ، فکان خیرا لہ و ان اصابتہ ضراء صبر ، فکان خیرالہ) (مسلم ، الزھد و الرقائق، باب المومن امرہ کلہ خیر : 2999)”مومن کے معاملے پر تعجب ہے ، کیونکہ اس کا سارا معاملہ ہی خیر ہے اور یہ بات مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں ، اگر اسے کوئی خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے خیر ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور وہ بھی اسے کے لیے خیر ہوتا ہے۔“ 3۔ وَ اللہ ُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ : یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا پوری طرح علم ہے ، وہ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی تقدیر پر ایمان رکھ کر صبر و شکر کرتا ہے اور کون نہیں کرتا ، پھر وہ ایک کو اس کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
Ayah 64:12

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پس اگر تم پھر جاؤ تو ہمارے رسول کے ذمے تو صرف کھلم کھلا پہنچا دینا ہے۔

1۔ وَ اَطِیْعُوا اللہ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ : سلسلہ کلام کے مطابق مطلب یہ ہے کہ مصیبت آنے پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ نہ موڑو ، بلکہ تمام حالات میں ، اچھے ہوں یا برے ، اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ ”اطیعوا“ کو ”الرسول“ کے ساتھ دوبارہ لانے سے ظاہر ہے کہ جس طرح اللہ کا حکم مستقل شریعت ہے اسی طرح رسول کا حکم بھی مستقل شریعت ہے ، دونوں میں سے کسی کی مخالفت کی گنجائش نہیں۔ دوسرے لوگ جن کا حکم مانا جاتا ہے وہ یہ مقام نہیں رکھتے ، ان کا وہی حکم مانا جائے گا جو کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو۔ اس نکتے کی وضاحت سورة ٔ نساء کی آیت (59) :(وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ) سے ہوتی ہے کہ ”اولی الامر“ کے ساتھ ”اطیعوا“ کو دوبارہ نہیں لایا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ نسائ (59) کی تفسیر۔ 2۔ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْن : پھر اگر مصیبتوں سے گھبرا کر تم نے اطاعت سے منہ موڑ لیا تو اپنا ہی نقصان کرو گے ، ہمارے رسول کے ذمے صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام صاف صاف تم تک پہنچا دیں ، سو وہ اس نے پہنچا دیے۔
Ayah 64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔

اَﷲُ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَط وَعَلَی اللہ ِ۔۔۔۔: یعنی جس طرح تقدیر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور جو بھی مصیبت یا راحت ہے اسی کے حکم سے آتی ہے ، اسی طرح یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ہستی ہے جو ہر عبادت کی مستحق ہے ، اسکے سوا کوئی معبود نہیں ، اس لیے رنج ہو یا راحت ہر حال میں اسی کو پکارو اور اسی پر توکل رکھو ، کیونکہ پکارنا بھی عبادت ہے اور توکل بھی عبادت ہے اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو اس کے پاس اس اکیلے پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ، کیونکہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں رنج یا راحت میں سے کچھ سے ہی نہیں کہ اس پر بھروسہ کیا جاسکے۔
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! بیشک تمہاری بیویوں اور تمہارے بچوں میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، سو ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ۔۔۔۔:”عدوا“ ”فعول“ کا وزن ہے : واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے :”فاحذروھم“ سے ظاہر ہے کہ یہاں جمع کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ”من ازواجکم“ میں ”من“ تبعیض کے لیے ہے ، یعنی بعض بیویاں اور اولادیں دشمن ہوتی ہیں سب نہیں ، بلکہ بعض دین میں مدد گار اور آنکھوں کی ٹھنڈک بھی ہوتی ہیں۔ اس سے پہلی آیات میں اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے ، اب ایک ایسی چیز سے ہوشیار رہنے کا حکم دیا جو عموماً اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے اور وہ آدمی کی بیوی اور اس کی اولاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی صورت گوارا نہیں کہ اس کا مومن بندہ اس سے بڑھ کر اور اس کے رسول سے بڑھ کر کسی سے محبت کرے ، یا کسی عزیز سے عزیز شخص کے تقاضے کو اللہ اور اس کے رسول کے تقاضے پر ترجیح دے۔ (دیکھئے توبہ : 24) یہاں خاص طور پر بعض بیویوں اور بعض اولاد کا ذکر فرمایا، کیونکہ آدمی ہر وقت ان کے ساتھ رہتا ہے اور طبعی طور پر ان سے محبت ہوتی ہے ، اس لیے بعض اوقات وہ ان کی محبت میں آکر اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو پس پشت پھینک دیتا ہے اور ان کے آرام و آسائش کی خاطر حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتا۔ ان کے اصرار پر کئی فرائض ترک کردیتا ہے ، کئی ناجائز کاموں کا ارتکاب کرلیتا ہے اور اسی طرح اپنی آخرت تباہ کرلیتا ہے ، ظاہر ہے جو اہل و عیال آخرت کی بربادی کا باعث بنیں ان سے بڑھ کر آدمی ان سے بڑھ کر آدمی کا کوئی دشمن نہیں ہوسکتا۔ بعض بیویاں اور اولاد نا موافقت یا سرکشی کی وجہ سے فی الواقع بھی اپنے خاوند یا باپ کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں ، مگر یہ ایسے دشمن ہیں کہ آدمی ان سے مسلسل دشمنی نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی ان سے علیحدگی اختیار کرسکتا ہے ، بلکہ ان کے ساتھ گزارا ہی کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ ان کی دشمنی کا یہ علاج نہیں کہ انہیں مارو پیٹو ، خرچہ بند کر دو یا ان سے علیحدگی اختیار کرلو ، بلکہ مارنے پیٹنے اور سختی کرنے کی بجائے اگر انہیں معاف کر دو ، ان سے در گزر کرو اور ان کی غلطیوں پر پردہ ڈال دو تو تمہارے لیے بہتر اور اللہ کو پسند ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ بےحد پردہ ڈالنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ البتہ اس عفو و در گزر کے باوجود جتنی طاقت ہے اللہ کے تقویٰ پر قائم رہو اور انہیں اس کی تلقین کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم میں یقینا بہت سی حکمتیں ہیں ، کیونکہ بعض اوقات آدمی کی سختی کی وجہ سے اولاد بغاوت پر اتر آتی ہے ، جب کہ عفو و در گزر ، مسلسل نصیحت اور خود تقویٰ پر قائم رہنے سے ان کی اصلاح کی توقع زیادہ ہوتی ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس ؓ سے اس آیت ”یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ فَاحْذَرُوْہُمْ“ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا :”یہ اہل مکہ میں سے کچھ لوگ تھے جو مسلمان ہوگئے اور انہوں نے نبی ﷺ کے پاس آنے کا ارادہ کرلیا (یاد رہے کہ ان دنوں ہر مسلمان ہونے کے لیے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا فرض تھا) مگر انہیں ان کی بیویوں اور بچوں نے نہیں چھوڑا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے۔ پھر جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے دوسرے لوگوں کو دیکھا کہ وہ دین کی سمجھ حاصل کرچکے تھے تو انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنے بیوی بچوں کو سزا دیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔”(ترمذی ، التفسیر ، سورة التغابن : 3317 وقال الالبانی حسن)۔
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو محض ایک آزمائش ہیں اور جو اللہ ہے اسی کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔

اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ۔۔۔۔۔: اس کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ آل عمران (14) ، انفال (28) ، کہف (46) اور سورة ٔ منافقون (9)
Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو اور سنو اور حکم مانو اور خرچ کرو، تمہارے اپنے لیے بہتر ہوگا اور جو اپنے نفس کے بخل سے بچا لیے جائیں سو وہی کامیاب ہیں۔

1۔ فَاتَّقُوا اللہ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔۔۔۔۔۔: مال و اولاد کے فتنے سے بچنے کے لیے چند چیزوں کی تاکید فرمائی ، جن میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا حسب استطاعت تقویٰ ہے ، پھر سمع و طاعت اور آخر میں فتنہ بننے والے اس مال کو خرچ کرنا ہے اور اس میں بخل سے گریز کرنا ہے۔ 2۔ مَا اسْتَطَعْتُمْ : اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کے لیے اللہ کے احکام پر اتنا عمل ہی فرض ہے جتنی اس میں طاقت ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(لَا یُکَلِّفُ اللہ ُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا) (البقرہ : 286)”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق“۔ جہاں آدمی بےبس ہوجائے وہاں مؤاخذہ نہیں۔ (دیکھئے بقرہ : 173۔ انعام : 19 ، نحل : 106) مؤاخذہ اسی صورت میں ہے جب آدمی استطاعت کے باوجود اللہ کی اطاعت نہ کرے۔ رہی یہ بات کہ آدمی بہانہ بنا لے اور فرض کو لے کر فلاں کام میری استطاعت سے باہر ہے ، حالانکہ وہ اس کی استطاعت میں ہو تو اس پر اس کا ضرور مؤاخذہ ہوگا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر بات کا علم ہے۔ 3۔ وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا : یعنی اللہ اور اس کے رسول کے احکام سنو اور ان کی اطاعت کرو۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام ؓ سے سمع و طاعت کی بیعت لیا کرتے تھے ، عبادہ بن صامت ؓ کی بیعت والی حدیث کے الفاظ ہیں :(بایعنا رسول اللہ ﷺ علی السلمع والطاعۃ فی المشط والمکرہ) (بخاری الاحکام ، باب کیف بیابع الامام الناس ؟ 7199) ’ ’ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے خوش دلی اور ناگواری (ہر حال) میں سننے اور فرماں برداری کرنے پر بیعت کی“۔ 4۔ وَاَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِکُمْ :”خیرا“ ”یکن“ کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے جو یہاں ”انفقوا“ کے جواب میں مقدر ہے۔ یعنی خرچ کرو یہ تمہارے لیے بہترہو گا۔ یہ مال کے فتنے کا تریاق ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ خرچ کیا جائے ، جمع کرکے نہ رکھا جائے۔ ابو ذر ؓ فرماتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ، آپ اس وقت کعبہ کے سائے میں تھے اور فرما رہے تھے :(ھم الاخسرون و رب الکعبۃ ھم الاخسرون و رب الکعبۃ) ”وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں رب کعبہ کی قسم ! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں رب کعبہ کی قسم !“ میں نے کہا :”میرا کیا معاملہ ہے ، کیا مجھ میں کوئی (خسارے والی) چیز دکھائی دے رہی ہے ، میرا معاملہ کیا ہے ؟“ خیر میں آپ کے پاس بیٹھ گیا اور آپ یہی فرماتے رہے ، مجھ میں خاموش رہنے کی سکنت نہ رہی ، اللہ کو جو منظور تھا (یعنی بےقراری اور اضطراب) وہ مجھ پر طاری ہوگیا ، تو میں نے پوچھا :”وہ کو نہیں یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :(ھم الاکثرون اموالا الا من قال ھکذا وھکذا وھکذا) (بخاری ، الایمان والتذوا ، باب کیف کانت یمین النبی ﷺ ؟: 6638، مسلم : 990)”وہ لوگ جو بہت زیادہ اموال والے ہیں ، سوائے اس کے جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح (بےدریغ) خرچ کرے“۔ 5۔َ ”اَنْفِقُوْا“ (خرچ کرو) کا مصرف ذکر نہیں فرمایا، تا کہ عام رہے اور فرض و نفل ہر قسم کا خرچ کرتے رہنے کی تاکید ہوجائے۔ اس میں اپنی ذات پر ، اہل و عیال پر اور ان لوگوں پر خرچ کرنا بھی شامل ہے جن کی پرورش اس کے ذمے ہے۔ ضرورت کی دوسری جگہوں پر بھی ، صدقات کے ان آٹھ مصارف میں بھی جن کا سورة ٔ توبہ کی آیت (60) ”اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ۔۔۔“ میں ذکر ہے اور ان میں سے بھی خاص طور پر ان لوگوں پر جو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے وقف ہیں۔ دیکھئے سورة ٔ بقرہ (273) کی تفسیر۔ 6۔ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ۔۔۔۔۔۔: اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ حشر کی آیت (9) کی تفسیر۔”شح“ سے بچنے کی تاکید سے ظاہر ہے کہ اہل و عیال پر خرچ بھی اللہ کے ساتھ قرض حسن کے معاملے میں شامل ہے۔
Ayah 64:17

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم اللہ کو قرض دو گے، اچھا قرض تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا قدردان، بےحد بردبار ہے۔

1۔ اِنْ تُقْرِضُوا اللہ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ : اس کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (245) کی تفسیر۔ 2۔ وَ اللہ ُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ : اللہ ”شکور“ (بڑا قدر دان) ہے کہ تھوڑا سا خرچ کرنے پر اسے بےحساب بڑھاتا ہے اور گناہ بھی بخشتا ہے اور ”حلیم“ (بےحد بر باد) ہے کہ بڑی بڑی غلطیوں پر بھی فوراً نہیں پکڑتا ، بلکہ مہلت پر مہلت دیتا چلا جاتا ہے۔ اس میں ازواج و اولاد کے ساتھ معاملے میں ’ شکر و حلم“ اختیار کرنے کی طرف بھی اشارہ ہے کہ میاں بیوی اور والدہ اولاد دونوں ایک دوسرے کے معمولی حسن سلوک کی بھی قدر کریں اور ایک دوسرے کی کوتاہیوں پر برد باری سے کام لیں۔
Ayah 64:18

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ : یہ صفات یہاں ذکر کرنے سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ میاں بیوی اور والدہ واولاد کے باہمی معاملات سے پوری طرح واقف اللہ تعالیٰ ہی ہے ، لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہوسکتی ، کیونکہ وہ ان سے الگ رہتے ہیں۔ اس لیے ان میں سے ہر ایک کو ہر وقت اس عالم الغیب والشہادۃ کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور اس کی گرفت سے ڈرتے رہنا چاہیے ، کیونکہ وہ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔