Ayah 65:11۔ یٰٓـاَیُّھَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ۔۔۔۔: یہاں ایک سوال ہے کہ پہلے ”یایھا النبی“ کے ساتھ صرف نبی ﷺ کو خطاب کیا ، پھر ”اذا طلقتم“ میں جمع کے صیغے کے ساتھ خطاب کیوں کیا گیا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ چونکہ طلاق کے احکام میں آپ ﷺ اور آپ کی امت دونوں مشرک ہیں ، اس لیے آپ کو اور آپ کی امت دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے ”اذا طلقتم“ فرمایا ، مگر پہلے خاص طور پر آپ کو خطاب آپ کی تعظیم کے لیے ہے ، جیسے کسی قوم کے سردار سے کہا جاتا ہے ، اے فلاں ! تم ایسا کرو ، یعنی تم اور تمہاری قوم ایسا کرو۔ گویا یوں فرمایا کہ اے نبی ! جب تم لوگ طلاق دو ، یعنی آپ اور آپ کی امت طلاق دے۔
2۔”اذا طلقتم“ (جب تم طلاق دو) سے مراد یہ ہے کہ جب تم طلاق کا ارادہ کرو ، جیسا کہ سورة ٔ مائدہ کی آیت (6) ”اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ“ میں ہے۔
3۔”النسائ“ سے مراد صرف وہ عورتیں ہیں جن کے ساتھ نکاح کے بعد دخول ہوچکا ہو ، کیونکہ جن عورتوں کو دخول سے پہلے طلا ق دے دی جائے ان کی کوئی عدت نہیں۔ (دیکھئے سورة ٔ احزاب : 49)۔
4۔ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ : جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو یہ نہیں کہ جب چاہو طلاق دے دو ، بلکہ ان کی عدت کے وقت طلاق دو ، یعنی جب عورت حیض سے پاک ہو تو طہر کی حالت میں جماع کے بغیر طلاق دو ، تا کہ اس کی عدت کسی کمی یا زیادتی کے بغیر پوری ہو ، کیونکہ اگر تم حالت حیض میں طلا ق دو گے تو اگر اس حیض کو عدت میں شمار کرو تو عدت تین حیض سے کم رہ جائے گی اور اگر شمار نہ کرو تو تین حیض سے زیادہ ہوجائے گی ، کیونکہ بعد میں آنے والے تین حیضوں کے ساتھ اس حیض کے وہ ایام بھی شامل ہوں گے جو طلاق کے بعد باقی ہوں گے۔ اسی طرح اگر تم انہیں ایسے طہر میں طلاق دو گے جس میں ان کے ساتھ جماع کیا ہے تو ممکن ہے کہ حمل قرار پا جائے ، اس صورت میں معلوم نہیں ہو سکے گا کہ اس کی عدت کے لیے تین حیض کا اعتبار ہوگا یا وضع حمل کا۔ عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی جب وہ حیض کی حالت میں تھی ، عمر ؓ نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :(مرہ فلیرا جعھا ، ثم لیمسکھا حتیٰ تطھر ثم تحیض ، ثم تطھر ، ثم ان شاء امسک بعد وان شاء طلاق قبل ان یمس ، فتلک العدۃ النبی امر اللہ ان طلق لھا النسائ) (بخاری ، الطلاق ، باب قول اللہ تعالیٰ :(یایھا النبی۔۔۔۔) 5251)”اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے ، پھر اسے اپنے پاس رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو ، پھر اسے حیض آئے ، پھر پاک ہو ، پھر اگر چاہے تو اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو چھونے سے پہلے طلاق دے دے ، کیونکہ یہ ہے وہ عدت جس کے وقت اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“ اگر عورت حاملہ ہو تو اسے کسی بھی وقت طلاق دی جاسکتی ہے ، کیونکہ اس کی عدت وضع حمل معلوم اور واضح ہے ، جیسا کہ آگے ”واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن“ میں آرہا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ نے طلاق کے لیے یہ وقت اس لیے مقرر فرمایا ہے کہ جہاں تک ہو سکے میاں بیوی کا تعلق قائم رہے ، اگر کبھی آدمی کو غصہ آئے تو فوراً طلاق نہ دے بلکہ اس وقت کا انتظار کرے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اتنی دیر میں غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا اور حیض سے فراغت کے بعد خاوند کو بیوی کی طرف جو رغبت ہوتی ہے وہ طلاق سے باز رکھنے کا باعث ہوگی۔ اسی طرح حمل کی حالت خاوند کو طلاق سے روکنے کا باعث ہے ، کیونکہ آنے والے مہمان کی امید اسے اس اقدام سے باز رکھنے والی ہے۔ ان دونوں وقتوں میں طلاق دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ طلاق کسی وقتی اشتعال کی وجہ سے نہیں بلکہ خوب سوچ سمجھ کردی جا رہی ہے ، اس کے بعد عدت کی صورت میں ایک خاصی مدت تک دونوں کو ایک گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا ، ہوسکتا ہے کہ ان کا تعلق باقی رہنے کی کوئی صورت نکل آئے۔ افسوس ! مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پرواہی نہیں کی ، (الاماشاء اللہ) حالانکہ اگر وہ طلاق کے لیے اس وقت کا انتظار کرتے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے تو طلاق کی نوبت ہی بہت کم آتی ، پھر عدت کی برکت سے دوبارہ رجوع کی بھی بہت امید تھی۔
6۔ ایک وقت میں صرف ایک طلاق دینا ہی جائز ہے ، اس سے زیادہ دینا حرام ہے۔ اگر کوئی شخص ایک وقت میں ایک سے زیادہ طلاقتیں دے دے تو صرف ایک طلاق ہوگی۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (229، 230) کی تفسیر۔
7۔ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ :”احصیٰ یحصمی“ اچھی طرح شمار کرنا ، گننا۔ یہ ”حصی“ (کنکریاں) سے مشتق ہے۔ عرب امی تھے ، جب انہیں ایسی چیز گننا ہوتی جو تعداد میں زیادہ ہوتی تو ہر ایک کے لیے ایک کنکری رکھتے جاتے ، آخر میں کنکریوں کو گن لیتے۔”العدۃ“ (بروزن فعلۃ) بمعنی ’ ’ معدود“ ہے ، گنے ہوئے دن ، جیسے ”طحن“ بمعنی ’ ’ مطحون“ (پسا ہوا آٹا) ہے۔ یعنی وہ دن جن کے گزر جانے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح حلال ہوجاتا ہے۔ اس پر ’ ’ الف لام“ عہد کا ہے ، یعنی وہ عدت جو دوسری آیات میں بتائی گئی ہے۔ (دیکھئے بقرہ : 228۔ طلاق : 4) عدت کو اچھی طرح گننے کا حکم اس لیے دیا کہ ایسا نہ ہو کہ عدت گزرنے کے بعد بھی تم رجوع کرلو یا عدت گزرنے سے پہلے عورت کسی اور مرد سے نکاح کرلے ، جب کہ یہ دونوں کا م ناجائز ہیں۔
6۔ وَاتَّقُوا اللہ رَبَّکُم : ذاتی نام ”اللہ“ اور وصفی نام ”رب“ کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے ، جو ہر لمحے انسان کی پرورش کر رہا ہے ، ڈرانے کا حکم دیا ، یعنی ان ایام میں طلاق دینے سے اللہ سے ڈرتے رہو جن میں طلاق دینا ممنوع ہے ، کیونکہ اس میں اللہ کی نافرمانی بھی ہے اور عورت کو اذیت رسانی بھی۔ اسی طرح عدت کے ایام میں عورتوں کو گھروں سے نکالنے سے بھی ڈرو۔
9۔ لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْم بُیُوْتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ :”بیوتھـن“ سے مراد خاندوں کے گھر ہیں جن میں عورتیں رہ رہی ہیں، ان میں رہنے کی وجہ سے انہیں ان کے گھر فرمایا ہے۔ یعنی عورت کے لیے عدت کے ایام خاوند کے گھر میں گزارنا ضروری ہے ، نہ خاوندوں کو انہیں ان کے گھروں سے نکالنے کی اجازت ہے نہ انہیں خود ان سے نکل جانے کی۔ اس کی حکمت آگے ”لَعَلَّ اللہ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا“ میں بیان فرمائی کہ اتنی مدت ایک گھر میں اکٹھے رہنے سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی باہمی صلح اور رجوع کی کوئی صورت پیدا فرما دے گا۔ اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے اسی وقت الگ ہوگئے اور ملاقات کا موقع ہی نہ رہا تو رجوع کا معاملہ بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا خوف دلا کر نہایت تاکید کے ساتھ یہ حکم دیا ہے ، مگر مسلمانوں نے کم ہی اس کی پرواہ کی ہے ، شاید ہی کوئی ایسا مرد ہو جو طلاق کے بعد عورت کو اپنے گھر میں رہنے دے یا کوئی ایسی عورت ہو جو وہاں رہے۔
10۔ الاان یاتین بفاحشۃ مبینۃ : ’ ’ فاحشۃ“ کوئی بھی قول یا فعل جس میں بہت بڑی قباحت ہو۔”مبینۃ“ کھلی اور واضح۔”بفاحشۃ مبینۃ“ میں زنا ، چوری وغیرہ کے علاوہ عورت کا خاوند سے یا اس کے اہل خانہ سے بد زبانی اور گالی گلوچ کرنا بھی شامل ہے۔ طبریٰ نے محمد بن ابراہیم کی حسن سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے ، انہوں نے فرمایا :(الفاحشۃ ان تبذو علی اھلھا)”فاحشہ یہ ہے کہ گھر والوں پر زبان درازی کرے“۔
11۔ وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللہ ِط وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہ ِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہ : یعنی وہ مرد جو عورت کو اس وقت طلاق دیتا ہے جب طلاق دینے کا وقت نہیں ، یا عدت میں عورت کو گھر سے نکال دیتا ہے ، یا عدت میں عورت کو گھر سے نکال دیتا ہے ، یا وہ عورت جو خود ہی نکل جاتی ہے ، یہ نہ سمجھیں کہ وہ معمولی خطا کر رہے ہیں ، بلکہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں پھلانگ رہے ہیں اور جو اللہ کی حدیں پھلانگتا ہے یقینا وہ اپنی جان پر ظلم کر رہا ہے۔
12۔ لا تدری لعل اللہ یحدیث بعد ذلک اترا : یعنی طلاق کے بعد عورت کو عدت کے دوران خاوند کے گھر میں رہنے کا حکم اس لیے ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد ان کی باہمی موافقت کی کوئی صورت پیدا فرما دے اور خاوند اس سے رجوع کرلے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خاوند کے گھر میں رہ کر عدت گزارنے کا حکم اس طلاق میں ہے جس سے رجوع ہوسکتا ہو اور وہ صرف پہلی اور دوسری طلاق ہے ، ان دونوں کو رجعی طلاق کہتے ہیں ، ان کی عدت کے دوران عورت کی رہائش اور نفقہ خاوند کے ذمے ہے۔ رہی تیسری طلاق کی عدت ، تو اگرچہ عورت اس کے دوران آگے نکاح نہیں کرسکتی مگر خاوند رجوع بھی نہیں کرسکتا ، اس لیے اس کے دوران اس کی رہائش نہ صرف یہ کہ خاوند کے ذمے نہیں بلکہ اس کا خاوند کے ساتھ اس کے گھر میں رہنا ہی ٹھیک نہیں ، کیونکہ اس میں سابقہ بےتکلفی کی وجہ سے ان کے حد سے تجاوز کا خطرہ ہے جب کہ وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ، جیسا کہ فرمایا :(فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْم بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ) (البقرہ : 230)”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے“۔ اگرچہ بہت سے ائمہ نے اس کی رہائش خاوند کے ذمے قرار دی ہے ، مگر اس آیت کے مطابق اور رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث کے مطابق تیسری طلاق کے بعد اس کی رہائش خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ فاطمہ بنت قیس ؓ فرماتی ہیں :(انہ طلقھا زوجھا فی عھد النبی ﷺ و کان انفق علیھا نفقہ دون فلما رات ذلک قالت واللہ ! الا علمن رسول اللہ ﷺ فان کان لی نفقہ اخذت الذی یصلحنی وان لم تکن لی نفقۃ لم آخذ منہ شیائ، قالت فذکرت ذلک لرسول اللہ ﷺ فقال لا نفقۃ لک ولا سکنی) (مسلم ، الطلاق ، باب المطلقۃ البائن لا نفقۃ لھا : 37، 1480)”نبی ﷺ کے زمانے میں ان کے خاوند نے انہیں طلاق دے دی اور انہیں معمولی خرچہ دیا۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو کہا : ”اللہ کی قسم ! میں یہ بات رسول اللہ ﷺ کے علم میں لاؤں گی ، پھر اگر میرے لیے خرچہ ہوا تو اتنا لوں گی جو میری حالت درست رکھ سکے اور اگر میرے لیے خرچہ نہ ہوا تو میں کچھ بھی نہیں لوں گی“۔ فرماتی ہیں ، میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”تیرے لیے نہ خرچہ ہے نہ رہائش“۔ یاد رہے کہ صحیح مسلم کے اسی باب کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ ان کے خاوند نے انہیں تیسری طلاق دے دی تھی۔
Ayah 65:21۔ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ : یعنی جب انکی عدت ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے ، کیونکہ عدت ختم ہونے کے بعد تو رجوع ہو نہیں سکتا۔
2۔ فَاَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ۔۔۔۔: یعنی جب عورتوں کی عدت ختم ہونے کے بعد ہو ، صرف اتنی باقی ہو جس میں ان سے رجوع ہوسکتا ہو اتو انہیں معروف (اچھے طریقے) کے ساتھ روک لو یا معروف کے ساتھ ان سے جدا ہوجاؤ ، معروف کے ساتھ روکنے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ اچھے طریقے سے ان کے ساتھ رہنے کی نیت سے ان سے رجوع کر کے حسب سابق بیوی بنا کر رکھ لو اور اس رجوع پر گواہ بناؤ اور معروف طریقے سے جدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے رجوع نہ کرو بلکہ انہیں ان کے حال پر رہنے دو ، تا کہ عدت ختم ہوجائے اور وہ خود بخود تم سے جدا ہوجائیں ، پھر کسی لڑائی جھگڑے یا برا بھلا کہنے کے بغیر انہیں رخصت کر دو۔ اس میں اچھائی یہ ہے کہ اگرچہ عدت گزر نے کی وجہ سے وہ آزاد ہیں کہ جس مرد سے چاہیں شادی کرلیں ، مگر انہیں پہلے خاوندوں سے شادی کا بھی اختیار ہے۔
3۔ سورة ٔ بقرہ میں اور یہاں پہلی یا دوسری طلاق کے بعد دو ہی صورتیں بیان فرمائی ہیں ، ایک یہ کہ عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلو، دوسری یہ کہ اچھے طریقے سے چھوڑ دو ، یعنی رجوع نہ کرو بلکہ عدت ختم ہونے دو اور اچھے طریقے سے جدا ہوجاؤ ، عدت ختم ہونے سے پہلے دوسری یا تیسری طلاق دینے کا حکم نہیں دیا۔ جس عورت کو حیض آتا ہو اس کے لیے طلاق سنت یہی ہے۔ بعض حضرات طلاق کا سنت طریقہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جب عورت حیض سے پاک ہو تو جماع کے بغیر اسے ایک طلاق دو ، اگلے طہر میں دوسری طلاق دو اور تیسرے طہر میں تیسری طلاق دو ، حالانکہ یہ ہرگز طلاق سنت نہیں ہے۔ یہ طلاق سنت کیسے ہوسکتی ہے جب کہ ابھی پہلی طلاق کی عدت جاری ہے ، نہ وہ آخر کو پہنچی ہے نہ اس سے رجوع ہوا ہے ، تو دوسری اور تیسری طلاق کا کیا مطلب ؟ پھر اس میں بلا ضرورت عورت کو ہمیشہ کے لیے حرام کرنے کی تلقین کی گئی ہے جو شریعت کے مقصد ہی کے خلاف ہے۔ طلاق سنت صرف دو ہی ہیں ، ایک وہ جو آیت میں مذکور ہے اور عبد اللہ بن عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ عورت حیض سے پاک ہو تو جماع کے بغیر اسے طلاق دی جائے ، پھر اگر اسے بسانے کی نیت ہو تو عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلے ، یا عدت ختم ہوجانے دے ، جس سے وہ خود بخود جدا ہوجائے گی۔ طلاق سنت کی دوسری صورت یہ ہے کہ حمل کی حالت میں طلاق دے ، پھر وضع حمل سے پہلے یا تو رجوع کرلیے یا عدت ختم ہونے پر علیحدگی اختیار کرلے۔
ہر طہر میں طلاق کو سنت قرار دینے والے دلیل میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول بیان کرتے ہیں ، سنن نسائی میں ہے : (اخبر نا محمد بن یحییٰ بن ایوب قال حدثنا حفص بن غیاث قال حدثنا الاعمش ، عن ابی اسحاق عن ابی الاخوص ، عن عبد اللہ انہ قال طلاق السنۃ تطلیقۃ و ھی طاھر فی غیر جماع فاذ حاضت و طھرت طلقھا اخری فاذا حاضت و طھرت طلقھا اخری ثم تعتد بعد ذلک بحیضۃ) (نسائی ، الطلاق ، باب طلاق السنۃ : 3423)”عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا :”طلاق سنت یہ ہے کہ عورت کو طہر کی حالت میں جماع کے بغیر ایک طلاق دے ، پھر جب اسے حیض آئے اور وہ پاک ہو تو اسے دوسری طلاق دے ، پھر جب اسے حیض آئے اور وہ پاک ہو تو اسے تیسری طلاق دے ، پھر اس کے بعد ایک حیض عدت گزارے“۔ مگر اس روایت میں طلاق سنت کی جو تفصیل آئی ہے درست نہیں ، کیونکہ یہ قرآن کی آیت کے خلاف ہے اور خود عبد اللہ بن مسعود ؓ سے طلاق کا طریقہ آیت کے مطابق اس سند سے بہتر سند کے ساتھ ثابت ہے۔ ابن ابی شیبہ ؒ تعالیٰ فرماتے ہیں : (حدثنا و کیع ، عن اسرائیل ، عن ابی اسحاق ، عن ابی الاحوص ، عن عبد اللہ قال من اراد الطلاق الذی ھو الطلاق فلیطلقھا تطلیقۃ ، ثم یدعھا حتیٰ تحیص ثلاث حیض) (مصنف ابن ابی شیبۃ ، الطلاق ، باب ما یستحب من طلاق السنۃ : 5، 4، ح : 18036)
”عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا :”جو شخص طلاق دینا چاہیے ، جو اصل طلاق ہے ، وہ عورت کو ایک طلاق دے ، پھر اسے اسے کے حال پر چھوڑ دے یہاں تک کہ اسے تین حیض آجائیں“۔
واضح رہے کہ عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی دونوں روایتوں کی سند ابو اسحاق سے عبد اللہ بن مسعود ؓ تک ایک ہی ہے ، پھر نسائی کی روایت میں ابو اسحاق سے بیان کرنے والے اعمش ہیں جو مشہور مدلس ہیں ، جب کہ ابن ابی شیبہ کی سند میں ابو اسحاق سے بیان کرنے والے ان کے پوتے اسرائیل بن یونس بن اسحاق ہیں جن کے متعلق ابو حاتم نے فرمایا :”ھو من اتفن اصحاب ابی اسحاق“ وہ ابو اسحاق کے سب سے پختہ شاگردوں میں سے ہیں“۔ یاد رہے کہ اسرائیل پر تدلیس کی تہمت بھی نہیں ، اس لیے انہی کی روایت معتبر ہوگی۔ نسائی میں ابن مسعود ؓ سے طلاق سنت کی جو تعریف اعمش سے نروایت کی ہے وہ صحیح نہیں۔
4۔ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ : یعنی جب رجوع کا ارادہ کرو تو دو صاحب عدل آدمی گواہ بنا لو ، تا کہ بعد میں کسی قسم کے جھگڑے کا یا گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ باقی نہ رہے۔ مثلاً اگر خاوند نے رجوع کر لیاہو مگر گواہ نہ بنائے ہوں اور فوت ہوجائے تو اس کے وارث اس کی بیوی کو اس کی میراث سے یہ کہہ کر محروم کرسکتے ہیں کہ تمہیں تو طلاق ہوچکی تھی اور رجوع کا کوئی گواہ نہیں ، اس لیے تم نہ اس کی بیو ی رہی اور نہ میراث میں تمہارا حق ہے۔ اسی طرح اگر خاوند گواہوں کے بغیر رجوع کرلے اور عورت اللہ سے نہ ڈرتی ہو اور کہیں اور نکاح کرنا چاہتی ہو تو عدت ختم ہونے پر کہہ سکتی ہے کہ خاوند نے مجھ سے رجوع نہیں کیا ، اب میں آزاد ہوں اور جہاں چاہوں نکاح کروں۔ اسی طرح اگر گواہی کی شرط نہ ہو تو عدت ختم ہونے کے بعد بھی خاوند دعویٰ کرسکتا ہے کہ میں نے عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلیا تھا۔ رجوع کی طرح عدت کے خاتمے پر ایک دوسرے سے علیحدگی کی صورت میں بھی گواہ بنانے کا حکم ہے ، تا کہ اس طرح کی قباحتوں میں سے کوئی قباحت پیدا نہ ہو جن کا اوپر ذکر ہوا۔
واضح رہے کہ سنت یہی ہے کہ طلاق اور رجوع دونوں پر گواہ بنائے جائیں ، مطرف بن عبد اللہ کہتے ہیں :(ان عمران بن حصین سئل عن الرجل یطلق امراتہ ثم یقع بھا ولم یشھد علی طلاقھا ولا علی رجع تھا فقال طلقت لغیر سنۃ وراجعت لغیر سنۃ اشھد علی طلاقھا و علی رجع تھا ولا تعد) (ابو داؤد ، الطلاق ، باب الرجل یراجع ولا یشھد : 2186)”عمران بن حصین ؓ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے پھر اس سے جماع کرلیتا ہے ، لیکن نہ اس نے اس کی طلاق پر کوئی گواہ بنا یا ہے اور نہ اس کے رجوع پر ؟ تو انہوں نے فرمایا :”تم نے سنت کے خلاف طلاق دی اور سنت کے خلاف ہی رجوع کیا۔ اس کی طلاق پر گواہ بناؤ اور اس کے رجوع پر بھی گواہ بناؤ اور دوبارہ ایسا نہ کرنا“۔
5۔ وَاَقِیْمُوا الشَّہَادَۃَ ِﷲ: یہ گواہوں کو حکم ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے شہادت دو۔ یہ حکم اس لیے دعا کہ گواہی دینے میں آدمی کو کئی مشکلات در پیش ہوتی ہیں ، اسے اپنے نہایت اہم کام ترک کرنا پڑتے ہیں ، حاکم کے پاس حاضری دینا پڑتی ہے اور بعض اوقات دور دراز سے آنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی لوگوں کی ناراضی کا خطرہ مول لینا پڑتا ہے اور کئی اور موانع بھی ہوتے ہیں ، صرف اللہ کی رضا ایسی چیز ہے جس کی خاطر آدمی ہر مشقت برداشت کرتے ہوئے شہادت دیتا ہے اور سچی شہادت دیتا ہے۔
6۔ ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ۔۔۔۔۔۔۔۔: یعنی حضرات نے یہاں یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اوپر طلاق کا وقت مقرر کرنے یا اس کا شمار کرنے ، عدت کے دوران گھر سے نہ نکالنے ، عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلینے یا علیحدگی اختیار کرنے اور گواہ بنانے کے جو احکام دیئے گئے ہیں ان کی حیثیت وعظ و نصیحت کی ہے ، قانون کی نہیں۔ ان حضرات کی یہ بات درست نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ یہ احکام بھی قانون کی حیثیت رکھتے ہیں ، طلاق یا رجوع یا جو بھی عمل ان کے خلاف ہوگا اس کا کچھ اعتبار نہیں ، مثلاً کوئی شخص عدت کا شمار ہی نہیں کرتا تو اس کا رجوع یا فراق کیسے معتبر ہوسکتا ہے ؟ ہاں اگر کسی دوسری دلیل سے ثابت ہوجائے کہ ان میں سے فلاں حکم استحباب کے لیے ہے تو الگ بات ہے۔ قرآن مجید کی اصطلاح میں وعظ کا لفظ نہایت تاکید والے اکام کے لیے آتا ہے ، جن کے قانون ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں۔ دیکھئے سورة ٔ مجادلہ (3) ، بقرہ (231) ، نحل (90) اور سورة ٔ نور (17)۔
7۔ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا : میاں بیوی کے باہمی معاملات کو ان کے سوا یا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، اگر ان میں سے کوئی ظلم ، زیادتی یا خیانت کے بعد غلط بیانی پر اتر آئے تو دنیا میں اسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا ، صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر ہی ایسی چیز ہے جو انہیں ہر قسم کے گناہ سے با ز رکھ سکتا ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر معاملے کی طرح نکاح و طلاق کے معاملے میں بھی اپنے تقویٰ کی تاکید فرمائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نکاح کے موقع پر جو تین آیات پڑھتے تھے ان تینوں میں تقویٰ کی تاکید فرمائی ہے۔ یہاں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ گھریلو جھگڑوں میں آدمی اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کے لیے غلط کام یا غلط بات کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس طرح میرے مسائل حل ہوجائیں گے اور اگر میں ڈر کر صحیح کام کروں گا یا صحیح بات کروں گا تو پھنس جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آسان یا مشکل ہر موقع پر تم اللہ سے ڈرتے رہو اور وہی کام کرو جو اس کے تقویٰ کا تقاضا ہے۔ پھنسنے سے مت گھبراؤ ، جو بھی اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دے گا اور تقویٰ اختیار کرنے میں اگر کوئی نقصان ہوتا ہے ، بیوی ساتھ نہیں رہتی یا مال کا نقصان ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تلافی کے لیے اس سے بھی بہتر چیز وہاں سے دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوگا۔ دوسری جگہ اللہ تعالٰ نے بگڑے ہوئے معاملات کو درست کرنے کے لیے چالاکی اختیار کرنے اور جھوٹ فریب سے اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کے بجائے اللہ سے ڈرنے اور سیدھی اور صاف بات کہنے کا حکم دیا اور اس پر تمام بگڑے ہوئے معاملات کو درست کردینے اور گزشتہ غلطیوں پر پردہ ڈال دینے کا وعدہ کیا ، فرمایا :(یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْط وَمَنْ یُّطِعِ اللہ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا) (الاحزاب : 70، 71)”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور بالکل سیدھی بات کہو۔ وہ تمہارے لیے تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے تو یقینا اس نے کامیابی حاصل کرلی ، بہت بڑی کامیابی“۔
8۔”وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ“ کی جو تفسیر اوپر کی گئی ہے وہ اس مقام کی مناسبت سے ہے ، ورنہ آیت کے الفاظ عام ہیں۔ اس لیے صرف نکاح و طلاق ہی نہیں ، کسی مسئلے میں بھی جو شخص اللہ سے ڈرے گا اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اس کی نافرمانی سے بچے گا اللہ تعالیٰ جلدی یا دیر سے اس کے لیے نکلنے کا راستہ ضرور نکال دے گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اسی طرح جو اللہ سے ڈرتا رہے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا کے غم ، آخرت کی فکر اور موت اور قیامت کی سختیوں سے نکلنے کا راستہ بھی بنا دے گا۔
9۔ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالے سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ذکر کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا :(ان اجمع آیۃ فی القرآن) (اِنَّ اللہ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ) (النحل : 90) (وان اکبر آیۃ فی القرآن فرجا) (وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا) (الطلاق : 2)”قرآن کی سب سے جامع آیت ”ان اللہ یامر بالعدل والاحسان“ ہے اور قرآن کی مشکل سے نکلنے کی سب سے بڑی آیت ”ومن یتق اللہ یجعل لہٗ مخرجا“ ہے۔ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا کہ اس کی سند جید ہے۔
10۔ واضح رہے کہ اس مقام پر ابن کثیرنے مالک بن اشجعی ؓ کے بیٹے عوف بن مالک ؓ کا واقعہ ذکر کیا ہے جو دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا اور انہوں نے اسے باندھ رکھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی طرف پیغام بھیجو کہ وہ ”لاحوق ولا قوۃ الا باللہ“ کثرت سے پڑھے ، جس کے نتیجے میں اس کی ہتھکڑیں گرگئیں اور وہ دشمن کے اونٹ سمیٹ کر خیریت سے واپس آگیا۔ اس پر یہ آیت اتری :(وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ) اللہ تعالیٰ اور قدرت کے لحاظ سے ایسا ہونا کچھ مشکل نہیں ، مگر تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے لکھا ہے کہ اس کی سب سندیں مرسل یا منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہیں۔
Ayah 65:31۔ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ : مفسر عبد الرحمن کیلانی لکھتے ہیں :”اس مقام پر رزق کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ انسان دوران عدت مطلقہ عورت پر خرچ کرنے اور اس کو بھلے طریقے سے رخصت کرنے میں بخل سے کام نہ لے ، بلکہ اس سے جتنا بہتر سلوک کرسکتا ہے کرے۔ نیز بعض دفعہ صورت حال یہ ہوسکتی ہے کہ میاں بیوی کی آپس میں ٹھنی رہتی ہے مگر عورت صاحب جائیداد ہوتی ہے یا اچھا کما سکتی ہے تو خاوند اس کی چھوڑنے ہی پر آمادہ نہیں ہوتا ، مگر اس سے اچھا سلوک کرنے میں بھی ناکام ثابت ہوا ہے ، لہٰذا وہ عورت کو اپنے ہاں لٹکاتے رکھتا ہے۔ ایسی سب صورتوں میں اللہ سے ڈرتے ہوئے وہی کام کرنا چاہیے جو اللہ کا حکم ہو ، تنگ دستی سے نہیں ڈرنا چاہیے ، کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس سے ڈر کر اسی کے حکم کے مطابق چلے گا تو اس کی تنگدستی کو دورکرنا اللہ کے ذمے ہے ، وہ اسی کو ایسی جگہ سے رزق پہنچانے کا انتظام فرما دے گا جو پہلے اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی“۔ (تیسیر القرآن)
2۔ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہ ِ فَھُوَ حَسْبُہٗ۔۔۔۔۔: یعنی جو شخص غلام کام سے بچتے ہوئے حق پر قائم رہے اور اپنا معاملہ اور نفع ہو نقصان اللہ کے سپرد کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے کافی ہوجائے گا ، کیونکہ ہر قسم کے ظاہری اور باطنی اسباب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ، جب کہ انسان کی نطر صرف چند ظاہری اسباب تک محدود ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے اپنے ڈرنے والے کے لیے پریشانیوں سے نجات کی راہ پیدا کرسکتا ہے اور وہ پریشان اور تنگدستی دور کرنے کے لیے نئے اسباب بھی پیدا فرما سکتا ہے۔ اور اسباب کے بغیر بھی جو چاہے کرسکتا ہے ، کیونکہ اس کی قدرت اسباب کی پابند نہیں بلکہ اسباب اس کی مشیت کے تابع ہیں۔ وہ ظاہری اسباب سے بھی ایسے نتائج ظاہر کرسکتا ہے جو اسانی عقل کے برعکس ہوں ، وہ نہ چاہے تو محرب دوا بھی شفاء کے بجائے بیماری کا باعث بن جاتی ہے اور چاہے تو مضر صحت چیز شفاء کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
3۔ قَدْ جَعَلَ اللہ ُ لِکُلِّ شَیْئٍ قَدْرًا : یعنی اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے باوجود نکلنے کی راہ نہیں ملی اور نہ ہی اللہ پر توکل کے باوجود اس کی پریشانی دور ہوئی ہے تو اسے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ صبر اور حوصلے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کشادگی کا منتظر رہنا چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اسے ہر حال میں پورا کرنے والا ہے ، مگر اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ اور وقت اپنے کامل علم کے ساتھ شروع سے مقرر فرمایا ہے ، اس مقرر وقت پر اس کا توکل کرنے والوں کے لیے کافی ہوجانے کا وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ درحقیقت یہ ہے کہ تقدیر پر ایمان ہی انسان کو مشکلات میں صبر اور حوصلہ دلاتا ہے، فرمایا :(قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَا کَتَبَ اللہ ُ لَنَاج ھُوَ مَوْلٰـنَاج وَعَلَی اللہ ِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ) (التوبۃ : 51)”کہہ دے ہمیں ہرگز نہیں پہنچے گا مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا وہی ہمارا مالک ہے اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ ایمان والے بھروسہ کریں“۔ مزید دیکھئے سورة ٔ قمر (49) ، فرقان (2) ، رعد (8) اور سورة ٔ حجر (21)۔
Ayah 65:41۔ وَالّٰئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ۔۔۔۔:”اتی“”اللاتی“ کی طرح ”التی“ کی جمع ہے ، وہ عورتیں۔ ’ ازتبتم“ ’ ریب“ (شک) میں سے باب افتعال ماضی مطلق معروف جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے ، اصل میں ’ ’ ارتیبتم“ تھا۔ یعنی وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہیں اور وہ عورتیں جنہیں حیض آیا ہی نہیں ، اگر انہیں دخول کے بعد طلاق ہو تو ان کی عدت تین قمری مہینے ہے ، جب کہ دخولے بغیر طلاق ہو تو ان پر کوئی عدت نہیں۔ دیکھئے سورة ٔ احزاب (49)۔
2۔ اِنِ ارْتَبْتُمْ (اگر تمہیں شک ہو) کے تین مطلب ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ اگر تمہیں شک ہو کہ عدت تو حیض سے شمارہوتی ہے اور ان عورتوں کا حیض بند ہے یا آیا ہی نہیں تو ان کی عدت کا کیا کیا جائے ، تو ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ان کی عدت تین قمر ی مہینے ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ ابن جریر نے یہی معنی پسند فرمایا ہے اور معنی کے لحاظ سے زیادہ ظاہر یہی ہے۔ ابن جریر نے اس پر ابی بن کعب ؓ کی روایت بطور دلیل ذکر فرمائی ہے کہ انہوں نے عرض کیا : ”یا رسول اللہ !“ کئی طرح کی عورتوں کی عدت کا ذکر قرآن میں نہیں آیا ، یعنی چھوٹی عمر کی عورتیں ، عمر رسیدہ عورتیں اور حاملہ عورتیں۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :(والی یسن من المحیض من نسائکم)”اور وہ عورتیں جو تمہاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہوچکی ہیں“۔ ابن کثیر نے اس کے علاوہ ابن ابی حاتم کی سند کے ساتھ اسی مفہوم کی مفصل روایت ذکر کی ہے ، مگر تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا کہ ان دونوں کی سند میں عمرو بن سالم (ابو عثمان انصاری) راوی ہے جسے تقریب میں مقبول کہا گیا ہے ، یعنی اس کی متابعت ہو تو اس کی روایت قبول ہے ورنہ کمزور ہے اور یہاں اس کی متابعت نہیں کی گئی ، لہٰذا اس کی سند ضعیف ہے۔ اس تفسیر کے مطابق ”ان ارتبتم“ کے الفاظ کا کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ایسی عورتوں کو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں ، بیماری کا خون (استحاضہ) شروع ہوجائے اور تم فیصلہ نہ کرسکو کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ تو ان کی عد ت تین قمری مہینے ہے۔ یہ مجاہد اور زہری کا قول ہے۔ (طبری : 23، 69، ح : 4617، 34618، بسند صحیح) اس سے ظاہر ہے کہ جب شک کی صورت میں ان کی عدت تین ماہ ہے تو اگر انہیں کسی قسم کا خون آتا ہی نہیں اور ان کے حیض سے مایوس ہونے میں کوئی شک ہی نہیں تو ان کی عدت بالاولیٰ تین ماہ ہے۔
تیسرا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ عام قاعدہ یہی ہے کہ جن عورتوں کا حیض بند ہوگیا ہو یا شروع ہی نہ ہوا ہو انہیں حمل نہیں ہوتا ، مگر شاذ و نادر ایسی عورتوں کو بھی حمل ہوجاتا ہے اور یہاں مسئلہ ان عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جنہیں دخول کے بعد طلاق دی گئی ہے ، اس میں حمل کا امکان بہر حال رہتا ہے۔ سو اگر تمہیں آثار سے ان کے حاملہ ہونے کا شک پڑجائے تو ان کی عدت تین ماہ ہے ، اتنی مدت میں ان کا حاملہ ہونا نہ ہونا واضح ہوجائے گا۔ اگر حاملہ نہ ہوں تو عدت تین ماہ ہی ہے اور اگر حمل ظاہرہو جائے تو ان کی عدت وضع حمل ہے ، جیسا کہ فرمایا :(والاوت الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن) کہ حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ اس سے ظاہ رہے کہ اگر حیض سے مایوس عمر رسیدہ عورت یا ایسی عورت جسے حیض آیا ہی نہیں اور ان کے متعلق حمل کا کوئی شک بھی نہ ہو تو ان کی عدت بالاولیٰ تین ماہ ہے۔
3۔ وَالّٰئِیْ لَمْ یَحِضْنَ : یعنی وہ عورتیں جنہیں حیض آیا ہی نہیں ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ اس میں چھوٹی عمر کی لڑکیاں بھی شامل ہیں جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو اور بڑی عمر کی عورتیں بھی جنہیں کسی وجہ سے حیض شروع ہی نہیں ہوسکا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ چھوٹی عمر کی لڑکی سے نکاح ہوسکتا ہے اور اس کا خاوند اس سے جماع بھی کرسکتا ہے۔ کفار کے کہنے پر چھوٹی عمر کی شادی پر پابندی لگانا یا بالغ ہوجانے والی لڑکیوں کی شادی پر اٹھارہ سال کی یا کسی مخصوص عمر کی پابندی لگانا اللہ تعالیٰ کے احکام کی صریح مخالفت ہے۔
4۔ وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ :”اولات“ ”ذات“ کی جمع ہے جیسا کہ ”اوتو“”ذو“ کی جمع ہے۔”اولات الاحمال“ حمل والیاں۔ آیت کے الفاظ عام ہیں۔ اس لیے حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہی ہے ، خواہ اس کے خاوند نے اسے طلاق دی ہو یا اس کا خاوند فوت ہوجائے۔ صحیح احادیث سے بھی یہی بات ثابت ہے کہ حاملہ عورت کا خاوند فوت ہوجائے تو بچہ پیدا ہونے کے ساتھ اس کی عدت ختم ہوجائے گی ، خواہ خاوند فوت ہونے کے فوراً بعد بچہ پیدا ہوجائے یا کئی ماہ کے بعد پیدا ہو۔ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ کے ہاں ان کے خاوند کے قتل ہونے کے چالیس دن بعد بچہ پیدا ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں نکاح کرنے کی اجازت دے دی۔ (بخاری ، التفسیر ، باب :(و اولات الاحمال۔۔۔): 4909) رہی وہ عورتیں جو حاملہ نہ ہوں اور ان کے خاوند فوت ہوجائیں تو ان کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ دیکھئے سورة ٔ بقرہ (234)۔
5۔ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا : اس سورت میں بار بار اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی تاکید کی گئی ہے ، وجہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے مسائل بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک آدمی ہر وقت اللہ سے ڈرتا نہ رہے وہ اپنی بیوی کے معاملہ میں بےراہ رو ہوجاتا ہے ، اس لیے کتاب و سنت میں اپنی بیویوں سے حسن سلوک کی بار بار تاکید آئی ہے۔ (کیلانی) اس مقام کی مناسبت سے اس کے کام میں آسانی پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرے گا اول تو طلاق کے وقت کے انتظار کی وجہ سے طلاق کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور اگر اللہ کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق طلاق دے گا تو عدت کے اندر اسے رجوع کا حق حاصل رہے گا اور اگر عدت ختم ہوجائے تو دوبارہ نکاح کا موقع باقی رہے گا۔
Ayah 65:51۔ ذٰلِکَ اَمْرُ اللہ ِ اَنْزَلَـہٗٓ اِلَیْکُمْ : اس میں طلاق اور عدت کے احکام کی اہمیت بیان کرنا مقصود ہے۔
2۔ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰ تِہٖ۔۔۔۔: اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے پانچ فائدے بیان فرمائے ہیں، سب سے پہلا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا ، دوسرا یہ کہ اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان نہیں ہوگا ، تیسرا یہ کہ اس کے لیے اس کے معاملات میں آسانی پیدا فرما دے گا ، چوتھا یہ کہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا اور پانچواں یہ کہ اسے اجر عظیم عطاء فرمائے گا۔
Ayah 65:61۔ اَسْکِنُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ : اس میں ان عورتوں کا حکم بیان فرمایا ہے جنہیں پہلی یا دوسری طلاق دی گئی ہو۔ پہلے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ عدت پوری ہونے تک انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں ، اب اسی کی تفصیل ہے۔”من حیث سکنتم“ میں ”من“ تبعیض کے لیے ہے ، یعنی جہاں تم رہتے ہو اس کے کسی حصے میں انہیں بھی رہنے کے لیے جگہ دو۔”من وجدکم“ اپنی وسعت کے مطابق ، یعنی مکان ذاتی ہے یا کرائے کا یا خیمہ وغیرہ ہے، جہاں رہتے ہو وہیں انہیں رکھو۔ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بیان فرمایا ہے کہ اتنی مدت ایک جگہ رہنے کی وجہ سے ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ دوبارہ موافقت کی صورت پیدا فرما دے اور رجوع ہوجائے ، اس دوران ان کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہے۔ تیسری طلاق کے بعد چونکہ رجوع کی گنجائش نہیں ، اس لیے خاوند کے ساتھ رہائش کا حکم بھی نہیں اور نہ ہی ان کا خرچ خاوند کے ذمے ہے ، جیسا کہ پہلی آیت کے فائدہ (12) میں فاطمہ بنت قیس ؓ کی صحیح حدیث میں گزر چکا ہے۔
2۔ وَلَا تُضَآرُّوْہُنَّ لِتُضَیِّقُْوْا عَلَیْہِنَّ : یعنی انہیں نفقہ میں کمی یا نا مناسب رہائش یا بد زبانی یا مار پیٹ کے ساتھ تکلیف پہنچا کر تنگ نہ کرو کہ وہاں رہیں تو تنگی میں مبتلا رہیں یا پھر مکان چھوڑ کر چلی جائیں یا مہر چھوڑ دیں۔
3۔ وَاِنْ کُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ۔۔۔۔۔: مطلقہ عورت اگر حاملہ نہیں تو رجعی طلاق کی صورت میں اس کا نفقہ اور رہائش خاوند کے ذمے ہے ، تیسری طلاق کی صورت میں اس کا نفقہ یا رہائش خاوند کے ذمے نہیں ، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ البتہ اگر وہ حاملہ ہے تو رجعی طلاق کی صورت میں بچہ پیدا ہونے تک اس کا نفقہ اور رہائش دونوں خاوند کے ذمے ہیں اور اگر تیسری طلاق ہے تو وضع حمل تک صرف اس کا خرچہ خاوند کے ذمے ہے۔
4۔ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَکُمْ فَاٰ تُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ : اس جملے سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بچہ باپ کا ہوتا ہے ماں کا نہیں ، کیونکہ ماں اس بچے کے باپ کے لیے دودھ پلا رہی ہے اور اجرت لے رہی ہے ، اگر بچہ ماں کا ہو تو اجرت لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ عورت اپنے دودھ کی خود مالک ہے ، وہ طلاق دینے والے خاوند سے بھی اسی طرح اجرت لے سکتی ہے جیسے دوسروں سے۔
5۔ وَاْتَمِرُوْا بَیْنَکُمْ بِمَعْرُوْفٍ :”واتمروا“ ”اثتمرا یا تمرا ائتمارا“ (افتعال) مشورہ کرنا ، جیسا کہ سورة ٔ قصص میں فرمایا :(یموسیٰ ان الملاء یا تمرون بک لیقتلوک) (القصص : 20)”اے موسیٰ ! بیشک سردار تیرے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں تو تجھے قتل کردیں“۔ طلاق کے بعد عموماً میاں بیوی کو اور ان کے تعلق والوں کو حکم دیا کہ بچے کو دودھ پلانے ، اس کے علاج و تربیت اور اس کی بہتری کے لیے آپس میں اچھے طریقے سے مشورہ کرتے رہو، ایسا نہ ہو کہ تمہاری کشیدگی بچے کو نقصان پہنچانے کا باعث بن جائے۔
6۔ وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہٗٓ اُخْرٰی : یعنی اگر ماں کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دودھ پلانے سے انکار کر دے ، یا اجرت اتنی زیادہ مانگے جو خاوند کی استطاعت یا معروف رواج سے زیادہ ہو ، یا خاوند اس کی طلب کردہ اجرت دینے پر تیار نہ ہو ، یا کسی اور وجہ سے آپس میں ضد پیدا ہوجائے اور ماں دودھ نہ پلائے تو ضروری نہیں کہ ہر حال میں ماں ہی دودھ پلائے ، بلکہ کوئی اور عورت اسے دودھ پلا دے گی۔
Ayah 65:71۔ لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ۔۔۔: اس سے معلوم ہوا کہ نفقہ میں بیوی کی حالت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ خاوند کی حالت کے مطابق نفقہ واجب ہوگا۔ اگر خاوند وسعت والا اور مال دار ہے تو اس کے مطابق خرچ کرے گا اور اگر وہ تنگدست ہے تو اللہ نے اسے جو کچھ دیا ہے اس میں سے اپنی طاقت کے مطابق خرچ کرے۔
2۔ سَیَجْعَلُ اللہ ُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا : اس میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو خاوند حسب مقدور وہ خرچے پورے کرتے ہیں جو انکے ذمے ہیں اور ان میں بخل نہیں کرتے ، تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے تنگی کے بعد آسانی کو کوئی نہ کوئی صورت ضرور پیدا فرما دے گا۔”سیجعل“ میں ”سین“ استقبال کے علاوہ تاکید کا مفہوم بھی رکھتا ہے۔”عسر“ اور ”یسرا“ دونوں میں تنوین تنکیر کے لیے ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس آسانی پیدا کرنے کی بیشمار صورتیں ہیں ، تنگی خواہ کسی قسم کی ہو اللہ تعالیٰ اس میں آسانی کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا فرما سکتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ تنگی میں اپنی طاقت کے مطابق دریغ نہ کرے ، اللہ تعالیٰ نے دے گا ، جیسا کہ فرمایا :(فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا) (الانشراح : 5، 6)”پس بیشک ہر مشکل کے ساتھ ایک آسانی ہے ، بیشک اسی مشکل کے ساتھ ایک اور آسانی ہے“۔
Ayahs 65:8–9وَ کَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّھَا وَرُسُلِہٖ۔۔۔:”عتت“ ”عتا یعتو عتوا“ (ن) سے ماضی معلوم ہے ، اصل میں ”عتوت“ ہے۔ ”نکرا“ اجنبی ، نہ پہچانا ہوا ، جو نہ دیکھا ہو نہ سنا۔ اب تک اللہ تعالیٰ نے طلاق وغیرہ کے متعلق اپنے احکام کا ذکر فرمایا تھا، یہاں سے بتایا جا رہا ہے کہ پچھلی جن بستیوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی اختیار کی ان کا انجام کیا ہوا۔ مقصد مسلمانوں کو ان احکام کی اہمیت بتانا اور ان کی پابندی کی تلقین کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی اقوام کی بربادی میں شرک و کفر کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے ان تفصیلی احکام کی مخالفت بھی تھی جو زندگی کے ہر شعبے میں انہوں نے دیے ، جس کی وجہ سے ان کے اندر حد سے بڑھی ہوئی سرکشی اور فساد پیدا ہوا۔ مثلاً جب انہوں نے شرک و کفر کے ساتھ نکاح و طلاق کے ضابطوں کی پابندی سے سرکشی اختیار کی تو زنا اور قوم لوط کا عمل عام ہوا ، جس کی وجہ سے قتل و غارت کا بازار گرم ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انکا بہت سخت محاسبہ کیا اور انہیں ایسی سزا دی جو کسی نے نہ دیکھی تھی نہ سنی تھی۔ آج کے دور میں کفار نے شرک و کفر پر اصرار کے ساتھ ساتھ ان ضابطوں کی بھی شدید مخالفت اختیار کر رکھی ہے ، جس کے نتیجے میں ان کا معاشرہ بےپناہ بد اخلاقی ، بد امنی اور قتل و غارت کا شکار ہوچکا ہے اور بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ اب ان کی کوشش یہ ہے کہ مسلمان بھی ان احکام سے آزادہو جائیں اور ان میں بھی زنا قوم لوط کا عمل اور قتل و غارت پھیل جائے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں کے عذاب کا حوالہ دے کر مسلمانوں کو ان کے انجام سے ڈرایا ہے۔
Ayah 65:101۔ اَعَدَّ اللہ ُ لَھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا : پچھلی آیات میں دنیا کے عذاب کا ذکر تھا ، اس میں آخرت کے عذاب کا ذکر ہے۔
2۔ فَاتَّقُوا اللہ یٰٓـاُولِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : یہ ”فائ“ فصیحہ ہے جو محذوف شرط کا اظہار کر رہی ہے ، یعنی جب تم ان بستیوں کا حال سن چکے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی اختیار کی تو اے عقل والوں جو ایمان لا چکے ہو ! تم اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی نافرمانی سے بچ جاؤ۔
3۔ قَدْ اَنْزَلَ اللہ ُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا :”ذکرا“ پر تنوین تعظیم کی ہے ، عظیم نصیحت۔
Ayah 65:111۔ رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللہ ِ مُبَیِّنٰتٍ :”رسولا“ پچھلی آیت میں مذکور ’ ’ ذکرا“ سے بدل ہے ، یعنی یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف عظیم ذکر نازل کیا ہے جو رسول ہے ، یعنی رسول ﷺ کا وجود سراپا نصیحت ہے کہ اس کا قول ، فعل ، حال اور تقریر سب نصیحت ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سورة ٔ حجر (9) میں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ) (بیشک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں) اس میں ”الذکر“ سے مراد صرقرآن مجید نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ پر نازل شدہ ساری وحی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی بھی حفاظت فرمائی ہے اور رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال اور احوال و تقریرات کی بھی حفاظت فرمائی ہے۔
2۔ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ۔۔۔۔: اس کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (257) کی تفسیر۔
Ayah 65:121۔ اَﷲُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ۔۔۔۔: سورت کے آخر میں اس کے اندر مذکور احکام کی عظمت کی طرف توجہ دلانے کے لیے آسمان و زمین کی پیدائش ، ان میں اپنے اوامر کے نزول اور اپنے علم و قدرت کا ذکر فرمایا ، تا کہ یہ بات مد نظر رہے کہ یہ احکام دینے والا کون ہے۔ بارہ (12) آیات پر مشتمل اس سورت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کے تقویٰ کے ساتھ شروع ہوا ہے جو اس کے نام ، اس کی ضمیر اور اس کی طرف نسبت کی صورت میں تقریباً تیس (30) مرتبہ آیا ہے اور آخر میں پھر اس عظیم ہستی کا تعارف ان صفات کے ساتھ دہرایا ہے۔ (ابن عاشور)
2۔ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمانوں کی کیفیت تو اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمائی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے اوپر تہ بہ تہ ہیں جیسا کہ فرمایا :(اَلَمْ تَرَوْا کَیْفَ خَلَقَ اللہ ُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا) (نوح : 15) ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے پیدا کیا“۔
3۔ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَھُنَّ : قرآن مجید میں آسمان کا ذکر واحد کے صغیے ”السمائ“ کے ساتھ بھی آیا ہے اور جمع کے صیغے ”سموت“ کے ساتھ بھی ، مگر زمین کا ذکر واحد کے صیغے کے ساتھ آیا ہے ، آسمانوں کی طرح اوپر تلے سات زمینیں ہونے کا ذکر نہیں فرمایا۔ یہاں فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مثل یعنی مانند۔ مانند ہونے کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ زمین بھی اپنی عظمت ، برکت آبادی اور کردیت (گول ہونے) میں آسمانوں کی طرح ہے۔ دوسرا مطلب جو اکثر مفسرین نے مراد لیا ہے، یہ ہے کہ سات آسمانوں کی طرح زمینیں بھی اوپر تلے سات ہیں۔ اس کی دلیل میں وہ صحیح حدیث پیش کی ہے جو عبد اللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(من اخذمن الارض شیاء بغیر حقہ حسف بہ یوم القیامۃ الی سبع ارضین) (بخاری ، المظالم ، باب اثم من ظلم شیئا من الارض : 2454)”جو شخص میں سے کچھ بھی اس کے حق کے بغیر لے گا اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا“۔
حدیث میں مذکور سات زمینوں سے مراد تو ظاہر ہے کہ اسی زمین کے سات طبقات ہیں جس پر ہم رہتے ہیں ، لیکن کیا آیت میں مذکور سات زمینوں سے بھی یہ طبقات مراد ہیں یا ہماری زمینیں جیسی اور چھ زمینیں ہیں ، یہ بات اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کائنات کے بےپناہ وسعتوں کو دیکھیں تو کچھ بعید نہیں کہ ہماری زمین جیسی اور زمینیں بھی ہوں جو ہماری زمین ہی کی طرح آباد ہوں ، جیسا کہ فرمایا :(وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلاَّ ھُو) (المدثر : 31)”اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا“۔ اور اللہ تعالیٰ نے اکیلے ہی آسمان و زمین کو پیدا فرمایا ، کوئی اس وقت موجود نہ تھا کہ ان کے اسرار سے پوری طرف واقف ہو ، جیسا کہ فرمایا :(مَآ اَشْھَدْتُّھُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) (الکہف : 51)”میں نے انہیں آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں حاضر نہیں کیا“۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایجاد کا جو سلیقہ فرمایا ہے جس سے بڑی بڑی طاقتور دوبینیں ایجاد ہوئی ہیں ، ہیئت دان ان کے ساتھ کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہر دن نئے سے نیا انکشاف ہوتا ہے۔ ہمارے لیے اتنی بات ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات پیدا فرمائی ہیں۔ رہی ان کی کیفیت اور متعین مراد ، تو وہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اس نے اسے مجمل رکھا ہے تو اس میں ہماری بہتر ی ہے ، کیونکہ اگر اس کی واقعی کیفیت بیان ہوئی تو اپنی ذہنی نا رسائی کی وجہ سے ممکن تھا کہ کئی لوگ انکار ہی کردیتے۔
4۔ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَھُنَّ : اللہ تعالیٰ کا امر دو قسم کا ہے ، ایک امر کونی ہے ، یعنی وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے ”کن“ (ہوجا) کہتا ہے تو وہ ہوجاتی ہے اور ایک امر شرعی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے سے اپنے احکام نازل فرماتا رہتا ہے ، یعنی آسمانوں اور زمینوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کے اوامر کونی اور اوامر شرعی اترتے رہتے ہیں۔ اس میں بھی اس سورت میں مذکور احکام کی اہمیت کا اظہار ہو رہا ہے کہ وہ ان عظیم الشان آسمانوں اور زمینوں کے خالق ومالک کے احکام ہیں۔
5۔ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌلا وَّاَنَّ اللہ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْمًا : یعنی زمین و آسمان کی پیدائش کی یہ بات تمہیں اس لیے بتائی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی ہر چیز پر پوری قدرت کو اور اس کے ہر چیز پر علم کے ساتھ احاطے کو جان لو ، پھر جب تم اس کی قدرت اور علم سے واقف ہوجاؤ گے تو اس کے احکام کی نافرمانی کی جرأت نہیں کرو گے۔