66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے نبی ! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے ؟ تو اپنی بیویوں کی خوشی چاہتا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

1۔ یٰٓـاَ یُّہَاالنَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہ ُ لَکَ : وہ چیز کیا تھی جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے آپ پر حرام کی اور یہ آیات نازل ہوئیں ؟ اس کے متعلق ایک تو وہ مشہور واقعہ ہے جو صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہ میں نقل ہوا ہے ، عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں :(کان رسول اللہ ﷺ یشرب عسلا عند زینب ابنۃ جحش و یمکت عندھا فواطات انا و حفصۃ عن ایتنا دخل علیھا فلتقل لہ اکلت مغافیر ، انی اجد منک ریح مغافیر ، قال لا ولکنی کنت اشرب عسلا عند زینب بنۃ جحش فلن اعود لہ و قد حلقت لا تخبری بذلک احدا) (بخاری ، التفیر ، باب (یایھا النبی لم تحریم۔۔۔) : 4912۔ مسلم : 1474)”رسول اللہ ﷺ زینب حجش ؓ کے پاس شہد پیا کرتے تھے اور ان کے پاس ٹھہر جاتے تھے ، تو میں نے اور حفصہ نے آپس میں اس بات پر اتفاق کرلیا کہ آپ ﷺ ہم میں سے جس کے پاس بھی آئیں وہ آپ سے یہ کہے کہ آپ نے مغافیر کھائی ہے ، کیونکہ مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے۔ (جب آپ ﷺ کے آنے پر یہ بات کہی گئی تو) آپ ﷺ نے فرمایا : ”نہیں ، لیکن میں زینب بنت حجش کے پاس شہد پیا کرتا تھا، دوبارہ کبھی نہیں پیوں گا اور میں نے (اس بات کی) قسم کھالی ہے ، تم یہ بات کسی کو نہ بتانا“۔ امام بخاری ؒ تعالیٰ نے ”کتاب الطلاق“ میں بھی یہ حدیث نقل فرمائی ہے ، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں :(فنزلت :(یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک) (بخاری ، الطلاق ، باب (لم تحرم ما احل اللہ لک): 5267)”یعنی اس واقعہ پر یہ آیت اتری :(یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک)”اے نبی ! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے ؟“ واضح ہے کہ مغافیر ایک بدبو در میٹھی گوند ہوتی ہے جو عرفط نامی پودے پر پیدا ہوتی ہے۔ عائشہ اور حفصہ ؓ کا مطلب یہ تھا کہ آپ کو بدبو سے بہت نفرت ہے ، آپ یہ سوچ کر شہد پینا چھوڑ دیں گے کہ مغافیر کی بو شہد ہی سے آرہی ہوگی ، کیونکہ ممکن ہے شہد کی مکھیوں نے اس کے پودے عرفط کا رس چوس کر شہد بنایا ہو۔ دوسرا وہ واقعہ ہے جو امام نسائی نے انس ؓ سے بیان کیا ہے :(ان رسول اللہ ﷺ کانت لہ امتۃ یطوھا فلم تنزل بہ عائشۃ و حفصۃ حتی حرمھا علی نفسہ فانزل اللہ عزوجل :(یایھا النبی لم تحرم ما لعل اللہ لک) الی آخر الایۃ) (نسائی ، عشرۃ النساء ، باب الغیرۃ : 3411)”رسول اللہ ﷺ کی ایک لونڈی تھی جس سے آپ صحبت کیا کرتے تھے ، تو عائشہ اور حفصہ ؓ مسلسل آپ سے اصرار کرتی رہیں ، حتیٰ کہ آپ نے اسے اپنے آپ پر حرا م کرلیا ، تو اللہ عزوجل نے یہ مکمل آیت نازل فرمائی :(یا یھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک)”اے نبی ! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے ؟“ علامہ البانی نے فرمایا :”اسنادہ صحیح“ اور حافظ ابن حجر نے ”کتاب الطلاق ، باب :(لم تحرم ما احل اللہ)”کی شرح کرتے ہوئے اس حدیث کی سند کو صحیح کہا ہے۔ یہ لونڈی ماریہ قبطیہ ؓ تھیں ، جو آپ ﷺ کے بیٹے ابراہیم کی ماں تھیں ، ضیاء مقدسی نے ”الاحادیث المختارۃ ‘ ‘ میں روایت کی ہے کہ عمر ؓ نے بیان کیا :(قال النبی ﷺ لحفصۃ لا تحدثی احدا وان ام ابراہیم علی حرام فقالت اتحرم ما احل اللہ لک ؟ قال فول اللہ ! لا اقربھا ، قال فلم یقربھا ، حتیٰ اخبرت عائشۃ فانزل اللہ عزوجل :(قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم) (الاحادیث المختارۃ : 189)”نبی ﷺ نے حفصہ ؓ سے کہا کہ تم کسی کو نہ بتانا یہ کہ ام ابراہیم مجھ پر حرام ہے۔“ انہوں نے کہا : کیا آپ وہ چیز حرام کر رہے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”اللہ کی قسم ! میں اس کے قریب نہیں جاؤں گا“۔ تو آپ اس کے قریب نہیں گئے ، حتیٰ کہ اس (حصفہ ؓ نے یہ بات عائشہ ؓ عنہاکو بتادی تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرما دی :(قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم) ”بیشک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے۔“ ضیاء مقدسی نے حدیث کے آخر میں فرمایا :’ ’ اسنادہ صحیح“ اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ہیثم بن کلیب کی مسند کے حوالے سے اسے نقل کر کے فرمایا ، یہ اسند صحیح ہے اور کتب ستہ میں سے کسی نے اسے روایت نہیں کیا اور ضیاء مقدسی نے اپنی ”المستخرج“ میں اس کا انتخاب کیا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ اور واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں مگر ان میں سے کسی کی سند صحیح ان دونوں واقعات میں سے شہد والے واقعہ کی سند زیادہ صحیح ہے ، کیونکہ وہ صحیحین میں ہے ، اس لیے بعض مفسرین نے صرف اسی کو ان آیات کا سبب نزول قرار دیا ہے ، چناچہ قرطبی کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام اقوال میں سب سے صحیح پہلا ہے اور صحیح یہ ہے کہ آپ نے حرام شہد کو کیا تھا جو آپ زینب ؓ کے ہاں پیا کرتے تھے اور ابن کثیر نے اس کے متعلق بہت سی روایات نقل کرنے کے بعد فرمایا : ”صحیح یہ ہے کہ یہ معاملہ آپ ﷺ کے شہد کو حرام کرنے کی وجہ سے ہوا تھا“۔ اور آلوسی نے فرمایا :”نووی نے مسلم کی شرح میں کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ آیت شہد کے واقعہ کے بارے میں ہے نہ کہ ماریہ قبطیہ ؓ کا واقعہ کسی صحیح سند کے ساتھ نہیں آیا“۔ مگر جیسا کہ اوپر گزرا کہ ماریہ قبطیہ ؓ کے قصے کی سند کو ضیاء مقدسی ، ابن کثیر ، ابن حجر اور البانی ؒ تعالیٰ نے صحیح کہا ہے ، شہدوالے واقعہ سے اس کا کوئی تعارض بھی نہیں اور ایک آیت کا سبب نزول کئی واقعات بھی ہوسکتے ہیں ، اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ دونوں واقعات ان آیات کا سبب نزول ہیں ، شو کانی نے بھی یہی فیصلہ فرمایا ہے۔ 2۔ احادیث سے ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نے شہد کو امت کے لیے حرام قرار نہیں دیا تھا ، بلکہ صرف خود اسے نہ پینے کی قسم کھائی تھی۔ اسی طرح امت کے لیے ان کی لونڈیوں کو حرام قرار نہیں دیا ، بلکہ صرف اپنی ایک لونڈی کو اپنے آپ پر حرام قرار دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر بھی ناراضی کا اظہار فرمایا ، کیونکہ آپ کے ایسا کرنے سے آپ کا ان نعمتوں سے محروم ہونا لازم آتا تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کی تھیں۔ اس کے علاوہ اندیشہ تھا کہ آپ کو دیکھ کر امت کے لوگ ، جن کے لیے نبی ﷺ اسوۂ حسنہ کاملہ ہیں ، شہد کے قریب نہیں جائیں گے اور یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کو گوارا نہیں تھیں۔ 3۔ اس سے معلوم ہوا کہ صوفی حضرات جو ترک حیوانات جلالی و جمالی کرتے ہیں ، یعنی اپنے چلوں اور وظیفوں کے درمیان کوئی جاندار چیز یا اس سے نکلنے والی چیز مثلاً گوشت ، مچھلی ، انڈا ، دودھ ، گھی اور شہد وغیرہ نہیں کھاتے ، ان کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی اس تنبیہ کے خلاف ہے۔ حقیقت میں یہ عمل ہندو جوگیوں یا نصرانی راہبوں سے لیا گیا ہے ، اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ 4۔”یا ایھا النبی“ کے الفاظ کے ساتھ خطاب کا مقصد یہ ہے کہ آپ کا کام وحی الٰہی پر چلنا اور اسے آگے پہنچانا ہے ، آپ کو اپنی مرضی سے کچھ بھی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ 5۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسو ل اللہ ﷺ کے ہر قول ، فعل اور تقریر پر وحی الٰہی کی مہر ہے اور وہ سب کا سب دین ہے ، کیونکہ اگر آپ کا کوئی اجتہاد درست نہیں ہوتا تھا تو اللہ تعالیٰ فوراً اس کی اصلاح فرما دیتا تھا۔ آپ ﷺ کے معصوم ہونے کا یہی مطلب ہے ، انبیاء کے علاوہ کسی کو یہ چیز حاصل نہیں کہ وحی کے ذریعے سے ان کی خطاء کی اصلاح ہوتی ہو۔ اس لیے کسی صحابی یا امام یا پیر فقیر کی بات امت کے لیے حجت نہیں ، کیونکہ وہ درست بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی۔ 6۔ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ : اس میں نبی ﷺ اور امت کو تعلیم ہے کہ بیویوں کو خوش رکھنا اگرچہ اچھی بات ہے ، مگر اس وقت تک جب وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر قائم رہ کر ہو ، رب تعالیٰ کو ناراض کر کے انہیں راضی کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ 7۔ وَ اللہ ُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ : یہ اللہ تعالیٰ کا اپنی نبی کریم ﷺ پر خاص انعام و فضل ہے کہ عتاب کرتے ہوئے ساتھ ہی معافی اور مغفرت و رحمت کی خوش خبری بھی سنا دی ، جیسا کہ فرمایا :(عَفَا اللہ ُ عَنْکَج لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ) (التوبۃ : 43)”اللہ نے تجھے معاف کردیا ، تو نے ان (منافقین) کو پیچھے رہنے کی اجازت کیوں دی ؟“۔
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

بیشک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے اور اللہ تمہارا مالک ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

1۔ قَدْ فَرَضَ اللہ ُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ :”تحلۃ“ ”حلل“ (تفعیل) کا مصدر ”تحلیل“ اور ”تحلۃ“ دونوں آتے ہیں ، جیسے ”کرم“ کا مصدر ”تکریم“ اور ”تکرمۃ“ دونوں آتے ہیں۔ معنی ہے حلال کرنا ، مراد قسم کا کفار ہ ہے۔ جس کے ادا کرنے کے بعد وہ چیز حلال ہوجاتی ہے جو قسم کھا کر حرام کی تھی ، یعنی آپ نے قسم کھا کر جو شہد اور ماریہ کو حرام کیا ہے ، اس قسم کا کفارہ دے دیں۔ قسم کا کفارہ اللہ تعالیٰ نے سورة ٔ مائدہ (89) میں بیان فرمادیا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(وانی واللہ ! ان شاء اللہ لا اخلف علی یمین فازی غیرھا خیرا منھا الا کفرت عن یمینی ، واتیت الذی ھو خیر) (بخاری ، الایمان ، والنذور ، باب قول اللہ تعالیٰ : (لا یواخذ کم اللہ۔۔۔) 6623)”اور اللہ کی قسم ! میں ، اگر اللہ نے چاہا تو کسی بھی بات پر قسم کھاؤں گا ، پھر اس کے خلاف کو اس سے بہتر دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دوں گا اور وہ کام کروں گا جو بہتر ہے“۔ ناجائز کام کی قسم کھالے تو اسے توڑنا اور اس کا کفارہ دینا ضروری ہے۔ 2۔ وَ اللہ ُ مَوْلٰـکُمْ وَہُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ :”مولیٰ“ کا معنی ہے مالک، دوست ، مدد گار۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارا مالک تمہارا مدد گار اور تم پر بےحد مہربان ہے ، اسی لیے اس نے تمہیں ایسی چیزوں سے منع فرمایا ہے جو تمہیں مشکل میں مبتلا کردیں اور اگر قسم کھا کر ایسی کسی مشکل میں پڑجاؤ تو اس سے نکلنے کا طریقہ بھی بتادیا ہے ، کیونکہ :(یُرِیْدُ اللہ ُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُبِکُمُ الْعُسْرَ) (البقرہ : 185)”اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا“۔ اور وہی ہے جو سب کچھ جاننے والا اور کمال حکمت والا ہے ، اس لیے اس کے کسی حکم میں کوئی خطا نہیں ، کیونکہ اس کے تمام احکام کامل علم و حکمت پر مبنی ہیں۔
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کہی، پھر جب اس (بیوی) نے اس بات کی خبر دے دی اور اللہ نے اس (نبی) کو اس کی اطلاع کردی تو اس (نبی) نے (اس بیوی کو) اس میں سے کچھ بات جتلائی اور کچھ سے اعراض کیا، پھر جب اس (نبیـ) نے اسے یہ (راز فاش کرنے کی) بات بتائی تو اس نے کہا تجھے یہ کس نے بتایا ؟ کہا مجھے اس نے بتایا جو سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے۔

1۔ وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا : اس بیوی سے مراد حفصہ ؓ ہیں ، جیسا کہ اس سے پہلے شہد اور ماریہ قبطیہ ؓ والے واقعات میں گزر چکا ہے کہ آپ نے ان سے کہا تھا کہ یہ بات کسی کو نہ بتانا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی کوئی بات فرمائی ہو جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمایا۔ 2۔ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ وَاَظْہَرَہُ اللہ ُ عَلَیْہِ : پھر جب حفصہ ؓ نے وہ بات جس کے راز رکھنے کی نہیں رسول اللہ ﷺ نے تاکید فرمائی تھی ، عائشہ ؓ کو بتادی اور اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اس بات کی اطلاع دے دی۔ 3۔ عَرَّفَ بَعْضَہٗ وَاَعْرَضَ عَنْم بَعْضٍ : تو آپ ﷺ نے حفصہ ؓ عنہاکو اس میں سے کچھ بات جتلائی کہ تم نے یہ بات آگے بتادی ہے اور کچھ سے اغراض کیا۔ آپ نے انہیں کیا جتلایا اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا ، اس لیے سلامتی اسی میں ہے کہ اسے اسی طرح مبہم رہنے دیا جائے۔ 4۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کا کمال حسن خلق اور حلم و کرم ظاہر ہے کہ ناراضی کا اظہار کرتے وقت ایک ایک بات کا ذکر کر کے طعن و تشنیع نہیں فرمائی ، بلکہ کچھ بات کا ذکر کیا اور کچھ سے اعراض فرمایا۔ 5۔ قَالَتْ مَنْ اَنْبَاَ کَ ہٰذَاط قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ : حفصہ ؓ نے خیال کیا کہ آپ کو یہ بات عائشہ ؓ نے بتائی ہوگی ، اس لیے پوچھ لیا کہ آپ کو یہ بات کس نے بتائی ہے ؟ آپ نے فرمایا، مجھے اس نے بتائی ہے جو سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز سے با خبر ہے۔
Ayah 66:4

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو (تو بہتر ہے) کیونکہ یقینا تمہارے دل (حق سے) ہٹ گئے ہیں اور اگر تم اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقینا اللہ خود اس کا مددگار ہے اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے مددگار ہیں۔

1۔ اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللہ ِ۔۔۔۔: اس آیت میں خطاب عائشہ اور حفصہ ؓ سے ہے۔ عبد اللہ بن عباس ؓ عنہانے فرمایا :(لم ازل حریصا ان اسال عمر عن المراتین من ازواج النبی ﷺ اللتین قال اللہ تعالیٰ :(ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما) (حتیٰ حج عمر و حججت معہٗ فلما کنا ببعض الطریق عدل عمر و عدلت معہ بالا دواۃ فتبر ز ثم الانی فسکبت علی یدیہ فتوضا فقلت یا امیر المومنین ! من المر من ازوج النبی ﷺ اللتان قال اللہ عزوجل لھما :(ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما) ؟ قال عمر واعجبا لک یا ابن عباس ! ھی حفصۃ و عائشۃ) (مسلم ، الطلاق ، باب فی الایلائ۔۔۔۔: 34، 1479)”مجھے ہمیشہ خواہش رہی کہ میں عمر بن خطاب ؓ سے نبی ﷺ کی بیویوں میں سے ان دوعورتوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :(ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما) یہاں تک کہ انہوں نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا ، ایک جگہ وہ راستے سے ہٹ کر (قضائے حاجت کے لیے) ایک طرف کو گئے تو میں بھی پانی کا لوٹا لے کر ان کے ساتھ اس طرف کو چلا گیا۔ پھر وہ فارغ ہو کر آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا ، انہوں نے وضو کیا تو میں نے کہا :”اے امیر المومنین ! نبی ﷺ کی بیویوں میں سے وہ دو عورتیں کون ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :(ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما) ”انہوں نے فرمایا :”ابن عباس ! تم پر تعجب ہے ، وہ دونوں حفصہ اور عائشہ ؓ ہیں“۔ 2۔ فقد صغت قلوبکما : ”صغا یصغو صغوا“ (ن) اور ”صغی یصغی صغیا“ (س) مائل ہونا ، ایک طرف جھک جانا۔ اس سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی ان دو بیویوں کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ تھا ، جن کی وجہ سے آپ ﷺ نے شہد اور ماریہ ؓ سے اجتناب کی قسم کھائی تھی ، اب انہیں مخاطب کر کے توبہ کی تلقین فرمائی ہے۔ اس آیت کی تفسیر تقریباً تمام قدیم مفسرین نے یہ کی ہے کہ اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کروتو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور تمہیں توبہ کرنی ہی چاہیے ، کیونکہ تمہارے دل درست بات سے دوسری مائل ہوگئے ہیں اور تم نے رسول اللہ ﷺ کو ان کی پسندیدہ چیزوں شہد اور ماریہ ؓ سے اجتناب کی قسم تک پہنچا کر درست کام نہیں کیا۔ لفظوں کے تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ آیت کا یہی مفہوم طبری ، قرطبی ، رازی ، ابن جزی ، ابن عطیہ ، ابوالسعود ، بغوی ، ابن جوزی ، سمر قندی اور دوسرے جلیل القدر مفسرین نے بیان فرمایا ہے اور ظاہر بھی یہی ہے ، کیونکہ ان ازواج مطہرات کی دلی خواہش کہ رسول اللہ ﷺ زینب ؓ کے ہاں شہد نہ پئیں اور اپنی ام ولد ماریہ ؓ کے پاس نہ جائیں ، کسی طرح بھی درست قرار نہیں دی جاسکتی۔ خود اللہ تعالیٰ نے ان کی خواہش کو پورا کرنے کی وجہ سے نبی ﷺ پر محبت آمیز عتاب فرمایا۔ موجودہ دور کے بعض حضرات نے اس معنی کو ان ازواج مطہرات کی توہین قرار دے کر اس کا انکار کردیا ، ان کے خیال میں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ازواج مطہرات کے دل حق سے ہٹے ہوئے تھے ، حالانکہ کسی ایک بات میں کسی شخص کے دل کا میلان نادرست بات کی طرہوجائے تو اسے پورے راہ صواب سے ہٹا ہوا نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی کسی مفسر کے کسی حاشیہ خیال میں امہات المومنین کے متعلق کوئی ایسی بات ہے اور یہاں تو امہات المومنین نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر سر تسلیم خم کیا اور سچے دل سے توبہ کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں ان کے لیے ازواج رسول ہونے کا شرف برقرار رکھا ، پھر ان کے متعلق کون کہہ سکتا ہے کہ ان کے دل راہ صواب سے ہٹے ہوئے تھے ؟ ایک مطلب آیت کا یہ ہے اور بعض حضرات نے اسی کو درست اور دوسرے ہر مطلب کو غلط قرار دیا ہے کہ ”اگر تم اللہ کی طرف توبہ کرو تو تم سے کچھ بعید نہیں ، کیونکہ تمہارے دل پہلے ہی توبہ کی طرف مائل ہوچکے ہیں“۔ مفسر قرطبی نے پہلے معنی کے علاوہ اس معنی کا ذکر بھی کیا ہے۔ مگر اسی کو درست اور دوسرے معنی کو غلط اور لغت عرب سے ناواقفیت قرار دینا اہل علم کا شیوہ نہیں۔ اہل علم کا شیوہ تو وہ ہے جو قرطبی نے اختیار فرمایا ہے کہ دونوں معنی ذکر فرما دیے ، جو راجح تھا اسے پہلے ذکر فرمایا مگر دوسرے کا انکار نہیں کیا۔ یہ بات تسلیم کہ ”صغا یصغو“ اور ”صغی یصغی“ کے الفاظ کسی چیز کی طرف مائل ہونے کے لیے آتے ہیں ، مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ یہ حق ہی کی طرف مائل ہونے کے لیے آتے ہیں ، ناحق کی طرف مائل ہونے کے لیے نہیں آتے۔ ناحق کی طرف مائل ہونے کا مفہوم حق سے ہٹنے کے سوا کیا ہوسکتا ہے ؟ سورة ٔ انعام کی آیت (113) (وَلِتَصْغٰٓی اِلَیْہِ اَفْئِدَۃُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ) میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے اس میں ان کے دل حق کی طرف مائل ہونے کا نہیں بلکہ ناحق ہی کی طرف مائل ہونے کا ذکر ہے۔ اس لیے شاہ ولی اللہ ، شاہ عبد القادر ، شاہ رفیع الدین ، احمد علی لاہوری ، فتح محمد جالندھری اور دوسرے مترجمین نے پہلے مفہوم والا ترجمہ ہی کیا ہے، حتیٰ کہ ایک مترجم صاحب جو رسول اللہ ﷺ کی محبت کا بہت بلند بانگ دعویٰ رکھتے ہیں اور اہل توحید کو گستاخ اور بےادب قرار دیتے نہیں تھکتے ، انہوں نے بھی یہ ترجمہ کیا ہے :”نبی کی دونوں بیویو ! اگر اللہ یک طرف تم رجوع کرو تو ضرور تمہارے دل راہ حق سے کچھ ہٹ گئے ہیں“۔ تو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے نزدیک ازواج مطہرات کے دل راہ حق سے کچھ ہٹے ہوئے تھے ؟ 3۔ وَاِنْ تَظٰہَرَا عَلَیْہِ :”تظھرا“ باب تفاعل سے فعل مضارع ہے جو اصل میں ”تنظاھران“ تھا ، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کردی گئی اور حرف شرط ”ان“ کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ اس کا مادہ ”ظھر“ (پشت) ہے۔ باب تفاعل میں تشارک کا معنی ہوتا ہے ، ایک دوسرے کی پشت پناہی کرنا ، ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ ”تظھرا“ کے بعد ”علیہ“ کا معنی ہے ، اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو۔ 4۔ فَاِنَّ اللہ ہُوَ مَوْلٰـہُ :”مولیٰ“ کا معنی مالک بھی ہے اور مدد گار بھی۔ اگر مالک معنی کریں تو یہ جملہ ”مولہ“ پر مکمل ہوگیا اور ”جبریل“ سے ”ظھیر“ تک الگ جملہ ہے ، کیونکہ مالک صرف اللہ ے اور کوئی مالک نہیں ، جب کہ مدد اللہ کی طرف سے بھی ہوتی ہے اور بندوں کی طرف سے بھی ، جیسا کہ فرمایا :(ھُوَالَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ) (الانفال : 62)”وہی ہے جس نے تجھے اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی“۔ اور فرمایا :(اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہ ُ) (التوبۃ :)”اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلا شبہ نے اس کی مد کی۔“ اور فرمایا :(وَّیَنْصُرُوْنَ اللہ وَرَسُوْلَہٗ ط) (الحشر : 8)”اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں“۔ اور فرمایا :(مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللہ ِ) (آل عمران : 52)”کون ہیں جو اللہ کی طرف میرے مدد گار ہیں ؟“ یعنی اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو تو بہتر ہے اور اگر تم دونوں رسول اللہ ﷺ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو ہمارے رسول کو تمہاری کچھ پرواہ نہیں ، کیونکہ اللہ اس کا مالک ہے اور جبریل اور صالح مومنین اور اس کے بعد تمام فرشتے اس کی مدد گار اور پشت پناہ ہیں۔ اور اگر ”مولیٰ“ کا معنی مدد گار کریں تو پہلا جملہ ”صالح المومنین“ پر پورا ہوگا اور دوسرا جملہ ”والملئکۃ“ (مبتدائ) سے شروع ہو کر ”ظھیر“ پر ختم ہوگا۔ یعنی اگر تم دونوں اس کے خلاف ایک دوسری کی مدد کرو تو یقینا اللہ اور جبریل اور صالح مومنین اس کے مدد گار ہیں اور اس کے بعد تمام فرشتے اس کے پشت پناہ اور مدد گار ہیں۔ یہ دوسرا معنی راجح ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ مالک تو ہر ایک کا ہے ، صرف نبی ﷺ کا نہیں ، ہاں ! خاص نصرت اس کی اپنے رسولوں اور ایمان والوں کے ساتھ ہے ، کفار کے ساتھ نہیں ، جیسا کہ فرمایا :(اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰـوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ لا) (المومن : 51)”بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے“۔ 5۔ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْن :”صالح“ اسم جنس ہے جو واحد و جمع سب پر بولا جاتا ہے ، اس لیے جمع کا لفظ ”صالحو المومنین“ بولنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ 6۔ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیْرٌ : یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ مبتدائ ”المکئکۃ“ جمع کی خبر ”ظھیر“ واحد کیوں ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ ”فعیل“ کا وزن واحد ، تثنیہ ، جمع اور مذکور و مؤنث سب کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 66:5

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اس کا رب قریب ہے، اگر وہ تمہیں طلاق دے دے کہ تمہارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں ہوں، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں۔

1۔ عَسٰی رَبُّہٗٓ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٗٓ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ۔۔۔۔۔: اس آیت میں عائشہ اور حفصہ ؓ کے ساتھ دوسری بیویوں کو بھی خطاب میں شامل فرما لیا ہے ، کیونکہ بعض باتوں خصوصاً خرچے میں اضافے کے مطالبے کے ساتھ انہوں بھی رسول اللہ ﷺ کو اتنا پریشان کیا کہ آپ نے ایک ماہ کے لیے ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھالی ، جس کے مکمل ہونے پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ احزاب (28، 29) کی تفسیر۔ انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ عمر ؓ نے فرمایا :(اجتمع نساء النبی ﷺ فی الغیرۃ علیہ فقلت لھن عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجاً خیرا منکن فنزلت ھذہ الایۃ) (بخاری ، التفسیر ، باب (عیسیٰ ربہ ان طلقکن۔۔۔۔): 4916)”نبی ﷺ کی بیویاں غیرت (رشک و رقابت) میں آپ کے خلاف اکٹھی ہوگئیں تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ ﷺ تمہیں طلاق دے دیں تو آپ کا رب قریب ہے کہ آپ ﷺ کو تم سے بہتر بیویاں دے دے ، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی“۔ عبد اللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ مجھے عمر بن خطاب ؓ نے بیان کیا :”جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کی تو میں مسجد میں داخل ہوا ، دیکھا کہ لوگ (متفکر بیٹھے ہوئے) کنکریوں کے ساتھ زمین پر نکتے بنا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی عورتوں کو طلاق دے دی ہے اور یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ، تو میں نے کہا ، میں آج یہ بات ضرور معلوم کرکے رہوں گا“۔ خیر عمر ؓ نے اپنے عائشہ اور حفصہ ؓ کے پاس جانے اور انہیں نصیحت کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا :”میں داخل ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا غلام رباح ؓ بالا خانے کی دہلیز پر موجود ہے، (جس بالا خانے میں آپ نے ایک ماہ بیویوں سے علیحدہ رہ کر گزارا) میں نے اسے آواز دی اور کہا اے رباح ! میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے آپ کے پاس جانے کی اجازت مانگو۔“ مختصر یہ کہ عمر ؓ اجازت ملنے پر اندر گئے اور آپ کو مانوس کرنے کے لیے کچھ باتیں کہیں۔ فرماتے ہیں :”میں نے کہا ، یا رسول اللہ ﷺ ! آپ پر عورتوں کے معاملے میں کیا مشکل پیش آئے گی ؟ سو اگر آپ نے انہیں طلاق دے دی ہے تو اللہ آپ کے ساتھ ہے اور اس کے فرشتے اور جبریل اور میں اور ابوبکر اور تمام مومن آپ کے ساتھ ہیں۔ اور میں نے کم ہی کبھی کوئی بات کی اور میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، مگر یہ امید رکھی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کو سچا کردے گا ، تو یہ آیت یعنی آیت تخیر اتری :(عَسٰی رَبُّہٗٓ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٗٓ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ) (التحریم : 5)”اس کا رب قریب ہے ، اگر وہ تمہیں طلاق دے دے کہ تمہارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے“۔ اور یہ آیت اتری (اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللہ ِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَاج وَاِنْ تَظٰہَرَا عَلَیْہِ فَاِنَّ اللہ ہُوَ مَوْلٰـہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَج وَالْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیْرٌ) (التحریم : 4)”اور اگر تم اس کے خلاف ایک دوسرے کی مد کرو تو یقینا اللہ خود اس کا مد د گار ہے اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے مدد گار ہیں“۔ (مسلم ، الطلاق ، باب فی الایلاء و اعتزل النساء و تخییر ھن۔۔۔۔ 1479) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ’ صالح المومنین“ سے مراد سب سے پہلے ابوبکر و عمر ؓ ہیں ، پھر ان کے ساتھ تمام مومن شامل ہیں اور یہ آیت بھی موافقت عمر ؓ میں سے ہے ، یعنی وہ آیات جو ان باتوں کے موافق اتریں جو عمر ؓ نے کہی تھیں۔ ان میں بدر کے قیدیوں کا معاملہ ، حجاب کا معاملہ ، حجاب کا معاملہ ، مقام ابراہیم کو جائے نماز بنانے کا معاملہ اور دوسری کئی باتیں شامل ہیں۔ 2۔ اس آیت میں نبی ﷺ کو بیویوں کو تنبیہ ہے کہ تم اس خیال میں نہ رہنا کہ نبی ﷺ کو تم سے بہتر بیویاں نہیں مل سکتیں ، اس لیے تم جس طرح چاہو نبی ﷺ پر دباؤ ڈالتی رہو، بلکہ اگر آپ نے تمہیں طلاق دے دی تو آپ کا رب قریب ہے کہ آپ کو تم سے کہیں بہتر بیویاں عطاء فرما دے۔ 3۔ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ : ان صفات کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔ (دیکھئے احزاب : 35)”تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ“ کے لیے دیکھئے سورة ٔ توبہ (112)۔ 4۔ ثٰـیِّبٰتٍ وَّاَبْکَارًا :”ثینتٍ“ ثیب“ کی جمع ہے ، طلاق یافتہ یا بیوہ عورت۔ یہ ”ثاب یثوث ثوبا“ (ن) سے مشتق ہے ، اسے ”ثیب“ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ خاوند سے واپس لوٹ آتی ہے اور پھر اسی طرح خاوند کے بغیر رہ جاتی ہے جیسے پہلے تھی۔ ”ابکارا“ ”بکر“ کی جمع ہے، کنواری۔ اسے ”بکر“ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ابھی اپنی اسی پہلی حالت پر ہوتی ہے جس پر پیدا ہوئی تھی اور ہر جنس میں سب سے پہلی چیز کو بکر کہتے ہیں۔ پہلی صفات کے درمیان واؤ عطف نہیں لائی گئی ، کیونکہ وہ سب ایک وقت میں جمع ہوسکتی ہیں ، مگر کسی عورت میں ان دونوں میں سے ایک وقت میں ایک ہی صفت ہوسکتی ہے ، اس لیے واؤ عطف لائی گئی ہے۔ بیشک رسول اللہ ﷺ نے کنواری عورتوں کے ساتھ نکاح کی ترغیب دلائی مگر بعض اوقات ثیبات میں علم و عقل اور تجربے وغیرہ کی ایسی صفات ہوتی ہیں جو انہیں ابکار پر ترجیح دینے کا باعث ہوتی ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو دونوں طرح کی بیویاں عطاء فرمائیں۔ 5۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو آپ کی ازواج سے بہتر ازواج عطاء کرنے کی امید اس شرط پر دلائی تھی کہ آپ موجودہ بیویوں کو طلاق دے دیں ، مگر نہ آپ ﷺ نے انہیں طلاق دی اور نہ اللہ تعالیٰ نے ان سے بہتر بیویاں آپ کو دیں ، بلکہ انہی کو بہتر ہونے کا اور دنیا اور آخرت میں آپ ﷺ کی ازواج رہنے کا شرعطاء فرمایا۔ 6۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آدمی کو بیوی کے انتخاب کے وقت ان صفات کی حامل عورت کو ترجیح دینی چاہیے جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(تنکح المراۃ لا ربع : لما لھا و لحسبھا وجمالھا ولدینھا ، فاظفر بذات الذین تربت یداک) (بخاری ، النکاح ، باب الاکفاء ، فی الدین : 509، عن ابی ہریرہ ؓ) ”عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے ، اس کے مال کی وجہ سے ، اس کے حسب اور اس کے جمال کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے ، سو تو دین والی عورت کے ساتھ نکاح میں کامیابی حاصل کر ، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں“۔ 7۔ اس مقام پر بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ”ثیب“ سے مراد آسیہ زوجہ ٔ فرعون ہیں اور ”بکر“ سے مراد مریم بنت عمران ہیں ، ان دونوں کا نکاح جنت میں نبی ﷺ سے کیا جائے گا ، مگر ایک تو اس بات کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ اس میں پہلی بیویوں کو طلاق دینے کی صورت میں ان کے بدلے میں ان سے بہتر ثیبات و ابکار بیویاں عطاء کرنے کا ذکر ہے اور جب آپ نے پہلی بیویوں کو طلاق ہی نہیں دی تو ان کے بدلے میں اور بیویوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ جنت میں ان دونوں عظیم خواتین کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کر دے تو یہ ناممکن نہیں ، مگر یہ باثت ہونا تو ضروری ہے ، جب کہ کسی صحیح دلیل سے یہ بات ثابت نہیں۔
Ayah 66:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، اس پر سخت دل، بہت مضبوط فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انھیں حکم دے اور وہ کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں۔

1۔ یٰٓـاَیَّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا : پچھلی آیات میں امہات المومنین کی تربیت اور ان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کا بیان تھا ، اب تمام ایمان والوں کو اس کا حکم دیا جا رہا ہے۔”نارا ‘ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے ، یعنی اس عظیم آگ سے بچ جاؤ۔”قوا“ (بچاؤ) ”و قی یقی وقیا و و قایۃ“ (ض) سے امر حاضر جمع مذکر ہے۔ اس میں ایمان والوں کو ایک نہایت اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائیں اور اس کے ساتھ اپنے گھر والوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کا اہتمام کر کے انہیں بھی جہنم کی آگ سے بچائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(کلکم راع و کلم مسؤل عن رعیتہ) (بخاری ، الجمۃ ، باب الجمعۃ فی القری والمدن : 893)”تم میں سے ہر ایک راعی (نگہبان) ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جانے والا ہے“۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺ اور امت کے ہر فرد کو اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دینے اور اس پر پابند رہنے کا حکم دیا، فرمایا :(وَاْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا) (طہٰ : 132)”اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ“۔ اس مقصد کے لیے بچپن ہی سے انہیں نماز روزے اور اسلام کے دوسرے احکام پر عمل کی عادت ڈالنی چاہیے اور سمجھ دار ہونے پر اس کے لیے سختی کی ضرورت ہو تو وہ بھی کرنی چاہیے ، خواہ ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں اور سن تمیز شروع ہونے کے ساتھ ہی انہیں جنسی بےراہ روی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عبد اللہ بن عمر و ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(مروا اولاد کم بالصلاۃ وھم ابناء سبع سنین واضربوھم علیھا وھم ابناء عشر سنین و فرقوا بینھم فی المضاجع) (ابو داؤد ، الصلاۃ ، باب متی یوم الغلام بلالصلاۃ ، 495، وقال الالبانی حسن صحیح)”اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو ، جب وہ سات برس کے ہوں اور اس پر انہیں مارو جب وہ دس برس کے ہوں اور بستروں میں انہیں ایک دوسرے سے الگ کر دو“۔ 2 وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (24) کی تفسیر۔ 3۔ عَلَیْہَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ۔۔۔۔۔:”غلاظ“ ”غلیظ“ کی جمع ہے، سخت دل والے ، بےرحم اور ”شداد ‘ ”شدید“ کی جمع ہے ، سخت قوت والے ، نہایت مضبوط۔ یہاں جہنم پر مقرر فرشتوں کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ 1۔ وہ نہایت سخت دل ہیں ، انہیں کسی پر رحم نہیں آئے گا۔ 2۔ سخت قوت والے ہیں ، کوئی ان کی گرفت سے نکل نہیں سکے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ انہیں جو حکم بھی دے اس کی نافرمانی نہیں کرتے۔ 4۔ اور وہ کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرتے ، بلکہ وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ انبیائ (27)
Ayah 66:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

اے لوگو جنھوں نے کفر کیا ! آج بہانے مت بناؤ، تم صرف اسی کا بدلہ دیے جاؤ گے جو تم کیا کرتے تھے۔

یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُو الْیَوْمَ۔۔۔: یعنی جب وہ سخت دل اور سخت قوت والے فرشتے جہنمیوں کو جہنم میں ڈالیں گے تو وہ مختلف عذر کریں گے اور بہانے بنائیں گے ، اللہ تعالیٰ نے ان کے مختلف بہانے قرآن مجید میں ذکر فرمائے ہیں۔ (دیکھئے اعراف : 38۔ انعام : 23، 24، 27) مگر انہیں کہا جائے گا کہ آج کوئی عذر بہانہ نہ کرو ، کیونکہ تمہیں اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا ، تمہیں انہی اعمال کی جزا دی جا رہی ہے جو تم کرتے رہے ہو۔ مزید دیکھو سورة ٔ روم (57) اور سورة ٔ مومن (52)۔
Ayah 66:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کی طرف توبہ کرو، خالص توبہ، تمہارا رب قریب ہے کہ تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، جس دن اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے، رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہا ہوگا، وہ کہہ رہے ہوں گے اے ہمارے رب ! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کر اور ہمیں بخش دے، یقینا تو ہر چیز پر خوب قادر ہے۔

1۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللہ ِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا :”توبۃ“ ”تاب یتوب توبۃ“ (ن) پلٹ آنا۔ ”نصوحا“ ”نصح ینصح نصحا“ (ف) سے ”فعول“ کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے ، بہت خالص۔ یہ وزن مذکر و مؤنث کی صفت ہے۔”نصح الشئی“ اس وقت کہتے ہیں جب کوئی چیز خالص ہو ، اس میں کھوٹ نہ ہو۔ شہد یا کوئی اور چیز جب خالص ہو تو اسے ”النصح“ کہتے ہیں۔ ”النصح“ (خالص ہونا) ”الغش“ (کھوٹا ہونے) کا متضاد ہے۔ اس آیت میں جہنم سے بچنے کا طریقہ بتلایا ہے ، فرمایا اے ایمان والو ! اللہ کی طرف پلٹ آؤ ، خالص اور سچاپلٹنا۔ یعنی اگر نافرمانی کرکے اللہ تعالیٰ سے دور ہوگئے تو اسے ترک کر کے واپس اس کی طرف پلٹ آؤ۔ توبہ ٔ نصوح کی پہلی شرط یہ ہے کہ محض اللہ کے خوف کی وجہ سے آدمی گناہ پر نادم ہو ، کسی دنیاوی نقصان کی وجہ سے ندامت توبہ نہیں۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الندم توبۃ) (ابن ماجہ ، الزھد ، باب ذکر التوبۃ : 4252، وقال الالبانی صحیح) ”ندامت توبہ ہے“۔ دوسری شرط یہ ہے کہ گناہ چھوڑ دے اور فوراط چھوڑ دے۔ (دیکھئے نسا : 17 ، اعراف : 201) تیسری شرط یہ کہ آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے ، گناہ پر قائم نہ رہے۔ (دیکھئے آل عمران : 135) اور چوتھی شرط یہ ہے کہ اگر اس کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے تو جہاں تک ممکن ہو انہیں ادا کرے یا معافی مانگ لے۔ 2۔ عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّکَفِّرَعَنْکُمْ سَیِّاٰ تِکُمْ۔۔۔۔: اس میں توبہ نصوح پر گناہوں کی معافی اور جنتوں میں داخلے کی خوش خبری سنائی ہے۔ 3۔ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللہ ُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ :”یوم“ کا لفظ ”یدخلکم“ کا ظرف ہے ، یعنی گناہوں کی معافی اور جنت میں داخلہ اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ایمان لانے والوں میں صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین اور ان کے بعد قیامت تک آنے والے تمام مسلمان شامل ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ فتح کی آخرت آیت کی تفسیر۔ ان میں ازواج مطہرات بالا ولیٰ شامل ہیں ، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائیں ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی ﷺ کی زوجیت کا شرف بخشا اور جب انہیں اللہ ، اس کے رسول اور آخرت اور دنیا میں سے کسی ایک چیز کو قبول کرنے کا اختیار دیا گیا تو انہوں نے اللہ ، اس کے رسول اور آخرت کو قبول کیا۔ (دیکھئے احزاب : 28 تا 34) اور ان کے ایثار اور صبر کی وجہ سے ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مزید عورتوں کے ساتھ یا ان کو بدل کر دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح سے منع قرار دیا۔ دیکھئے سورة ٔ احزاب (52)۔ اس دن کی رسوائی سے دنیا میں بھی انبیاء اور مومن بندے پناہ مانگتے رہے تھے۔ (دیکھئے آل عمران : 194۔ شعرائ : 87) سو اللہ تعالیٰ انہیں اس رسوائی سے بچا لے گا۔ 4۔ نُوْرُھُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ : اس کے لیے دیکھئے سورة ٔ حدید کی آیت (12) کی تفسیر۔ 5۔ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا : حشر کے میدان میں جب ایمان والوں اور منافقین کے درمیان دیوار حائل ہونے پر منافقین اندڈھیرے میں کھڑے رہ جائیں گے تو ایمان والے اس خوف سے کہ منافقین کی طرح ہماری روشنی بھی نہ بجھ جائے اللہ تعالیٰ سے اپنے نور کو پورا کرنے اور پورا رکھنے کی دعا کریں گے ، تا کہ اس روشنی میں وہ جنت تک پہنچ جائیں۔ مزید دیکھئے سورة ٔ حدید (13 تا 15)
Ayah 66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے نبی ! کفار اور منافقین سے جہاد کر اور ان پر سختی کر اور ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

یٰـاَیُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰـفِقِیْنَ۔۔۔۔۔: پچھلی آیات میں ایمان والوں کا ٹھکانہ بتایا تھا، اب دنیا اور آخرت میں کفار کے معاملے کا ذکر فرمایا کہ دنیا میں ان کے ساتھ جہاد کرنا ہے اور ان پر سختی کرنی ہے ، کسی قسم کی مداہنت یا چشم پوشی سے کام نہیں لینا ، تا کہ اسلام کا کلمہ سر بند رہے اور یہ لوگ اس کے سامنے سر جھکا کر زندگی بسر کریں اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ منافقین کے ساتھ جہاد سے کیا مراد ہے ، اس کے لیے دیکھئے سورة ٔ توبہ (73) کی تفسیر۔
Ayah 66:10

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

اللہ نے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان کی، وہ ہمارے بندوں میں سے دونیک بندوں کے نکاح میں تھیں، پھر انھوں نے ان دونوں کی خیانت کی تو وہ اللہ سے (بچانے میں) ان کے کچھ کام نہ آئے اور کہہ دیا گیا کہ داخل ہونے والوں کے ساتھ تم دونوں آگ میں داخل ہوجاؤ۔

1۔ ضَرَبَ اللہ ُ مَثَـلًا لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ۔۔۔: کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد کے حکم کے بعد کفر کی نحوست اور ایمان کی برکت بیان فرمائی کہ قیامت کے دن کافر کو کسی مسلمان کے ساتھ کسی طرح کی قرابت کام نہیں آئے گی ، حتیٰ کہ اگر پیغمبر کی بیوی کافر ہے تو وہ پیغمبر اسے بھی جہنم میں جانے سے نہیں بچا سکے گا۔ اس سے پہلے قرآن مجید میں نوح ؑ کے بیٹے اور ابراہیم ؑ کے والد کی صورت میں نسبی قرابت کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ یہاں نوح ؑ کی بیوی اور لوط ؑ کی بیوی کو کافر لوگوں کی مثال کے طور پر ذکر فرمایا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ قصہ مطہرات کو سنایا گیا ہے ، مگر یہ بات غلط ہے اور بےدلیل ہے ، کیونکہ اس آیت میں کافر عورتوں کا ذکر ہے جن کے کفر کی وجہ سے ان کے خاوند ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہیں آگ میں داخل کردیا گیا۔ امہات المومنین کو ان پر کیسے قیاس کیا جاسکتا ہے جن کے ایمان ، تقویٰ اور پاکیزگی کی شہادت قرآن مجید نے دی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ازواج مطہرات کا قصہ اوپر ختم ہوچکا ہے اور اس آیت کے مضمون کا تعلق ”یایھا الذین امنوا قوا انفسکم“ کے ساتھ ہے ، کیونکہ ایمان والوں کا اپنے ایمان والے قرابت داروں کو فائدہ پہنچانا قرآن مجید (طور : 21) اور احادیث شفاعت میں ثابت ہے۔ 2۔ کتب تفاسیر میں نوح اور لوط (علیہما السلام) کی ان بیویوں کے نام مختلف آئے ہیں ، مگر صحیح سند سے کوئی بھی ثابت نہیں۔ 3۔”فخانتھما“: اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ خیانت کیا تھی اور نہ ہی کسی صحیح طریق سے اس خیانت کا ذکر آیا ہے۔ اگر اس کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور ذکر فرما دیتے ، اسے مبہم رکھنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ بندہ ہر قسم کی خیانت سے ڈرتا ہے۔
Ayah 66:11

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور اللہ نے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی، جب اس نے کہا اے میرے رب ! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔

1۔ وَضَرَبَ اللہ ُ مَثَـلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ : یہ ایمان کی برکت کی مثال ہے کہ ”رب اعلیٰ“ ہونے کا دعویٰ کرنے والے ”کافر اعظم“ کی بیوی جب ایمان لے آئی تو خاوند کی فرعونیت نے اسے ایمان لانے سے روک کسی اور نہ ہی آخرت کے معاملے میں اس کا کوئی نقصان کر کسی۔ اس عظیم خاتون کا نام آسیہ ہے ، وہ موسیٰ ؑ پر ایمان لے آئی تو فرعون نے ایک طرف اسے عالی شان محلات اور ہر قسم کی دنیوی آسائشوں کا لالچ دیا اور دوسری طرف ایمان سے باز نہ آنے پر سب کچھ چھین لیا اور اسے بےپناہ اذیتیں دینے کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس پر اس نے اللہ تعالیٰ نے فرعون کے محلات اور آسائشوں کے بدلے میں اپنے پڑوس میں جنت کے اندر گھر عطاء کرنے اور فرعون اور اسکے مشرکانہ اور ظالمانہ کاموں سے اور اس کی ظالم قوم سے نجات عطاء کرنے کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرما کر اس کی روح قبض کرلی اور اس نے جو مانگا تھا عطاء فرما دیا۔ ابن جزی صاحب التسہیل لکھتے ہیں :”وروی فی قصصھا غیر ھذا مما یطول و ھو غیر صحیح“ ”اس کے قصے میں اسے عدوا کئی طویل چیزیں ذکر کی گئی ہیں مگر وہ ثابت نہیں ہیں“۔ 2۔ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ : اہل علم فرماتے ہیں کہ آسیہ ؓ نے جنت میں گھر بنانے کی دعا سے پہلے سے بہتر ہمسائیگی ملنے کی دعا کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اچھی جگہ اچھے مکان کی دعا سے اچھی ہمسائیگی کی دعا کرنی چاہیے اور آخرت میں وہ جنت الفردوس ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(فاذا سالتم اللہ فاسالوہ الفردوس ، فانہ اوسط الجنۃ و اعلیٰ الجنۃ ، اراہ قال فوقہ عرش الرحمن ، ومنہ تفجر انھار الجنۃ) (بخاری ، الجھاد ، باب درجات المجاھدین فی سبیل اللہ : 2790)”جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے افضل اور سب سے بلند حصہ ہے اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں“۔ 3۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(کمل من الرجال کثیر ، ولم یکمل من النساء الا آسیۃ امراۃ فرعون ، و مریم بنت عمران ، وان فضل عائشۃ علی النساء کفضل الثرید علی سائرالطعام) (بخاری ، احادیث الانبیاء ، باب قول اللہ تعالیٰ :(وضرب اللہ مثلا۔۔۔۔): 3411)”مردوں میں بہت سے کامل ہوئے ہیں ، مگر عورتوں میں سے آسیہ زوجہ فرعون اور مریم بنت عمران کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے“۔
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور عمران کی بیٹی مریم کی (مثال دی ہے) جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی ایک روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کی باتوں کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت کرنے والوں میں سے تھی۔

اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔۔۔۔: یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے مثال کے طور پر فرعون کی بیو ی آسیہ اور مریم بنت عمران کا بیان فرمایا ہے کہ دونوں اعلیٰ درجے کے ایمان والی تھیں۔ قرآن مجید میں مریم بنت عمران کا نام صرف اس مقام پر نہیں بلکہ کئی جگہ آیا ہے اور یہ واحد قانون ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نام لیا ہے۔ آیت کے اکثر الفاظ کی تشریح سورة ٔ انبیائ (91) میں اور دوسرے الفاظ کی تشریح مختلف آیات کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔