Ayah 67:1تَبٰـرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ :”تبرک“ ”برکۃ“ سے باب تفاعل ہے۔ اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے، اسی مناسبت سے ترجمہ ”بہت برکت والا“ کیا گیا ہے۔ ”برکۃ“ کے معنی میں زیادہ ہونا ، بڑھنا ہونا۔”تبرک“ یعنی وہ خیر اور بھلائی میں ساری کائنات سے بےانتہاء بڑھا ہوا ہے اور بلندی ، بڑائی اور احسان ، غرض ہر لحاظ سے اس کی ذات بےحد و حساب خوبیوں اور بھلائیوں کی جامع ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ فرقان کی پہلی آیت کی تفسیر۔
2۔”بیدہ“ پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ، اس لیے ترجمہ ”صرف اس کے ہاتھ میں ہے“ کیا گیا ہے۔
3۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں بادشاہ تو بہت ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کیسے فرما دیا کہ تمام بادشاہی صرف اس کے ہاتھ میں ہے ؟ جواب یہ ہے کہ دنیا کا سارا نظام ایک دوسرے کی محتاجی پر چل رہا ہے ، رعایا اپنی ضروریات مثلاً جان و مال ، عزت و آبرو اور دین و ایمان کی حفاظت کے لیے بادشاہ کی محتاج ہے اور بادشاہ اپنے کام چلانے کے لیے رعایا کا محتاج ہے ، اگر وہ اس کا ساتھ نہ دیں اور اسے ٹیکس نہ دیں تو وہ ایک لمحہ کے لیے بادشاہ نہیں رہ سکتا۔ سورة ٔ زخرف میں یہی نکتہ بیان کیا گیا ہے ، فرمایا (لِّیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا) (الزخرف : 32)”تا کہ ان کا بعض بعض کو تابع بنا لے“۔ ایک شاعر نے دنیوی بادشاہوں کی محتاجی کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے ؎
مانگنے والا گدا ہے ، صدقہ مانگے یاخراج کوئی مانے یا نہ مانے میرو سلطان سب گدا
اس کے علاوہ دنیا میں کوئی بادشاہ ہے یا محکوم ، ایک دوسرے کے محتاج ہونے کے باوجود دونوں میں سے کسی کے بھی ہاتھ میں فی الحقیقت کچھ بھی نہیں۔ ان کی اپنی دولت و فقر ، صحت و بیماری ، عزت و ذلت ، فتح و شکست ، جانی و بڑھاپا ، نفع و نقصان اور موت و حیات ، غرض سب کچھ اللہ مالک الملک کے ہاتھ میں ہے ، تو پھر یہ کہنے میں کیا مبالغہ ہے کہ تمام بادشاہی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ؟ دوسرا کوئی بادشا ہے بھی تو نام کا ہے۔ حقیقت میں بادشاہ ایک ہی ہے ، باقی سب گدا ہیں ، جیسا کہ فرمایا :(یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللہ ِ) (فاطر : 15)”اے لوگو ! تم ہی اللہ کی طرح محتاج ہو“۔
4۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُ :”شیئ“ ”شاء یشائ“ کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے ، چاہت۔ یعنی وہ اپنی ہر چاہت اور ہر چیز پر قادر ہے ، چو چاہے کرسکتا ہے۔ دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں کہ جن کی بےشمام چاہتیں پوری ہونے کے بجائے حسرتیں بن کر ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہوجاتی ہیں۔
Ayah 67:21۔ نِالَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ۔۔۔: یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کی ہوئی چند چیزوں کا ذکر فرمایا جو مخلوق کی باہر ہیں، تا کہ انسان کے دل میں اللہ کی قدرت کا پورا یقین جم جائے۔ اس مقام پر اپنی قدرتوں میں سے پہلی چیز موت و حیات ذکر فرمائی ، کیونکہ موت اور زندگی میں انسان کے تمام احوال پورے پورے آجاتے ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی دنیا میں آنے سے پہلے کی حالت کو موت قرار دیا اور دنیا میں آنے کے بعد یہاں سے جانے کو بھی موت قرار دیا۔ اسی طرح دنیا میں آنے کو زندگی قرار دیا ، پھر موت کے بعد اٹھنے کو زندگی قرار دیا ، جیسا کہ فرمایا :(کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِ اللہ ِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَـاَحْیَاکُمْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ) (البقرہ : 28)”تم کیسے اللہ کا انکار کرتے ہو ، حالانکہ تم بےجان تھے تو اس نے تمہیں زندگی بخشی ، پھر تمہیں موت دے گا ، پھر تمہیں زندہ کرے گا ، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے“۔
یہاں فرمایا کہ اللہ نے موت و حیات کو پیدا فرمایا۔ معلوم ہوا کہ موت بھی ایک مخلوق ہے ، یہ عدم محض (بالکل نہ ہونے) کا نام نہیں ، کیونکہ دنیا میں آنے سے پہلے بھی انسان اللہ کے علم اور اس کی تقدیر میں موجود تھا اور اس کے دنیا میں آنے وقت مقرر تھا مگر روح و جسم کا اتصال نہیں تھا، اسے موت قرار دیا ، پھر دنیا میں آنے کے بعد روح جسم سے جدا ہوئی تو اسے بھی موت قرار دیا۔ قیامت کے دن موت ایک مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یوتی بالموت کھیئۃ کبش املح فینادی مناد یا اھل الجنۃ ! فیشرثبون و ینظرون فیقول ھل تعرفون ھذا ؟ فیقولون نعم ، ھذا الموت ، و کلھم قد راہ ، ثمو ینادی یا اھل النار ! فیشرئبون و ینظرون ، فیقول ھل تعرفون ھذا ؟ فیقولون نعم ھذا الموت ، وکلھم قد راہ فیذیح ثم یقول یا اھل الجنۃ ! خلود فلا موت ، و یا اھل النار ! خلود فلا موت ، ثم قرا، (وانذزھم یوم الحسرۃ اذا قضی الامر و ھم فی غفلۃ) وھولا فی غفلۃ اھل الدنیا (وھم لا یومنون) (بخاری ، التفسیر ، باب قولہ عزوجل ، (وانذرھم یوم الحسرۃ): 4830)”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا ، پھر ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا“۔ اے اہل جنت !“ وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو وہ کہے گا :”اسے پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے :”ہاں ! یہ موت ہے“۔ وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے ، پھر وہ اعلان کرے گا :”اے اہل نار !“ وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو وہ کہے گا :”اے پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے :”ہاں ! یہ موت ہے“۔ وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے۔ تو اسے ذبح کردیا جائے گا ، پھر کہے گا :”اے اہل جنت ! (اب تمہارے لیے) ہمیشہ زندہ رہنا ہے ، موت نہیں اور اے اہل نار ! (تمہارے لیے بھی) ہمیشہ زندہ رہنا ہے ، موت نہیں“۔ پھر یہ آیت پڑھی :(وانذر ھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر و ھم فی غفلۃ) (اور انہیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب ہر کام کا فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں) یعنی یہ دنیا والے سراسر غفلت میں ہیں ”اور وہ ایمان نہیں لا رہے“۔
3۔ زندگی اور موت دونوں اس امتحان کے لیے پیدا کی گئی ہیں کہ انسانوں میں سے اچھے عمل کون کرتا ہے ؟ اگر موت اور موت کے بعد والی زندگی نہ ہوتی تو آدمی اچھے اعمال کے لیے جدوجہد اور برے اعمال سے پرہیز کیوں کرتا ؟ اور موت اور حیات بعد الموت نہ ہوتی تو اچھے اور برے اعمال کا بدلا کہاں ملتا اور اگر دنیا میں انسان کو زندگی نہ ملتی اور نہ عمل کا موقع ملتا تو جزا اور سزاکس چیز پر ہوتی ؟
4۔ وھو العزیز الغفور : وہ عزیز ہے ، ایسا زبردست ہے کہ اعمال کی جزا و سزا پر پورا اختیار رکھتا ہے اور ایسا غالب کہ کوئی اس پر غالب نہیں ، مگر اتنی قوت و عزت کے باوجود ظالم یا سخت گیر نہیں بلکہ غفور ہے اور ایسا غفور کہ کوئی توبہ کرے تو جتنے بھی گناہ کیے ہوں بخش دیتا ہے۔ توبہ کے بغیر بھی اگر اس کے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو جسے چاہے گا بخش دے گا ، فرمایا :(ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذلک لمن یشائ) (النسائ : 116)”بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے جسے چاہے گا بخش دے گا“۔ اور شرک اس لیے معاف نہیں کرے گا کہ یہ اس کے عزیز ہونے کے خلاف ہے۔
Ayah 67:3الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا :”طباقاً“ یعنی تہ بہ تہ اوپر نیچے بنایا ، یہ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ حدیث معراج سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر آسمان ایک دوسرے سے جدا ہے ، چناچہ ہر آسمان میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات کسی نہ کسی رسول سے ہوئی۔ (دیکھئے بخاری ، الصلاۃ باب ، کیف فرضت الصلاۃ فی الاسراء 349)
2۔ مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ : رحمان کے (آسمانوں کو) پیدا کرنے میں تم کوئی تفاوت نہیں دیکھو گے۔ جب تم آسمانوں جیسی عظیم الشان مخلوق میں کوئی تفاوت نہیں نکال سکتے تو دوسری مخلوق جو اس سے کہیں چھوٹی ہے ، اس میں تم کس طرح تفاوت نکال سکو گے ؟”تقوت“ کا معنی ہے کہ تم اتنے بڑے آسمان یا کسی بھی مخلوق کی کوئی چیز دوسری چیز سے بےجوڑ یا بےترتیب نہیں پاؤ گے ، بلکہ سب میں ایک توازن و ترتیب اور یکسانی پاؤ گے ، جس سے معلوم ہوگا کہ یہ ایک ہی خالق کی پیدا کی ہوئی ہیں۔”من تقوت“ کا ایک مطلب یہ ہے کہ تم کسی چیز میں کوئی عیب یا کمی نہیں پاؤ گے کہ کہہ سکو کہ اگر اس طرح ہوتا تو بہتر تھا۔ (قاموس) ”خلق الرحمن“ کے لفظ سے توجہ دلائی کہ اتنے عظیم الشان آسمان اور دوسری ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان کا نتیجہ ہے۔
3۔ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ”فطور“ ”فطر“ کی جمع ہے ، جیسے ”فلس“ کی جمع ”فلوس“ ہے ، پھٹی ہوئی جگہ ، دراڑ ، شگاف ، یعنی پہلی دفعہ اگر تمہیں رحمان کے پیدا کیے ہوئے آسمان میں کوئی عیب یا کمی بیشی نظر نہیں آئی تو دوبارہ نظر دوڑا کر دیکھ لو ، کیا کوئی دراڑیں یا کٹی پھٹی ہوئی جگہیں نظر آتی ہیں ؟ مطلب یہ کہ پوری کائنات میں ذروں سے لے کر آسمانوں تک اور ستاروں سے لے کر بڑی بڑ کہکشاؤں تک ہر چیز مستحکم اور مربوط ہے ، جتنا چاہو تلاش کرلو تمہیں ایک رخنہ بھی نہیں ملے گا۔
Ayah 67:4ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ۔۔۔۔۔:”کر تین“ کا لفظی معنی دو مرتبہ ہے ، مگر یہاں مراد صرف دو مرتبہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ (دوبارہ غور کرنے سے بھی کوئی خلل نہ ملے تو) بار بار دیکھ ! جیسا کہ ”لبیک“ کا لفظ تثنیہ ہے مگر اس کا معنی یہ نہیں کہ ”میں دو دفعہ حاضر ہوں“ بلکہ یہ ہے کہ ”میں بار بار حاضر ہوں“۔”خاسئاً“ کسی چیز کو طلب کرنے والا جو اس سے دور ہٹا دیا جائے۔”حسیر“ جو تھک کر عاجز رہ جائے۔ بار بار دیکھنے کا حکم ان کی بےبسی واضح کرنے کے لیے ہے۔
Ayah 67:5وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ۔۔۔۔۔۔:”الدنیا“ ‘”دنا یدنو“ میں سے ”ادنی“ کی مؤنث ہے ، سب سے قریب ، اگرچہ سات آسمانوں میں سے ہر آسمان خالق کی کاریگری کا عظیم الشان نمونہ ہے ، مگر زمین کے سب سے قریب آسمان کی زینب و حفاظت کا جو اہتمام ہم نے کیا ہے وہ تو کچھ کچھ تمہیں بھی نظر آرہا ہے ، اس کے لیے تو کسی خاص آلے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں ستاروں کے تین فائدے بیان فرمائے ہیں، پہلا فائدہ زینت ہے ، رات کو چھوٹے بڑے لا تعداد ستاروں کے ساتھ آسمان جس قدر مزین ہوتا ہے اور حسین و جمیل نظر آتا ہے اگر ستارے نہ ہوتے تو اتنا ہی بد صورت دکھائی دیتا اور بےزیب ہوتا۔ دوسرا فائدہ روشنی ہے جو ”مصابیح“ (چراغوں) کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہ چراغ نہ ہوتے تو ہر رات انتہائی تاریک ہوتی۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ان ستاروں کے ذریعے سے ان شیطانوں کو مار بھگایا جاتا ہے جو فرشتوں کی باتیں سن کر کاہنوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ، تا کہ وہ لوگوں کو غیب دانی کے دعویٰ سے گمراہ کرسکیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (6 تا 10) کی تفسیر۔ چوتھا فائدہ دوسری جگہ بیان فرمایا (وَبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُوْنَ) (النحل : 16)”اور ستاروں کے ساتھ وہ راستہ معلوم کرتے ہیں۔“ یعنی ستارے بحر و بر میں راستہ اور سمت معلوم کرنے کے کام آتے ہیں۔ ان کے علاوہ ستاروں میں سعادت یا نحوست سمجھنا یا انہیں کسی اختیار کا مالک سمجھنا شرک ہے۔
Ayah 67:6وَلِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ۔۔۔: پہلی پانچ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کے دلائل بیان فرمائے ہیں ، اب ان لوگوں کا انجام ذکر ہو رہا ہے جنہوں نے اکیلے اللہ کو اپنا رب نہیں مانا کہ ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔”للذین کفروا“ خبر پہلے آنے کی وجہ سے ترجمہ ”خاص ان لوگوں کے لیے“ کیا گیا ہے۔
Ayah 67:7اِذَآ اُلْقُوْا فِیْہَا سَمِعُوْا لَہَا شَہِیْقًا وَّہِیَ تَفُوْرُ :”شھیق“ گدھے کے ہینگنے کے آخر کی آواز اور ”زقیر“ شروع کی آواز۔ (قاموس) سورة ٔ فرقان (12) میں فرمایا کہ جہنم جب انہیں دور سے دیکھے گی تو وہ جہنم کے سخت غصے کی اور گدھے کی طرح چلانے کی آواز سنیں گے۔ ساتھ ہی جہنمیوں کے چیخنے چلانے کی جو آوازیں آرہی ہوں گی وہ بھی گدھے کی آوازوں جیسی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّشَہِیْقٌ) (ھود : 106)”تو وہ لوگ جو بدبخت ہوئے سو وہ آگ میں ہوں گے ، ان کے لیے گدھے کی طرح آواز کھینچنا اور نکالنا ہے“۔
Ayahs 67:8–9تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ۔۔۔۔:”تمیز“ اصل میں ”تمیز“ (تفعل) ہے ، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کردی گئی۔”قریب ہے کہ غصے سے پھٹ جائے“ اس سے آگ کا صاحب شعور ہونا اور کفار پر سخت غصے ہونا ظاہر ہو رہا ہے۔ جہنم کے اس وقت کے سخت غصے اور جوش و خروش کا نقشہ اس سے بہتر الفاظ میں نہیں کھینچا جاسکتا۔ جہنم میں جب بھی کسی نئے گروہ کے لوگ پھینکنے جائیں گے تو جہنم کے نگران فرشتے ان سے پوچھیں گے ، کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟ یہ سوال ہر گروہ سے ہوگا اور اس لیے نہیں ہوگا کہ فرشتوں کو معلوم نہیں کہ ان کے پاس ڈرانے والے آئے تھے یا نہیں ، بلکہ ایک تو تعجب کے اظہار کے لیے ہوگا کہ اللہ کی طرف سے پیغمبروں اور دین کی دعوت دینے والوں کے ڈرانے کے باوجود تم ایمان نہ لائے اور جان بوجھ کر جہنم کا ایندھن بنے ، دوسرا ان پر حجت تمام کرنے کے لیے اور خود ان کے منہ سے نکلوانے کے لیے کہ انہیں نہ تو بیخبر ی میں جہنم میں پھینکا جا رہا ہے اور نہ بلا جرم ، بلکہ وہ فی الواقع اس کے حق دار ہیں ، چناچہ وہ خود کہیں گے ، کیوں نہیں ، ہمارے پاس ڈرانے والے آئے اور انہوں نے اللہ کی اتاری ہوئی پوری تعلیم بھی ہم تک پہنچائی ، مگر ہم نے انہیں جھٹلا دیا اور اس بات سے سرے سے انکار کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل کی ہے ، بلکہ الٹا انہی کو بڑی گمراہی میں مبتلا قرار دیا۔
Ayah 67:10وَقَالُوْا لَوْکُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ۔۔۔۔: اب وہ حسرت و افسوس سے کہیں گے کہ ہم جس گمراہی میں مبتلا رہے، اس سے نکلنے کی دو ہی صورتیں تھیں ، پہلی یہ کہ ہم رسولوں اور اہل ایمان کی باتیں سن لیا کرتے تو ایمان کی نعمت مل جاتی ، دوسری یہ کہ خود کچھ عقل سے کام لیا کرتے تو توحید و رسالت اور آخرت کے عقائد تک آسانی سے پہنچ سکتے تھے۔ دونوں صورتوں میں آج جہنمیوں میں شامل نہ ہوتے ، مگر ہم اپنی مرضی اور آباو اجداد کے طریقے کے خلاف کوئی بات نہ سنا کرتے تھے اور نہ سمجھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ رسولوں کی بات دلیل سمعی ہے اور اسے سمجھنا دلیل عقلی ہے ، جبکہ اپنی مرضی پر چلایا آبا و اجداد کی تقلید نہ دلیل سمعی ہے اور نہ دلیل عقلی ، بلکہ دلیل ہے ہی نہیں۔
Ayah 67:11فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِہِمْ۔۔۔۔: وہ اپنے گناہ کا اقرارکریں گے ، یہ نہیں فرمایا کہ وہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے کیونکہ ان کو جہنم میں لے جانے والا اصل گناہ ایک ہی تھا ، یعنی رسولوں کو جان بوجھ کر جھٹلا دینا ، مگر ایسے اقرار کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، بلکہ جانتے بوجھتے جہنمی بننے والوں کو یہی کہا جائے گا کہ جہنمی اللہ کی رحمت سے دورہو جائیں۔ ”سحقا“ ”سحبن“ (س، ک) کا مصدر ہے ، دور ہونا اور ”سحیق“ بعید۔
Ayah 67:12اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ۔۔۔۔: پچھلی آیات میں جہنمیوں کا ذکر تھا جو نہ اپنے رب سے ڈرتے تھے نہ انہیں قیامت کا یا اپنی بد اعمالیوں کی سزا کا خوف تھا ، کیونکہ نہ وہ ان دیکھی چیزوں پر ایمان لانے پر تیار تھے اور نہ ان سے ڈرنے پر۔ ان کے مقابلے میں اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو عقل سلیم کے تقاضے اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور گربزیدہ بندوں کے بتانے سے دیکھے بغیر اللہ تعالیٰ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ ان سے اگر کوئی غلطی ہو بھی گئی تو ان کے بن دیکھے ڈرتے رہنے کے صلے میں اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا اور اسی خشیت بالغیب کی وجہ سے انہوں نے خود نیکیاں کیں ان کا انہیں بہت بڑا اجر عطاء فرمائے گا۔ خشیت کا معنی شدت خوف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر نیکی کی اصل ایمان بالغیب اور خشیت بالغیب ہے اور گناہ سے بچنے کا اصل باعث بھی یہی ہے۔
Ayah 67:13وَ اَسِرُّوْا قَوْلَکُمْ اَوِاجْھَرُوْابِہٖ۔۔۔۔: شروع سورت سے اللہ تعالیٰ کی ان قدرتوں کا بیان ہو رہا تھا جو مخلوق کی استطاعت سے باہر ہیں ، درمیان کی سات آسات میں ان سے کفر کرنے والوں اور ان پر ایمان رکھنے والوں کا انجام ذکر فرمایا ، اب دوبارہ اللہ کی قدرتوں کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ فرمایا تم اپنی بات چھپا کر کرو یا بلند آواز سے کرو اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے ، بلکہ وہ اس سے بڑھ کر دلوں کے ارادے اور نیتیں جو زبان پر آکر قول بننے کی منزل تک نہیں پہنچیں ، انہیں بھی جانتا ہے۔ مخلوق بےچاری نہ چھپی بات کو جانتی ہے اور نہ ایک وقت میں بہت سے لوگوں کی اونچی آواز سے کی ہوئی باتوں کو جا ن سکتی ہے دلوں کی بات جاننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مزید دیکھئے سورة ٔ اعلیٰ (7) کی تفسیر۔
Ayah 67:14اَ لَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ۔۔۔۔: یہ ”علیم“ ہونے کی دلیل ہے کہ جو دل کا خالق اور دل میں چھپی ہوئی چیزوں کا خالق ہے ، زبان کا اور اس سے ادا ہونے والے اقوال کا خالق ہے ، کیا وہ اپنے ہی پیدا کیے ہوئے اسرار و اقوال نہیں جانے گا ؟ ”الصف“ کا مفہوم میں باریک سے باریک چیز جاننے کے ساتھ ساتھ نہایت مہربان ہونا بھی شامل ہے۔ اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کلیات کو جانتا ہے جزئیات کو نہیں جانتا۔
Ayah 67:151۔ ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا۔۔۔۔:”دلولا“ جو تمہارے تابع ہوجائے ، سرکشی نہ کرے۔ یہاں لے۔ یعنی تم اس پر چل پھر سکتے ہو اور اسے کام میں لاسکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں پہاڑ گاڑ کر اسے ہر وقت زلرلے کی حالت میں رہنے سے محفوظ کردیا ، تا کہ تم سکون سے رہ سکو۔ اسے لوہے کی طرح سخت نہیں بنایا ، ورنہ نہ اس سے کچھ اگتا ، نہ عمارتیں بنتیں ، نہر نہریں یا کنویں کھودے جاسکتے اور نہ انسان اور جانوروں کے رزق کا انتظام ہوتا اور اسے ضرورت سے زیادہ نرم بھی نہیں بنایا ، ورنہ سب کچھ اس کے اندر دھنس جاتا۔ مشرک اقوام کی کم عقلی دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو انسان کے تابع کیا ، انہوں نے اسے دھرتی ماتا کے نام سے اپنا معبود بنا لیا۔ ”مناکب“ کا لفظ معنی کندھے ہے۔ جس طرح بالکل مطیع جانور بیٹھ کر علاوہ کندھوں پر بھی سواری کرلینے دیتا ہے ، زمین بھی تمہارے لیے ایسے ہی مسخر ہے ، اس پر جہاں چاہو چلو پھرو۔
2۔ وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ۔۔۔: اس کے دیے ہوئے میں سے کھاؤ، مگر آزادی سے نہیں بلکہ یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کا دیا ہوا کھا رہے ہو اور آخر کار تمہیں اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے جو تم سے ایک ایک چیز کا حساب لے گا کہ اسے کن ذرائع سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا ؟ (اشرف الحواشی)
Ayah 67:161۔ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ۔۔۔۔:”تمور“ حرکت کرنے لگے ، یعنی زبردست زلزلے سے لرزنے لگے۔ (دیکھئے طور : 9) پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر فرمایا تھا اور اس آیت میں اپنی شان قہاریت کا اظہار کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین اگرچہ تمہارے تابع کردی گئی ہے کہ تم جیسے چاہو اس میں تصرف کرسکو، لیکن یاد رکھو کہ یہ اسی آسمان والے کی ملکیت ہے ، وہ چاہے تو تمہیں اس کے اندر دھنسا دے (جس طرح قارون کو دھنا دیا ، دیکھئے قصص : 81) اور چاہے تو بھونچا سے لرزنے لگے ، لہٰذا اس پر سرکش و خود مختار ہو کر نہیں بلکہ فرما برداروں کی طرح ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرو۔ (اشرف الحواشی) اس آیت کا اور اس کے بعد والی آیت کا مفہوم سورة ٔ انعام (65) اور سورة ٔ کہف (68، 69) میں بیان ہوا ہے۔
2۔ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ :”السمائ“ ”سمو“ سے مشتق ہے ، جس کا معنی بلندی ہے۔ ہر وہ چیز جو اوپر ہوا سے ”سماء“ کہہ لیتے ہیں۔ ان دونوں آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اوپر کی طرف ہے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر رحمان کا عرش پر ہونا بیان فرمایا ہے۔ معاویہ بن حکم سلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی لونڈی کے متعلق پوچھا کہ کیا میں اسے آزاد کر دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :(ائتنی بھا)”اسے میرے پاس لاؤ“۔ میں اسے آپ کے پاس لے کر آیا تو آپ نے اس سے پوچھا :(این اللہ ؟) ”اللہ کہاں ہے ؟“ اس نے کہا :(فی السمائ)”آسمان میں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا :(من آنا ؟) میں کون ہوں ؟“ اس نے کہا : (انت رسول اللہ)”آپ اللہ کے رسول ہیں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا :(اعتقھا فانھا مومنۃ) (مسلم ، المساجد ، باب تحریم الکلام فی الصلاۃ۔۔۔۔ 537)”اسے آزاد کر دو ، یہ مومنہ ہے۔“ تمام سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے ، بعد کے لوگ جو یونانی فلسفے سے متاثر ہوگئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفت علو (اوپر ہونے کی صفت) کا انکار کردیا ، کسی نے کہاوہ لا مکان ہے ، کسی نے کہا وہ ہر جگہ ہے اور قرآن و حدیث کی صاف نصوص کی تاویل کی۔ بعض لوگ تو یہاں تک پہنتچ گئے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ سوال ہی کفر ہے کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ انہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ یہ سوال تو خود رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے اور اس کے جواب میں بھی اللہ تعالیٰ کے آسمانوں پر ہونے کے عقیدے کو آپ نے ایمان قرار دیا ہے۔ (دیکھئے مسلم : 537) تو کیا نعوذ باللہ یہ فتویٰ رسول اللہ ﷺ پر بھی لگایا جائے گا ؟
قرآن مجید ”ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ“ میں اللہ تعالیٰ کا آسمان پر ہونا فرما رہا ہے اور یہ بات انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے کہ وہ دذعا کرتا ہے تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتا ہے ، مگر فلسفے کے مارے ہوئے یہ حضرات کبھی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب تو پھر یہ ہوا کہ وہ آسمانوں پر بیٹھا ہوا ہے ، کبھی کہتے ہیں کہ پھر کیا وہ آسمان میں رہتا ہے ؟ اس طرح تو وہ آسمان کا محتاج ہوا جبکہ آسمان و زمین خود اس نے پیدا کیے ہیں۔ حالانکہ سلف صالحین کے عقیدہ کے مطابق وہ لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال کرنا جائز نہیں جو اس نے خود اپنے متعلق استعمال نہ کیا ہو۔ اب یہ کس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کھڑا ہے یا بیٹھا ہے ؟ قرآن و حدیث سے اللہ تعالیٰ کی بلندی کی جانب ہونا اور عرش پر ہونا ثابت ہے ، اس کی کیفیت کسی کو معلوم نہیں اور وہ عرش کا یا بلندی کا محتاج نہیں بلکہ اس کے عرش پر ہونے کے باوجود عرش خود اس کا محتاج ہے اور اس نے عرش اور آسمان و زمین کو تھام رکھا ہے۔ مخلوق میں کئی چیزیں ہیں جو اوپر ہیں ، مگر ان کے نیچے کی چیزیں اپنے قیام میں ان کی محتاج ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مثال تو اس سے بہت بلند ہے۔ مومن جب بھی اللہ تعالیٰ کا تصور کرتا ہے اس سے دعا کرتا ہے ، تو اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا پروردگار آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے اور اسے اپنے رب سے تعلق جوڑنے میں کوئی الجھن نہیں ہوتی۔ تاویلوں کی مصیبت میں پھنسے ہوئے لوگ یہ فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کہ ان کا رب کہاں ہے جس کی طرف وہ توجہ کریں۔ وہ لا مکان کے چکر ہی سے نہیں نکل سکتے۔ اسلام کے فطری اور سادہ عقائد کو چھوڑ کر فلسفی بھول بھلیاں اختیار کرنے کا یہی انجام ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ فجر (22) کی تفسیر۔
Ayah 67:171۔ اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا : جیسا کہ قوم لوط کے ساتھ ہوا ، فرمایا :(اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍط نَجَّیْنٰـہُمْ بِسَحَرٍ) (القمر : 34)”بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ہوا بھیجی ، سوائے لوط کے گھر والوں کے ، انہیں صبح سے کچھ پہلے بچا کر نکال لیا“۔
2۔”نذیر“ مصد رہے ، اصل میں ”نذیری“ تھا، میراڈرانا۔ یاء حذف کردی اور راء پر کسرہ باقی رہنے دیا ، ورنہ اس پر رفع ہونا تھا۔
Ayah 67:18وَلَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۔۔۔۔: تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کے لیے پہلے لوگوں کا خیال دیکھ لو۔ عرب میں عاد وثمود ، فرعون و قارون اور قوم لوط و شعیب کے واقعات معروف تھے۔
Ayah 67:191۔ اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ فَوْقَھُمْ صٰٓفّٰتٍ۔۔۔۔: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک اور قدرت بیان فرمائی کہ عام مشاہدے میں مادی چیزیں جو وزن رکھتی ہیں وہ نیچے کی طرف میلان رکھتی ہیں ، مگر پرندے وزن رکھنے کے باوجود فضاء میں اڑتے پھرتے ہیں۔ اڑتے وقت اکثر وہ پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں ، کبھی سکیڑ بھی لیتے ہیں ، انہیں تھامنے والا اس رحمان (بےحد مہربان) کے علاوہ کوئی نہیں۔ ”صفت“ اسم فاعل ہے جو دوام پر دلالت کرتا ہے اور ”یقبض“ فعل مضارع ہے جو تجدد پر دلالت کرتا ہے۔ فضاء کی بلندی میں اڑنے والے پرندے اکثر پر پھیلائے ہوئے اڑ رہے ہوتے ہیں ، کبھی پر مار بھی لیتے ہیں۔
2۔ اِنَّہٗ بِکُلِّ شّیْئٍم بَصِیْرٌ : یقینا وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔ فضاء میں اڑتے ہوئے پرندوں کو وہی تھامے ہوئے ہے ، ہوا میں معلق زمین کو گرنے سے بچانے والا وہی ہے اور آسمانوں کو ستونوں کے بغیر ان کی جگہ قائم رکھنے والا بھی وہی ہے۔ غرض اس کائنات کی ہر چیز کی مسلسل نگرانی اور دیکھ بھال وہی کر رہا ہے اور وہی اسے تھامے ہوئے ہے ، اگر وہ ایک لمحہ کے لیے توجہ ہٹا لے تو سب کچھ فنا ہوجائے ، جیسا کہ فرمایا :(اِنَّ اللہ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلاَج وَلَئِنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَکَھُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْم بَعْدِہٖط اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا) (فاطر : 14)”بیشک اللہ ہی آسمانوں کو اور زمین کو تھامے رکھتا ہے ، اس سے کہ وہ اپنی جگہ سے ملیں اور اگر فی الواقع وہ ہٹ جائیں تو اسکے بعد کوئی نہیں جو انہیں تھام لے گا ، بیشک وہ ہمیشہ سے نہایت برد بار ، بےحد بخشنے والا ہے“۔
Ayah 67:20اَمَّنْ ہٰذَا الَّذِيْ ہُوَ جُنْدٌ لَّکُمْ۔۔۔۔: بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر اتنی قدرتوں والا رحمان تمہیں پکڑنے پر آجائے تو وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر اس کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکے ؟ کوئی نہیں ، بالکل نہیں۔ کافر لوگ جن کے دلوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ فلاں ہستی اور فلاں مشکل کشا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے اور زبردستی سفارش کر کے چھڑا لیں گے ، محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ، جس میں انہیں شیطان نے مبتلا کر رکھا ہے۔ ”من دون الرحمن“ کا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رحمان کے علاوہ وہ کون ہے جو کسی مصیبت میں لشکر بن کر تمہاری مدد کرسکے ؟
Ayah 67:21اَمَّنْ ہٰذَا الَّذِيْ یَرْزُقُکُمْ اِنْ اَمْسَکَ رِزْقَہٗ۔۔۔۔: یعنی اگر اللہ تعالیٰ بارش ہی روک لے تو وہ کون ہے جو بارش برسا دے ؟ یا زمین کو پیداوار سے روک دے یا کسی بھی طریقے سے تمہاری روزی روک دے تو وہ کون ہے جو تمہیں روزی مہیا کر دے ؟ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب قریش مکہ نے نبی ﷺ کے مقابلے میں نافرمانی کی حد کردی تو آپ ﷺ نے ان پر یوسف ؑ جیسی قحط سالی کی بد دعا فرمائی تو ان پر ایسا قحط آیا کہ وہ ہڈیاں تک کھا گئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ قحط اس وقت دور ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ (دیکھئے بخاری ، التفسیر ، باب :(یغشی الناس ھذ ا عذاب الیم) : 4821) لات و منات کے بت بلکہ ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کے جو بت انہوں نے بنائے ہوتے تھے ، ان کے کسی کام نہ آسکے۔
Ayah 67:22اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُکِبًّا عَلٰی وَجْہِہٖٓ۔۔۔۔:”مکبا“”اکب یکب اکبابا“ (افعال) اوندھا گرنا۔ مزید فیہ ہونے کے باوجود باب لازم ہے ، اس کا مجرد ”کب یکب کبا“ (ن) متعدی ہے ، جس کا معنی کسی کو اوندھا گرانا ہے۔ ”اھدی“”ھدی یھدی ھدایۃ“ (ض) سے اسم تفصیل ہے جو عموماً اسم فاعل کے معنی میں آتا ہے ، مگر کبھی کبھی اسم مفعول کے معنی میں بھی آجاتا ہے اور یہاں یہ اسم مفعول کے معنی میں ہے ، اس لیے اس کا معنی زیادہ ہدایت دینے والا نہیں بلکہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ یہ موحد مومن اور مشرک کافر کی مثال ہے۔ کافر سیدھے راستے پر چلنے کے بجائے گمراہی کے گڑھوں میں پڑ جانتے کی وجہ سے منہ کے بل گرتا پڑتا چلا جا رہا ہوتا ہے۔ ایسا شخص منزل مقصود پر کیسے پہنچ سکتا ہے ؟ اس کے برعکس مومن توحید و سنت کے صراط مستقیم پر سیدھا ہو کر چل رہا ہوتا ہے ، اسے دائیں بائیں اور سامنے ہر طرف سے اپنا راستہ اور اس کا گردو پیش نظر آرہا ہوتا ہے۔ وہ یقینا اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے گا جو جنت ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ افروں کے متعلق فرمایا :(وَنَحْشُرُہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ عُمْیًا وَّبُکْمًَا وَّصُمًّاط مَاْوٰہُمْ جَہَنَّمُ) (بنی اسرائیل : 97)”اور قیامت کے دن ہم انہیں ان کے چہروں پر اندھے اور گونگے اور بہر اٹھائیں گے ، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے“۔ اور حقیقت یہ ہے کہ آخرت میں ان کے اوندھے منہ اٹھائے جانے کا سبب یہی ہے کہ دنیا میں بھی وہ الٹے ہی چلتے تھے ، سیدھے ہو کر راہ راست پر چلنا انہیں گوارا نہ تھا۔
Ayah 67:23قُلْ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ۔۔۔۔: اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہیں کان ، آنکھیں اور دل عطاء فرمائے۔ اب پیدا کرنے کا شکرتو یہ تھا کہ صرف اسی کی عبادت کرتے اور کان ، آنکھیں اور دل عطاء فرمانے کا شکریہ تھا کہ انہیں وہیں استعمال کرتے جہاں یہ نعمتیں دینے والے کی رضا تھی اور ان کے ذریعے سے اس کی خوشنودی کا راستہ تلاش کرتے ، مگر تم نے نہ کانوں سے حق بات سنی ، نہ آنکھوں سے اللہ کی قدرتیں دیکھ کر عبرت پکڑی اور نہ دل سے اس کی توحید سمجھنے کی کوشش کی۔ بیشمار نعمتوں میں سے یہ تین نعمتیں اس لیے ذکر فرمائیں کہ یہ تینوں علم کے ذرائع ہیں ، انہی کے ذریعے سے آدمی کو حق تک پہنچ سکتا ہے۔ اس آیت میں خطاب کفار سے ہے اور ”قلیلا ما تشکرون“ (تم کم ہی شکر کرتے ہو) سے مراد یہ ہے کہ تم بالکل شکر ادا نہیں کرتے۔
Ayah 67:24قُلْ ھُوَ الَّذِیْ ذَرَاَکُمْ فِی الْاَرْضِ۔۔۔۔: جو تمہیں روئے زمین پر پھیلا سکتا ہے وہ تمہیں دوبارہ اکٹھا بھی کرسکتا اور کرے گا۔
Ayah 67:25وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ۔۔۔۔۔: ان کا یہ پوچھنا معلوم کرنے کے لیے نہیں تھا، وہ تو ماننے کو تیار ہی نہ تھے کہ ایساہو سکتا ہے۔ مسلمانوں سے ان کا یہ پوچھنا صرف طنز و استہزاء کے لیے تھا۔
Ayah 67:26قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللہ ِ۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے ، میں نہ قیامت لانے کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ مجھے اس کے وقت کا علم ہے ، میرا کام صرف یہ ہے کہ وقت سے پہلے تمہیں قیامت کے متعلق آگاہ کر دوں اور اس کی ہولناکیوں سے ڈرا دوں، سو یہ کام میں نے کردیا ہے۔ قیامت کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ہیں جن کا آنا یقینی ہے مگر وقت معلوم نہیں۔ موت ہی کو دیکھ لو ، تو کیا اس لیے قیامت یا موت کی تیاری نہ کی جائے کہ بیشک اس نے آنا ہے مگر اس کا وقت معلوم نہیں ؟
Ayah 67:27فَلَمَّا رَاَوْہُ زُلْفَۃً سِیْئَتْ۔۔۔۔۔”زلقۃ“ ”زلق یزلف“ (ن) سے اسم مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، قریب۔”تدعون“”دعا یدعو“ کے باب افتعال سے فعل مضارع ہے ، جس میں تائے افتعال کو دال سے بدل کر دال کو دال میں ادغام کردیا ہے۔ اب وہ جس قیامت کو مذاق سمجھ رہے ہیں اور جس کا مطالبہ بڑے دھڑلے سے بار بار کر رہے ہیں ، جب قریب آتی ہوئی دیکھیں گے تو سب ہنسی مذاق اور شیخی شوخی بھول جائیں گے ، خوف اور دہشت سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا یہی ہے وہ قیامت جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔
Ayah 67:28قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَھْلَکَنِیَ اللہ ُ۔۔۔۔۔۔۔:”یجیر“”اجار یجیر اجارۃ“ افعال اجوف واوی۔ کفار مکہ اسلام کے پھیلنے سے پریشان ہو کر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے خلاف اپنی تمام کوششوں کا نکام ہونا دیکھ کر اس امید پر جی رہے تھے کہ کبھی نہ کبھی زمانے کی گردش ان کا کام تمام کر دے گی۔ (دیکھیے طور : 30) اس پر حکم ہوا کہ ان سے کہو کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے ، تو تمہیں اس سے کیا غرض ہے ؟ تم اپنی فکر کرو کہ کفر کے نتیجے میں جو عذاب الیم تم پر آنے والا ہے ، تمہیں اس سے کون بچائے گا ؟
Ayah 67:29قُلْ ھُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ۔۔۔: یعنی وہ ہمیں ہلاک کرے یا ہم پر رحم کرے ، دونوں صورتوں میں ہماری امیدیں اسی سے وابستہ ہیں ، وہی رحمان ہے ، کوئی اور نہیں جو ہم پر رحم کرسکے۔ ہمارا اس پر ایمان اور اسی پر بھروسہ ہے ، تم جو اس کے علاوہ بھی کسی سے رحم کے امیدوار اور طلب گار ہو ، بہت جلد آنکھیں بند ہوتے ہی جان لو گے کہ ہم میں سے صریح گمراہ کون تھا۔
Ayah 67:301۔ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُکُمْ غَوْرًا۔۔۔۔:”غورا“”غار یغور غورا“ (ن) گہرا چلا جانا۔ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے۔”معین“ کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (45)۔
2۔ اس آیت سے تعلق رکھنے والا ایک عجیب واقعہ صاحب کشاف نے ذکر کیا ہے کہ ایک ملحد کے پاس یہ آیت پڑھی گئی تو اس نے کہا کہ (اگر وہ پانی گہرا چلا جائے تو) کسیاں اور بیلچے اسے نکال لائیں گے ، تو اس کی آنکھوں کا پانی خشک ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اور اپنی آیات کی گستاخی سے اپنی پناہ میں رکھے۔ (آمین) پچھلی آیات میں فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنا رزق روک لے اور بارش نہ برسائے تو کون ہے جو تمہیں بارش عطاء فرمائے ؟ قحط کے وقت اپنے خداؤں کی بےبسی تم دیکھ ہی چکے ہو۔ اب حکم ہوتا ہے کہ ان سے پوچھو کہ یہی پانی جس پر تمہاری زندگی کا دارومدار ہے ، اگر گہرا ہوجائے اور تمہاری دسترس سے باہر ہوجائے تو کون ہے جو بہتا ہوا پانی تمہارے پاس لے آئے ؟ ظاہ رہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کے پاس یہ قوت نہیں ہے۔