68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 68:1

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

ن۔ قسم ہے قلم کی ! اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں !

1۔”ن“ حروف تہجی میں سے ایک حرف ہے۔ مختلف سورتوں کی ابتداء میں آنے والے ان حروف سے اصل مرد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ، سب سے قریب بات یہ ہے کہ ان حروف کے ذکر سے تمام دنیا کو چیلنج کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید ان حروف تہجی ہی میں اتارا ہے ، اگر تمہیں اس کے منزل من اللہ ہونے میں شک ہے تو حروف تہجی تمہارے بھی علم اور استعمال میں ہیں ، تم بھی اس جیسی کوئی سورت بنا کرلے آؤ۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ عموماً یہ حروف جہاں بھی آتے ہیں ان کے بعد قرآن مجید ، کتاب یا وحی کا ذکر آیا ہے۔ (واللہ اعلم)۔ بعض مفسرین نے فرمایا ”ن“ کا معنی مچھلی ہے اور یہاں اس عظیم مچھلی کی قسم کھائی گئی ہے جس کی پشت پر ساتوں زمینیں رکھی ہوئی ہیں ، لیکن یہ بات درست نہیں۔ ایک تو اس لیے کہ کسی صحیح حدیث سے ایسی کسی مچھلی کا وجود ہی ثابت نہیں، دوسرا اس لیے کہ بیشک کلام عرب میں ”نون“ کا معنی مچھلی ہے ، جیسا کہ فرمایا :(وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا) (الانبیائ : 87)”اور مچھلی والے کو جب وہ غصے میں بھرا ہوا چلا گیا“۔ مگر یہاں یہ لفظ ”ن“ کی شکل میں ہے ، ”نون“ کی شکل میں نہیں۔ علاوہ ازیں اگر اس سے مراد مچھلی ہوتی تو اس پر رفع ، نصب یا جر کا اعراب ہونا چاہیے تھا اور آخر میں تنوین آنی چاہیے تھی ، جب کہ یہاں اس کے آخر میں وقف ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دوسرے حروف مقطعات مثلاً ”الم“ کی طرح حرف تہجی ہی ہے۔ بعض نے ”ن“ کا معنی دوات بتایا ہے ، مگر یہ لغت میں غیر معروف ہے اور اس پر اعراب اور تنوین نہ ہونے سے بھی اس کی تردید ہوتی ہے۔ 2۔ وَالْقَلَمِ۔۔۔۔:”القلم“ سے مراد لوح محفو ظ پر لکھنے والا قلم بھی ہوسکتا ہے ، جس کے متعلق ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان اول شی خلقہ اللہ تعالیٰ القلم وامرہ ان یکتب کلی شی یکون) (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی : 1، 257، : 133)”سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ قلم ہے اور اسے حکم دیا کہ ہر وہ چیز لکھ دے جو آئندہ ہوگی“۔ یہ حدیث ترمذی (3319) ، ابو داؤد (4700) اور مسند احمد (5، 317) میں بھی عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے۔ اور وہ قلم بھی مراد ہوسکتا ہے جس سے لوگ لکھتے ہیں۔ لفظ عام ہے ، اس لیے اسے کسی ایک قلم کے ساتھ خاص نہیں کیا جاسکتا۔ ”وما یسطرون“ میں لوح محفوظ میں لکھے ہوئے آسمانی صحیفے ، قرآن مجید اور ابتدائے خلق سے لکھی ہوئی تمام کائنات کی تقدیر بھی شامل ہے اور انسان یا فرشتے جو کچھ لکھتے ہیں وہ سب کچھ بھی شامل ہے۔
Ayahs 68:2–4

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

کہ تو اپنے رب کی نعمت سے ہرگز دیوانہ نہیں ہے۔

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور بیشک تیرے لیے یقینا ایسا اجر ہے جو منقطع ہونے والا نہیں۔

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا تو ایک بڑے خلق پر ہے۔

مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ۔۔۔۔: اللہ تعالیٰ نے قلم کی اور اس چیز کی قسم کھائی جو لکھنے والے لکھتے ہیں اور اس کے جواب میں تین باتیں ارشاد فرمائیں ، پہلی یہ کہ آپ اللہ کے فضل سے مجنون (دیوانے) نہیں ہیں ، دوسری یہ کہ آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو منقطع ہونے والا نہیں اور تیسری یہ کہ یقینا آپ خلق عظیم پر ہیں۔ قسم جواب قسم کی تاکید کے لیے کھائی جاتی ہے اور عام طور پر اس کے لیے شاہد اور دلیل ہوتی ہے ، یہاں قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ قلم اور قلم سے لکھنے والوں نے جو چھ لکھا ہے وہ اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ کفار کا یہ کہنا غلط ہے کہ آپ دیوانے ہیں۔ تقدیر کے قلم نے لوح محفوظ میں ہزاروں سال پہلے آپ کی قسمت میں جو صدق و امانت ، نبوت و رسالت اور دنیا و آخرت میں کامیابی اور عزت و رفعت لکھ دی ہے اور پہلے صحائف میں آپ کے متعلق جو پیش گوئیاں اور فضائل لکھے ہوئے ہیں ، کراماً کاتبین آپ کے اعمال نامے میں جو کچھ لکھ رہے ہیں اور کسی بھی شخص کے اعمال نامے میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے ، قرآن مجید میں جو عقائد ، احکام ، قصص اور گزشتہ و آئندہ کی خبریں لکھی ہوئی ہیں ، جن کا ایک شوشہ بھی نہ غلط ہوا ہے نہ ہوگا اور جس کی مثل چھوٹی سے چھوٹی سورت کوئی شخص پیش کرسکا ہے نہ کرسکے گا۔ آپ ﷺ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ ، آپ کے افعال و حوال اور آپ کا بعض مواقع پر خاموش رہنا ، یہ سب کچھ جو یاد کرنے والوں نے یاد کیا اور لکھنے والوں نے لکھا ہے اور قیامت تک یاد کرتے اور لکھتے چلے جائیں گے ، اگر کوئی ان تمام لکھی ہوئی چیزوں پر غور کرے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے بڑے بڑے عقل مندوں کی تحریروں کا موازنہ کرے اور سارے جہاں کے دیوانوں ، یا وہ گو شاعروں ، گپ بازوں اور افسانہ نویسوں کی لکھی ہوئی فضولیات کا بھی جائزہ لے تو وہ اسی نتیجے پر پہنچے گا کہ لوح محفوظ میں جس کی قسمت میں اتنی سعادتیں لکھ دی گئی ہیں ، جس کی پیش گوئیاں پہلی آسمانی صحائف میں لکھی ہوئی ہیں ، جو امی ہونے کے باوجود قرآن جیسی عظیم کتاب لے کر آیا ہے ، جس کے اقوال و احوال اور افعال و تقریرات میں سے ہر چیز بےحد محبت و عقیدت سے لکھی گئی ہے اور قیامت تک محفوظ ہے اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت کی روشنی مہیا کرتی ہے ، اور مہیا کرتی ہے ، اس کے متعلق کفارہ کا کہنا ’ ’ انک لمجنون“ کہ آپ دیوانے ہیں (دیکھئے حجر : 6) بالکل غلط ہے ، آپ اللہ کے فضل سے ہرگز دیوانے نہیں ہیں۔ کفار کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ زمانے کی گردش کے ساتھ آپ کا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ (طور : 30) اور یہ کہ آپ ابتر ہیں (کوثر : 3) اور یہ کہ آپ کے بعد کا نامل ینے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔ نہیں ، بلکہ یقین رکھو کہ آپ کے لیے وہ اجر ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کی امت کے اعمال حسنہ بھی آپ کے نامہ ٔ اعمال میں لکھے جاتے رہیں گے ، کیونکہ وہ آپ کی تعلیم ہی سے کیے گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(من دل علی خیر فلہ ٗ مثل اجر فاعلہ) (مسلم ، الامارۃ ، باب فضل اعانہ الغازی فی سبیل اللہ۔۔۔۔ 1893)”جو کسی نیکی کی طرف رہنمائی کرے تو اسے وہ نیکی کرنے والے کی طرح اجر ملے گا“۔ اور کفار کا آپ کے متعلق یہ کہنا بھی غلط ہے کہ آپ شاعر ہیں یا کاہن ہیں نعوذ باللہ کذاب یا متکبر ہیں۔ (دیکھئے قمر : 25) نہیں ، بلکہ آپ خلق عظیم پر ہیں۔ ان تینوں آیات میں مخاطب اگرچہ رسول اللہ ﷺ ہیں ، مگر اصل میں یہ باتیں کفار کو سمجھائی جا رہی ہیں۔ 2۔ وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ :”خلق“ کے لفظی معنی ہیں وہ عادتیں جو پیدائشی طور پر انسان میں پائی جاتی ہیں ، یعنی وہ خصلتیں جو طبیعت میں پختہ ہوجائیں اور اس طرح عادت بن جائیں کہ بغیر سوچے سمجھے خود بخود سر زد ہوتی رہیں ”خلق“ کہلاتی ہیں۔ عام طور پر خلق سے مراد لوگوں سے اچھا برتاؤ اور انہیں خندہ پیشانی سے ملنا لیا جاتا ہے ، اگرچہ خلق کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے مگر یہ خلق کا محدود مفہوم ہے۔ صحابہ کرام ؓ میں سے ابن عباس ؓ نے ”خلق عظیم ‘ ‘ کی تفسیر دین سے کی ہے۔ (طبریٰ) اور عائشہ ؓ سے آپ ﷺ کے خلق کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا :(کان خلقہ القرآن) (مسند احمد : 6، 91، ح : 24601۔ مسلم : 746)”آپ کا خلق قرآن تھا“۔ یعنی ابن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق دین اسلام کی ہر بات پر آپ کا اس طرح عمل تھا جیسے وہ آپ کی طبعی عادت ہو اور بقول عائشہ ؓ قرآن مجید آپ کا خلق یعنی آپ کی طبیعت بن گیا تھا۔ وہ سب کچھ جو قرآن میں ہے آپ سے بلا تکلف خود بخود عمل میں آتا تھا، جیسے وہ آپ کی طبیعت خصلت ہے۔ قرآن میں جو حکم دیا گیا اس پر آپ کا عمل تھا اور جس سے منع کیا گیا اس سے مکمل اجتناب تھا ، جو خود بیان اختیار کرنے کی تلقین کی گئی آپ ان سے پوری طرح آراستہ تھا اور جن صفات کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتے تھے۔ الغرض ، آپ میں تمام انسان خوبیاں جمع ہوگئی تھیں ، مثلاً شرف نسب ، کمال عقل ، درستی فہم ، کثرت علم ، شدت حیاء ، کثرت عبادت ، سخاوت ، صدق ، شجاعت ، صبر ، شکر ، مروت ، دوستی و محبت ، میانہ روی ، زہد ، تواضع ، شفقت ، عدل ، عفو ، برداشت ، صلہ رحمی ، حسن معاشرت ، حسن تدبیر ، فصاحت لسان ، قوت حواس ، حسن صورت وغیرہ جیسا کہ آپ کی زندگی کے حالات و واقعات میں مذکور ہے۔
Ayahs 68:5–7

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

پس جلد ہی تو دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون فتنے میں ڈالا ہوا ہے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

یقینا تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے اس کو جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی زیادہ جاننے والا ہے ان کو جو سیدھی راہ پر ہیں۔

فَسَتُبْصِرُ وَیُبْصِرُوْنَ۔۔۔۔: آپ کے خلق عظیم کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے مجنون کہنے اور دوسری تکلیف دہ باتوں پر صبر کریں۔”چند ہی“ سے مراد وہ موقع ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی مختلف طریقوں سے مدد کی ، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر کار آپکے جانی دشمن فوج در فوج آپ پر ایمان لا کر آپ کے جاں نثار دوست بن گئے اور جو مخالف رہے وہ بدر واحد اور خندق و فتح مکہ وغیرہ میں مردار ہوئے یا ذلیل و خوار ہوئے اور تمام جزیرۂ عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہوگئی۔ پھر قیامت تک آپ کی امت کے ہاتھوں ہونے والے فتوحات اور اسلام کی سر بلندی سے بھی واضح ہوگیا کہ پاگل کون تھا ؟ اس کے علاوہ ”جلد ہی“ سے مراد قیامت کا دن بھی ہے جب رسول اللہ ﷺ مقام محمود پر تشریف فرما ہوں گے ، آپ کے ہاتھ میں ”لو اء الحمد“ (حمد کا جھنڈا) ہوگا اور جب آپ حو ض پر اپنے امتیوں کو پانی پلا رہے ہوں گے اور آپ کو جھٹلانے والے مجرم جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے ، تب آپ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی کہ دیوانہ کون ہے ؟
Ayah 68:8

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

پس تو ان جھٹلانے والوں کا کہنا مت مان۔

فَـلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ : اس آیت میں اور آئندہ آنے والی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جھٹلانے والوں کا کہنا مت مان اور نہ کسی ایسے شخص کا کہنا مان جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ کام کرنے والے اللہ تعالیٰ کی نظر میں اتنے برے ہیں کہ وہ کوئی بات بھی کہیں مسلمان کے لیے ان کے کہنے پر چلنا جائز نہیں تو اللہ تعالیٰ کو یہ کس طرح گوارا ہوسکتا ہے کہ مسلمان خود ان جیسے کام کرنے لگیں۔ گویا جب ان صفات والوں کی اطاعت سے منع کیا گیا تو خود یہ صفات اختیار کرنے سے تو بدرجہ اولیٰ منع کردیا۔ ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ کافر جو بات بھی مسلمان سے منوانا چاہتے ہیں ، بظاہر وہ کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو ، اس کے پیچھے ان کا کوئی نہ کوئی خبیث مقصد ضرور ہوتا ہے ، اس لیے ان کا کہنا کسی صورت میں بھی نہیں ماننا چاہیے۔
Ayah 68:9

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

وہ چاہتے ہیں کاش ! تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔

وَدُّوْا لَوْتُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ :”تدھن“”دھن“ (تیل) سے مشتق ہے۔ جس طرح چمڑے وغیرہ کو تیل لگا کر نرم کیا جاتا ہے اس طرح بات کو نرم کردینا۔ یعنی ان کی خواہش ہے کہ آپ اسلام کی تبلیغ میں اپنی سرگرمیاں کم کردیں تو وہ بھی آپ کو ستانے میں کمی کردیں ، آپ اپنے دین میں کچھ ترمیم کر کے اس میں ان کے شرک اور دوسری گمراہیوں کی کچھ گنجائش نکال لیں تو وہ بھی آپ کے ساتھ صلح کرلیں گے۔ آپ خود جو چاہیں کریں ، مگر تمام لوگوں کی زندگی کے ہر شعبہ مثلاً ان کے عقائد ، معیشت اور معاشرت و حکومت وغیرہ میں اللہ کے حکم کی تنقید پر اصرار چھوڑ دیں تو وہ بھی آپ کے نماز روزے کو برداشت کرلیں ، جیسا کہ ہمیشہ کی طرح آج بھی سیکولر لوگوں کا کہنا ہے کہ دین ذاتی مسئلہ ہے، حکومت میں اس کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے۔ یاد رہے ! جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے وہ بات کو نرم کردینا ہے ، لہجے میں نرمی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ خلق عظیم پر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کفار کو نرم کرنے کے لیے آپ اپنے موقف اور عقیدے میں نرمی کردیں۔ رہی انداز اور لہجے میں نرمی تو وہ آپ کے خلق عظیم کا بھی تقاضا ہے اور اللہ کا حکم بھی۔ گویا آپ کو مداہنت سے منع کیا جا رہا ہے ، مدارت سے نہیں۔
Ayah 68:10

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور تو کسی بہت قسمیں کھانے والے ذلیل کا کہنا مت مان۔

وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ :”حلاف“”حلف یحلف“ (ض) سے مبالغہ ہے ، بہت قسمیں کھانے والا۔”مھین“”مھن یمھن مھانۃ“ (ک) (حقیر ، ذلیل ہونا) سے ”فعیل“ کے وزن پر ہے ، حقیر ، ذلیل۔ دونوں صفتیں ایک دوسرے کو لازم ہیں ، زیادہ قسمیں کھانے سے آدمی لوگوں کی نظر میں ذلیل ہوجاتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل اور بےاعتبار ہونے ہی کی وجہ سے وہ زیادہ قسمیں کھاتا ہے ، تا کہ اپنی بات کا یقین دلائے ، کیونکہ وہ خود سمجھتا ہے کہ لوگوں کے دل میں نہ اس کی عزت ہے نہ اعتبار۔ 2۔ ان چھ آیات (10 تا 15) میں مذکور بری خصلتوں والے شخص سے بعض مفسرین نے ایک خاص شخص مراد لیا ہے ، مگر آیت کے الفاظ عام ہیں :(ولا تطع کل حلاف مھین) کہ ’ ’ ایسی خصلتوں والے کسی شخص کا کہنا مت مان“ اس لینے ان خصلتوں والا ہر شخص آیت کا مصداق ہے۔ اس سے پہلے آیات میں مکذبین کی اطاعت سے منع فرمایا تھا ، اب انہی جھٹلانے والوں کا ذکر ان خصلتوں کے ساتھ ذکر کیا ہے جو دین کو جھٹلانے کی وجہ سے عام طور پر آدمی میں پیداہو جاتی ہیں۔ یہ سب کفر کی صفات ہیں ، آدمی کی کوشش کرنی چاہیے کہ ان میں کوئی بھی خصلت اس کے اندر پیدا نہ ہونے پائے۔
Ayah 68:11

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

جو بہت طعنہ دینے والا، چغلی میں بہت دوڑ دھوپ کرنے والا ہے۔

ہَمَّازٍ مَّشَّآئٍم بِنَمِیْمٍ :”ھماز مشاء بنیم :”ھماز“ ”ھمز یھمزھمزا“ (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے ، بہت طعنہ دینے والا ، عیب لگانے والا۔ ”مشاء“ ”مشی یمشی مشیا“ (ض) (چلنا) سے مبالغے کا صیغہ ہے ، بہت چلنے والا ، بہت دوڑدھوپ کرنے والا۔ ”نمیم“ چغلی ، خرابی ڈالنے کی نیت سے کسی کی بات دوسرے شخص تک پہنچانا۔ ان دونوں صفتوں کا خلاصہ دوسروں پر عیب لگانا ہے۔ ”ھماز“ وہ جو دوسرے کے منہ پر عیب لگاتا اور طعنہ دیتا ہے۔ ”مشاء بنیم“ وہ جو پیٹھ پیچھے چغلی کرتا ہے۔ یعنی بس چلے تو جرأت سے منہ پر طعنہ زنی اور عیب جوئی کرتا ہے اور بس نہ چلے تو پیٹھ پیچھے دوڑ دھوپ جاری رکھتا ہے۔
Ayah 68:12

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

خیر کو بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، سخت گناہ گار ہے۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ : ظلم کی دو قسمیں ہیں ، پہلی قسم کسی کا حق جو آدمی کے ذمے ہو روک لینا ، ادا نہ کرنا اور دوسری قسم کسی پر زیادتی کرنا۔ ”مناع للخیر“ میں پہلی قسم مبالغے کے ساتھ پائی جاتی ہے اور ”معتد“ میں دوسری۔ ”اثیم“ کا ذکر اس کے ساتھ اس طرح ہے جس طرح ”ولا تعاونو ا علی الاثم والعدوان“ (اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو) میں ہے۔ (دیکھئے مائدہ : 2)
Ayah 68:13

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

سخت مزاج ہے، اس کے علاوہ بدنام ہے۔

عُتُلٍّم بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ :”عتل“ ”عتل یعتل“ (ن، ض) سختی سے گھسیٹنا، جیسے فرمایا :(خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ اِلٰی سَوَآئِ الْجَحِیْمِ) (الدخان : 47)”اسے پکڑو ، پھر سختی سے کھینچتے ہوئے اسے بھڑکتی آگ کے درمیان تک لے جاؤ“۔ ”عتل“ موٹے جسم ، موٹے دماغ اور سخت مزاج والا۔ ”زنیم“ کے دو معنی ہیں ، ایک یہ کہ جو کسی قوم سے نہ ہو مگر اس میں سے ہونے کا دعویٰ کرے اور دوسرا معنی لئیم ، جو کمینگی اور شرارت میں مشہور۔ ”بد نام“ کے لفظ میں دونوں مفہوم ادا ہورہے ہیں۔
Ayahs 68:14–15

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس لیے کہ وہ مال اور بیٹوں والا رہا ہے۔

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِیْنَ :”ان کان“ سے پہلے لام محذوف ہے ، یعنی ”لان کان“ یہ ”لا تطع“ کے متعلق ہے ، یعنی مض اس لیے آپ اس کا کہنانہ مانیں کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ ہماری آیات کو پہلے لوگوں کی کہانیاں کہہ کر محض اس لیے جھٹلاتا ہے کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے ، اگر ہم اسے مال اور بیٹے عطاء نہ کرتے تو ایسا تکبر اور ایسی سرکشی اختیار نہ کرتا۔ اس صورت میں یہ بعد والی آیت سے متعلق ہے۔
Ayah 68:16

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

جلد ہی ہم اسے تھوتھنی پر داغ لگائیں گے۔

سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ :”الخرطوم“ کا لفظ اصل میں درندوں کی ناک (تھوتھنی) یا ہاتھی کی سونڈ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان بد خصلتوں والے انسان کی ناک کو تحقیر و مذمت کے لیے ”خرطوم“ کہا گیا ہے۔ سرکش آدمی چونکہ اپنی ناک اونچی رکھنے ہی کے لیے حق سے انکار کرتا ہے ، اس لیے قیامت کے دن اسی ناک پر داغ لگایا جائے گا جو اس کیذلت کا نشان ہوگا۔”وسم یسم“ (ض) کا معنی داغ اور نشان لگانا ہے۔
Ayah 68:17

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

یقینا ہم نے انھیں آزمایا ہے، جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا، جب انھوں نے قسم کھائی کہ صبح ہوتے ہوتے اس کا پھل ضرور ہی توڑ لیں گے۔

1۔ اِنَّا بَلَوْنٰـہُمْ کَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ۔۔۔۔: اہل مکہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا۔ تمام لوگ حج کے لیے انکے پاس آتے اور اپنی ضروریات کے لیے ان کے گاہک بنتے تھے ، وہ جہاں جاتے اہل حرم ہونے کی وجہ سے انہیں کوئی کچھ نہ کہتا۔ ہر قسم کا میوہ ان کے شہر پہنچ جاتا ، ان کی تجارت خوب چمکی ہوئی تھی اور وہ نہایت مال دار اور مکمل امن کی نعمت سے بہرہ ور تھے۔ ان نعمتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام بھی کیا کہ ان میں اپنا آخری رسول ﷺ مبعوث فرمایا ، مگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی بلکہ آپ ﷺ کو جھٹلا دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھوک اور خوف کا عذاب مسلط کردیا۔ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ چلے جانے کے بعد قریش نے آپ کے ساتھ جنگوں کا سلسلہ شروع کردیا ، جس سے وہ خود بھی غیر محفوظ ہوگئے اور ان کی تجارت بھی برباد ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ کی بد دعا سے ان پر قحط مسلط ہوگیا ، یہاں تک کہ وہ مردار تک کھا گئے۔ (دیکھئے بخاری ، 4828، 4809) اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کی اس حالت کا ذکر ان آیات میں بیان کیا ہے :(وَضَرَبَ اللہ ُ مَثَـلًا قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَئِنَّۃً یَّاْتِیْہَا رِزْقُہَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللہ ِ فَاَذَاقَہَا اللہ ُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ مِّنْہُمْ فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَہُمُ الْعَذَابُ وَہُمْ ظٰلِمُوْنَ) (النحل : 112، 113) ”اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی ، اطمینان والی تھی ، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا ، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی نا شکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے اور بلا شبہ یقینا ان کے پاس انہی میں سے ایک رسول آیا تو انہوں نے اسے جھٹلا دیا ، تو انہیں عذاب نے اس حال میں آپکڑا کہ وہ ظالم تھے“۔ یہاں اہل مکہ کی نا شکری اور اس پر سزا کے لیے بطور مثال ایک باغ والوں کا قصہ بیان کیا اور فرمایا :(انا بلونھم کما بلونا اصحب الجنۃ) ”بیشک ہم نے مکذبین کو نعمت دے کر آزمایا جس طرح باغ والوں کو نعمت دے کر آزمایا تھا“۔ یہ چند بھائی تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہت شاندار باغ عطاء فرمایا تھا، مگر بجائے اس کے کہ وہ اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ نکالتے ، انہوں نے قسم کھالی کہ صبح ہوتے ہی اس کا پھل توڑ لیں گے ، کسی مسکین کو نہ آنے دیں گے اور نہ انہیں کچھ دیں گے ، مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے جانے سے پہلے ہی آگ لگنے یا کسی اور آسمانی آفت سے باغ برباد ہوگیا۔ صبح گئے تو وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ 2۔”بلونھم“ ”بلا یبلو“ (ن) آزمانا ، مصیبت میں مبتلا کرنا ، انعام کرنا۔”لیصرمنھا“ ”صرم یصرم“ (ض) کاٹنا ، کٹنا ، ”صریم“ کٹا ہوا۔ یہ باغ کہا تھا اور باغ والے کون تھے ؟ قرآن نے ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ قرآن واقعات کو بطور تاریخ نہیں بلکہ بطور عبرت بیان کرتا ہے اور اس کے لیے نفس واقعہ ہی کافی ہے۔ اس مقام پر سورة ٔ کہف کی آیات (32 تا 44) بھی دیکھ لیں ، وہاں بھی عبرت دلانے کے لیے دو باغ رکھنے والے کی مثال بیان کی گئی ہے۔
Ayah 68:18

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور وہ کوئی استثنا نہیں کر رہے تھے۔

وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ :”الاستثنائ“ کسی چیز کو عام حکم سے علیحدہ کرنا ، ان شاء اللہ کہنا۔ آیت کے دو معنی ہیں ، ایک یہ کہ انہیں اپنے منصوبے کی کامیابی کا اتنا یقین تھا کہ انہوں نے ان شاء اللہ بھی نہیں کہا وہ اللہ کی قدرت و مشیت کو بھی بھول گئے۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے سارا پھل اتار دینے کی قسم کھائی۔ عام طور پر پھل چنتے وقت کچھ پھل مساکین کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، لیکن انہوں نے اس کا استثناء بھی نہیں کیا۔
Ayahs 68:19–20

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

پس اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک اچانک عذاب پھر گیا، جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے۔

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

تو صبح کو وہ (باغ) کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا۔

فَطَافَ عَلَیْہَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّکَ۔۔۔۔:”طائف“ پھرجانے والا ، چکر لگانے والا۔ مراد اللہ کی طرف سے اچانک عذاب ہے جس کے ایک ہی چکر سے باغ کا نام و نشان مٹ گیا ، یعنی رات باغ کو آگ لگ گئی اور صبح زمین صاف تھی ، جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد ہوتی ہے۔
Ayahs 68:21–24

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

پھر انھوں نے صبح ہوتے ہی ایک دوسرے کو آواز دی۔

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ صبح صبح اپنے کھیت پر جا پہنچو، اگر تم پھل توڑنے والے ہو۔

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

چناچہ وہ چل پڑے اور وہ چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے۔

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج اس (باغ) میں تمہارے پاس کوئی مسکین ہرگز داخل نہ ہونے پائے۔

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَ۔۔۔۔۔:”علی حرثکم“ اپنے کھیت پر۔ معلوم ہوا کہ با غ کے ساتھ کھیتی بھی تھی۔
Ayah 68:25

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور وہ صبح سویرے پختہ ارادے کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (اپنے خیال میں پھل توڑنے پر) قادر تھے۔

وَغَدَوْا عَلٰی حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ۔۔۔:”حرد“ کا ایک معنی ہے قصد و ارادہ ، یعنی وہ پختہ ارادے کے ساتھ نکلے کہ کسی مسکین کو باغ میں گھسنے نہیں دیں گے اور دوسرا معنی ہے شدید غصہ ، یعنی وہ مساکین پر سخت غصے کے عالم میں نکلے۔ دونوں صورتوں میں ”قدرین“ کا معنی ہے ”اس حال میں کہ وہ اپنے خیال میں باغ کے پھل پر قادر تھے۔”حرد“ کا تیسرا معنی ہے روکنا ، یعنی وہ صبح صبح اس حال میں نکلے کہ (اپنے خیال میں) مساکین کو روکنے پر قادر تھے۔
Ayahs 68:26–27

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

پس جب انھوں نے اسے دیکھا تو انھوں نے کہا بلاشبہ ہم یقینا راستہ بھولے ہوئے ہیں۔

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

بلکہ ہم بےنصیب ہیں۔

فَلَمَّا رَاَوْہَا قَالُوْٓا اِنَّا لَضَآلُّوْنَ۔۔۔۔: جب باغ نظر نہ آیا تو پہلے یہ سمجھے کہ ہم بھول گئے ہیں ، پھر جب یقین ہوگیا کہ یہ صاف زمین ہمارا ہی باغ ہے تو کہنے لگے ہماری قسم پھوٹ گئی۔
Ayahs 68:28–29

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ان میں سے بہتر نے کہا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے۔

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

انھوں نے کہا ہمارا رب پاک ہے، بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔

قَالَ اَوْسَطُہُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ۔۔۔۔:”اوسطھم“ کا معنی ان کے درمیان والا بھی ہے اور ان میں سے افضل بھی ہے ، جیسے فرمایا :(وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا) (البقرہ : 143)”اور اسی طرح ہم نے تمہیں سب سے بہتر امت بنایا“۔ تو ان میں سے جو بہتر تھا اس نے انہیں ان کے خبیث ارادے کے وقت نصیحت کی تھی ”لو لا تسبحون“ کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے اور اس بری نیت سے توبہ کیوں نہیں کرتے ؟ مگر انہوں نے اس کی بات نہیں مانی تھی ، اب اس نے انہیں وہ بات یاد دلائی۔ ’ لو لا تسبحون“ کا معنی بعض نے یہ کیا ہے کہ ”تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟“ مگر سارا پھل توڑنے کا ارادہ کر کے ”ان شاء اللہ“ پڑھ بھی لیتے تو کچھ فائدہ نہ تھا، اس لیے یہی معنی درست معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کہا تم اپنے رب کو یاد کیوں نہیں کرتے، اس کا ہر عیب سے پاک ہونا خصوصاً اس قسم کے بخل سے اور مسکینوں کو محروم کرنے کے ارادے سے پاک ہونا کیوں یاد نہیں کرتے کہ تم بھی اس بخل اور کمینگی سے بچ جاؤ۔ اس معنی کے درست ہونے کا ایک قرینہ یہ ہے کہ جب ان کے بھائی نے انہیں اپنی بات یاد دلائی تو انہوں نے ”سبحن ربنا“ کہہ کر اس وقت ”سبحان اللہ“ نہ کہنے کی تلافی کی کوشش کی۔
Ayahs 68:30–32

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر ان کا ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوا، آپس میں ملامت کرتے تھے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

انھوں نے کہا ہائے ہماری ہلاکت ! یقینا ہم ہی حد سے بڑھے ہوئے تھے۔

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔ یقینا (اب) ہم اپنے رب ہی کی طرف راغب ہونے والے ہیں۔

فَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔۔۔: یتلاومون“ ”لام یلوم“ سے با تفاعل ہے جس کے معنی میں تشارک ہوتا ہے ، ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔”طغین“ ”طعی یطعی“ (ف) سے اسم فاعل کی جمع ہے۔ اب ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو ملامت شروع کردی ، کوئی کسی کو قصور وار ٹھہراتا تو کوئی کسی کو ، پھر خود ہی کہنے لگے کہ ہائے ہماری بربادی ! ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے کہ اللہ کے مال کو اپنا سمجھ بیٹھے اور حق دار کو محروم کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔ اب ہم ہم توبہ کرتے ہیں ، اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنے رب سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطاء فرمائے گا۔
Ayah 68:33

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

اسی طرح (ہوتا) ہے عذاب۔ اور یقینا آخرت کا عذاب کہیں بڑا ہے، کاش ! وہ جانتے ہوتے۔

کٰذَلِکَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ۔۔۔: اہل مکہ کو یاد دلایا جارہا ہے کہ نعمت کی ناشکری پر عذاب اس طرح ہوتا ہے جس طرح باغ والوں پر آیا اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑا ہے، کیونکہ دنیا کے عذاب کے بعد تو توبہ و استغفار کی گنجائش ہے، جیسا کہ اس باغ والوں نے توبہ کرلی اور توبہ کے بعد عذاب سے ہونے والے نقصان کی تلافی کی بھی امید ہے، جیسا کہ باغ ملنے کی امید رکھی، مگر آخرت کے عذاب کے بعد ان میں سے کسی چیز کی گنجائش نہیں۔
Ayah 68:34

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

بلاشبہ ڈرنے والوں کے لیے ان کے رب کے ہاں نعمت والے باغات ہیں۔

(ان للمتقین عند ربھم جنت النعیم :) پچھلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے کی پاداش میں کس طرح باغ والوں کا باغ برباد ہوا اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی بڑا ہے۔ دنیا کے باغ کے بعد آخرت کے باغات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ رب تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لئے ان کے رب کے پاس ایک نہیں بلکہ نعمت والے کئی باغ ہیں۔
Ayahs 68:35–36

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

تو کیا ہم فرماں برداروں کو جرم کرنے والوں کی طرح کردیں گے ؟

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

کیا ہے تمھیں، تم کیسے فیصلے کرتے ہو ؟

(افنجعل المسلمین…: مشرکین کہا کرتے تھے کہ اول تو مرنے کے بعد زندگی کی بات ہی غلط ہے، اگر یہ سچ ہے اور مرنے کے بعد عذاب یا ثواب ہونا ہے تو ہم یہاں مسلمانوں کی بہ نسبت خوش حال ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر راضی ہونے کی دلیل ہے، آخرت میں بھی وہ نعمتیں اور باغات ہمیں کو ملیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کی تردید کی اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں اندھیر نہیں کہ حکم ماننے والوں سے اور مجرموں سے ایک جیسا سلوک کیا جائے۔
Ayahs 68:37–38

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

یا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے، جس میں تم (یہ) پڑھتے ہو۔

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ بیشک تمہارے لیے آخرت میں یقینا وہی ہوگا جو تم پسند کرو گے۔

(1) ام لکم کتب فیہ تدرسون …: کفار جو کہتے تھے کہ ہمیں آخرت میں بھی جنت و نعمت ملے گی، اس بات کی تردید ایک اور طرح سے ہے، فرمایا تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی ؟ اگر کہو کہ تمہیں خود اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے تو بتاؤ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی کون سی کتاب ہے جس میں تم نے پڑھا ہے کہ آخرت میں تمہیں تمہاری پسند ہی کی چیزیں ملیں گی ؟ صاف ظاہر ہے کہ نہ تمہارے پاس ایسی کوئی کتاب ہے اور نہ تمہارا یہ گمان کچھ حقیقت رکھتا ہے۔ (2) ”تخیزون“ باب تفعل میں سے ”تنخیرون“ ہے، ایک تاء حذف کردی ہے۔”ان لکم فیہ لما تخیرون“ جملہ مکسور ہوگیا۔ ترجمہ یہ ہوگا ”کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ بات پڑھتے ہو کہ تمہارے لئے آخرت میں وہی ہوگا جو تم پسند کرو گے ؟“
Ayah 68:39

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

یا تمہارے پاس ہمارے ذمے کوئی حلفیہ عہد ہیں، جو قیامت کے دن تک جاپہنچنے والے ہیں کہ بیشک تمہارے لیے یقینا وہی ہوگا جو تم فیصلہ کرو گے۔

ام لکم ایمان علینا بالغۃ…:”ایمان“ ”یمین“ کی جمع ہے، قسم، حلفیہ عہد۔ فرمایا، یا پھر تمہارے پاس ہمارے کوئی حلفیہ عہد ہوں جو قیامت تک کے لئے ہوں کہ تمہیں وہی ملے گا جو تم فیصلہ کرو گے۔ ظاہر ہے ہمارا عہد اگر ہے بھی تو ان سے ہے جو ایمان اور عمل صالح سے متصف ہیں، مجرموں اور ظالموں سے تو ہمارا کوئی عہد ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا :(لاینال عھدی الظلمین) (البقرۃ : 123)”میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔“
Ayah 68:40

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

ان سے پوچھ ان میں سے کون اس کا ضامن ہے ؟

سلھم ایھم بذلک زعیم : ان سے پوچھیے ! ان میں سے کون اس کا ذمہ لیتا ہے کہ آخرت میں انھیں وہی ملے گا جو وہ کہیں گے۔