68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 68:41

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

یا ان کے کوئی شریک ہیں ؟ تو وہ اپنے شریک لے آئیں، اگر وہ سچے ہیں۔

ام لھم شرکآء …: یا اگر یہ خود ضمانت نہیں دے سکتے تو کیا ان کے پاس ایسی ہستیاں ہیں جو اللہ کے شریک ہوں اور انہیں آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زبردستی چھڑوا کر جنت دلوانے کا ذمہ دے سکیں ؟ اگر سچے ہیں تو وہ شریک سامنے لائیں۔
Ayah 68:42

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور وہ سجدے کی طرف بلائے جائیں گے تو وہ طاقت نہیں رکھیں گے۔

(1) یوم یکشف عن ساق …:”یوم“ یا تو پچھلی آیت ”فلیاثوا بشرکآئھم“ کے متعلق ہے، یعنی دنیا میں تو ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے جھوٹ موٹ شریک گنوا دیں جو ان کی رہائی کے ذمہ دار بننے کا دعویٰ کریں، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر سچے ہیں تو اس دن اپنے شریک سامنے لائیں جس دن پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا اور لوگوں کو سجدے کے لئے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہیں کرسکیں گے۔ یا یہ ”ان للمتقین عند ربھم جنت النعیم“ کے متعلق ہے، یعنی متقین کو نعمت والی جنتیں اس دن ملیں گی جب پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا۔ (2) یوم یکشف عن ساق“ کا ایک معنی تو وہ ہے جو ان لفظوں کا سادہ ترجمہ ہے اور خود بخود ظاہر ہو رہا ہے اور ایک وہ ہے جو ان لفظوں کے سادہ ترجمہ سے ہٹ کر کیا گیا ہے اور جو لغت عرب کا ایک محاورہ ہے۔ وہ معنی جو لفظوں کا سادہ ترجمہ ہے اور خود بخود ظاہر ہو رہا ہے کہ ”جس دن پنڈلی کھولی جائے گی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی ظاہر فرمائے گا اور لوگوں کو سجدے کے لئے بلایا جائے گا۔ خود رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کا یہی مطلب بیان فرمایا ہے اور صحیح سند کیساتھ آپ سے یہی مروی ہے ، چناچہ صحیح بخاری میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یکشف ربنا عن ساقہ فسجد لہ کل مومن و مومنۃ و یبقی من کان یسجد فی الدنیا ریاء و سمعۃ فیذھب لیسجد فیعود ظھرۃ طبقاً واحدا) (بخاری، التفسیر، باب :(یوم یکشف عن ساق): 3919)”ہمارا رب اپنی پنڈلی کھولے گا تو ہر مومن مراد اور مومن عورت اس کو سجدہ کریں گے اور وہ شخص باقی رہ جائے گا جو دنیا میں دکھانے اور سنانے کے لئے سجدہ کرتا تھا وہ سجدہ کرنے لگے گا تو اس کی پیٹھ ایک طبق ہوجائے گی (یعنی دوہری نہیں ہو سکے ی۔)“ اس حدیث میں صاف ا لفاظ موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا، بلکہ صحیح بخاری میں ایک اور مقام پر ہے کہ ہر قوم جس کسی کی پرستش کرتی تھی اس کے پیچھے چلی جائے گی، صلیب والے صلیب کے پیچھے، بتوں والے بتوں کے پیچھے اور دوسرے معبودوں والے اپنے اپنے معبدوں کے پیچھے چلے جائیں گے، صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا بد وہ اللہ تعالیٰ کا انتظار کر رہے ہوں گے، اللہ ان سے پوچھے گا :(ھل بینکم وبینہ ایۃ تعرفونہ ؟ فیقولون الساق فیکشف عن ساقہ فیسجدلہ) (بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ :(وجوہ یومئذ ناظرۃ…): 8339)”کیا تمہارے اور تمہارے رب کے درمیا نکوئی نشانی ہے جسے تم پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے :”پنڈلی ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا اور ہر مومن اسے سجدہ کرے گا۔“ اس سے معلوم ہوا کہ پنڈلی کھولنے سے مراد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کے درمیان اور اہل ایمان کے درمیان طے شدہ نشاین ہوگی اور اس نشانی کو دیکھ کر اہل ایمان رب تعالیٰ کے سامنے سجدہ میں گرجائیں گے۔ یہ حدیث صحیح بخایر کے علاوہ حدیث کی دوسری بہت سی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اتنی اعلیٰ درجے کی صحیح سند کے ساتھ خود رسول اللہ ﷺ سے آیت کی تفسیر آنے کے بعد کسی اور تفسیر کی نہ ضرورت رہتی ہے اور نہ گنجائش ، مگر چونکہ بہت سے مفسرین نے اس آیت کی ایک اور تفسیر کی ہے اس لئے وہ بھی ذکر کی جاتی ہے۔ ان مفسرین کا کہنا یہ ہے کہ ”کشف ساق“ لغت عرب کا ایک محاورہ ہے، جو شدت سے کنایہ ، یعنی ”یوم یکشف عن ساق“ کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کا دن بہت سخت ہوگا، کیونکہ جب کوئی سختی یا مشکل پیش آتی ہے تو آدمی پنڈلی سے کپڑا اٹھا کر کمر کس لیتا ہے۔ یہ تفسیر ابن عباس ؓ سے مقنول ہے اور بعض تابعین جیسے مجاہد، عکرمہ اور ابراہیم نخفی ؒ وغیرہ سے بھی آئی ہے۔ یہ تفسیر اگرچہ درست ہے اور لغت عرب میں یہ محاورہ استعمال بھی ہوتا ہے، مگر پہلی تفسیر (یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا) میں قرآن کے صریح الفاظ کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور یہ تفسیر اس ذات گرامی نے کی ہے جس پر قرآن نازل ہوا تھا، اس لئے یہی مقدم ہے۔ البتہ دونوں تفسیروں میں کوئی تعارض نہیں، اس دن اللہ تعالیٰ کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور اس دن کی شدت میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ خود ابن عباس ؓ عنہمانے اللہ تعالیٰ کی پنڈلی ظاہر ہونے کا کبھی انکار نہیں فرمایا اور نہ دیگر صحابہ میں سے کسی نے ان الفاظ کا انکار کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے متعلق اس سلسلے میں قرآن یا حدیث میں آئے ہیں۔ قرآن مجید میں چونکہ یہ صراحت نہیں کہ اللہ کی پنڈلی ظاہر ہوگی بلکہ صرف پنڈلی کا لفظ ہے، اس لئے ابن عباس ؓ عنہمانے اس کا مفہوم یہ لیا کہ کشف ساق سے اس دن کی شدت مراد ہے اور یہ مراد لینا لغت عرب کے بالکل مطابق ہے، مگر ابوسعید خدری ؓ عنہمانے رسول اللہ ﷺ سے صراحت نقل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی ظاہر ہوگی۔ اس لئے مقدم وہی مفہوم ہوگا جو خود رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا ، اگرچہ قیامت کے دن کی شدت بھی اپنی جگہ حقیقت ہے۔ افسوس تو ان لوگوں پر ہے جنہوں نے صاف کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی ظاہر نہیں ہوگی، نہ اس کی پنڈلی ہے۔ ان لوگوں نے اس سے بڑھ کر اس قسم کے ان تمام الفاظ کا انکار کردیا جو قرآن میں آئے ہیں، مثلاً ہاتھ ، چہرہ، آنکھ ، پاؤں وغیرہ اور کہا کہ اگر ہم یہ مانیں تو اللہ تعالیٰ کا جسم لازم آتا ہے اور اس کا ہمارے جیسا ہونا لازم آتا ہے، جب کہ اس نے خود فرمایا :(لیس کمثلہ شیء) (الشوری : 11)”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ یعنی یہ بھی مانو کہ اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں اور یہ بھی مانو کہ وہ سمیع بھی ہے اور بصیر بھی۔ یہ خیال کر کے اس کے سمیع وبصیر ہونے کا انکار نہ کردینا کہ ہم بھی سمیع اور بصیر ہیں، اگر اسے سمیع وبصیر مانا تو اس کا ہمارے مشابہ ہونا لازم آئے گا۔ نہیں، اس کا سمیع وبصیر ہونا تمہارے سمیع وبصیر ہونے کے مشابہ نہیں ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی پنڈلی، اس کا چہرہ، اس کا قدم اور جو کچھ اس نے خود اپنے متعلق بتایا سب برحق ہے، مگر اس کی پنڈلی مخلوق کی پنڈلی کے مشابہ نہیں، نہ کوئی اور صفت مخلوق کی صفت کے مشابہ ہے، وہ اسی طرح ہے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ صفات الٰہی والی آیات و احادیث کے متعلق سلف صالحین کا طریقہ یہی ہے کہ ان کے ظاہر الفاظ پر ایمان لانا چاہیے اور ان کی کفیت اللہ کیس پرد کر دینی چاہیے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا انکار کیا ہے درحقیقت وہ خود تشبیہ میں مبتلا ہیں کہ انہوں نے اللہ کی پنڈلی، اس کے چہرے اور دوسری صفات کو اپنے اعضا جیسا سمجھا اور یہ سمجھ کر ان سے انکار کردیا۔ اگر وہ ان صفات کو اپنی صفات کی مثال خیال نہ کرتے تو کبھی انکار نہ کرتے۔
Ayah 68:43

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت انھیں گھیرے ہوئے ہوگی، حالانکہ انھیں سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا، جب کہ وہ صحیح سالم تھے۔

وقد کانوا یدعون الی السجود وھم سلمون : گویا آخرت میں ان کی پیٹھ کا تختہ بن جانا اور ان کا سجدے کے قابل نہ رہنا اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے دنیا میں صحیح سالم ہوتے ہوئے ایک اللہ کو سجدہ کرنے کی دعوت قبول نہ کی۔
Ayahs 68:44–45

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

پس چھوڑ مجھے اور اس کو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے، ہم ضرور انھیں آہستہ آہستہ (ہلاکت کی طرف) اس طرح سے لے جائیں گے کہ وہ نہیں جانیں گے۔

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور میں انھیں مہلت دوں گا، یقینا میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط ہے۔

فذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث…: یعنی جھٹلانے والوں کو سزا دینے میں اگر تاخیر ہو رہی ہے تو آپ فکر مت کریں، انہیں ہمارے سپرد کردیں، پھر ہم جانیں اور وہ ”سنستدرجھم“ ہم انہیں درجہ بدرجہ ہلاکت کی طرف لے جائیں گے، یعنی ہم انہیں عمر، صحت اور دوسری نعمتیں مسلسل دیتے جائیں گے، وہ شکر کے بجائے کفر میں بڑھتے جائیں گے اور انجام کار جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ کفر و فسق کے باوجود نعمتیں بڑھتی جائیں تو یہ اللہ کی طرف سے استدراج اور اس کی خفیہ تدبیر ہے۔ دیکھیے سورة مومنون (56) ، انعام (44) اور سورة اعراف (183)۔
Ayah 68:46

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

یا تو ان سے کوئی مزدوری طلب کرتا ہے کہ وہ تاوان سے بوجھل ہیں۔

(ام تسلھم اجراً …:) ان کے اسلام قبول نہ کرنے کا ایک عذر یہ ہوسکتا ہے کہ آپ ان سے کوئی اجرت مانگتے ہوں جو ان کے لئے خواہ مخواہ کی چٹی اور بوجھ ہو، ظاہر ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔
Ayah 68:47

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

یا ان کے پاس غیب کا علم ہے، تو وہ لکھتے جاتے ہیں۔

ام عندھم الغیب …: یا یہ عذر ہوسکتا ہے کہ ان کے پاس غیب کا علم ہے اور وہ خود کتاب الٰہی لکھ سکتے ہیں تو انہیں آپ پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے ؟ یا انہوں نے غیب سے معلوم کر کے لکھ دیا ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول نہیں ہیں، یا انہوں نے اپنے متعلق غیب سے معلوم کر کے لکھ رکھا ہے کہ انہیں آخرت میں بھی دنیا جیسی نعمتیں ملتی رہیں گی، ظاہر ہے کہ ایسا بھی ہرگز نہیں ہے۔
Ayah 68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو، جب اس نے پکارا، اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔

فاصبر لحکم ربک …: مچھلی والے سے مراد یونس ؑ ہیں۔ آپ ﷺ کو تلقین کی جا رہی ہے کہ آپ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار صبر سے کریں، عذاب آنے میں دیر سے پریشان نہ ہوں اور انہیں دی ہوئی مہلت کو لمبا سمجھ کر جلد بازی اور اکتاہٹ میں کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھیں جیسا مچھلی والے (یونس علیہ السلام) سے سر زد ہوا کہ وہ اجازت کے بغیر قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ یونس ؑ کے واقعہ کے لئے دیکھیے سورة یونس (98) ، انبیاء (87، 88) اور صافات (139 تا 148)۔ یونس ؑ کی ندا یہ تھی :(لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین) (الانبیائ : 88)”تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔“”وھو مکظوم“ (غم سے بھرے ہوئے ہونے) کا مطلب یہ ہے کہ اس دن ان کے دل میں کئی غم اور صدمے اکٹھے ہوگئے تھے، ایک قوم کے ایمان نہ لانے کا غم، دوسرا صریح اجازت کے بغیر اپنے چلے آنے کا، تیسرا سمندر میں پھینک دیئے جانے کا اور چوتھا مچھلی کے پیٹ میں قید ہوجانے کا۔ ان سب غموں اور صدموں کا علاج انہوں نے بار گاہ الٰہی میں دعا تسبیح اور استغفار سے کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر غم سے نجات عطا فرما دی۔
Ayah 68:49

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر یہ نہ ہوتا کہ اسے اس کے رب کی نعمت نے سنبھال لیا تو یقینا وہ چٹیل زمین پر اس حال میں پھینکا جاتا کہ وہ مذمت کیا ہوا ہوتا۔

لولا ان تدرکہ نعمۃ من ربہ…: اگر یونس ؑ تسبیح و استغفار نہ کرتے تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔ (دیکھیے صافات : 143، 144) تسبیح کیب عد ائمی قید کا فیصلہ ختم ہوگیا ، مگر متر بے میں جو کمی ہوئی اور اپنی خطا کی وجہ سے جس ملامت کے سزا وار ٹھہرے، اگر ان کے رب کی نعمت انہیں نہ سنبھالتی اور ان کی خطا معاف نہ کردی جاتی اور اسی حالت میں عراء (چٹیل زمین) میں پھینک دیئے جاتے تو اس حالت میں وہ مذموم ہوتے، مگر نعمت الٰہی سے تمام کوتاہیوں کی تلافی کے بعد عراء میں پھینکنے گئے تو وہ مذموم نہ تھے بلکہ محمود تھے۔
Ayah 68:50

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اسے نیکوں میں شامل کردیا۔

فاجتبہ ربہ فجعلہ من الصلحین : چنے ہوئے تو پہلے بھی تھے، اب ان کا مرتبہ اور بڑھا دیا اور انہیں اعلیٰ درجے کے نیک اور صالح بندوں میں داخل کردیا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ماینبغی لعبد ان یقول انی خیر من یونس بن متی) (بخاری، الانبیاء ، باب قول اللہ تعالیٰ :(وان یونس …): 3313)”کسی بندے کو لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔“
Ayah 68:51

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا یقینا قریب ہیں کہ تجھے اپنی نظروں سے (گھور گھور کر) ضرور ہی پھسلا دیں، جب وہ ذکر کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یقینا یہ تو دیوانہ ہے۔

وان یکاد الذین کفروا لیزلقونک …: اس آیت میں ”ان“ اصل میں ”ان“ (نون مشدد کے ساتھ) تھا، کیونکہ بعد میں ”لیزلقونک“ پر لام آرہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب کفار کو اللہ تعالیٰ کی آیات سناتے اور بت پرستی کی مذمت کرتے تو وہ سخت غصے میں آکر آپ کو قہر کی نظر سے گھور گھور کر دیکھتے اور آپ کو دیوانہ قرار دیتے۔ سورة حج (72) میں ہے کہ قریب ہے کہ وہ ہماری آیات پڑھنے والوں پر حملہ ہی کردیں۔”لیزلقونک“ ”ازلق یزلق“ (افعال) پھسلانا۔ اس کا معنی ”ہلاک کرنا“ بھی آتا ہے، کیونکہ پھسل کر گرنے سے آدمی ہلاک بھی ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ جب ذکر سنتے ہیں تو آپ کو اتنے غصے اور اتنی تیز نظروں سے گھور گھور کر دیکھتے ہیں جیسے آپ کو آپ کے موقف ہی سے پھسلا دیں گے۔ دوسرا معنی ہے جیسے آپ کو ہلاک ہی کردیں گے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح کہا جاتا ہے، فلاں شخص نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے مجھے کھا ہی جائے گا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ بعض قبیلے ایسے تھے کہ جن کی نظر بہت جلد لگ جاتی تھی، اس لئے وہ آپ ﷺ کو بری نظروں سے دیکھتے تھے، تاکہ آپ کو نظر لگ جائے۔ اگرچہ نظر کا حق ہونا صحیح احادیث سے ثابت ہے، لیکن یہاں اس تفسیر کا موقع نہیں، کیونکہ اگر کوئی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر دیکھے تو نظر لگا کرتی ہے، غصے کی نظر سے نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آیت میں ان کے دیکھنے کو ”لما سمعوا الذکر“ سے مقید کیا ہے، یعنی جب وہ ذکر سنتے ہیں تو آپ کو ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے غصے کے وقت نظر لگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور وہ روایتیں بھی مضبوط نہیں ہیں۔ (کذا قال صاحب احسن التفاسیر و ابن الجوزی فی زاد المسیر)
Ayah 68:52

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

حالانکہ وہ تمام جہانوں کے لیے نصیحت کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

وما ھو الا ذکر للعلمین : یعنی قرآن کی آیات میں تو وہ نصیحتیں ہیں جن کے اثر سے ایک دو نہیں بلکہ بیشمار جہان راہ راست پر آنے والے ہیں، ایسی نصیحت کے سنانے والے کو جو دیوانہ بتاتا ہے وہ خود دیوانہ ہے۔