69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 69:1–3

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

وہ ہو کر رہنے والی۔

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

کیا ہے وہ ہو کر رہنے والی ؟

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے ؟

(الحآقۃ ، ماالحاقۃ…:”الحآقۃ“”حق یحق“ (ض ، ن) (ثابت ہونا، واجب ہونا) سے ”فاعلۃ“ کے وزن پر ہے، ہو کر رہنے والی، واجب ہونے والی، جس کا ہونا حق ہے۔ مراد قیامت ہے، کیونکہ وہ ہو کر رہ گی، اس لئے اس کا نام ”الواقعۃ ‘(واقع ہونے والی) بھی ہے۔ (دیکھیے حاقہ : 15) قیامت کا ذکر استفہامیہ فقروں سے شروع کیا گیا ہے، یہ اہل بلاغت کا خاص اسلوب ہے۔ اس سے ایک تو سننے والے کو متوجہ کرنا اور شوق دلانا مقصود ہوتا ہے، دوسرا قیامت کی عظمت اور ہولناکی بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ اتنی عظیم الشان ہے کہ نہ تمہاری سمجھ میں پوری طرح آسکتی ہے اور نہ کوئی اور ایسا ہے جو تمہیں معلوم کروا سکے کہ وہ کیا ہے ؟
Ayah 69:4

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

ثمود اور عاد نے اس کھٹکھٹانے والی (قیامت) کو جھٹلادیا۔

کذبت ثمودہ و عاد بالقارعۃ :”القارعۃ“”قرع“ (ف) کھٹکھٹانا، کسی سخت چیز پر دوسری چیز سے ضرب لگانا۔ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کیونکہ وہ بھی اسی طرح یک لخت آکھٹکھٹائے گی جیسے کوئی آنے والا زور سے دروازہ آکھٹکھٹاتا ہے اور آدمی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے۔ کفار کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ قیامت کا انکار کرنے والے پہلے لوگ تم ہی نہیں، بلکہ تم سے پہلے عاد وثمود نے، جو قوت و شوکت میں تم سے کہیں بڑھ کر تھے، اس کھٹکھٹانے والی (قیامت) کو جھٹلایا، پھر ان کا انجام کیا ہوا ؟ ثمود جو عرب کے شمال مغرب اور عاد جو عرب کے جنوب مشرق کی متمدن ترین قومیں تھیں، توحید کے انکار کے بعد ان کا سب سے بڑا جرم قیامت اور آخرت کا انکار تھا، جس نے انہیں سرکش بنادیا تھا اور جس کی پاداش میں آخر کار انہیں تباہ و برباد کردیا گیا۔ موجودہ زمانے کی مادہ پرست بزعم خویش مہذب قوموں کی سرکشی کا اصل باعث بھی قیامت اور جزا و سزا کا انکار ہے۔
Ayah 69:5

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

سو جو ثمود تھے وہ حد سے بڑھی ہوئی (آواز) کے ساتھ ہلاک کردیے گئے۔

فاما ثمود فاھلکوا بالظاغیۃ :”الطاغیۃ“”طغی یطغی“ (ف) سے اسم فاعل ہے، یہ ”عافیۃ“ کی طرح مصدر بھی ہوسکتا ہے۔ اسم فاعل ہو تو ”الطاغیۃ“ کا معنی ”حد سے بڑھنے والی“ ہے اور یہ ”الرجفتہ“ یا ”الصیحۃ“ یا ”الصعقۃ“ کی صفت ہوگی، یعنی ثمود اس زلزلے سے یا آواز سے یا بجلی کی کڑک سے ہلاک ک دیئے گئے جو آوازوں کی حد سے بہت بڑھی ہوئی تھی۔ یہ فرشتے کی آواز تھی یا بجلی کی کڑک تھی جس کے ساتھ زلزلہ بھی تھا، یا زلزلے کے ساتھ آنے والی خوفناک آواز تھی۔”الرجفتہ“ کے لئے دیکھیے سورة اعراف (78) ، ”الصیحۃ“ کے لئے دیکھیے سورة ہود (67) اور ”الصعقۃ“ کے لئے دیکھیے حم سجدہ (17)۔ مصدر ہو تو معنی ”حد سے بڑھنا“ ہے،”بائ“ سیبہ ہوگی :”ای یطغیانھم“ یعنی ثمود اپنے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے ہلاک کردیئے گئے، جیسے فرمایا :(کذبت ثمود بطغوھآ) (الشمس : 11)”قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (صالح ؑ کو) جھٹلا دیا۔“
Ayah 69:6

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور جو عاد تھے وہ سخت ٹھنڈی، تند آندھی کے ساتھ ہلاک کردیے گئے، جو قابو سے باہر ہونے والی تھی۔

(واما عاد فاھلکوا…:”ریح“ ہوا،”صرصر“ ”صر“ سے مشتق ہے، جس کا معنی سخت ٹھنڈک اور تیزی ہے، یعنی سخت ٹھنڈی اور تند آندھی، یا یہ ”صر صر یصر صر صر صرۃ“ (چیخنا، سخت آواز نکالنا) سے مشتق ہے، یعنی سخت آواز والی آندھی۔ ”عاتیۃ“”عتا یعتو عتوا“ (ن) قابو سے باہر ہونا، سرکشی کرنا۔ یعنی وہ ہوا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی قابو کرنے والے کے قابو سے باہر تھی۔
Ayahs 69:7–8

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

اس نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔ سو تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ کھجوروں کے گرے ہوئے تنے ہوں۔

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

تو کیا تو ان کا کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے ؟

(سخر ھا علیھم سبع لیال …:”حسوماً“ کا معنی ابن عباس ؓ عنہمانے ”پے در پے“ کیا ہے۔ (ابن جریر) اس صورت میں یہ ”حسمت الدابۃ“ (میں نے جانور کو پے در پے داغ لگائے) سے مشتق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ آندھی ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھی، ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں رکی۔”حسم یحسم“ (ض) کا معنی ”جڑ سے کاٹنا“ بھی ہے۔ اس صورت میں یہ ”حاسم“ کی جمع ہے ، جیسے ”شاھد“ کی جمع ”شھود“ ہے، معنی ہوگا ”ان پر وہ آندھی جڑ سے کاٹ ڈالنے والی سات راتوں اور آٹھ دنوں تک چلائے رکھی۔“”حسوماً“ مصدر بھی ہوسکتا ہے، جیسے ”شکور“ اور ”کفور“ ہے، اس صورت میں یہ مفعول لہ ہوگا، یعنی ان پر وہ آندھی سات راتیں اور آٹھ دن جڑ سے کاٹ ڈالنے کے لئے چلائے رکھی۔ مزید تراکیب کے لئے دیگر کتب تفاسیر ملاحظہ فرمائیں۔”صرعی“”صریع“ کی جمع ہے، پچھاڑ کر گرائے ہوئے، ہلاک کئے ہوئے۔”اعجاز“”عجز و عجز“ کی جمع ہے، کسی چیز کا آخری حصہ، درخت کا تنا۔”خاویۃ“ ”خوی یخوی“ (ض) گرپڑنا، خالی ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد سے ان کی نافرمانی کی وجہ سے ایک عرصہ تک بارش روکے رکھی، ادھر وہ پیغمبر کو زچ کرنے کے لئے بار بار عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے، جب عذاب بادل کی صورت میں نمودار ہو اور انہوں نے اسے اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو خوش ہوگئے کہ اب بارش ہوگ ی، مگر تھوڑی ہی دیر میں عذاب شروع ہوگیا ، جو مغرب کی طرف سے آنے والی تیز ٹھنڈی آندھی کی صورت میں تھا، جس نے ہر چیز کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة احقاف (21 تا 26)۔ سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلنے کے بعد آندھی تھمی تو ان کی لاشیں اس طرح گری ہوئی تھیں جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے اہل ایمان کے علاوہ ایک شخص بھی باقی نہ بچا۔ اس تشبیہ سے اس قوم کا مضبوط جسامت اور لمبے قدوں والا ہونا صاف معلوم ہو رہا ہے۔ سورة احقاف (26) اور سورة فجر (8 تا 10) میں ان کی قوت و شوکت کا کچھ حال بیان ہوا ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(نصرت بالصبا، واھلکت عاد بالدبور) (بخاری، احادیث الانبیائ، باب قول اللہ تعالیٰ (واما عاد…): 3333۔ مسلم : 900)”خندق کے موقع پر) میری مدد صبا یعنی مشرق سے آنے والی ہوا کے ساتھ کی گئی اور عاد کو دبور یعنی مغرب سے آنے والی ہوا کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔“
Ayahs 69:9–10

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور فرعون نے اور اس سے پہلے لوگوں نے اور الٹ جانے والی بستیوں نے گناہ کا ارتکاب کیا۔

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

پس انھوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اس نے انھیں ایک سخت گرفت میں پکڑ لیا۔

وجآء فرعون ومن قبلہ…:”الموتفکت ‘”ائکف“ (افتعال) سے اسم فاعل ہے اور محذوف لفظ ”القری“ (بستیوں) کی صفت ہے، یعنی الٹ جانے والی بستیاں۔ مراد لوط ؑ کی قوم کی بستیاں ہیں جن کا اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا اوپر کردیا گیا اور پھر ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسا دی گئی۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (77 تا 83) اور سورة حجر (61 تا 74)۔ الخاطئۃ“ (عافیہ“ کے وزن پر مصدر ہے ، گناہ خطا۔ ”رابیۃ“ ”ربا یربو“ (ن) (زیادہ ہونا، بڑھنا) سے اسم فاعل ہے، یعنی وہ گرفت اپنی شدت میں دوسری گرفتوں سے بہت بڑھی ہوئی تھی، یعنی فرعون نے اور اس ہلے کے لوگوں نے اور قوم لوط نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی سخت گرفت میں پکڑ لیا۔ گناہ کیا تھا ؟ یہ کہ ”فعصوا رسول ربھم“ انہوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی۔
Ayah 69:11

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کرگیا، تمہیں کشتی میں سوار کیا۔

(انا لما طغا المآئ…: نوح ؑ کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کا ذکر کیا ہے، فرمایا نوح ؑ کی قوم کے کفر و شرک پر اصرار کی وجہ سے سے جب پانی اتنا بڑھا کہ عام حدوں سے کہیں اونچا ہوگیا تو ہمیں تھے جنہوں نے تمہیں اس ہلے ہی کشتی میں سوار کرلیا اور پھر اتنے بےحساب پانی میں اس کشتی کو محفوظ رکھا، ورنہ اس طوفان سے بچنے کی کوئی صورت نہ تھی۔ یہاں اگرچہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد کے زمانے کے لوگوں سے خطاب ہو رہا ہے ، مگر مراد یہی ہے کہ تمہارے آباء کو سوار کیا، وہ سوار ہوئے تو تم بھی سوار ہوئے، کیونکہ تم ان کی پشتوں میں تھے۔ اگر وہ اس کشتی میں سوار ہو کر طوفان سے نجات نہ پاتے تو آج تمہارا وجود بھی نہ ہوتا۔
Ayah 69:12

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ ہم اسے تمہارے لیے ایک یاد دہانی بنادیں اور یاد رکھنے والا کان اسے یاد رکھے۔

لنجعلھا لکم تذکرۃ :”لنجعلھا“ میں ”ھا“ ضمیر اس واقعہ کی طرف جا رہی ہے، یعنی ”تاکہ ہم اس واقعہ کو تمہارے لئے ایک نصیحت اور یادگار بنادیں۔“ نوح ؑ کی قوم کا یہ واقعہ پشت در پشت نقل ہو کر آرہا تھا اور عرب کے لوگ اچھی طرح اس سے واقف تھے۔ بعض مفسرین نے اس ضمیر ”ھا“ سے مراد ”الجاریۃ“ (کشتی) بھی لیا ہے، مگر اس کے بعد آنے والے الفاظ ”وتعیھا اذن واعیۃ“ (اور اسے یاد رکھنے والا کان یاد رکھے) سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ضمیر سے مراد ”واقعہ“ ہے، کیونکہ ”وعی یعی“ کا معنی سوچ سمجھ کر سننا اور یاد رکھنا ہوتا ہے۔ ”اذن“ (کان) سے مراد کانوں والے انسان ہیں جو واقعہ کو سنیں تو اس سے عبرت پکڑیں کہ آخرت کے انکار اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے کا انجام کتنا ہولناک ہوتا ہے۔
Ayahs 69:13–14

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

پس جب صور میں پھونکا جائے گا، ایک بار پھونکنا۔

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، پس دونوں ٹکرا دیے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔

فاذا نفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ…: قرآن مجید میں بعض مقامات پر پہلے نفخہ کے وقت پیش آنے والے واقعات ذکر کئے گئے ہیں، بعض پر دوسرے نفخہ کے وقتا ور بعض مقامات پر انہیں اکٹھا ہی ذکر کردیا گیا ہے۔ ان آیات میں بھی پہلے نفخہ سے لے کر دوسرے نفخہ کے بعد تک کے حالات بیان ہوئے ہیں، زمین اور پہاڑوں کے ٹوٹنے کا سلسلہ تو پہلے نفخہ کے وقت کا ہے اور آسمان کا پھٹنا، فرشتوں کا اس کے کناروں پر ہونا، عرش الٰہی کو آٹھ فرشتوں کا اٹھائے ہوئے ہونا، اللہ تعالیٰ کا میدان محشر میں نزول فرمانا اور سب بندوں کا حساب کتاب کے لئے پیش کیا جانا، یہ سب کچھ دوسرے نفخہ کے بعد کا ہے۔
Ayah 69:15

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

تو اس دن ہونے والی ہوجائے گی۔

فیومئذ وقعت الواقعۃ :”الواقعۃ“ واقع ہونے والی۔ یعنی قیامت کے منکروں کا دنیا میں انجام ذکر کرنے کے بعد اب اس کے واقع ہونے کی کیفیت بیان ہوتی ہے کہ صور میں اچانک ایک پھونک ماری جائے گی، اس کے ساتھ ہی زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی بار ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا اور تمام زندہ لوگ مر کر گرجائیں گے۔ یہ واقعہ یک لخت ہوگا، اس کے وقت کا کسی کو بھی علم نہیں، حتیٰ کہ صور میں پھونکنے والے کو بھی نہیں۔ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(کیف انعم و صاحب القرن قد التقم القرن واستمع الاذن متی یومر بالنفع فینفخ (ترمذی، صفۃ القیامۃ و الرفاق، باب ماجاء فی شان الصور، 2331، وصححہ الالبانی، انظر صحیح الجامع الصغیر : 3592)”میں کیسے خوش حال ہو کر رہوں جب کہ صور والا (فرشتہ) صور منہ میں لئے ہوئے اور کان لگائے ہوئے ہے (اور پیشاین جھکا کر انتظار کر رہا ہے) کہ اسے صور میں پھونکنے کا حکم کب ہوتا ہے، تو وہ (صور میں) پھونکے۔“
Ayahs 69:16–18

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن کمزور ہوگا۔

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

اس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تمہاری کوئی چھپی ہوئی بات چھپی نہیں رہے گی۔

(1) وانشقت السمآء …:”واھیۃ“ ”وھی بھی وھبا“ (ض ، س ، ف) (کمزور ہونا، بودا ہونا) سے اسم فاعل ہے۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ یہ مضبوط آسمان جس میں لاکھوں کروڑوں سال سے ایک شگاف بھی نہیں پڑا، بالکل کمزور ہو کر پھٹ جائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر چلے جائیں گے۔ اس دن آٹھ فرشتے عرش الٰہی کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے، پھر ؓ اور فرشتے صف در صف زمین پر تشریف لائیں گے۔ ادھر ایک طرف جہنم لائی جائے گی (دیکھیے فجر 21 تا 23) ، دوسری طرف جنت قریب لائی جائے گی۔ (دیکھیے شعرائ : 90، 91) اس وقت سب لوگ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جائیں گے، کسی شخص کا کوئی عمل چھپا نہیں رہ سکے گا۔ (2) یہ آیت ؓ عنہماکے عرش کے وجود کی زبردست دلیل ہے۔ جو لوگ عرش الٰہی کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے مراد صرف حکومت ہے، قیامت کے دن آٹھ فرشتوں کا عرش الٰہی کو اٹھائے ہوئے ہونا ان کی تردید کرتا ہے۔ یہ حضرات نہ عرش کے وجود کیق ائل ہیں، نہ اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا مانتے ہیں، نہ اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن زمین پر آنا مانتے ہیں اور نہ اس کا اوپر کی جانب ہونا مانتے ہیں، حالانکہ یہ سب کچھ قرآن مجید میں واضح الفاظ میں موجود ہے۔ ایک بزرگ جنہوں نے ہر جگہ عرش الٰہی کی تاویل حکومت و فرماں روائی سے کی ہے ، اس مقام پر آٹھ فرشتوں کے عرش الٰہی کو اٹھانے کے صریح الفاظ کی کوئی تاویل نہیں کرسکے تو انہوں نے اسے آیات متشا بہات میں سے قرار دے کر تسلیم کیا ہے کہ ”ہم نہ جان سکتے ہیں کہ عرش کیا چیز ہے اور نہ سمجھ سکتے ہیں کہ قیامت کے روز آٹھ فرشتوں کے اس کو اٹھانے کی کیفیت کیا ہوگی۔“ کیا ہی بہتر ہوتا کہ اس طرح وہ اللہ کے عرش کے اوپر ہونے کو بھی مانتے اور اس کے زمین پر آنخ کو بھی مانتے اور اس کی کیفیت اللہ کے سپرد کردیتے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر کس طرح ہے اور وہ زمین پر کس طرح اترے گا، کیونکہ قرآن و حدیث کی نصوص اور سلف صالحین کا یہی طریقہ ہے۔ مزیدی دیکھیے سورة فجر (22) کی تفسیر۔ تفسیر ماجدی میں ہے :”یہ کہنا کہ فرشوتں کا حامل عرش ہونا حق تعالیٰ کی شان قیومیت کے منای ہے، محض اپنی سطحیت کا اظہار کرنا ہے، اگر قیومیت کے یہ معنی لے لئے جائیں تو ایک اس مسئلہ پر کیا موقوف ہے، ملائکہ کو واسطہ بنا کر ان سے کام لیتے رہنے کا سارا نظام ہی باطل ہوجاتا ہے۔“
Ayah 69:19

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

سو جسے اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا لو پکڑو، میرا اعمال نامہ پڑھو۔

فاما من اوتی کتبہ بیمینہ…:”ھآوم“ اس فعل ہے، ابن عطیہ نے فرمایا :”اس کا معنی ہے، آؤ !“ زمخشری نے فرمایا :”ھآوم“ ایک آواز ہے جس سے ”خذ“ یعنی ”لو پکڑو“ کا مفہوم سمجھا جاتا ہے۔“ (التسہیل)”کتبیہ“ اصتل میں ”کتابی“ ہے، اس میں ”ہ“ وقف کے لئے ہے، ضمیر نہیں ہے، جیسے ”ماھیہ“ میں ہے۔ (دیکھیے قارعہ : 10) ”حسابیۃ“ ، ”مالیہ“ اور ”سلطنیہ“ میں بھی ایسے ہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا وہ اتنا خوش ہوگا کہ دوسروں کو بلا بلا کر دکھاتا پھرے گا، جیسے دنیا میں بھی انسان کو بڑی خوشی ملنے پر پکار پکار کر دوسروں کو اس میں شریک کرتا ہے۔
Ayah 69:20

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

یقینا میں نے سمجھ لیا تھا کہ بیشک میں اپنے حساب سے ملنے والا ہوں۔

انی ظننت انی ملق حسابیہ :”انی ظننت“ یقینا میں نے سمجھ لیا تھا۔”ظن“ کا لفظ وہم، گمان اور قین تینوں چیزوں کے لئے آتا ہے، کیونکہ یہ اصل میں علامات اور نشانیوں کے ذریعے سے حاصل ہونے والی چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ نشانیاں کمزور ہوں تو وہم یا گمان تک معاملہ رہتا ہے، اگر مضبوط ہوں تو غالب گمان اور علم و یقین کا معنی دیتا ہے۔ خصوصاً جب اس کے ساتھ ”ان“ بھی ہو۔ (مفردات) یہاں ”ظننت“ کا لفظ غالب گمان کے معنی میں ہے، جو دن بدن دلائل کے ساتھ یقین میں بدلتا جاتا ہے، اسی غالب گمان ہی کی وجہ سے انسان قیامت کے دن کے حساب سے ڈر کر اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ اگر مکمل یقین کے بغیر وہ اللہ کی نافرمانی چھوڑنے پر تیار نہ ہو تو مکمل یقین تو قیامت سامنے آنے ہی پر ہوگا اور اس وقت اس یقین کا کوئی فائدہ نہیں۔ صاحب احسن التفاسیر فرماتے ہیں :”قرآن شریف میں یقین کی جگہ ظن کا لفظ عقبی کیب اتوں میں اس لئے بولا گیا ہے کہا ن باتوں کا پورا یقین مرنے کے بعد ہوگا۔“ خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ وہ اپنی خوش قسمتی کی وجہ یہ بتائے گا کہ اس نے دنیا میں یہ سمجھ کر زندگی بسر کی کہ آخر ایک دن اس کا حساب ہونا ہے۔
Ayahs 69:21–22

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

پس وہ ایک خوشی والی زندگی میں ہوگا۔

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

ایک بلند جنت میں۔

فھو فی عیشۃ راضیۃ…: جنت میں کوئی فکر و غم ہوگا نہ مرض، نہ موت، نہ تھکاوٹ ، نہ بڑھاپا، نہ کوئی نقص، نہ عیب اور نہ کمزوری۔ ہر نعمت جو دل چاہے گا بلکہ جو خیال کی رسائی سے بھی بلند ہے، ملے گی۔ ان تمام باتوں کو ”عیشۃ راضیۃ“ کے لفظ سے ادا فرما دیا ہے۔
Ayah 69:23

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

جس کے میوے قریب ہوں گے۔

قطوفھا دانیۃ :”قطف یقطف“ (ض) پھل توڑنا۔ ”قطوف“”قطف“ (قاف کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، وہ پھل جو توڑے جائیں۔ ”’ انیۃ“ قریب۔ یعنی وہ خوشے اور پھل جھکے ہوئے ہوں گے کہ آدمی کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں انہیں لے سکے گا۔
Ayah 69:24

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

کھاؤ اور پیو مزے سے، ان اعمال کے عوض جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں آگے بھیجے۔

کلو واشربوا ھنیٓئاً …:”ھنیٓئًا ”ھنو یھنو“ (ک) سے ”فعیل“ کے وزن پر ہے، جس کے حاصل ہونے میں کوئی مشقت ہو نہ کھانے کے بعد معدے پر کوئی بوجھ ہو، ادھر کھایا ادھر ہضم ہوا۔ ”بما اسلفتم“ ان اعمال کی وجہ سے جو تم نے آگے بھیجے۔ معلوم ہوا نیک اعمال جنت میں داخل ہونے کا سبب ہیں۔
Ayahs 69:25–29

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور لیکن جسے اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا اے کاش ! مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا۔

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور میں نہ جانتا میرا حساب کیا ہے۔

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

اے کاش کہ وہ (موت) کام تمام کردینے والی ہوتی۔

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

میرا مال میرے کسی کام نہ آیا۔

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

میری حکومت مجھ سے برباد ہوگئی۔

واما من اوتی کتبہ بشمالہ…: جن لوگوں کو بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ نہایت پریشانی میں یہ باتیں کہیں گے جو ان آیات میں ذکر ہوئی ہیں۔ یہ بائیں ہاتھ میں اعمال نامے والے لوگ کافر ہوں گے، اس کی دلیل ایمان والوں کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، البتہ وہ ایمان والے جو کچھ عرصہ آگ میں رہیں گے ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ انہیں اعمال نامہ آگ میں جانے سے پہلے ملے گا یا آگ سے نکلنے کے بعد، راجح یہی ہے کہ آگ سے نکلنے کے بعد ملے گا، کیونکہ اعمال نامہ ملنے کے بعد اگر انہیں آگ میں بھیجا جا رہا ہو تو ان کے منہ سے ”ھآوم اقرء و کتبۃ“ کے خوشی کے الفاظ نہیں نکل سکتے۔ (التسہیل) ”یلیتھا کانت القاضیۃ“ یعنی موت میرا کام تمام کردیتی، اور مجھے دوبارہ نہ اٹھایاج اتا۔”ما اغنی عنی مالیہ، ھلک عنی سلطنیہ“ مال اور سرداری کی حرص کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ماذنبان جائعان ارسلا فی عنم بافسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ) (ترمذی، الزھد، باب ما ذئبان جائعان …: 2386 قال الالبانی صحیح)”’ و بھوکے بھیڑیے جو بھیڑ بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں ، وہ انہیں اس سے زیادہ تباہ و برباد نہیں کرتے جتنا آدمی کی مال اور سرداری کی حرص اس کے دنی کو تباہ و برباد کرتی ہے۔“ تمام عمر اٹھی دو چیزوں کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں گزار دینے کے بعد اس وقت افسوس سے کہے گا کہ میرا مال میرے کسی کام نہ آیا اور میری سرداری بھی برباد ہوگی۔”سلطنیہ“ ”سلطان“ سے مراد دلیل و حجت ہو تو مطلب یہ ہے کہ میرے سارے دلائل اور حجت بازیاں ، جن سے میں حق والوں کو لاجواب کرتا تھنا، آج بےکار ہوگئے اور سرداری و حکومت ہو تو مطلب یہ ہے کہ آج میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا وہ جتھے اور پارٹیاں، فوج اور پولیس کے دستے، وہ اہل خانہ، وہ نوکر چا کر جن پر میرا کم چلتا تھا سب غائب ہوگئے۔ دوسروں پر اقتدار تو دور یک بات ہے اپنے ہی اعضا نے میری سرداری ماننے سے انکار کردیا ہے، بلکہ میرے خلاف شہادتیں دے رہے ہیں۔ ”سلطنیہ“ سے حجت و دلیل اور حکومت و سرداری دونوں بھی مراد ہوسکتے ہیں۔
Ayahs 69:30–32

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

اسے پکڑو، پس اسے طوق پہنادو۔

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دو۔

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر ایک زنجیر میں، جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے، پس اسے داخل کردو۔

(خذوہ فغلوہ…: حکم ہوگا اسے پکڑو اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو ، پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دو ، پھر اسے ایک زنجیر میں جکڑ دو جو ستر (70) ہاتھ لمبی ہے۔ جہنیموں کو جہنم میں طوقوں اور زنجیروں سے جکڑ کر لمبے لمبے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا تاکہ وہ حرکت نہ کرسکیں، کیونکہ حرکت سے بھی عذاب میں کچھ تخفیف ہوتی ہے، فرمایا :(انھا علیھم موصدۃ، فی عمد ممددۃ) (الھمزۃ : 8، 9)”یقیناً وہ ان پر (ہر طرف سے) بند کی ہوئی ہے۔ لمبے لمبے ستونوں میں“ ستر ہاتھ سے مراد یہ پیمئاش بھی ہوسکتی ہے اور بہت زیادہ لمبائی بھی، کیونکہ عربوں کے ہاں ستر کا عدد کثرت کے لئے بھی آتا ہے۔ پھر ہوسکتا ہے کہ یہ زنجیر ہر مجرم کے لئے الگ الگ ہو اور یہ بیھ کہ ایک ہی زنجیر میں سب کو پروتے چلے جائیں۔ (التسہل)
Ayah 69:33

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

بلاشبہ وہ بہت عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔

انہ کان لایومن باللہ …: عذاب کا باعث یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ اس کا معاملہ یہ تھا کہ اس پر ایمان ہی نہیں رکھتا تھا، یعنی اسے مانتا ہی نہیں تھا، یا اس کے ساتھ کچھ شریک بنا رکھے تھے اور بندوں کیساتھ معاملہ یہ تھا کہ مسکین کو خود کھلانا تو دور کیب ات ہے، کسید وسرے کو اسے کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا۔ اس نے اللہ کا حق پہچانا نہ بندوں کا۔
Ayahs 69:34–35

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

سو آج یہاں نہ اس کا کوئی دلی دوست ہے۔

فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم :”حمیم“ دوست یا رشتہ دار، جسے اس کی خاطر گریم آئے۔”حمۃ“ چشمے سے نکلنے والا گرم پانی۔”حمیم“ گرم پانی کو بھی کہتے ہیں۔
Ayah 69:36

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ اس کے لیے زخموں کے دھو ون کے سوا کوئی کھانا ہے۔

ولا طعام الامن غسلین :”غسلین“”غسل یعسل“ (ض) سے ”فعلین“ کا وزن ہے، زخم یا کوئی گندی چیز دھونے سے نکلنے والا پانی، ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا :”اس سے مراد جہنمیوں کے زخموں سے نکلنے والا لہو اور پیپ ہے۔“ (طبری بسند حسن)
Ayah 69:37

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

جسے گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا۔

لایاکلمہ الا الخاطون :”الخاطون“ ”خاطی“ کی جمع ہے، جو جان بوجھ کر نا درست کام کرے، جیسے فرمایا :(ان قتلھم کان خطاً کبیراً) (بنی اسرائیل : 31)”بیشک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔“ اگر کسی سے قصد وار ارادہ کے بغیر نادرست کام ہوجائے تو وہ ”مخطی“ ہے۔ (المفردات و التسہیل)
Ayahs 69:38–39

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:38 in the Quran reader

پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس کی جسے تم دیکھتے ہو !

وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:39 in the Quran reader

اور جسے تم نہیں دیکھتے !

(فلا اقسم بما تبصرون…: کفار رسول اللہ ﷺ کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن، کبھی یہ کہتے کہ اس نے یہ کالم اپنے پاس سے بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا ہے، کبھی کہتے کسی دوسرے آدمی نے اسے بنا کردیا ہے، کبھی کہتے ہیں پریشان خواب و خیال ہیں، کبھی آپ کو دیوانہ قرار دیتے۔ دیکھیے سورة انبیاء (5) ، صافات (36) ، طور (29) اور سورة نحل (103) ان تمام باتوں کا اللہ تعالیٰ نے الگ الگ جواب بھی دیا ہے، مگر ان آیات میں ایک ہی جگہ دلیل کے ساتھ سب باتوں کی تردید فرما دی ہے، چناچہ فرمایا :(فلا اقسم بما تبصرون، وما لا تبصرون)”پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس کی جسے تم دیکھتے ہو ! اور جسے تم نہیں دیکھتے !“ قسم سے پہلے ”لا“ کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ درست نہیں۔ قسم کا مقصد کسی بات کی تاکید ہوتا ہے اور عام طور پر قسم اس بات کے لئے دلیل اور شاہد ہوتی ہے، یہاں جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے اس میں خلاق و مخلوق، ماضی، حال و مستقبل زمین و آسمان اور دنیا و آخرت، غرض سب کچھ آجاتا ہے۔ قرآن میں مذکور قسموں میں یہ سب سے جامع قسم ہے، یعنی جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو نہیں دیکھتے، میں ان سب کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔