Ayahs 69:40–43(1) انہ لقول رسول کریم …: یہ چار آیات جواب قسم ہیں، پہلی یہ کہ یہ قرآن ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے، دوسری یہ کہ یہ کسی شاعر کا قول نہیں، تیسری یہ کہ یہ کسی کا ہن کا قول بھی نہیں اور چوتھی یہ کہ یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ اس قسم اور جواب قسم میں مناسب یہ ہے کہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو وہ انچ اورں چیزوں کے حق ہونے کی شہادت دے رہا ہے اور جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے اس کی شہادت بھی یہی ہے۔ جو کچھ وہ دیکھ رہے تھے وہ یہ بات جاننے کے لئے کافی تھا کہ یہ قرآن جس شخص کی زبان سے ادا ہو رہا ہے وہ نہ شاعر ہے نہ کاہن، نہ جھوٹا ہے نہ اپنے پاس سے بات گھڑنے والا اور نہ کسی ذاتی مفاد یا عہدے کا طالب، بلکہ وہ اللہ کا معزز رسول ہے۔ یہی بات ہرقل نے کہی تھی، جب اس نے ابوسفیان سے آپ کے متعلق سوال کئے اور ابوسفیان کو آپ کے اوصاف حمیدہ کی شہادت دینا پڑی۔ (دیکھیے بخاری : 7) اور یہی بات آپ نے اللہ کے حکم سے اہل مکہ سے کہی تھی :(فقد لبثت فیکم عمر ا من قبلہ افلا تعقلون) (یونس : 16) (فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون) (یونس : 16)”اعلان نبوت سے پہلے میں نے (چالیس سال کی) ایک عمر تم میں گزاری ہے، کیا تم عقل نہیں کرتے ؟“ وہ رسول اللہ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق، صدق و امانت، ایفائے عہد اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی کو بھی دیکھ رہے تھے اور شاعروں کے جھوٹ ، مبالغے قول و فعل کے تضاد اور خوشامد و تملق جیسی کمینگیوں کو بھی جانتے تھے۔
(2) انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی کہی ہوئی باتوں کا بھی مشاہدہ کیا تھا کہ نہ مضای کے متعلق آپ کی بتائی ہوئی کوئی بات خلاف واقعہ نلکی نہ آئندہ کے متعلق آپ کی کوئی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی اور کاہنوں کی غیب کے متعلق بتائی باتوں کا بھی تجربہ کیا تھا کہ ان کی ملا اعلیٰ سے چرئیا ہوئی کوئی ایک بات اگر درست نکلتی ہے تو سو باتیں جھوٹ بھی نکلتی ہیں۔ شاعروں اور کاہنوں کے مقابلے میں آپ کے احوال کا مشاہدہ اس بات کے یقین کے لئے کافی تھا کہ آپ نہ شاعر ہیں نہ کاہن۔ انہیں اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز تھا، مگر وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ قرآن مجید کے چیلنج کے باوجود وہ اس کے مقابلے میں ایک چھوٹی سی سورت بھی نہیں لاسکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کچھ تم دیکھتے ہو وہ بھی شادت دے رہا ہے کہ یہ قرآن ایک معزز رسول کی زبان سے پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ نہ کسی شاعر کا کلام ہے، نہ کاہن کا اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے خواہ وہ عقل سے سمجھ میں آنے والی چیزیں ہوں، جو حواس خمسہ کی دسترس سے باہر ہیں یا عقل سے بھی ماورا ہوں، سب کی شہادت وہی ہے جو تمہاری دیکھی ہوئی چیزوں کی ہے۔ میں ہر چیز کو پیدا کرنے والا اس بات پر تمہاری دیکھی ہوئی اور تمہاری نہ دیکھی ہوئی تمام چیزوں کی قسم اٹھاتا ہوں۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس مقام پر قرآن کو رسول اللہ ﷺ کا قول قرار دیا گیا ہے، جب کہ سورة مدثر (25) جواب یہ ہے کہ سورة مدثر میں جہنم کی وعید اس لئے سنئای گئی کہ اس شخص نے قرآن کو بشر کا اپنا قول قرار دیا تھا، جب کہ زیر تفسیر آیت میں اسے بشر کا یا انسان کا اپنا قول نہیں کہا گیا بلکہ اسے رسول کریم ، یعنی ایک معزز پیغام لانے والے کا قول کہا گیا ہے۔ ظاہر ہے پیغام لانے والے کی بات اپنی نہیں ہوتی بلکہ اسے جو پیغام دے کر بھیجا جاتا ہے وہ اسے آگے پہنچا دیتا ہے۔ اگر وہ اپنی بات کرتا ہے تو وہ رسول نہیں۔ اس کی ایک اور دلیل بعد میں آنے والی آیت ”تنزیل من رب العلمین“ (یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے) بھی ہے۔ بشر کی اپنی بات میں اور قاصد نہ ہونے کی حیثیت سے پہنچائی ہوئی بات میں جو فرق ہے وہ بالکل واضح ہے۔ سورة تکویر میں جو قرآن مجید کو ”رسول کریم“ کا قول قرار دیا گیا ہے، وہاں اس سے مراد جبریل ؑ ہیں۔ کیونکہ وہاں انھی کی صفتیں بیان ہوئی ہیں، مثلاً (ذی قوۃ عند ذی العرش مکین ، مطلع ثم امین) (التکویر : 20، 21)”بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے ہاں بہت متر بےوالا ہے۔ وہاں اس کی بات مانی ہوئی ہے، امانت دار ہے۔“
بعض مفسرین نیی ہاں بھی جبریل ؑ مراد لیء ہیں مگر یہاں نبی ﷺ مرادل ینا زیادہ مناسب ہے، کیونکہ یہاں قرآن کو رسول کریم کا قول قرار دینے کے بعد فرمایا، یہ کسی شاعر یا کاہن کا قول نہیں۔ ظاہر ہے کہ کفار مکہ جبریل ؑ کو نہیں بلہ نبی کریم ﷺ کو شاعر و کاہن قرار یدتے تھے۔ بہرحال اسے جبریل ؑ کا قول قرار دیا جائے یا رسول اللہ ﷺ کا، دونوں صورتوں میں ان کا قول اس حیثیت سے ہے کہ وہ رسول تھے اور انہوں نے وہی آگے پہنچایا جو دے کر انہیں بھیجا گیا تھا۔ ”کا ھن“ ستاروں وغیرہ کا حساب لگا کر یاج نوں سے سن کر غیب کی خبریں بتانے والا۔
Ayahs 69:44–47ولو تقول علینا بعض الاقاویل…: ان آیات میں کفار کی اس بات کا رد ہے کہ یہ باتیں رسول اللہ ﷺ نے اپنے دل سے بنا کر اللہ کے ذمے لگا دی ہیں۔ فرمایا جب یہ ثابت ہوگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ کی کہی ہوئی ہر بات اللہ کی بات ہے تو اب اگر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ذمے باتیں لگانے دے اور اس پر انہیں کچھ نہ کہے تو وہ سب باتیں اللہ یک باتیں سمجھی جائیں گی، اللہ تعالیٰ اس کی اجازت کس طرح دے سکتا ہے ؟ فرمایا ، اگر ہمارا ی ہ سچا رسول کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمے لگا دیتا تو اس جعل سازی کے جرم میں ہم اس کا دائیاں ہاتھ پکڑ کر اس کی جان ک رگ کاٹ دیتے اور کوی شخص رستے میں رکاوٹ نہ بن سکتا۔
بعض لوگوں نے اس آیت سے غلط استدلال کیا ہے کہ اگر کسی مدعی نبوت کی جان کی رگ دعوائے نبوت کرتے ہی نہ کاٹ دی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کی دلیل ہے، حالانکہ اس آیت میں جو بات فرمائی گئی ہے وہ سچے نبی کے بارے میں ہے، نبوت کے جھوٹیم دعیوں کے بارے میں نہیں ہے۔ جھوٹے مدعی تو نبوت ہی نہیں خدائی تک کے دعوے کرتے ہیں اور مدتوں زمین پر دندناتے رہتے ہیں، یہ ان کے سچے ہونے کا ثبوت نہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جس طرح بادشاہ کسیش خص کو کسی منصب پر مقرر کر کے سند وغیرہ دے کر کسی طرف روانہ کرتے ہیں، اب اگر وہ کوئی بات جھوٹ گھڑ کر بادشاہ کے ذمے لگا دے تو فوراً بادشاہ کی طرف سے اس کی تردید کی جاتی ہے اور ایسا کرنے والے کو سخت سزا دی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی سڑک کوٹنے والا مزدور یا صفائی کرنے والا بھنگی اعلان کرتا پھرے کہ بادشاہ نے یہ حکم جاری کیا ہے تو نہ سننے والے اس کی پروا کرتے ہیں اور نہ حکومت فوراً اس سے تعرض کرتی ہے۔ ہمارے زمانے کے دجال قادیانی کا اس ایٓ سے استدلال اور خود اس کے کلام میں سے اس کا رد دیکھنے کیلئے تفسیر ثنائی ملاحظہ فرمائیں۔ (فانہ کفی و شقی رحمۃ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ)
(تقول“ کا معنی ہے، کسی کے ذمے وہ بات لگانا جو اس نے نہیں کہی۔”الاقاویل“”افولہ“ کی جمع ہے، جس طرح ”اغجوبۃ“ اور ”ضحوکۃ“ کی جمع ”اعاجیب“ اور ”اضاحیک“ ہے۔ ”لاخدنا منہ بالیمین“ سے مراد یا تو یہ ہے کہ ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی گردن کی رگ کاٹ دیتے۔ یہ سزا کی ہولناک کی دکھانے کے لئے قتل کی تصویر کشی ہے، کیونکہ جب قتل کرنے والا کسی مجرم کو تلوار مارنے لگتا ہے تو اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتے۔ بعض مفسرین نے ”الیمین“ کا معنی قوت کیا ہے، یعنی ہم اسے پوری قوت سے پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتے۔ عرب کے محاورہ میں یہ معنی بھی استعمال ہوتا ہے، مگر یہم عنی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا انکار کردینا درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(بل یدہ مبسوطین) (المائدۃ : 63)”ابل کہ اللہ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(کلتا یدی ربی یمین مبارکۃ) (ترمذی، تفسیر لا قرآن، باب : 3368۔ مسلم 1828)”میرے رب کے دونوں ہاتھ دائیں اور برکت والے ہیں۔“ البتہ اس بات میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہمارے ہاتھوں جیسے نہیں، جیسا کہ فرمایا :(لیس کمثلہ شیء) (الشوری : 11)”اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔“ بلکہ اس طرح ہیں جس طرح اس کی شان کے لائق ہیں۔”الوتین“ گردن کی وہ رگ جو دل سے ملتی ہے، جس کے کٹنے سے آدمی فوراً مرجاتا ہے۔ (اشرف الحواشی)
Ayah 69:48(وانہ لتذکرہ للمثقین :) یعنی اس نصیحت سے فائدہ وہی اٹھائیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں۔
Ayah 69:49(وانا لنعلم…:”انا لنعلم“ (ہم جانتے ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان جھٹلانے والوں کو سزا دیں گے، جیسے فسادیوں کو ڈاٹنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو سب ہمیں معلوم ہے۔
Ayah 69:50(وانہ لحسرۃ…یعنی یہ جھٹلانا کفار کے لئے باعث حسرت ہوگا، یا یہ قرآن کفار کے لئے باعث حسرت و افسوس ہوگا کہ انہوں نے اسے کیوں جھٹلایا۔ دوسری جگہ فرمایا :(ربما یوذ الذین کفروا لو کانوا مسلمین) (الحجر : 2)”بہت بار کافر آرزو کریں گے کہ کاش ! وہ کس طرح کے مسلم ہوتے۔“
Ayah 69:51وانہ لحق الیقین :”حق“ جو ثابت ہو اور ”الیقین“ وہ بات جس میں کوئی شک نہ ہو۔ قرآن مجید سے یقین کے تین درجے معلوم ہوتے ہیں، پہلا علم الیقین ، وہ یقین جو خبر وغیرہ سے معلوم ہوجائے، جیسے فرمایا :(کلا لو تعلموکن علم الیقین، لترون الجحیم) (التکاثر، 5، 6)”ہرگز نہیں، کاش ! تم یقینی جاننا جان لیتے کہ تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔“ دوسرا عین الیقین ، وہ یقین جو آنکھوں کے دیکھنے سے حاصل ہو۔ آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات کا یقین سنی ہوئی بات کے یقین سے قوی ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لیس الخبر کالمغاینۃ) (مسند احمد : 1/215، ج : 1832۔ صحیح الجامع الصغیر : 5382)”سنن ادیکھنے کی طرح نہیں۔“ ابراہیم ؑ نے ”رب ارنی کیف تخی الموتی“ کہہ کر یقین ہوتا ہے اس وقت وہ ہر طرح سے پختہ اور ثابت ہوجاتا ہے۔ یہ پہلے دونوں درجوں سے بڑھ کر ہے۔ ان تینوں درجوں کی مثال یہ ہے کہ اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بتانے سے جنت کا یقین ہے، یہ علم الیقین ہے۔ جب میدان محشر میں جنت قریب لائی جائے گی (دیکھیے شعراء : 90) اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے تو یہ عین الیقین ہے۔ پھر جب اس میں داخل ہوں گے اور اس کی نعمتوں سے لذت اٹھائیں گ ے تو انہیں حق الیقین حاصل ہوگا۔ فرمایا یہ قرآن حق الیقین ہے، یعنی قرآن میں جو علوم و معارف اور حقائق بیان ہوئے ہیں، جو شخص ان کی لذت سے آشنا ہوجائے اس کے لئے یہ ہر طرح سے ثابت شدہ یقین ہے۔ (خلاصہ بدائع التفسیر و تفسیر عبدالرحمٰن السعدی)
Ayah 69:52فسبح باسم ربک العظیم : یعنی یہ مانیں یا نہ مانیں آپ اپنے عظمت والے رب کے نام کی، جس کا یہ کلام ہے، تسبیح بیان کرتے رہیں۔ اس کی برکت سے آپ کے لئے ہر مشکل آسان ہوجائے گی۔ اس آیت کے بعد بھی اور رکوع میں بھی ”سبحان ربی العظیم“ پڑھنا چاہیے۔ حذیفہ ؓ عنہماایک دفعہ رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ نے ایک ہی رکعت میں سورة بقرہ ، نساء اور آل عمران پڑھیں۔ حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھتے رہتے، جب آپ کسی ایسی آیت پر سے گزرتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو آپ تسبیح پڑھتے، جب کسی سوال والی آیت پر سے گزرتے تو سوال کرتے، جب پناہ مانگنے کی آیت پر سے گزرتے تو پناہ مانگتے۔ پھر آپ نے رکوع کیا اور آپ ”سبحان ربی العظیم“ پڑھتے رہے، آپ کا رکوع قیام کی مثل تھا۔ پھر آپ نے ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہا، پھر آپ رکوع کے قریب دیر تک کھڑے رہے پھر آپ نے سجدہ کیا اور سجدہ میں ”سبحان ربی الاعلی“ پڑھتے رہے۔ (مسلم صلاۃ المسافر بن، باب استحباب تطویل القراء ۃ فی صلوۃ اللیل : 882)