70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 70:1–2

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کے متعلق سوال کیا جو واقع ہونے والا ہے۔

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

کافروں پر، اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔

(1) سال سآئل بعذاب واقع …: اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ایک پوچھنے والے نے عذاب کے متعلق سوال کیا ہے (کہ وہ کب آئے گا ؟) اس صورت میں ”بائ“ بمعنی ”عن“ ہوگی اور مراد وہ کفری ہ سوال ہے جو وہ بار بار عذاب کو جھٹلانے اور مذاق کرنے کے لئے کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین) (الملک : 25)”اور وہ کہتے ہیں کہ وہ (عذاب کا) وعدہ کب پورا ہوگا، اگر تم سچے ہو ؟“ دوسرا معنی یہ ہے کہ ایک مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے۔ اس سے مراد کفار کے سرکش لوگوں کی وہ دعا ہے جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کرتے رہتے تھے کہ ہم پر جلد از جلد عذاب لے آؤ جیسا کہ فرمایا :(ویستعجلونک بالعذاب) (العنکبوت : 53)”اور یہ لوگ آپ سے جلدی عذاب لانے کا سوال کرتے ہیں۔“ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، پوچھنے والا عذاب کے متعلق پوچھتا ہے کہ وہ کب آئے گا ؟ مانگنے والا مطالبہ کرتا ہے کہ عذاب لے آؤ، تو سن لو کہ وہ عذاب کافروں پر ضرور آکر رہے گا اور کوئی اسے ہٹا نہیں سکے گا، مگر وہ اپنے وقت پر آئے گا۔ آپ ان کے مطالبے پر نہ اس کے جلدی آنے کا سوال کریں اور ان کے مذاق اڑانے پر کسی قسم کی بےصبری کا مظاہرہ کریں، وہ اسے دور خیال کر رہے ہیں اور ہمیں وہ بال قریب نظر آرہا ہے۔ (2) للکفرین لیس لہ دافع :”للکفرین“ یا تو ”واقع“ کے متعلق ہے، یعنی وہ عذاب کافروں پر واقع ہونے والا ہے، کوئی اسے ہٹا نہیں سکتا، یا ”’ دافع“ کے متعلق ہے، یعنی کافروں سے اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔
Ayah 70:3

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

اللہ کی طرف سے، جو سیڑھیوں والا ہے۔

(من اللہ ذی المعارج :”المعارج“ ”عرج یعرج“ (ن) سے ”معرج“ کی جمع ہے، چڑھنے کا آلہ، سیڑھی زینہ، یعنی اس عذاب کو معمولی نہ سمجھو ، بلکہ وہ اس اللہ کی طرف سے ہوگا، جو سیڑھیوں والا ہے، یعنی اس کی ذات بہت ہی بلند ہے۔ فرشتوں کو اس کے حضور پیش ہونے کے لئے کئی سیڑھیوں سے گزرناپڑتا ہے۔”المعارج“ (سیڑھیوں) سے مراد آسمان ہیں، کیونکہ فرشتے آسمانوں پر چڑھتے ہوئے سدرۃ المنتہی کے پاس اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتے ہیں۔
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں، (وہ عذاب) ایک ایسے دن میں (ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے۔

(1) تعرج الملٓئکۃ والروح الیہ : فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ یہاں ”الروح“ سے مراد یا تو جبریل ؑ ہیں، کیون کہ قرآن میں ان کا نام ”الروح“ ہے، جیسا کہ فرمایا :(نزل بہ الروح الامین، علی قلبک) (الشعراء : 193، 193)”اس قرآن کو روح الامین نے تمہارے دل پر نازل کیا ہے۔“ اور دوسری جگہ فرمایا :(قل من کان عدوالجبریل فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ) (البقرۃ : 98)”کہہ دو جو جبریل کا دشمن ہے (وہ اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے ؟) کیونکہ بلاشبہ اس نے تو اس تمہارے دل پر اللہ کے حکم سے نازل کیا ہے۔“ دونوں آیتیں ملانے سے ثابت ہوتا ہے کہ ”الروح“ سے مراد جبریل ؑ ہیں۔ فرشتوں سے ان کا الگ ذکر ان کی عظمت شان کی وجہ سے ہے۔ یا مراد مومنوں کی ارواح ہیں، کیونکہ نیک لوگ جب فوت ہوتے ہیں تو فرشتے ان کی ارواح کو آسمان ک طرف لے کر جاتے ہیں تو آسمانوں کے دروازے ان کے لئے کھلتے چلے جاتے ہیں، جیسا کہ ابوہریرہ اور براء بن عازب ؓ کی صحیح احادیث میں آیا ہے۔ (دیکھیے نسائی، الجنائر، باب ما یلقی بہ المومن …: 1833۔ ابوداؤد : 3853) البتہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والوں کی ارواح کو لے کر فرشتے چڑھتے ہیں توا ن کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ دیکھیے سورة اعراف (40) اور مذکورہ بالا احادیث۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا بلندی پر ہونا اور فرشتوں اور روح کا اس کی طرف چڑھنا صاف ثابت ہو رہا ہے۔ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے اوپر کی جانب ہونے اور عرش پر ہونے کے منکر ہیں وہ قرآن مجید کی صریح آیات سن کر بھی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہ ان کا رب اوپر کی جانب ہے۔ دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ زمان و مکان کی قیود سے منزہ ہے، حالانکہ یہ کسی نے کہا ہی نہیں کہ بلندی یا عرش اس کے لئے قید ہے یا وہ ان کا محتاج ہے۔ (2) ”فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ“ (ایک ایسے دن میں جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے) کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ فرشتے اور وح اس کی طرف چڑھتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے۔ یعنی وہ اتنی بلندی پر ہے کہ فرشتوں اور روح کو اس کی بارگاہ میں پہنچنے کے لئے اتنی بلندیوں پر چڑھنا پڑتا ہے کہ کوئی اور چڑھے تو اسے پچاس ہزار سال لگ جائیں، مگر فرشتے اور روح وہ فاصلہ ایک دن میں طے کرلیتے ہیں۔ (ابن جریر) واضح رہے رہے کہ پچاس ہزار سال کا عدد بھی صرف فاصلخے کی دوری بیان کرنے کیلئے ہے، کیونکہ انسان کی محدود نظروں نے آلات کی مدد سے جو کچھ دیکھا ہے اس سے آسمان کے نیچے ہی اتنی وسیع کہکشائیں معلوم ہوئی ہیں کہ زمین سے ان کے ستاروں کے فاصلے ماپنے کیلئے ”نوری سال“ کی اصطلاح وضع کرنا پڑی۔ عربی زبان میں پچاس، سو ، ہزار وغیرہ کا عدد کثرت کے بیان کے لئے عام استعمال ہوتا ہے، اس سے مراد گنتی نہیں وہتی۔ فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قوت و سرعت کی بدولت تحت الثری سے لے کر ساتوں آسمانوں کے اوپر تک پچاس ہزا سرلا کا یہ فاصلہ ایک ہی دن میں طے کرلیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی قدرت سے ہر کام سات آسمانوں پر سے اتنی جلدی ہوجاتا ہے تو ان عذاب مانگنے والوں پر عذاب کے آنے میں کیا دیر لگتی ہے، بس تھوڑا سا صبر کریں۔ آیت کے الفاظ کی رو سے یہ معنی قریب ہے، کیونکہ ”فی یوم“ سے متصل پہلے ہی ”تخرج الملئکۃ و الروح الیہ“ آیا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ عذاب ایک ایسے دن میں واقع ہونے والا ہے جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اس صورت میں ”فی یوم“ کا لفظ ”واقع“ کے متعلق ہے۔ یہ معنی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ قرآن مجید سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور صحیح حدیث سے بھی۔ اس لئے حافظ ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ سورة سور کے شروع میں فرمایا :(ان عذاب ربک لواقع ، مالہ من دافع ، یوم تمور السمآء موراً ، وتسیر الجبال سیراً) (طور : 8 تا 10)”یقینا تیرے رب کا عذاب ضرور ہو کر رہنے اولا ہے۔ اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔ جس دن آسمان لرزے گا سخت لرزنا اور پہاڑ چلیں گے، بہت چلنا۔“ ان آیات میں بھی رب تعالیٰ کا عذاب، جسے کوئی ہٹانے والا نہیں، قیامت کے دن واقع ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ زیر تفسیر آیات میں بھی ”فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ“ کے چند آیات بعد فرمایا :(یوم تکون السمآء کالمھل ، وتکون الجبال کالعھن) (المعارج : 8، 9)”(یہ پچاس ہزار سال والے ان کا عذاب اس دن ہوگا) جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔“ جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔”انھم یرونہ بعیداً“ سے بھی یہی ثابت ہو رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے زکوۃ نہ دینے والے کو قیامت کا دن ہونے والے عذاب کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا :(حتی یحکم اللہ بین عبادہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ مما تعدون) (ابو داؤد، الزکاۃ باب فی حقوق المال : 1658 مسلم : 1988) ’(زکوۃ نہ دینے والے کو عذاب ہوتا رہے گا) یہاں تک کہ نص اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزا رسال ہے۔“ قیامت کے دن کی یہ درازی کفار کے لئے ہوگی اور یہ دوسرے عذاب کے ساتھ بجائے خود ایک عذاب وہ گی، ویسے بھی مصیبت کے دن لمبے ہوتے ہیں۔ رہے اہل ایمان تو وہ اس دن بالکل بےفکر ہوں گے، جیسا کہ فرمایا :(لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون) (یونس : 62)”نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“ اور فرمایا :(لا یحزنھم الفزع الاکبر و تتلقھم الملٓئکۃ) (الانبیائ : 103) ’ انہیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگ ین نہیں کرے گی اور انہیں فرشتے لینے کے لئے آئیں گے۔“ اور فرمایا :(وھم من فزع یومئذ امنون) (النمل : 89)”اور وہ اس دن گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے۔“ خوشی کے دن گزرنے میں دیر بھی نہیں لگتی۔
Ayahs 70:5–7

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

پس تو صبر کر، بہت اچھا صبر۔

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

بیشک وہ اسے دور خیال کر رہے ہیں۔

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔

فاصبر صبراً جمیلاً …: یعنی آپ کفار کی طرف سے عذاب کے مطالبے اور مذاق پر صبر کریں۔”صبرا ً جمیلاً“ جس میں نہ تنگدلی ہو نہ گھبراہٹ نہ جلد بازی ہو، نہ شکوہ اور نہ ش کیا ت۔ یہ لوگ اس عذاب کو بعید سمجھ رہے ہیں، کیونکہ ان کا اس پر ایمان نہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اس کا آٹا یقینی ہے اور تمہارے پچاس ہزار سال ہمارے ہاں ایک دن شمار ہوتے ہیں۔
Ayahs 70:8–9

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔

یوم تکون السمآء کالمھل…:”کالمھل“ یعنی آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (سرخ اور گرم ہو کر پھٹ جائے گا۔) (دیکھیے رحمان : 37)”العھن“ اون، یعنی پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح بالکل ہلکے ہو کر اڑنے لگیں گے۔ دیکھیے سورة طہ (105)۔ قارعہ (5)۔
Ayahs 70:10–14

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی دلی دوست کسی دلی دوست کو نہیں پوچھے گا۔

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ وہ انھیں دکھائے جا رہے ہوں گے۔ مجرم چاہے گا کاش کہ اس دن کے عذاب سے (بچنے کے لیے) فدیے میں دے دے اپنے بیٹوں کو۔

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو۔

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے خاندان کو، جو اسے جگہ دیا کرتا تھا۔

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور ان تمام لوگوں کو جو زمین میں ہیں، پھر اپنے آپ کو بچا لے۔

ولایسئل حمیم حمیاً…: کوئی دوست کسی دوست کو نہیں پوچھے گا، اس لئے نہیں کہ وہ دکھائی نہیں دے رہا ہوگا، بلکہ ”یبضرونھم“ ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جا رہے ہوں گے اور آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ نہ پوچھنے کی وجہ یہ ہوگی کہ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی، مجرم دنیا میں جن جن پر اپنی جان قربان کرتا تھا اس دن سب کو، بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کو پانی جان بچانے کے لئے عذاب الٰہی کے حاولے کردینا پسند کرے گا۔ اس مقام پر رشتہ داروں کی ترتیب میں پہلے ان کا ذکر کیا جو سب سے زیادہ محبوب ہیں، یعنی بیٹے، بیوی، بھئای، خاندان اور سورة عبس (34 تا 36) میں اس کا الٹ ہے۔ ”فصیلتہ“ خاندان، کنبہ، کیونکہ وہ قبیلے سے جدا ہوتا ہے۔”ثویہ“”اوی یووی“ (افعال) جگہ دینا، پناہ دینا۔
Ayah 70:15

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! یقینا وہ (جہنم) ایک شعلہ مارنے والی آگ ہے۔

کلا انھا لظی :”کلا“ یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ وہ اپنے فدیے میں کسی اور کو عذاب کے حوالے کر کے بچ جائے، بلکہ وہ جہنم ایک شعلے مارنے والی آگ ہے۔”لظی“ ”لظی یلظی لظی“ (ع) آگ کا بھڑکنا، شعلے مارنا۔ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے۔
Ayah 70:16

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

منہ اور سر کی کھال کو اتار کھینچنے والی ہے۔

نزاعۃ للشوی :”نزاعۃ“ مبالغے کا صیغہ ہے، بہت اتار کھینچنے والی۔ ”الشوی“ ”شواۃ“ کی جم ہے۔ سر اور چہرے کی کھال۔ جمع کا لفظ اس کے اجزا کی وجہ سے لایا گیا ہے۔ مبالغے کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کے شعلے کی لپیٹ فوراً ہی سر اور چہرے کی کھال جلا کر اتار کھینچے گی اور یہ بھی کہ وہ کھال بار بار درست ہوتی رہے گی اور آگ کا شعلہ اسے بار بار جلاتا رہے گا، البتہ دل قائم رہے گا تاکہ عذاب کی تکلیف برقرار رہے۔ دیکھیے سورة نسائ (56)۔
Ayahs 70:17–18

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

وہ (ہر) اس شخص کو پکارے گی جس نے پیٹھ پھیری اور منہ موڑا۔

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور (مال) جمع کیا اور اسے بند رکھا۔

(1) تدعوا من ادبر وتولی : یعنی جن لوگوں نے دنیا میں ایمان کی طرف بلائے جانے پر پیٹھ پھیرلی اور منہ موڑ لیا تھا اب جہنم انہیں اپنی طرف بلائے گی اور اس طرح نہیں بلائے گی کہ چاہیں تو جائیں اور چاہیں تو نہ جائیں۔ (2) وجمع فاوعی :”اوعی“ ‘”وعائ“ برتن کو کہتے ہیں، یعنی برتن میں بند رکھا۔ پچھلی آیت اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار کے جہنم میں جانے کے دو بڑے اسباب ہیں، ایک ایمان نہ لانا بلکہ حق بات سن کر منہ پھیرلینا اور دوسرا شدید بخل۔ دیکھیے سورة حاقہ (33، 34)۔ (3) جہنم کا کلام کرنا ان آیات سے بھی ثابت ہوتا ہے اور سورة ق کی آیت (30) :(وتقول ھل من مرید) سے بھی۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یخرج عنق من النار یوم القیامۃ لہ عینان تبصران واذنان تسمعان ولسان ینطق یقول انی وکلت بثلاثۃ بکل جبار عنید وبکل من دعا مع اللہ الھا آخر وبالمصورین) (ترمذی، صفۃ جھنم، باب ماجاء فی صفۃ النار : 2583 ، وصححہ الالبانی)”قیامت کے دن آگ سے ایک گردن نکلے گی جس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھتی ہوں گی اور دوکان ہوں گے جو سنتے ہوں گے اور ایک زبان ہوگی جو بولتی ہوگی۔ وہ کہے گی کہ مجھے تین (قسم کے آدمیوں) پر مقرر کیا گیا ہے، ہر جبار عنید پر اور ہر اس شخص پر جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود بنائے اور مصوروں پر۔“ اسی طرح صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ سے جنت اور دوزخ کی بحث کی حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے، اس لئے جہنم کے کلام کا انکار کرنا یا اس کی تاویل کرنا درست نہیں۔ قرآن مجید کے مطابق قیامت کے دن زمین میں بات کرے گی اور ہاتھ پاؤں اور چمڑے بھی گفتگو کریں گے، پھر جنت یا جہنم کے بولنے میں کیا تعجب ہے ؟
Ayahs 70:19–21

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔

ان الانسان خلق ھلوعا…: یعنی انسان میں پیدائشی طو ر پر یہ کمزوری رکھی گئی ہے کہ وہ تھڑولا ہے، بےصبرا ہے۔ تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے، مال یا کوئی اور نعمت ملتی ہے تو روک کر بیٹھ جاتا ہے اور حق داروں کو نہیں دیتا، مگر یہ کمزوری ایسی نہیں کہ انسان اس پر قابو نہ پا سکے۔ اہل ایمان نہ مصیبت میں گھبراتے ہیں اور نہ خوش حالی میں اتراتے ہیں۔ صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(عجباً لامر المومن ان امرۃ کلہ خیر ولیس ذاک لاحد الا للمومن ان اصابتہ سراء شکر فکان خیرالہ و ان اصابتہ ضراء صبر فکان خیرلہ) (مسلم، الزھد ، باب المومن امرہ کلہ خیر : 2999)”مومن کا معاملہ عیجب ہے کہ اس کے سب کام ہی (اس کے لئے) خیر ہیں اور مومن کے علاوہ یہ چیز کسی کو حاصل نہیں، (اس طرح کہ) اسے کوئی خوش پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے، سو وہ اس کے لئے خیر ہوتی ہے اور اگر تکلیف پہنتچی ہے تو صبر کرتا ہے، سو وہ (بھی) اس کے لئے خیر ہوتی ہے۔“ مگر اس کے لئے کوشش یقینا کرنا پ ڑتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ومن یستعف یعفہ اللہ ومن یستغن یعنہ اللہ ومن یصبر یصبرہ اللہ) (مسلم، الزکاۃ باب فضل العفف والصبر…: 1053)”جو شخص سوال سے بچے گا اللہ اسے بچا لے گا، جو اللہ سے غنا مانگے گا اللہ اسے غنی کر دے گا اور جو صبر کی کوشش کرے گا اللہ اسے صابر بنا دے گا۔“
Ayahs 70:22–23

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

سوائے نماز ادا کرنے والوں کے۔

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

وہ جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں۔

الا المصلین…: مگر نمازی بےصبرے اور تھڑولے نہیں ہوتے، وہ نہ مصیبت پر شکوہ ش کیا ت کرتے ہیں اور نہ نعمت ملنے پر بخل کرتے ہیں۔ نماز کی صحیح ادائیگی سے آدمی میں وہ عزم اور ہمت پیدا ہوتی ہے کہ وہ ایسی تمام کمزوریوں پر قابو پا لیتا ہے، کیونکہ روزانہ پانچ وقت دنیا کے کسی لالچ کے بغیر پورے شروط و آداب کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت ہی مشکل کام ہے جو اللہ کے خوف اور آخرت پر ایمان کے بغیر ادا ہو نہیں سکتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واستعینوا بالصبر و الصلوۃ و انھا لکبیرۃ الا علی الخشعین ، الذین یظنون انھم ملقوا ربھم وانمم الیہ رجعون) (البقرۃ : 35، 36)”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو اور بیشک وہ بہت بڑی ہے مگر عاجزی کرنے والوں پر۔ جو سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔“ آیات (23) تا (34) میں وہ صفات بیان فرمائی ہیں جن کے بغیر نمازی بھی ”ہلوع“ (تھڑدلا) ہی رہتا ہے۔ ان میں سے پہلی صفت اپنی نماز پر ہمیشگی ہے، یہ نہیں کہ کبھی پڑھ لی کبھی چھوڑ دی، کیونکہ جونہی نماز ترک کرے گا، تو صرف بےصبری اور بخل ہی واپس نہیں آئیں گے بلکہ کفر بھی دوبارہ اس میں پلٹ آئے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نے فرمایا :(بین العبد و بین الکفر ترک الصلاۃ) (ابو داؤد السنۃ باب فی ردالارجاء : 3688۔ مسلم : 82)”بندے اور کفر کے درمیان نماز ترک کرنے کی دیر ہے۔“
Ayahs 70:24–25

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور وہ جن کے مالوں میں ایک مقرر حصہ ہے۔

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

سوال کرنے والے کے لیے اور (اس کے لیے) جسے نہیں دیا جاتا۔

والذین فی اموالھم حق معلوم …: اس آیت سے معلوم ہوا کہ صدقہ و زکوۃ مکہ میں بھی فرض تھے اور وہاں بھی اہل ایمان اپنے اموال میں سے ایک مقرر حصہ نکالتے تھے، کیونکہ یہ سورت مکی ہے، بلکہ مشرکین بھی اپنی کھیتی اور مویشیوں میں سے بتوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایک مقرر حصہ نکالتے تھے۔ (دیکھیے انعام : 136) اس سے بہت پہلے اسماعیل ؑ بھی اپنے الہ کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیا کرتے تھے۔ (دیکھیے مریم : 55) ہاں زکوۃ کا موجودہ مخصوص نصاب مدینہ میں مقرر ہوا، اتنے فرض کی ادائیگی کے بغیر تو آدمی مسلمان ہی نہیں ہوتا۔ البتہ اہل ایمان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے علاوہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کریں، یہ ہر شخص کی اپنی صوابدید ہے کہ وہ اس کی راہ میں کتنا حصہ مقرر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہے۔ صحیح مسلم میں ایک شخص کا واقعہ مذکور ہے جس کا نام لے کر بادلوں کو حکم ہوا کہ اس کے باغ کو پانی پلائیں۔ وہ شخص اپنے باغ کی آمدنی کے تین حصے کرتا تھا، جس میں سے ایک حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا تھا۔ (دیکھیے مسلم : 2983) حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کئے بغیر بےصبری اور بخل کی کمینگی دور ہو ہی نہیں سکتی۔ ”المحروم“ میں وہ بھی شامل ہے جس کا کوئی ذریعہ معاش نہیں یا کسی آفت کی وجہ سے اپنے سرمایہ سے محروم ہوگیا ہے اور وہ بھی جسے ضرورت مند ہونے کے باوجود سوال نہ کرنے کی وجہ سے کچھ نہیں دیا جاتا۔
Ayahs 70:26–28

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور وہ جو جزا کے دن کو سچا مانتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

یقینا ان کے رب کا عذاب ایسا ہے جس سے بےخوف نہیں ہوا جاسکتا۔

والذین یصدقون بیوم الدین…: یعنی ان کے اعمال کا اصل محرک قیامت پر ایمان اور رب تعالیٰ کے عذاب کا خوف ہے۔
Ayahs 70:29–31

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں پر، یا جس کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں، تو یقینا وہ ملامت کیے ہوئے نہیں۔

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

پھر جو اس کے علاوہ کوئی راستہ ڈھونڈے تو وہی حد سے گزرنے والے ہیں۔

والذین ھم لفروجھم حفظون …: ان آیات سے بیویا ور لونڈی کے علاوہ جنس خواہش پوری کرنے کے تمام ذرائع مثلاً زنا، متعہ ، لڑکوں یا جانوروں سے بدفعلی اور استمنا بالید وغیرہ کی حرمت ثابت ہوئی، بلکہ ان اسباب کی حرمت بھی معلوم ہوئی جو آدمی کو ان چیزوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ مثلاً عریانی، غیر محرموں سے میل جول، گناہ پر ابھارنے والے گیت، ناول، افسانے اور فلمیں وغیرہ۔ مزید دیکھیے سورة مومنون (5 تا 7)۔
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی امانتوں کا اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔

والذین ھم لامنتھم…: امانت و عہد کی حفاظت ایمان کی اور خیانت و بدعہدی نفاق کی علامت ہے، جیسا کہ نفاق کی علامات والی مشہور حدیث میں ہے۔ (دیکھیے بخاری : 33۔ مسلم : 58)”امانات“ کو جمع لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ صرف مال ہی نہیں بلکہ ہر اس امانت کی حفاظت کرتے ہیں جس کی ادائیگی اللہ تعالیٰ پابندیوں کی طرف سے ان کے ذمے ہے۔ اس میں نماز، روزہ اور دوسری فرض عبادات اور واجب حقوق العباد سب شامل ہیں۔
Ayah 70:33

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔

والذین ھم بشھدتھم قآئمون : شہادتوں پر قائم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حق کی شہادت نہ چھپاتے ہیں، نہ ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں، نہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں اور نہ شہادت کی ادائیگی کے وقت اس میں کوئی ہیرا پھیری کرتے ہیں، کیونکہ یہ سب کام نفاق و کفر کے کام ہیں۔ ”شہادات ‘ میں ایمان، توحید و رسالت اور لوگوں کے باہمی معاملات، غرض ہر حق بات کی شہادت شامل ہے۔
Ayah 70:34

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔

والذین ھم علی صلاتھم یحافظون : نمازیوں کے اوصاف کا آغاز نماز پر ہمیشگی سے کیا اور ان کا اختتام نماز پر محافظت سے کیا ہے۔ اس سے نماز کی اہمیت صاف واضح ہو رہی ہے۔ محافظت سے مراد اس کے اوقات کا خیال رکھنا اور اس کے شروط و ارکان کی صحیح ادائیگی کا خیال رکھنا ہے۔ منافق نہ صحیح وقت پر نمازپ ڑھتا ہے اور نہ اطمینان و سکون سے اس کے ارکان کو درست طریقے سے ادا کرتا ہے۔ انس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے :(تلک صلاۃ المنافق یجلس یرقب الشمس حتی اذا کانت بین قرنی الشیطان فام فنقرھا اربعاً لایذکر اللہ فیھا الاقلیلاً) (مسلم، المساجد، باب استحباب التبکیر بالعصر : 622)”یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھ کر سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوجاتا ہے (یعنی غروب ہونے کے قریب ہوجاتا ہے) تو اٹھ کر اس کے لئے چار ٹھونگے مار لیتا ہے، اس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتا مگر کم۔“
Ayah 70:35

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔

اولئک فی جنت مکرمون : یہی لوگ ہیں جو تھڑدلی ، بےصبر اور شدید بخل سے محفوظ ہیں اور انھی کو جنتوں میں عزت عطا ہوگی۔
Ayahs 70:36–39

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

پھر ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، کیا ہے کہ تیری طرف دوڑتے چلے آنے والے ہیں۔

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

دائیں اور بائیں طرف سے ٹولیاں بن کر۔

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا ان میں سے ہر آدمی طمع رکھتا ہے کہ اسے نعمت والی جنت میں داخل کیا جائے گا ؟

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! یقینا ہم نے انھیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔

فمال الذین کفروا …:”مھطعین“”اھطع یھطع“ (افعال) سے اسم فاعل ہے، تیزی سے دوڑنے والے۔ ”عزین“ جمع ہے ”عزۃ“ کی، جو اصل میں د ’ عزوۃ“ یا ”عزھۃ“ تھا، ٹولیاں ، گروہ۔ کفار رسول اللہ ﷺ کو مذاق کرنے کے لئے ٹولیاں بنا بنا کر کبھی دائیں طرف سے دڑوے چلے آتے ، کبھی بائیں طرف سے، وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے، آخرت کو بھی جھٹلاتے اور مذاق سے کہتے کہ اگر بالفرض کوئی جنت ہے بھی تو وہ بھی ہمارے ہی لئے ہے، کیونکہ دنیا میں بھی ہمیں ہی زیادہ نعمتیں ملی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرح آنے پر تعجب کا اظہار فرمایا اور فرمایا کیا ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو اتنا اونچا سمجھنے لگ گیا ہے کہ وہ نعمت والی جنت میں داخل ہونے کی طمع رکھتا ہے ؟ ہرگز نہیں ! ہم نے انہیں جس چیز سے پیدا کیا ہے اسے وہ خود بھی جاتنے ہیں، حقیر قطرے سے پیدا ہونے والے انسان کو یہ تکبر بھلا زیب دیتا ہے ؟ اس مضمون کے لئے دیکھیے سورة مرسلات (20 تا 23) اور سورة طارق (5 تا 7)۔ ان آیات سے تین باتیں مقصود ہیں، ایک انسان کو تکبر سے باز رکھنا اوری ہ یاد دلانا کہ تم منی جیسی حقیر چیز سے پیدا ہو کر اتنے بڑے بن رہے ہو کہ جنت میں داخل ہونے کو اپنا حق سمجھ رہے ہو، حالانکہ جنت کے قابل تو رسول کی اطاعت سے ہوگے جس پر ٹولاں ی بنا کر حملہ آور ہو رہے ہو۔ دوسری کفار کے اس طمع کا رد کہ وہ جنت میں جائیں گے، گویا بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے تمہیں بھی اس چیز سے پیدا کیا جس سے دوسروں کو پیدا کیا ہے، جب سب کی پیدائش ایک جیسی ہے تو تم عمل کے بغیر جنت میں دناخل ہونے کے امیدوار کیسے بن گئے ؟ تیسری بات دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل پیش کرنا ہے کہ جب ہم نے اس حقیر پانی سے تمہیں بنا لیا تو دوبارہ بنانا کون سا مشکل کام ہے ؟ جیسے فرمایا :(الم یک نطفۃ من منی یمنی) (القیامۃ : 38) ”کیا وہ منی کا ایک قطرہ نہیں تھا جو گرایا جاتا ہے۔“