60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 60:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

مومنو ! ! اگر تم میری راہ میں لڑنے اور میری خوشنودی طلب کرنے کے لئے (مکے سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناو تم تو انکو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور وہ (دین) حق سے جو تمہارے پاس آیا ہے منکر ہیں۔ اور اس باعث سے کہ تم اپنے پروردگار خدائے تعالیٰ پر ایمان لائے ہو پیغمبر کو اور تم کو جلا وطن کرتے ہیں تم ان کی طرف پوشیدہ پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو جو کچھ تم مخفی طور پر اور جو علی الاعلان کرتے ہو وہ مجھے معلوم ہے۔ اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

بالخصوص اے حاطب تم دین میں میرے دشمنوں میں اپنے دشمنوں یعنی کفار مکہ کو دوست مت بناؤ کہ خط بھیج کر ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو حالانکہ اے حاطب وہ کتاب و رسول کے منکر ہیں وہ رسول اکرم کو اور تمہیں محض ایمان لانے کی وجہ سے مکہ سے نکال چکے ہیں۔ اے حاطب اگر تم مکہ سے مدینہ منورہ جہاد کرنے کی غرض سے اور میری خوشنودی کی تلاش میں نکلے ہو تو پھر ان سے خفیہ طور پر خط بھیج کر دوستی کی باتیں مت کرو اور اے حاطب میں تمہارے اس خفیہ خط یا یہ کہ تصدیق سے اچھی طرح واقف ہوں اور جو تم نے عذر پیش کیا یا یہ کہ تمہاری توحید سے بھی واقف ہوں اے گروہ مومنین تم میں سے حاطب کی طرح جو کرے گا وہ راہ حق کو چھوڑ دے گا۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا (الخ) امام بخاری و مسلم نے حضرت علی سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ مجھے اور حضرت زبیر اور مقداد بن اسود کو رسول اکرم نے روانہ فرمایا اور فرمایا چلو یہاں تک کہ روضہ پر پہنچو وہاں ایک بڑھیا عورت ملے گی اس کے پاس ایک خطہ ہے وہ لے آؤ۔ چناچہ ہم چلے یہاں تک کہ روضہ پر پہنچے وہاں وہی بڑھیا تھی ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال وہ بولی میرے پاس کوئی خط نہیں ہم نے کہا خط نکال ورنہ تیری تلاشی لیتے ہیں۔ چناچہ اس نے بالوں کے جوڑے میں سے وہ خط نکالا ہم اسے لے کر رسول اکرم کی خدمت میں آئے۔ چناچہ جب اسے کھولا تو وہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ مکرمہ کے کچھ مشرکین کے نام تھا کہ اس میں ان مشرکین کو رسول اکرم کی بعض باتوں سے مطلع کیا تھا آپ نے دیکھ کر فرمایا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے بارے میں جلدی نہ فرمایے میں قریش کے ساتھ لٹکا ہوا ہوں مگر ان میں سے نہیں ہوں اور جو آپ کے ساتھ مہاجرین ہیں ان کے مکہ مکرمہ میں رشتہ دار ہیں جو ان کے گھر والوں اور ان کے اموال کی دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں۔ چناچہ جب ان میں میری رشتہ داری کی کوئی صورت نہیں تو میں نے چاہا کہ ان پر کچھ احسان کروں جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں اور میں نے کفر و ارتداد کی وجہ سے ایسا نہیں کیا اور نہ میں کفر کو پسند کرتا ہوں تو رسول اکرم نے فرمایا حاطب سچ کہتے ہیں ان ہی کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں کہ اے ایمان والو تم میرے دشمنوں۔ (الخ)
Ayah 60:2

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر یہ کافر تم پر قدرت پالیں تو تمہارے دشمن ہوجائیں اور ایذا کے لئے تم پر ہاتھ (بھی) چلائیں اور زبانیں (بھی) اور چاہتیں ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ۔

اگر مکہ والے تم پر غلبہ کرنا چاہیں تو تمہارے سامنے ان کی دشمنی واضح ہوجائے گی وہ تم پر مارنے کے ساتھ دست درازی اور گالی گلوچی کے ساتھ زبان درازی کرنے لگیں گے اور مکہ والے تو تمہارے کفر کے متمنی ہیں۔
Ayah 60:3

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ (قیامت کے روز) وہی تم میں فیصلہ کرے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے

لیکن اگر تم نے ایمان لانے اور ہجرت کرنے کے بعد کفر کیا تو قیامت کے دن عذاب الہی کے مقابلہ میں تمہارے مکہ کے رشتہ دار کچھ کام نہیں آئیں گے۔ وہ قیامت کے دن تمہارے اور مومنین کے درمیان یا یہ کہ اس چیز پر فیصلہ فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہاری نیکی و برائی کو خوب دیکھتا ہے۔
Ayah 60:4

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تمہیں ابراہیم اور ان کے رفقاء کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان (بتوں) سے جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو بےتعلق ہیں (اور) تمہارے (معبودوں کے کبھی) قائل نہیں (ہو سکتے) اور جب تک تم خدائے واحد پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کھلم کھلی دشمنی رہے گی ہاں ابراہیم نے اپنے باپ سے یہ (ضرور) کہا کہ میں آپ کے لئے مغفرت مانگوں گا اور میں خدا کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پروردگار تجھ ہی پر ہمارا بھروسا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور میں (ہمیں) لوٹ جانا ہے۔

اے حاطب تمہارے لیے ابراہیم کے فرمان اور ان مومنین کے اقوال میں جو کہ ان کے ساتھ تھے ایک عمدہ نمونہ ہے۔ جبکہ ان سب نے اپنے رشہ دار کافروں سے کہہ دیا کہ ہم تمہاری رشتہ داری اور تمہاری اس بت پرستی کے طریقہ سے بےزار ہیں ہم تمہارے دین کے منکر ہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ عداوت اور قلبی دشمنی ظاہر ہوگئی جب تک تم اللہ کی وحدانیت کا اقرار نہ کرو لیکن اتنی بات تو ابراہیم کی اپنے والد سے ضرور ہوتئی تھی کہ میں تمہارے لیے استغفار کروں گا اور مجھے اللہ کے عذاب کے مقابلے میں کسی چیز کا اختیار نہیں کیونکہ یہ بات بھی ایک وعدہ کی وجہ سے تھی۔ مگر جب ان کے باپ نے کفر کیا تو انہوں نے اس سے بےزاری ظاہر کردی اب اللہ تعالیٰ ان کو دعا کرنے کا طریقہ بتاتا ہے کہ یوں دعا کرو پروردگار ہم نے تجھ پر بھروسا کیا ہے اور تیری اطاعت کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور قیامت میں آپ ہی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔
Ayah 60:5

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما بیشک تو غالب حکمت والا ہے

ہمیں کفار مکہ کے لیے سخت مشق نہ بنایے کہ وہ ہم پر غلبہ کر کے کہنے لگیں کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں جس کی وجہ سے ان کی ہم پر اور دلیری ہوجائے اور ہمارے گناہوں کو معاف فرما دیجیے آپ زبردست حکمت والے ہیں۔
Ayah 60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا کے سامنے جانے اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے اور جو روگردانی کرے تو خدا بھی بےپروا اور سزا وار حمد (وثنا) ہے۔

اے حاطب تمہارے لیے ابراہیم اور ان کی اتباع کرنے والوں کے اقوال میں ایک عمدہ نمونہ ہے جو کہ اللہ اور قیامت پر اعتقاد رکھتا ہو تو تم نے اس طریقہ پر کیوں دعا نہ کی، باقی جو حکم خداوندی سے منہ پھیرے گا تو اللہ تعالیٰ تو بالکل بےنیاز ہے اور تعریف کے لائق ہے۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتیں ہو دوستی پیدا کر دے اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دینی دشمنوں یعنی مکہ والوں سے دوستی کا سلسلہ قائم کردے گا، چناچہ ایسا ہی ہوا کہ رسول اکرم نے فتح مکہ کے سال حضرت ابوسفیان کی صاحبزادی حضرت ام حبیبہ سے شادی فرمائی۔ اور کفار قریش پر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو غلبہ دینے پر قادر اور کفر سے توبہ کرنے والے اور ایمان لانے والے کو بخشنے والا ہے۔
Ayah 60:8

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ دوستی رکھنے اور احسان کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تمہیں انہوں نے مکہ مکرمہ سے نہیں نکالا اور نہ تمہارے نکالنے میں کسی کی مدد کی اور اللہ تعالیٰ وفائے عہد کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ شان نزول : لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ (الخ) امام بخاری نے حضرت اسماء سے روایت کیا ہے فرماتی ہیں کہ میری والدہ میرے پاس آئیں اور وہ ضرور مند تھیں میں نے رسول اکرم سے ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے بارے میں دریافت کیا آپ نے اجازت دے دی۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ صرف ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے۔ امام احمد اور بزار نے اور حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت کیا ہے کہ فتیلہ اپنی صاحبزادی حضرت اسماء بنت ابوبکر کے پاس آئیں اور حضرت ابوبکر نے ان کو زمانہ جاہلیت میں طلاق دے دی تھی۔ چناچہ یہ اپنی لڑکے کے پاس تحائف لے کر آئیں، تو حضرت اسماء نے اپنی والدہ کے تحائف قبول کرنے یا ان کے گھر جانے سے انکار کردیا، یہاں تک کہ حضرت عائشہ کے پاس قاصد بھیجا کہ وہ اس بارے میں رسول اکرم سے دریافت کریں۔ چناچہ حضرت عائشہ نے حضور اکرم کو اس چیز کی اطلاع دی، آپ نے ان کے تحائف قبول کرنے اور ان کے گھر جانے کا حکم دیا اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے۔
Ayah 60:9

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

خدا انہی لوگوں کیساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا۔ اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں۔

خزاعہ، خزیمہ اور بون مدلج نے حدیبیہ کے سال رسول اکرم سے اس چیز پر صلح کی آپ سے قتال نہیں کریں گے اور نہ مکہ مکرمہ سے کسی کو نکالیں گے اور نہ نکالنے میں کسی کی مدد کریں گے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ احسان کرنے سے نہیں روکا۔ البتہ مکہ والوں سے احسان کرنے اور صلہ رحمی کرنے سے منع فرمایا کیونکہ ان میں یہ تمام چیزیں موجود تھیں اور فرما دیا کہ جو ایسے لوگوں سے دوستی رکھے گا وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا۔
Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

مومنو جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔ اور جو کچھ انہوں نے (ان پر) خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو (یعنی کفار کو) واپس دے دو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے (اپنی عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں یہ خدا کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کیے دیتا ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

اے ایمان والو جب تمہارے پاس اللہ کا اقرار کرنے والی عورتیں مکہ سے حدیبیہ یا مدینہ منورہ آجائیں تو تم ان سے دریافت کرو اور قسم لو کہ کیوں آئیں ان کے حقیقی ایمان کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے سو اگر ان کو امتحان کی رو سی مسلمان سمجھو تو پھر ان کو ان کے کافر خاوندوں کی طرف واپس مت کرو نہ تو وہ مسلمان عورتیں ان کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لیے حلال ہیں یا یہ کہ نہ کوئی مسلمان عورت کسی کافر کے لیے اور نہ کافر وہ عورت کسی مومن کے لیے حلال ہے اور ان کے خاوندوں نے جو مہر کی نسبت ان پر خرچ کیا ہے وہ ان کو ادا کردو۔ یہ آیت حضرت سبیعہ بنت حارث اسلمیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ حدیبیہ کے سال اسلام قبول کر کے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئیں ان کے پیچھے ان کے خاوند ان کی تلاش میں آئے حضور نے ان کے خاوند کو ان کا مہر دے دیا کیونکہ حدیبیہ کے سال اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے رسول اکرم نے مکہ والوں سے اس چیز پر صلح کرلی تھی کہ جو ہم میں سے تمہارے دین میں داخل ہوجائے وہ تمہارا ہے اور جو تم میں سے ہمارا دین قبول کرلے گا وہ تمہیں واپس کردیا جائے گا اور ہماری جو عورت تمہارا دین اختیار کرے وہ تمہاری ہے تم اس کا مہر ادا کردو اور تمہاری جو عورت ہمارے دین میں آجائے ہم اس کا مہر اس کے خاوند کو دے دیں گے اسی وجہ سے حضور نے حضرت سبیعہ کا مہر ان کے خاوند کو دے دیا۔ اور اگر کافروں میں سے جو عورتیں تمہارا دین اختیار کرلیں تمہیں ان سے نکاح کرنے میں کچھ گناہ نہیں ہوگا جبکہ تم ان کو ان کا مہر ادا کردو جو بھی عورت مشرف بااسلام ہوجائے اور اس کا خاوند کافر ہو تو اس کا نکاح فورا ٹوٹ گیا اور اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان عصمت کا تعلق باقی نہیں رہا اور نہ اس عورت پر عدت ہے اور اس عورت سے جبکہ اس کا رحم پاک ہوجائے نکاح کرنا جائز ہے۔ اور تم کافر عورتوں کے تعلقات کو باقی مت رکھو یعنی جو مسلمان عورتیں کافر ہوگئیں ان کا ان کے مسلمان خاوندوں سے عصمت کا کوئی تعلق نہیں رہا اور نہ ان پر ان کے خاوندوں کی عدت ہے۔ اور تم مکہ والوں سے جو کچھ تم نے ان عورتوں پر خرچ کیا ہے اگر یہ عورتیں ان کے دین میں داخل ہوجائیں تو وہ مانگ لو اور جو کچھ ان کافروں نے ان عورتوں پر جو مسلمان ہوگئی ہیں خرچ کیا ہے تو وہ مانگ لیں اسی چیز پر رسول اکرم نے کفار مکہ سے صلح کی تھی کہ بعض کو اپنی عورتوں کو مہر ادا کردیں وہ عورتیں مسلمان ہوجائیں یا کافر یہ اللہ کا فریضہ ہے وہ تمہارے اور مکہ والوں کے درمیان فیصلہ فرماتا ہے اور وہ تمہارے اعمال سے وقف ہے یہ آیت بالاجماع منسوخ ہے۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَاۗءَكُمُ (الخ) امام بخاری و مسلم نے مسور اور مروان بن حکم سے روایت کیا ہے کہ حدیبیہ کے سال جب رسول اکرم نے کفار قریش سے معاہدہ کیا تو مسلمان عورتیں حاضر خدمت ہوئیں اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ عبداللہ بن ابی احمد سے روایت کیا ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ای معیط نے ہندہ میں ہجرت کی تو ان کے بھائی عمارہ اور ولید روانہ ہوئے۔ حضور کی خدمت میں آئے اور ام کلثوم کے بارے میں بات کی کہ ان کو واپس کردیا جائے تو للہ تعالیٰ نے خاص طور پر عورتوں کے بارے میں جو مشرکین سے معاہدہ تھا تو وہ توڑ دیا اور آیت امتحان نازل فرمائی۔ اور ابن ابی حاتم نے یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت امیمہ بنت بشر زوجہ ابو حسان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور مقاتل سے روایت کیا ہے کہ سعیدہ نامی عورت جو مشرکین مکہ میں سے صفی بن الواہب کے نکاح میں تھی ہدنہ کے زمانہ میں آئی۔ اس کے وارثوں نے آکر واپسی کی درخواست کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن جریر نے زہری سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت آپ پر نازل ہوئی اور آپ حدیبیہ کے نشیبی حصہ میں تھے اور آپ نے کفار سے اس بات پر صلح کی تھی کہ جو ان میں سے آئے گا اس کو واپس کردیا جائے گا۔ چناچہ جب عورتیں آئیں تو پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن منیع نے کلبی عن ابی صالح کے طریق سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر فارق مشرف بااسلام ہوگئے اور ان کی بیوی کافروں میں رہ گئیں تب یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے (اور اسکا مہر وصول نہ ہوا ہو) پھر تم ان سے جنگ کرو (اور ان سے تم کو غنیمت ہاتھ لگے) تو جن کی عورتیں چلی گئی ہیں ان کو (اسی مال میں سے) اتنا دے دو جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا اور خدا سے جس پر تم ایمان لائے ہو ڈرو۔

اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی عورت کفار کی طرف چلی جائے اور تمہارے اور ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی عہد اور صلح نہ ہو اور پھر تم اپنے دشمنوں سے غنیمت میں حاصل کرلو تو تم وہ مہر جو اس مہاجرہ کے لیے اس کے پہلے خاوند کو دینا تھا ان مسلمانوں کو دے دو جن کی بیویاں مہر پاکر کفار کے پاس چلی گئیں اور احکام الہی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ مسلمان عورتوں میں سے صرف چھ عورتیں مرتد ہوئی تھیں دو تو حضرت عمر فاروق کی تھیں ام سلمہ اور ام کلثوم بنت حبرول اور ام الحکم بنت ابی سفیان جو عباد ابن شدد کے نکاح میں تھیں اور فاطمہ بنت ابی امیہ اور بروع بنت عقبہ جو شماس بن عثمان کے نکاح میں تھیں اور عبدہ بنت عبدالعزی اور ہند بنت ابی جہل جو ہاشم بن عاصم بن وائل سہمی کے نکاح میں تھیں۔ چناچہ رسول اکرم نے ان سب کو ان کی عورتوں کا مہر مال غنیمت میں سے ادا کیا۔ شان نزول : وَاِنْ فَاتَكُمْ شَيْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ (الخ) ابن ابی حاتم نے اس آیت کے بارے میں حسن سے روایت کیا ہے کہ یہ ام الحکم بنت سفیان کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے مرتد ہو کر ایک ثقفی سے شادی کرلی تھی اور قریش کی عورتوں میں اس کے علاوہ اور کوئی عورت مرتد نہیں ہوئی۔
Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے پیغمبر ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ خدا کے ساتھ نہ تو شرک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مانگو۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

اے نبی اکرم فتح مکہ کے بعد جب اہل مکہ کی مسلمان عورتیں آپ کے پاس آئیں اور آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی اور نہ اس چیز کو حلال سمجھیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی زندہ لڑکیوں کو دفن کریں گی اور نہ ان باتوں کو حلال سمجھیں گی اور نہ کوئی بہتان کی اولاد لائیں گی کہ جس کو اپنے خاوند کی طرف منسوب کردیں کہ یہ تیرا لڑکا ہے اور میں نے جنا ہے اور تمام ان باتوں میں جن کا آپ ان کو حکم دیں اور جسن سے آپ ان کو منع کریں آپ کی خلاف ورزی نہیں کریں گی۔ مثلا نوحہ نہیں کریں گی بال نہیں رلائیں گی، کپڑے نہیں پھاڑیں گی، چہرے نہیں نوچیں گی، گریبان نہیں چاک کریں گی اور کسی نئے آدمی کے ساتھ تنہائی میں نہیں بیٹھیں گی اور نامحرم کے ساتھ تین دن اور اس سے کم کا سفر نہیں کریں گی تو آپ ان شرطوں پر ان سے بیعت کرلیا کیجیے اور زمانہ جاہلیت میں جو ان سے غلطیاں ہوں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کیجیے بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

مومنو ! ان لوگوں سے جن پر خدا غصہ ہوا ہے دوستی نہ کرو (کیونکہ) جس طرح کافروں کو مردوں (کے جی اٹھنے) کی امید نہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی آخرت کے آنے) کی امید نہیں۔

عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی مدد کرنے اور حضور کا راز فاش کرنے میں ان یہودیوں سے دوستی مت کرو جن پر اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ غضب فرمایا، ایک مرتبہ اس وقت جبکہ ان لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بند ہیں، اور دوسری مرتبہ حضور کی تکذیب پر یہ جنت کی نعمتوں سے ایسے ناامید ہوگئے جیسا کہ کفار مکہ مردوں کی واپسی سے یا یہ کہ منکر نکیر کے سوال سے یا یہ مطلب ہے کہ مغضوب علیہم سے مت دوستی کرو بلکہ ان لوگوں میں سے ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا (الخ) ابن منذر نے بواسطہ ابن اسحاق، محمد، عکرمہ، ابوسعید، حضرت عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر اور زید بن حارث کچھ یہودیوں سے دوستی رکھتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔