60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 60:1–3

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم ہماری راہ میں جہاد کرنے اور ہماری رضاجوئی کے لئے (اپنا وطن چھوڑ کر گھروں سے) نکلے ہو تو ہمارے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ کہ لگو ان کے ساتھ دوستی (کی طرح) ڈالنے، حالانکہ تمہارے پاس جو (دین) حق آیا ہے وہ اس کا انکار کرچکے ہیں (اور) رسول کو اور تم کو صرف اتنی بات پر (گھروں سے) نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب، اللہ پر ایمان لائے ہو۔ تم چپکے چپکے ان کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو حالانکہ ہم (خوب) جانتے ہیں جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو اور (جان رکھو کہ) جو تم میں سے ایسا کرے گا تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

(یہ کافر) اگر (کہیں) تم پر قابو پائیں تو (کھلم کھلا) تمہارے دشمن ہوجائیں اور تم پر برائی کے ساتھ دست درازی کریں اور زبان درازی (پر اترآئیں) ۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم (بھی ان ہی کی طرح) کافر ہوجاؤ۔

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

(مگر یاد رکھو، ) قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں ہی تمہارے کچھ کام آئیں گی اور نہ تمہاری اولاد۔ اس دن اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا اور جو کچھ بھی تم کر رہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

[1] یعنی جو لوگ دینی تقاضوں کے مقابلے میں رشتے ناتوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ یہ چیزیں قیامت میں کام آنے والی نہیں ہیں۔ اس دن تمام رشتے اور تعلقات توڑ دئیے جائیں گے اور ہر شخص کو اپنا ہی حساب دینا ہوگا اور اپنے کئے کی سزا خود ہی بھگتنی ہوگی۔ [2] حاطب ؓ بن بلتعہ جو ایک بدری صحابی تھے خود تو ہجرت کر کے مدینے آگئے تھے لیکن ان کے اہل و عیال مکہ ہی میں تھے۔ جب کفار مکہ نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کو توڑ ڈالا تو رسول اللہ ﷺ نے ان پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کرکے اس کے لئے خفیہ تیاری شروع کردی۔ حاطب ؓ نے اہل مکہ کو خط لکھا کہ عنقریب مکہ پر چڑھائی ہونے والی ہے۔ آپ ﷺ کو وحی الٰہی سے اس کی خبر ہوگئی اور آپ نے ان کا خط راستے سے پکڑ منگوایا اور اس کے بارے میں حاطب ؓ سے پوچھا۔ انہوں نے کہا میری نیت بری نہ تھی۔ میں نے محض یہ سمجھ کر کہ اسلام کو اس سے کوئی ضرر نہیں۔ آپ ﷺ کی فتح تو الحمد للّٰہ ضرور ہو کر ہی رہے گی، ہاں میری اطلاع سے اہل مکہ میرے احسان مند ہوجائیں گے اور میرے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے اور ان کو ایذا نہ دیں گے۔ ان آیات میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 60:4

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تمہارے لئے اچھا نمونہ تو ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ہے جبکہ انہوں نے اپنی قوم (کے لوگوں) سے کہا کہ ہم تم سے اور تمہارے ان (معبودوں) سے جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں۔ ہم تم (لوگوں کے عقائد) کو بالکل نہیں مانتے اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے کھلم کھلا عداوت ہوگئی اور بیر (پڑ گیا) جب تک تم اللہ وحدہ (لاشریک) پر ایمان نہ لاؤ۔ مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے یہ کہنا (اس سے مستثنیٰ ہے) کہ میں آپ کے لئے مغفرت کی دعا ضرور کروں گا اگرچہ آپ کے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ (اور اس کے ساتھ ابراہیم اور اس کے ساتھیوں نے یہ دعا بھی کی تھی کہ) اے ہمارے رب، ہم تجھی پر بھروسہ کرتے ہیں اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔

[3] یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی مشرک قوم سے کھلم کھلا بیزاری اور قطع تعلق کا اعلان کرنا تو تمہارے لئے قابل اتباع ہے، لیکن ان کا اپنے کافر باپ کے لئے دعائے مغفرت کرنا قابل اتباع نہیں کیونکہ یہ ایک وعدے کی بناء پر تھا جو انہوں نے گھر سے نکالے جانے پر اپنے باپ سے کیا تھا (ملاحظہ ہو سورة مریم آیت 47 صفحہ 706) ۔ اسی وعدے کی بناء پر انہوں نے دو مرتبہ اپنے باپ کے حق میں دعائے مغفرت کی (ملاحظہ ہو سورة ابراہیم آیت 41 صفحہ 580 اور سورة شعراء آیت 86 صفحہ 870) لیکن جب ان کو احساس ہوا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اس سے بیزاری کا اعلان کردیا (ملاحظہ ہو سورة توبہ آیت 114 صفحہ 444) لہذا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے کافر رشتہ دار کے لئے دُعائے مغفرت کرے۔
Ayah 60:5

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے رب، ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال، اور اے ہمارے رب، ہمیں بخش دے، بیشک تو زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[4] یعنی ان کو ہم پر غلبہ نہ دے کہ وہ اپنے آپ کو حق پر گمان کرنے لگیں۔
Ayah 60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

(مسلمانو، ) بیشک ان لوگوں (کے طرز عمل) میں تمہارے لئے (یعنی) ہر اس شخص کے لئے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخرت کا امیدوار ہو۔ اور جو (ان لوگوں کی پیروی سے) روگردانی کرے گا تو اللہ بےنیاز (اور) سب خوبیوں کے ساتھ موصوف ہے۔

[5] یعنی جو اس بات کی توقع رکھتا ہو کہ ایک روز اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے اور آخرت میں اللہ کے فضل کا امیدوار ہو۔ [6] یعنی اگر تم ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے رفقاء کے راستے پر نہ چلو گے اور اللہ کے دشمنوں سے دوستانہ گانٹھو گے تو خود نقصان اٹھاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی دوستی یا دشمنی کی کیا پروا ہے، وہ تو بذات خود تمام کمالات اور خوبیوں کا مالک ہے۔ اس کی کبریائی دوسروں کے بل پر نہیں بلکہ خود اس کے اپنے بل پر قائم و دائم ہے۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

بعید نہیں کہ اللہ تمہارے اور ان (کافروں) کے درمیان جن کے ساتھ تمہاری دشمنی ہے دوستی پیدا کر دے۔ اللہ بڑی قدرت والا اور اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[7] یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت سے کچھ بعید نہیں کہ جو آج بدترین دشمن ہیں کل انہیں مسلمان کر دے اور تمہارے اور ان کے درمیان برادرانہ تعلقات قائم ہوجائیں۔ چناچہ فتح مکہ کے موقع پر ایسا ہی ہوا اور تقریباً تمام اہل مکہ مسلمان ہوگئے اور جو لوگ ایک دوسرے پر تلوار اٹھا رہے تھے وہ اب ایک دوسرے پر جان قربان کرنے لگے۔
Ayahs 60:8–10

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

(مسلمانو، ) اللہ تمہیں (اس بات سے) نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرو جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا اور اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

وہ تمہیں (جس بات سے) روکتا ہے (وہ تو یہ ہے) کہ تم ان لوگوں سے دوستی کرو جو تم سے دین کے بارے میں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں مدد کی اور جو لوگ ان سے دوستی کریں گے تو وہی ظالم ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آیا کریں تو تم ان (کے ایمان) کی جانچ پڑتال کرلیا کرو۔ (یوں تو) اللہ ان کے ایمان (کی حقیقت) سے خوب واقف ہے (تاہم تمہارے لئے تحقیق کرنا ضروری ہے) ۔ پھر اگر (تحقیق کے بعد) تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ (واقعی) مومن ہیں تو ان کو کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ تو وہ عورتیں کافروں کے لئے حلال ہیں اور نہ کافر ان کے لئے حلال۔ اور جو کچھ کافروں نے (ان پر) خرچ کیا ہے وہ ان (کافروں) کو ادا کردو۔ اور تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم (خود) ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ ان کے مہر ان کو ادا کردو اور تم (خود بھی ان) کافر عورتوں کی عصمتوں پر قابض نہ رہو (جو تمہارے نکاح میں ہوں) اور جو تم نے ان پر خرچ کیا ہے وہ (کافروں سے) واپس مانگ لو اور جو انہوں نے (اپنی مسلمانوں بیویوں پر) خرچ کیا تھا وہ (تم سے) واپس مانگ لیں۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو وہ تمہارے درمیان کر رہا ہے اور اللہ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[8] صلح حدیبیہ کے بعد جو مسلمان مرد مکہ سے بھاگ کر مدینے آتے تھے تو معاہدے کی رو سے انہیں واپس کرنا پڑتا تھا۔ لیکن پھر کئی مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو کفار مکہ نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [9] یعنی وہ مسلمان ہو کر کافر شوہروں کی زوجیت سے خارج ہوگئیں اور ان کے نکاح خودبخود ٹوٹ گئے۔ [10] یعنی جو مہر کافروں نے دئیے تھے وہ ان کو واپس کردو۔ [11] یعنی اب جو مسلمان بھی ان میں سے کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے وہ اس کا مہر ادا کرے اور اس سے نکاح کرے۔ یہ ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ اب اس سے نکاح کرنے والا مسلمان یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ابھی ایک مہر تو اس کے کافر شوہر کو واپس کیا جا چکا ہے اس لئے نئے مہر کی ضرورت نہیں۔ [12] یعنی جو تمہاری بیویاں کفر کی حالت میں دارالحرب میں رہ گئیں ان سے تمہارا نکاح ٹوٹ گیا۔ اب ان کو اپنے نکاح میں روکے نہ رکھو۔ [13] یعنی جو مہر تم نے ان کو دئیے تھے وہ ان کافروں سے واپس مانگ لو جنہوں نے ان سے نکاح کئے تھے۔[14] جب یہ حکم اترا تو مسلمان تیار ہوئے دینے کو بھی اور لینے کو بھی لیکن کفار نے دینا قبول نہ کیا تب اگلی آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 60:11–12

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری بیویوں (کے مہر) میں سے کچھ کافروں کی طرف رہ جائے (اور) پھر (کافروں کو دینے کی) تمہاری نوبت آئے تو جن (مسلمانوں) کی بیویاں (کافروں میں) رہ گئی ہیں انہوں نے جتنا (مہر اپنی بیویوں پر) خرچ کیا تھا تم (اس رقم میں سے جو تمہیں کافروں کو دینی ہے) ان کو ادا کردو اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لا چکے ہو۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے پیغمبر، جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں بیعت کرنے کے لئے آئیں (اور اس بات کا عہد کریں) کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر لائیں گی اور نہ کسی نیک کام میں (جس کے کرنے کا حکم تم دو ) تمہاری حکم عدولی کریں گی تو (ان شرطوں پر) تم ان سے بیعت لے لیا کرو۔ اور ان کے لئے (اللہ سے) دعائے مغفرت کرو بیشک اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[15] جس طرح مہاجر عورتوں کی جانچ پڑتال کی تاکید فرمائی اسی طرح اس آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ جو عورتیں اسلام میں داخل ہونے کے لئے آئیں وہ بھی یوں داخل نہ کرلی جائیں جب تک کہ اسلام کے تمام معروفات کے ساتھ ان برائیوں سے بچتے رہنے کا اقرار نہ لے لیا جائے جو جاہلی معاشرے میں عام تھیں تاکہ اسلامی معاشرے میں ان برائیوں کے جراثیم نہ پھیلنے پائیں۔ [16] اسقاط حمل بھی اس حکم میں داخل ہے۔ [17] عربی محاورے میں اس کا مطلب ہے اپنی بدکاری کی اولاد کو اپنے شوہر کی اولاد بنادینا یا کسی غیر کا بچہ اٹھا لا کر اسے اپنی اور اپنے شوہر کی اولاد مشہور کردینا۔ [18] یہاں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت پر نیک کام میں اطاعت کی قید لگائی گئی ہے حالانکہ آپ کا کوئی حکم بھی نیکی کے سوا ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ اس لئے ہے کہ عام مسلمان پوری طرح سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں یہاں تک کہ رسول کی اطاعت بھی اس شرط کے ساتھ مشروط کردی گئی۔ اسی قاعدے کو آپ ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ '' لا طاعۃ فی معصیۃ اللہ، انما الطاعۃ فی المعروف '' (اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں، اطاعت صرف معروف میں ہے) ۔ اس ارشاد سے یہ بات نکلتی ہے کہ ہر کام جو اسلامی قانون کے خلاف ہو جرم ہے اور کسی شخص کو یہ حق نہیں کہ ایسے کسی کام کا حکم دے۔ پس جو شخص بھی خلاف قانون حکم دیتا ہے وہ خود مجرم ہے اور جو شخص اس حکم کی تعمیل کرتا ہے وہ بھی مجرم۔
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ان لوگوں سے دوستی مت رکھو جن پر اللہ نے اژپنا غضب نازل کیا ہے۔ وہ آخرت سے ایسے ہی مایوس ہیں جیسے قبروں میں پڑے ہوئے کفار مایوس ہیں۔

[19] مراد اس سے یہود ہیں جیسا کہ سورة مائدہ آیت 6 صفحہ 240 میں ارشاد ہوا ہے۔ شروع سورت میں جو مضمون تھا خاتمے پر پھر یاد دلایا۔ یعنی مومن کی یہ شان نہیں کہ جو اللہ کا مغضوب ہو اس سے دوستی اور رفاقت کا معاملہ کرے۔ یہاں یہود کی تخصیص غالباً اس وجہ سے ہے کہ مدینے میں یہود بہت زیادہ تھے اور وہ شریر اور مفسد بھی بہت تھے۔ [20] یعنی آخرت کی رحمت و مغفرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر ہر خیر سے مایوس ہیں، کیونکہ انہیں اپنے مبتلائے عذاب ہونے کا یقین ہوچکا ہے۔ یہود ایک خالص موحد قوم تھی لیکن رفتہ رفتہ یاد آخرت بھلا چکی تھی۔ ان کی توریت کے اندر آج بھی جتنے صحیفے اور نوشتے موجود ہیں ان سب میں دنیوی فلاح کا ذکر تو کثرت سے ملتا ہے لیکن اجر آخرت کا ذکر تو شاید ڈھونڈنے کے بعد بھی نہ ملے۔