59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 59:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

اللہ ہی کی تسبیح (وتقدیس) کرتی ہیں (ساری چیزیں) جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور وہی زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

(مسلمانو، ) وہ ( اللہ) ہی تو ہے جس نے اہل کتاب کفار میں سے پہلے ہی ہلے میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ تم کو (وہم و) گمان بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ اس خیال میں (مست) تھے کہ ان کے قلعے ان کو اللہ (کی پکڑ) سے بچا لیں گے مگر اللہ ان پر وہاں سے آ دھمکا جدھر سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں (مسلمانوں کا) رعب ڈال دیا (جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ) وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے اجاڑ رہے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھوں (اجڑ رہے تھے) ۔ پس عبرت پکڑو، اے (بصیرت کی) آنکھیں رکھنے والو !

[1] اہل کتاب کے کفار سے مراد یہاں یہود کا قبیلہ بنی نضیر ہے جو مدینے سے دو میل کے فاصلے پر تھا۔ یہ لوگ بڑے جتھے والے اور سرمایہ دار تھے اور ان کو اپنے مضبوط قلعوں پر بڑا ناز تھا۔ نبی ﷺ جب ہجرت کر کے مدینے تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپ سے صلح کا معاہدہ کیا جس کی ایک شرط یہ تھی کہ وہ آپ کے خلاف کسی کی مدد نہ کریں گے لیکن درپردہ کفار مکہ سے سازباز کرنے لگے۔ یہ لوگ چندماہ پہلے غزوہ احد کے موقع پر بھی مسلمانوں کے ساتھ غداری کرچکے تھے۔ آخرکار آپ ﷺ نے ان کو نوٹس دیا کہ یا تو مدینے سے نکل جائیں یا پھر جنگ کے لئے تیار ہوجائیں۔ انہوں نے نکلنے سے انکار کیا تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کے ایک لشکر کے ساتھ ان پر چڑھائی کی اور نہایت سرعت و مستعدی سے ان کے قلعوں کا محاصرہ کرلیا۔ انہوں نے گھبرا کر صلح کی التجا کی۔ آخر یہ قرار پایا کہ وہ اپنی بستیوں سے نکل جائیں اور جو مال و اسباب اپنے ساتھ لے جاسکتے ہوں لے جائیں۔ چناچہ وہ جلاوطن ہو کر شام اور خیبر کی طرف منتقل ہوگئے۔ [2] یعنی انہوں نے اپنی دانست میں اپنے قلعوں کے اندر اللہ کے در آنے کی بھی کوئی جگہ نہ چھوڑی تھی لیکن اللہ ان پر وہاں سے آدھمکا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا۔ [3] یہ نشاندہی فرمائی ہے کہ اللہ نے کدھر سے ان پر چڑھائی کی۔ وہ اپنے اردگرد اینٹوں اور پتھروں کی دیواریں چن کر سمجھے تھے کہ اللہ کی پکڑ سے باہر ہوگئے ہیں لیکن اللہ نے ان کی دیواریں ہٹانے کی بھی ضرورت نہ سمجھی بلکہ براہ راست ان کے دلوں پر رعب ڈال دیا اور ان کی ہمت اور قوت مقابلہ کو کھوکھلا کردیا جس کے بعد نہ تو ان کے ہتھیار کام آسکتے تھے اور نہ ان کے مضبوط قلعے۔
Ayah 59:3

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو وہ دنیا ہی میں انہیں عذاب دے ڈالتا، اور آخرت میں (تو) ان کو دوزخ کا عذاب (ہونا ہی) ہے۔

[4] یعنی یہ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ رعایت فرمائی کہ ان کو جلا وطنی کی سزا دی۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ اسی تنبیہ پر کفایت کی جائے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں ان پر اسی طرح کا فیصلہ کن عذاب بھیج دیتا جس طرح کے عذاب عاد وثمود وغیرہ پر آئے۔
Ayahs 59:4–5

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

(اور) یہ اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو کوئی اللہ کی مخالفت کرے تو (جان لو) اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

(مسلمانو، ان کے) کھجوروں کے درخت جو تم نے کاٹ ڈالے یا جن کو (بدستور) اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا تو یہ (سب کچھ) اللہ ہی کے حکم سے تھا اور (اللہ نے یہ حکم اس لئے دیا) تاکہ وہ فاسقوں کو ذلیل (وخوار) کرے۔

[5] جب وہ قلعہ بند ہوگئے تو نبی ﷺ نے حکم دیا کہ ان کے کچھ درخت کاٹے جائیں تاکہ محاصرہ آسانی سے کیا جاسکے اور کھلی جنگ کے وقت درختوں کی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اس پر کافروں نے طعن کرنا شروع کیا کہ خود تو فساد سے منع کرتے ہیں تو کیا درخت کا کاٹنا فساد نہیں ؟ یہاں اسی واقعے کا ذکر ہے۔
Ayah 59:6

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو (مال) اللہ نے اپنے رسول کو ان سے بطور فَے دلوا دئیے تو (مسلمانو، وہ ایسے مال ہیں) جن کے لئے تم نے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ، مگر اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہے مسلط فرما دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

[6] فَے کے معنی لوٹانے کے ہیں اور اصطلاح فقہ میں وہ مال ہے جو دشمن سے بغیر لڑے حاصل ہو۔ بنی نضیر سے حاصل کیا ہوا مال اسی قبیل سے تھا اور فدک اور اموال خیبر بھی اسی کے تحت آتے ہیں۔ [7] یعنی اس کے لئے نہ تمہیں منزل درمنزل سفر کی مشقتیں اٹھانا پڑیں اور نہ لڑائی کی نوبت آئی۔ اس لئے تمہارا حق ہی اس مال پر قائم نہیں ہوتا جیسا کہ جنگ و قتال کے بعد مال غنیمت کے جیتنے پر ہوجاتا ہے۔ فے کے مصارف کا حکم جو اگلی آیت میں آ رہا ہے اسی طرح کا ہے جیسے اہل نصاب کے لئے زکوٰۃ کے مصارف ہیں۔
Ayah 59:7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو (مال) اللہ اپنے رسول کو (ان) بستیوں کے لوگوں سے بطور فَے دلوا دے تو وہ اللہ کا (حق) ہے اور رسول کا اور رسول کے قرابت داروں کا، اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا۔ یہ (حکم) اس لئے (دیا گیا) کہ یہ (مال فے) تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ اور (مسلمانو، ) جو کچھ تمہیں رسول دے اسے لو اور جس سے تمہیں وہ منع کرے اس سے رک جاؤ، اور اللہ (کے غضب) سے ڈرتے رہو (کیونکہ) اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

[8] اللہ تعالیٰ تو تمام دنیا و آخرت اور تمام مخلوقات کا مالک حقیقی ہے۔ یہاں اس کا نام مبارک محض تبرگاً اس فائدے کے لئے ہے کہ اس سے اس مال کی فضیلت اور حلال و طیب ہونے کی طرف اشارہ ہوجائے۔ [9] رسول ﷺ کا حصہ فے میں بحیثیت رسول ﷺ کے نہیں بلکہ بحیثیت اسلامی حکومت کے سربراہ کے ہے۔ رسول کی حیثیت سے آپ ﷺ کی کفالت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لے لی تھی جس کی تصریح خود قرآن میں ہے۔ البتہ جب اسلامی حکومت وجود میں آئی اور اس کے فرائض کا بوجھ آپ ﷺ کے کندھوں پر پڑا تو ضروری ہوا کہ سرکاری خزانے سے آپ ﷺ کو بھی اپنی ضروریات کے مطابق لینے کا حق ہو۔ آپ ﷺ کا یہ حق چونکہ بحیثیت سربراہ حکومت کے تھا اس وجہ سے آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے خلیفہ کی طرف لوٹ گیا۔ اس کی نوعیت کسی ذاتی ملکیت کی نہیں تھی۔ [10] قرابت داروں سے وہ اقربا مراد ہیں جن کی کفالت کی آپ ﷺ پر ذمہ داری تھی۔ اس کی نوعیت کسی ذاتی جائیداد کی نہیں تھی کہ آپ کے بعد وراثت کی حیثیت سے آپ ﷺ کے خاندان کی طرف لوٹے۔ چناچہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد یہ الگ اور مستقل حصے کی حیثیت سے باقی نہیں رہا۔ [11] یہ مصارف اس لئے بتلائے کہ یتیموں، محتاجوں، بےکسوں اور عام مسلمانوں کی خبر گیری ہوتی رہے اور ایسا نہ ہو کہ مال صرف مالداروں میں گھومتا رہے اور امیر روزبروز امیر تر اور غریب روز بروز غریب تر ہوتے چلے جائیں۔ اسی مقصد کے پیش نظر زکوٰۃ فرض کی گئی ہے، سود حرام کیا گیا ہے، اموال غنیمت میں سے خمس نکالنے کا حکم دیا گیا ہے اور میراث کا ایسا قانون بنایا گیا ہے کہ ہر مرنے والے کی چھوڑی ہوئی دولت زیادہ سے زیادہ وسیع دائرے میں پھیل جائے۔ [12] اگرچہ یہ حکم فَے کی تقسیم کے بارے میں دیا گیا ہے مگر حکم کے الفاظ عام ہیں اور مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ کے تمام احکام اور اوامرو نواہی واجب التعمیل ہیں۔ یہ مطلب اس بات سے واضح ہے کہ '' جو کچھ تمہیں رسول دے '' کے مقابلے میں '' جو کچھ نہ دے '' کے الفاظ استعمال نہیں کئے گئے ہیں بلکہ '' جس چیز سے روک دے '' فرمایا ہے لہذا زندگی کے ہر معاملے میں آپ ﷺ کے ہر امر و نہی کی بےچون وچرا تعمیل کی جائے گی۔
Ayahs 59:8–9

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

(نیز وہ مال) ان محتاج مہاجرین کے لئے ہے جو (کفار کے ظلم سے) اپنے گھروں اور اپنی املاک سے بےدخل کر دئیے گئے ہیں اور (اب) وہ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کو کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہی لوگ سچے (مسلمان) ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور (وہ مال ان لوگوں کے لئے بھی ہے) جو ان مہاجرین سے پہلے دارالاسلام میں مقیم ہیں اور ایمان لا چکے ہیں۔ یہ ان لوگوں کو دوست رکھتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آ رہے ہیں اور جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو (اس مال میں سے) دے دیا جائے (اس سے) وہ اپنے دلوں میں (اس کی) کوئی طلب نہیں پاتے اور (اپنے مہاجرین بھائیوں کو) اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنے اوپر تنگی ہی کیوں نہ ہو۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) جو شخص اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا گیا تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

[13] یعنی مدینے میں۔ [14] مراد ہیں انصار یعنی وہ مسلمان جو مہاجرین کی آمد سے پہلے مدینے میں آباد تھے۔
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور ( وہ مال ان لوگوں کے لئے بھی ہے) جو ان (مہاجرین اولین) کے بعد آئے ہیں (اور یہ بھی اگلے آنے والوں کے خیرخواہ ہیں اور) دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ '' اے ہمارے رب، ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے (ان سب) بھائیوں کو بھی جنہوں نے ایمان لانے میں ہم پر سبقت کی اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی کینہ نہ ہونے دے۔ اے ہمارے رب، بیشک تو بڑا ہی شفیق (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔ ''

[15] یعنی ان مہاجرین و انصار کے بعد قیامت تک پیدا ہونے والے مسلمان۔ مطلب یہ ہے کہ تقسیم فے کا یہ سلسلہ قیامت تک برابر امت میں جاری رہے گا۔
Ayah 59:11

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے ان لوگوں (کے حال) پر نظر نہیں کی جنہوں نے منافقت (کی روش اختیار) کی ہے ؟ وہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم گھروں سے نکالے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے اور تمہارے بارے میں ہم کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔

[16] مدینہ کے منافقین نے جو ایک بڑی تعداد میں تھے بنی نضیر کو خفیہ پیغام بھیجا تھا کہ گھبرانا نہیں اور اپنے کو اکیلا مت سمجھنا۔ اگر مسلمانوں نے تمہیں نکالا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور لڑائی کی نوبت آئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کی بات نہ مانیں گے۔
Ayah 59:12

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ (اہل کتاب) نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ (منافق) ان کی (کبھی) مدد نہ کریں گے اور اگر یہ ان کی مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر جائیں گے (اور) پھر ان کو کوئی مدد نہ ملے گی۔

[17] یہ زبردست پیشین گوئی جو حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی بجائے خود ایک دلیل صداقت رسول کی تھی۔
Ayah 59:13

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تمہاری ہیبت تو ان کے دلوں میں اللہ سے (بھی) بڑھ کر ہے، یہ اس لئے کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔

[18] یعنی اللہ کی عظمت کو سمجھتے اور دل میں اس کا ڈر ہوتا تو کفر و نفاق کیوں اختیار کرتے۔ ہاں مسلمانوں کی شجاعت و بسالت سے ڈرتے ہیں اسی لئے ان کے مقابلے کی تاب نہیں لاسکتے۔
Ayah 59:14

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ کبھی اکٹھے ہو کر تم سے نہ لڑیں گے مگر ہاں محفوظ بستیوں میں یا دیواروں کی آڑ میں۔ ان کی لڑائی آپس (ہی) میں تیز ہے۔ تم انہیں متحد سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں، یہ اس لئے کہ یہ عقل سے کام نہیں لیتے۔

[19] یعنی ان کے ظاہر اتحاد سے دھوکا نہ کھاؤ۔ ان میں سے ہر ایک اپنی غرض اور خواہش کا بندہ ہے، پھر حقیقی یکجہتی کہاں حاصل ہوسکتی ہے لیکن عقل سے کام لیں تو اس بات کو سمجھیں۔
Ayah 59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

(اور دیکھو، جن کو یہ منافقین شہ دے رہے ہیں) ان کی مثال ان لوگوں کی سی ہے جو ان سے کچھ ہی دن پہلے اپنی شامت اعمال کا مزہ چکھ چکے ہیں اور (آخرت میں) ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

[20] یعنی ابھی قریب زمانے میں یہودی قبیلہ قینقاع کے لوگ اپنی غداری کا مزا چکھ چکے تھے۔ جب انہوں نے بدعہدی کی تو مسلمانوں نے ایک مختصر لڑائی کے بعد ان کو گھروں سے نکال باہر کیا اور اس سے پیشتر ماضی قریب میں کفار مکہ جنگ بدر میں اپنے کئے کی سزا پاچکے ہیں۔
Ayahs 59:16–19

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

(یہ شہ دینے والے) شیطان کے مانند ہیں جو انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر، پھر جب وہ کفر کر بیٹھتا ہے (تو اس سے) کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں، میں تو اللہ رب العالمین (کے غضب) سے ڈرتا ہوں۔

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

پھر دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ دونوں دوزخ میں ہوں گے، اسی میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ (کے غضب) سے ڈرتے رہو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ کل (قیامت) کے لئے اس نے کیا (زادِآخرت) بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے خود انہیں اپنی جانوں سے غافل کردیا۔ یہی لوگ نافرمان ہیں۔

[21] یعنی اس کے احکام سے بےپروائی کی۔ [22] یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی مت ماری کہ خود اپنے نفع حقیقی کو نہ سمجھا اور نافرمانیوں میں غرق ہو کر دائمی خسارے اور ابدی ہلاکت میں پڑگئے۔
Ayahs 59:20–21

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

دوزخی اور جنتی (کبھی) برابر نہیں (ہو سکتے کہ) اہل جنت ہی کامیاب ہیں۔

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارا ہوتا (اور انسان کی طرح اس میں سمجھ کا مادہ ہوتا) تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے جھک گیا ہوتا (اور) پھٹ پڑا ہوتا۔ اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں کہ وہ (اپنی حالت پر) غور کریں۔

[23] لیکن مقام افسوس ہے کہ آدمی کے دل پر قرآن کا اثر کچھ نہ ہو۔
Ayah 59:22

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب و حاضر (سب) کا جاننے والا، وہ بڑا مہربان (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[24] اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کی خشیت کا ذکر تھا۔ اب اس آیت اور آگے کی آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس پروردگار سے لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے وہ کن اوصاف کا مالک ہے تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کا سابقہ کسی معمولی ہستی سے نہیں ہے بلکہ اس عظیم و جلیل ہستی سے ہے جس کی صفات یہ اور یہ ہیں۔
Ayah 59:23

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، (وہ) الملک القدوس (ہے) السلام، المومن (اور) المہیمن (ہے) ، العزیز، الجبار اور المتکبر (ہے) ۔ پاک ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔

[25] یعنی وہی سارے جہان کا بادشاہ ہے جو تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے۔ [26] یعنی سراسر سلامتی۔ [27] یعنی امان دینے والا۔ بندہ جب شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے حملوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ ڈھونڈتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔ یہ پناہ اس کے سوا اور کہیں بھی بندے کو حاصل نہیں ہوسکتی۔ [28] یعنی تمام مخلوقات کی نگہبانی اور حفاظت کرنے والا۔ [29] یعنی زبردست جس کے مقابلے میں کوئی سر نہ اٹھا سکتا ہو، جس کے آگے سب بےبس اور بےزور ہوں۔ [30] یعنی کائنات کے نظم کو بزور درست رکھنے اور اپنے ارادے کو جبراً نافذ کرنے والا۔ [31] یعنی حقیقت میں بڑا اور بڑا ہی ہو کر رہنے والا۔ ہر بڑائی دراصل اللہ جل شانہ کے لئے مخصوص ہے جو کسی چیز کا محتاج نہیں اور جو محتاج ہو وہ بڑا نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے لئے یہ عیب اور گناہ ہے۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے خالق، باری (اور) مصور، اسی کے لئے ساری اچھی صفتیں ہیں۔ اسی کی تسبیح (وتقدیس) کرتی ہیں جو (چیزیں) آسمانوں اور زمین میں ہیں، اور وہی زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[32] یعنی تخلیق کا منصوبہ بنانے والا۔ [33] یعنی عدم سے وجود میں لانے والا۔ نیست سے ہست کرنے والا۔ [34] یعنی صورت گری کرنے والا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے فعل تخلیق کو تین الگ مراتب میں بیان کیا گیا ہے جو یکے بعد دیگرے واقع ہوتے ہیں۔ پہلے وہ ہر چیز کا خاکہ بناتا ہے پھر اس کو وجود بخشتا ہے اور پھر اس کی صورت گری کرتا اور نوک پلک سنوارتا ہے۔