58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں تم سے تکرار کر رہی تھی اور اللہ سے فریاد کئے جاتی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ بیشک اللہ (سب کچھ) سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔

[1] یہ خاتون جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی خولہ بنت ثعلبہ تھیں جن کے شوہر نے ان سے ظہار کیا تھا۔ (ظہار کی تشریح سورة احزاب حاشیہ 1 میں گزر چکی ہے) ۔ عرب جاہلیت میں کیونکہ ظہار سے طلاق واقع ہوجاتی تھی اس لئے یہ خاتون واویلا کرتی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ ان کی پریشانی کا کوئی حل بتائیں۔ آپ ﷺ کے سامنے وحی الٰہی کی کوئی واضح رہنمائی اس بارے میں موجود نہ تھی اس لئے آپ ﷺ نے قول مشہور کے مطابق فرمایا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ تم اپنے شوہر پر حرام ہوگئی ہو۔ انہوں نے احتجاج کیا اور کہا کہ شوہر نے لفظ طلاق تو کہا نہیں اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے لگیں۔
Ayah 58:2

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ ظہار کر بیٹھیں وہ (کچھ) ان کی مائیں (تو) نہیں (ہو جاتی) ہیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ البتہ (ایسے) لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں، اور بلاشبہ اللہ بڑا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے۔

[2] یعنی جو شخص اشتعال میں آکر ایسی حرکت کر بیٹھے تو توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنی خطا معاف کرائے۔
Ayah 58:3

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں پھر (اپنی اس بات سے) رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے (مرد کو) ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ (مسلمانو، ) اس (بات) سے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔

[3] یعنی جس کو حرام کہا تھا اسے اپنے لئے حلال کرنا چاہیں۔ [4] یعنی ہم بستری سے پہلے۔
Ayah 58:4

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر جس کو (غلام) میسر نہ ہو تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے (مرد) لگاتار دو مہینے کے روزے (رکھے) ۔ پھر جس سے یہ بھی نہ ہو سکے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ (حکم) اس لئے (دیا جا رہا ہے) کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر (پورا پورا) ایمان لے آؤ۔ یہ اللہ کی حدبندیاں ہیں، اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

[5] یعنی روزے مسلسل رکھے جائیں، بیچ میں کوئی روزہ نہ چھوٹے ورنہ ازسرنو روزے رکھنے پڑیں گے۔ [6] یعنی جب روزے رکھنے سے مجبور ہو تو کھانا دے سکتا ہے۔ [7] ایمان تو اصل میں عقیدے کا نام ہے مگر اس کی تکمیل عمل سے ہوتی ہے اگر کوئی شخص اللہ اور رسول پر ایمان رکھتا ہے اور پابند شرع نہیں تو وہ پورا مسلمان نہیں۔ [8] یعنی اللہ کے باندھے ہوئے حدود توڑنے والے کافر ہیں اور ان کے لئے آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
Ayahs 58:5–6

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ (آخرکار ایسے ہی) ذلیل (وخوار) ہوں گے جیسے ان سے پہلے کے (نافرمان) لوگ ذلیل (وخوار) ہوچکے ہیں۔ ہم نے صاف صاف آیات نازل کردی ہیں اور کافروں کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

(اور یہ عذاب اس دن ہوگا) جس دن اللہ ان سب کو (زندہ) اٹھائے گا، پھر انہیں بتادے گا جو کچھ وہ (دنیا میں) کرتے رہے۔ اللہ نے تو ان کے (سارے) اعمال شمار کر رکھے ہیں اور وہ (خود کرکے) ان کو بھول گئے ہیں اور اللہ سب چیزوں کا نگران (حال) ہے۔

[9] مخالفت سے مراد اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کو نہ ماننا اور ان کی بجائے کچھ دوسری حدیں مقرر کرلینا ہے۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے ؟ کوئی سرگوشی تین (آدمیوں) میں (ایسی) نہیں ہوتی جس میں چوتھا وہ نہ ہو، اور نہ پانچ (آدمیوں) کی جس میں چھٹا وہ نہ ہو۔ (سرگوشی کرنے والے) اس سے کم ہوں یا زیادہ (اور) کہیں بھی ہوں وہ ضرور ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ پھر قیامت کے دن وہ ان کو جتا دے گا کہ وہ (دنیا میں) کیا کچھ کرتے رہے۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے

[10] یہاں سے آیت 10 تک یہود اور منافقین کا بیان ہے جو اکثر باطل کے لئے آپس میں سرگوشیاں کیا کرتے اور یہ سمجھتے رہتے کہ اس کی خبر نہ مسلمانوں کو ہوگی اور نہ اللہ اور رسول ﷺ کو۔
Ayahs 58:8–10

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے ان لوگوں (کے حال) پر نظر نہیں کی جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی (حرکت) کئے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا ؟ اور سرگوشی (بھی) کرتے ہیں تو گناہ کی اور (لوگوں پر بےجا) زیادتی کرنے کی اور رسول کی نافرمانی کی، اور جب تمہارے پاس آتے ہیں (تو) ایسے لفظوں سے تم کو سلام کرتے ہیں جن لفظوں سے اللہ نے تم پر سلام نہیں بھیجا ہے۔ اور اپنے جی میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ سچا پیغمبر ہے تو) ہمارے اس کہنے پر اللہ ہم کو (فوراً ) سزا کیوں نہیں دیتا ؟ ان کے لئے جہنم ہی کافی ہے کہ اس میں وہ داخل ہوں گے۔ تو (کیا ہی) برا ٹھکانا ہے (ان کا) ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم سرگوشی کرو تو گناہ کی اور (لوگوں پر) بےجا زیادتی کرنے کی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں نہ کیا کرو بلکہ نیکی اور تقویٰ کی سرگوشیاں کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور میں (تم سب قیامت کے دن) اکٹھے کئے جاؤ گے۔

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

سرگوشی تو بس ایک شیطانی حرکت ہے (اور وہ اس لئے کی جاتی ہے) تاکہ ایمان والے اس کی وجہ سے آزردہ خاطر ہوں حالانکہ اللہ کے حکم کے بغیر وہ ان کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی اور مومنوں کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔

[11] یعنی اللہ تعالیٰ نے تو آپ ﷺ کو دوسرے انبیاء کے ساتھ ان لفظوں میں سلام کیا '' سلام علی المرسلین '' اور '' سلام علی عبادہ الذین اصطفے '' لیکن جب یہ لوگ آپ ﷺ کے پاس آتے تو بجائے '' السلام علیک '' کے دبی زبان میں '' السام علیک '' کہتے جس کے معنی ہیں کہ تجھے موت آئے۔ [12] انسان کی غفلت اور سرکشی میں سب سے زیادہ اضافہ اس مغالطے سے ہوتا ہے جو یہاں مذکور ہوا۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کی شرارتوں پر اس دنیا میں کوئی گرفت نہیں ہو رہی ہے تو وہ مطمئن ہو بیٹھتا ہے کہ اس پر کہیں بھی گرفت نہیں ہوگی حالانکہ یہ محض اس کی بےبصیرتی ہے۔ اگر اعمال کے نتائج فوراً سامنے آجاتے تو کس کی مجال تھی کہ وہ نیکی کے سوا بدی کی جرأت کرسکتا۔ اس دنیا کا اصل بھید تو یہی ہے کہ یہ دارالجزاء نہیں دارالامتحان ہے۔ دارالجزاء تو آخرت ہے اور وہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ [13] یعنی جہنم کے ہوتے اس دنیا میں ان پر عذاب نہ بھی آئے اور دنیا میں عذاب کا نازل ہونا یا نہ ہونا اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمتوں اور مصلحتوں پر ہے۔ تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ وہی ساری کسر پوری کردینے کے لئے کافی ہے۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو تو کھل جاؤ۔ اللہ تمہارے لئے کشادگی پیدا کر دے گا۔ اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ تم میں سے جو ایمان والے ہیں اور جن کو علم عطا ہوا ہے، اللہ ان کے درجے بلند کرے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

[14] یعنی اس طرح بیٹھو کہ جگہ کھل جائے اور دوسروں کو بیٹھنے کا موقع ملے۔ [15] یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری تنگیوں کو دور کرے گا اور اپنی رحمت کے دروازے کشادہ کر دے گا۔ [16] یہ آداب ہیں مجلس کے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مسلمانوں کو سکھائے ہیں۔ کسی مجلس میں کوئی شخص آئے اور جگہ نہ پائے تو چاہیے کہ سب لوگ تھوڑا تھوڑا ہٹیں تاکہ جگہ کشادہ ہوجائے یا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوں اور پرے ہٹ کر حلقہ بنالیں، یا بالکل چلے جانے کو کہا جائے تو چلے جائیں۔ اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ نبی ﷺ کی مجلس میں ہر شخص آپ ﷺ کا قرب چاہتا تھا جس سے بعض دفعہ مجلس میں تنگی پیش آتی تھی اور اکابر صحابہ کو آپ ﷺ کے قریب جگہ نہ ملتی تھی اس لئے یہ احکام دئیے گئے۔
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم پیغمبر سے سرگوشی (کرنے کا ارادہ) کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دو ۔ یہ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ تر ہے۔ پھر اگر تم صدقہ کرنے کے لئے کچھ نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[17] منافقین بےفائدہ باتیں آپ ﷺ کے کان میں کرتے تاکہ لوگوں میں اپنی بڑائی جتائیں۔ نیز بعض مسلمان سرگوشی کر کے اتنا وقت لے لیتے کہ دوسروں کو آپ ﷺ سے مستفید ہونے کا موقع نہ ملتا۔ یا کسی وقت آپ خلوت چاہتے تو اس میں بھی تنگی ہوتی تھی لیکن مروت و اخلاق کے سبب کسی کو منع نہ فرماتے۔ اس لئے یہ حکم آیا کہ جو مقدرت والا شخص آپ ﷺ سے سرگوشی کرنا چاہے وہ اس سے پہلے خیرات کر کے آیا کرے اس میں کئی فائدے ہیں، غریبوں کی مدد، صدقہ کرنے والے کے نفس کا تزکیہ، مخلص مسلمان اور منافق کی تمیز وغیرہ۔ جب یہ حکم اترا تو منافقین نے مارے بخل کے سرگوشی کی عادت چھوڑ دی اور مسلمان بھی سمجھ گئے کہ زیادہ سرگوشیاں اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، اس لئے یہ قید لگائی گئی ہے۔
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

(مسلمانو، ) کیا تم (یہ حکم سن کر) ڈر گئے کہ سرگوشی سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے ؟ تو (خیر) جب تم (ایسا) نہ کرسکے اور اللہ نے تم کو (اس سے) معاف کردیا۔ تو (اب اسلام کے ضروری احکام کی تعمیل میں کوتاہی نہ ہونے پائے، پس) نماز قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔

[18] یعنی صدقہ دینے سے جو مقصد تھا حاصل ہوگیا۔ اب ہم نے یہ وقتی حکم اٹھا لیا ہے تو تمہیں چاہئے کہ ان احکام کی اطاعت میں لگے رہو جو کبھی منسوخ ہونے والے نہیں، مثلاً نماز، زکوٰۃ وغیرہ کہ اس سے کافی تزکیہ نفس ہوجائے گا۔
Ayahs 58:14–15

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے ان لوگوں (کے حال) پر نظر نہیں کی جنہوں نے ایک ایسے گروہ کو دوست بنایا ہے جن پر اللہ کا غضب ہے ؟ اور وہ لوگ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے اور باوجودیکہ وہ جانتے (بوجھتے) ہیں پھر بھی جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ (بہت ہی) برا کر رہے ہیں۔

[19] جن لوگوں پر اللہ کا غضب ہے ان سے مراد یہود ہیں اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین ہیں۔
Ayahs 58:16–17

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ پس ان کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے انہیں ذرا نہ بچا سکیں گے۔ وہ ہیں دوزخی (اور) اسی میں وہ ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔

[20] مطلب یہ ہے کہ درپردہ اسلام کی بیخ کنی میں لگے رہتے ہیں اور مسلمانوں کے آگے جھوٹی قسم کھالیتے ہیں تاکہ ان کے مواخذہ سے محفوظ رہیں۔
Ayahs 58:18–21

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

(مسلمانو، ) جس دن اللہ ان سب کو (زندہ) اٹھائے گا تو وہ اس کے آگے (بھی) قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے آگے کھایا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ (اچھی) راہ پر ہیں۔ خوب جان لو، وہ بڑے ہی جھوٹے ہیں۔

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

ان پر شیطان مسلَّط ہوچکا ہے اور اس نے ان کو اللہ کی یاد بھلا دی ہے۔ وہ شیطان کے گروہ (کے لوگ) ہیں۔ سن لو، شیطان کے گروہ (کے لوگ) ہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یقینا وہ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں۔

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ تو لکھ چکا ہے کہ ہم اور ہمارے پیغمبر ہی غالب ہو کر رہیں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا (اور) ، زبردست ہے۔

[21] یعنی یہ سمجھیں گے کہ دنیا میں مسلمان کی حیثیت سے رہنے کی جھوٹی قسم کھا کر عذاب جہنم سے بچ جائیں گے جیسے دنیا میں قانون شریعت کی گرفت میں آنے سے جھوٹ بول بول کر اور قسمیں کھا کھا کر بچ جاتے تھے۔ [22] یعنی ایسے جھوٹے کہ دنیا میں بھی جھوٹ بولتے رہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جھوٹ بولنے سے نہ شرمائے۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ ایسوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں خواہ وہ لوگ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبے ہی کے (کیوں نہ) ہوں۔ یہی (وہ پکے مسلمان) ہیں جن کے دلوں میں (اللہ نے) ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو (بہشت کے ایسے) باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی (اور وہ ہمیشہ) ان میں رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ اللہ کے گروہ (کے لوگ) ہیں، سن لو، اللہ کے گروہ (کے لوگ) ہی فلاح پانے والے ہیں۔

[23] روح سے مراد نور ہے جو منجانب اللہ مومن کو ملتا ہے اور وہی اس کے عمل صالح اور قلب کے سکون و اطمینان کا ذریعہ ہوتا ہے۔ [24] بہ سبب ان کے ایمان و اخلاص و اطاعت کے۔ [25] یعنی وہ اپنے رب کے جن وعدوں پر دنیا میں جئے اور مرے وہ سارے وعدے ان کی امیدوں سے کہیں بہتر شکل میں ان کے سامنے آئیں گے اور وہ نہال ہوجائیں گے۔