57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

اللہ ہی کی تسبیح (وتقدیس) کرتی ہیں (ساری چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، اور وہی زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

Ayah 57:2

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، (وہی) زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی اوّل بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی ہے اور باطن بھی اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

[1] یعنی جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا۔ [2] یعنی جب کچھ نہیں ہوگا تب بھی وہ ہوگا۔ [3] وہ سب ظاہروں سے بڑھ کر ظاہر ہے کیونکہ دنیا میں جو کچھ بھی ظہور ہے اسی کی صفات اور اسی کے افعال کا ظہور ہے۔ [4] یعنی وہ ہر مخفی سے بڑھ کر مخفی ہے کیونکہ نہ تو حواس سے نہ عقل و فکر سے اس کی ذات کا ادراک ہوسکتا ہے۔
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش (بریں) پر متمکن ہوگیا۔ وہ اسے بھی جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور (اسے بھی جانتا ہے) جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے، اور وہ تمہارے ساتھ ہے خواہ تم کہیں بھی ہو۔ اور جو کچھ بھی تم کیا کرتے ہو اسے وہ دیکھتا ہوتا ہے۔

[5] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حواشی 25، 26 صفحہ 382۔ [6] مثلاً بارش کا پانی اور بیج۔ [7] مثلاً نباتات۔ [8] مثلاً ملائکہ اور احکام الٰہی۔ [9] مثلاً ملائکہ اور بندوں کے اعمال صالحہ۔ [10] یعنی کسی جگہ بھی تم اس کے علم، اس کی قدرت پر اس کی فرمانروی اور اس کی تدبیر و انتظام سے باہر نہیں ہو۔ جہاں بھی تم ہو، اللہ کو معلوم ہے کہ تم کہاں ہو، وہاں تمہارا زندہ ہونا بجائے خود اس کی علامت ہے کہ اللہ اسی جگہ تمہاری زندگی کا سامان کر رہا ہے۔
Ayahs 57:5–6

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور تمام امور کا مرجع وہی ہے۔

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور وہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ (لوگوں کے) دلی خیالات (تک) سے واقف ہے۔

[11] یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہی نہیں ہے بلکہ عملاً تمام امور کا مرجع و ماویٰ بھی وہی ہے۔ سارے امور اسی کے حکم سے جاری ہوتے ہیں اور پھر ان سب کی رپورٹ اسی کے آگے پیش ہوتی ہے۔ اس کے کارندے جملہ ہدایت کے لئے اسی سے رجوع کرتے اور اپنی کارگزاریاں اسی کے حضور میں پیش کرتے ہیں۔
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

(لوگو، ) ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اس (مال) میں سے جو اس نے دیا ہے تمہیں (اپنا) نائب بنا کر۔ پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور (مال) خرچ کریں گے ان کے لئے (آخرت میں) بڑا اجر ہے۔

[12] یہاں خطاب غیر مسلموں سے نہیں ہے بلکہ جیسا آگے قرائن سے واضح ہوجائے گا روئے سخن درحقیقت خام قسم کے مسلمانوں اور منافقین کی طرف ہے جو اللہ اور رسول پر ایمان تو لے آئے لیکن جب اس ایمان کا مطالبہ جہاد فی سبیل اللہ اور اس کے مصارف میں اپنا حصہ ادا کرنے کی صورت میں سامنے آیا تو اس سے کترانے لگے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اس مال کے خالق ومالک نہیں بلکہ صرف اس کے امین ہو تو جب اس مال کے خرچ کرنے کا مطالبہ اسی کی طرف سے ہو رہا ہے جس نے تم کو اس کا امین بنایا ہے تو اس سے بخل کرنے کے کیا معنی ؟
Ayahs 57:8–9

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور (لوگو، ) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لا رہے ہو حالانکہ رسول تم کو تمہارے ہی رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے اگر تم واقعی مومن ہو۔

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہ ( اللہ) ہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ تم کو (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی میں لائے۔ اور بلاشبہ اللہ تم (لوگوں) پر نہایت شفیق (اور) مہربان ہے۔

[13] یہاں ایمان لانے سے مراد محض زبانی اقرار اسلام نہیں بلکہ سچے دل سے ایمان لانا ہے۔ [14] یعنی سمع و اطاعت کا و عدہ جو ہر مسلمان کو نبی ﷺ سے بیعت کے وقت کرنا پڑا۔ ملاحظہ ہو سورة مائدہ آیت 7 صفحہ 242۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم (اپنا مال) اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین (سب) کا وارث اللہ ہی ہے۔ تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے (اللہ کی راہ میں مال) خرچ کئے اور (دشمنوں سے) لڑے وہ (ان مسلمانوں کے) برابر نہیں ہیں (جنہوں نے فتح کے بعد مال خرچ کیا اور لڑے) یہ لوگ درجے میں بڑھے ہوئے ہیں ان (مسلمانوں) سے جنہوں نے بعد میں مال خرچ کئے اور لڑے اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے (اچھی طرح) باخبر ہے۔

[15] یعنی آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اخیر میں اللہ ہی کا رہ جائے گا۔ جب سب مالک مرجائیں گے۔ پس جب سب مال ایک روز چھوڑنا ہی ہے تو خوشی سے کیوں نہ اللہ کی راہ میں دیا جائے کہ ثواب بھی ملے۔ [16] فتح سے اکثر مفسرین نے فتح مکہ اور بعض نے صلح حدیبیہ مراد لی ہے۔ [17] یعنی آج جب کہ کفر اور اہل کفر کا مکہ پر غلبہ ہے اور قریش کی ہیبت بدستور عرب پر قائم ہے تو جو لوگ اسلام کو غالب کرنے کے لئے اپنا مال خرچ کریں گے اور جنگ میں حصہ لیں گے ان لوگوں کا درجہ اللہ کے ہاں ان سے کہیں زیادہ بلند ہوگا جو فتح مکہ کے بعد جب کہ قریش کا زور ٹوٹ جائے گا اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے اور جہاد میں حصہ لیں گے۔ یہاں فتح سے مراد خواہ فتح مکہ لی جائے یا صلح حدیبیہ بہرحال اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ درجات کا فرق بس اسی ایک فتح پر ختم ہوگیا ہے، بلکہ اصولاً اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب کبھی اسلام پر ایسا کوئی وقت آجائے جس میں کفر اور اہل کفر کا پلڑا بہت بھاری ہو اور بظاہر اسلام کے غلبے کے آثار دور دور تک نظر نہ آتے ہوں اس وقت جو لوگ اسلام کی حمایت میں جان لڑائیں اور مال خرچ کریں ان کے مرتبے کو وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو کفر و اسلام کی کشمکش کا فیصلہ اسلام کے حق میں ہوجانے کے بعد قربانیاں دیں۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، تاکہ اللہ اس (دئیے ہوئے کے ثواب) کو اس شخص کے لئے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لئے باعزت اجر ہے۔

[18] یہ اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا مال جو دراصل اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اس کی راہ میں خرچ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے بشرطیکہ وہ قرض حسن (اچھا قرض) ہو یعنی بغیر کسی ذاتی غرض کے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لئے دیا جائے۔
Ayahs 57:12–13

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

(اے پیغمبر، وہ دن یاد رکھو) جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا (ایمان مشعل ) نور (بن کر) ان کے آگے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتا ہوگا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) آج کے دن خوشخبری ہے تمہارے لئے باغوں کی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور تم) ان میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہو گے۔ یہی دراصل بڑی کامیابی ہے۔

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے، (ذرا تو) ہمارا انتظار کرو کہ تمہارے (اس) نور (کی روشنی) سے ہم بھی فائدہ اٹھا لیں۔ (تو ان سے) کہا جائے گا، (نہیں) تم اپنے پیچھے کی طرف لوٹ جاؤ پھر (وہیں اپنا) نور تلاش کرو۔ پھر ان دونوں (گروہوں) کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس (دروازے) کے اندر کی جانب (جدھر مومن ہوں گے اللہ کی) رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی طرف (جدھر منافق ہوں گے) عذاب (الٰہی) ہوگا۔

[19] شاید ایمان کی روشنی جس کا محل قلب ہے آگے ہو اور عمل صالح کی روشنی دائیں جانب کیونکہ نیک عمل دائیں طرف جمع ہوتے ہیں۔
Ayahs 57:14–15

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

(یہ منافق) ان ( مومنوں) سے پکار پکار کر کہیں گے کیا (دنیا میں) ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ جواب دیں گے، تھے تو سہی، مگر تم نے اپنے آپ کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا اور تم راہ دیکھتے تھے (کہ مسلمانوں پر کوئی آفت نازل ہو) اور (اسلام کے حق ہونے میں) تم شک رکھتے تھے اور تم کو (تمہاری بیہودہ) تمناؤں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور (آخر وقت تک) وہ دغاباز (شیطان) اللہ کے بارے میں تم کو دھوکہ دیتا رہا۔

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

پس آج نہ تو تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ہی ان لوگوں سے جنہوں نے (کھلم کھلا) کفر (کا راستہ اختیار) کیا تھا۔ (لہٰذا) تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے، وہی تمہاری رفیق ہے اور وہ (کیا ہی) برا ٹھکانا ہے۔

[20] اور وہ گمراہی یہ تھی کہ تم پیغمبر اور مسلمانوں سے عداوت رکھتے تھے۔ [21] یعنی تم باطل امیدوں میں رہے کہ مسلمان حوادث کا شکار ہوجائیں گے اور اسلام مٹ جائے گا۔ [22] یعنی موت نے آدبوچا۔ [23] اللہ کے بارے میں دھوکا یہی کہ کفر حق ہے اور اسلام محض ڈھکوسلا ہے۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ابھی تک اس کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے گداز ہوں اور جو حق (منجانب اللہ) نازل ہوا ہے (اس کے سامنے جھک جائیں) اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو (ان سے) پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر ایک مدت گزر گئی اور (بالآخر) ان کے دل سخت ہوگئے اور (اب ان کا حال یہ ہے کہ) ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

[24] مراد ان سے وہی منافقین ہیں جن کا رویہ یہاں زیربحث ہے۔ [25] یعنی قرآن مجید۔ [26] یعنی یہود و نصاریٰ ۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

(لوگو، ) خوب جان لو کہ اللہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کردیتا ہے۔ ہم نے اپنی (قدرت کی) نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو۔

[27] اس آیت میں دو مختلف پہلوؤں سے اس بےیقینی کا علاج بتایا گیا ہے جس میں یہ منافق مبتلا تھے۔ پہلا اور سب سے نمایاں پہلو تو یہ ہے کہ آدمی میں اگر آخرت کا یقین نہ ہو تو اس کے لئے جان یا مال کی قربانی نہایت کٹھن کام ہے۔ ان منافقین کی اصل بیماری یہی تھی کہ ان کے اندر آخرت کا یقین نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بےیقینی دور کرنے کے لئے اپنی نشانیوں اور دلیلوں کی طرف توجہ دلائی جو اس نے تفصیل سے اپنی کتاب میں بیان فرمائی ہیں تاکہ ان کے اندر جان و مال کی قربانی کا حوصلہ پیدا ہو۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ منافق مخالفین اسلام کی سطوت سے بہت مرعوب تھے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ کس طرح مٹھی بھر مسلمان اپنے دشمنوں پر غالب آسکیں گے۔ اگرچہ اس سے پہلے بعض جنگیں ہوچکی تھیں جن میں مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا تھا لیکن ان منافقین کے دل سے ابھی ڈر نہیں نکلا تھا اور اسلام کے مستقبل کی طرف وہ بدستور مایوسی اور بےیقینی میں مبتلا تھے، ان کی اس مایوسی کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کی نشانی کی طرف توجہ دلائی کہ جس اللہ کی یہ شان دیکھتے ہو کہ وہ باران رحمت سے مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اور وہ لہلہا اٹھتی ہے اس کی قدرت سے بعید یہ نہ سمجھو کہ یہ کفرستان عرب کی مری ہوئی انسانیت کو اسلام کی برکات سے ازسرنو زندہ کر دے۔
Ayahs 57:18–21

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور (وہ لوگ جنہوں نے) اللہ کو قرض دیا، اچھا قرض، (قیامت کے دن) ان کو (ان کا دیا) کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا اور ان کے لئے باعزت اجر ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے ان کا اجر ہے اور ان کا نور (ایمان ان کے ساتھ ہوگا) اور جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا (تو) یہی لوگ دوزخی ہیں۔

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

(لوگو، ) خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض ایک کھیل اور تماشا اور زینت اور (تمہارا) آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ (اس زندگی کی) مثال بارش کی سی ہے (کہ زمین پر برستی ہے اور) اس سے ہونے والی پیداوار کو دیکھ کر کاشتکار خوش ہوجاتے ہیں پھر وہ پک جاتی ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ پیلی پڑگئی، پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے۔ (اسی طرح دنیا کی زندگی چند روزہ بہار ہے پھر زوال و اضمحلال، ) اور آخرت (کی کیفیت یہ ہے کہ اس) میں (دنیا کی زندگی کے دو انجام ہیں کفار کے لئے) عذاب شدید ہے اور (اہل ایمان کے لئے) اللہ کی طرف سے مغفرت اور (اس کی) خوشنودی ہے۔ اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

(پس تمہیں چاہئے کہ) اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف لپکو جس کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت کی مانند ہے (اور وہ) ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے۔ (اور وہ فضل) جسے چاہے عطا کرے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

[28] یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے صدقہ اور قرض کے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک خرچ تو وہ ہے جس کا مطالبہ ہر ذی استطاعت مسلمان سے عام حالات میں ہے۔ دوسرا خرچ وہ ہے جس کا مطالبہ کسی ناگہانی ضرورت کے موقع پر ملت کے تحفظ کے لئے کیا جاتا ہے۔ پہلے کو یہاں صدقہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کے لئے فاعل اور صفت کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اس لئے کہ وہ دواماً مطلوب ہے، دوسرے کو قرض سے تعبیر فرمایا ہے جو عندالضرورت دیا جاتا ہے اسی لئے اس کے لئے فعل کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

(لوگو، ) کوئی مصیبت (ایسی) نہیں ہے جو (روئے) زمین پر اور (خود) تم پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو وجود میں لانے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو۔ بلاشبہ یہ (کام) اللہ کے لئے آسان ہے۔

[29] یعنی لوح محفوظ میں۔
Ayah 57:23

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

(یہ بات تمہیں اس لئے بتائی جا رہی ہے) کہ کوئی چیز تم سے جاتی رہے تو اس کا رنج نہ کرو اور اس (چیز) پر اتراؤ نہیں جو اللہ نے تمہیں عطا کی ہے اور (جان رکھو کہ) اللہ اترانے والوں (اور) فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

[30] یعنی کوئی چیز جاتی رہی تو وہ تقدیری بات ہے اور اگر کوئی نعمت حاصل ہوگئی تو محض اللہ کی دین ہے سعی و کوشش کا نتیجہ نہیں، پھر اترانے کا کیا محل ہے۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کی ترغیب دیتے ہیں۔ اب جو شخص (اس نصیحت سے) روگردانی کرے گا تو ( وہ جان لے کہ) اللہ بےنیاز اور سب خوبیوں والا ہے۔

[31] یہ اترانے والوں اور فخر کرنے والوں کے دوسرے پہلو کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح کے لوگ چونکہ اس خبط میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انہیں جو کچھ حاصل ہوتا ہے خود ان کی اپنی تدبیر سے حاصل ہوتا ہے اس وجہ سے وہ اپنی ظاہری ٹیپ ٹاپ اور فخر جتانے کے سوا دین و ملت کی راہ میں خرچ کرنے کو خسارہ اور تاوان سمجھتے ہیں۔ اس طرح کے کاموں میں وہ خود بھی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل پر اکساتے ہیں تاکہ ان کے بخل پر پردہ پڑا رہے۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا (بھی) اتارا جس میں بڑی قوت (بھی) ہے اور لوگوں کے لئے فائدے (بھی) اور (اس کے پیدا کرنے سے ایک غرض یہ بھی ہے کہ) اللہ کو معلوم ہوجائے کہ کون (اس کو) بےدیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقینا اللہ بڑی قوت والا (اور) زبردست ہے۔

[32] دنیا میں اللہ کے جتنے رسول آئے تھے وہ سب تین چیزیں لے کر آئے تھے۔ (1) بینات یعنی کھلی کھلی نشانیاں جو واضح کر رہی تھیں کہ یہ لوگ واقعی اللہ کے رسول اور جس چیز کو وہ حق کہہ رہے ہیں وہ واقعی حق ہے اور جس چیز کو وہ باطل کہہ رہے ہیں وہ واقعی باطل ہے۔ (2) کتاب، جس میں ساری تعلیمات دی گئی تھیں جو انسان کو ہدایت کے لئے درکار تھیں۔ (3) میزان، یعنی عدل و انصاف کا نظام۔ [33] لوہا اگرچہ نکلتا تو زمین ہی سے ہے لیکن اس کے لئے انزلنا (ہم نے اتارا) استعمال ہوا ہے۔ یہ اسی طرح کا استعمال ہے جس طرح چوپایوں کے پیدا کئے جانے کے لئے یہ لفظ سورة زمر آیت 6 صفحہ 1098 میں استعمال ہوا ہے۔ مقصود اس سے ایک طرف تو اس خاص عنایت کی طرف توجہ دلانا ہے جو اس کے اندر انسان کے بہبود میں مضمر ہے۔ دوسری طرف یہ لفظ ہر چیز کے اصل منبع کا سراغ دیتا ہے کہ کوئی چیز کہیں سے حاصل ہو لیکن حقیقت میں وہ نازل اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ [34] اس آیت میں اصل مقصد پیغمبروں اور کتابوں کے بھیجنے کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہوجائیں اور اس کے فوراً بعد لوہے کا جو ذکر فرمایا گیا ہے اس سے مراد سیاسی اور جنگی طاقت ہے جس سے مقصود یہ ہے کہ نظام عدل کو عملاً نافذ کرنے کی کوشش کی جائے اور وہ قوت فراہم کی جائے جس سے واقعی عدل قائم ہو سکے اور اسے درہم برہم کرنے والوں کو سزا دی جاسکے اور اس کی مزاحمت کرنے والوں کا زور توڑا جاسکے۔ [35] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة مائدہ حاشیہ 54 صفحہ 282 اور سورة عنکبوت حاشیہ 2 صفحہ 948۔
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم ہی نے نوح اور ابراہیم کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔ پھر ان (کی ذریت) میں سے کچھ تو ہدایت پانے والے (ہوئے) اور زیادہ ان میں نافرمان (ہی) نکلے۔

[36] یعنی پیغمبری اور کتاب کے لئے ان دونوں کی نسل کو چن لیا۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ان (رسولوں) کے نقش قدم پر ہم پے در پے رسول بھیجتے رہے اور (ان سب کے بعد) عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اس کو انجیل عطا کی۔ اور جن لوگوں نے اس کی پیروی (اختیار) کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا، اور رہبانیت انہوں نے (خود) ایجاد کرلی، ہم نے اسے ان پر واجب نہیں کیا تھا مگر انہوں نے اللہ کی خوشنودی کی طلب میں (یہ بدعت ایجاد کرلی لیکن) جیسا اس کو نباہنا چاہئے تھا نہ نباہ سکے۔ تو جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے ان کا اجر عطا کیا اور زیادہ ان میں نافرمان (ہی) نکلے۔

[37] یعنی تارک دنیا ہوجانا اور لوگوں سے دور پہاڑوں یا جنگلوں میں زندگی بسر کرنا اور دنیا کی سب جائز لذتیں اپنے اوپر حرام کرلینا۔ [38] یہ آیت اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ رہبانیت ایک غیر اسلامی چیز ہے یہی بات نبی ﷺ نے فرمائی کہ اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں ہے (مسنداحمد) ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس امت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے (مسند احمد) ۔
Ayahs 57:28–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور اس کے پیغمبر (محمد) پر ایمان لاؤ تاکہ اللہ اپنی رحمت میں سے تم کو دوہرا حصہ دے اور تم کو (ایسا) نور عنایت کرے جس (کی روشنی) میں تم چلو، اور تمہاری مغفرت فرمائے، اور اللہ بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

(اور یہ تم سے اس لئے کہا جاتا ہے) کہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل پر ان کی کوئی اجارہ داری نہیں ہے اور یہ کہ فضل اللہ کے (اپنے) ہاتھ میں ہے، جسے چاہے عنایت کرے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

[39] خطاب ان نصاریٰ سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی کامل پیروی پر اجر دیا۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ تاکہ اللہ تمہیں دوہرا اجر دے، ایک اجر عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اور دوسرا پیغمبر وقت محمد ﷺ کی تصدیق کا۔ یہاں اللہ سے ڈرنے کی تنبیہ اس لئے فرمائی گئی ہے کہ بہت سے نصاریٰ یہ سمجھتے تھے کہ محمد ﷺ وہی نبی ہیں جن کی پیشین گوئی انجیل میں وارد ہے لیکن اسلام لاتے ہوئے ڈرتے تھے کہ مخالفین اسلام ان کے بھی دشمن ہوجائیں گے۔ ان کے لئے اس اندیشے کی بناء پر فرمایا کہ لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ صرف اللہ سے ڈرو۔ [40] یہ اسی طرح کی بشارت ہے جس طرح کی بشارت اس سورت کی آیت 12 میں گزر چکی ہے۔