61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 61:1–3

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

اللہ ہی کی تسبیح (وتقدیس) کرتی ہیں (ساری چیزیں) جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور وہی زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

اللہ کو (یہ) سخت ناپسند ہے کہ تم ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔

[1] خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن بعد کی آیت کو ان آیات کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اسلام کے لئے انفاق و جہاد کے دعوے تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے لیکن جب آزمائش کا وقت آتا تو بالکل بزدل ثابت ہوتے۔ ان کی اس کمزوری پر قرآن مجید میں کئی جگہ گرفت کی گئی ہے (ملاحظہ ہو سورة نساء آیت 77 صفحہ 194 اور سورة محمد آیت 20 صفحہ 1224) ۔
Ayah 61:4

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

اللہ تو ان لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر (اس طرح) لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

[2] یعنی اللہ تعالیٰ کو جو فوج پسند ہے اس میں تین صفات ہوں : ایک یہ کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر اللہ کی راہ میں لڑے۔ جو فی سبیل اللہ کی تعریف میں آتی ہو۔ دوسری یہ کہ وہ بدنظمی اور انتشار میں مبتلا نہ ہو بلکہ مضبوط تنظیم کے ساتھ صف بستہ ہو کر لڑے۔ تیسری یہ کہ دشمنوں کے مقابلے میں اس کی کیفیت '' سیسہ پلائی ہوئی دیوار '' کی سی ہو۔ کوئی فوج اس وقت تک میدان جنگ میں سیسہ پلائی دیوار کے مانند نہیں ہوسکتی جب تک اس میں حسب ذیل صفات پیدا نہ ہوجائیں : (1) عقیدے اور مقصد میں کامل اتفاق۔ (2) ایک دوسرے کے خلوص پر کامل اعتماد۔ (3) اخلاص کا ایک بلند معیار جس سے فوج کے افسر اور سپاہی نیچے گرجائیں تو ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پیدا ہوسکتی ہے نہ عزت اور نہ وہ آپس میں متصادم ہونے سے بچ سکتے ہیں۔
Ayahs 61:5–6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم (کے لوگو، ) تم مجھے کیوں ایذا پہنچاتے ہو حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں ؟ پھر جب ان لوگوں نے کجی اختیار کی تو اللہ نے بھی ان کے دل کج کر دئیے، اور اللہ (ایسے) نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، وہ وقت بھی یاد کرو) جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف اللہ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں (اور) تصدیق کرنے والا ہوں اس تورات کی جو مجھ سے پہلے (نازل ہوچکی) ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ پھر جب وہ بنی اسرائیل کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو وہ لگے کہنے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

[3] عیسیٰ (علیہ السلام) نے رسول اکرم ﷺ کی بعثت کی جو بشارت دی تھی وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری برناباس کی انجیل میں تو یہ پیشین گوئی بہت صاف اور کھلے لفظوں میں موجود ہے لیکن عیسائیوں کی جو چار انجیلیں مسلم ہیں ان میں بھی تحریفات کے باوجود رسول اللہ ﷺ کا ذکر قریب تصریح کے موجود ہے اور انجیل یوحنا میں تو فارقلیط (یاپیرکلوطوس) والی بشارت اس قدر صاف ہے کہ اس کا بےتکلف مطلب بجز احمد (یعنی محمود و ستودہ) کے کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس پر تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، از سید ابو الاعلیٰ مودودی، جلد پنجم، سورة صف حاشیہ 10۔ [4] یعنی محمد ﷺ ۔ [5] یہاں موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات بیان کرنے کا مدعا یہ ہے کہ مسلمانوں کو اللہ کے رسول کے ساتھ بنی اسرائیل کا سا طرز عمل اختیار کرنے سے خبردار کیا جائے۔
Ayah 61:7

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم (اور) کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو ؟ اللہ (ایسے) ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

[6] یہاں ان باتوں کی طرف اشارہ ہے جو یہود نے اپنی بزرگی و برتری ثابت کرنے کے لئے اپنی شان میں گھڑ رکھی تھیں۔ مثلاً یہ کہ ہم ایک برگزیدہ اور اللہ کی منظور نظر امت ہیں۔ ہم کسی ایسے نبی کی ہدایت کے محتاج کس طرح ہوسکتے ہیں جو امیوں کے اندر پیدا ہوا ہو ؟ نبوت و رسالت کے لئے بنی اسرائیل سے باہر کوئی نبی کس طرح پیدا ہوسکتا ہے ؟ اس ضمن میں یہ بات بھی گھڑ رکھی تھی کہ ہمیں تو یہ ہدایت ہے کہ کسی ایسے شخص کے دعویٰ نبوت کی تصدیق ہی نہ کریں جس کی پیش کی ہوئی قربانی کو کھانے کے لئے آسمان سے آگ نہ اترے۔ سورة بقرہ میں ان تمام من گھڑت باتوں کی تردید فرمائی گئی کہ یہ سب افترا ہے۔ اللہ نے کہیں بھی اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی ہے۔
Ayahs 61:8–11

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

(یہ لوگ) چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور اللہ (فیصلہ کرچکا ہے کہ) اپنے نور کو (کامل طور پر) پھیلا کر رہے گا گو کافروں کو برا ہی (کیوں نہ) لگے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہ ( اللہ) ہی تو ہے جس نے اپنے رسول (محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کر دے گو مشرکین کو برا ہی ( کیوں نہ) لگے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

(اے پیغمبر کہو کہ) اے لوگو جو ایمان لائے ہو کیا میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں (آخرت کے) دردناک عذاب سے بچائے ؟

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

(وہ یہ ہے کہ) ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم سمجھو۔

[7] یہاں ایمان لانے سے مراد سچے دل سے ایمان لانا ہے۔ [8] تجارت میں آدمی اپنا سرمایہ، اپنی محنت، ذہانت اور قابلیت اس لئے لگاتا ہے کہ اس سے نفع حاصل ہو۔ اس رعایت سے یہاں ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کو تجارت کہا گیا ہے کہ اس میں اپنی جان و مال کا سرمایہ لگاؤ گے تو تمہیں وہ نفع حاصل ہوگا جو اگلی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 61:12–13

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

(ایسا کرو گے تو) اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور ہمیشگی کے باغوں میں بہترین گھر (عطا فرمائے گا) ۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور (ان نعمتوں کے علاوہ) ایک اور (نعمت بھی) ہے جس کو تم (دل سے) پسند کرتے ہو (یعنی) اللہ کی طرف سے مدد اور جلد فتحیابی (اے پیغمبر، ) ایمان والوں کو (اس کی) خوشخبری سنا دو ۔

[9] اشارہ ہے فتح مکہ کی طرف جس کی تمنا ہر مسلمان کے دل میں جاگزیں تھی کہ اسی پر اسلام کے اصل دشمنوں کی شکست کا انحصار بھی تھا اور یہی غلبہ حق کی سب سے بڑی شہادت بھی تھی۔
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے (اپنے) حواریوں سے کہا تھا کہ کون ہے اللہ کی طرف (بلانے میں) میرا مددگار ؟ (اس پر) حواریوں نے جواب دیا تھا کہ ہم ہیں اللہ کے (رسول کے) مددگار۔ تو (اس وقت) بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور ایک (دوسرے) گروہ نے انکار کیا۔ پھر جو لوگ ایمان لائے تھے ہم نے ان کی دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی پس وہی غالب ہو کر رہے۔

[10] اللہ کا مددگار بننے کا مطلب اللہ کے پیغمبر اور دین حق کی مدد کرنا ہے۔ [11] بنی اسرائیل میں دو فرقے ہوگئے ایک گروہ یعنی نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا اور دوسرے گروہ یعنی یہود نے انکار کیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہ دونوں گروہ آپس میں دست و گریبان رہے۔ آخر کو اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کو یہود پر غالب کیا اور پھر مسلمان بھی ان پر غالب آئے۔ اس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کرنے والے دونوں ہی سے مغلوب ہو کر رہے۔ اس بات کو یہاں بیان کرنے کی غرض مسلمانوں کو بتلانا ہے کہ تمہارے لئے قابل تقلید نمونہ حواریوں کا ہے جنہوں نے یہود کی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب نہیں کی بلکہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اللہ کے دین کے لئے اٹھنے کی دعوت دی تو وہ پورے جوشِ دل کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے بالآخر انہی جانثاروں کو غلبہ حق کا ذریعہ بنایا۔