62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 62:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

(ساری چیزیں) جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اللہ ہی کی تسبیح (وتقدیس) کر رہی ہیں جو ملک القدوس (ہے) ، زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[1] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حشر حاشیہ 25 صفحہ 1357۔
Ayah 62:2

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہ ( اللہ) ہی تو ہے جس نے امیّوں کے اندر ایک رسول خود انہی میں سے اٹھایا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے، ان کو (کفرو شرک کی گندگی سے) پاک صاف کرتا ہے اور ان کو کتاب (الٰہی) اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ (اس سے پہلے) یہ لوگ صریح گمراہی میں (پڑے ہوئے) تھے۔

[2] اُمّی کے معنی ان پڑھ کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ خالص یہودی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے جس سے مراد تمام دنیا کے غیر یہودی ہیں۔ یہود اپنے سوا دنیا کی تمام اقوام کو ناشائستہ، ناپاک، ذلیل اور حقیر سمجھتے تھے اور یہ لفظ دوسروں کے لئے حقارت کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ یہاں اس لفظ کے استعمال میں ایک لطیف طنز پوشیدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن عربوں کو یہود حقارت کے ساتھ اُمّی کہتے ہیں اور انہیں ذلیل سمجھتے ہیں انہیں میں سے اللہ نے ایک رسول اٹھایا ہے۔ وہ خود نہیں اٹھ کھڑا ہوا ہے بلکہ اس کا اٹھانے والا وہ ہے جس کی صفات اوپر بیان ہوئی ہیں نیز ملاحظہ ہو صفحہ 9731 پر لفظ '' اُمّی '' کی تشریح۔ لفظ " اُ مّی " کی تشریح قرآن مجید میں " اُمّی " کا لفظ متعدد مقامات پر آیا ہے اور سب جگہ اس کے معنی ایک ہی نہیں ہیں بلکہ مختلف مواقع پر وہ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ کہیں وہ اہل کتاب کے مقابلے میں ان لوگوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے جس کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں ہے جس کی پیروی وہ کرتے ہوں۔ مثلاً فرمایا : (وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ 20؀ ) 3 ۔ آل عمران :20) ہل کتاب اور اُمّیوں سے پو چھو کیا تم نے اسلام قبول کیا ؟ " یہاں امیّوں سے مراد مشرکین عرب ہیں اور ان کو اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ سے الگ ایک گروہ قرار دیا گیا ہے۔ کسی جگہ یہ لفظ خود اہل کتاب کے اَن پڑھ اور کتاب اللہ سے ناواقف لوگوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ جیسے فرمایا : ( وَمِنْھُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِىَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ 78؀) 2 ۔ البقرة :78) ۔ " اب یہودیوں میں کچھ لوگ امیّ ہیں، کتاب کا کوئی علم نہیں رکھتے، بس اپنی آرزؤوں ہی کو جانتے ہیں۔ " اور کسی جگہ یہ لفظ خالص یہودی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے جس سے مراد دنیا کے تمام غیر یہودی ہیں۔ مثلاً فرمایا : (ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْاُمِّيّٖنَ سَبِيْلٌ ۚ وَيَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ 75؀) 3 ۔ آل عمران :75) یعنی " ان کے اندر ہر بد دیا نتی پیدا ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیّوں کا مال مار کھانے میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہے "۔ لیکن اس یہودی اصلاح کی اصل معنویت محض اس کی اس تشریح سے سمجھ میں نہیں آسکتی۔ دراصل عبرانی زبان کا لفظ " گوئیم " ابتداء محض اقوام کے معنی میں بو لا جاتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ یہودیوں نے اسے پہلے تو اپنے سوادوسری قوموں کے لئے مخصوص کردیا، پھر اس کے اندر یہ معنی پیدا کردیئے کہ یہودیوں کے سوا باقی تمام اقوام ناشائستہ بد مذہب، ناپاک اور ذلیل ہیں۔ یہودی لٹریچر میں " گوئیم " اس قدر قابل نفرت لوگ ہیں کہ ان کو انسانی بھائی نہیں سمجھا جاسکتا، ان کے ساتھ سفر نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اگر ان میں سے کوئی شخص ڈوب رہا ہو تو اسے بچانے کی کوشش بھی نہیں کی جاسکتی۔ یہودیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ آنے والا مسیح تمام " گوئیم " کو ہلاک کر دے گا اور جلا کر خاکستر کر ڈالے گا۔ [3] یعنی محمد ﷺ ۔
Ayahs 62:3–4

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور (اس رسول کی بعثت) دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے، اور وہ ( اللہ) زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ (پیغمبری) اللہ کا فضل ہے، جسے چاہے عطا کرے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

[4] یعنی محمد ﷺ کی رسالت صرف عربوں تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام اقوام عالم کے لئے بھی ہے جو قیامت تک آنے والی ہیں۔
Ayah 62:5

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا پھر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور اللہ (ایسے) ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

[5] یہاں یہود کے پندار پر ضرب لگائی گئی ہے کہ اگر وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ کتاب و شریعت کے وہی حامل ہوسکتے ہیں اور کوئی دوسرا اس شرف میں ان کا حریف نہیں ہوسکتا تو یہ گھمنڈ وہ اپنے دماغ سے نکال دیں۔ بلاشبہ وہ تورات کے حامل بنائے گئے تھے لیکن انہوں نے اس کی تعلیمات کی کچھ پروا نہ کی۔ چناچہ ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں اور وہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا ہے اور اس لئے ان کے نفع سے محروم رہتا ہے۔ اس طرح یہود تورات کو اپنے اوپر لادے ہوئے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ کتاب کس لئے آئی ہے اور کیا چاہتی ہے۔ لہذا وہ اس کے فوائد سے کورے رہ گئے۔ [6] یعنی تورات میں جو بشارتیں نبی آخر الزمان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی تھیں ان کو جھٹلانا اللہ کی آیتوں کو جھٹلانا ہے۔
Ayah 62:6

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ اے لوگو جو یہودی ہوگئے ہو، اگر تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ تمام لوگوں کو چھوڑ کر تم ہی اللہ کے چہیتے ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم (اپنے اس دعوے میں) سچے ہو۔

[7] '' اے یہودیو '' نہیں کہا بلکہ '' اے لوگو جو یہودی ہوگئے ہو '' فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل دین جو آدم (علیہ السلام) اور ان کے بعد تمام انبیاء لے کر آئے تھے وہ اسلام ہی تھا۔ ان انبیاء میں سے کوئی بھی یہودی نہ تھا اور نہ ان کے زمانے میں یہودیت پیدا ہوئی۔ یہ مذہب اس نام کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے بہت بعد کی پیداوار ہے۔ [8] تاکہ دنیا کی مصیبتوں سے جلد نجات پا کر اللہ سے جا ملو اور بہشت کے مزے اڑاؤ۔
Ayahs 62:7–8

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور ان کرتوتوں کی وجہ سے جو یہ کرچکے ہیں، یہ کبھی موت کی تمنا کرنے والے نہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تو تم کو ضرور آ کر رہے گی، پھر تم اس ( اللہ) کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم (دنیا میں) کرتے رہے۔

[9] یعنی موت کی تمنا نہیں کرتے اور اس کا نام سن کر گھبراتے ہیں، اس لئے نہیں کہ زیادہ دن زندہ رہ کر زیادہ نیکیاں کمائیں بلکہ اس لئے کہ دنیا کی حرص سے ان کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا اور دل میں سمجھتے ہیں کہ جو کرتوت کئے ہیں یہاں سے چھوٹتے ہی ان کی سزا میں پکڑے جائیں گے۔
Ayah 62:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خریدوفروخت چھوڑ دو ۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جانو۔

[10] اس ذکر الٰہی کے عموم میں نماز فرض اور خطبہئـ جمعہ واجب دونوں آگئے۔ اس کے عموم سے وہ لوگ خارج ہیں جن پر جمعہ واجب نہیں، جیسے عورتیں، بچے، مریض، مسافر وغیرہ۔ [11] فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد خریدوفروخت ہی نہیں بلکہ ہر قسم کا کاروبار حرام ہے۔
Ayah 62:10

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب نماز ہوچکے تو (تم کو اختیار ہے کہ) زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

[12] یعنی اب تمہارے لئے جائز ہے کہ معاش کے کاموں میں مشغول ہو۔
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جب (بعض لوگ) تجارت یا کھیل تماشا (ہوتے) دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑے ہیں اور تمہیں کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ (ان لوگوں سے) کہو کہ جو چیز اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ (سب) روزی دینے والوں سے بہتر (روزی دینے والا) ہے۔

[13] یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو مذکورہ بالا احکام جمعہ کے نزول کا سبب ہوا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ باہر کا کوئی تجارتی قافلہ عین خطبہ جمعہ کے وقت مدینے میں داخل ہوا اور اعلان و اشتہار کے لئے رواج کے مطابق ڈھول اور دف بجائے تو کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ کر قافلے کی طرف دوڑ گئے۔ یہ فعل جن لوگوں سے صادر ہوا ظاہر ہے کہ ان پر اسلامی تربیت کا رنگ ابھی اچھی طرح نہیں چڑھا تھا یا یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خطبہ جمعہ کی اہمیت سے اچھی طرح واقف نہ تھے، ان کے نزدیک اہمیت صرف نماز کی تھی۔ بہرحال ان سے جو غلطی ہوئی اس سے امت کو یہ فائدہ پہنچا کہ جمعہ کے متعلق ایسی ہدایات نازل ہوگئیں جو اس سے پہلے نازل نہیں ہوئی تھیں۔ علاوہ ازیں اس ذکر سے مسلمانوں کو یہ بھی بتلانا ہے کہ جمعہ کا دن بنی اسرائیل کے یوم السبت سے مشابہ ہے۔ بنی اسرائیل نے طمع دنیا میں مبتلا ہو کر یوم السبت کو بٹہ لگایا تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کر کے ان کی شکلیں مسخ کردیں۔ اگر مسلمان انہی کی طرح تجارت کی ہوس میں جمعہ کی حرمت کو بٹہ لگائیں گے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے محفوظ رہیں۔ [14] یعنی آخرت۔