63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 63:1

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) جب منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں اور (اگرچہ) اللہ جانتا ہے کہ تم بیشک اس کے رسول ہو مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق (اپنے اس دعوے میں) قطعی جھوٹے ہیں۔

[1] کیونکہ یہ اپنے اصلی اور دلی اعتقاد کے خلاف آپ کے سامنے آ کر آپ کی تصدیق رسالت کا نمائشی اظہار کرتے ہیں۔
Ayah 63:2

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ اس طرح (اس کی آڑ میں لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ (کیا ہی) برے کام ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔

[2] یعنی جھوٹی قسمیں کھالیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور مجاہدین اسلام کے ہاتھوں سے اپنی جان و مال محفوظ رکھنے کے لئے انہی قسموں کی آڑ پکڑتے ہیں۔
Ayah 63:3

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ (سب کچھ) اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ایمان لائے، پھر منکر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ پس (اب) یہ (حق بات کو) سمجھتے (ہی) نہیں۔

[3] یعنی پہلے زبان سے ایمان لائے لیکن دل سے منکر رہے اور مدعی ایمان ہو کر کافروں جیسے کام کئے۔
Ayahs 63:4–5

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم ان کو دیکھو تو ان کے ڈیل ڈول تمہاری نظروں میں کھب جائیں، اور بات کریں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ۔ (تمہارے سامنے اس طرح دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہیں کہ) گویا وہ لکڑیوں کے کندے ہیں جو (دیواروں کے سہارے) لگے رکھے ہیں۔ ہر زور کی آواز کو وہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ وہ (تمہارے پکے) دشمن ہیں پس ان سے بچ کر رہو۔ اللہ ان کو غارت کرے، وہ (دین حق سے) کہاں پھرائے جا رہے ہیں۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ (کی خدمت میں چلیں کہ وہ) تمہارے لئے مغفرت کی دعا کریں تو وہ اپنے سر مٹکاتے ہیں اور (اے پیغمبر، ) تم (اس وقت) ان کو دیکھو تو ایسے مغرور ہوتے ہیں کہ (تمہارے پاس) آنے سے رکتے ہیں۔

[4] یعنی بالکل ناکارہ ہیں۔ کیونکہ لکڑی بھی اگر کوئی فائدہ دیتی ہے تو اس وقت جب وہ استعمال ہو رہی ہو۔ دیوار سے لگا کر کندے کی شکل میں جو لکڑی رکھ دی گئی ہو وہ کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ [5] یعنی اپنی بےایمانیوں کی وجہ سے ہر وقت ان کے دل میں دغدغہ لگا رہتا کہ دیکھئے کہیں ہماری دغا بازیوں کا پردہ تو چاک نہیں ہوگیا۔ ذرا کہیں شوروغل ہو تو ان کا دل دہل جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہی پر کوئی افتاد پڑی۔ [6] یہ نہیں بتایا کہ دین حق سے پھر انے والا کون ہے۔ اس کی تصریح نہ کرنے سے خودبخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان کی اس الٹی چال کا کوئی ایک محرک نہیں بلکہ بہت سے محرکات ہیں۔ اپنے نفس کے اغراض ہیں، بیوی بچے ہیں، برے دوست ہیں یا بغض و حسد نے کسی کو اس راہ پر لگا دیا۔
Ayahs 63:6–7

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

ان کے لئے تم دعائے مغفرت کرو یا نہ کرو ان کے حق میں (دونوں باتیں) یکساں ہیں، اللہ انہیں ہرگز معاف نہ کرے گا۔ بیشک اللہ (ایسے) نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہی ہیں جو (لوگوں سے) کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس (آ جمع ہوئے) ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو تاکہ (عاجز آکر آپ) منتشر ہوجائیں، حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں لیکن یہ منافق نہیں سمجھتے۔

[7] یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنی ہدایت سے نہیں نوازتا جو نافرمانی پر اصرار کئے جاتے ہیں۔ وہ ہدایت کی توفیق انہی کو دیا کرتا ہے جو اپنے گناہوں پر شرمسار ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
Ayah 63:8

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

(یہ) کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینے لوٹ کر گئے تو عزت والا ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے مگر یہ منافق نہیں جانتے۔

[ 8[ روایات میں ہے کہ 6 ھ میں غزوہ بنی المصطلق سے واپسی کے موقع پر ایک مہاجر اور ایک انصاری میں جھگڑا ہوگیا۔ انصاری نے انصار کی دہائی دی اور مہاجر نے مہاجرین کی۔ دونوں طرف کے آدمی تلواریں سونت سونت کر اکٹھے ہوگئے مگر نبی ﷺ کی مداخلت سے بات نہ بڑھنے پائی لیکن رئیس المنافقین عبداللّٰہ بن ابی نے موقع سے فائدہ اٹھا کر مہاجرین کے خلاف انصار کو بھڑکانے کے لئے نہایت زہرآلود فقرے کہے اور انصار کے جو آدمی اس دوران اسکے گرد جمع ہوگئے تھے ان کو مخاطب کر کے اس نے کہا کہ ان مہاجرین پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ یہ مدینے سے بھاگ جائیں۔ پھر کہا کہ مدینے پہنچ کر جو باعزت ہیں (یعنی انصار) وہ رذیلوں (یعنی مہاجروں) کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ عبداللّٰہ بن ابی کی بات کا جواب یہاں دیا گیا ہے کہ یہ منافق یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ اور اس کے ساتھی مہاجرین کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیں گے تو ان کا کوئی سہارا باقی نہیں رہ جائے گا حالانکہ آسمان و زمین کے سارے خزانے اللّٰہ ہی کے قبضے میں ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ لیکن ان منافقوں کے دلوں پر چونکہ مہر لگ چکی ہے اس لئے یہ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
Ayahs 63:9–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں اور جو کوئی ایسا کرے گا تو ایسے ہی لوگ (آخرکار) گھاٹے میں رہیں گے۔

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور ہم نے جو کچھ تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں بھی) خرچ کرتے رہا کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت آ کھڑی ہو پھر (اس وقت) وہ کہنے لگے کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں خیر خیرات کرتا اور نیک لوگوں میں شامل ہوجاتا ؟

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ کسی کو ہرگز مہلت نہیں دیتا جب اس کی (عمر ختم ہونے پر) میعاد آجاتی ہے، اور جو کچھ بھی تم لوگ کرتے ہو اللہ کو اس کی (سب) خبر ہے۔

[9] یہ آخر میں مسلمانوں کو تنبیہہ فرمائی کہ تم ان منافقوں کی روش اختیار نہ کرنا۔ ان کو مال اور اولاد کی محبت نے اللہ سے غافل کردیا ہے اگر تم بھی انہی کی طرح مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر اللہ کو بھول بیٹھے تو یاد رکھو کہ اصل نامرادی اور محرومی یہی ہے۔