60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 60:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو تم اپنا دوست مت بناؤ میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو تم ان کی طرف دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ وہ کھلا کفر (اور انکار) کرچکے ہیں اس دین حق کا جو تمہارے پاس آچکا ہے (تمہارے خالق ومالک کی طرف سے) اور وہ نکالتے ہیں اللہ کے رسول کو اور خود تم کو (تمہارے گھروں سے) محض اس بناء پر کہ تم لوگ ایمان رکھتے ہو اللہ پر جو کہ رب ہے تم سب کا (پس تم ایسوں کو اپنا دوست مت بناؤ) اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا جوئی کی خاطر نکلے ہو تم ان کی طرف چھپا کر دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور مجھے خوب معلوم ہے وہ سب کچھ بھی جو کہ تم لوگ چھپا کر کرتے ہو اور وہ سب کچھ بھی جو کہ تم اعلانیہ طور پر کرتے ہو اور (جان لو کہ) تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ یقینا بھٹک گیا سیدھی راہ سے1

[ 1] مصلحت دین سب سے مقدم اور سب پر فائق : سو اس سے واضح فرما دیا گی کہ دین و ایمان کی مصلحت سب سے مقد اور سب پر فائق ہے۔۔ روایات کے مطابق نبی اکرم ﷺ نے جب مکہ مکرمہ پر حملہ کا پروگرام بنایا تو حاطب بن ابی ملتعہ نامی ایک صحابی نے اہل مکہ کو اس کی خبر کرنے کے لئے ایک خط لکھا، اور ایک عورت کے ہاتھ اس کو کفار قریش کی طرف روانہ کردیا، مگر اللہ پاک کی طرف سے آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع کردی گئی تو آپ ﷺ نے حضرت علی، طلحہ، زبیر، عمار اور حضرت مقداد بن اسودہ وغیرہ ؓ اجمعین پر مشتمل شاہسوار صحابہ اکرام کا ایک دستہ اس کے پیچھے روانہ کردیا، اور انہیں بتایا کہ وہ عورت تمہیں روضہء خاخ کے مقام پر ملے گی، اس سے تم وہ خط واپس لے آؤ، اور اسے جانے دو ، ان حضرات نے وہ ان پہنچ کر جب اس عورت کو پالیا اور اس سے خط نکالنے کے لئے کہا تو اول تو اس نے قسم اٹھا کر انکار کردیا کہ میرے پاس ایسا کوئی خط وغیرہ نہیں، مگر جب ان حضرات نے سختی سے کام لیا اور اس سے کہا کہ تمہیں خط نکالنا پڑے گا، ورنہ ہم تمہارا برا حشر کریں گے، کیونکہ پیغمبر کا قول غلط نہیں ہوسکتا، تو اس پر وہ ڈر گئی اور اس نے وہ خط اپنے بالوں کے جوڑے سے نکال کر ان حضرات کے حوالے کردیا، انہوں نے جب واپس مدینہ منورہ پہنچ کر وہ خط آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے حضرت خاطب ؓ کو بلا کر اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی نہ تو میں نے کفر کیا، اور نہ ہی میں مرتد ہوا، میرے ایمان میں الحمد للہ کوئی فرق نہیں آیا، اصل بات یہ تھی کہ جیسا کہ سب کو معلوم ہے میں اہل مکہ میں سے نہیں ہوں، بلکہ باہر سے آکر ان میں شامل ہوا ہوں، میرا وہاں کوئی تعلق ورشتہ نہیں، جب کہ باقی مہاجر حضرات کے وہاں پر رشتہ دار موجود ہیں، تو میں نے سوچا کہ پیغمبر کے حملہ کو روک دینا تو ان لوگوں کے بس میں نہیں، جیسا کہ میرے خط میں بھی یہ بات موجود ہے، لیکن اگر میں پیشگی اہل مکہ کو آپ کے حملے کی خبر دے دوں تو اس طرح میرا ان پر ایک احسان ہوجائے گا جس کی بناء پر کل وہ میرے خاندان کا خیال رکھیں گے، حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ کے نبی، مجھے اجازت دی جائے کہ میں اس منافق کی گردن اتار دوں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں عمر ایسا مت کہو، اس نے تو غزوہ بدر میں حصہ لیا ہے اور تمہیں کیا خبر کہ اللہ پاک نے اہل بدر کو فرما دیا ہو کہ تم جو چاہو عمل کرو، تم پر کوئی گرفت نہیں ؟ تو اس سے حضرت عمر ؓ خاموش ہوگئے، سو اس واقعے سے متعلق یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں جن میں بڑھ اہم اور عظیم الشان درس دئیے گئے ہیں، جن کی تفصیل انشاء اللہ ہم اپنی مفصل تفسیر میں پیش کریں گے، وباللہ التوفیق۔ اور سب سے بڑا اور اہم درس اس میں اہل ایمان کیلئے یہ ہے کہ دین کی مصلحت کو سب سے بلند، لائق اور مقدم رکھا جائے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، جل وعلا، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین، [ 2] غیرت ایمانی کے تقاضوں کی تذکیر و یاددہانی : سو اہل ایمان کی غیرت ایمانی کی تحریک اور اس کو پیدا کرنے کے طور پر اہل ایمان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنے دشمنوں کے ساتھ مورت و موالات کی بیگیں کیسے بڑھا سکتے ہیو جبکہ ان کے کرتوت یہ اور یہ ہیں۔ یعنی ایسا کرنا بہت بعید اور عقل و نقل کے تقاجوں کے خلاف ہے کہ وہ دین حق کے منکر ہیں، اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالتے ہیں۔ سو وہ تمہیں اس قدر تنگ کرتے ہیں کہ تم اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہو۔ اور ان کی طرف سے یہ ظلم و ستم اور تنگی و زیادتی تمہارے ساتھ محض اس بناء پر ہے کہ تم لوگ ایمان رکھتے ہو اللہ پر جو کہ رب ہے تم سب کا، سو جو لوگ دشمن ہوں اللہ کے اس کے رسول اور اس کے دین کے، ان سے تمہاری محبت و دوستی اور تعلق کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو قرآن حکیم اس طرح کی شخصی مصلحتوں کو دین ایمان کے تقاضوں کے خلاف اور ان کے منافی قرار دیتا ہے، اور ایمان والوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ دین ایمان کی جس دولت سے تم لوگ سرفراز ہو اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے رشتہء موالات و مودت کبھی نہ جوڑو جو اللہ کے اس کے رسول کے اور تمہارے دین کے دشمن ہیں۔ واضح رہے کہ لفظ عدو عداوت سے فعول کا صیغہ ہے اور عربی زبان میں فعول کا یہ وزن مذکر و مؤنث اور واحد اور تثنیہ جمع سب کیلئے آتا ہے۔ پس اہل ایمان کی بھی دین دشمن انسان سے دوستی اور محبت ممکن نہیں کہ یہ اس کے دین و ایمان کے تقاضوں کے منافی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس دین و ایمان کے تقاضوں کی رعایت اور پاسداری سب پر فائق اور سب سے مقدم ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ، بکل حال من الاحوال، وفی کل حین والا حیان، [ 3] جرم بےگناہی اور اس کی سزا کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوگ تم سے یہ عداوت و دشمنی محض اس بنا پر رکھتے ہیں کہ تم لوگ ایمان رکھتے ہو اللہ پر جو کہ رب ہے تم سب کا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی جرم نہیں بلکہ یہ تمام نیکیوں کی اساس و بنیاد ہے، مگر اسی اصل الاصول نیکی کی بناء پر وہ تمہیں تنگ کرتے اور گھروں سے نکلالتے ہیں، اور تم کو جرم بےگناہی کی سزا دیتے ہیں۔ تو پھر ان سے تمہاری دوستی کس طرح ممکن ہوسکتی ہے ؟ سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا۔ { وما نقموا منھم الا ان یؤمنوا باللّٰہ العزیز الحمید۔ }[ البروج : 8 پ 30] سو وہ انکار کرتے ہیں اس دین حق کا جو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے آیا ہے، اور وہ انکار کرتے ہیں اللہ کے اس رسول کا جن کو اس کی طرف سے تمہاری ہدایت و نجات کیلئے مبعوث فرمایا گیا ہے، سو وہ دشمن ہیں اللہ اور اس کے رسول کے، اور اسی جرم ایمان اور دعوت الی الحق کی بناء پر اللہ کے رسول کو اور تم لوگوں کو تمہارے گھروں سے نکال رہے ہیں، تو پھر تم لوگ ان کے ساتھ دوستی کی پینگیں کیسے بڑھاتے ہو ؟ اور اس کیلئے عقل و نقل کی روشنی میں کوئی گنجائش آخر کیسے اور کیونکر ہوسکتی ہے ؟ سو اہل حق اور اہل ایمان کے خلاف اہل کفر و باطل کی دشمنی محض جرم بےگناہی کے نتیجے میں ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی مرضی و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم و ثابت قدم رکھے۔ آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یا ذا الجلال والاکرام، ویادائم الفضل والاحسان، [ 4] اللہ تعالیٰ ظاہر وباطن کو ایک برابر جانتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میں ایک برابر جانتا ہوں وہ سب کچھ جو تم لوگ چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو "۔ تو پھر مجھ سے کسی بات کو چھپانا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ پس لوگوں سے تو تم لوگ چھپ سکتے ہو مگر مجھ سے چھپنا آخر کیسے اور کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ سو مومن کا کام اور اس کی شان یہ ہے اور یہی ہونی چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اس بات کا خیال رکھے اور دل و جان سے خیال رکھے کہ میرا معاملہ میرے خالق ومالک کے ساتھ کیسا ہے، کہ اس سے کسی بات کو چھپانا ممکن نہیں، پس اصل چیز اس کی رضا و خوشنودی ہے۔ یہ چیز اگر نصیب ہوگئی تو سن کچھ مل گیا اور اگر یہ نہ مل سکی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ تو پھر دنیا ساری بھی اگر مل جائے تو بھی کچھ نہیں ملا۔ پس جو لوگ اپنے دلوں کے اندر اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں کے ساتھ موالات و مودت کا رشتہ رکھتے ہی وہ لوگوں سے تو چھپ سکتے ہیں لیکن اللہ سے کبھی اور کسی طرح نہیں چھپ سکتے کہ وہ ظاہر اور باطن دونوں کو پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے۔ پس جو لوگ ایسا کرتے ہیں یقینا سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اس لئے اصل بات جس کی فکر و کوشش کی ضرورت ہے اور جس سب سے زیادہ اہم ہے، وہ یہ ہے کہ اپنے خالق ومالک کے ساتھ اپنا معاملہ صحیح اور درست ہو، کہ یہ اس وحدہ لاشریک کا اس کے اپنے بندوں پر حق بھی ہے اور اسی میں ان کی بہتری اور سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ بھی۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، [ 5] دین کے دشمنوں سے دوستی کا نتیجہ راہ حق سے محرومی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی ایسا کرے گا وہ یقینا بھٹک گیا سیدھی راہ سے، کہ دین کے دشمنوں سے دوستی رکھنے کا لازمی نتیجہ راہ حق و ہدایت سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کفار و مشرکین سے دل دوستی رکھنا صراط مستقیم سے محرومی کا باعث ہے جو کہ محرومیوں کی محرومی اور فساد و بگاڑ کی جڑ بنیاد ہے، والعیاذ باللّٰہ۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کی رضا طلبی، اور اللہ اور اس کے دشمنوں سے مودت وموالات بالکل متضاد چیزیں ہیں، جو دونوں بیک وقت کسی دل میں جمع نہیں ہوسکتیں، کہ یہ اجتماع ضدین ہے، جو کہ محال ہے۔ پس ان دونوں میں سے ایک ہی چیز دل میں رہ سکے گی، ان میں سے ایک اگر رہے گی تو دوسری لازماً رخصت ہوجائے گی، پس مومن کی شان اور اس کے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنے باطن کو اہل کفر و باطل کی موالات و مودت سے پاک اور صاف رکھے کہ ایسوں سے دوستی ایمان کے منافی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
Ayah 60:2

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

(ان کا حال تو یہ ہے کہ) اگر ان کو تم پر قابو مل جائے تو وہ (فوراً ) تمہارے ساتھ دشمنی کا کام شروع کردیں اور اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی کے ساتھ تمہاری طرف دراز کردیں وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر ہی کرنے لگو

[ 6] کفار کے اہل ایمان سے عداوت وعناد کے حال کا ذکر وبیان : سو کفار کی اہل ایمان سے عداوت وعناد کے ذکر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو اگر تم لوگوں پر قابو مل جائے تو وہ کیا کچھ نہیں کریں گے ؟ کہ اس صورت میں وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے۔ تم لوگوں پر دست درازی بھی کریں گے، اور زبان درازی بھی، اور وہ چاہیں گے کہ کسی طرح تم بھی کافر بن جاؤ۔ سو قتل و قتال، سب وشتم، ظلم و زیادتی، اور طرح طرح کے چھوٹے پروپیگنڈے وغیرہ میں سے جو بھی کچھ ان سے ہو سکے گا اس میں یہ کبھی فرق نہیں کریں گے، تو ایسوں سے تمہاری دوستی کس طرح ممکن ہوسکتی ہے ؟ سو تم ان سے دوستی کے خواہش مند ہو لیکن ان کے دلوں میں تمہارے خلاف ایسا بغض اور عناد بھرا ہوا ہے کہ وہ اگر کہیں تم پر قابو پاگئے، والعیاذ باللّٰہ، تو وہ تمہارے خلاف دست درازی سے باز آئیں گے، نہ زبان درازی سے، بلکہ ان کی تو اپنی طرف سے پوری کوشش ہوگی کہ تمہیں بھی مرتد کرکے چھوڑیں، والعیاذ باللّٰہ، اور یہی بات سورة توبہ میں اس طرح بیان فرمائی گئی ہے۔ { کیف وان یظھروا علیکم لایرقبوا فیکم الا ولا ذمۃ } [ التوبہ : 8 پ 10] یعنی ان لوگوں پر کیسے اعتبار کیا جاسکتا ہے، جبکہ یہ تمہارے بارے میں کسی بات کا اعتبار نہیں کرتے، اور ان کا حال یہ ہے کہ اگر یہ تم پر غالب آجائیں تو نہ تمہارے بارے میں کسی رشتہ و قرابت کا کوئی پاس ولحاظ کریں اور نہ کسی عہد و پیمان کا۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا ، [ 7] کافروں کیا یک کافرانہ خواہش کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تو چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم بھی کفر کرنے لگو اور اس طرح وہ اور تم ایک برابر ہوجاؤ۔ یعنی اس طرح تم بھی حق کے اس نور سے محروم ہوجاؤ جس سے یہ لوگ محروم ہیں، اور اس طرح تم دونوں باہم برابر ہوجاؤ اپنے حال و مآل دونوں کے اعتبار سے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بار ارشاد فرمایا گیا۔ { ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوائً } [ النسائ : 89 پ 5] تو جب یہلوگ دین و دنیا دونوں کے اعتبار سے تمہارے دشمن ہیں، اور ان کی یہ دشمنی جو ظاہری بھی ہے اور باطنی بھی، اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے تو پھر ان سے تمہاری دوستی کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو یہ بھی قرآن پاک کا ایک معجزہ ہے کہ اس نے ان کے دلوں کی نیتوں اور خباثتوں کو اس طرح آشکار کردیا ہے، مگر وہ اس کا کوئی انکار بھی نہیں کرسکے، پس ایسوں سے نہ تم کسی خیر کی توقع رکھ سکتے ہو، اور نہ ہی ان سے موالات و مودت کا کوئی سوال پیدا ہوسکتا ہے، اور نہ ان کیلئے تمہارے دلوں میں کوئی جگہ ہونی چاہئے۔ پس تم ان سے دور ونفور اور ان سے مجتنب اور محترز ہی رہو، اور اپنے دین و ایمان کی دولت کا ہمیشہ خیال رکھو۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
Ayah 60:3

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن نہ تو تمہاری رشتہ داریاں تمہیں کچھ کام دے سکیں گی اور نہ ہی تمہاری اولادیں اس روز اللہ فیصلہ فرمادے گا تمہارے درمیان اور اللہ خوب دیکھتا ہے ان سب کاموں کو جو تم لوگ کر رہے ہو

[ 8] قیامت کے روز دنیاوی رشتے کچھ کام نہیں آئے گے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے روز نہ تمہارے رشتے ناطے تمہارے کچھ کام آسکیں گے اور نہ ہی تمہاری آل و اولاد، پھر ان کی وجہ سے اللہ پاک اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کرنا کہاں کی دانش مندی ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ، سو یہ تنبیہ ہے ان لوگوں کو جو دینی تقاضوں کے مقابلے میں اپنے رشتوں ناطوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، کہ یاد رکھو یہ چیزیں قیامت کے روز تمہارے کچھ کام آنے والی نہیں ہیں، اس روز یہ سب رشتے ناطے کٹ جائیں گے اور اللہ ایسے لوگوں کے درمیان جدائی ڈال دے گا، پس جو لوگ ایسے رشتوں ناطوں کی بناء پر دینی تقاضوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں وہ اس روز بڑے ہی خسارے میں رہیں گے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس روز قریبی رشتے بھی کٹ جائیں گے اور نہ صرف کٹ جائیں گے بلکہ اس روز گہرے رشتے دار بھی دوسرے کا حال نہ پوچھیں گے حالانکہ ان کو ایک دوسرے کو دکھایا بھی جائے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی طرف تصریح فرمائی گئی کہ " اس روز کوئی گہرا دوست بھی اپنے کسی گہرے دوست سے نہیں پوچھے گا حالانکہ ان کو ایک دوسرے کو دکھایا بھی جائے گا۔ اس رور مجرم انسان یہ تمنا کرے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی، اور اپنے اس قبیلے کو جو اس کو پناہ دیا کرتا تھا اور ان سب لوگوں کو بھی اپنے بدلے میں دے دے جو روئے زمین پر موجود ہیں اور خود بچ جائے " [ المعارج 10-14] مگر ایسے نہ ہوسکتا ہے اور نہ کبھی ہوگا، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔ [ 9] قیامت کا دن فصلو تمیز کا دن ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا اور تم سب کے بارے میں آخری فیصلہ فرما دے گا۔ کہا ہل جنت کو جنت میں داخل فرما دے گا، اور اہلدوزخ کو دوزخ میں، جبکہ یہ قرابت دار اس روز کام آنے کی بجائے دور بھاگیں گے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { یوم یفر المرء من اخیہ۔ واُمہٖ وابیہ۔ و صاحبہ وبنیہ۔ [ عبد 34-36 پ 30] البتہ کہ دینی و ایمانی قرابت وہاں بھی کام آئے گی جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا۔ { الا خلاء یومئذٍ بعضھم لبعض عدوا الا المتقین } [ الزخرف : 67 پ 25] پس دینی و ایمان قرابت ہی کو ہمیشہ کے لئے اپنے پیش نطر رکھو، اللہ توفیق بخشے آمین، بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے اس یوم فضل وتمیز میں نہ رشتے ناطے کچھ کام آسکیں گے اور نہ ہی تمہاری آل و اولاد۔ یہ سب رشتے اس روز کٹ جائیں گے اور جو جو غلط سہارے لوگوں نے قائم کر رکھے تھے وہ سب ختم ہوجائیں گے " ونقطعت بھم الاسباب " سو قیامت کے اس یوم حساب میں حساب جتھوں اور پارٹیوں کی شکل میں نہیں ہوگا بلکہ ہر ایک کا حساب و کتاب انفرادی اور شخصی طور پر ہوگا پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ اسی حقیقت کو ہمیشہ پیش نظر رکھا جائے اور شخصی اور انفرادی طور پر اس یوم حساب کے لئے تیاری کی جائے اور ایمان اور عمل صالح کی دولت کے حصول اور اس کی حفاظت و بقا ہی پر ہمیشہ توجہ مرکوز رکھی جائے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل،
Ayah 60:4

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارے لئے بڑا عمدہ نمونہ ہے ابراہیم اور ان لوگوں (کی زندگیوں) میں جو ان کے ساتھ تھے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ ہم قطعی طور پر بیزار ہیں تم سے بھی اور تمہارے ان جملہ معبودوں سے بھی جن کو تم لوگ پوجتے (پکارتے) ہو اللہ کے سوا ہم نے (ڈنکے کی چوٹ) کفر (وانکار) کیا تم سب سے اور ظاہر ہوگئی تمہارے اور ہمارے درمیان عداوت (و دشمنی) اور بغض (وبیر) ہمیشہ کے لئے یہاں تک تم ایمان لاؤ اللہ واحد پر مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے یہ کہنا (اس سے مستثنیٰ ہے) کہ میں آپ کے لئے (اپنے رب سے) معافی کی درخواست تو ضرور کروں گا مگر میں آپ کے لئے اللہ کی طرف سے کسی بھی بات کا کوئی اختیار نہیں رکھتا (اور اس اعلان بیزاری کے بعد ابراہیم اور ان کے ساتھیوں نے یوں دعاء کی کہ) اے ہمارے پروردگار ہمارا بھروسہ تجھ ہی پر ہے ہم نے تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے (ہم سب نے)

[ 10] اسوہ ابراہیمی کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ تمہارے لیے [ اے مسلمانو !] ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں عمدہ نمونہ ہے۔ یعنی عقیدہ و ایمان کے اعتبار سے کہ اصل اور معتبر قرابت و معیت یہی دین و ایمان اور عقیدہ و مذہب کی قرابت و معیت ہے۔ پس تم لوگوں نے اگر اپنانا ہے تو اسی اسوہء ابراہیمی کو اپناؤ جو کہ دین و ایمان پر مبنی نہایت پاکیزہ اسوہ ہے، اور جو دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے سرفرازی کا ذریعہ اور وسیلہ ہے، اور جس کی اساس و بنیاد یہ ہے کہ دین کا تقاضا دوسرے ہر تقاضے پر مقدم اور فائق ہو۔ سو اس سے منکرین مکہ کو تنبیہ کرتے ہوئے اور ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ان کو یہ درس دیا گیا ہے کہ اگر تم لوگوں کو نمونہ اپنانا ہے تو اپنے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا نمونہ اپناؤ جو کہ ایمان و عقیدہ پر مبنی پاکیزہ نمونہ ہے۔ سو اس سے عمدہ اور قابل تقلید نمونے کی نشاندہی فرما دی گئی ہے کہ وہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کا نمونہ جس کا ایک اہم اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دین و ایمان کی حفاظت کے مقابلے میں ہر رشتہ وتعلق ہیچ اور صفر ہے، کہ دین و ایمان کا تقاضا سب سے مقدم اور سب پر فائق ہے۔ [ 11] مشرکوں سے اظہار براءت و بیزاری کا درس : سو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مشرکوں سے اظہار بیزاری کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی اور اس چیز کا درس دیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم اور اس کے جملہ معبود ان باطلہ سے صاف طور پر براءت فرما دیا تھا، سو اس سے حضرت ابراہیم کے اعلان براءت و بیزاری کے اسوہ و نمونہ کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔ سو دیکھو کہ کس طرح انہوں نے دینی قرابت و رشتہ داری کے مقابلے میں نسلی اور خونی قرابت کو یکسر اور علی الاعلان مسترد کردیا تھا، پس تمہیں بھی ہمیشہ اور ہر موقع پر یہی نمونہ اپنانا چاہیے، سو جب تمہارے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ اسوہء حسنہ اور عمدہ نمونہ تمہارے سامنے موجود ہے کہ انہوں نے اپنی مشرک قوم اور اس کے تمام معبود ان باطلہ سے صاف اور صریح طور پر براءت اور بیزاری کا اعلان کردیا، تو پھر تمہارے لیے اے ایمان والو ! اس بات کی کوئی گنجائش کس طرح ہوسکتی ہے کہ تم کفار و مشرکین سے موالات ومودت کی پینگیں بڑھاؤ ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین [ 12] اسوہ ابراہیمی کی بناید انکار کفر و کفار : سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اہل کفر و باطل کے ساتھ اپنے بغض و عداوت کا صاف اور صریح طور اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ ہم تمہارے منکر ہیں۔ کیونکہ تمکفر پر ہو، اور ہم ایمان لا چکے ہیں تو پھر تمہاری اور ہماری دوستی کس طرح اور کیونکر ممکن ہوسکتی ہے ؟ یہ ہے مومن مخلص کی شان کہ وہ اپنے عقیدہ و ایمان کو اس صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان کرے، اور کفار اور ان کے کفر کا کھلے عام انکار کردے اور اپنے دین و ایمان کے معاملہ میں وہ کسی کی بھی پرواہ نہ کرے، اور اس کی ایمانی قوت اس قدر پختہ اور مضبوط ہوتی ہے کہ کسی طرح کی منافقت یا تقیہ بازی اس کے یہاں راہ نہیں پاسکتی، بلکہ وہ اہل کفر و باطل کے ساتھ اپنے بغض و عداوت کا اعلان کردیتا ہے کہ کسی کیلئے کسی دھوکہ اور شک یا کسی طرح کے طمع و لالچ کی کوئی گنجائش نہ رہے، سو یہ ہے نمونہ اسوہ ابراہیمی کا جس میں اصل و اساس دین و ایمان ہے۔ باقی سب چیزیں بعد میں، دوسرے نمبر پر، اور دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق اور ان کی روشنی میں۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، جل وعلا، [ 13] رشتہ دین و ایمان ہی اصل رشتہ ہے : سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان پر واضح فرما دیا کہ اب ہمارا اور تمہارا کوئی رشتہ نہیں، یہاں تک کہ تم ایمان لے آؤ اللہ واحد پر، کہ اس وقت اور اس صورت میں یعنی جب کہ تم ایسا یمان لے آؤ یہ دشمنی اور بیرنہ صرف یہ کہ ختم ہوجائے گا، بلکہ باہمی محبت و الفت میں تبدیل ہوجائے گا، سبحان اللّٰہ ! کیس ہوتی ہے یہ ایمان قوت اور دینی دوستی و غیرت کہ اس سے انسان کی کایا پلٹ جاتی ہے اور وہ کچھ بن جاتا ہے، اور ایک مومن صادق اس کی خاطر سب کچھ قربان کردینے پر آمادہ ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ خونی رشتے بھی ہیچ ہوجاتے ہیں مگر افسوس کہ آج کے نام نہاد مسلمان نے اس کو چھوڑ کر زبان، رنگ، اور نسل وغیرہ دوسرے ان بےبنیاد اور بےحقیقت چیزوں کو معیار و مدار قرار دے رکھا ہے، جو نہ فضیلت و فوقیت کا معیار و مدار قرار پاسکتی ہیں، اور نہ ہی وہ انسان کے اپنے بس اور اختیار میں ہیں، مگر آج کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے انہی خود ساختہ فوارق و امتیازات کو مدارو معیار بنا رکھا ہے، جس کی بناء پر آج جگہ جگہ اور طرح طرح سے مسلمانوں کے اندر پھٹول ہو رہا ہے، اور قتل و خون ریزی کے بازار گرم ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، جل وعلا، [ 14] حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک استثناء کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اعلان براءت سے متعلق ایک استثناء کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ سوائے ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات کے جو انہوں نے اپنے باپ کے بارے میں کہی تھی۔ کیونکہ یہ بات آنجناب نے اس وقت فرمائی تھی جب کہ آپ (علیہ السلام) کو اپنے باپ کے ایمان لے آنے کی توقع اور امید تھی، اور آپ (علیہ السلام) نے یہ دعا اپنے وعدے کی بناء پر فرمائی تھی جو کہ آپ (علیہ السلام) اس سے فرما چکے تھے، مگر جب آپ (علیہ السلام) کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ ایمان لانے والا نہیں، اور اللہ کے دین کی دشمنی اس کے اندر جڑ پکڑ چکی ہے، تو آپ (علیہ السلام) نے اس سے اعلان بیزاری فرما دیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔ { وما کان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃٍ وعدھا ایاہج فلما تبین لہٗ انہٗ عدوللّٰہ تبرا منہ ط ان ابراہیم لاواۃ حلیم } [ التوبہ : 114 پ 11] اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے ساتھ جو رعایت برتی وہ صرف اس قدر تھی کہ انہوں نے اس سے کہا کہ میں آپ کیلئے اپنے رب سے مغفرت و بخشش کی دعا کرونگا، اور بس، میں آپ کیلئے آپ کے رب کی طرف سے کوئی اختیار نہیں رکھتا ہوگا وہی جو اس کو منظور ہوگا، تاہم میں آپ کیلئے دعا کرونگا کہ آپ بہرحال میرے باپ ہیں۔ [ 15] پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے، علیہم الصلوۃ والسلام : سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے صاف اور صریح طور پر فرمایا کہ میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ میں اختیار نہیں رکھتا کہ جو چاہوں کروں یا اس سے کروا دوں۔ سبحان اللہ ! کیسا صاف اور صریح اعلان وبیان ہے اس حقیقت کا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ کے بارے میں بھی کوئی اکٹیار نہیں رکھتے کہ اس کے دل میں ایمان ڈال دیں، اور اس کو دوزخ کی ہولناک آگ سے بچا لیں، اور جب ابو الانبیاء خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم بھی اس کے حضور کچھ اختیار نہیں رکھتے، تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پاک کی بارگاہ اقدس اعلیٰ میں ایسا کوئی زور و اختیار رکھتا ہو، کہ اس سے جو چاہے کروادے، سو اس سے ان اہل بدعت کی گمراہی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، جنہوں نے طرح طرح کے اپنے عقلی ڈھکوسلوں کی بناء پر حضرات انبیاء ورسل اور دوسرے مختلف حضرات کو حاجت روا، و مشکل کشا اور مختار کل قرار دے رکھا ہے، اور انہوں نے دوسری عاجز و بےاختیار مخلوق کو اللہ پاک کئی صفات اور اس کی خدائی میں شریک وسہیم ٹھہرا رکھا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس سے صاف اور صریح طور پر یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے، کہ جو چاہیں کریں یا کروایں، جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ماننا ہے بلکہ اختیار کلی اللہ وحدہ لاشریک ہی کا خاصہ اور اسی کی صفت ہے، وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے، وہ اگر نہ چاہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ان کے باپ آزر کے حق میں قبول نہ کرے، اور نوح (علیہ السلام) کی دعا ان کے بیٹے کے حق میں اور حضرت خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی دعا ان کے چچا عمر وبن ہشام کے حق میں قبول نہ فرمائے، کہ وہ حاکم مطلق بھی ہے اور حکیم معالق بھی، جو چاہے اور جیسا چاہے کرے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس مختار کل اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے، والامر بیدہ سبحانہ و تعالیٰ بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملہم الصدق والصواب، والھادی الی الحق والرشاد جل جلالہٗ ، [ 16] پیغمبر (علیہ السلام) کا بھروسہ و اعتماد بھی اللہ تعالیٰ ہی پر : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے موحد ساتھیوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار ہمارا بھروسہ تجھ ہی پر ہے کہ تو ہی حاجتوں کو پورا کرنے والا اور مشکلات و مصائب کو دور فرمانے والا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ سب کچھ اے ہمارے خالق ومالک ! تیرے ہی قبضہء قدرت و اختیار میں ہے، اسی لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں نے صاف اور صریح طور پر اس حقیقت کا اعلان و اظہار کیا کہ توکل و اعتماد اور بھروسہ کے لائق اللہ وحدہٗ لاشریک ہی کی ذات اقدس اعلیٰ ہے، ہم سب کا بھروسہ و اعتماد اسی پر ہے، اور اس طرح یہ حضرات رہتی دنیا تک کیلئے یہ درس عبرت و بصیرت چھوڑ گئے کہ نفع و نقصان اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے سب اختیارات اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہیں، اور بھروسے اور اعتماد کے لائق صرف اسی کی ذات اقدس و اعلیٰ ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ باقی سب اس کے بندے اور ہمیشہ ہر حال میں، اور ہر لحاظ و اعتبار سے اسی کے بندے اور اسی کے محتاج ہیں، اور ان کا کام اسی کے حضور اپنی دعا والتجا پیش کرنا ہے اور بس۔ پس غلط کہتے اور گمراہی کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو اپنے خد ساختہ اور من گھڑت اور فرضی اور وہمی حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے آگے جھکتے اور طرح طرح کی شرکیات کا درس دیتے اور اس کی تبلیغ و پرچار کرتے ہیں، مگر ان کو اس احساس ہی نہیں کہ اس طرح یہ لوگ کتنے بڑے خسارے میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الیٰ سواء الصراط، [ 17] انابت و رجوع الی اللہ کے درس کا ذکر وبیان : سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں نے انابت الی اللہ کا درس دیتے ہوئے اللہ کے حضور عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہم نے تیری طرف رجوع کیا کہ سب کا مرجع و مادی اے ہمارے مالک ! تو ہی تو ہے، تو ہی سب کا آسرا و سہارا اور سب کا حاجت روا و مشکل کشا اور کارفرما و کارساز ہے، کفر و شرک کی ماری ہوئی اور اس بگڑی ہوئی قوم کے مقابلے میں تو ہی ہماری مدد فرما، سو حضرات انبیاء کرام اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے اولوالعزم نبی و رسول جو کہ ابو الانبیاء اور جد الانبیاء کہلاتے ہیں، ان کا اسوہ و نمونہ توبہ ہے کہ انابت ورجوع اللہ تعالیٰ ہی کی طرف اور بھروسہ و اعتماد اسی پر ہو کہ سب کا حاجت روا اور مشکل کشا ہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ لیکن آج کا جاہل مسلمان اور کلمہ گو مشرک ہے کہ اس نے طرح طرح کے فرضی اور دہمی حاجت روا و مشکل کشا گھڑ رکھے ہیں اور بدعتی و مشرک ملاں اپنے پیٹ کی پوجا کیلئے ایسے جاہلوں کی پیٹھ ٹھونکے جا رہا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، قالی اللّٰہ المشتکی وھو المستعان، علیہ التکلان۔ وبکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الیٰ سواء الصراط، جل جلالہٗ وعم نوالہٗ [ 18] سب کا رجوع بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کی طرف : سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں نے اپنی دعا میں مزید عرض کیا کہ اے ہمارے رب تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے ہر کسی نے۔ یعنی قیامت کے روز، جہاں ہر کسی نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا بھرپور بدلہ پانا ہے۔ پس ہر مومن کو ہمیشہ اور ہر حال میں اس مصیر محتوط اور انجام اخیر کو یاد رکھنا اور اس کی کامیابی کے لئے کوشاں رہنا اور یہی دعا کرتے رہنا چاہیے تاکہ ان کیلئے اپنے ایمان و یقین کی تازگی و پختگی کا سامان بھی ہوتا رہے اور اپنے مآل و انجام کا استحصار بھی رہے، اور اپنے خالق ومالک کی حفاظت و عنایت بھی ان کے شامل حال رہے، سو حضرت ابراہیم علیہالسلام اور آپ کے ساتھیوں کی یہ دعا اس حقیقت کو طاہر اور واضح کردیتی ہے کہ بندے کا ہر کام اور اس کا نیک سے نیک ارادہ بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت ہی سے انجام پذیر ہوتا اور تکمیل کو پہنچتا ہے اس لیے اس کو ہر قدم اسی وحدہ لاشریک کے بھروسے پر اٹھانا چاہئے، اور اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں سرخرو و کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے دل ہر وقت اسی کی طرف جھکے رہتے ہیں اور جن کے اندر یہ اعتماد و یقین راسخ ہوتا ہے کہ ان کو بالآخر اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے، اور وہاں پہنچ کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ نیکی اور خیر کی صورت میں عمدہ اور بہترین پھل، جو جنت کی بےمثال اور سدا بہار نعمتوں کی صورت میں ملے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نصیب فرمائے، اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین، جبکہ بروں کو ان کے برے اعمال کا برا پھل دوزخ کے ہولناک عذابوں کی صورت میں ملے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، سبحانہ وتعالیٰ ، اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، ویا دائم الفضل والاحسان،
Ayah 60:5

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہمیں فتنہ (اور آزمائش کا سامان) نہ بنانا کافروں کے لئے اور بخشش فرمادے ہم سب کی اے ہمارے رب بلاشبہ تو ہی ہے سب پر غالب بڑا ہی حکمت والاف 1

[ 19] فتنوں سے پناہ کی دعا و درخواست کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنے رب کے حضور اپنی دعا میں مزید عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہمیں فتنہ نہ بنانا کافروں کیلئے۔ کہ وہ ہم پر غالب آکر ہم پر ظلم و ستم کرنے لگیں، اور اپنی اس کامیابی کو وہ اپنی حقانیت کی دلیل قرار دے کر حق سے اور دور ہوجائیں، اور دوسروں کو بھی راہ حق و ہدایت سے دور اور محروم کرنے لگیں، نیز یہ کہ ہمارے اندر کوئی ایسی کمزروی پیدا نہ ہونے پائے جس سے ہمارے دشمنوں کو ہم پر عیب گیری کا موقع ملے، سو فتنہ کی نکارت و تعمیر ایسی سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے، ہم نے تیری توحید کی عزت و حمیت میں ان مشرکوں سے اعلان براءت کردیا ہے، اب ان کی طرف سے جو بھی پچھ پیش آئے ہم اس کیلئے سینہ سپر ہیں، ہمارا بھروسہ تیری ہی مدد پر ہے، پس تو اے ہمارے مالک ! ان کو اتنی ڈھیل نہ دینا کہ یہ ہمیں اپنے مظالم کا تختہ مشق بنالیں، اور ہمیں ہمیشہ اور ہر مرحلے پر اپنی نصرت و امداد اور عنایت خاص سے نوازنا۔ [ 20] اللہ تعالیٰ سب پر غالب ہے، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ تو ہی سب پر غالب ہے اے ہمارے مالک ! پس تو جو بھی کچھ کرنا چاہے کرسکتا ہے، اس میں کوئی بھی قوت آڑے نہیں آسکتی۔ پس تو ہماری خطاؤں اور لغزشوں کو معاف فرما دے، تاکہ ہمارے دشمن ہمیں کمزور پاکر اپنی ستم رانیوں کا ہدف نہ بنالیں، تیرے اختیار میں سب کچھ ہے تو ہر چیز پر غالب ہے، تو جو چاہے کرسکتا ہے، کہ تو سب پر غالب ہے تیرا ہاتھ کوئی نہیں پکڑ سکتا، اور تیرے باغی اور دشمن خواہ دنیاوی اعتبار سے اور ظاہری طور پر کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں وہ تیرے سامنے کچھ بھی نہیں اور کسی بھی طرح تجھے عاجز نہیں کرسکتے کہ زمین و آسمان کی پوری کائنات میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اللہ کو عاجز کرسکے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { وما کان اللّٰہ لیعجزہ من شیء فی السموت ولا فی الارض انہٗ کان علیما قدیرا۔} [ فاطر : 44 پ 22] یعنی " اللہ ایسا نہیں " کہ اس کو کوئی چیز عاجز کر دے آسمانوں [ کی بلندیوں ] میں اور نہ زمین [ کی پستیوں ] میں "۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ [ 21] اللہ تعالیٰ بڑا ہی حکمت والا ہے، سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ تو بڑا ہی حکمت والا ہے۔ پس کوئی سمجھے یا نہ سمجھے تیرا ہر کام بہرحال حدو درجہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے " تبارکت وتعالیت " اس لیے ہم اپنا معاملہ " کلیۃً " تیرے ہی حوالے کرتے ہیں تو جو کرے گا اسی میں حکمت اور بہتری ہوگی، سو اس میں کامل تفویض کا درس ہے جو کہ مومن صادق کی اصل قوت اور اس کے اطمینان اور سکون قلب کا سب سے بڑا ذریعہ و وسیلہ ہے، کہ وہ اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے کر دے اور اسی کی رحمت و عنایت کی امید رکھے۔ اور اس کی قدرت و حکمت پر مطمئن ہوجائے۔ اور اسی میں اس کا بھلا اور بہتری ہے دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ جو اس دنیا کے بعد آنے والا ہے، اور جہاں کی زندگی اصل اور حقیقی زندگی ہوگی۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارے لئے (اے مسلمانو ! ) بڑا عمدہ نمونہ ہے ان لوگوں (کی زندگیوں) میں یعنی ہر اس شخص کے لئے جو امید رکھتا ہو اللہ (سے ملنے) کی اور قیامت کے دن (کے آنے) کی اور جو کوئی روگردانی کرے گا تو (وہ یقینا اپنا ہی نقصان کرے گا کہ) بیشک اللہ (سب سے اور ہر طرح سے) غنی (و بےنیاز اور) اپنی ذات میں آپ محمود ہے2

[ 22] عقیدہ آخرت اصلاح احوال کی اصل اساس : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کا اعتقاد و یقین اصلاح احوال کیلئے اہم اساس اور بنیاد ہے۔ نیز اس سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ اس اسوہ حسنہ سے فائدہ ایسے ہی لوگ اٹھا سکتے ہیں، ورنہ یہ نمونہ تو سب کے لئے عام ہے، معلوم ہوا کہ عقیدہ آخرت، اصلاح احوال کی اصل اساس اور بنیاد ہے، اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ اس کے بغیر انسان سبجیدہ نہیں ہوتا، اور جب کوئی شخص کسی امر کے بارے میں سنجدیہ نہیں ہوتا وہ بات کو توجہ سے سنتا ہی نہیں، اور جب کوئی کسی کی بات کو توجہ سے سننے ہی کے لئے تیار نہ ہو تو اس کیلئے اس سے مستفید ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ پس قیامت کے دن کا اعتقاد اور یقین سب سے اہم اساس اور بنیاد ہے انسان کی اصلاح کی، کیونکہ جو اللہ کی نصرت و امداد کی امید رکھتا ہوگا اور آخرت کی پیشی اور وہاں کے حساب کتاب سے ڈرتا ہوگا وہی ایسی آزمائشوں میں پورا اتر سکتا ہے۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ دونوں باتیں راسخ نہیں ہوں گی وہ یہ بازی نہیں کھیل سکیں گے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو العزیز الوھاب، سبحانہ وتعالیٰ ۔ [ 23] اللہ پاک کی شان بےنیازی اور اس کے ایک اہم مقتضٰی کا ذکر وبیان : سو اللہ پاک کی شان بےنیازی کے اس ذکر وبیان سے اسوہ ابراہیمی سے منہ موڑنے والوں کے لیے ایک تنبیہ و تذکیر فرما دی گئی کہ اس طرح کے اغراض و روگردانی کا نقصان خود ایسے لوگوں کو ہوگا نہ کہ اللہ پاک کا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ وہ سب سے غنی و بےنیاز ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی اس سے اعراض و روگردانی برتے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گانہ اللہ کا، کہ یقینا اللہ بڑا ہی بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ پس اس کو نہ تو کسی کی روگردانی کی کوئی پرواہ ہے، اور نہ کسی کی حمد وثناء کی کوئی حاجت و ضرورت، وہ اس سب سے غنی و بےنیاز ہے، جل جلالہ پس کوئی اگر اچھائی کرتا ہے تو اپنے ہی لیے کرتا ہے، اور برائی کرتا ہے تو اس کا وبال بھی خود اسی پر ہوگا، والعیاذ باللّٰہ، اللہ پاک بہرحال ہر کسی سے اور ہر اعتبار سے غنی و بےنیاز ہے، اور اس کائنات میں جہاں بھی اور جس صورت و شکل میں بھی کوئی خوبی اور اچھائی پائی گئی، یا پائی جاتی ہے، یا پائی جائے گی، اس سب پر اصل تعریف اور حمد و ثنا کا مستحق وہی وحدہٗ لاشریک ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، کہ یہ سب کائنات اور اس کی ہر چیز اسی کی پیدا کردہ اور اسی کی نظر عنایت کی مرہون منت ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس میں اسوہ ابراہیمی سے اعراض و روگردانی برتنے والوں کے لیے تنبیہ و تذکیر ہے کہ ایسا کرنے والے فوزو فلاح کے راستے سے محروم ہو کر خود اپنا ہی نقصان کریں گے، نہ کہ اللہ کا، کہ وہ ایسے ہر تصور سے پاک و اعلیٰ وبالا اور ہر کسی سے اور ہر اعتبار سے غنی و بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، جل وعلا،
Ayahs 60:7–8

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

بعید نہیں کہ اللہ محبت ڈال دے تمہارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جن سے آج تمہاری دشمنی ہے کہ اللہ بڑی ہی قدرت والا ہے اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا سلوک کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے نہ تو دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی اور نہ ہی انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا بلاشبہ اللہ پسند فرماتا (اور محبت کرتا) ہے انصاف کرنے والوں سے

[ 24] اہل صدق و صفا کے لیے ایک عظیم الشان بشارت : سوا رشاد فرمایا گیا، اور مومنین صادقین کے لیے عظیم الشان بشارت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " بعید نہیں کہ اللہ تمہارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان محبت ڈال دے کہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی قدرت والا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے "۔ پس تمہیں اپنے اہل کفر رشتہ داروں سے بائیکاٹ اور قطع تعلقی میں زیادہ گرانی نہیں ہونی چاہیے، اس طرح ان حضرات کو ان کے رشتہ داروں کے ایمان لانے کی امید دلائی گئی، اور امام رازی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ یہ دراصل اللہ پاک کی طرف سے ایک وعدہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں انقلاب آئے گا، اور وہ نور ایمان سے مشرف ہوں گے، چناچہ ایسے ہی ہوا کہ اس کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد فتح مکہ کے موقع پر اللہ پاک کا یہ وعدہ پورا ہو کر رہا، جب کہ وہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو رہے تھے، [ خازن، کبیر وغیرہ ] والحمدللّٰہ رب العالمین۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں اہل صدق و صفا کیلئے ایک عظیم الشان بشارت ہے کہ آج تم لوگ اللہ کے دین اور اس کی رضا کے لیے اپنے کافر رشتہ داروں سے جس علیحدگی بائیکاٹ اور دشمنی کا اعلان کرو گے تو اس کے بارے میں یہ نہ سوچنا کہ یہ دشمنی ہمیشہ رہے گی بلکہ امید رکھو کہ اللہ اس کو محبت سے بدل دے گا اور وہ ایمان لاکر تم سے گلے ملیں گے۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنا ہی بنائے رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، [ 25] اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ پاک کی قدرت کاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑی ہی قدرت والا ہے۔ اس لئے وہ جو چاہئے جب چاہئے اور جیسے چاہے کرسکتا ہے، اس کے لئے نہ کچھ مشکل ہے، اور نہ ہی اس کی قدرت سے کچھ بعید ہوسکتا ہے، تمہارے خیال میں اس وعدہ کا پورا ہونا اگرچہ بڑا مشکل اور بعید از قیاس ہو، مگر اللہ پاک کی قدرت بےنہایت کے سامنے یہ کچھ بھی مشکل نہیں، سبحانہ وتعالیٰ ، وہ اگر چاہے تو جانی دشمنوں کو جگری دوست بنا دے، پس خیر اس کے اوامرو ارشادات کی اتباع اور پیروی ہی میں ہے، خواہ کسی کو سمجھ آئے یا نہ آئے، اس لیے بندے کو بلاچوں و چرا صدق و اخلاص سے اس کے ہر حکم پر لبیک کہنا چاہیے، وباللّٰہ التوفیق۔ یہاں پر اللہ پاک کی قدرت کاملہ کے حوالے ساتھ ساتھ اس کی صفت غفور اور رحیم کا حوالہ بھی دے دیا گیا۔ جس سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ وہ رب غفور و رحیم ایسا نہیں کہ عذاب دینے کے لیے بہانے ڈھونڈے بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے بندوں کی مغفرت و بخشش فرمانے اور ان کو اپنی رحمت و عنایت سے نوازنے کے لیے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس کے بارے میں اس طرح کا کوئی گمان نہیں رکھنا چاہئے کہ وہ اپنے کٹر دشمنوں کو بھی لازماً عذاب ہی دے گا اور وہ ہمیشہ اس کے دشمن ہی رہیں گے۔ عجب نہیں کہ اس کی رحمت کا کوئی چھینٹا ان پر ایسا پڑجائے جس سے ان کے لیے توفیق خیر اور قبول حق کی راہ کھل جائے۔ فاغفرلی وارحمنی یا ربی وخذنی بناصیتی الیٰ ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ارحم الراحمین۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 60:9

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ تو تمہیں تو روکتا ہے ان لوگوں (کی دوستی) سے جنہوں نے تم سے جنگ کی دین کے معاملے میں اور انہوں نے تمہیں نکال باہر کیا تمہارے اپنے گھروں سے اور انہوں نے تمہارے اخراج کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی اور (یہ روکنا بھی اس لئے ہے کہ) جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو ایسے ہی لوگ ظالم ہوں گے

[ 82] ظالموں سے دوستی بھی ظلم ہے۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تمہیں ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنہوں نے دین کے بارے میں تم سے جنگ کی کہ یہ اللہ پاک کے حکموں کو توڑتے ہیں اور اللہ اور اس کے دین کے دشمن ہیں اور دلی دوستی جو کہ اللہ، اس کے رسول اور مسلمانوں کا حق تھا، اس کو جو لوگ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ قائم کرتے ہیں وہ ظالم ہیں، کہ اس طرح یہ لوگ اپنی جانوں کے لئے عذاب کا سامان کرتے ہیں، تو یہ ظلم ہو اللہ پاک کے حقوق کے بارے میں بھی، دوسرے مسلمانوں کے حق میں بھی، اور خود ان لوگوں کی اپنی جانوں پر بھی، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد کے ذریعے صراحت کے ساتھ بتادیا گیا کہ اللہ تم کو کن لوگوں سے روکتا ہے، اور خاص طور پر کس چیز سے روکتا ہے۔ سو وہ روک تم کو ان لوگوں سے رہا ہے جنہوں نے دین کے بارے میں تم لوگوں سے جنگ کی، اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے، یا تمہارے نکالنے میں تمہارے دشمنوں کی مدد کی ہے، اور روک جس چیز سے رہا ہے وہ یہ ہے کہ تم ان کو اپنا دوست بناؤ اور بس، ورنہ وہ عدل و احسان سے نہیں روکتا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ عدل و انصاف کی بنیاد تو قانون، معاہدے، اور معروف پر ہوتی ہے۔ اس میں مومن و کافر اور دوست دشمن سب برابر ہوتے ہیں۔ اس میں اس طرح کے کسی فرق و امتیاز کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ قانون، معاہدے اور عرف کا جو تقاضا ہوگا وہ بہرحال پورا کرنا ہوگا۔ اس میں اس امر سے کوئی بحث نہیں ہوتی کہ معاملہ دوست کا ہے یا دشمن کا۔ سو جو لوگ اس تنبیہ وتحذیر کے بعد بھی کافروں سے موالات اور دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہوں گے کیونکہ ظالموں سے دوستی بھی ظلم ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس ولاء اور براء میں سے ہر ایک کا مدار دین و ایمان پر ہونا چاہئے، کہ جو دین والا ہے وہ اپنا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو، اور جو دین والا نہیں اس سے ہمارا کوئی واسطہ اور تعلق نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین،