Ayah 60:1حاطب کا خط :
1 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُ وَّکُمْ اَوْلِیَآ ئَ (اے ایمان والو تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنائو)
روایت میں ہے کہ ابو عمرو بن صیفی بن ہاشم کی لونڈی جس کو سارہ ؔ کہا جاتا تھا۔ مدینہ منورہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اسوقت حاضر ہوئی جبکہ آپ غزوئہ فتح مکہ کی تیاری میں مصروف تھے۔ آپ نے فرمایا کیا تو مسلمان ہوکرآئی ہے کہنے لگی نہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تو وطن چھوڑ کر آئی ہے۔ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر تو کس وجہ سے آئی ہے ؟ کہنے لگی میں سخت محتاج ہوگئی ہوں۔ آپ نے بنی عبدالمطلب کو اس کی امداد کیلئے کہا۔ انہوں نے اس کو کپڑے، اور سواری بمعہ زاد راہ عنایت کی۔ پھر وہ حاطب بن ابی بلتعہ ( جو بدری تھے اور بنی اسد بن عبدالعزیٰ کے حلیف تھے) کے پاس آئی۔ انہوں نے اس کو دس دینار اور پہننے کی چا در دی۔ اور اس کو اہل مکہ کے نام ایک خط دیا۔ جس کی تحریریہ تھی۔ یہ حاطب بن ابی بلتعہ کا خط اہل مکہ کے نام ہے خبردار ہوجائو۔ اللہ تعالیٰ کے رسول تم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ تم اپنی احتیاطی تیاری کرلو۔ سارہ خط لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئی۔ جبرئیل (علیہ السلام) خبر لے کرآئے۔ رسول اللہ ﷺ نے علی، عمار، عمر، طلحہ، زبیر، مقداد، ابومرثد پر مشتمل شاہ سواروں کا دستہ روانہ فرمایا۔ آپ نے فرمایا تم چلتے رہو تآنکہ روضہ خاخ میں پہنچو۔ وہاں ایک اونٹ سوار عورت تمہیں ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے۔ جو حاطب نے اہل مکہ کے نام تحریر کیا ہے ؟ وہ خط اس سے وصول کرلو۔ اور اس عورت کا راستہ چھوڑدو۔ اگر وہ انکاری ہو تو اس کی گردن اڑا دو ۔
اس دستہ نے اس کو روضہ خاخ میں جا پکڑا۔ اس نے اولاً قسم اٹھا کر خط سے انکار کردیا۔ سب نے لوٹنے کا ارادہ کیا تو علی مرتضیٰ ؓ نے کہا اللہ کی قسم ہمیں جھوٹی بات نہیں کہی گئی۔ اور نہ اللہ کے رسول اللہ ﷺ کو غلط بات بتلائی گئی ہے۔ آپ نے تلوار سونتی اور اس کو دھمکایا خط نکالو۔ ورنہ تیرا سر جدا کردیا جائے گا۔ اس نے اپنے بالوں کی چوٹی سے رقعہ نکال کر ان کے حوالہ کردیا۔
فتح مکہ کے دن جن کو امن نہ ملا اس میں یہ بھی شامل تھی :
روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح کے دن تمام کو امن دے دیا سوائے چار کے ان میں یہ بھی شامل تھی۔ خط لایا گیا آپ نے حاطب کو طلب کیا۔ اور فرمایا یہ حرکت تو نے کیوں کی۔ تو حاطب نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے اسلام لانے کے دن سے آج تک کفر نہیں کیا۔ اور جب سے آپ کا خیر خواہ بنا۔ آپ کو دھوکا نہیں دیا۔ جب سے مکہ والوں سے جدا ہوا اس وقت سے آج تک ان کو پسند نہیں کیا۔ لیکن میں قریش کا حلیف ہوں۔ قریش میں سے نہیں ہوں۔ آپ کے ساتھ جتنے مہاجرین ہیں۔ ان تمام کی قرابات قریبیہ مکہ میں پائی جاتی ہیں۔ جس کی بناء پر وہ اپنے اہل واموال کی حفاظت کرتے ہیں۔ مجھے اپنے اہل کے متعلق خطرہ پیدا ہوا۔ میرا ارادہ یہ ہوا کہ میں ان پر احسان کر دوں۔ اور یہ مجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی سزا نازل فرمائے گا۔ میرے خط سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ آپ نے ان کی بات کو مان کر ان کی معذرت کو قبول کرلیا۔ عمر ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت ہو تو میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عمر تمہیں کیا معلوم اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے دلوں کو جھانکا ہے۔ اور ان کو فرما دیا ہے اعملوا ماشئتم فقد غفرت لکم اس پر عمر ؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ پس یہ آیات نازل ہوئیں۔ یٰٓایھا الذین امنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء۔ (واحدی فی اسباب النزول۔ 281، 283) (قال الحافظ فیہ مخالفۃ شدیدۃ لما فی الصحیحین۔ والاصل فی الصحیحین)
اتخذ کو دو مفعولوں کے ساتھ متعدی کیا گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے نمبر 1۔ عدوی نمبر 2۔ اولیاء۔ العدو یہ عدا سے فعول کا وزن ہے۔ مثلاً عفوازعفا۔ لیکن یہ مصدر کے وزن پر ہو تو جملے کیلئے اسی طرح استعمال ہوتا ہے۔ جیسا واحدکیلئے۔
مسئلہ : گناہ کبیرہ سے ایمان سلب نہیں ہوتا۔ تُلْقُوْنَ ( تم بناتے ہو) لاتتخذوا کی ضمیر سے حال ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے لا تتخذوھم اولیاء ملقین تم ان کو دوست نہ بنائو اس حال میں کہ وہ دوستی جتانے والے ہوں۔ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ (کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو) نمبر 1۔ یہ وقف کے بعد جملہ مستانفہ ہے تو بیخ والقاء کیلئے لائے اور ان تک دوستی پہنچانے کی تعبیر ہے۔ المودۃؔ پر باء زائدہ ہے۔ اور تعدی کی تاکید کیلئے ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ ] البقرہ : 195[ یا باء کو قائم رکھا جائے۔ اس طرح کہ تلقون کا مفعول محذوف ہے۔ اور اس کا معنی یہ ہے تلقون الیھم یہ رسول اللہ ﷺ کو سبب مودت کی خبردی ہے جو تمہارے اور ان کے مابین ہے۔
وَقَدْ کَفَرُوْا (حالانکہ وہ اس کے منکر ہیں اس کے جو تمہارے پاس سچا دین آچکا) یہ لاتتخذوا سے حال ہے یا تلقون سے حال ہے۔ مطلب اس طرح ہوگا۔ لاتتولوھم اوتوادونہم ؟ تم ان سے دوستی نہ کرو کیا تم ان سے دوستی کرتے ہو حالانکہ ان کا حال یہ ہے۔ بِمَا جَآ ئَ کُمْ مِّنَ الْحَقِّ الحق سے دین اسلام اور قرآن مجید مراد ہے۔ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِیَّاکُمْ (وہ شہر بدر کرچکے رسول اللہ ﷺ اور تم کو) یہ جملہ مستانفہ ہے جو ان کے کفر اور غلو و سرکشی کی تفسیر ہے۔ نمبر 1۔ یہ الذین کفروا سے حال ہے۔ اَنْ تُؤْمِنُوْا ( یہ کہ تم ایمان لائو) یہ یخرجون کی علت ہے۔ یعنی یخرجونکم من مکۃ لایمانکم باللہ ربکم وہ مکہ سے تمہیں نکالنے والے ہیں۔ تمہارے اللہ تعالیٰ پر ایمان کی وجہ سے جو تمہارا رب ہے۔ بِاللّٰہِ رَبِّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ (اس لئے کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لائے۔ اگر تم میرے راستہ میں جہاد کی غرض سے نکلے ہو) ان کنتم یہ لاتتخذوا کے متعلق ہے تقدیر کلام اس طرح ہے لاتتولوا اعدائی ان کنتم اولیائی۔ تم ان سے دوستی مت کرو اگر تم میرے دوست ہو۔
نحویوں کے نزدیک : یہ شرط ہے اور اس کا جواب ماقبل کی دلالت کی وجہ سے محذوف ہے۔
جِھَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ ( جہاد کرنے کے لئے میری راہ میں) یہ مصدر ہے جو حال کی جگہ ہے تقدیرکلام اس طرح ہے۔ ان کنتم خرجتم مجاہدین فی سبیلی۔ وَابْتِغَآ ئَ مَرْضَاتِیْ (اور میری رضا مندی ڈھونڈنے کیلئے نکلے ہو) یہ ابتغاء مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہے۔ میری رضا مندیاں چاہنے والے ہو۔ تُسِرُّوْنَ اِلَیْہِمْ بِالْمَوَّدَۃِ (تم چپکے چپکے ان سے دوستی کی باتیں کرتے ہو) ۔ یعنی تم اپنی خفیہ دوستی ان تک پہنچاتے ہو۔ یا دوستی کے سبب تم رسول اللہ ﷺ کے اسرار خفیہ ان تک پہنچاتے ہو۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَا اَخْفَیْتُمْ وَمَآ اَعْلَنْتُمْ (اور میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو) مطلب یہ ہے کہ تمہاری راز داری کا کیا فائدہ جبکہ تمہارا راز معلوم ہوگیا۔ اعلان و اخفاء تو میرے علم کی دو قسمیں ہیں۔ اور میں نے اپنے رسول ﷺ کو تمہارے راز کی اطلاع دے دی ہے۔ وَمَنْ یَّفْعَلْہُ (اور جو شخص تم میں سے ایسا کرے گا) ہٗ سے مراد یہ رازداری مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآ ئَ السَّبِیْلِ (وہ راہ راست سے بھٹک جائے گا) اس نے حق وصواب کا راستہ بھلا دیا چھوڑ دیا۔
Ayah 60:2کفار کی تمنا :
2 : اِنْ یَّثْقَفُوْکُمْ (اگر ان کو تم پر دسترس ہوجائے) اگر وہ تم پر کامیابی اور اختیار پالیں۔ یَکُوْنُوْا لَکُمْ اَعْدَآ ئً (تو اظہار عداوت کرنے لگیں گے) وہ خالص دشمنی کرنے والے ہونگے وہ تمہاری طرح دوستی کرنے والے نہ ہونگے۔ وَّ یَبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ وَاَلْسِنَتَھُمْ بِالسُّوْئِٓ (وہ دست درازی کریں گے اور برائی کے ساتھ تم پر زبانیں چلائیں گے) یعنی گالم گلوچ اور قتل پر اتر آئیں گے۔ وَوَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ (وہ متمنی ہیں کہ تم کافر ہوجائو) ان کی تمنا یہ ہے کہ کاش تم اپنے دین سے مرتد ہوجاتے۔ ایسے لوگوں کی دوستی تمہاری طرف سے بڑی عظیم غلطی ہے۔
ایک نکتہ :
شرط کے موقع پر ماضی مضارع کی جگہ استعمال ہوجاتی ہے۔ مگر اس میں ایک نکتہ ہوتا ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا وودواقبل کل شیٔ کفرکم وارتدادکم یعنی انہم یریدون ان یلحقوا بکم مضار الدنیا والدین من قتل الانفس و تمزیق الاعراض ورد کم کفارا۔ ان کو تمہارا کفر و ارتداد ہر چیز سے مقدم ہے۔ یعنی وہ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں دنیا میں دکھ پہنچے اور دین کا بھی نقصان ہو جیسے قتل نفوس، عزتوں کا لٹنا اور تمہارا کفر کی طرف لوٹنا وغیرہ۔ یا نمبر 2۔ اس سے زیادہ نقصان جو ان کو تمہارے متعلق مطلوب ہے وہ تمہارا کفر کی طرف لوٹ جانا ہے۔ یہ ان کے ہاں اولین حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دین تو تمہیں اپنی جانوں سے عزیز تر ہے۔ اس لئے کہ دین کیلئے تم اپنی جانیں نچھاور کردیتے ہو۔ اور دشمن کے ہاں اہم ترین چیز یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالف کی اہم ترین متاع کا قصد کرے۔
Ayah 60:33 : لَنْ تَنْفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ (ہرگز تمہارے کام نہ آئیں گی تمہاری رشتہ داریاں) قرابت داریاں۔ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ (اور نہ تمہاری اولادیں) جن کی وجہ سے تم کفار سے موالات برتنے والے ہو۔ اور ان کو بچانے کیلئے کفار کے ہاں قرب حاصل کرتے ہو۔ پھر فرمایا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ (قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا) اور تمہارے اقارب اور اولاد کے مابین جبکہ ہر شخص کا یہ حال ہوگا : یوم یفرالمؤمن اخیہ الاٰیۃ ] عبس : 34[ پھر تم اللہ تعالیٰ کے حق کا آج اس کی خاطر انکار کرتے ہو جو کل تم سے بھاگ جائے گا اور تمہارے ذرا بھر کام نہ آئے گا۔
قراءت : عاصم نے یَفْصِلُ علی، حمزہ نے یُفَصِّل اور فاعل اللہ عزوجل ہیں۔ ابن ذکوان نے یُفَصَّلُ اور دیگر قراء نے یُفْصَلُ پڑھا ہے۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال کو خوب دیکھتا ہے) پس وہ تمہارے اعمال پر تمہیں بدلہ دیگا۔
Ayah 60:4بیزاری کا عمدہ نمونہ :
4 : قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ (تمہارے لئے ایک عمدہ نمونہ ہے) اھل سے بیزاری کا عمدہ نمونہ حَسَنَۃٌ فِیْ اِبْرٰھِیْمَ (ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی اور قول میں) یہاں اقوال مراد ہیں اسی لئے اس سے قول ابراہیم کو مستثنیٰ کیا۔ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ (اور وہ لوگ جو ان کے ساتھی تھے) ایمان والے ایک قول یہ ہے وہ انبیاء (علیہم السلام) تھے۔ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِھِمْ اِنَّا بُرَئٰٓ ؤُا مِنْکُمْ (جب ان سب نے اپنی قوم سے کہہ دیا کہ ہم تم سے) برئٰٓ ؤا جمع بریٌ جیسے ظریف جمع ظرفاء وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَاوَبَیْنَکُمُ الْعَدَوَاۃُ (اور ان سے جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو۔ بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (مذہب ‘ عقیدہ ‘ عمل کے) منکر ہیں۔ اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کیلئے بغض و عداوت پیدا ہوگئی) افعال کے ذریعہ وَالْبَغْضَآ ئُ (بغض دلوں میں) اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ (جب تک کہ تم اللہ تعالیٰ و احد پر ایمان نہ لائو) پس اس وقت ہم تمہاری عداوت ترک کردیں گے۔ اِلَّاقَوْلَ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ (مگر اتنی بات ابراہیم کی تو اپنے باپ سے ہوئی تھی کہ ابراہیم نے کہا تھا) میں تمہارے لئے معافی کی درخواست کرونگا) اور یہ بات بھی اس وعدے کی بنیاد پر تھی جو انہوں نے رخصت ہوتے ہوئے کیا تھا۔ موعدۃ وعدھا ایاہ۔ ] التوبہ : 114[ مطلب یہ ہے کہ تم ابراہیم کے تمام اقوال میں ان کی اقتداء کرو صرف کافر باپ کیلئے استغفار میں ان کی پیروی مت کرو۔ وَمَآ اَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ (اور اس سے زیادہ مجھے اللہ تعالیٰ کے آگے کسی بات کا اختیار نہیں) یعنی ہدایت، مغفرت اور توفیق کا۔ یہ جملہ استثناء کے لائق نہیں ہے۔ کیا تم ان کا یہ قول نہیں دیکھتے۔ قل فمن یملک لکم من اللہ شیئا ] الفتح : 11 [ لیکن مراد والد کو کہی جانے والی تمام بات کا استثناء ہے اور اس سے بھی مقصود استغفار کے وعدہ کی حد تک ہے اور اس کا مابعد اس کا تابع ہے گویا انہوں نے اس طرح کہا استغفرلک ومافی طاقتی الا الاستغفار۔ میں تیرے لیے استغفار کروں گا اور میری طاقت میں سوائے استغفار کے اور کوئی چیز نہیں۔ رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا (اے ہمارے رب ہم نے آپ ہی پر توکل کیا) یہ استثناء کے ماقبل سے متصل ہے۔ اور یہ بھی من جملہ ان چیزوں میں سے ہے جن میں ان کی ذات کو نمونہ بنایا ہے۔ ایک قول یہ ہے اس کا معنی یہ ہے : قولوا ربنا۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مؤمنین کو ابتدائی کلام ہوگا کہ وہ اس طرح کہیں۔ وَاِلَیْکَ اَنَبْنَا ( اور تیری طرف رجوع کیا) ہم متوجہ ہوئے۔ وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ (اور تیری ہی طرف انجام کار لوٹنا ہے) المصیرؔ (لوٹنے کی جگہ)
Ayah 60:55 : رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اے ہمارے رب ہم کو کافروں کا تختہ مشق نہ بنانا) دشمن کو ہم پر مسلط نہ فرما کہ وہ سزا کے ذریعہ ہمیں فتنہ میں ڈالیں۔ وَاغْفِرْلَنَا رَبَّنَا اِنّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (اور اے ہمارے رب ہم کو معاف کر دے بیشک تو زبردست حکمت والا ہے) غالب وحاکم ہے۔
Ayah 60:66 : لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْھِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ (بیشک ان لوگوں (کے عمل و عقیدے) میں تمہارے لئے عمدہ نمونہ ہے ایسے شخص کیلئے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے جانے اور روز آخرت کا یقین رکھتا ہو) پھر دوبارہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کے اسوئہ حسنہ کی پیروی کا حکم دیا۔ تاکہ بات اور پختہ ہوجائے اور خوب تاکید ہوجائے اسی لئے اس کو مصدر کی صورت میں قسم کے ساتھ ذکر کیا۔ کیونکہ یہ تاکید کا انتہائی طریقہ ہے البتہ یہاں لکمؔ کی بجائے لمن کان یرجوا اللہ کو لائے۔ یرجو اللہؔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا ثواب مراد ہے۔ یا اس کا معنی یخشی اللّٰہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرا۔ اور اس کے معًا بعد فرمایا۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّ (جو ہمارے حکم سے اعراض کرے گا۔ اور کفر سے موالات برتے گا) فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز اور سز اوار حمد ہیں) الغنیؔ مخلوق سے بےنیاز۔ الحمیدؔ حمد کے حقدار ہیں۔ تاکید کی کوئی قسم ایسی نہیں جو یہاں ذکر نہ کردی ہو۔
Ayah 60:7مسلمانوں کو ان کے ایمان کی توقع دلائی :
7 : جب یہ آیات نازل ہوئیں اور مسلمانوں نے اپنے کافر آباء و ابناء، رشتہ داروں کی عداوت میں خوب سختی کی تو اس آیت میں اس کے برعکس حالت کی تبدیلی کی توقع دلائی گئی فرمایا عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْھُمْ (امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے دشمن ہیں۔ دوستی پیدا کر دے گا) یعنی اہل مکہ میں سے جو تمہارے اقارب ہیں۔ مَّوَدَّۃً (دوستی) کہ ان کو ایمان کی توفیق سے نواز دیں۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ تمنا پوری کردی۔ قریش مسلمان ہوگئے اور ان کے درمیان محبت تکمیل کو پہنچ گئی۔
عسیؔ یہ شاہی وعدہ ہے جو بادشاہ خسروانہ نوازشات کے وقت کرتے ہیں وہ اپنے بعض کاموں میں عسی یا لعل کا استعمال کرتے رہتے ہیں۔ محتاج کو اس کے پورا ہونے میں کوئی اشتباہ نہیں رہ جاتا۔ نمبر 2۔ ایمان والوں کو طمع دلائی گئی کہ وہ مسلمان ہوجائیں گے) وَاللّٰہُ قَدِیْرٌ (اللہ تعالیٰ دلوں کے پلٹنے پر قادر ہیں) اور حالات کو بدلنے اور مودت کے اسباب آسان کرنے پر پورا قابو ہے۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ غفوررحیم ہے۔ ان لوگوں کیلئے جو ان میں سے مسلمان ہوں) ۔
Ayah 60:8بعض سے برتائو کی اجازت :
8 : لَایَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّ وْھُمْ (اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتائو کرنے سے منع نہیں کرتے جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا۔ ان کا اکرام کرو) قولاً اور فعلاً ان پر احسان کرو۔ ان تبروھم محلاً مجرور ہے۔ کیونکہ یہ الذین لم یقاتلوکم سے بدل ہے۔ یہ بدل اشتمال ہے تقدیرکلام اس طرح ہے۔ عن برالذین تمہیں ان کے ساتھ بھلائی سے منع نہیں کرتا۔ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْھِمْ (انصاف کا برتائو کرو اور ان پر ظلم نہ کرو) جب اللہ تعالیٰ نے مشرک کے متعلق ظلم سے روک دیا تو مسلم پر ظلم کس طرح روا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ (اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے)
Ayah 60:9برتائو کی ممانعت :
9 : اِنَّمَا یَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قَاتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظَاھَرُوْا عَلٰٓی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْھُمْ (اللہ صرف ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے تم کو منع کرتا ہے۔ جو دین کے بارے میں تم سے لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں مدد کی) ۔
نحو : یہ الذین قاتلوکم سے بدل ہے۔ مطلب یہ ہے ان لوگوں کے ساتھ نیک سلوک سے منع نہیں کیا البتہ ان کے ساتھ موالات اور گہری دوستی سے منع کیا ہے۔
وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (اور جو شخص ایسوں سے دوستی اختیار کرے گا۔ تو وہ گناہ گارہوں گے) اس لئے کہ انہوں نے دوستی کو غلط مقام پر استعمال کیا (اسی لئے ظالم کے لفظ سے ذکر کیا جو کہ وضع الشئی غیر محلہ کو کہتے ہیں)
Ayah 60:1010 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِذَا جَآ ئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُھٰجِرٰتٍ (اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں دارالحرب سے ہجرت کر کے آئیں) ان کو مومنہ کہا کیونکہ وہ زبان سے اقرار شہادت کرنے والیاں ہیں۔ نمبر 2۔ وہ امتحان کے ذریعہ ثبات ایمان کو جھانکنے والی ہیں اس لئے ان کو مومنہ کہہ دیا گیا۔ نحو : یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
امتحان کا مطلب :
فَامْتَحِنُوْھُنَّ (پس تم ان کی جانچ کرلیا کرو) علامات پر نگاہ ڈال کر ان کا امتحان لو۔ تاکہ ان کے ایمان کی سچائی کا تمہیں غالب گمان ہوجائے۔
قول ابن عباس ؓ :
اس کا امتحان یہ ہے کہ تم کہو تو شہادتین کا اقرار کر۔ اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَا نِھِنَّ (اللہ تعالیٰ کو ان کا ایمان خوب معلوم ہے) اگرچہ تم نے ان کے اموال کا جائزہ تو لے لیا۔ مگر پھر بھی تم حقیقت کو نہیں جان سکتے۔ حقیقی علم اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے۔ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْھُنَّ مُؤْمِنٰتٍ (اگر تم ان کو مسلمان جانو) اپنی طاقت کے مطابق علم جس کو غالب ظن کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی علامات ظاہر ہوئیں۔
ایک نکتہ :
یہاں ظن کو علم سے تعبیر کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ظن غالب اور جس پر قیاس کا مدار ہے۔ وہ علم ہی کے قائم مقام ہے اور ظن غالب والا اس آیت کے تحت داخل نہیں لاتقف مالیس لک بہٖ علم ] الاسراء : 36[ فَـلَا تَرْجِعُوْھُنَّ اِلَی الْکُفَّارِ (تو پھر ان مسلمان عورتوں کو کفار کی طرف مت واپس کرو) یعنی ان کے مشرک خاوندوں کی طرف ان کو مت لوٹائو۔ لَاھُنَّ حِلٌّ لَّھُمْ وَلَاھُمْ یَحِلُّوْنَ لَھُنَّ (کیونکہ وہ عورتیں کافروں کیلئے نہ حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان مسلمان عورتوں کیلئے حلال ہیں) یعنی مومنہ و مشرک کے درمیان حلت والا رشتہ باقی نہیں رہا۔ مسلمان ہو کر اس کے نکلنے کی وجہ سے ان کے مابین فرقت واقع ہوگئی۔ وَاٰتُوْھُمْ مَّآ اَنْفَقُوْا (اور کافروں نے جو کچھ ان پر خرچ کیا ہو۔ وہ کافروں کو ادا کردو) ۔ ان کے خاوندوں کو وہ مہر دے دو ۔ جو انہوں نے ان عورتوں پر صرف کیا۔ یہ آیت صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ صلح کی شرط یہ تھی کہ جو شخص مومن مکہ سے بھاگ کر مدینہ آجائے گا۔ اس کو واپس کیا جائے گا۔ (جیسا ابوجندل اور ابوبصیر ؓ کو واپس کیا گیا) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کروضاحت فرما دی کہ اس شرط کا اطلاق مردوں پر ہوگا۔ عورتوں پر نہ ہوگا۔ کیونکہ مسلمہ عورت کافر کیلئے حلال نہیں۔ ایک قول یہ ہے اس آیت نے حکم اول کو منسوخ کردیا۔
مہاجرات نکاح کی اجازت :
وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ ( اور تم کو ان مہاجرہ عورتوں کے ساتھ نکاح میں کوئی حرج نہیں) مہاجرات سے نکاح میں حرج کی نفی کردی۔ اِذَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ (جبکہ تم ان کے مہر ان کو دے دو ) اجورؔ مہر کو کہتے ہیں کیونکہ مہر اجر بضع ہے۔
مسئلہ : امام ابوحنیفہ (رح) نے اس سے استدلال کیا ہے کہ مہاجرہ عورت پر عدت نہیں ہے۔
وَلَا تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ (اور تم کافر عورتوں کے تعلقات کو باقی مت رکھو)
قراءت : لاتمسکوا بصری قراء نے پڑھا ہے۔ العصمۃ جس سے پختگی حاصل کی جائے بندھن خواہ وہ عقد ہو یا سبب عقد۔ الکوافر جمع کافرہ۔ وہ عورت جو دارالحرب میں باقی ہو۔ نمبر 2۔ مرتدہ ہو کر دوبارہ دارالحرب کو لوٹ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اور ان کافرہ عورتوں کے درمیان ازدواجی تعلق اور عقد نہ ہونا چاہیے۔
قول ابن عباس ؓ :
ہے کہ جس کی عورت کا فرہ مکہ میں ہو۔ وہ اس کو اپنی بیویوں میں شمارنہ کرے۔ کیونکہ اختلاف دارین نے ان کے بندھن کو کاٹ دیا ہے۔ وَسْئَلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ (اور اپنی کافرہ بیویوں پر جو کچھ خرچ کیا ہو وہ کافروں سے مانگ لو) تمہاری ان عورتوں کے مہر جن سے کفار نے نکاح کرلیا ہے۔ وَلْیَسْئَلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا ( اور وہ مانگ لیں تم سے جو انہوں نے ان پر خرچ کیا ہو) ان مہاجرہ عورتوں کے مہر جنہوں نے مسلمانوں سے ہجرت کر کے شادی کرلی ہے۔
ذٰلِکُمْ حُکْمُ اللّٰہِ (یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے) وہ تمام جو اس آیت میں مذکور ہوا۔ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ (وہ تمہارے درمیان فیصلہ فرمائیں گے) نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے۔ نمبر 2۔ حکم اللہ سے حذف ضمیر کے باوجود حال ہے ای یحکمہ اللّٰہ۔ یا نمبر 3۔ حکمؔ کو حاکم بطور مبالغہ فرمایا۔ اور یہ آیت منسوخ ہے۔ پس مہر کے سوال کا حکم نہ رہا۔ نہ ان کی طرف سے نہ ہماری طرف سے۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ علم والے حکمت والے ہیں)
Ayah 60:111 1 : وَاِنْ فَاتَکُمْ شَیْ ئٌ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ اِلَی الْکُفَّارِ (اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی بالکل تمہارے ہاتھ نہ آئے۔ کفار کے ہاں رہ پڑے) اگر ان میں سے کوئی عورت کفار کی طرف نکل جائے۔
قراءت : ابن مسعودؓ کی قراءت میں احد ہے۔ فَعَاقَبْتُمْ (پھر تمہاری نو بت آئے) پس تم ان کو لڑائی میں خوب سزا دو یہاں تک کہ تم غنیمت پائو۔ قال الزجاج۔ فَـٰاتُوا الَّذِیْنَ ذھَبَتْ اَزْوَاجُھُمْ مِّثْلَ مَآ اَنْفَقُوْا (تو جن کی بیویاں ہاتھ سے نکل گئیں جتنا مہر انہوں نے خرچ کیا تھا۔ اس کے برابر تم ان کو دیدو) پس ان مسلمانوں کو دو جن کی بیویاں مرتدہ ہو کر دارالحرب میں چلی گئی ہیں ان کی بیویوں کے مہراس مال غنیمت میں سے وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنََ (اور اس اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! جس پر تم ایمان لانے والے ہو) ایک قول یہ ہے کہ یہ حکم بھی منسوخ ہے۔
Ayah 60:12شرائط بیعت :
12 : یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآ ئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ (اے نبی اکرم ﷺ اگر مسلمان عورتیں آپ کے پاس (اس غرض سے آئیں کہ )
نحو : یُبَایِعْنَکَ یہ حال ہے۔
عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًاوَّلَایَسْرِقْنَ (آپ سے ان ان باتوں پر بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ) وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْ تِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ (کسی چیز کو شریک نہیں کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گے اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی۔ اور نہ بہتان کی اولاد لائیں گی۔ جس کو وہ اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان نطفہ شوہر سے جنی ہوئی اولاد ہونے کا جھوٹا دعوی کرتی ہوں) قتل اولاد سے زندہ درگور کرنا مراد ہے۔ ببھتان ؔ عورتیں کسی کا بچہ اچک کر اپنے خاوند کو کہتیں یہ میرا بیٹا تجھ سے ہے۔ اس منسوب لڑکے کو ایسا بہتان قرار دیا گیا جو سامنے باندھا جائے۔ اور اس کو بین یدیھاؔ سے تعبیر کیا کیونکہ عورت کا پیٹ جس میں حمل ہوتا ہے وہ ہاتھوں اور ٹانگوں کے درمیان ہے اور وہ فرج جس سے وہ عورت جنتی ہے وہ بھی ان کے درمیان ہے۔ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ (اور نہ شرعی باتوں میں آپ کی نافرمانی کریں گی) معروف سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت مراد ہے۔ فَبَایِعْہُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَھُنَّ اللّٰہَ (تو آپ ان سے بیعت لے لیا کریں۔ اور ان کے لئے مغفرت کی دعا اللہ تعالیٰ سے کیا کریں) ان گناہوں کیلئے جو پہلے ہوچکے۔ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّ حِیْمٌ (بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے) وہ غفور ہیں۔ کہ گزشتہ گناہ مٹانے والے ہیں اور رحیم ہیں۔ کہ اپنی توفیق سے سابقہ کمی کو پورا کرنے کا موقعہ دیا۔
روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فتح مکہ کے دن مردوں کی بیعت سے فارغ ہوئے تو عورتوں سے بیعت لینے لگے آپ ﷺ صفا پر تشریف فرما تھے۔ اور آپ سے نچلی جانب عمر ؓ بیٹھے تھے۔ جو آپ کے حکم سے ان سے بیعت لے رہے تھے۔ اور آپ ﷺ کا پیغام ان کو پہنچا رہے تھے۔ ابو سفیان کی بیوی ہندہ بنت عتبہ نے نقاب پہن کر حلیہ بدل لیا تھا۔ اس خوف سے کہ رسول اللہ ﷺ اس کو پہچان لیں۔ اس حرکت کی وجہ سے جو حضرت حمزہ کے سلسلہ میں اس نے کی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائو گی۔ عمر ؓ نے اس شرط کا اعلان کر کے ان عورتوں سے اقرار لیا۔ پھر آپ نے فرمایا چوری نہ کروگی اس پر ھند کہنے لگی ابوسفیان بخیل آدمی ہے۔ میں اس کے مال میں سے کچھ لے لیا کرتی تھی۔ اس پر ابوسفیان نے کہا جو تو نے لے لیا وہ تیرے لیے حلال ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے تبسم فرمایا۔ اور اس کو پہچانا اور فرمایا تم ھندہ ہو۔ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ اے اللہ کے نبی جو ہوا اس کو معاف کر دیجئے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ معاف کریں گے۔
پھر فرمایا وہ زنانہ کریں گی۔ اس پر ھندہ کہنے لگیں کیا شریف زادی بھی زنا کیا کرتی ہے ؟ پھر آپ نے فرمایا۔ وہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی۔ اس پر ھندہ کہنے لگی ہم نے ان کو بچپن میں پالا بڑے ہوئے تو آپ نے قتل کر ڈالا۔ پس تم جانو اور وہ جانیں۔ اس کا بیٹا حنظلہ بدر کے دن قتل ہوا۔ اس پر عمر ؓ اتنے ہنسے کہ ہنستے ہوئے لیٹ گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے تبسم فرمایا۔ پھر فرمایا ولا یأتین ببتھان وہ بہتان نہ باندھیں گی۔ اس پر ہندہ نے کہا بلاشبہ بہتان بہت بری حرکت ہے اور آپ ہم کو جو بھی حکم فرماتے ہیں وہ رشد و ہدایت اور مکارم اخلاق سے ہے آخر میں آپ نے فرمایا۔ وہ حکم شرعی میں آپ کی کسی چیز میں نافرمانی نہ کریں گی۔ آپ ﷺ کا اشارہ اس طرف تھا کہ حکام کی اطاعت معروف میں ہے منکر میں ان کی اطاعت لازم نہیں ہے۔] رواہ احمد، 6/206، ابو دائود، 3532، نسانی 8/246[۔
Ayah 60:1313 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَاتَتَوَ لَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ (اے ایمان والو ! ان لوگوں سے دوستی مت کرو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا) ایک قول اس سے مراد مشرکین ہیں۔
ایک نکتہ :
سورت کو جس مضمون سے شروع فرمایا اسی پر اختتام فرمایا۔ جیسا کہ گذشتہ سورت میں بھی تھا۔
قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ (وہ آخرت سے ناامید ہوگئے ہیں) ۔ یعنی اس کے ثواب سے۔ کیوں کہ وہ بعث بعدالموت کے قائل نہیں۔ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ (جیسا کفار قبروں والوں سے مایوس ہوگئے) ای کما یئسوا۔ البتہ ظاہرکو ضمیر کی جگہ لے آئے۔ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ (ان کے واپس لوٹنے سے یا جیسا ان کے وہ اسلاف جو کہ قبور میں جاچکے وہ آخرت سے مایوس تھے یعنی یہ اپنے سلف کے پیرو ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں۔ مطلب یہ ہے اے مسلمانوں تم مغضوب علیہم سے دوستی مت کرو۔ اس لئے کہ وہ اس بات سے ناامید ہوچکے ہیں کہ ان کا آخرت میں کوئی حصہ ہوگا۔ کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ سے عناد رکھنے والے ہیں۔ حالانکہ ان کو روز روشن کی طرح معلوم ہے کہ آپ وہی رسول ہیں جن کی صفت تورات میں کی گئی ہے۔ جیسا کہ کفار مکہ اپنے مردوں کے متعلق مایوس ہوچکے کہ وہ اٹھا لئے جائیں۔ اور زندہ کر کے واپس لائے جائیں۔
ایک قول یہ ہے :
کہ اصحاب القبور یہ کفار کا عطف بیان ہے یعنی جیسا کفارمایوس ہوچکے جو قبروں میں پہنچ گئے کہ ان کو کوئی خیرآخرت میں ملے گی۔ کیونکہ اب ان کے سامنے اپنی بدحالی اور برا انجام آچکا۔