Ayah 60:12:۔ ” یا ایہا الذین امنوا لا تتخذوا “ زجر برائے مومنین کاملین۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ جو ایک جلیل القدر بدری صحابی ہیں ان کی والدہ، ان کے بیٹے اور بھائی مکہ میں تھے اور مکہ میں کوئی ان کا ایسا رشتہ دار نہیں تھا جو ان کی حفاظت کرسکتا۔ اس لیے انہوں نے مشرکین مکہ کو ایک خط لکھا جس میں ان کو اطلاع دی کہ رسول اللہ ﷺ ایک لشکر عظیم لے کر تم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ مشرکین پر ان کا احسان ہوجائیگا اور وہ ان کے اہل و عیال کا خیال رکھیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ بھی ایمان تھا کہ اگر مشرکین کو قبل از وقت یہ معلوم ہوگیا تو اس سے فتح اسلام میں کوئی فرق نہیں آئیگا۔ کیونکہ اللہ فتح عظیم عطا فرمانے کا وعدہ کرچکا ہے اور یہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا اور کوئی طاقت اس فتح کو نہیں روک سکتی چناچہ اپنے خط میں بھی یہ حقیقت انہوں نے مشرکین پر واضح کردی اور خط کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہ کسی راسخ الایمان ہی کے قلم سے نکلے ہیں۔ خط کا متن یہ تھا۔ ان رسول اللہ ﷺ توجہ الیکم بجیش کاللیل یسیر کالسیل، واقسم باللہ لو سار الیکم وحدہ لنصرہ اللہ علیکم فانہ منجز لہ ما وعدہ (روح ج 28 ص 67) ۔ ترجمہ : رسول اللہ ﷺ ایک لشکر عظیم لے کر تم پر حملہ آور ہو رہے ہیں یہ لشکر سیلاب کی طرح امنڈا چلا آئیگا۔ اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر آپ تن تنہا تم پر حملہ آور ہوں تو بھی اللہ تعالیٰ تمہارے مقابلے میں آپ کی مدد فرمائیگا اور آپ کو تم پر فتح دے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ سے کیے گئے وعدے کو ضرور پورا کرنے والا ہے۔ یہ خط ایک عورت ام سارہ کے ذریعہ مکہ پہنچایا جارہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو وحی سے اطلاع ہوگئی، تو آپ نے حضرت علی، زبیر، ابو مرثد غنوی اور کئی دوسرے صحابہ ؓ کو اس کے پیچھے بھیجا اور فرمایا روضہ خاخ کے مقام پر تم اسے پاؤ گے۔ چناچہ یہ حضرات وہاں پہنچے اور اس سے خط لیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر پیش کیا۔ آپ نے حاطب ؓ کو طلب کر کے اس خط کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اقرار کیا کہ یہ خط میرا ہی ہے آپ نے فرمایا یا حاطب، ماھذا ؟ اے حاطب، یہ کیا معاملہ ہے ؟ اور تم نے یہ خط کیوں لکھا ہے۔ چناچہ انہوں نے اپنا عذر بیان کیا اور ساتھ ہی عرض کیا کہ اس نے کفر و ارتداد کی وجہ سے ایسا نہیں کیا۔ آپ نے اس کا جواب سن کر تصدیق فرمائی۔ ولم افعلہ کفرا ولا ارتدادا عن دینی ولا رضی بالکفر بعد الاسلام، فقال النبی ﷺ : صدق (قرطبی ج 18 ص 50) ۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اے عمر، کیا وہ اہل بدر سے نہیں ؟ اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے بدر میں شریک ہونے والوں پر جھانک کر اعلان فرمادیا ہو کہ تم جو چاہو کرو جنت تمہارے لیے لازم ہوچکی ہے اور میں نے تمہارے سارے قصور معاف کردئیے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور سارا جوش ٹھنڈا ہوگیا اور کہنے لگے اس معاملے کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ فقال : الیس من اھل بدر، فقال : لعل اللہ اطلع الی اھل بدر، فقال : اعملوا ما شئتم فقد وجبت لکم الجنۃ، او، قد غفرت لکم، فدمعت عینا عمر، وقال اللہ ورسولہ اعلم (صحیح بخاری ج 2 ص 567 غزوہ بدر) ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوگئ کہ حضرات صحابہ کرام ؓ کو ان کی غلطیوں کی بناء پر طعن وتشنیع کا نشانہ بنانا جائز نہیں اور ان کو ہمیشہ ان کی خوبیوں سے یاد کرنا لازم ہے۔ حضرت حاطب ؓ کی نیت میں اگرچہ کوئی فتور نہ تھا اور نہ انہوں نے یہ حرکت اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے کی تھی لیکن بظاہر یہ ایک منافقین کے کاموں سے ملتا جلتا فعل تھا اور یہ بھی ممکن تھا کہ اگر اس طرح مصلحت بینی کا دروازہ کھول دیا جائے تو اس سے کسی وقت اسلام کو سخت نقصان پہنچ جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کو بات پسند نہ آئی اور اس پر زجر فرمایا۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ اور انہیں کسی قسم کا پیغام دوستی نہ پہنچاؤ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت حاطب ؓ بہت خوش ہوئے کہ اللہ نے اس کو ایمان کی صفت سے یاد فرمایا ہے اور فرط مسرت سے ان پر غشی طاری ہوگئی۔ ذکر ان حاطبا لما سمع (یا ایہا الذین امنوا) غشی علیہ من الفرج بخطاب الایمان (قرطبی ج 18 ص 52) ۔
3:۔ ” تلقون الیہم “ یہ ماقبل کا بیان ہے یعنی کافروں کو دوستی کا پیغام نہ بھیجو۔ حالانکہ جو دین حق تمہارے پاس آچکا ہے اور جسے تم قبول کرچکے ہو وہ اس کے منکر ہیں۔ یخرجون الرسول “ اور ابھی کل کی بات ہے کہ وہ پیغمبر خدا ﷺ کو اور تم کو تمہارے گھروں سے نکال رہے ہیں محض اس لیے کہ تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لاچکے ہو۔ یعنی وہ تمہارے ایمان کے دشمن ہیں اور تم ان کو پیغام مودت بھیج رہے ہو۔ ” ان تومنوا “ میں ان مصدریہ ہے اور اس سے پہلے لام تعلیل مقدر ہے ای لایمانکم (روح) ۔
ٖف 4:۔ ” ان کنتم “ اس شرط کی جزا محذوف ہے بقرینہ ماقبل یعنی لا تتخذوا، شرط جو ابہ محذوف لدلالۃ ماتقدم علیہ وھو قولہ لا تتخذوا عدوی (بحر ج 8 ص 253) ۔ یعنی جب تم جہاد کے لیے اور میری رضا جوئی کے لیے گھروں سے نکلنے لگو تو احتیاط سے کام لو اور دشمنوں کو اپنا کوئی جنگی راز نہ بتاؤ۔ ” تسرون الیہم الخ “ یہ ” تلقون “ کا بیان اور اس سے بدل ہے (روح) ۔ یا استیناف ہے یعنی ایسا نہ کرو کہ ان سے پوشیدہ طور پر دوستی رکھو اور رسول اللہ ﷺ کے راز ان کو پہنچاؤ۔ ای تفضون الیھم بمودتکم سرا او تسرون الیھم اسرار رسول اللہ ﷺ بسبب المودۃ وھو استیناف (مدارک ج 4 ص 186) ۔ ” وانا اعلم الخ “ میں تمہاری ہر بات کو جانتا ہوں خواہ تم اسے چھپاؤ یا ظاہر کرو۔ اس تنبیہ کے بعد اب جس نے ایسا کام کیا وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔
Ayah 60:25:۔ ” ان یثقفوکم “ یہ کفار کی کھلی عداوت اور دشمنی کا بیان ہے۔ اگر کہیں تم ان کے ہاتھ آجاؤ تو تمہارے بدستور دشمن ہی ہوں گے اور تمہارے پیغامات مودت کی ذرہ بھر پروا نہیں کریں گے اور ہاتھ اور زبان سے قتل و ضرب، گالی گلوچ اور بدزبانی سے تمہیں ایذا پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ تمہیں مسلمان دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے اور ان کی خواہش ہے کہ تم دین اسلام کو چھوڑ کر پھر سے کافر ہوجاؤ۔ دوسرے لفظوں میں وہ تمہیں دین و دنیا کی مضرتوں میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں یعنی انہم یریدون ان یلحقوا بکم مضا الدنیا والدین جمیعا، (کشاف، بحر) ۔ تو کیا ایسے بد ترین دشمن اس لائق ہوسکتے ہیں کہ ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کیے جائیں۔
Ayah 60:36:۔ ” لن تنفعکم “ جن رشتہ داروں اور جس اولاد کی خاطر تم مشرکین پر احسانات کر رہے ہو قیامت کے دن وہ تمہارے کام نہیں آسکیں گے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہاری آل و اولاد اور خویش و اقارب کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ اگر اولاد اقارب کافر ہوں تو جدائی کا حکم ظاہر ہے اور اگر مسلمان ہوں تو ہول محشرک کی وجہ سے ہر ایک اپنے رشتہ داروں سے جدا ہوگا۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” یوم یفر المء من اخیہ وامہ وابیہ و صاحبتہ وبنیہ (عبس) ای یفرق اللہ تعالیٰ بینکم بما یکون من الھول الموجب لفرار کل منکم من الاخر (روح ج 28 ص 69) ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور تمہیں اعمال کی پوری جزا و سزا دے گا۔
Ayahs 60:4–57:۔ ” قد کانت لکم “ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے عمل میں تمہارے لیے اقتداء و اتباع کا بہت عمدہ نمونہ تھا۔ انہوں نے اپنے مشرک اعزہ و اقارب سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہمارے تمہارے تعلقات اب ختم ہیں اور ہم تم سے اور تمہارے خود ساختہ معبودوں سے بیزار ہیں اور جن معبودوں کو تم اللہ کے سواء پکارتے ہو ان کی معبودیت اور کارسازی کا انکار کرتے ہیں اب ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے بغض و عداوت قائم ہوچکی ہے۔ ہاں اگر تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مان لو اور ہمارا دین قبول کرلو تو تم ہمارے بھائی ہو۔ البتہ ابراہیم (علیہ السلام) حسب وعدہ اپنے باپ کیلئے ہدایت کی دعا مانگتے رہے۔ ” ساستغفر لک ربی انہ کان بی حفیا “ (مریم رکوع 3) ۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ ان کے باپ کے دل پر مہر جباریت لگ چکی ہے اور اب اسے ہدایت کی توفیق نہیں مل سکتی تو اس کے لیے ہدایت ومغفرت کی دعا مانگنا ترک کردیا۔ ” وما کان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ۔ الایۃ “ (توبہ) ، قالہ ابن قتیبہ۔ امام مجاہد اور قتادہ اور ابن الانباری کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ہر فعل کی اقتداء کرو، لیکن ان کے اس قول ” لاستغفرن لک “ یعنی مشرک باپ کے لیے دعاء مغفرت کرنے میں ان کی اقتداء نہ کرو۔ المعنی کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی کل شیء الا فی قولہ لا استغفرن لک (کبیر ج 8 ص 187) ۔ تو تمہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے نقش قدم پر چلنا چاہئے تھا۔ اور مشرکین سے بالکلیہ تعلقات ختم کردینے چاہئیں تھے۔
8:۔ ” وما املک “ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہے یعنی میں تو صرف تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے التجا ہی کرسکتا ہوں کہ وہ تجھے ہدایت عطاء فرما کر تیری بخشش کا سامان فراہم کرے، لیکن اس کے سوا میرے اختیار میں کچھ نہیں۔ لاستغفرن لک وما فی طاقتی الا ھذا (روح) ۔ ہمارے پروردگار ! ہمارا توکل اور بھروسہ تجھ ہی پر ہے۔ ہر معاملے میں ہم تیری ہی طرف راغب و راجع ہیں اور ہر چیز کی انتہا تیری ہی جانب ہے۔ سب کچھ تیرے ہی تصرف و اختیار میں ہے کسی اور کے اختیار میں نہیں۔ ” ربنا علیک توکلنا الخ “ تینوں جگہوں میں جار مجرور کی تقدیم حصر کے لیے ہے (روح) ۔ ” ربنا ولا تجعلنا الخ “ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں مشرکین کے لیے فتنہ نہ بنا دینا یعنی ان کو ہم پر مسلط نہ کردینا کہ وہ ہمیں ہر طرح تکالیف و مصائب میں مبتلا کردیں اور ہمارے قصور معاف فرما بیشک تو سب پر غالب اور حکمت والا ہے لا تسلطھم علینا فیفتنونا ویعذبونا (قرطبی ج 18 ص 57) ۔
Ayah 60:69:۔ ” لقد کان لکم “ یرجو، یخاف (جلالین) ۔ جس مؤمن کے دل میں خدا کا خوف ہو اور جسے مجازات آخرت کا ڈر ہو اس سے تو یہی توقع ہے کہ وہ مشرک رشتہ داروں اور دوستوں کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے نقش قدم پر چلے گا۔ ” ومن یتولھم الخ “ مومن کامل کی شان تو یہی ہے کہ کافروں سے بالکلیہ قطع تعلق کرے لیکن اس واضح بیان کے بعد بھی جو اس سے باز نہ آئے تو اس پر تف ہے اور اس سے وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بلکہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور اگر وہ کافروں کی دوستی سے باز آگیا تو اس سے اللہ کو کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ وہ اپنی عاقبت ہی سنوارے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بےنیاز اور ہر خوبی و کمال کا مالک ہے۔ ” ومن یتولہم “ شرط کی جزاء محذوف ہے۔ ای فاف لہ اور فان اللہ الخ، ماقبل یعنی جزاء مقدر کی علت ہے۔ قالہ الشیخ رحمہ الہ تعالیٰ ۔
Ayah 60:710:۔ ” عسی اللہ “ یہ مومنین کو ان کے مشرک اقارب کے ایمان لانے کی بشارت ہے یعنی جب تک اہل مکہ اپنے کفر پر قائم ہیں اس وقت تک تم ان سے دوستی نہیں کرسکتے۔ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہارے ان کافر رشتہ داروں کے درمیان جن سے تمہیں دین کی وجہ سے عداوت ہے، دوستی اور محبت کا رشتہ قائم کردے یعنی ان کو قبول اسلام کی توفیق دے دے۔ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے اور سچی توبہ کرنے والوں کے تمام گناہ معاف فرمانے والا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فتح مکہ کے موقع پر پورا فرمایا اور ان کافروں کو قبول اسلام سے مشرف فرمایا۔ فلمایسیر فتح مکۃ اظفرہم اللہ بامنیتہم فاسلم قومھم وثم بینہم التحاب (مدارک ج 4 ص 187) ۔
Ayah 60:811:۔” لاینھاکم “ یہ ایک قانون کا بیان ہے جو زجر مذکور سے متعلق ہے اور ان کافروں کا ذکر ہے جن پر احسان کرنے اور جن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرنے کی ممانعت نہیں۔ کیونکہ عدل کرنے والوں کو اللہ پسند فرماتا ہے اور ان سے مراد وہ کافر ہیں، جنہوں نے مسلمانوں سے دین کی وجہ سے عداوت نہیں کی اور نہ ان سے لڑے ہیں اور ان کو گھروں سے نکالنے میں مشرکین مکہ کی نہیں کی ہے۔ یہ وہ قبائل عرب تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کر رکھا تھا کہ وہ نہ خود ان سے لڑیں گے اور نہ ان کے دشمنوں کی مدد کریں گے۔ نزلت الایۃ فی خزاعۃ وبنی الحارث بن کعب وکنانۃ ومزینۃ وقبائل من لاعرب کانوا صالحوا رسول اللہ ﷺ علی ان لا یقاتلوہ ولا یعینوا علیہ (روح ج 28 ص 75) ۔
Ayah 60:912:۔ ” انما ینھٰکم “ یہ ان کافروں کا بیان ہے جن سے موالات اور دوستی جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کافروں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے سے منع فرماتا ہے جو دین کی وجہ سے تمہارے ساتھ برسر پیکار رہے ہیں اور جنہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے یا نکالنے میں مدد دی ہے اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ وھم الرجال المشرکو من اھل مکۃ بعضہم سعوا فی اخراج المومنین و بعضہم اعانوا المخرجین (مظہری ج 9 ص 262) جو لوگ ایسے دشمنان اسلام سے دوستانہ تعلقات رکھیں گے وہ بہت بڑے ظالم ہیں اور اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔
Ayah 60:1013:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مؤمنات مہاجرات کے بارے میں قانون ہے۔ صلح حدیبیہ کے شرائط میں مردوں کے بارے میں مذکور تھا کہ اگر کوئی کافر مرد مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آجائیگا تو اس کو واپس کردیا جائیگا لیکن اگر کوئی مسلمان کافروں کے یہاں چلا گیا تو اس کو واپس نہیں کیا جائیگا مگر عورتوں کے بارے میں اس صلحنامہ میں کوئی شرط مذکور نہیں تھی اس لیے عورتوں کے بارے میں قانون بیان کیا گیا یعنی اگر مؤمنات مکہ سے ہجرت کر کے تمہارے پاس آجائیں تو ان کے ایمان کا امتحان کرلو۔ ان سے پوچھ لو کہ وہ مومنہ ہیں اگر وہ زبان سے ضروریات دین کا اقرر کرلیں تو یہی کافی ہے، کیونکہ ان کے دل کا ایمان تو اللہ کو معلوم ہے۔ اگر تمہیں اطمینان ہوجائے کہ وہ مومنہ ہیں تو ان کو کافروں کے پاس واپس نہ بھیجو۔ اس لیے کہ ان کا ان کے ساتھ نکاح حلال نہیں ای لا حل بین المومنۃ والمشرک لوقوع الفرقۃ بینھما بخروجھا مسلمۃ (مدارک ج 4 ص 188) ۔
14:۔ ” واتوھم “ جن مشرکین کی بیویاں مسلمان ہو کر تمہارے پاس آچکی ہیں انہوں نے جو مہر وغیرہ ان پر خرچ کیا تھا وہ ان کو واپس کردو اور اگر تم ان عورتوں سے نکاح کرنا چاہو تو ان کے مہر ادا کر کے تم ایسا کرسکتے ہو۔ اس میں کوئی حرج اور گناہ نہیں۔ ” ولا تمسکوا بعصم الکوافر “ عصمت سے مراد نکاح ہے والمراد بالعصمۃ ھنا النکاح (قرطبی ج 18 ص 65) ۔ جس طرح مومنہ عورتوں کو کافروں کے پاس واپس بھیجنا جائز نہیں اسی طرح تمہارے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ تم کافرہ عورتوں کے اپنے ساتھ نکاحوں کو باقی رکھو۔ بلکہ ان سے علیحدگی اختیار کرلو اور ان کو مشرکین کے پاس واپس بھیجدو اور جو کچھ تم نے ان پر خرچ کیا تھا وہ ان سے طلب کرلو اور وہ تم سے اپنے اخراجات طلب کرلیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے مؤمنہ اور کافرہ عورتوں کے بارے میں نافذ کیا ہے جو سراپا علم و حکمت پر مبنی ہے۔
Ayah 60:1115:۔ ” وان فاتکم “ عاقبتم یہ العقبۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی باری کے ہیں یعنی جب تمہارے دینے کی باری آئے یا یہ عقاب سے اور اس کے معنی ہیں تم کافروں کو سزا دو اور ان سے قتال کرو اور مال غنیمت ہاتھ آئے۔ ای فجاءت عقبتکم ای نوبتکم من اداء المہر، فاصبتم فی القتال عبقوبۃ حتی غنمتم (روح ج 28 ص 79) ۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ اگر تمہاری عورتوں کا مہر کافروں کے پاس ہی رہ جائے اور وہ ادا نہ کریں تو جس وقت تمہارے دینے کی باری آئے تو تم کافروں کو نہ دو بلکہ اس مسلمان کو دیدو جس کا حق کافروں کے پاس رہ گیا ہے اور دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ جب کبھی مال غنیمت ہاتھ آئے تو اس میں سے ان مسلمانوں کا حق ادا کرو جن کا حق کافروں کے پاس باقی رہ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ جس پر تمہارا ایمان ہے اس سے ڈرو اور اس کے احکام و حدود کی خلاف ورزی نہ کرو۔
Ayah 60:1216:۔ ” یا ایہا النبی “ یہ عورتوں کی بیعت کا قانون ہے۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ جب مؤمنہ عورتیں آپ سے بیعت کرنے آئیں تو آپ شرائط ذیل کے مطابق ان کو بیعت فرما لیا کریں۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جب عورتوں سے بیعت لی تو ان میں ابو سفیان ؓ کی بیوی ہندہ بنت عتبہ بھی موجود تھی اور رسول اللہ ﷺ نے شرائط بیعت پڑھ کر سنائے تو وہ ہر شرط پر تبصرہ کرتی جاتی تھی۔ ابتداء میں آپ نے اس کو نہ پہچانا لیکن دوران گفتگو قرائن سے آپ نے اس کو پہچان لیا۔ پہلی شرط ” لایشرکن باللہ شیئا “ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں۔ اللہ کے سوا کسی نبی، ولی، فرشتہ، جن وغیرہ کو حاجت روا سمجھ کر مافوق الاسباب نہ پکاریں۔ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہ کریں اور اس کے سوا کسی کی نذر و منت نہ دیں اس پر حضرت ہندہ ؓ بولی یہ شرط نہایت ضروری اور اہم ہے اس سے نہ مرد مستثنی ہیں نہ عورتیں۔ دوسری شرط ” ولا یسرقن “ چوری نہ کریں۔ اس پر ہندہ ؓ بولی یارسول اللہ، میرا خاوند اوب سفیان مجھے کھلا خرچ نہیں دیتا تو میں اس کی اجازت کے بغیر تھوڑا بہت اس کے مال سے لے لیتی ہوں تو کیا یہ میرے لیے جائز ہے ؟ اب رسول اللہ ﷺ نے اسے پہچان لیا اور اس کی بات سن کر مسکرائے اور فرمایا تو ہند بنت عتبہ ہے ؟ عرض کیا : ہاں، یارسول اللہ ! اب ہمارے گذشتہ قصورروں سے درگزر فرمائیے۔ اسی ہند نے کفر کی حالت میں شیر خدا حضرت حمزہ ؓ کو شہید کرایا تھا۔ ہند ؓ اسی قصور کی طرف اشارہ فرما رہی تھی۔ تیسری شرط ” ولا یزنین “ زنا نہ کریں۔ اس پر ہند بولی۔ بدکاری شریف عورتوں کا کام ہی نہیں یہ تو لونڈیوں اور کمینہ عورتوں کا کام ہے۔ چوتھی شرط ” ولا یقتلن اولادھن “ اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں جس طرح دور جاہلیت میں تنگدستی کی وجہ سے بچوں کو مار ڈالتے یا دامادی کے طعن سے بچنے کے لیے لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے اس پر ہند ؓ بولی۔ اب ہم کس کو ماریں گی ہم نے تو بچوں کو پال پوس کر جوان کیا اور آپ نے جنگ بدر میں ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پانچویں شرط ” ولا یاتین ببھتان الخ “ ” بین ایدیہن وارجلہن “ یہ کنایہ ہے آمنے سامنے سے یعنی آپس میں آمنے سامنے بیٹھ کر بہتان تراش کر کسی پر مت لگاؤ۔ ہند ؓ نے کہا بہتان باندھنا تو نہایت ہی برا فعل ہے اور اللہ تعالیٰ مکارم اخلاق کی تعلیم فرماتا ہے۔ چھٹی شرط ” ولا یعصینک فی معروف “ اور آپ جن معروف اور نیک کاموں کا حکم دیں اور جن برے کاموں سے آپ منع فرمائیں اس میں آپ کی نافرمانی نہ کریں، ہند ؓ نے کہا خدا کی قسم جب ہم آپ کی مجلس میں آ کر بیٹھی ہیں تو اپنے دلوں سے یہ خیال نکال کر آئی ہیں کہ کسی بھی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں، بلکہ آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کا دل و جان سے تہیہ کر کے بیٹھی ہیں (روح، مظہری و غیرہما) ۔ ” فبایعہن “ فرمایا جب وہ ان شرائط کو مان لیں تو آپ ان کو بیعت فرما لیں اور ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے اور مخلصین کی لغزشوں سے درگذر فرماتا ہے۔
Ayah 60:1317:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ آخر میں مومنین پر زجر ہے تاکہ انتہائے سورت ابتدا سے مرتبط ہوجائے۔ مغضوب علیہم سے یہود یا یہود و نصاری یا تمام کفار مراد ہیں۔ (قرطبی، روح) ۔ ” من اصحاب القبور “ میں من بیانیہ ہے یا ابتدائیہ پہلی صورت میں الاخرۃ سے پہلے ثواب مضاف مقدر ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ اے ایمان والو ! ایسے کفار سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا قہر و غضب نازل ہوچکا ہے اور وہ آخرت کے اجر وثواب سے بالکل اسی طرح محروم و مایوس ہوچکے ہیں جس طرح وہ کفار جو مر کر قبروں میں پہنچ چکے ہیں اور دوسری صورت میں ” الکفار “ وضع مظہر موضع مظمر کے قبیل سے ہوگا اور مفہوم یہ ہوگا کہ یہ کفار آخرت کی آمد سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح وہ اپنے مرے ہوئے اسلام کے دوبارہ زندہ ہونے سے مایوس ہیں۔ قد یئسوا من خیر الاخرۃ وثوابھا، کما یئس الذین ھم اصحاب القبور ای الکفار الموتی، وکون (من) بیانیۃ روی عن مجاھد وابن زید وابن جبیر وابن وھو اختیار ابن عطیۃ وجماعۃ واختار ابو حبان کونھا لابتداء الغایۃ والمعنی ان ھؤلاء القوم المغضوب علیہم قد یئسوا من الاخرۃ کما یئسوا من موتاہم ان یبعثوا ویلقوا فی دار الدنیا وھو مروی عن ابن عباس والحسن وقتادۃ، والمراد بالکفار اولئک القوم (روح ج 28 ص 82)
سورة الممتحنہ میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ کفار سے دوستی کی ممانعت۔ 2 ۔ احکام نساء مومنات مہاجرات ونساء مومنین کہ نزدکفار مانند 3 ۔ شرائط بیعت زنان
سورة الممتحنۃ ختم ہوئی