Ayah 59:12:۔ ” سبح للہ ما فی السموات “ یہ دعوائے توحید کا اعادہ ہے تاکہ یہ حقیقت مسلمانوں کے ذہنوں میں رہے کہ جہاد و قتال سب اسی مسئلہ کی خاطر ہے اور جہاد سے کوئی دنیوی غرض مقصود نہیں۔ زمین و آسمان اور ساری کائنات کی ہر چیز اللہ کی وحدانیت پر شاہد ہے اور ہر چیز زبان حال وقال سے اللہ کی تسبیح و تنزیہ میں مصروف ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور وہ شریکوں سے پاک ہے وہ سب پر غالب اور تدبیر محکم کا مالک ہے۔ اے بنی آدم ! جس طرح کائنات کا ہر ذرہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا معترف اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہے تم بھی صرف اسی ہی کو اپنا معبود اور کارساز سمجھو اور صفات کارسازی میں کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور اس مسئلے کی خاطر جہاد کرو۔ آگے جہاد سے جی چرانے والے منافقوں پر زجریں ہوں گی۔
Ayah 59:23:۔ ” ھو الذی اخرج “ یہ تخویف دنیوی کا ایک نمونہ ہے اور ” الذین کفروا “ سے یہود بنی نضیر مراد ہیں جو خیبر اور مدینہ کے نواح میں آباد تھے یہ اللہ تعالیٰ ہی کا تصرف تھا کہ اس نے اپنی قدرت کاملہ اور تدبیر عمیق سے یہود بنی نضیر کو مسلمانوں کے ایک ہی حملے سے ان کو گھروں سے نکال دیا اور ان کو مسلمانوں کے سامنے ہتھیار ڈالدینے پر مجبور کردیا۔ یود بنی نضیر کی قوت و کثرت، دولت و ثروت، سامان جنگ اور مضبوط قلعوں کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ گمان بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے قلعوں سے بیدخل ہوسکیں گے اور خود یہود کو بھی یہی گمان تھا کہ ان کے محکم قلعے ان کو اللہ کے عذاب سے بچالیں گے۔ ” من اللہ “ یعنی اللہ کے عذاب سے جو مسلمانوں کے ہاتھوں ان پر آنے والا تھا لیکن ان پر اللہ کا عذاب اسی طرح سے آیا جس طرف سے ان کو وہم و گمان بھی نہیں تھا یعنی مسلمانوں کے ہاتھوں اور ان کے دلوں میں مسلمانوں کی ہیبت ڈال دی اور وہ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ کرسکے اور خود ہی اپنے گھروں کو ویران کرنے لگے اور مسلمانوں نے بھی ان کے گھروں کو ویران کیا جب یہود خیبر کا مسلمانوں نے محاصرہ کرلیا تو یہودی اپنے گھروں کی چھتیں اور دروازے اکھیڑ کر شہتیروں اور کو اڑوں سے گلیوں کو بند کرنے لگے تاکہ مسلمان اندر نہ گھس آئیں اور باہر سے مسلمان ان کے مکانوں کو توڑ پھوڑ رہے تھے تاکہ وہ بستی کے اندر داخل ہوسکیں۔ ” اول الحشر “ سے مسلمانوں کا پہلا حملہ مراد ہے۔ کیونکہ یہود پر مسلمانوں کا یہ پہلا حملہ تھا۔ المعنی اخرجہم من دیارہم لا ول جمعح حشرہ النبی ﷺ او حشرہ اللہ عز وجل لقتالہم لانہ ﷺ لم یکن قبل قصد قتالہم، وفیہ من المناسبۃ لوصف العزۃ مالا یخفی (روح ج 28 ص 40) ۔ یہودی مسلمانوں کے اس ایک حملے کی بھی تاب نہ لاسکے اور دوسرے حملے کی ضرورت ہی نہ رہی۔ بعض نے اول الحشر سے یہود کی پہلی جلا وطنی مراد لی ہے اور دوسری جلا وطنی سے حضرت عمر کا یہود کو نکالنا مراد ہے، لیکن حضرت شیخ فرماتے ہیں اول تو یہ محاورے کے خلاف ہے۔ دوم یہ کہ حضرت عمر ؓ کے زمانے یہود صرف خیبر سے نکالے گئے تھے ور مدینہ کے اطراف سے نہیں نکالے گئے تھے۔ ” فاعتبروا “ اے عقل و بصیرت رکھنے والو، اس سے عبرت حاصل کرو کہ اللہ تعالیی کے تصرف و اقتدار کے سامنے ظاہری اسباب بیکار ہوجاتے ہیں اور تمردو سرکشی کا انجام ایسا برا ہوتا ہے۔
Ayahs 59:3–44:۔ ” ولولا ان کتب “ یہود کو جلا وطن ہونا پڑا اگر دنیا میں جلا وطنی کی ذلت ورسوائی ان کے لیے مقدر نہ ہوتی تو دنیا میں ان کو کسی دوسری نوح کے ذلت آمیز عذاب میں مبتلا کردیا جاتا اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ ذالک بانہم، دنیا اور آخرت میں ان یہودیوں کے لیے ذلت آمیز اور دردناک عذاب اس لیے مقدر کیا گیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی پوری پوری مخالفت کی ہے، دعوت اسلام کو ٹھکرادیا ہے، اسلام، پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کے خلاف خطرناک سازشیں کی ہیں اور ایسے سرکش لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا عذاب نہایت سخت ہے۔
Ayah 59:55:۔ ” ماقطعتم “ جب بنی نضیر کا محاصرہ کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ یہودیوں کے باغوں کو اجاڑ دیں چناچہ مسلمانوں نے کھجوروں کے درخت کاٹنے شروع کردئیے بعض صحابہ نے خراب خراب درخت کاٹے اور بعض نے اچھے اچھے یہودیوں نے اعتراض کیا کہ اے محمد تم تو فساد سے منع کرتے ہو اور باغوں کو اجاڑنا سراسر فساد ہے۔ ممکن ہے اس قسم کا وسوسہ بعض مسلمانوں کے دلوں میں بھی پیدا ہوا ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے بطور تسلیہ فرمایا تم نے جو کچھ کیا ہے سب ٹھیک ہے۔ تم نے جو کھجور کے درخت کاٹے ہیں اور جو کھڑے چھوڑ دئیے ہیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی مشیت سے ہوا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے تم سے اس لیے کرایا ہے تاکہ اس سے مسلمانوں کو عزت عطا فرمائے اور ان بدکردار یہودیوں کو رسوا کرے ؟ ” لینۃ “ کھجور کا درخت، اللینۃ النخلۃ من الالوان (مدارک ج 4 ص 181) ۔ ولیخزی میں واؤ زائدہ ہے اور لیخزی، اذن مقدر کے متعلق ہے یا واؤ عاطفہ ہے اور لیخزی کا معطوف علیہ مقدر ہے جو اَذِنَ مقدر کے متعلق ہے (ولیخزی الفاسقین) متعلق بمقدر علی انہ علۃ لہ وذلک عطف علی مقدر اخر ای اذن لہم فی القطع والترک لیعز المؤمنین ولیخزی الفاسقین (روح) ۔
Ayah 59:66:۔ ” وما افاء “ یہ مبتداء ہے اور ” ما افاء اللہ “ بعد عہد کی وجہ سے اعادہ ہے اور درمیان میں ” فما اوجفتم “ سے فئ کی تشریح کی گئی ہے اور ” فللہ ولرسول الخ “ اس کی خبر ہے۔ یہاں سے لے کر ” انک رؤوف رحیم “ تک مال فئ کی تقسیم کا دستور بیان کیا گیا ہے۔ بنی نضیر کے اموال چونکہ بطور فیئ حاصل ہوئے اس لیے ان کی تقسیم کار کا دو تور بیان فرمایا۔ مال فئ اس مال کو کہا جاتا ہے جو قتادل و جہاد کے بغیر کفار سے مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ جیسا کہ یہود بنی نضیر نے مسلمانوں کے حملے سے مرعوب ہو کر صلح کرلی اور اپنے اموال بلا قتال مسلمانوں کے حوالے کردئیے اس کا زکر ” وما افاء اللہ علی رسولہ منہم “ میں ہے یہود بنی نضیر کے علاوہ اور کئی بستیوں کے یہودیوں نے بھی اسی طرح صلح کر کے اپنے اموال مسلمانوں کے حوالے کردئیے تھے۔ مثلاً اہل فدک، عرینہ اور بنی قریظہ وغیرہ۔ اس کا ذکر ” ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری ‘ میں ہے دستور تقسیم سب کا ایک ہے (ومن اھل القری) قال ابن عباسھی قریظۃ والنضیر وھما بالمدینۃ، وفدک وھی علی ثلاثۃ ایام من المدینۃ و خیبر وقری عینۃ و ینبع (قرطبی ج 18 ص 12) ۔ بنی نضیر، اہل فدک، اہل عرینہ وغیرہ کے جو اموال اللہ نے بطور فیئ اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کو دئیے ہیں تم نے ان پر اونٹ اور گھوڑے نہیں دوڑائے اور وہ قتال کے بغیر ہی حاصل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی قادر و توانا ہے وہ جس پر چاہتا ہے اپنے پیغمبروں کو مسلط فرما دیتا ہے۔ جس طرح اس نے محمد مصطفیٰ ﷺ کو یہودیوں کی ان بستیوں پر مسلط فرما کر ان کی ساری دولت آپ کے قدموں پر ڈال دی۔
Ayah 59:77:۔ ” فللہ وللرسول “ یہ تقسیم فئی کا دستور العمل ہے۔” للہ “ اللہ کیلئے، اللہ تعالیٰ کا ذکر تبرک و تشرف کیلئے ہے اور مقصد یہ ہے کہ اس مال کا مالک حقیقی اللہ ہے وہ جس طرح چاہے اس کی تقسیم کا حکم نافذ فرمائے اور بعض کے نزدیک ایک حصہ اللہ کے نام کا نکالا جائے جو خانہ کعبہ اور دوسری مسجدوں پر صرف کیا جائے۔ یصرف سہم اللہ فی عمارۃ الکعبۃ و سائر المساجد وقیل ذکر اللہ للتعظیم (بیضاوی) ۔” وللرسول “ رسول اللہ ﷺ کا حصہ آپ کی زندگی میں تھا جسے آپ اپنی ذات پر، اور ازواج مطہرات پر خرچ فرماتے جو بچ جاتا اسے رفاہ مسلمین پر خرچ فرما دیتے۔ آپ کی زندگی کے بعد آپ کا حصہ ختم ہوچکا ہے اور ازواج مطہرات کے لیے بیت المال سے وظائف مقرر کردئیے گئے۔ ” ولذی القربی “ یعنی رسول اللہ ﷺ کے رشتہ دار جن پر صدقات واجبہ حرام ہیں اور اس سے بنی ہاشم اور بنی المطلب مراد ہیں۔ (ولذی القربی) یعنی بنی ہاشم و بنی المطلب (خازن ج 7 ص 60) ۔ ان کے علاوہ یتامی، مساکین اور وہ مسافر جو دوران سفر حاجت مند ہوجائے۔ ” کی لایکون دولۃ “ یہ فعل مقدر کی علت ہے۔ ان اموال فیئ کی تقسیم کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ یہ دولت ایک ہی خاندان کے اغنیاء میں نہ گھومتی رہے، بلکہ فقراء اور مساکین بھی اس سے فائدہ اٹھائیں۔ ” ما اتاکم الرسول “ یہ دین و شریعت کا ایک نہایت ہی اہم اصول ہے۔ اللہ کا رسول، اللہ کی طرف سے جو حکم بھی لائے اسے بسر و چشم قبول کرو جن میں سے ایک تقسیم فیئ کا حکم ہے۔ اور جس کام سے وہ منع فرما دے اس سے باز آجایا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اس کے احکام کی نافرمانی نہ کرو۔ نافرمانوں کے لیے اللہ کا عذاب نہایت سخت ہے۔
Ayah 59:88:۔ ” للفقراء “ ای انفقوا للفقراء یہاں تبعاً ان جماعتوں پر انفاق کی ترغیب ہے یا یہ مع المعطوفین، لذی القربی مع المعطوفات سے بدل الکل ہے یعنی ان انواع اربعہ سے فقراء مہاجرین وانصار مراد ہیں۔ فکانہ اقیل اعنی باولئک الاربعۃ ھؤلاء الفقراء والمھاجرین (کبیر ) ۔ بدل من قولہ تعالیٰ (لذی القربی) والمعطوف علیہ (کشاف) اس ضمن میں مہاجرین اور انصار کے فضائل بھی ذکر کیے گئے ہیں۔ ” الذین اخروجو “ وہ مہاجرین جن کو مشرکین مکہ نے اپنے گھروں سے نکلنے اور اپنے مالوں کو چھوڑنے پر مجبور کیا چونکہ وہ بےوطن ہیں اور سارا مال چھوڑ کر آگئے ہیں اس لیے مال فیئ میں ان ک ابھی حصہ ہے۔ اس کے بعد ان کی عظمت شان کا ذکر ہے۔ ” یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا “ یہ ” اخرجوا “ کے نائب فاعل سے حال ہے مہاجرین نے اپنے گھروں کو اور اپنے اموال ومالک کو محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے چھوڑا اس میں ان کی کوئی دنیوی غرض نہیں تھی اپنی قوم سے ان کی مخالفت ذاتی نہ تھی، بلکہ محض خدا کے لیے تھی۔ ای خرجوا من دیارھم وخالفوا قومہم ابتغاء مرضاۃ اللہ ورضوانہ (ابن کثیر ج 4 ص 337) ۔ ” وینصرون اللہ “ یہ یبتغون پر معطوف ہے یہ مہاجرین کی ایک اور صفت ہے۔ ان کا اپنے گھروں سے نکلنا اور اپنی جائیدادوں کو چھوڑنا محض اللہ کے دین اور رسول خدا ﷺ کی مدد اور تائید کے لیے تھا۔ ای ینصرون دین اللہ یعینون رسولہ (مدارک) ۔ ” اولئک ھم الصدقون “ یہ مہاجرین اپنے دعوائے ایمان میں سچے اور جہاد و انفاق میں اور دین حق کی حمایت و تائید میں مخلص ہیں۔ الکاملون فی الصدق فی دعواہم الایمان (روح) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہاجرین کے ایمان واخلاص کی شہادت ہے کہ انہوں نے اپنی جان پر جس قدر تکلیفیں اٹھائیں اور جس قدر مالی نقصان اٹھایا اور اپنے رشتہ داروں سے مخالفت مول لی یہ سب کچھ انہوں نے کسی دنیوی لالچ کے لیے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کے لیے کیا ہے۔ قال قتادۃ المھاجرون الذین ترکوا الدیار والاموال والعثائر وخرجوا حبا للہ ولرسولہ واختاروا الاسلام علی ما کانوا فیہ من شدۃ (خازن و معالم ج 7 ص 62) ۔ مہاجرین میں سے کسی شخص کے بارے میں منافقت کا اعتقاد رکھنا اس آیت کا صریح انکار اور کفر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تمام مہاجرین کو ایمان وعمل میں مخلص اور صادق فرمایا ہے۔ الصدقون فی ادعاء ایمانہم وحالہم علی ضد دعواھم فمن قال من الروافض انہم کانوا منافقین وکانوا کاذبین فی ادعاء الایمان کفر لاستلزام انکار ھذہ الایۃ (مظہری ج 9 ص 242) ۔
Ayah 59:99:۔ ” ولذین تبوؤا الدار “ یہ ” الفقراء “ پر معطوف ہے اور اس میں انصار ؓ کے فضل وشرف کا ذکر ہے۔ ” الدار “ سے مدینہ منورہ مراد ہے جو دار الہجرت ہے۔ الایمان کا عامل مقدر ہے۔ ای حصلوا (الشیخ) یا اخلصوا (روح) ۔ اور یہ علفتہا تبنا وماء باردا کے قبیل سے ہے۔ الکلام من باب علفتہا تبنا وماء باردا، ای تبوؤا الدار واخلصو الایمان (روح ج 28 ص 51) ۔ مہاجرین کے علاوہ اس مال فیئ سے انصار پر بھی خرچ کرو جو مہاجرین کی مدینہ میں آمد سے پہلے اس میں سکونت پذیر تھے اور ان کے آنے سے پہلے مخلصانہ ایمان لا چکے تھے۔ ” یحبون من ھاجر الیہم “ مہاجرین سے ان کو دلی محبت ہے اور ان کے دلوں میں مہاجرین کے لیے ہمدردی اور غمگساری کا جذبہ موجزن ہے۔ چناچہ مہاجرین کو جو کچھ دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ آزردہ نہیں ہوتے اور اس سے ان کے دلوں میں تنگی نہیں آتی۔ بلکہ وہ اپنی ذات پر مہاجرین کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ خود بھی ضرورت مند کیوں نہ ہوں۔ ” حاجۃ “ تنگی اور حسد، حاجۃ حسدا (مدارک) ۔ ” خصاصۃ “ حاجت، ضرورت (روح) ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انصار ؓ کے دل دنیوی لالچ اور بخل کی بیماری سے پاک تھے۔ اور جو لالچ اور بخل سے بچ گیا وہ کامیاب ہوگیا اصل میں ” الشح “ یہ ہے کہ آدمی دولت کے لالچ اور طمع میں اس قدرت منہمک ہو کہ ظلم و زیادتی سے دوسروں کے مال پر قبضہ کرلے۔ انما الشح الذی ذکرہ اللہ تعالیٰ فی الاقران ان تاکل مال اخیک ظلما (قرطبی ج 18 ص 30) ۔
Ayah 59:1010:۔ ” والذین جاء وا من بعدھم “ یہ بھی ” الفقراء “ پر معطوف ہے۔ مہاجرین و انصٓر ؓ کے بعد جو اہل ایمان مستحق ہوں گے ان کو بھی اس مال سے حصہ دیا جائے لیکن ان کے لیے ضروری ہے کہ مہاجرین وانصار ؓ کے بغض سے ان کے دل پاک ہوں بلکہ ان کی محبت سے لبریز ہوں اور وہ ہمیشہ مہاجرین و انصار کو دعاء خیر سے یاد کریں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام ؓ کے بغض سے دل کو صاف رکھنا اور ان کے ھق میں دعاء کرنا بعد والوں کے لیے لازم ہے۔ یہاں تک کہ امام مالک (رح) فرماتے ہیں جس شخص کے دل میں کسی بھی صحابی کا بغض ہوگا مال فیئ میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ وفی الایۃ حث علی الدعاء للصحابۃ و تصفیۃ القلوب من بغض احد منہم (روح ج 28 ص 54) ۔ وما احسن ما استنبط الامام مالک (رح) من ھذہ الایۃ الکریمۃ ان الرافضی الذی یسب الصحابۃ لیس لہ فی مال الفیئ نصیب لعدم اتصافہ بما مدح ھؤلاء فی قولہم ربنا اغفرلنا ولاخواننا الخ “ (ابن کثیر ج 4 ص 339) ۔
Ayah 59:1111:۔ ” الم تر “ تمہید کے بعد ان منافقین پر زجر ہے جو سورة مجادلہ میں مذکور منافقین سے کمتر تھے۔ اہل کتاب سے یہود بنی قریظہ مراد ہیں، کیونکہ بنی نضیر تو وہاں سے پہلے نکالے جا چکے تھے لیکن ان کے دلوں میں بدستور کفر موجود تھا اس لیے کفار اہل کتاب کو ان کے بھائی فرمایا۔ نیز یہ منافقین بھی اکثر یہود ہی میں سے تھے۔ منافقین جھوٹے وعدوں سے یہود بنی قریظہ کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے تھے۔ منافقین جس طرح اسلام میں مخلص نہیں تھے اسی طرح یہودیوں سے کیے گئے وعدوں میں بھی مخلص نہ تھے۔ وہ یہ وعدے محض پیش بندی کے طور پر کرتے تے کہ اگر بالفرض بنی قریظہ کا پلہ بھاری ہوگیا تو ان کی مدد کریں گے اور اگر مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا تو ان کا ساتھ دیں گے۔ منافقین یہودیوں سے کہتے کہ اگر بنی نضیر کی طرح تم کو بھی اپنے گھروں سے نکالا گیا تو ہم بھی یہاں نہیں رہیں گے۔ بلکہ جہاں تم جاؤ گے وہاں تمہارے ساتھ ہی جائیں گے اور تمہارے بارے میں ہم کسی کی کوئی بات نہیں مانیں گے مثلا اگر مسلمانوں نے ہم سے کہا کہ ہم تمہارا ساتھ چھوڑ دیں تم سے جنگ کریں تو ہم ان کا یہ حکم ہرگز نہیں مانیں گے بلکہ اگر مسلمانوں نے تم سے لڑائی چھیڑ دی تو ہم الٹا تمہاری مدد کریں گے۔ ” واللہ یشہد انہم لکذبون “ اللہ نے منافقین کی تکذیب فرما دی کہ وہ ان وعدوں میں جھوٹے ہیں اور انہیں پورا نہیں کریں گے اور ایسا ہی ہوا قبل از وقت آئندہ بات کی اطلاع دینا اور اس اطلاع کے مطابق اس کا واقع ہونا آنحضرت ﷺ کی صداقت کی دلیل ہے کہ واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ پر وحی آتی ہے۔ (الکاذبون) فی مواعیدہم للیھود وفیہ دلیل علی صحۃ النبوۃ لانہ اخبار بالغیب (مدارک ج 4 ص 183) ۔
Ayah 59:1212:۔ ” لئن اخرجوا “ یہ منافقین کے جھوٹ کی تفصیل ہے۔ یعنی ان کے دونوں وعدے ہی جھوٹے ہیں۔ اگر یہودیوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا تو یہ ہرگز ان کے ساتھ نہیں جائیں گے اور اگر ان یہودیوں سے جنگ چھڑ گئی تو یہ ہرگز ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر بالفرض وہ ان کی مدد کیلئے نکلے بھی تو شکست خوردہ ہو کر بھاگیں گے اور پھر کہیں سے بھی انہیں کمک اور نصرت حاصل نہیں ہوگی۔ جب یہود بنی نضیر کو جلا وطن کیا گیا تو منافقین عبداللہ بن ابی وغیرہ ان کے ساتھ نہ نکلے اور جب یہود بنی قریظہ سے مسلمانوں کی لڑائی ہوئی اور پھر ان کو قتل کیا گیا تو منافقین نے بنی قریظہ کی کوئی مدد نہ کی۔ وفیہ معجزۃ حیث کان الامر فی المستقبل کذلک فان بنی نضیر اخرجوا ولم یخرج معہم عبداللہ بن ابی ابن سلول ولا منافقوا قریظۃ وقریظۃ قوتلوا قوتلوا وقتلوا لم ینصرھم منافقوا مدینۃ (مظہری ج 9 ص 250) ۔
Ayah 59:1313:۔ ” لانتم اشد “ یہ مومنین کے لیے تسلی ہے۔ یہود اگرچہ مسلمانوں کے سامنے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت ڈرتے ہیں لیکن اے اہل ایمان حقیقت میں خوف خدا کے مقابلے میں تمہارا رعب و دبدبہ اور تمہاری ہیبت ان کے دلوں میں زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ دین کے فہم سے عاری اور اللہ تعالیٰ کی عظمت شان سے بیخبر ہیں اور انہیں یہ حقیقت معلوم نہیں کہ دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف سب سے زیادہ ہونا چاہئے۔ یعنی انہم یظہرون لکم فی العلانیۃ خوف اللہ و انتم اھیب فی صدورھم (ذلک بانھم قوم لا یفقہون) لایعلمون اللہ وعطمتہ حتی یخشوہ حق خشیتہ (مدارک ج 4 ص 183) ۔
Ayah 59:1414:۔ لا یقاتلونکم جمیعا “ یہ مومنین کے لیے مزید تسلیہ اور تشجیع ہے۔ فرمایا اے اہل ایمان ! یہ منافقین اور یہود متحد ہو کر کبھی بھی تمہارے مقابلے میں نہیں آئیں گے وہ تمہاری قوت و شوکت اور تمہارے اتحاد و اتفاق سے اس قدر مرعوب ہیں کہ کھلے میدان میں تم سے لڑنے کی ہرگز جراءت نہیں کریں گے، البتہ وہ محفوظ بستیوں میں اور دیواروں کی اوٹ میں چھپ کر تم سے لڑنے کی جراءت کرسکتے ہیں۔ ” باسہم بینہم شدید “ لیکن یہ خیال نہ کرنا کہ وہ اپنی کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے تمہارا مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ جب وہ آپس میں لڑتے ہیں تو ان کی باہمی لڑائی نہایت شدید ہوتی ہے اور تمہارے سامنے ان کی کمزوری محض تمہارے رعب کی وجہ سے ہے۔ بظاہر تمہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپس میں متحد ہیں، لیکن ان کے دلوں میں مکمل افتراق ہے۔ ان میں اس قدر عقل و فہم ہی نہیں کہ وہ باہمی اتحاد و الفت کی اہمیت کو سمجھ سکیں وھذا تجسیر للمومنین و تشجیع لقلوبہم علی قتالہم (روح ج 28 ص 58) ۔
Ayah 59:1515:۔ ” کمثل الذین “ یہ یہود اور منافقین کے لیے تمثیل اور تخویف ہے اور یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے اور ” الذین من قبلھم “ سے بنی قینقاع یا مقتولین بدر یا دونوں مراد ہیں (روح) ۔ ان منافقین کا حال اور انجام وہی ہونے والا ہے جو ماضی قریب میں بنی قینقاع اور صنادید قریش کا میدان بدر میں ہوا جو اپنے کفر وعصیان کا مزہ چکھ چکے ہیں اور آخرت میں بھی ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Ayah 59:1616:۔ ” کمثل الشیطان “ یہ منافقین اور یہود کے لیے دوسری تمثیل ہے منافقین کے یہود سے وعدوں کی مثال شیطان کے وعدوں کی سی ہے جو انسان کو مختلف آرزوئیں دلا کر اور اسے سبز باغ دکھا کر کفر و شرک پر آمادہ کرتا ہے اور جب آدمی اس کے چالوں میں آ کر کفر کرلیتا ہے اور اس کی پاداش میں عذاب خداوندی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو شیطان اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور صاف کہ دیتا ہے کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ پروردگار عالم سے ڈرتا ہے اس لیے میں تم سے بری الذمہ ہوں اور تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ یہود سے کیے گئے منافقین کے وعدے بھی اسی طرح پر فریب ہیں آڑے وقت میں وہ بھی ان کی مدد نہیں کریں گے اور مختلف حیلوں بہانوں سے کنی کترا جائیں گے۔
Ayah 59:1717:۔ ” فکان عاقبتھما “ یہ شیطان اور کافر کا انجام ہے۔ دنیا میں تو شیطان انسان کو گمراہ کر کے الگ ہوجاتا ہے لیکن آخرت میں دونوں کا انجام جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ایسے ظالموں کی یہی سزا ہے بعینہ یہی انجام ان منافقوں اور یہودیوں کا ہوگا۔
Ayah 59:1818:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ حضرت شیخ قد سرہ کے نزدیک یہ پہلے منافقین سے کمتر منافقوں پر زجر ہے۔ اس صورت میں ایمان سے ایمان باللسان مراد ہوگا۔ یا خطاب ایمان والوں سے ہے اور تنبیہ منافقین کو مقصود ہے یا یہ منافقین کے زجر و تنبیہ کے بعد مخلصین کے لیے وعظ و ارشاد ہے اپنے تمام ظاہر و باطن اعمال و افعال میں اللہ سے ڈرو، اس کے اوامر کی تعمیل کرو اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو۔ اور ہر فرد بشر یہ دیکھے کہ وہ آخرت کیلئے کیا سامان تیار کر رہا ہے۔ جہاں اس کے ہر نیک و بد عمل کی پوری پوری جزاء ملے گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام ظاہر و باطن اعمال سے باخبر ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی نہیں۔
Ayah 59:1919:۔ ” ولا تکونوا “ اور ان لوگوں کی مانند نہ جو اؤ جنہوں نے اللہ کے ذکر اور اس کے احکام کی تعمیل کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کے احکما کی اطاعت سے اپنے نفسوں کو خسارہ آخرت سے بچانے کی تدبیر نہ کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو فضل و رحمت اور انعام و اکرام سے یاد نہ فرمایا۔ یہ لوگ سرکش اور احکام الٰہیہ کے باغی ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں کہ رحمت خداوندی سے محروم ہوں (نسوا اللہ) ترکوا ذکر اللہ عز و جل وما امرھم بہ (فانساہم انفسہم) فترکہم من ذکرہ بالرحمۃ والتوفیق (مدارک ج 4 ص 184) ۔
Ayah 59:2020:۔ ” لا یستوی “ ان فساق و فجار کے ذہن اس قدر مسخ ہوچکے ہیں کہ ان کے نزدیک نیک وبد میں کوئی تمیز ہی باقی نہیں رہی حالانکہ ایسے بدکردار اور بد گفتار لوگ جو جہنم کا ایندھن ہوں گے ان مومنین صالحین کے برابر نہیں ہوسکتے جو جنت کے باسی ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 59:2121:۔ ” لو انزلنا “ یہ قرآن مجید میں فکر و تامل کی ترغیب ہے اور پہاڑوں پر قرآن نازل کرنے سے یا تمثیل مراد ہے یا مقصد یہ ہے کہ اگر ہم پہاڑوں ایسی سخت چیز کو عقل دے کر ان پر اس قرآن کو نازل کردیتے تو قرآن کی اثر انگیزی سے وہ اس قدر متاثر ہوتے کہ خوف سے لرز اٹھتے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے لیکن ان منافقین کے دل اس قدر سخت ہیں کہ قرآنی مواعظ کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ حث علی تامل مواعظ القران و بین انہ لا عذر فی ترک التدبر، فانہ لو خوطب بھذا القران الجبال مع ترکیب العقل فیھا لانقادت لمواعظہ ولرای تھا علی صلاب تھا ورزانتہا خاشعۃ متصدعۃ (قرطبی ج 18 ص 144) ۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کر کے عبرت و نصیحت حاصل کریں۔
Ayah 59:2222:۔ ” ھو اللہ الذی “ آخر میں توحید کے تینوں مراتب کا ذکر ہے اس آیت کے پہلے حصے میں توحید کا تیسرا مرتبہ مذکور ہے یعنی دعائے توحید کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔ ” علم الغیب والشہادۃ “ یہ دعائے توحید کی علت ہے اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں کیونکہ وہی عالم الغیب ہے اور وہی رحمن ورحیم ہے تمام دین و دنیا کی نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں۔ عالم الغیب الخ۔ اس سے پہلے ھو مبتدا محذوف ہے۔
Ayah 59:2323:۔ ” ھو اللہ الذی “ یہ توحید کا دوسرا مرتبہ ہے اور شروع میں دعوے توحید کا اعادہ ہے اور اس کے بعد دعوے کی دوسر علت مذکور ہے۔ ” الملک القدوس “ ای ھو الملک الخ۔ الملک، بادشاہ اور متصرف و مختار۔ ” القدوس “ کامل الصفات جس کی ہر صفت کامل ہو (روح) جس کی بادشاہ میں زمانہ ماضی میں کوئی فرق نہ آیا ہو۔ (الشیخ (رح)) ” السلام “ جو ہر عیب سے پاک ہو (روح) ۔ جس کی بادشاہی مستقبل میں بھی ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہے گی (الشیخ) ۔ ” المومن “ امن و سلامتی عطاء کرنے والا۔ ” المھیمن “ نگہبان اور محافظ۔ ” الجبار “ مخلوق کی اصلاح کرنے والا۔ ” المتکبر “ عظمت و کبریا میں سب پر فائق (روح) ۔ حاصل یہ کہ ساری کائنات میں متصرف و مختار وہی ہے اور خود ہی تخت شاہی پر متمکن ہے اس کی حکومت و سلطنت ہر قسم کے ضعف و نقصان سے پاک ہے اور حکومت میں اور اختیار و تصرف میں کوئی اس کا شریک اور مشیر نہیں اور نہ کوئی نائب و معین۔
Ayah 59:2424:۔ ” ھو اللہ الخالق “ یہ توحید کا پہلا مرتبہ اور دعوائے توحید کی تیسری علت ہے۔ پیدائش کے تین مراتب ہیں۔ اول خلق ہر چیز کی پیدائش کا حسب حکمت منصوبہ تیار کرنا۔ دوم، برء، عدم سے وجود میں لانا۔ سوم، صورت عطا کرنا۔ (الخالق) المقدر لما یوجدہ۔ (البارئ) المخترع المنشئ للاعیان من العدم الی الوجود (المصور) ای یخلق صورۃ العخلق علی ما یریدہ۔ فاولا یکون خلقا ثم برا ثم تصویرا (خازن و معالم ج 7 ص 73) ۔ اس کے علاوہ بھی اس کی بہت صفتیں ہیں۔ حاصل یہ کہ ساری کائنات کا خالق بھی وہی ہے اور وہی سب کا حاجت روا اور کارساز ہے۔ اس لیے حاجت و مشکلات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو۔
25:۔ ” یسبح لہ “ یہ ابتداء سورت میں مذکور دعوے کا اعادہ ہے۔ ابتداء میں بصیغہ ماضی اور یہاں بصیغہ مضارع تاکہ استمرار تجددی پر دلالت کرے۔ یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز مسلسل اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں لگی ہوئی ہے اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ وہ جامع کمالات ہے، ہر نقص وعیب سے منزہ اور علم وقدرت میں کامل ہے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
سورة حشر میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ سبح للہ ما فی السموات وما فی الارض۔ الایۃ “ نفی شرک ہر قسم
2 ۔ ” ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو۔ الایۃ “ توحید کا تیسرا مرتبہ یعنی اللہ کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں
3 ۔ ” ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو۔ الایۃ “ دوسرا مرتبہ۔ وہی متصرف و مختار ہے۔
4 ۔ ” ھو اللہ الخالق البارئ۔ الایۃ “ توحید کا پہلا مرتبہ، وہی سب کا خالق ہے۔
سورة الحشر ختم ہوئی