58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsجواھر القرآن

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

سن لی اللہ نے2 بات اس عورت کی جو جھگڑتی تھی تجھ سے اپنے خاوند کے حق میں اور جھینکتی تھی اللہ کے آگے اور اللہ سنتا تھا سوال و جواب تم دونوں کا بیشک اللہ سنتا ہے دیکھتا ہے

2:۔ ” قد سمع اللہ “ بیان حکم ظہار بطور تمہید برائے زجرات منافقین۔ ظہار سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو اپنی والدہ یا کسی اور ذی رحم محرم پشت سے تشبیہ دے دے۔ زمانہ جاہلیت میں ظہار کو طلاق قرار دیا جاتا تھا۔ اور ظہار کے بعد بالکل بیوی کو الگ کردیا جاتا۔ حکم ظہار کے نزول سے پہلے اسلام میں بھی اسے طلاق ہی سمجھا جاتا تھا۔ وکان الظہار بالمعنی السابق طلاقا فی الجاھلیۃ، قیل واول الاسلام (روح ج 28 ص 4) ۔ ایک شخص اوس بن صامت ؓ کی اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ بن مالک ؓ سے کسی معاملہ میں تکرار ہوگئی تو انہوں نے اس سے اظہار کر کے بعد میں پشیمان ہوئے ان کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ عرض کیا یارسول اللہ ! اوس نے جوانی میں مجھ سے شادی کی اور اب جبکہ میں بوڑھی ہوچکی ہوں اور بہت سے بچوں کی ماں بن چکی ہو اس نے مجھے اپنی ماں سے تشبیہ دے کر مجھے چھوڑ دیا ہے۔ میری حالت نہایت قابل رحم ہے آپ نے فرمایا : میری رائے تو یہی ہے کہ اب تو اس پر حرام ہوچکی ہے ما اراک الا قد حرمت علیہ ولم اومر فی شانک بشیئ (خازن و معالم ج 7 ص 42) ۔ وہ بار بار عرض کرتی یارسول اللہ ! میرے لیے کوئی صورت ہو کہ میں ووبارہ اوس کے گھر آباد ہوسکوں، لیکن ہر بات آپ وہی جواب دیتے اور وہ بیچار مجبور ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی وزاری سے اپنے دکھ کا اظہار کرنے لگتی۔ آنحضرت ﷺ اور اس عورت کے درمیان بار بار سوال و جواب ہوا اور اس عورت نے ہر بار اللہ تعالیٰ التجا کی آخر اللہ تعالیٰ نے اس کی آہ وزاری کو قبول فرمایا کفارہ ظہار کا حکم نازل فرمایا کہ کفارہ ظہار کے بعد وہ دوبارہ اپنے خاوند کے پاس رہ سکتی ہے۔ ” سمع “ میں سماع سے مجازًا قبول و اجابت مراد ہے والسماع مجازا عن القبول والاجابۃ (روح) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی دعاء والتجا قبول فرما لی جو اپنے خاوند کے بارے میں آپ سے تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے سامنے اپنے حال زار کا اظہار کر رہی تھی اور اللہ کے سامنے اپنے حال زار کا اظہار کر رہی تھی اور اللہ کے سامنے اپنے حال زار کا اظہار کر رہی تھی اور اللہ تعالیٰ بھی تمہارا سوال و جواب سن رہا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ ” یسمع “ مضارع برائے ماضی استمراری ہے اور ” ان اللہ سمیع بصیر “ جملہ ماقبل کیلئے بمنزلہ علت ہے۔
Ayah 58:2

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

جو لوگ ماں کہہ بیٹھیں3 تم میں سے اپنی عورتوں کو وہ نہیں ہوجاتیں ان کی مائیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا اور وہ بولتے ہیں ایک ناپسند بات اور جھوٹی اور اللہ معاف کرنے والابخشنے والا ہے

3:۔ ” الذین یظاہرون “ یہ ظہار کرنے والوں کو تنبیہ اور اصل حقیقت کا اظہار ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرلیتے ہیں اور پھر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اب وہ پر ماؤں کی طرح ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئیں ہیں یہ خیال غلط ہے ظہار سے بیویاں مائی نہیں بن جاتیں، مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے وہ بیویوں کو اپنی ماؤں سے تشبیہ دے کر ایک خلاف شریت، خلاف عقل اور سراسر غلط بات منہ سے نکالتے ہیں۔ ہاں جو لوگ توبہ کریں اللہ تعالیٰ محض اپنی مہربانی سے ان کا گناہ معاف فرما دے گا (منکرا من القول) ینکرہ الشرع والعقل والطبع ایضا (وزورا) وکذبا باطلا منحرفا عن الھق (روح، مدارک) ۔ اس پر کفار و منافقین نے ازراہ ِ عناد و طعن کیا کہ یہ اچھی شریعت کہ جس کو ایک دفعہ ماں کہہ لیا اس کو پھر بیوی بنا لیا۔ لیکن یہ اعتراض سراسر باطل ہے کیونکہ زبان سے ایک سراسر غلط اور خلاف واقعہ بات کہہ دینے سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔
Ayah 58:3

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ ماں کہہ بیٹھیں4 اپنی عورتوں کو پھر کرنا چاہیں وہی کام جس کو کہا ہے تو آزاد کرنا چاہیے ایک بردہ پہلے اس سے کہ آپس میں ہاتھ لگائیں اس سے تم کو نصیحت ہوگی اور اللہ خبر رکھتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

4:۔ ” والذین یظاہرون “ یہ کفارہ ظہار کا بیان ہے کفارہ ظہار کی تین صورتیں ہیں۔ اس آیت میں پہلی صورت کا بیان ہے۔ قالوا ای لنقض ما قالوا (مدارک) ۔ ” فتحریر رقبۃ “ یہ خبر مقدر کا مبتدا ہے ای فعلیہم تحریر رقبۃ (مظہری) ۔ یعنی جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں لیکن اس کے بعد وہ اپنی کہی ہوئی بات کو کالعدم اور اس کی تلافی کرنا چاہیں تو ان پر بطور کفارہ ایک غلام کا آزاد کرنا لازم ہے لیکن اس کے شرط یہ ہے کہ ظہار کے بعد بیوی کے پاس جانے سے پہلے غلام آزاد کریں۔ یہ کفارہ ادا کرنے حکم تمہیں تنبیہ کے لیے کیا جارہا ہے تاکہ تم آئندہ اس فعل شنیع کا ارتکاب نہ کرو اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے وہ خوب جانتا ہے کون اس کی شریعت کا اتباع کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔ ذلکم توعظون بہ ای تزجرون بہ (ابن کثیر ج 4 ص 321) ۔
Ayah 58:4

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر جو کوئی نہ پائے تو روزے ہیں5 دو مہینے کے لگاتار پہلے اس سے کہ آپس میں چھوئیں پھر جو کوئی یہ نہ کرسکے6 تو کھانا دینا ہے ساٹھ محتاجوں کا یہ حکم اس واسطے کہ تابعدار ہوجاؤ اللہ کے اور اس کے رسول کے اور یہ حدیں باندھی ہیں اللہ کی اور منکروں کے واسطے عذاب ہے دردناک

5:۔ ” فمن لم یجد “ کفارہ ظہار کی دوسری صورت، جس کی مالی حالت کمزور ہو اور وہ غلام آزاد کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو اس پر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے لازم ہیں۔ اس میں ایک شرط تو وہی ہے کہ بیوی کے پاس جانے سے پہلے دو ماہ کے روزے رکھے دوسری شرط یہ ہے کہ روزے لگاتار رکھے اور درمیان میں ناغہ نہ کرے۔ اگر کسی شخص نے دو ماہ کے دوران ایک دن کا روزہ ناغہ کردیا، یا اس دوران میں رات کو اس بیوی سے صحبت کرلی جس سے ظہار کیا ہے تو دونوں صورتوں میں از سر نو دو ماہ کے متواتر روزے رکھنے لازم ہوں گے۔ ٖ 6:۔ ” فمن لم یستطع “ یہ کفارہ ظہار کی تیسری صورت ہے۔ اگر کوئی شخص بیماری یا بڑھاپے یا کسی دوسرے مانع کی وجہ سے روزے رکھنے سے قاصر ہو تو اس کے لیے کفارہ ظہار ادا کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے اس کی کئی صورتیں ہیں۔ اول ایک مسکین کو ساٹھ دن دو وقت پیٹ بھر کھانا کھلا دے۔ دوم، ساٹھ مسکینوں کو ایک ہی دن میں دو وقت پیٹ بھر کھانا کھلا دے۔ سوم، ساٹھ آدمیوں کو فی کس دو سیر گندم یا گندم کا آٹا فی کس چار سیر جو یا جو کا آٹا دیدے۔ ان صورتوں میں سے جو صورت چاہے اختیار کرے کفارہ ادا ہوجائیگا۔ کفارہ ظہار کی تیسری صورت میں مجامعت پر اس کی تقدیم شرط نہیں۔ اگر کسی شخص نے ایک مسکین کو ایک ماہ یا کم و بیش کھانا کھلانے کے بعد بیوی سے صحبت کرلی تو اس میں کوئی حرج نہیں کھانا کھلانا از سرِ نو لازم نہیں ہوگا۔ ” ذلک لتومنوا باللہ ورسولہ “ یہ حدود و احکام اس لیے بیان کیے گئے ہیں تاکہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر اپنا ایمان قائم رکھو اور ان کے احکام کی تعمیل کرو۔ یہ احکام و شرائع اللہ کی حدود ہیں جن کی پابندی کرنا اہل ایمان کا شیوہ ہے۔ لیکن کفار جو اللہ کی حدود کو توڑتے اور شرائع الٰہیہ پر طعن کرتے ہیں ان کے لیے نہایت دردناک عذاب تیار ہے۔
Ayahs 58:5–6

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ کہ7 مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی وہ خوار ہوئے جیسے کہ خوار ہوئے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے اور ہم نے اتاری ہیں آیتیں بہت صاف اور منکروں کے واسطے عذاب ہے ذلت کا

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس دن کہ اٹھائے گا اللہ ان سب کو پھر جتلائے گا ان کو ان کے کیے کام اللہ نے وہ سب گن رکھے ہیں اور وہ بھول گئے، اور اللہ کے سامنے ہے ہر چیز

7:۔ ” ان الذین یحادون “ یہ ان کفار و منافقین کے لیے زجر اور تخویف دنیوی واخروی ہے ج خدا اور رسول کے احکام کی مخافلت کرتے اور احکام شریعت پر نعطن کرتے ہیں۔ ان کو دنیا میں ذلیل و رسوا کیا جائیگا۔ جس طرح گذشتہ امتوں کے کافروں کو کیا گیا۔ حالانکہ ہم اسلام، قرآن اور پیغمبر (علیہ السلام) کی صداقت پر واضح اور روشن دلائل قائم کرچکے ہیں کہ انکار و مخالفت کی کئی گنجائش ہی باقی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان معاندین کو دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں مختلف مواقع پر نہایت ذلیل ورسوا کیا۔ جنگ بدر یا جنگ احزاب میں یا دونوں ہی مراد ہوں (بحر، روح) ۔ ” وللکفرین عذاب مھین “ دنیا میں اس ذلت و ناکامی کے علاوہ آخرت میں ان کے لیے اس سے بھی زیادہ رسوا کن عذاب تیار ہے۔ ” یوم یبعثہم اللہ “ ظرف ” مھین “ سے متعلق ہے یا متعلق لام سے منصوب بالظرف المستقر اعنی للکافرین او بمھین (مظہری ج 9 ص 221) ۔ قیام کے دن جب اللہ ان سب کو میدان حشر میں جمع کرے گا، تو انہیں ان کی تمام بد اعمالیوں سے آگاہ فرمائے گا جن کو وہ بھول چکے ہوں گے، لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی تمام تفصیلات محفوظ ہوں گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ علم وقدرت کے اعتبار سے ہر جگہ موجود ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ اور اوجھل نہیں۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

تو نے نہیں دیکھا8 کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں کہیں نہیں ہوتا مشورہ تین کا جہاں وہ نہیں ہوتا ان میں چوتھا اور نہ پانچ کا جہاں وہ نہیں ہوتا ان میں چھٹا اور نہ اس سے کم اور نہ زیادہ جہاں وہ نہیں ہوتا ان کے ساتھ جہاں کہیں ہوں پھر جتلا دے گا ان کو جو کچھ انہوں نے کیا قیامت کے دن، بیشک اللہ کو معلوم ہے ہر چیز

8:۔ ” الم تر ان اللہ یعلم “ یہ نہایت ہی سرکش اور بدترین قسم کے منافقوں پر پہلی زجر ہے۔ یہ منافقین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگوشیاں کرتے اور سمجھتے کہ ان کی ان پوشیدہ باتوں کا کسی کو علم نہیں، حالانکہ ان کی کوئی خفیہ سازش اللہ تعالیٰ سے خفیہ نہیں سکتی اللہ تعالیٰ تو زمین و آسمان کی ہر بات اور چیز کو جانتا ہے اور کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی۔ اگر کسی جگہ بھی آدمی چھپ کر کوئی مشورہ کریں تو چوتھا اللہ تعالیی ہوتا ہے اور اگر پانچ آدمی کوئی خفیہ پروگرام بنائیں تو ان کے پاس بھی وہ موجود ہوت ہے۔ الغرض اس سے کم ہوں یا اس سے زیادہ جہاں کہیں بھی چھپ کر کوئی مشورہ کریں اللہ تعالیٰ ان کے پاس موجود اور ان کی ہر بات سے باخبر ہوتا ہے۔ ” ثم ینبئھم بما عملوا “ دنیا میں تو وہ مکر جائیں گے کہ ہم نے کوئی مخالفانہ پروگرام نہیں بنایا۔ لیکن قیامت کے دن انکار نہیں کرسکیں گے۔ اس دن اللہ ان کو علمی رؤوس الاشہاد ذلیل ورسوا کرنے کے لیے ان کے تمام کرتوت ظاہر کردے گا، کیونکہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور کوئی بات اس سے مخفی نہیں۔
Ayah 58:8

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا9 ان لوگوں کو جن کو منع ہوئی کانا پھوسی پھر بھی وہی کرتے ہیں جو منع ہوچکا ہے اور کان میں باتیں کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی اور جب آئیں تیرے پاس تجھ کو وہ دعا دیں10 جو دعا نہیں دی تجھ کو اللہ نے اور کہتے ہیں اپنے11 دل میں کیوں نہیں عذاب کرتا ہم کو اللہ اس پر جو ہم کہتے ہیں کافی ہے ان کو دوزخ داخل ہوں گے اس میں سو بری جگہ پہنچے

9:۔ ” الم تر الی الذین “ زجر ثانی برائے منافقین حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہود اور منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔ قال ابن عباس نزلت فی الیھود والمنافقین (قرطبی ج 17 ص 291) ۔ جب مسلمانوں کی ایک جماعت کہیں جہاد میں شریک ہوتی تو منافقین دوسرے مسلمانوں کے سامنے الگ ٹولی بنا کر کھسر پھسر کرتے اور آنکھوں اور ہاتھوں سے مسلمانوں کی طرف اشارے کر کے ان کے وہم میں ڈالتے کہ ان کے اقارب تو وہاں کام آچکے اب وہ واپس نہیں آئیں گے اور اگر وہ کسی مسلمان کو تنہا گذرتے دیکھتے تو فورًا سر جوڑ کر اور اس کی طرف سر اور آنکھوں سے اشارے کر کے سرگوشی شروع کردیتے جس سے وہ سمجھے کہ یہ میرے قتل کا پروگرام بنا رہے ہیں اور خوف زدہ ہوجائے۔ ان کی ایسی شرارتوں سے مسلمانوں کو سخت صدمہ پہنچتا اور ایذاء ہوتی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس کا شکوہ کیا اس پر آپ نے ان منافقین کو ڈانٹا اور اس طرح سرگوشیاں کرنے سے ان کو روکا مگر وہ پھر بھی باز نہ آئے چناچہ اس آیت میں ان زجر کیا گیا (روح، ابن کثیر) یہ لوگ کیسے معاند اور بد طینت ہیں کہ جرم و گناہ سے ان کو منع کیا گیا وہ پہلے سے بڑھ چڑھ کا اس کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ ” النجوی “ الف لام عہد خارجی کے لیے ہے یعنی خلاف اسلام مشورے۔ ” لما نھوا عنہ “ ای لفعل ما نھوا عنہ۔ ان کو منع کیا گیا تھا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مشورے نہ کیا کریں لیکن وہ اس سے باز نہیں آئے اور بدستور ایسے منصوبے بناتے ہیں جو سراسر خلاف اسلام اور گناہ ہیں اور جن کا مقصد مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کرنا اور پیغمبر خدا ﷺ کی مخالفت وعداوت پر اکسانا ہے۔ 10:۔ ” واذا جاءوک “ یہ یہود اور منافقین کی ایک اور شرارت کا ذکر ہے۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے تو السلام علیک کی بجائے السام علیک کہتے۔ السام کے معنی موت کے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحیہ سلام نازل ہوتا ہے اور امت کو بھی تحیہ سلام پیش کرنے کا حکم ہے لیکن یہود و منافقین اپنے کمال خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے السام علیک کہتے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی اس شرارت و خباثت پر زجر فرمائی۔ 11:۔ ” ویقولون فی انفسہم “ اور پھر آپس میں کہتے ہیں کہ ہم محمد ﷺ کی اس طرح تحقیر و توہین کرتے ہیں اگر واقعی وہ اللہ کا پیغمبر ہے تو اللہ ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا اور ہم سے انتقام کیوں نہیں لیتا ای یقولون فیما بینہم لوکان نبیا لعاقبنا اللہ بما نقولہ (مدارک ج 4 ص 177) ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” حسبھم جہنم الخ “ اگر دنیا میں ان کو ان شرارتوں کی سزا نہیں ملی تو کیا ہو آخرت میں ان کی سزا کے لیے جہنم ہی کافی ہے جس میں وہ داخل ہوں گے جو نہایت ہی برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 58:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے ایمان والو12 جب تم کان میں بات کرو تو مت کرو بات گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی اور بات کرو احسان کی اور پرہیزگاری کی اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کے پاس تم کو جمع ہونا ہے

12:۔ ” یا ایہا الذین امنوا اذا ناجیتم “ یہ اصلاح منافقین کیلئے پہلا قانون ہے اور خطاب منافقین سے ہے اور ایمان سے ایمان باللسان مراد ہے۔ ای امنوا بالسنتہم وھو خطاب للمنافقین (مدارک) ۔ یا مؤمنین کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ کفار و منافقین کی طرح نہ ہوں۔ قال اللہ تعالیی مؤدبا عبادہ المؤمنین ان لا یکوانو مثل الکفرۃ و المنافقین (ابن کثیر ج 4 ص 323) ۔ کوئی ایسا پروگرام نہ بناؤ اور ایسا مشورہ نہ کرو جو سراسر گناہ ہو یا جس کا مقصد مسلمانوں پر ظلم وتعدی کرنا یا پیغمبر خدا ﷺ کے احکام کی مخالفت ہو۔ بلکہ ہمیشہ ایسے کاموں کے باہم مشورے کرو جو نیکی اور تقوی کے کام ہوں یعنی احکام شریعت کی تعمیل اور مخالفت شریعت سے اجتناب۔ اور ہمیشہ اللہ سے ڈرتے ہو جس کی عدالت میں تم سب جمع کر کے پیش کیے جاؤ گے۔ (وتاجوا بالبر) باداء الفرائض والطاعت وما یتضمن خیر المؤمین (والتقوی) ای الاحتراز من معصیۃ الرسول (مظہری ج 9 ص 223) ۔
Ayah 58:10

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

یہ جو ہے کانا پھوسی13 سو شیطان کا کام ہے تاکہ دل گیر کرے ایمان والوں کو اور وہ ان کا کچھ نہ بگاڑے گا بدون اللہ کے حکم کے اور اللہ پر چاہیے کہ بھروسہ کریں ایمان والے

13:۔ ” انما النجوی “ الف لام عہد خارجی کیلئے ہے یعنی مشورہ جو مؤمنوں کو ایذا دینے کیلئے کیا جائے یعنی ایسے مشوروں پر شیطان اکساتا ہے، تاکہ اس سے مؤمنین کو دکھ پہنچے اور وہ آزردہ ہوں لیکن ایمان والوں کو نقصان پہنچانا شیطان کے بس کی بات نہیں، انہیں وہی ضرور پہنچ سکتا ہے جو اللہ نے مقدر فرمایا ہے اور ایمان والوں کا بھروسہ اور اعتماد ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے حکم کے بغیر کچھ بھی نقصان نہیں ہوسکتا۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے ایمان والو14 جب کوئی تم کو کہے کہ کھل کر بیٹھو مجلسوں میں تو کھل جاؤ اللہ کشادگی دے تم کو اور جب کوئی کہے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو اللہ بلند کرے گا ان کے لیے جو کہ ایمان رکھتے ہیں تم میں سے اور علم ان کے درجے میں اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو

14:۔ ” یا ایہا الذین امنوا اذا قیل “ یہ اصلاح منافقین کیلئے دوسرا قانون ہے۔ منافقین، رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں آپ کے قریب آ کر بیٹھ جاتے اور جگہ روک لیتے یہاں تک کہ اکابر صحابہ ؓ کی آمد پر بھی وہ ان کے لیے جگہ خالی نہ کرتے اور بدستور آپ کے قریب بیٹھے رہتے اور بعض اوقات اکابر صحابہ ؓ کو جگہ نہ ملنے کی وجہ سے کھڑے رہنا پڑتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا جب مجلس میں جگہ کافی ہو اور تمہیں کھلے ہو کر بیٹھنے کا حکم دیا جائے تو کھلے ہو کر بیٹھ جایا کرو تم میں جو مخلص مؤمن ہیں اللہ تعالیٰ اس تعمیل حکم پر ان کے درجات بلند فرمائیگا اور اس میں سے جو اہل علم ہیں ان کے درجات اور بھی بلند ہوں گے۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں چونکہ منافقین بھی ہوتے تھے اور بعض دفعہ امور خاصہ کا اظہار ان کے سامنے مضر ہوتا اس لیے فرمایا جب تم کو اٹھ جانے کا حکم دیا جائے تو اٹھ جایا کرو تاکہ منافقین بھی مجلس سے چلے جایا کریں اور آنحضرت ﷺ اکابر صحابہ کے ساتھ امور مہمہ پر تبادلہ خیالات فرما لیا کریں۔
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے ایمان والو15 تم کان میں بات کہنا چاہو رسول سے تو آگے بھیجو اپنی بات کہنے سے پہلے خیرات یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اور بہت ستھرا پھر اگر نہ پاؤ تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

15:۔ ” یا ایہا الذین امنوا اذا ناجیتم “ یہ اصلاح منافقین کے لیے تیسرا قانون ہے۔ بعض منافقین جو بظاہر مسلمانوں ہی میں شمار ہوتے تھے ریاکاری کے لیے آنحضرت ﷺ کو دوسرے لوگوں سے الگ لیجا کر آپ کے ساتھ بلا مقصد طویل سرگوشیاں کرنے لگتے تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ یہ بڑے مخلص لوگ ہیں اور حضور ﷺ کے خاص آدمی ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ بلندئ اخلاق اور وسعت ظرف کی وجہ سے کسی کو رد نہ فرماتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرما دیا کہ جب پیغمبر خدا ﷺ کے ساتھ کوئی مشورہ کرنا ہو تو پہلے مشورہ کرلیا کرو اس حکم کے نزول کے بعد ریاکاروں اور منافقوں نے اپ کے ساتھ سرگوشیاں کرنا چھوڑدیں۔ روی عن ابن عباس وقتادۃ ان قوما من المسلمین کثرت مناجاتہم للرسول علیہ الصلوۃ والسالم فی غیر حاجۃ الا لتظہر منزلتہم وکان ﷺ سمحا لا یرد احدا فنزلت ھذہ الایۃ (روح ج 28 ص 30) ۔ مناجات رسول ﷺ سے پہلے صدقہ دینا تمہارے لیے بہتر ہے اور نفوس کی بھی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ ” فان لم تجدوا “ لیکن جس کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو تو وہ صدقہ دئیے بغیر ہی آپ سے مشورہ کرلے۔ اللہ تعالیٰ مہربان ہے اسے معاف فرمائیگا۔ اس سے بظاہر صدقہ دینے کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ قبل مشورہ صدقہ نہ دینے کی رخصت صرف ان کو دی گئی ہے جن کے پاس مال نہ ہو۔ (روح) یہ حکم صرف چند یوم یا صرف ایک ساعت جاری رہا اس کے بعد منسوخ ہوگیا۔ قیل کان ذلک عشر لیال ثم نسخ وقیل ماکان الا ساعۃ من نہار ثم نسخ (مدارک ج 4 ص 178) ۔ اس دوران میں صرف حضرت علی ؓ ہی کو اس آیت پر عمل کرنے کا موقع ملا۔ قبل اس کے کہ کوئی دوسرا آدمی اس پر عمل کرے اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا (ابن کثیر، مدارک وغیرہما) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حکم صدقہ کے بعد منافقین، آنحضرت ﷺ کے ساتھ بےمقصد سرگوشیاں کرنے سے رک گئے تھے اس لیے مسلمانوں پر آسانی کے لیے اس حکم کو اٹھا لیا۔ کیونکہ اب منافقین، حسب سابق سرگوشیاں کرنے سے شرماتے تھے کہ حکم صدقہ کے دوران مشورے نہیں کرتے تھے، لہذا اب بھی نہ کریں۔ حضرت شیخ کے نزدیک یہ آیت منسوخ نہیں کیونکہ یہ حکم استحبابی تھا اور اس کا استحباب اب بھی باقی ہے اگر باہمی مشورے سے قبل صدقہ کرلیا جائے تو بہتر ہے۔
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم ڈر گئے16 کہ آگے بھیجا کرو کان کی بات سے پہلے خیراتیں سو جب تم نے نہ کیا اور اللہ نے معاف کردیا تم کو تو اب قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور حکم پر چلو اللہ کے اور اس کے رسول کے اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو

16:۔ ” ءاشفقتم “ کیا تمہیں ڈر ہے کہ مشورے سے پہلے صدقہ دینے تم محتاج ہوجاؤ گے ؟ اچھا اگر تم اس حکم صدقہ پر عمل نہیں کرسکے اور اللہ نے بلاوجہ مشورہ کرنے کی اجازت دیدی ہے، تو اب فرائض میں کوتاہی نہ کرنا، نماز قائم کرنا، زکوۃ دینا، اللہ تعالیٰ اور اس کے سول ﷺ کے دیگر تمام احکام کی پیروی کرنا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور ہر عمل کی پوری پوری جزا و سزا دے گا۔
Ayah 58:14

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا ان لوگوں کو17 جو دوست ہوئے ہیں اس قوم کے جن پر غصہ ہوا ہے اللہ نہ وہ تم میں ہیں اور نہ ان میں ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ بات پر اور ان کو خبر ہے

17:۔ ” الم تر الی الذین تولوا “ یہ منافقین پر تیسرا زجر ہے۔ ” مغضوب علیہم “ (جن پر اللہ کا غضب ہوا) سے یہود مراد ہے۔ ” الکذب “ جھوٹ اور خلاف حقیقت بات، اس سے منافقین کا ادعائے اسلام مراد ہے وہ دعوی کرتے کہ ہم مؤمن ہیں لیکن ان کے دلوں میں بدستور کفر جاگزیں تھا اور ایمان کا ان کے دلوں میں شائبہ تک نہ تھا۔ (الکذب) وھو ادعاء الاسلام (مظہری ج 9 ص 227) ۔ منافقین کا اسلام چونکہ دنیوی منافع اور وقتی مصالح کی بنا پر تھا، اس لیے در پردہ ان کا گٹھ جوڑ یہودیوں سے تھا جو اپنی سرکشی اور شرارتوں کی وجہ سے غضب خداوندی کے مستحق ٹھہر چکے تھے دوسری طرف مسلمانوں کے سامنے قسمیں کھاتے کہ وہ مخلص مومن ہیں۔ فرمایا کیا آپ نے ان لوگوں کا حال ملاحظہ نہیں فرمایا جن کی دوستی ان یہودیوں کے ساتھ ہے جن پر اللہ کا غضب مقدر ہوچکا ہے۔ حقیقت میں پرلے درجہ کے مکار ہیں وہ نہ تمہارے دوست ہیں اور نہ یہودیوں کے، وہ دونوں فریقوں کو دھوکہ دے کر اپنا مطلب نکالنا چاہتے ہیں اور جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔ کہ وہ مومن ہیں اور تمہارے ساتھ ہیں حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔
Ayahs 58:15–16

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

تیار رکھا ہے18 اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب بیشک وہ برے کام ہیں جو وہ کرتے ہیں

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

بنا رکھا ہے اپنی قسموں کو ڈھال پھر روکتے ہیں اللہ کی راہ سے تو ان کو ذلت کا عذاب ہے

18:۔ ” اعد اللہ “ یہ منافقین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ دنیا میں وقتی منافع حاصل کرلیں، لیکن آخرت میں ان کے لیے نہایت ہی سخت سزا تیار ہے کیونکہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں نہایت ہی برا کر رہے ہیں۔ ” اتخذوا ایمانہم جنۃ “ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے کہ جب کبھی ان کی کسی شرارت پر ان کا مؤاخذہ ہوتا ہے تو قسمیں کھا کھا کر اپنے اخلاص ایمان اور اپنی براءت کا اظہار کرتے ہیں اور جب انہیں ان قسموں کی آڑ میں امن مل جاتا ہے تو طرح طرح سے مسلمانوں کو دین سے برگشتہ کرتے ہیں اور جو لوگ اسلام میں داخل ہونا چاہیں ان کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ ان خبثاء کے لیے نہایت ہی ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب تیار ہے (فصدوا) لناس (عن سبیل اللہ) فی خلال امنہم بتثبیط من لقوا عن الدخول فی الاسلام وتضعیف امر المسلمین عندھم (روح ج 28 ص 33) ۔
Ayahs 58:17–18

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

کام نہ آئیں گے ان کو ان کے19 مال اور نہ ان کی اولاد اللہ کے ہاتھ سے کچھ بھی وہ لوگ ہیں دوزخ کے وہ اسی میں پڑے رہیں گے

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس دن جمع کرے گا اللہ ان سب کو پھر قسمیں کھائیں گے اس کے آگے جیسے کھاتے ہیں تمہارے آگے اور خیال رکھتے ہیں کہ وہ کچھ بھلی راہ پر ہیں سنتا ہے وہی ہیں اصل جھوٹے

19:۔ ” لن تغنی عنہم “ ان کے اموال و اولاد جن پر ان کو فخر و غرور ہے عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ان کے کسی کام نہیں آئیں گے ان کی سزا جہنم ہے اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ” یوم یبعثھم اللہ “ ظرف ” لن تغنی “ سے متعلق ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یا فلھم عذاب مھین سے متعلق ہے (مظیر) ۔ خالدون سے متعلق نہیں، کیونکہ اس سے مفہوم درست نہیں ہوتا۔ یہ منافقین جس طرح مسلمانوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا کر دنیا میں مؤاخذے سے بچ جاتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن خداوند تعالیٰ کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے اور سمجھیں گے کہ ان جھوٹی قسموں سے انہیں کچھ فائدہ ہوجائیگا جیسا کہ دنیا میں پہنچ جاتا تھا لیکن بےسود قیامت کے دن خدا کی عدالت میں بھی وہ جھوٹی قسمیں کھائیں گے، یہ جھوٹ بولنے پر ان کی جسارت کی انتہاء ہوگی۔
Ayah 58:19

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

قابو کرلیا ہے20 ان پر شیطان نے پھر بھلا دی ان کو اللہ کی یاد وہ لوگ ہیں گروہ شیطان کا سنتا ہے جو گروہ ہے شیطان کا وہی خراب ہوتے ہیں

20:۔ ” استحوذ علیہم الشیطان “ شیطان ان کے دل و دماغ پر غالب آچکا ہے اور وہ اس کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔ اس نے ان کو یاد الٰہی سے بالکلیہ غافل کر رکھا ہے اور وہ شیطان کے پورے پورے فرمانبردار اور اس کی ٹولی بن چکے ہیں اور یاد رکھو شیطان کی ٹولی انتہائی خسارے میں رہے گی کیونکہ آخرت میں اس کو نعیم مقیم (دائمی نعمتوں) کے بجائے عذاب الیم (ابدی اور دردناک عذاب) نصیب ہوگا۔
Ayah 58:20

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

جو لوگ خلاف کرتے ہیں21 اللہ کا، اور اس کے رسول کا، وہ لوگ ہیں سب سے بےقدر لوگوں میں

21:۔ ” ان الذین یحادون “ یہ ابتدائے سورت کے ساتھ متعلق ہے اور کفار و منافقین کیلئے زجر و تخویف ہے جو خدا تعالیٰ اور رسول ﷺ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کی ذلیل ترین اور بغوض ترین مخلوق میں شامل ہیں اس لیے شدید ترین عذاب کے مستحق ہیں۔
Ayah 58:21

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ لکھ چکا کہ میں غالب ہوں گا22 اور میرے رسول بیشک اللہ زور آور ہے زبردست

22:۔ ” کتب اللہ “ یہ اہل اسلام کے لیے بشارت فتح ہے اللہ تعالیٰ لوح محفوظ میں لکھ چکا یا فیصلہ فرما چکا ہے کہ آخر غلبہ میرے پیغمبر اور ان کے متبعین ہی کو نصیب ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی قوت و شوکت اور عزت و غلبہ کا مالک ہے اور وہ ہمیشہ اپنی جماعت (حزب اللہ) کو شیطانی جماعتوں (حزب الشیطان) پر غلبہ عطا فرماتا ہے۔ اثبت فی اللوح المحفوط او قضی وحکم (روح) ۔
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

تو نہ پائے گا کسی قوم کو23 جو یقین رکھتے ہوں اللہ پر اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہوئے اللہ کے اور اس کے رسول کے خواہ وہ اپنے باپ ہوں یا اپنے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے گھرانے کے ان کے دلوں میں اللہ نے لکھ دیا ہے ایمان اور ان کی مدد کی ہے اپنے غیب کے فیض سے اور داخل کرے گا ان کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں24 ہمیشہ رہیں ان میں اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی وہ لوگ ہیں گروہ اللہ کا سنتا ہے جو گروہ ہے اللہ کا وہی مراد کو پہنچے

23:۔ ” لاتجد قوما “ آخر میں حزب الشیطان (شیطانی ٹولے) کے مقابلے میں حزب اللہ (اللہ کی جماعت) یعنی مخلص مؤمنین کی مدح اور ان کے لیے دنیوی و اخروی بشارت کا ذکر ہے۔ یہ منافقین جن کا گٹھ جوڑ اور جن کی در پردہ دوستی کفار و یہود سے ہے جو خدا اور رسول کے سخت دشمن ہیں، کیا یہ مسلمان کہلانے کے مستحق ہیں ؟ حالانکہ تم دنیا میں کہیں بھی ایسے لوگ نہیں پاؤ گے جو دل و جان سے مؤمن ہوں اور پھر ایسے لوگوں سے دوستی بھی کریں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمن ہوں اگرچہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی اور قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ ” کتب فی قلوبہم الایمان “ ایمان کو ان کے دلوں میں محکم کردیا۔ روح سے مراد وحی الٰہی (قرآن) ہے۔ کتب فی قلوبہم الایمان ای اثبتہ فیہا، وایدھم بروح منہ ای بکتاب انزلہ فیہ حیاۃ لھم (مدارک ج 4 ص 179) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں روح سے فیض غیبی مراد ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے فیض غیبی سے ان کی تائید کی ہے۔ ان کے دلوں میں اطمینان پیدا کردیا ہے۔ والمراد بالروح نور القلب وھو نور یقذفہ اللہ تعالیٰ فی قلب من یشاء من عبادۃ تحصل بہ الطمانیۃ (روح ج 28 ص 36) ۔ جن لوگوں کے دلوں میں ایمان اس طرح محکم ہو اور توحید خالص ان کے دلوں میں جاگزیں ہو تو خدا تعالیٰ و رسول کے دشمنوں سے انہیں ہرگز انس نہیں ہوسکتا۔ قال سھل من صحح ایمانہ واخلص توحیدہ فانہ لا یانس بمبتدع ولا یجالسہ ویظہر لہ من نفسہ العداوۃ (مدارک) ۔ 24:۔ ” و یدخلہم “ ان مخلصین کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائیگا جس میں ہر قسم کی مشروب کی نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے ایمان محکم، ان کی توحید خالص اور ان کی مخلصانہ اطاعت کی وجہ سے اللہ ان سے راضی ہے اور آخرت میں بےحد و حساب اجر وثواب پا کر وہ بھی اللہ سے راضی ہوجائیں گے اور انہیں کوئی شکوہ باقی نہ رہے گا کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہوئی ہے یہ اللہ کی جماعت ہے اور یاد رکھو اللہ کی جماعت ہی کامیاب و کامران ہے اللہ کی یہ جماعت دنیا میں اللہ کے دین کی داعی اور مددگار رہی اس لیے سعادت دارین بھی اسی جماعت کا حصہ ہے۔ والفائزون بخیر الدنیا والاخرۃ الامنون من کل مرھوب (مظہری ج 9 ص 228) ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سورة المجادلہ ختم ہوئی