Ayah 57:12:۔ ” سبح للہ۔ الایۃ “ اس آیت میں مسئلہ توحید کا بیان ہے جس کی خاطر مال خرچ کرنے اور جہاد کرنے کا حکم آگے آرہا ہے۔ ” مافی السماوات والارض “ زمین و آسمان کی ساری مخلوق اور پورا نظام کائنات ہر قسم کے شرک سے اللہ تعالیٰ کے تنزہ و تقدس پر شاہد ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ زبان حال اور زبان قال سے گواہی دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ علم وقدرت میں، حکمت وصنعت میں، اختیار و تصرف میں اور تمام صفات کارسازی میں کوئی اس کا شریک نہیں اس کے بعد توحید کے تین مراتب کا ذکر ہے۔ دو کا صراحۃً اور ایک کا تبعاً ۔
Ayahs 57:2–33:۔ ” لہ ملک السموات والارض “ یہ توھید کا پہلا مرتبہ ہے۔ یعنی سب کا خالق اور پروردگار اللہ تعالیٰ ہی ہے، موت وحیات اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ رہ چیز پر قادر ہے۔ کوئی چیز اس کے تصرف و اقتدار سے باہر نہیں۔ وعلی الاطلاق موجود اول ہے۔ اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی۔ وہ ازلی ہے اس کی کوئی ابتداء نہیں، وہ آخر ہے۔ ہر چیز فنا ہوگی۔ مگر وہ ابدی ہے اس پر فنا نہیں آئے گی۔ ” والظاھر “ وہ سب پر غالب اور سب سے برتر ہے اس سے اوپر کوئی نہیں اور اس کے سوا کائنات میں کوئی متصرف و مختار نہیں۔ ” والباطن “ وہ ہر پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی ملجا وماوی اور جائے پناہ نہیں۔ آنحضرت ﷺ سے ان الفاظ کی تفسیر اس طرح منقول ہے۔ اللہم رب السموت السبع و رب العرش الکریم۔ انت الاول فلیس قبلک شیئ وانت الاخر فلیس بعد شیئ وانت الظاہر فلیس فوقک شیئ وانت الباطن فلیس دونک شیئ اقض عنا الدین واغننا من الفقر وقال الطیبی المعنی بالظاہر فی التفسیر النبوی الغالب الذی یغلب ولا یغلب فیتصرف فی المکونات علی سبیل الغلبۃ والاستیلاء اذ لیس فوقہ احد یمنعہ، وبالباطن من لا ملجا ولام منجی دونہ یلتجی الیہ ملتجی (روح ج 27 ص 167) ۔ عنی بالظاہر الغالب وبالباطن العالم (قرطبی ج 17 ص 236) ۔ وھو بکل شیئ علیم، کائنات کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔
Ayah 57:44:۔ ” ھو الذی خلق السموات “ یہ توحید کے دوسرے مرتبے کا بیان ہے یعنی ساری کائنات کو پیدا کرنے کے بعد تخت بادشاہی پر خود ہی مستوی کائنات کا تمام نظم و نسق اس کے اپنے ہاتھ میں ہے اور کوئی معاملہ اس نے کسی کے حوالے نہیں رکھا۔ نہ اختیار و تصرف میں اس کا کوئی حصہ دار ہے اور نہ علم غیب میں اس کا کوئی شریک ہے وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے علم وقدرت کے اعتبار ہر شخص کے ساتھ ہے اور ہر فرد بشر کا ہر عمل اس کی نگاہوں میں ہے۔
Ayahs 57:5–65:۔ ” لہ ملک السموات “ یہ توحید کے تیسرے مرتبے کا اعادہ ہے خالق ومالک بھی وہی ہے اور تخت بادشاہی پر بھی وہی مستوی ہے اور کائنات کے تمام معاملات اسی کی طرف راجع ہیں۔ اور کائنات میں وہی متصرف اور مختار ہے۔ ” یولج الیل فی النہار “ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف کا ایک نمونہ ہے یعنی رات دن کا آنا جانا اور ان کا گھٹنا اور بڑھنا اللہ کے اختیار میں ہے اور اس کا علم اس قدر محیط اور کامل ہے کہ وہ سینوں کے پوشیدہ رازوں کو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔ جب ساری کائنات کا خالق و مربی اور ساری کائنات میں بلا شرکت غیرے متصرف و مختار وہی ہے تو لامحالہ وہی سب کا کارساز ہے۔ اور حاجات و مصائب میں مافوق الاسباب پکار کے لائق بھی وہی ہے۔ یہ توحید کا تیسرا مرتبہ ہے۔ توحید کے یہ تینوں مراتب سورة انعام کی ابتداء میں مذکور ہوئے ہیں اور اسی طرح سورة حشر کی آخری آیتوں اور پھر سورة الناس کی ابتدائی آیتوں میں بھی مذکور ہوں گے۔
Ayahs 57:7–86:۔ ” امنوا باللہ “ یہ سورة الحدید کے پہلے مضمون ینی انفاق فی سبیل اللہ کا بیان ہے اور پانچ طریقوں سے خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہ خطاب چونکہ مومنین سے ہے اس لیے یہاں ” امنو “ حقیقت پر محمول نہیں ہوگا یعنی ” ایمان لاؤ “ بلکہ مراد یہ ہے کہ ایمان پر قائم رہو، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام مانو اور ان پر عمل کرو۔ کیونکہ یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ ” وانفقوا “ یہ امنو پر معطوف ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک یہ عطف تفسیری ہے اور ایمان کے بعض تقاضوں کی تفسیر ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ کے اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی تعمیل کرو جن میں سے فی الوقت سب سے زیادہ ضروری اور اہم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی، توحید کی اشاعت اور کفر و شرک کو مٹانے کے لیے مال خرچ کرو۔ امر تعالیٰ عبادہ المومنین بالثبات علی الایمان وادامتہ والنفقۃ فی سبیل اللہ (بحر ج 8 ص 218) ۔
7:۔ ” مما جعلکم مستخلفین فیہ “ یہ ترغیب الی الانفاق کا پہلا طریق ہے۔ حاصل یہ کہ درحقیقت یہ مال تو ہے ہی میرا میں نے چند دنوں کیلئے تم کو اس میں جانشین اور متصرف بنایا ہے۔ اب اگر تم اس مال میں سے کچھ میری راہ میں خرچ کرو گے تو اپنے پاس سے تو کچھ بھی نہیں دو گے، بلکہ میری اپنی ہی چیز مجھے واپس دو گے اس انداز بیان میں حکمت یہ ہے کہ اگر یہ بات لوگوں کے ذہنوں میں اتر جائے تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ان پر دشوار نہیں رہے گا بلکہ آسان ہوجائے گا اور وہ خوشی سے دین کی خدمت میں مال خرچ کریں گے۔ عبر جل شان عما بایدیہم من الاموال بذلک تحقیقا للحق وترغیبا فی الانفاق، فان من علم انہا للہ تعالیٰ وانما ھو بمنزلۃ الوکیل یصرفہا الی ما عینہ اللہ تعالیٰ من المصارف ھان علیہ الانفاق (روح ج 27 ص 169) ۔
8:۔ ” فالذین امنوا “ یہ ترغیب الی الانفاق اور بشارت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کس قدر مہربانی اور نوازش ہے کہ لوگوں کے پاس جو مال ہے وہ ہے بھی اسی کا۔ لیکن پھر بھی جو لوگ اس کی راہ میں خرچ کریں گے انہیں دنیا اور آخرت میں ثواب اور جنت مرحمت فرمائیگا۔ ” وما لکم لا تومنون۔ الایۃ “ خطاب مومنوں سے ہے اور ایمان حاصل معنی مراد ہے۔ یعنی انفاق فی سبیل اللہ ای ومالکم لا تنفقون فی سبیل اللہ۔ اسی ” لتومنوا بربکم ای لتنفقوا فی سبیل ربکم “ اور میثاق سے عہد الست مراد نہیں اس سے وہ عہد مراد ہے جو انہوں نے پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ہاتھ پر بیعت کرتے وقت باندھا تھا کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے تمام احکام کو مانیں گے۔ حاصل یہ ہوا کہ کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ؟ حالانکہ خدا کا پیغمبر تمہیں خرچ کرنے کی ترغیب دے رہا ہے اور حکم فرمارہا ہے اور تم سمع اور طاعت کا عہد بھی کرچکے ہو۔ اگر تم واقعی سچے مومن ہو تو اس حکم کی تعمیل کرو اور اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر خرچ کرلو۔ ہذا ما قالہ الشیخ (رح) تعالی۔
Ayah 57:99:۔ ” ھو الذی ینزل “ یہ ایک دوسرے انداز سے انفاق کی ترغیب ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ خاص حضرت محمد ﷺ پر واضح آیتیں اور روشن دلیلیں نازل فرما رہا ہے تاکہ تمہیں کفر و شرک اور جاہلیت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر ایمان و توحید کی روشنی میں داخل فرمائے۔ اللہ کیسا مہربان اور رحیم و کریم بادشاہ ہے اسکا حکم ضرور مانو اور ایمان و توحید کی روشنی کو سارے جہان میں پھیلانے کے لیے بےدریغ مال خرچ کرو۔
Ayah 57:1010:۔ ” ومالکم الا تنفقوا “ یہ ترغیب الی الانفاق کا دوسرا طریق ہے۔ پہلے بطور ترقی فرمایا یہ مال دولت یہیں رہے گا لیکن نہ رہو گے اب وقت ہے خرچ کرلو جب یہ موقع ہاتھ سے نکل جائیگا تو پچھتاؤ گے خرچ کرو گے تو اس کے بدلے اور اجر ملے گا اور اگر خرچ نہیں کرو گے تو اصل مال بھی آخر ہاتھ سے چلا جائیگا۔ ان اللہ یرث کل شیئ فیہا ولا یبقی لاحد مال واذا کان کذلک فانفاقہ بحیث انہ یستخلف عوضا وھو الثواب اولی (مظہری ج 9 ص 19) ۔ یہ زمین جو مختلف شکلوں میں دولت اگلتی ہے اور یہ آسمان جہاں سے بارش، گرمی اور روشنی وغیرہ آکر دولت اگلنے میں زمین سے تعاون کرتی ہیں میرے پاس رہ جائیں گے اور تم دنیا سے رخصت ہوجاؤ گے۔
11:۔ ” لایستوی منکم “۔ فتح سے غلبہ اسلام مراد ہے۔ خاص فتح مراد نہیں۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔ اور بعض کے نزدیک اس سے صلح حدیبیہ مراد ہے۔ لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ فتح مکہ سے پہلے چونکہ عرب میں ہر طرف کفر کا غلبہ تھا اور اسلام قبول کرنا گویا اپنے کو مصائب و آفات میں جھونک دینے کے مراد تھا اور اس دور میں اسلام کی خاطر مالی اور جانی قربانیوں کی ضرورت بھی زیادہ تھی اور فتح مکہ کے بعد اسلام کو غلبہ حاصل ہوگیا اور حالات کا رخ یکسر بدل گیا۔ اس لیے فرمایا جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا وہ رتبہ میں اور اجر وثواب میں ان لوگوں سے بڑھ کر اور ان پر فائق ہیں جو فتح مکہ کے بعد اسلام لائے اور مال خرچ کیا اور جہاد میں شریک ہوئے لیکن اس فرق مرتب کے باوجود ایک انعام میں سب شریک ہیں اور وہ جنت کا وعدہ ہے اور وہ سب جنت کے مستحق ہیں۔ یہ آیت تمام صحابہ کرام ؓ کو اہل جنت قرار دیتی ہے اور یہ ان حضرات کی بہت بڑی فضیلت اس لیے ان کے بارے میں زبان طعن کھولنے کی اجازت نہیں (وکلا وعد اللہ الحسنی) ای المتقدمون المتناھون السابقون والمتاخرون اللاحقون وعدہم اللہ جمیعا الجنۃ مع تفاوت الدرجات (قرطبی ج 17 ص 241) ۔
Ayah 57:1112:۔ ” من ذا الذی “ یہ ترغیب انفاق کا تیسرا طریق ہے۔ ” فیضعفہ “ جواب استفہام ہے۔ اس لیے منصوب ہے۔ اور قراءت رفع میں ” یقرض “ پر معطوف ہے۔ قال ابن عطیۃ ھنا الرفع یعنی فی یضاعفہ علی العطف۔ قرا عاصم فیضاعفہ بالنصب بالفاء علی جواب الاستفہام (بحر ج 8 ص 219) ۔ حاصل یہ ہے کہ فرض کرلیا مال تمہارا ہی ہے، تم نے خود کمایا ہے اور باپ دادا سے میراث میں پایا ہے، تو چلو بطور قرض ہی دے دو ۔ دنیا ہی میں اس سے کئی گنا زیادہ واپس کردوں گا اور آخرت کا اجر وثواب اس کے علاوہ ہوگا۔
Ayah 57:1213:۔ ” یوم تری “ ظرف، لہ اجر کریم کے متعلق مقدر سے متعلق ہے اور یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے جو اللہ کی راہ میں دل کھول کر مال خرچ کرتے ہیں۔ قیامت کے دن جب مومنین پل صراط پر سے گذریں گے اس وقت ان کے آگے اور ان کی دائیں جانب روشنی ہوگی جس میں وہ پل صراط پر سے صحیح سلامت گذر جائیں گے یہ روشنی ایمان اور اعمال صالحہ نماز، روزہ، حج، زکوۃ، انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ کی ہوگی۔ اس لیے اعمال صالحہ کے مطابق ان کی روشنی کم و بیش ہوگی۔ عن ابن مسعود یوتون نورہم علی قدر اعمالہم (قرطبی ج 17 ص 244) ۔ ” بشراکم الیوم “ اس سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہے۔ جنت کے دروازوں پر فرشتے ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوں گے اور ان سے کہیں گے تمہیں نعمتوں کو باغات مبارک ہوں جن میں ہر قسم کے مشروبات کی نہریں بہہ رہی ہیں اور یہ تمہارا دائم ٹھکانہ ہے تم ان میں ہمیشہ رہو گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ای یقال لہم ذلک والقائل الملائکۃ الذین یتلقونہم (روح ج 27 ص 175) ۔
Ayah 57:1314:۔ ” یوم یقول۔ الایۃ “ یہ پہلے یوم سے بدل ہے اور یہ منافقین کے لیے زجر و تخویف ہے۔ ” انظرونا “ منافقین، مومنین سے کہیں گے ہماری طرف دیکھو تاکہ تمہارے نورانی چہروں سے نور کی شعاع ہم تک پہنچے اور ہم بھی اس کی روشنی میں راستہ دیکھ سکیں یا انظرونا کے معنی ہیں انتظرونا۔ یعنی جلدی جلدی نہ چلو ذرا ٹھہرا جاؤ تاکہ تمہاری روشنی میں ہم بھی پل صراط عبور کرسکیں۔ نقتبس، انظروا امر کا جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ (مظہری) ۔ ” قیل ارجعوا “ جس طرح منافقین دنیا میں مومنوں سے استہزا کیا کرتے تھے۔ اسی طرح قیامت کے دن مومنین بطور استہزا منافقوں سے کہیں گے کہ اب اس طرح مانگنے سے روشنی نہیں ملتی۔ جاؤ واپس دنیا میں اور وہاں ایمان لاؤ، نیک عمل کرو، صدقہ خیرات دو تو روشنی حاصل ہوگی لیکن اب دنیا میں واپس جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ” فضرب بینہم “ اس کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان دیوار حائل کردی جائیگی۔ یہ جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگی جس میں دروازہ ہوگا اس دیوار کے اندر کی طرف اللہ کی رحمت ہوگی اور باہر کی جانب عذاب ہوگا۔ فضرب بینہم بسور ای بحائط حائل بین شق الجنۃ وشق النار (مدارک 4 ص 170) ۔
Ayah 57:1415:۔ ” ینادونہم “ منافقین مومنوں سے کہیں گے کیا دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ دنیا میں ہم تمہارے دین پر تھے اور تمہارے ساتھ مل کر نمازیں بھی پڑھا کرتے تھے اس لیے آج کچھ تو ہماری مدد کرو۔ ” قالوا بلی “ مومنین جواب دیں گے بیشک تم ہمارے ساتھ تھے لیکن تم نے منافقت کر کے اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال لیا۔ تم کہلاتے تو مسلمان تھے لیکن ہمیشہ مسلمانوں کے مصائب میں مبتلا ہونے کے منتظر اور آرزو مند رہتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ تمہیں اللہ کی توحید میں اور دین اسلام کی صداقت میں شک تھا اور تم دل سے مسلمان تھے ہی نہیں ” وغرتکم الامانی “ تمہیں مختلف جھوٹی آرزوؤں نے دھوکے میں ڈالے رکھا تم نے یہ سمجھا کہ ابھی چند دنوں کے اندر اندر اسلام کا نام و نشان مٹنے والا ہے اس لیے تم نے دوغلی پالیسی اختیار کیے رکھی یہاں تک کہ موت نے تمہی آلیا۔ الامانی الفارغۃ التی من جمل تھا الطمع فی انتک اس الاسلام۔۔ (روح ج 27 ص 177) ۔ ” وغرکم باللہ الغرور “ الغرور بفتح غین صفت مشبہ ہے اور اس سے مراد شیطان ہے۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمہیں دھوکے میں رکھا اور تمہیں باور کراتا رہا کہ کوئی حشر و نشر اور حساب کتاب نہیں اور اگر بالفرض کچھ ہوا بھی تو اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے معاف فرما دے گا۔ وغرکم الشیطان بان اللہ عفو کریم لا یعذبکم او بانہ لا بع ولا حساب (مدارک ج 4 ص 170) ۔
Ayah 57:1516:۔ ” فالیوم “ اس لیے آج تم کسی صوت جہنم سے نہیں بچ سکتے۔ آج تم سے اور کافروں سے کسی قسم کا فدیہ اور معاوضہ قبول نہیں کیا جائیگا اور نہ تمہارا کوئی حامی اور مددگار ہی تمہیں تمہیں عذاب سے بچا سکے گا آج لا محالہ تمہیں جہنم میں جانا ہے، وہی تمہار دائمی ٹھکانہ ہے اور آج جہنم ہی تمہاری حامی اور مددگار ہے اور وہی تمہاری جائے پناہ ہے جو نہایت ہی بدترین ٹھکانا ہے۔
Ayah 57:1617:۔ ” الم یان “ یہ زجر ہے بعض مسلمانوں میں انفاق کے معاملے میں کچھ تکاسل آگیا تھا یہ ان پر زجر و عتاب ہے یا یہ منافقین پر زجر ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کتراتے تھے اس صورت میں ” امنوا “ سے امنوا باللسان مراد ہوں گے لیکن سیاق وسباق سے مناسب یہی ہے کہ اس سے بعض مخلص مومنین ہی مراد ہیں کیونکہ اکثر مخلصین تو ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ کے احکام کے آگے سرنگوں رہے ہیں۔ والمعاتب علی ما قالہ الزجاج طائفۃ من المومنین ولا فمنہم من لم یزل خاشعا منذ اسلم الی ان ذھب الی ربہ (روح ج 27 ص 178) ۔ الم یان من انی الامر یانی اذا جاء اناہ ای وقتہ (مدارک) ۔ اور ولا یکونو، تخشع پر معطوف ہے یا استیناف ہے بصیغہ امر غائب (بحر، مظہری) ۔ ان تخشع میں ان مصدریہ ہے اور جملہ بتاویل مفرد لم یان کا فاعل ہے اور وما نزل، ذکر اللہ پر معطوف ہے۔ فطال علیہم الامد، یعنی ان کے اور ان کے پیغمبروں کے درمیان زیادہ وقفہ گذر گیا یا کفر و معاصی میں ڈوبے ان کو کافی زمانہ گذر گیا۔ حاصل یہ ہے کہ کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر قرآن کی آیتوں کے آگے یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے ان کے دل تسلیم و رضاء کے ساتھ عاجز ہوجائیں اور ان کا سر اطاعت ان کے آگے جھک جائے اور وہ ان اہل کتاب (یہود و نصاری) کی مانند نہ ہوجائیں جو کفر و عصیان میں انہماک یا انبیاء (علیہم السلام) کی اصل تعلیمان اور ان کی صحبت سے محروم ہوجانے کی وجہ سے ایسے سنگدل ہوچکے ہیں کہ اللہ کے کسی حکم کا، زجر و تہدید کا اور تبشیر و تخویف کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا، بلکہ ان میں سے بہت سے تو صریح طور پر خدا کے نافرمان اور باغی ہوچکے ہیں۔ اور ایمان والوں میں تو اللہ کا رسول موجود ہے اور اللہ کے تازہ بتازہ احکام نازل ہورہے ہیں اس لیے انہیں تو اللہ اللہ کے احکام کے آگے سراپا تسلیم ورضا بن جانا چاہیے۔ بعض روایتوں میں موجود ہے کہ جن مسلمانوں سے احکام الٰہیہ کی تعمیل میں کچھ سستی ہوئی تھی اس آیت کے نزول کے بعد انہوں نے اس کی تلافی کرلی۔
Ayah 57:1718:۔ ” اعلمو ان اللہ “ یہ ترغیب انفاق کے تیسرے طریق سے متعلق ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے مال کے بدلے کئی گنا واپس دینے کی ایک تمثیل ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ اور خشک زمین پر مینہ برسا کر اسے تازگی اور زندگی عطاء فرماتا اور اس میں بوئے ہوئے دانہ سے کوئی سو گنا دانے حاصل ہوتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کیے ہوئے مال میں اضافہ فرماتا ہے۔ یہ آیتیں اور یہ مضامین ہم اس لیے کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ تم ان کو سمجھو اور ان پر عمل کرو۔
Ayah 57:1819:۔ ” ان المصدقین “ یہ ترغیب فی الانفاق ہے۔ المصدقین اور المصدقات میں الف لام اسم موصول ہے۔ بالترتیب بمعنی ” الذین “ اور ” اللاتی “ اور دونوں اسم فاعل بمعنی ماضی ہیں یعنی تصدقوا اور تصدوق بقرینہ معطوف ” اقرضوا “ اسم موصول ہمیشہ جملہ پر داخل ہوتا ہے اور یہاں اسم فاعل پر اس کا داخل ہونا بظاہر خلاف قاعدہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قاعدہ ان اسماء موصولہ کے لیے ہے جو صورۃ و معنیً بمعنی فعل ماضی ہے بقرینہ معطوف ” اقرضوا “ اب اصل عبارت یوں ہوگی۔ ان الذین اصدقوا واقرضوا اللہ الخ۔ (کشاف، روح، مدارک) ۔ جو مرد اور عورتیں اللہ کی راہ میں خرچ کر رہی ہیں وہ گویا خدا کو قرض دے رہی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اس کا کئی گنا معاوضہ عطاء فرمائے گا اور آخرت کا اجر وثواب اس کے علاوہ ہے۔
Ayah 57:1920:۔” والذین امنوا “ جو لوگ صدق دل سے اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے اور ان کے احکام کے آگے سر تسلیم ختم کردیا اور دین حق کی سربلندی اور توحید کی اشاعت کے لیے دل کھول کر مال خرچ کیا، ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیقین اور شہداء کے رتبے میں ہوں گے اور آخرت میں ان کو وہی اجر وثواب اور نور عطاء ہوگا جو صدیقین اور شہداء کے لیے ہوگا۔ یرید ان المومنین باللہ ورسولہ ھم عند اللہ بمنزلۃ الصدیقین والشھداء وھم الذین سبقوا الی التصدیق واستشہدوا فی سبیل اللہ (مدارک ج 4 ص 171) ۔ چونکہ ایک شخص صدق دل سے ایمان لا کر، اللہ کی کمال اطاعت بجا لا کر اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کر کے صدیق اور شہید کا مرتبہ حاصل کرسکتا ہے۔ اس لیے یہاں فرمایا ” ھم الصدیقون والشہداء “ لیکن کوئی شخص ایمان اور عمل صالح میں انتہائی اخلاص کے باوجود نبی نہیں بن سکتا۔ البتہ نبیوں کی معیت حاصل کرسکتا ہے۔ اس لیے سورة نساء رکوع 9 میں فرمایا : ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبیین والصدیقین۔ الایۃ “
21:۔ ” والذین کفروا “ یہ کفار کے لیے تخویف اخروی ہے۔ توحید و رسالت اور دیگر ضروریات دین کا انکار کرنے والے اور اللہ کی آیتوں کو جھتلانے والے جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
Ayah 57:2022:۔ ” اعلموا انما الحیوۃ “ یہ ترغیب انفاق کا چوتھا طریق ہے۔ مصدروں پر تنوین تنکیر، ان افعال کی حقارت اور قلت کے اظہار کے لیے ہے۔ تائید : متاع قلیل ثم ماواھم جہنم (آل عمران رکوع 20) ۔ تنوین تنکیر تحقیر و تقلیل کے لیے کلام میں اکثر آتی ہے (رضی) اللہ کی راہ میں خرچ کی ہوئی دولت کا معاوضہ اگر دنیا میں بصورت اضافہ دولت نہ ملا تو بھی مضائقہ نہیں۔ یہ دنیا چیز ہی کیا ہے۔ محض چند روزہ کھیل تماشا ہے، وقتی زینت و آرائش ہے اور یہاں حسب و نسب کی شرافت اور مال و اولاد کی کثرت و فراوانی پر ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنی برتری ثابت کرنے اور اپنی بڑائی پر فخر کے سوا کیا ہے ؟ اگر تمہیں دنیا ہی میں اس کا عوض مل جاتا تو تم اپنی فضول باتوں میں اس کو اڑا دیتے۔ اس کا اجر وثواب محفوظ ہے جو آخرت میں تمہیں ملے گا دنیا کی یہ چہل پہل آنی فانی ہے اس میں دل نہ لگاؤ آخرت کی فکر کرو۔
23:۔ ” کمثل غیث “ یہ دنیا کی حقا ارت اور فانی ہونے کی تمثیل ہے۔ ” الکفار “ سے کاشت کار مراد ہیں کیونکہ انہیں اپنا کھیت سرسبز و شاداب دیکھ کر انتہائی خوشی ہوتی ہے اس صورت میں یہ لفظ اپنے لغوی معنوں پر محمول ہوتی ہے۔ اس صورت میں یہ لفظ اپنے لغوی معنوں پر محمول ہوگا یعنی بیج کو زمین میں چھپانے والے۔ علی ماروی عن ابن مسعود، لانھم یکفرون ای یسترون البذر فی الارض (روح ج 27 ص 184) ۔ یا اس سے مراد کافر لوگ مراد ہیں اور ان کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ کفار دنیا کی زینت کو دیکھ کر اس میں گم ہوجاتے ہیں، لیکن مومنین دنیا کی ہر خوبصورت چیز سے اللہ تعالیٰ کی قدرت و وحدانیت پر استدلال کرتے ہیں۔ جیسا کہ ابو نواس نے گل نرگس کی تعریف میں کہا ہے
عیون من لجین شاخصات اطرافہا ذھب سبیل
علی قضب الزبرجد شاھدات (بان اللہ لیس شریک) (روح)
دنیا کی نا پائیداری کی مثال ایس ہے۔ جیسے بارش کی وجہ سے زمین پر سرسبزر و شاداب نباتات لہلہانے لگے اور دیکھنے والے انہیں دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سمائیں۔ یہاں تک کہ نبات اپنے جوبن پر پہنچ جائے۔ اس کے بعد تم دیکھو گے کہ اس کا رنگ زرد ہورہا ہے آخر جب وہ پک جائے گی تو کاٹ ڈالی جائے گی اسی طرح اس دنیا کی زینت و آرائش بھی چند روزہ ہے۔ ” وفی الاخرۃ عذاب شدید “ جو لوگ آخرت سے بیخبر ہو کر دنیا میں منہمک ہوجائیں گے۔ آخرت میں ان کے لیے سخت ترین عذاب ہوگا۔ ” و مغفرۃ من اللہ ورضوان “ اور جن لوگوں نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی، اللہ کے احکام کے سامنے سر جھکا دیا اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا ان کو اللہ کی طرف سے بخشش اور رضائے الٰہی کا پروانہ ملے گا۔ ” وما الحیوۃ الدنیا “ جو شخص دنیا کی زندگی کو عیش و طرب میں گذار دے اور آخرت سے غافل ہوجائے اس کے لیے دنیا فریب کا سامان ہے اور اگر حیات دنیا میں آخرت کے لیے تیار کرتا رہا تو یہ زندگی ایک بہتر زندگی تک پہنچانے کا ذریعہ بن جائے گی۔ متاع الغرور ای لمن عمل لہا ولم یعمل للاخرۃ فمن اشتغل فی الدنیا بطلب الاخرۃ فھی لہ بلاغ الی موھو خیر منہ (خازن ج 7 ص 36) ۔
Ayah 57:2124:۔ ” سابقوا الی مغفرۃ “ انفاق فی سبیل اللہ کی مزید ترغیب ہے۔ اگر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عوض تمہیں دنیا میں نہیں ملا تو کیا ہوا، اللہ تعالیٰ آخرت میں تمہیں اس کا اجر دے گا، تمہارے گناہ معاف فرمائیگا اور جنت میں تمہیں مربعے عطا فرمائیگا۔ تمہیں اتنا وسیع و عریض جنت عطا ہوگا جس کی صرف چوڑائی زمین و آسمان کی مجموعی وسعت کے برابر ہوگی۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علی ہو سلم پر ایمان لائیں۔ اور ان کے احکام کی دل و جان سے تعمیل کریں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے وہ جسے چاہے اس سے نواز دے اور بڑے فضل و کرم کا مالک ہے اس کے یہاں کوئی کمی نہیں۔
Ayah 57:2225:۔ ” ما اصاب “ یہ ترغیب انفاق کا پانچواں طریق ہے۔ یعنی اگر تم مال اس لیے خرچ نہیں کرتے ہو کہ مصیبتوں اور تکلیفوں میں کام آئے تو یہ بھی خام خیالی ہے۔ کیونکہ جو آفتیں زمین پر آنے والی ہیں مثلا قحط سالی، کھیتوں کی تباہی، زلزلے وغیرہ یا جو مصیبتیں انسانوں پر آنے ہیں مثلا بیماری تنگدستی وغیرہ یہ سب روز ازل میں مقدر ہوچکی ہیں۔ اور واقع ہونے سے پہلے ہی لوح محفوظ میں ثبت اور علم الٰہی میں موجود ہیں، اس لیے ان حوادث و بلیات کو مال و دولت یا کسی دوسرے وسائل سے روکنا ناممکن ہے اور ہر چیز کو مقدر کرلینا اللہ تعالیٰ کے لیے نہایت آسان ہے۔ کیونکہ اس کا علم کان ومایکون پر حاوی اور محیط ہے۔ ” لکیلا تاسوا “ جار مجرور کا متعلق محذوف ہے۔ ای اخبرناکم بذلک لئلا تحزنوا (روح ج 27 ص 178) ۔ یعنی ہم نے تمہیں اس حقیقت سے اس لیے باخبر کردیا ہے تاکہ تم اپنے نقصانات پر غم نہ کرو اور مناع حاصل پر آپے سے باہر نہ ہوجاؤ، کیونکہ سب کچھ اللہ کی طرف سے مقدر ہے اس میں تمہارے اختیار کو کچھ دخل نہیں۔
Ayahs 57:23–2426:۔ ” واللہ لا یحب “ یہ متکبروں اور بخیلوں کے لیے زجر و تہدید ہے۔ ” مختال “ اکڑ کر چلنے والا۔ ” فخور “ ڈینگیں مارنے والا۔ اللہ تعالیٰ کبر و بڑائی سے اکڑنے والوں اور ڈینگیں مارنے والوں کو پسند نہیں کرتا جو نہ خود نیکی کے راستے میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو خرچ کرنے دیتے ہیں۔ بلکہ ان کو بخل کرنے تلقین کرتے ہیں۔ اصل میں بخل یہی ہے کہ آدمی اللہ کے دین اور توحید کی اشاعت میں خرچ نہ کرتے۔ ” ومن یتول “ یہ مذکورہ بالا پانچ وجوہ انفاق سے متعلق ہے۔ شرط کی جزاء مقدر ہے اور ” فان اللہ ھو الغنی الحمدی “ جزائے محذوف کی علت ہے مثلا ” ومن یتول فاف لہ “ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یعنی جو شخص اس قد واضح بیان کے بعد بھی نہ مانے، بلکہ اعراض کرے اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرے تو اس پر تف ہے کیونکہ خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ کو تو کوئی نفع نہیں ہوگا وہ تو ساری کائنات سے بےنیاز ہے اور ہر خوبی کا مالک ہے اور اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔
Ayah 57:2527:۔ ” لقد ارسلنا “ یہاں سے سورت کے دوسرے مضمون یعنی جہاد فی سبیل اللہ کا بیان شروع ہوتا ہے۔ البینات، معجزات واضحہ۔ الکتاب سے جنس مراد ہے اور تمام کتب سماویہ کو شامل ہے۔ المیزان کا عطف الکتاب پر تفسیری ہے از قبیل عطف الاسم علی الاسم۔ یعنی یہ دنوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور تغایر محض لفظی اور اعتبار ہے جیسا کہ امام طحاوی نے فرمایا ہے کہ حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی اور ایک قراءت میں اس کے بعد وصلوۃ العصر وارد ہے۔ امام طحاوی اسے عطف الاسم علی الاسم قرار دیتے ہیں۔ حاصل یہ کہ یہ عطف تفسیری ہے ایک ہی چیز کے دو ناموں میں سے ایک کو دوسرے پر معطوف کیا گیا ہے کتب سماویہ چونکہ حق و باطل اور شرائع الٰہیہ کے لیے میزان ہیں اس لیے ان کو میزان کہا گیا۔ انزلنا الحدید یعنی ہم نے لوہا پیدا کیا (انزلنا الھدید) ای انشاناہ وخلقناہ۔ کقولہ تعالیٰ وانزل لکم من الانعام ثمانیۃ ازواج (قرطبی ج 17 ص 261) ۔ ” باس شدید “ لوہا شدت کی جنگ کا ذریعہ ہے کیونکہ تمام آلات حرب لوہے سے بنتے ہیں۔ واما الحدید ففیہ الباس الشدید فان الات الحروب متخذۃ منہ (کبیر) ۔ فرمایا ہم نے بنی آدم میں بہت سے پیغمبر بھیجے جنہیں کھلے معجزات اور روشن نشانات دئیے اور ان پر کتابیں نازل کیں جو شرائع سماویہ کا معیار و میزان تھیں تاکہ لوگ ان پر عمل کر کے دنیا میں عادلانہ نظام زندگی قائم کرسکیں اور ہم نے لوہا پیدا کیا جس میں لوگوں کے لیے گوناگوں فائدے ہیں اور یہ سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ اس سے سامان جنگ تیار ہوتا ہے۔ لیعلم اللہ، مجازاً اظہار حقیقت مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کو جانتا ہے۔ ہم نے لوہا پیدا کیا جس سے آلات حرب اور سامان جنگ تیار کرتے ہیں تاکہ ہم دیکھیں اور ظاہر کریں کہ ان آلات حرب سے اللہ کے دین کو سربلند اور باطل کو سرنگوں کرنے کے لیے کون جہاد کرتا ہے اور کون سر دھڑ کی بازی لگا کر اللہ کے دین اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ ” ان اللہ قوی عزیز “ اللہ ایسا طاقتور اور غالب ہے کہ وہ دشمنان اسلام کو آن کی آن میں ختم کرسکتا ہے۔ مگر ابتلاء و امتحان کیلئے اس نے اہل ایمان پر کفار سے جہاد کو فرض قرار دیا۔
Ayah 57:2628:۔ ” ولقد ارسلنا نوح “ یہ گذشتہ آیت میں اجمال کی تفصیل ہے ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کو رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کی اولاد میں بھی رسالت و نبوت اور وحی کا سلسلہ جاری کردیا اور ان کی اولاد میں ہزاروں پیغمبر مبعوث کیے لیکن اس کے باوجود ان کی ساری اولاد ہدایت پر قائم نہ رہی۔ ان میں سے کچھ تو انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات کے مطابق ہدایت اور توحید پر قائم رہے مگر اکثر صراط مستقیم سے بھٹک کر کفر و شرک اور گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ ای خارجون عن الصراط المستقیم (روح) ۔
Ayah 57:2729:۔ ” ثم قفینا “ ان کے بعد ہم پے در پے پیغمبر بھیجتے رہے یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں سب سکے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اس پر کتاب انجیل نازل کی جس میں مسئلہ توحید اور دیگر احکام شریعت کا بیان تھا جن لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں محبت و الفت پیدا کردی اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے نہایت محبت و مودت کا سلوک کرتے تھے۔۔ ” ورھبانیۃ ابتدعوہا “ رھبانیۃ، عزلت، ریاضت، لوگوں سے علیحدگی اختیار کر کے اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجانا، اس کا ناصب علی شریطۃ التفسیر محذوف ہے۔ منصوب بفعل مضمر یفسرہ الظاہر ای وابتدعوا رھبانیۃ (روح ج 27 ص 190) ۔ ” الا ابتغاء وجہ اللہ “ کتبناھا میں ضمیر مفعول سے بدل ہے یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں سے ایک جماعت نے رہبانیت از خود اختراع کی تھی ہم نے سرے سے ان پر فرض کی ہی نہ تھی ہم نے تو ان پر اللہ کی رضا جوئی فرض کی تھی لیکن جو چیز انہوں نے اپنی طرف سے اپنے اوپر لازم کرلی تھی آخر وہ اس کا بھی حق ادا نہ کرسکے اور رہبانیت پر پورے نہ اتر سکے۔ والمعنی ما کتبنا علیہم الا ابتغاء رضوان اللہ (قرطبی ج 17 ص 263) ۔ یا استثناء منقطع ہے۔ یعنی رہبانیت کو ہم نے ان پر فرض نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے خودہی اللہ کی رضا جوئی کے لیے اسے اپنے اوپر لازم کرلیا تھا، لیکن پھر اس کا حق ادا نہ کرسکے۔ استثناء منقطع ای مافرضناھا نحن علیھم راسا ولکن ابتدعوھا والزموا انفسہم بھا ابتغاء رضوان اللہ تعالیٰ (روح) ۔ یا استثناء متصل ہے یعنی رہبانیت کو انہوں نے اختراع کیا اور ہم نے رضا الٰہی حاصل کرنے کے لیے ان پر اس کو مقرر کردیا۔ استثناء متصل والمعنی انا ماتعبدناہم بھا الا علی وجہ ابتغاء مرضاۃ اللہ تعالیٰ (کبیر) ۔ ابتدا میں جن لوگوں نے رہبانیت اختیار کی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ نہ تو جہاد کی طاقت رکھتے تھے اور نہ امر بالمعروف کی تو انہوں نے عزلت اختیار کرلی مگر بعد میں لوگ اس کی رعایت نہ کرسکے۔
30:۔ ” فاتینا الذین امنوا “ اس سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخلص جان نثار حواریین مراد ہیں جنہوں نے دین حق کی خاطر جہاد کی اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے اور دین عیسوی کے سچے متبع تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن مسعود ! بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے ان میں سے صرف تین فرقے بچے باقی سب ہلاک اور جہنمی ہوئے اول وہ جنہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کیا اور دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد کی اور کفار سے جہاد کیا۔ ان لوگوں کے بارے میں وارد ہے ” فایدنا الذین امونا علی عدوھم فاصبحوا ظاہرین “ (صف رکوع 2) ۔ دوم وہ جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتے، لیکن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے تھے۔ سوم وہ جو ان دونوں کاموں کی طاقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے عزلت اور رہبانیت اختیار کی اور اللہ کی عبادت میں مصروف ہوگئے۔ یا ابن مسعود اما علمت ان بنی اسرائیل تفرقوا (ثنتین و) سبعین فرقۃ کلہا فی النار الا ثلاث فرق، فرۃ امنت بعیسی (علیہ السلام) وقاتلوا اعداء اللہ فی نصرتہ حتی قتلوا، وفرقۃ لم یکن لھا طاقۃ بالقتال، فامروا بالمعروف ونھو عن المنکر، وفرقۃ لم یکن لہا طاقۃ بالامرین، فلبسوا العباء وخرجو الی القفار والفیافی (روح ج 27 ص 192 و کبیر ج 8 ص 145 واللظ لہ بتغیر) ۔ ” وکثیر منہم فاسقون “ ان تینوں فرقوں کے علاوہ باقی اکثریت راہ راست سے ہٹ کر کفر و شرک اور تثلیث میں مبتلا ہوگئی۔
Ayah 57:2831:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ خطاب یہود و نصاری سے ہے جو موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) پر ایمان لا چکے تھے ان سے فرمایا : اللہ سے ڈرو اور حق بات کو مت چھپاؤ اور اللہ کے آخری رسول محمد ﷺ پر ایمان لاؤ، اللہ تمہیں دوگنا رحمت سے ہمکنار کرے گا اور دوگنا اجر وثواب عطا فرمائیگا۔ اور قیامت کے دن تمہیں روشنی عطا کرے گا جس میں تم چل سکو گے اور تمہارے تمام گذشتہ گناہ معاف فرما دے گا کیونکہ وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ دوگنا اجر وثواب اس لیے کہ ایک ثواب تو ہوگا پہلے پیغمبر پر ایمان لانے اور دوسرا ثواب ہوگا حضرت خاتم النبیین ﷺ پر ایمان لانے کا۔ المعنی یا ایہا الذین امنوا بموسی و عیسیٰ علیہما السلام، اٰمنوا بمحمد ﷺ ۔ یوتکم نصیبین من رحمۃ نصیبا علی ایمانکم بمن امنتم بہ اولا و نصیبا علی ایمانکم بمحمد ﷺ اخرا۔ (روح ج 27 ص 194) ۔
Ayah 57:2932:۔ ” لئلا یعلم “۔ لا میں دو قول ہیں اول یہ کہ لا زائدہ برائے تاکید۔ اہل کتاب کا زعم تھا کہ رسالت و نبوت اور وحی ربانی کے مستحق صرف بنی اسرائیل ہی ہیں اور کوئی نہیں، اس لیے اب بھی اگر کوئی پیغمبر آسکتا ہے تو صرف بنی اسرائیل سے مبعوث ہوسکتا ہے تو ان کے زعم باطل کا رد فرمایا کہ ہم نے محمد ﷺ پر ایمان لانے اور دوہرا ثواب دینے کا اس لیے وعدہ کیا ہے تاکہ اہل کتاب کو آپ کی نبوت کا یقین ہوجائے اور انہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل و احسان کی تقسیم ان کے اختیار وقدرت میں نہیں اور نبوت و رسالت جو اللہ کا سب سے بڑا فضل ہے ان کے تصرف میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف میں ہے وہ جسے چاہے اس کو نوازے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ دوم یہ کہ لا زائدہ نہیں۔ اس صورت میں یقدرعون کی ضمیر فاعل نبی کریم ﷺ اور مومنین سے کنایہ ہوگی یعنی تاکہ اہل کتاب یہ نہ سمجھیں کہ پیغمبر اور اہل اسلام اللہ کے فضل و احسان کے مستحق نہیں ہیں۔ والتقدیر : لئلا یعلم اھل الکتاب ان النبی ﷺ والمومنین لایقدرون علی شیئ من فضل اللہ (کبیر) ۔ لیکن حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی یقدرون کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ اب ہمارا کوئی امام نہیں اس لیے اب ہم جہاد کر کے اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رضا مندی حاصل نہیں کرسکتے تو اب خاتم النبیین محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لا چکے ہیں، لہذا ان پر ایمان لاؤ اور ان کے ساتھ مل کر اللہ کے دین کی سربلندی اور توحید کی اشاعت کے لیے جہاد کرو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے فضل و رحمت سے نوازے گا۔ اس کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں اور اس کے فضل و احسان کا کوئی کنارہ نہیں۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
سورة الحدید میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
سبح للہ ما فی السموات والارض۔ تا وھو علیم بذات الصدور۔ نفی شرک اعتقادی وبیان مراتب ثلاثہ برائے توحید۔ دو کا صراحۃً اور ایک کا تبعاً
سورة الحدید ختم ہوئی