56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 56:1–2

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب ہو پڑے ہو پڑنے والی2

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

نہیں ہے اس کے ہو پڑنے میں کچھ جھوٹ

ٖف 2:۔ ” اذا وقعت۔ تا۔ ھباء منبثا “ یہ تینوں جماعتوں کے احوال کی تمہید ہے یعنی جب لوگ تین جماعتوں میں منقسم ہوں گے اس وقت کیا سماں ہوگا۔ حاصل یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی اور حشر بپا ہوگا اس وقت سب لوگ تین جماعتوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ” الواقعۃ “ سے قیامت مراد ہے۔ ” کاذبۃ “ فاعل بمعنی مصدر ہے یہ جملہ معترضہ ہے برائے تاکید جملہ اولی یعنی اس کا وقوع جھوٹ نہیں بلکہ حق ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں۔ ویجوز جعل الکاذبۃ بمعنی الکذب علی معنی لیس للوقعۃ کذب بلھی وقعۃ صادقۃ او علی معنی لیسھی فی وقوت وقوعہا کذب لانہ حق لا شبۃ فیہ (روح ج 27 ص 130) ۔
Ayah 56:3

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

پست کرنے والی ہے3 بلند کرنے والی

3:۔ ” خافضۃ رافعۃ “ یہ مبتدا محذوف کی خبر بعد خبر ہے یعنی قیامت کچھ لوگوں کو پست اور ذلیل و خوار کرنے والی ہے ان سے اصحاب الشمال (کفار و مشرکین) مراد ہیں اور کچھ لوگوں کو بلند کرنے والی ہوگی اس سے السابقون اور اصحاب الیمین مراد ہیں۔ ایھی خافضۃ رافعۃ ترفع اقواما وتضع اخرین۔ (مدارک ج 4 ص 162) ۔
Ayahs 56:4–6

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب لرزے زمین4 کپکپا کر

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور ریزہ ریزہ ہوں پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر ہوجائیں غبار اڑتا ہوا

4:۔ ” رج “ نہایتہی شدت سے ہلانا قیامت کے دن زمین کو اس شدت سے ہلایا جائیگا کہ زمین پر کوئی چیز کھڑی نہ رہے گی، تمام عمارتیں گر جائیں گی یہاں تک کہ پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر ہموار ہوجائیں گے۔ ” بس “ باریک کرنا، پہاڑوں کو اس طرح باریک کردیا جائے گا کہ وہ غبار کی طرف متفرق ہوجائیں گے۔ ای حرکت تحریکا شدیدا بحیث ینھدم مافوقھا من بناء وجبل (وبست) فتت تاحتی صارت کالسویق المبسوس وھو الملتوت (مظہری ج 9 ص 165) ۔
Ayahs 56:7–9

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم ہوجاؤ5 تین قسم پر

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

پھر داہنے والے کیا خوب ہیں داہنے والے

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں والے کیا برے لوگ ہیں بائیں والے

5:۔ ” وکنتم ازواجا ثلاثۃ “ اس وقت تم لوگ تین قسموں بٹ جاؤ گے۔ ” فاصحب المیمنۃ۔ تا۔ السابقون “ یہ تینوں قسموں کا اجمالی ذکر ہے۔ ” فاصحب المیمنۃ “ مرکب اضافی مبتدا ہے ما اصحب المیمنۃ “ جملہ خبر ہے اور استفہام تعجب کے لیے ہے، علی ہذا القیاس۔ ” واصحب المشئمۃ۔ الایۃ “ یہ اور ” والسابقون السابقون “ دونوں ” اصحب المیمنۃ “ پر معطوف ہیں اور معطوف علیہ مع معطوفین اذا وقعت کی جزاء ہے (روح) ۔ شرط اور جزا کا حاصل مفہوم یہ ہوگا جب قیامت قائم ہوجائیگی جس کے قیام میں کوئی شک و شبہ نہیں جو بعض کو اونچا کرنے والی اور بعض کو نیچا کرنے والی ہوگی۔ جب زمین کو نہایت شدت سے ہلا دیا جائیگا اور پہاڑوں ریزہ ریزہ کر کے غبار کی مانند بنا دیا جائیگا اور سب لوگ تین جماعتوں میں بٹ جائیں گے، اس وقت اصحب الیمین کا حال نہایت اعلی اور اکمل ہوگا اور اصحاب السمال نہایت ہی بد ترین حال میں ہوں گے اور سابقین کا کیا کہنا وہ تو ہیں ہی سابقین ان کا تو حساب کتاب بھی نہیں ہوگا۔ والمراد تعجیب السامع من شان الفریقین فی الفخامۃ والفظاعۃ کانہ قیل (فاصحب المیمنۃ) فی غایۃ حسن الحال (واصحب المشئمۃ) فی نہایۃ سوء الحال (روح ج 27 ص 131) ۔ اصحب المیمنۃ سے ہر امت کے عام مؤمنین مراد ہیں جن کو اعمالنامے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور اصحاب المشئمہ سے کفار و مشرکین مراد ہیں جن کے اعمالنامے ان کے بائیں ہاتھوں میں ہوں گے۔ قال عطاء و محمد بن کعب اصحب المینۃ من اوتی کتابہ بیمینہ واصحب المشئمۃ من اوتی کتابہ بشمالہ (قرطبی ج 17 ص 198) ۔ السابقون وہ نیک لوگ جو ہر نیکی اور طاعت میں پیش پیش ہوں یہ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے کامل متبعین ہیں۔ السابقون الی الاسلام والطاعۃ و مراتب القرب الی اللہ تعالیٰ وھم الانباء علیہم السلام۔ ومن لحقہم من الامم بکمال متابعتہم (مطہری ج 9 ص 166) ۔
Ayahs 56:10–12

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور اگاڑی والے6 تو اگاڑی والے

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہ لوگ ہیں مقرب

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

باغوں میں نعمت کے

6:۔ ” اولئک “ یہ تیسرے جماعت یعنی السابقون کے احوال کا بیان ہے بطریق لف و نشر غیر مرتب۔ فی جنات المقربون کے متعلق ہے۔ نعمتوں کے باغوں میں یعنی جنت میں اللہ تعالیٰ کا اصل قرب تو ان سابقین ہی کو حاصل ہوگا۔ قرب خداوندی کا جو درجہ ان کو ملے گا وہ اور کسی کا نصیب نہیں ہوگا۔
Ayahs 56:13–14

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

انبوہ ہے7 پہلوں میں سے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے ہیں پچھلوں میں سے

7:۔ ” ثلۃ من الاولین۔ الایۃ “ ثلۃ، کثیرۃ یعنی بکثرت۔ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ خبر مبتدا محذوف ای ھم ثلۃ (مظہری ج 9 ص 167) ۔ ای ھم ثلہ والثلۃ الامۃ من الناس کثیرہ (مدارک ج 4 ص 163) ۔ اولین سے مراد امت محمدیہ کے اولین اور آخرین سے امت محمدیہ کے آخرین مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ امت محمدیہ سے جو لوگ سابقین کا رتبہ پائیں گے وہ اکثر اور زیادہ تر صدر اول کے مومنین (صحابہ، تابعین اور اتباع تابعین ؓ ہوں گے اور بعد والوں میں یہ رتبہ پانے والے تھوڑے ہوں گے کیونکہ یہ مرتبہ کامل اتباع سے ملتا ہے اور کمال اتباع صدر اول ہی میں تھا اور اس کے بعد مرور ایام کے ساتھ ساتھ اتباع میں ضعف آتا چلا گیا لیکن اس کے باوجود بعد کے کچھ لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ اتباع کامل کی توفیق عطا فرمائے گا اور وہ سابقین میں شامل ہوں گے۔ فالقول الثانی فی ھذا المقام ھو الراجح وھو ان یکون المرد بقولہ تعالیٰ (ثلہ من الاولین) ای من صدر ھذہ الامۃ (و قلیل من الاخرین) ای من ذہ الامۃ (ابن کثیر ج 4 ص 284) ۔ یعنی من الصدر الاول من ھذہ الامۃ وھم القرون الثلاثۃ الصحابۃ والتابعین واتباعہم قال رسول اللہ ﷺ خیر امتی قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونہم الخ (مظہری ج 9 ص 167) ۔
Ayahs 56:15–18

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

بیٹھے ہیں8 جڑاؤ تختوں پر

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

تکیہ لگائے ان پر ایک دوسرے کے سامنے

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

لیے پھرتے ہیں ان کے پاس لڑکے سدا رہنے والے

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

آبخورے اور کو زے اور پیالہ نتھری شراب کا

8:۔ ” علی سرر “ یہ ضمیر مقدر کی خبر بعد خبر ہے۔ موضونۃ، زر بافتہ ایسی چارپائیاں جو سونے کی تاروں سے بنی ہوں اور ان میں ہیرے جو ہرات جڑے ہوں۔ خبر اخر للضمیر المحذوف والموضونۃ المنسوجۃ بالذھب مشبکۃ بالدر والیاقوت (بیضاوی) ۔ متکئین اور متقابلین، دونوں علی سرر کے متعلق کے فاعل سے حال ہیں۔ وہ جنت میں زر بافتہ چارپائیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ” یطوف علیہم ولدان مخلدون “ ان کی خدمت کیلئے اور انہیں کھلانے پلانے پر جو خدام مقرر ہیں وہ نہایت خوبصورت کم عمر لڑکے ہوں گے اور ہمیشہ اسی عمر میں رہیں گے بڑے نہیں ہوں گے انہم یبقون دائما فی سن الولد ان لا یکبرون ولا یتحولون عن شکل الوصافۃ (بحر ج 8 ص 205) ۔ ” باکواب واباریق۔ الایۃ “ جار مجرور یطوف کے متعلق ہے۔ اکواب، کو ب کی جمع ہے یعنی پیالے جن کے ٹونٹی بھی نہ ہو اور دستہ بھی۔ اباریق، ابریق کی جمع ہے وہ برتن جس کے ٹونٹنی بھی ہو اور دستہ بھی۔ یہ شراب پینے کے مخصوس برتن ہیں (باکواب) باینۃ لاعری لھا ولا خراطیم والظاھر انھا الاقداح وبذالک فسرھا عکرمۃ وھی جمع کو ب (واباریق) جمع قبریق وھو انء لہ خرطوم قیل وعروۃ وفی البحر انہ من اوانی الخمر (روح ج 27 ص 136) ۔ ” معین “ جار ی، مراد شراب ہے جس کے جنت میں چشمے جاری ہوں گے اور اگر معن سے فعیل ہو تو بمعنی کثیر اور وافر ہوگا۔ المراد ھذا الموضع الخمر الجاریۃ من العیون۔ وقیل ھو فعیل من المعن وھو الکثرۃ (قرطبی ج 17 ص 203) ۔
Ayah 56:19

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

جس سے نہ9 سر دکھے اور نہ بکواس لگے

9:۔ ” لا یصدعون۔ الایۃ “ شراب جنت دنیا کی شراب سے بالکل مختلف ہوگی۔ ” لا یصدعون عنہا “ شراب جنت سے نہ تو سر کا درد ہوگا۔ ” ولا ینزفون “ اور نہ اس سے نشہ کی کیفیت طاری ہوگی۔ ای لاتصدع رؤوسہم من شربھا ولا یغلب علی عقولہم ولا یسکرون منہا (خازن ج 7 ص 16) ۔
Ayahs 56:20–24

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوہ10 جونسا پسند کرلیں

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور گوشت اڑتے جانوروں کا جس قسم کا جی چاہے

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور عورتیں گوری بڑی آنکھوں والیاں

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے موتی کے دانے اپنے غلاف کے اندر

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

بدلہ ان کاموں کا جو کرتے تھے

10:۔ ” وفاکہۃ “ فاکہۃ اور لحم دونوں اکواب پر معطوف ہیں۔ وہ غلمان جنت میں سابقین کی خدمت میں ان کی مرضی اور پسند کے میوے پیش کریں گے اور ان کی خواہش کے مطابق پرندوں کا گوشت حاضر کریں گے۔ ” وحور الخ “ یہ ولدان پر معطوف ہے یا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ ای لھم حور کا مثال اللؤلؤ الخ، یہ حور کی صفت ہے یا اس سے حال ہے (روح) حوروں کی سچے موتیوں سے تشبیہ چہرے کی چمک دمک اور صفاء بشرہ میں ہے۔ جنت میں ان کے لیے ایسی عورتیں ہوں گی جن کی آنکھیں سیاہ اور موٹی ہوں گی اور وہ حسن و جمال اور چہرے کی چمک دمک میں ان سچے موتیوں کی مانند ہوں گی جن کو گرد و غبار سے بچا کر بحفاظت رکھا گیا ہو۔ ” جزاء بما کانوا یعملون “ جزاء فعل مقدر کا مفعول لہ یا مفعول مطلق ہے۔ مفعول لہ ای یفعل بھم ذلک کلہ لجزاء اعمالہم او مصدر ای یجزون جزاء (مدارک ج 4 ص 163) ۔ یہ سارے انعامات ان کے اعمال صالحہ کا صلہ ہوں گے۔
Ayahs 56:25–26

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

نہیں سنیں گے11 وہاں بکواس اور نہ گناہ کی بات

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

مگر ایک بولنا سلام سلام

ٖف 11:۔ ” لایسمعون “۔ جنت ہر لحاظ سے پر امن اور سلامتی کی جگہ ہوگی، وہاں کوئی جسمانی اور ذہنی اذیت نہیں ہوگی، وہاں جس طرح کام و دہن کی لذتیں حاصل ہوں گی اسی طرح اہل جنت کے کان بھی پسندیدہ آوازوں سے لطف اندوز ہوں گے اور ہر ایذا رساں آواز سے ان کے کان محفوظ ہوں گے۔ وہاں کوئی بےہودہ بات اور خلاف طبع ہذیان وغیرہ سنائی نہیں دے گا۔ وہاں ہر طرف سے سلام کی آواز ہی آئے گی فرشتے اہل جنت کو سلام کا تحفہ پیش کریں گے اور اہل جنت آپس میں بھی ایک دوسرے کا اسی تحیہ سے خیر مقدم کریں گے۔ (ابن کثیر۔ مظہری) ۔
Ayahs 56:27–31

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور داہنے والے12 کیا کہنے داہنے والوں کے

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

رہتے ہیں بیری کے درختوں میں جن کا کانٹا نہیں

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور کیلے تہہ پر تہہ

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور سایہ لمبا

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور پانی بہتا ہوا

12:۔ ” واصحب الیمین “ یہ پہلی جماعت یعنی اصحاب المیمنۃ کے احوال کا بیان ہے۔ اصحاب الیمین کا کیا کہنا انکا حال نہایت اچھا اور اعلی ہوگا۔ ” فی سدر مخضود “ مخضود، کانٹوں کے بغیر، جنت کے میوہ دار درخت کانٹوں سے عاری ہوں گے تاکہ میوہ تناول کرتے وقت کانٹے رنگ میں بھنگ نہ ملا دیں۔ چناچہ بیری کا درخت دنیا میں کانٹوں سے لیس ہوتا ہے، لیکن جنت میں جو بیری کے مشابہ درخت ہوں گے وہ کانٹوں سے عاری ہوں گے اور ان کا پھل حجم میں مٹکوں کے برابر ہوگا اور نہایت خوشذائقہ اور خوشبودار ہوگا۔ سدر فی الجنۃ شجر علی خلقہ لہ ثمر کقلال ھجر طیب الطعم والریح (مخضود، ، من الشوک (بحر ج 8 ص 206) ۔ ” وطلح منضود “ اور کیلے کی پھلیاں تہ بتہ ہوں گی زمین سے لے کر سارا درخت پھلیوں سے لدا ہوگا۔ اشارہ کثرت کی طرف ہے۔ ” وظل ممدود “ وہاں سایہ وسیع اور دائم ہوگا اور کبھی گرمی محسوس نہ ہوگی۔ ” وماء مسکوب “ اور پانی جنت میں ہر جگہ دستیاب اور جاری ہوگا اور اس کے حاصل کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔
Ayahs 56:32–39

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور میوہ13 بہت

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

نہ اس میں سے ٹوٹا اور نہ روکا ہوا

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور بچھونے اونچے

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ہم نے اٹھایا ان عورتوں کو ایک اچھی اٹھان پر

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

پھر کیا ان کو کنواریاں

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

پیار دلانے والیاں ہم عمر واسطے

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

داہنے والوں کے

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

انبوہ ہے پہلوں میں سے

13:۔ ” وفاکہۃ “ تمام انواع و قسام کے میوے بکثرت ہوں گے۔ ” مقطوعۃ “ ہمیشہ دستیاب ہوں گے اور کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوں گے۔ ” ولا ممنوعۃ “ جب چاہیں گے کسی بھی وقت کوئی ممانعت اور پابندی نہیں ہوگی۔ ” وفرش مرفوعۃ “ اور نہایت عالیشان اور پر تکلیف فروش اور بچھونے ہوں گے۔ امام ابو عبیدہ کے نزدیک فرش سے مراد عورتیں (حوریں) ہیں کیونکہ عرف میں عورت کو فراش کہا جاتا ہے اور مرفوعۃ سے قدر و منزلت کی بلندی مراد ہے۔ ” انا انشاناھن “ اس پر قرینہ ہے۔ (روح) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہاں مضاف مقدر ہے ای ذوات فرش اور مراد حوریں ہیں۔ ” انا انشاناھن “ اس پر شاہد ہے۔ ” انشاناھن “ ہم نے حوروں کو از سر نو پیدا کیا ہے۔ اس طرح حوریں ایک جدید مخلوق ہوں گی جنہیں ولادت کے بغیر اللہ تعالیٰ پیدا فرمائے گا۔ فالمعنی انا ابتداناھن ابتداء جدیدا من غیر ولادۃ ولا خلق اول (روح ج 27 ص 142) ۔ اس سے بعض زائغین کے خیال کا بطلان واضح ہوگیا جو کہتے ہیں کہ مشرکین کی بلوغ سے پہلے مرنے والی لڑکیوں کو حوریں بنایا جائے گا۔ ابکارا، کنواری ہوں گی۔ عرب، عروب کی جمع ہے یعنی وہ اپنے شوہروں سے بہت محبت کریں گی۔ اتراب، ترب کی جمع ہے یعنی ہم عصر۔ اصحاب الیمین کیلئے ہم از سر نو جنت میں حوریں پیدا کریں گے جو کنواری اور شوہروں کو اپنے حسن و جمال اور حسن اخلاق کی وجہ سے نہایت محبوب ہوں گی اور عمر میں ان کے برابر ہوں گی۔
Ayah 56:40

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور انبوہ ہے14 پچھلوں میں سے

14:۔ ” ثلۃ من الاولین “ اصحاب الیمین میں امت محمدیہ کے صدر اول اور صدر آخر کے مؤمنین بکثرت ہوں گے عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ ھما جمیعا من امتی (ابن کثیر ج 4 ص 294) ۔