56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 56:80–82

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 56:80 in the Quran reader

اتارا ہوا ہے28 پروردگار عالم کی طرف سے

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ Open ayah 56:81 in the Quran reader

اب کیا اس بات میں تم سستی کرتے ہو

وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 56:82 in the Quran reader

اور اپنا حصہ تم یہی لیتے ہو کہ اس کو جھٹلاتے ہو

28:۔ ” تنزیل “ یہ بھی ” قران “ کی صفت ہے یہ قرآن اس شہنشاہ کی طرف سے نازل ہوا ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور ساری کائنات کا مالک ہے۔ ” افبھذا الحدیث انتم مدھننون “ تو کیا تم ایسی خوبیوں والی کتاب اور مالک کائنات کے ایسے عظیم الشان حکمانے سے بےاعتنائی برت رہے ؟ اور بجائے اس کے کہ تم اس نعمت عظمی کی قدر کرتے۔ اس کا شکر بجا لاتے اور اس پر ایمان لا کر اس پر عمل کرتے، تم نے اسے جھٹلا دیا ہے اور اس کا انکار کردیا ہے۔ یہ انتہائی نادانی اور بدبختی ہے۔ رزقکم ای شکرکم قال ابن عباس تجعلون شکرکم التکذیب (قرطبی ج 17 ص 228) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ ” تم تکذیب قرآن کو اپنا نصیب (حصہ) بناتے ہو “۔
Ayahs 56:83–87

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ Open ayah 56:83 in the Quran reader

پھر کیوں نہیں29 جس وقت جان پہنچے حلق کو

وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 56:84 in the Quran reader

اور تم اس وقت دیکھ رہے ہو

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

اور ہم اس کے پاس ہیں تم سے زیادہ پر تم نہیں دیکھتے

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

پھر کیوں نہیں اگر تم نہیں ہو کسی کے حکم میں

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

تو کیوں نہیں پھیر لیتے اس روح کو، اگر ہو تم سچے

29:۔ ” فلولا اذا بلغت الحلقوم “ یہ معاندین پر زجر ہے۔ اذا، ترجعون، مؤخر سے متعلق ہے اور یہی لولا کا جواب ہے۔ حینئذ تنظرون اور ونحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون۔ دونوں جملہ سابقہ کے مضمون سے حال ہیں۔ اور فلولا ثانی، بعد عہد کی وجہ سے لولا اول کا اعادہ ہے۔ اور ان کنتم صدقین، ان کنتم غیرمدینین کا اعادہ ہے۔ غیرمدینین ای غیر مملوکین ولا مقہورین (قرطبی ج 17 ص 231) ۔ غیر مجزیین (روح) ۔ وترجعونہا جواب لقولہ تعالیٰ فلولا اذا بلغت الحلقوم الخ، (ایضا) ۔ اب ترتیب عبارت یوں ہوگی۔ فلولا ترجعونہا اذا بلغت الحلقوم، ان کنتم غیر مدینین (کشاف) ۔ حاصل معنی یہ ہوا کہ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ تم اللہ کے مملوک اور اس کی قدرت کے آگے مغلوب و مقہور نہیں ہو اور جزا وسزا کا دن نہیں آئے گا تو جب تم میں سے کسی جان نکلنے لگے اور حلقوم تک پہنچ جائے تو اس کو واپس کیوں نہیں لوٹالیتے۔ حالانکہ ت اس وقت وہاں موجود ہوتے ہو لیکن اس مرنے والے آدمی سے تمہاری نسبت زیادہ نزدیک ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے اور اس وقت ہماری گرفت کے سامنے تم سب عاجز ہوتے ہو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم سب اللہ تعالیٰ کے مملوک اور اس کے سامنے مقہور و مغلوب ہو۔ قیامت ضرور آئے گی اور ہر شخص اپنے اعمال کی جزاء وسزا پائے گا۔
Ayahs 56:88–89

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

سو جو اگر30 وہ مردہ ہوا مقرب لوگوں میں

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

تو راحت ہے اور روزی ہے اور باغ نعمت کا

30:۔ ” فاما ان کان من المقربین “ یہ تیسری جماعت کے حال کا اعادہ ہے۔ ” فروح وریحان “ یہ خبر مقدم، محذوف کا مبتدا ہے ای فلہ روح (روح) ۔ ” رَوْحٌ“ رحمت۔ ریحان، رزق۔ (روح، بحر، قرطبی) ۔ یا ” رَوح “ راحت اور آرام اور ریحان بوئے خوش (قرطبی) ۔ مقربین کو آخرت میں نعمتوں سے مالا مال ایسے باغ ملیں گے جن میں ہر قسم کی راحت ہوگی۔ مختلف اقسام کا پاکیزہ رزق اور گلہائے رنگا رنگ سے ان کے مشام دماغ مسرور و معطر ہوں گے یہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہوگا۔
Ayahs 56:90–91

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

اور جو اگر31 وہ ہوا داہنے والوں میں

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

تو سلامتی پہنچے تجھ کو داہنے والوں سے

31:۔ ” واما ان کان من اصحاب الیمین “ یہ پہلی جماعت کے حال کا اعادہ ہے۔ ” فسلام “ سے پہلے یقال مقدر ہے اور من ابتدائیہ ہے یعنی جب کوئی اصحاب الیمین کا آدمی فوت ہوتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ اصحاب الیمین کی طرف سے تجھے سلام ہو۔ ای فیقال لذلک المتوفی منہم سلام لک یا صاحب الیمین من اخوانک اصحاب الیمن ای یسلمون علیک (روح ج 27 ص 160) ۔ یا من اصحاب الیمین مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی اسے فرشتوں کی طرف سے سلام کا تحفہ ملتا ہے اور اسے یہ خوشخبری بھی سناتے ہیں کہ تو اصحاب الیمین میں سے ہے معناہ فسلام لک، انت من اصحاب الیمین (طبری) ۔
Ayahs 56:92–95

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader

اور جو اگر وہ32 ہوا جھٹلانے والوں بہکنے والوں میں سے

فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader

تو مہمانی ہے جلتا پانی

وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader

اور ڈالنا آگ میں

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader

بیشک یہ بات ہے لائق یقین کے

32:۔ ” واما ان کان من الخ “ یہ دوسری جماعت کے حال کا اعادہ ہے۔ اگر وہ جھٹلانے والوں اور گمراہوں میں سے ہوگا تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی تواضع کی جائیگی اور اسے جہنم میں داخلہ ملے جس میں وہ ہمیشہ کیلئے رہے گا اور اس سے اس کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ ” ان ھذا لھو حق الیقین “ یہ سب کچھ برحق اور یقینی ہے۔
Ayah 56:96

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:96 in the Quran reader

سو بول پاکی اپنے رب کے نام سے33 جو سب سے بڑا

33:۔ ” فسبح باسم ربک العظیم “ آخر میں دعوی سورت کا اعادہ ہے۔ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اسلیے برکت دینے میں اس کو شریکوں سے پاک سمجھو اور ہر قسم کے شرک سے اس کی پاکیزگی اور تنزیہ بیان کرو۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سورة واقعہ میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات : ” فسبح باسم ربک العظیم دو مرتبہ۔ سورة واقعہ ختم ہوئی