56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 56:41–44

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بائیں والے15 کیسے بائیں والے

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

تیز بھاپ میں اور جلتے پانی میں

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

اور سایہ میں دھوئیں کے

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

نہ ٹھنڈا اور نہ عزت کا

15:۔ ” واصحب الشمال “ یہ دوسری جماعت کے احوال کا بیان ہے۔ اصحاب الشمال کا کیا پوچھتے ہو ان کا حال نہایت برا اور ناگفتہ بہ ہوگا۔ فی سموم الخ، مبتدا ” ھم “ محذوف ہے اور یہ اصحاب الشمال کے حال بد کا بیان ہے۔ ان کو ٹھنڈی ہوا اور ٹھنڈے پانی کے بجائے نہایت ہی گرم اور زہریلی ہوا اور کھولتا ہوا پانی نصیب ہوگا اور گرمی سے بچنے کے لیے کوئی سایہ نہ ہوگ سوا اس دھواں کے جو جہنم کی آگ سے اٹھے گا۔ اہل دوزخ دوڑ کر اس کے سائے میں پناہ لینے کی کوشش کریں گے۔ ” لا بارد ولا کریم “ مگر وہ سایہ نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ کسی حد تک مفید ہوگا اس سے ان کے عذاب میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوگی۔ السموم الریح الحارۃ التی توثرتاثیر السیم (مفردات راغب ) ۔ حمیم وھو الماء الشدید الھرارۃ (روح ج 27 ص 143) ۔ (یحموم) ای دخان شدیدالسواد۔ (لا بارد) کسائر الظل (ولا کریم) ای لا نافع بوجہ ما (مطیر ج 9 ص 176) ۔
Ayahs 56:45–48

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

وہ لوگ تھے16 اس سے پہلے خوش حال

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

اور ضد کرتے تھے اس بڑے گناہ پر

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

اور کہا کرتے تھے کیا جب ہم مرگئے اور ہوچکے مٹی اور ہڈیاں کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گا

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

اور کیا ہمارے اگلے باپ دادے بھی

16:۔ ” انہم “ مترفین، عیش و عشرت اور شہوات نفسانیہ کے اتباع میں منہمک۔ الحث العظیم، بہت بڑا گناہ یعنی شرک و کفر۔ یہ دنیا میں عیش و عشرت اور خواہشات نفسانیہ کے پیچھے پڑے رہے اور شرک وکفر ایسے عظیم گناہ پر بضد رہے اور قیامت کا انکار کرتے رہے اور اس کو عقل و قیاس سے بعد سمجھ کر کہتے تھے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم اور ہمارے باپ دادا مر کر مٹی ہوجائیں اور ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں اور پھر بھی ہم دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں۔
Ayahs 56:49–55

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

تو کہہ دے17 کہ اگلے اور پچھلے

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

سب اکٹھے ہونے والے ہیں ایک دن مقرر کے وقت پر

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

پھر تم جو ہو اے بہکے ہوؤ جھٹلانے والو

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

البتہ کھاؤ گے ایک درخت سینڈھ کے سے

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

پھر بھرو گے اس سے پیٹ

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

پھر پیو گے اس پر ایک جلتا پانی

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

پھر پیو گے جیسے پئیں اونٹ تون سے ہوئے

ف 17:۔ ” قل ان الاولین “ یہ مشرکین کے انکار و تعجب کا جواب ہے۔ آپ فرما دیں اللہ تعالیٰ کیلئے یہ کوئی مشکل نہیں وہ تماما گلے اور پچھلے لوگوں کو اس معلوم و متیقن دن میں ضرور جمع کرے گا۔ ” ثمانکم۔ الایۃ “ یہ اہل جہنم کی طرف التفات ہے۔ اے گمراہو اور جھٹلانے والو ! قیامت قائم ہونے کے بعد تم سب کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اور وہاں تمہیں زقوم ایسا پر خار اور نہایت ہی تلخ درخت کھانے کے لیے ملے گا۔ جسے تم خوب پیٹ بھر کر کھاؤ گے۔ پھر جب شدت کی پیاس لگے گی تو اس پر نہایت ہی گرم کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا جسے تم اس طرح پیوگے جس طرح پیاسے اونٹ پیتے ہیں۔ پیاسا اونٹ خوب سیر ہو کر پانی پیتا ہے اور پھر اپنے پیٹ میں پانی کا ذخیرہ بھی کرلیتا ہے تاکہ بعد میں کام آئے حاصل یہ ہے کہ دوزخی پیاس کے مارے کھولتے ہوئے پانی پر پیاسے اونٹ کی طرح ٹوٹ پڑیں گے لیکن اس سے کچھ بھی تسکین نہ ہوگی، بلکہ وہ پانی ان کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔
Ayah 56:56

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

یہ مہمانی ہے18 ان کی انصاف کے دن

18:۔ ” ھذا نزلہم۔ الایۃ “ قیامت کے دن دوزخ میں کفار و مشرکین (اصحاب الشمال) کی اس طرح تواضع اور مہمان نوازی کی جائے گی۔ کھانے کے لیے زقوم اور پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی، اسے مہمانی استہزاء و تہکم کے طور پر کہا گیا ہے۔ ای رزقہم الذی یعدلہم، وفیہ تہکم (قرطبی ج 17 ص 215) ۔
Ayahs 56:57–61

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ Open ayah 56:57 in the Quran reader

ہم نے تم کو بنایا19 پھر کیوں نہیں سچ مانتے

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ Open ayah 56:58 in the Quran reader

بھلا دیکھو20 تو جو پانی تم ٹپکاتے ہو

ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ Open ayah 56:59 in the Quran reader

اب تم اس کو بناتے ہو یا ہم ہیں بنانے والے

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ Open ayah 56:60 in the Quran reader

ہم ٹھہرا چکے تم میں مرنا اور ہم عاجز نہیں

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 56:61 in the Quran reader

اس بات سے کہ بدلے میں لے آئیں تمہاری طرح کے لوگ اور اٹھا کھڑا کریں تم کو وہاں جہاں تم نہیں جانتے

19:۔ ” نحن خلقناکم “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ نیز قیامت کی دلیل ہے۔ ہر دلیل میں ” افرایتم “ سے متنبہ کیا گیا ہے کہ ہر دلیل بالکل واضح اور روشن ہے تم خود سوچ کر بتاؤ کہ دلائل میں جو حقائم مذکور ہیں وہ درست ہیں یا نہیں۔ پہلی دلیل میں فرمایا تم خوب جانتے ہو کہ پہلی بار ہم نے تم کو پیدا کیا ہے تو پھر دوبارہ زندہ ہونے کو کیوں نہیں مانتے ہو ؟ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کرلیا ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور جو تم سب کا خالق ہے وہی برکات دہندہ ہے اور کوئی نہیں۔ افرایتم۔ یہ اس دلیل کی تفصیل ہے۔ بھلا یہ تو بتاؤ کہ بیویوں کے رحموں میں تم جو مادہ منویہ ڈالتے ہو کیا اس سے کامل ومکمل انسان تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟ مشرکین اس بات کے معترف تھے کہ خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ” نحن قدرنا الخ “ اور ہم نے تم میں سے ہر ایک کی موت کا ایک وقت مقرر کردیا ہے جس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی جس طرح تم کو پیدا ہم نے کیا ہے اسی طرح تمہاری موت بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے ” وما نحن بمسبوقین الخ “ مسبوقین، مغلوبین یعنی اس سے ہم عاجز و مغلوب نہیں کہ تمہاری جگہ تمہاری مانند اور انسانوں کو پیدا کرلیں اور تمہاری انسانی شکلیں مسخ کر کے تمہیں ایسی شکلوں میں منتقل کردیں جن کا تمہیں وہم گمان بھی نہ ہو۔ اظہار قدرت کے ساتھ تہدید و تخویف کی طرف بھی اشارہ ہے۔ ای یغلبنا احد علی ان نذھبکم و ناتی مکانکم اشباھکم من الخلق (روح ج 27 ص 147) ۔ قال الحسن ای نجعلکم قردۃ وخنازیر کما فعلنا باقوام قبلکم (قرطبی ج 17 ص 217) ۔
Ayah 56:62

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 56:62 in the Quran reader

اور تم جان چکے ہو21 پہلا اٹھان پھر کیوں نہیں یاد کرتے

21:۔ ” ولقد علمتم۔ الایۃ “ پہلی پیدائش کو تو تم خوب جانتے ہو اور مانتے ہو کہ پہلی بار تمہیں اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تو پھر اس سے کیوں عبرت نہیں پکڑتے ہو ؟ کہ جو ابتداء پیدا کرتا ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے (فلولا تذکرون) ای بانی ادر علی اعادتکم کما قدرت علی ابداء کم اول مرۃ (خازن و معالم ج 7 ص 23) ۔
Ayahs 56:63–67

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ Open ayah 56:63 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو جو22 تم بوتے ہو

ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ Open ayah 56:64 in the Quran reader

کیا تم اس کو کرتے ہو کھیتی یا ہم ہیں کھیتی کردینے والے

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ Open ayah 56:65 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو کر ڈالیں اس کو روندا ہوا گھانس پھر تم سارے دن رہو باتیں بناتے

اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ Open ayah 56:66 in the Quran reader

ہم تو قرض دار رہ گئے

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 56:67 in the Quran reader

بلکہ ہم بےنصیب ہوگئے

22:۔ ” افرایتم ما تحرثون “۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے اب یہ بتاؤ یہ جو تم زمین میں ہل چلا کر بیج ڈال دیتے ہو کیا ان دانوں سے سر سبز و شاداب اور لہلہاتے کھیت تم خود ہی پیدا کرلیتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟ اگر تمہارے اختیار میں ہو تو تم کوئی موسم نہ دیکھو اور ہر وقت ہی ہر چیز اگاتے رہو۔ مشرکین کو اس کا بھی اقرر تھا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ اگاتا ہے اور وہی کھیتوں اور باغوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ ” لونشاء۔ الایۃ “ اگر ہم چاہیں تو لہلہاتے کھیتوں کو ناگہانی آفتوں سے چورہ کر کے رکھدیں تو تم باتیں ہی بناتے رہ جاؤ کہ ہم تو مارے گئے، بلکہ سال بھر کی روزی سے بھی محروم ہوگئے۔ التف کہ التکلم فیما لایعنیک (قرطبی ج 17 ص 219) ۔
Ayahs 56:68–70

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ Open ayah 56:68 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو پانی23 کو جو تم پیتے ہو

ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ Open ayah 56:69 in the Quran reader

کیا تم نے اتارا اس کو بادل سے یا ہم ہیں اتارنے والے

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 56:70 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں کردیں اس کو کھارا پھر کیوں نہیں احسان مانتے

23:۔ ” افرایتم الماء الخ “ یہ تیسری عقلی دلیل ہے۔ اچھا اب یہ بتاؤ کہ یہ میٹھا اور خوشگوار پانی جو تم پیتے ہو یہ بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا ہم ہی اسے اتارتے ہیں ؟ اگر تم خود مینہ برسا سکتے ہو تو خشک سالی میں خود ہی بارش برسا لیا کرو، خدا سے کیوں دعائیں مانگتے ہو ؟ مشرکین کو اس کا بھی اعتراف تھا کہ بارش اللہ ہی برساتا ہے۔ ” لونشاء۔ الایۃ “ اگر ہم چاہیں تو پانی کو بد مزہ اور کڑوا بنا دیں جو پینے کے قابل نہ رہے تو بتاؤ کیا تم مجھے ایسا کرنے سے روک سکتے ہو ؟ ہرگز نہیں، تو پھر اللہ کی ان نعمتوں کا شکر کیوں نہیں بجا لاتے ہو ؟ اور صرف اسی ہی کو منعم و محسن اور برکات دہندہ کیوں نہیں سمجھتے ہو ؟ اور غیر اللہ کو برکت دینے میں اس کا شریک کیوں بناتے ہو ؟ یہ تو انتہائی سفاہت و شقاوت ہے۔
Ayahs 56:71–73

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ Open ayah 56:71 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو آگ24 جس کو تم سلگاتے ہو

ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ Open ayah 56:72 in the Quran reader

کیا تم نے پیدا کیا اس کو درخت یا ہم ہیں پیدا کرنے والے

نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ Open ayah 56:73 in the Quran reader

ہم نے ہی تو بنایا وہ درخت یاد دلانے کو اور برتنے کو جنگل والوں کے

24:۔ ” افرایتم النار الخ “ یہ توحید پر چوتھی عقلی دلیل ہے بعض درخت ایسے ہیں کہ اگر ان کی لکڑیوں کو ایک دوسری پر رگڑا جائے تو ان سے آگ نمودار ہوجاتی ہے۔ قدیم زمانے میں آگ حاصل کرنے کا یہی طریقہ تھا۔ عرب میں مرخ اور عفار نامی دو درخت مشہور تھے۔ جن میں آگ پیدا کرنے کی صلاحیت دوسرے درختوں کی نسبت زیادہ تھی۔ اب آخر میں یہ بتاؤ کہ یہ جو لکڑیوں کو باہم رگڑ کر تم روشن کرلیتے ہو کیا یہ درخت تم نے پیدا کیے ہیں یا ہمنے ؟ ظاہر ہے کہ ہر نبات اور ہر نجم و شجر کا خالق وہی ہے۔ ” نحن جعلناھا۔ الایۃ “ ہم نے اس دنیا کی آگ کو عبرت بنا دیا ہے کہ اس سے آخرت میں دوزخ کی آگ کا اندازہ لگا لیا جائے جو اس سے کئی گنا زیادہ سخت ہوگی۔ اور مسافروں کیلئے جو جنگلوں اور بیابانوں میں پڑاؤ ڈالیں آگ کو ایک نہایت ہی مفید اور ضرورت کی چیز بنا دیا ہے۔ آگ کی ضرورت تو ہر جگہ ہے لیکن مسافروں کو اس کی زیادہ ضرورت رہتی ہے کیونکہ دوران سفر جنگلوں میں پکا پکایا کھانا انہیں میسر نہیں آسکتا۔
Ayah 56:74

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:74 in the Quran reader

سو بول پاکی اپنے رب کے نام کی25 جو سب سے بڑا

25:۔ ” فسبح باسم۔ الایۃ “ دلائل اربعہ کے بعد پہلی بار دعوی سورت کا ذکر ہے۔ خطاب ہر مخاطب سے ہر وہ شخص جو مذکورہ بالا دلائل عقلیہ میں غور و فکر کرے اس پر لازم ہے کہ وہ ان سے اللہ کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت کا سبق حاصل کرے اور ایسے عظیم مالک اور اعلی صفات پروردگار کو ہر شریک سے پاک سمجھے اسی کو کارساز اور برکات دہندہ مانے۔
Ayah 56:75

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ Open ayah 56:75 in the Quran reader

سو میں قسم کھاتا ہوں26 تاروں کے ڈوبنے کی

26:۔ ” فلا اقسم “ یہاں سے عظمت قرآن کا بیان شروع ہوتا ہے نیز اس میں تصدیق بالقران کی ترغیب دی گئی ہے۔ ” فلا اقسم “ میں لا زائدہ ہے محاورات میں قسم پر اکثر لا زائدہ استعمال ہوتا ہے جیسا کہ لا واللہ وغیرہ۔ امام آلوسی نے فرمایا ہے کہ یہ لا زائدہ ہے برائے تاکید (روح) ۔ اور مواقع النجوم سے ستاروں کے غروب ہونے کی جگہیں مراد ہیں۔ ستاروں کا غروب ان کے فنا اور زوال کی دلیل ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی بالا تر طاقت کے زیر تصرف ہیں جس طرح آسمان کے جگمگاتے ستارے چھپ جاتے اور ان کی روشنی زائل ہوجاتی ہے اسی طرح یہ سارا جہان ایک وقت فنا ہواجائے گا۔ لا مزیدۃ مؤکدۃ (مدارک) بمواقع النجوم ای بمساقط کواکب السماء و مغاربھا۔ تخصیصھا بالقسم لما فی غروبہا من زوال اثرھا والدلالۃ علی وجود مؤثر دائم لایغیر۔ ولذا استدل الخلیل علیہ بالافول علی وجود الصاطع جل وعلا (روح ج 27 ص 152) ۔
Ayahs 56:76–79

وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ Open ayah 56:76 in the Quran reader

اور یہ قسم ہے27 اگر سمجھو تو بڑی قسم

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 56:77 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن ہے عزت والا لکھا ہوا ہے

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ Open ayah 56:78 in the Quran reader

ایک پوشیدہ کتاب میں

لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ Open ayah 56:79 in the Quran reader

اس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک بنائے گئے ہیں

27:۔ ” وانہ لقسم “ یہ قسم اور جواب قسم کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ برائے بیان عظمت قسم یعنی اگر تمہیں اس کی حقیقت کا علم ہو تو یہ ایک نہایت عظیم الشان قسم اور شاہد ہے۔ ” انہ لقران الخ “ یہ جواب قسم ہے یہ قرآن نہایت اعلی اور احسن کتاب ہے جو دینی اور دنیوی منافع کا بیش بہا خزینہ ہے۔ فی کتاب مکنون، وہ لوح محفوظ میں محفوظ اور ہر قسم کے تغیر و تبدل سے مامون و مصئون ہے۔ ” لا یمسہ الا المطہرون “ جملہ کتاب مکنون کی صفت ہے۔ اور ” المطہرون “ سے مراد فرشتے ہیں جو ہر قسم کے گناہوں اور نجاستوں سے پاک ہیں۔ اور ” مس “ کنایہ ہے لوح محفوظ کے علوم پر اطلاع سے حاصل یہ ہوا کہ لوح محفوظ کے علوم پر فرشتوں کے سوا کوئی مطلع نہیں ہوسکتا۔ ونفی مسہ کنایۃ عن لازمہ وھو نفی الاطلاع علیہ وعلی ما فیہ (روح ج 27 ص 154) ۔ یا یہ ” قران “ کی صفت ہے اور المطہرون سے وہ لوگ مراد ہیں جو حدث اصغر اور حدث اکبر سے پاک ہوں اور نفی بمعنی نہی ہے اور مراد یہ ہے قرآن مجید کو صرف وہی لوگ ہاتھ لگائیں جو باوضو ہوں۔ المراد بالمطہرون، المطہرون عن الحدث الاصغر والحدث الاکبر والمعنی لا ینبغی ان یمس القران الا من ھو علی طہارۃ من الناس فالنفی بمعنی النھی بل ابلغ من النہی الصریح (روح ملخصاً ) ۔ اسی بناء پر جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ بےوضو آدمی قرآن مجید کو ہاتھ نہ لگائے امام بخاری (رح) اس کی اجازت دیتے ہیں۔