55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 55:1–4

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

ف 2 رحمان نے

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

سکھلایا قرآن

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

بنایا آدمی

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

پھر سکھلایا اس کو بات کرنا

2:۔ ” الرحمٰن۔ تا۔ والریحان “ اللہ کی وحدانیت کا بیان ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا اور یہ ساری نعمتیں عطاء کیں وہی کارساز اور برکات دہندہ ہے۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ پر دلالت کرتی ہے۔ ایسی رحمت عامہ جس میں مومن و کافر اور دشمن و دوست کے درمیان کوئی امتیاز نہ ہو چناچہ الرحمن کے بعد جن انعامات کا ذکر ہے وہ سب کیلئے مشترک ہیں اور ان کے ذکر میں ایک خاص ترتیب ملحوظ ہے۔ تمام علویات و سفلیات کا خالق ومالک وہی ہے اور یہ سارے انعامات بھی اسی کی طرف سے ہیں اس لیے دونوں کو ساتھ ساتھ یکے بعد دیگرے ذکر فرمایا۔ ” الرحمن، علم القران “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اس بادشاہ نے جو بڑا ہی مہربان ہے اوپر سے قرآن نازل فرمایا اور اپنے پیغمبر کو اس کی تعلیم دی اور آپ کی وساطت سے تمام انسانوں تک پہنچایا جو بنی آدم کے لیے اس کا سب سے بڑا انعام و احسان ہے اور جس پر دینی و دنیوی سعادت کا مدار ہے ای علمہ نبیہ ﷺ حتی اداہ الی جمیع الناس (قرطبی ج 17 ص 102) ۔ ” خلق الانسان، علمہ البیان “ یہ توحید کی دوسری عقلی دلیل ہے۔ نیچے زمین پر انسان کو پیدا کیا اور اپنے دل کی بات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس کو بیان کا ملکہ اور سلیقہ عطا فرمایا تاکہ جس طرح اس نے خود قرآن کو سمجھا ہے اسی طرح دوسروں کو بھی سمجھا سکے لان البیان ھو الذی بہ یتمکن عادۃ من تعلم القران و تعلیمہ (روح ج 27 ص ص 99) ۔
Ayahs 55:5–6

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج3 اور چاند کے لیے ایک حساب ہے

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور جھاڑ اور درخت مشغول ہیں سجدہ میں

3:۔ ’[ الشمس والقمر۔ الایۃ “ یہ توحید کی تیسری عقلی دلیل ہے۔ جو اشیاء اس کی قدرت کاملہ اور صنعت غریبہ پر دلیل ہیں ان کو اسی ترتیب سے ذکر فرمایا پہلے اوپر والی چیزیں۔ ” بحسبان “ کا متعلق محذوف ہے۔ ای یجریان بحسبان (روح) سورج اور چاند ایک حساب اور مقرر اندازے کے مطابق چل رہے ہیں ان کی رفتار معین، ان کا راستہ متعین اور ان کی مسافت معلوم جسے انہوں نے ایک مدت متعینہ سال یا مہینے میں طے کرنا ہے۔ اس کے بعد پھر نیچے والی چیزوں کا ذکر فرمایا۔ ” والنجم والشجر یسجدان “ النجم سے وہ نباتات مراد ہے جو زمین سے نکل کر زمین کی سطح پر ہی پھیل جاتی ہے اور تنے پر نہیں اٹھتی یعنی بیل اور الشجر وہ نباتات ہے جو تنے پر اٹھتی اور قد آور ہوجاتی ہے۔ یعنی درخت یا پودا (مدارک، روح، بحر) ۔ یعنی تمام اقسام نبات بھی اللہ کے سامنے سر بسجود اور اس کے حکم کی مطیع و منقاد ہیں سجود نبات کامل انقیاد اور کلی طور پر زیر تصرف ہونے سے کنایہ ہے یعنی زمین پر جس قدر سبزہ اور روئیدگی ہے سب اللہ کے تکوینی احکام کی پابند ہے ینقاد ان اللہ فیما یردی بھما طبعا انقیاد الساجدی من المکلفین طوعا (بیضاوی) لما ذکر تعالیٰ ما انعم بہ من منفعۃ الشمس والقمر وکان ذلک من الایات العلویۃ ذکر فی مقابلتہما من الاثار السفلیۃ النجم والشجر (بحر ج 8 ص 189) ۔ اوپر سورج چاند رواں دواں ہیں اور نیچے جڑی بوٹیاں اور درخت پیدا کردئیے اور ان میں سورچ چاند سے اثر قبول کرنے کی استعداد رکھ دی۔
Ayahs 55:7–9

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور آسمان4 کو اونچا کیا اور رکھی ترازو

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

کہ زیادتی نہ کرو ترازو میں

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور سیدھی ترازو تو لو انصاف سے اور مت گھٹاؤ تول کو

4:۔ ” والسماء “ علویات کا ذکر۔ اوپر آسمان کو بلند کیا اور اس کی بلندی کا ایک اناز مقرر کیا۔ المیزان سے عدل و انصاف مراد ہے۔ عن مجاھد وقتادۃ والسدی ای وضع فی الارض العدل الذی امر بہ (قرطبی ج 17 ص 104) ۔ یعنی اس نے ھکم دیا ہے کہ ہر کام میں عدل و انصاف سے کام لو اس صورت میں عدل کا معیار قرآن ہوگا کیونکہ اس معاملے میں قرآن ہی میزان اور معیار ہوسکتا ہے علی ھذا المیزان القران لان فیہ بیان ما یحتاج الیہ وھو قول الحسین بن الفضل (قرطبی) اس صورت میں ان آیتوں کا حاصل یہ ہوگا کہ دنیا میں قرآن میزانِ عدل ہے ہر بات کو اس کی روشنی میں جانچو اور اس میزان کو نظر انداز نہ کرو اور اس میزان کے فیصلے سے تجاوز نہ کرو۔ واقیموا الوزن۔ الایۃ، ہر چیز کو نیک نیتی سے اس میزان پر ٹھیک ٹھیک تولو اور اس میں کمی نہ کرو۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ” المیزان “ سے مراد عقل ہے اور یہ ایک تمثیل ہے۔ انسان تولنے میں تین طریقوں سے نقصان کرتا ہے۔ اول یہ کہ میزان یعنی تروازو ہی میں کوئی نقص ڈالتا ہے۔ دوم یہ کہ ترازو تو درست ہوتا ہے لیکن ہاتھ سے ترازو کا یک طرف جھکا دیتا ہے۔ سوم یہ کہ ہاتھ سے جھٹکا بھی نہیں دیتا لیکن کسی اور تدبیر سے کم تولتا ہے، یہاں ان تینوں طریقوں سے منع فرمایا۔ حاصل تمثیل یہ ہے کہ جس طرح ترازو اس لیے ہے کہ اس سے ہر چیز کو عدل و انصاف سے تولا جائے اسی طرح عقل و انصاف کے تروازو سے ان تمام امور کو تولو اور فیصلہ کرو جس ذات پاک کے صفات و افعال وہ ہو جو یہاں مذکور ہیں کیا اس کے سوا کوئی اور برکات دہندہ ہوسکتا ہے۔
Ayahs 55:10–12

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور زمین کو5 بچھایا واسطے خلق کے

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں میوہ ہے اور کھجوریں جن کے میوہ پر غلاف

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور اس میں اناج ہے جس کے ساتھ بھس ہے اور پھول خوشبودار

5:۔ ” والارض وضعہا “ سفلیات کا ذکر۔ اور اللہ نے زمین کو لوگوں کے لیے پیدا کر کے رکھدیا ہے تاکہ وہ اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھائیں۔ جس میں ہر قسم کے پھل اور میوے پیدا ہوتے ہیں۔ خصوصاً کھجور کے درخت جس کے بھاری بھرکم گچھے آویزاں ہیں۔ ” والحب ذوالعصف “ اور ہر قسم کے غلے پیدا ہوتے ہیں جن کے باقی اجزاء بھوسے کی شکل میں مویشیوں کے چارے میں کار آمد ہیں۔ ” والریحان “ غذائی اجناس اور میووں کے علاوہ زمین میں خوشبودار پودے بھی ہوتے ہیں جن کی خوشبو دل و دماغ کو معطر اور تازہ کردیتی ہے۔ ھول کمل مشموم طیب الریح من النبات (روح ج 27 ص 103) ۔
Ayah 55:13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

پھر کیا کیا نعمتیں6 رب اپنے کی جھٹلاؤ گے تم دونوں

ٖ 6:۔ ” فبای اٰلآء۔ الایۃ “ یہ اس سورت میں بار بار آئی ہے اور اس میں جنوں اور انسانوں سے خطاب ہے، ہر نعمت کے ذکر کے بعد اس آیت کو دہرا کر جن و انس کو متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ ساری نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں اور تم کونسی نعمت کا انکار کرسکتے ہو کہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں۔ حاصل یہ ہے کہ ہر نعمت اسی کی طرف سے ہے لہذا وہی برکات دہندہ ہے اور اس کے نام میں برکت ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة الرحمن صحابہ کو پڑھ کر سنائی تو وہ خاموش رہے۔ آپ نے فرمایا تم سے جنوں ہی نے اچھا جواب دیا جب میں ان پر یہ سورت پڑھی اور جب میں ” فبای اٰلاء ربکما تکذبان “ پر پہنچتا تو وہ ہر بار جواب دیتے ’ لا بشیئ من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد “ اے ہمارے پروردگار ! ہم تیری کسی بھی نعمت کا انکار نہیں کرتے تمام صفتیں تیرے ہی لیے ہیں۔ اس کے بعد صحابہ ؓ بھی اسی طرح جواب دینے لگے (ابن کثیر، روح) ۔
Ayahs 55:14–16

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

بنایا آدمی کو7 کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکرا

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور بنایا جن کو آگ کی لپیٹ سے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے تم دونوں

ٖف 7:۔ ” خلق الانسان “ یہ توحید کی چوتھی عقلی دلیل ہے۔ الانسان سے حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ” صلصال “ خشک مٹی جو بجانے سے آواز دے۔ ” الفخار “ ٹھیکری یعنی وہ مٹی جو آگ میں پکا لی گئی ہو۔ ” مارج “ آگ کا شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا اور ” جآن “ جنوں کے جد اعلیٰ کو آگ کے شعلے سے پیدا فرمایا۔ اے جن و انس ذرا سوچو تو سہی تمہاری تخلیق بھی اللہ کا تم پر انعام ہے تم اس کی کونسی نعمت کو نہیں مانو گے پھر یہ اس کی قدرت و صفت کا کمال ہے کہ مٹی اور آگ سے اس نے کس خوبی سے پیدا فرمایا یہ اس کی قدرت و وحدانیت کی دلیل ہے۔
Ayahs 55:17–18

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

مالک دو مشرق کا8 اور مالک دو مغرب کا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے

8:۔ ” رب المشرقین و رب المغربین “ یہ توحید کی پانچویں عقلی دلیل ہے دو مشرق اور دو مغرب سے، موسم سرما اور موسم گرما کے مشرق و مغرب مراد ہیں۔ سوج کو سال بھر کے دوران میں مختلف جگہوں سے نکالنا اور مختلف جگہوں میں غروب کرنا یہ بھی اللہ ہی کا کام ہے نیز اس سے چونکہ موسم بدلتے ہیں اس لیے یہ مشرق و مغرب کی تبدیلی میں انسانوں کے لیے بیشمار منافع ہیں اور یہ تبدیلی بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ساری برکتیں اور نعمتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔
Ayahs 55:19–23

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

چلائے دو دریاف 9 مل کر چلنے والے

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

ان دونوں میں ہے ایک پردہ جو ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

نکلتا ہے ان دونوں سے موتی اور مونگا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے

9:۔ ” مرج البحرین “ یہ توحید کی چھٹی دلیل ہے۔ مرج ای ارسل واجری، بہا دیا، جاری کردیا، دو دریا، میٹھا اور کھاری۔ اس کی قدرت کاملہ کا کرشمہ دیکھو کہ اس نے دو دریا ساتھ ساتھ چلائے ہیں جن کا پانی ساتھ ساتھ جا رہا ہے اور ان کے درمیان ظاہری طور پر کوئی حجاب حاجز بھی نہیں محض اللہ کی قدرت کا پردہ ہے جو ان کو آپس میں ملنے نہیں دیتا اور دونوں دریا اپنی حدوں سے نکل کر ایک دوسرے کی حد میں داخل نہیں ہوسکتے۔ ان دونوں سے ہر حجم میں چھوٹے اور بڑے سچے موتی نکلتے ہیں۔ ” اللؤلؤ “ بڑے موتی، ” المرجان “ چھوٹے موتی۔ اللؤؤ والمرجان کبار الدر وصغارہ (بیضاوی، ابن کثیر) ۔
Ayahs 55:24–25

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور اسی کے ہیں10 جہاز اونچے کھڑے دریا میں جیسے پہاڑ

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے

10:۔ ” ولہ الجوار۔ الایۃ “ یہ توحید کی ساتویں عقلی دلیل ہے۔ یہ کشتیاں اور پہاڑوں کی مانند اونچے اونچے بحری جہاز اللہ تعالیٰ ہی کے تصرف اور قبضہ اختیار میں ہیں وہی ان کو اپنی قدرت تامہ اور تدبیر صائب سے چلاتا اور منزل مقصود تک پہنچاتا ہے بتاؤ اللہ کی کونسی نعمت سے آنکھیں بند کرو گے، اسی قادر و مختار اور منعم و محسن کے نام میں برکت ہے۔
Ayahs 55:26–28

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو کوئی ہے زمین پر11 فنا ہونے والا ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور باقی رہے گا منہ تیرے رب کا بزرگی اور عظمت والا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے

ٖف 11:۔ ” کل من علیہا فان “ یہ توحید کی آٹھویں عقلی دلیل ہے۔ یہ ساری مخلوق آخر فنا ہوجائیگی صرف اللہ اپنی شان بےنیازی اور صفت فضل و انعام کے ساتھ باقی رہے گا۔ فسر بعض المحققین (الجلال) بالاستفناء المطلق و (الاکرام) بالفضل التام (روح ج 27 ص 109) ۔ جو فانی ہیں وہ کسی طرح بھی مستحق ربوبیت نہیں ہوسکتے، اس لیے صرف اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور برکات دہندہ ہے جو سب سے بےنیاز لیکن سب کا منعم و مربی ہے جس کی نعمتیں حدو حساب سے باہر ہیں۔
Ayahs 55:29–30

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

اس سے مانگتے ہیں12 جو کئی ہیں آسمانوں میں اور زمین میں ہر روز اس کو ایک دھندا ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے

ف 12:۔ ” یسئلہ۔ الایۃ “ یہ توحید کی نویں عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کی ساری مخلوق فرشتے، پیغمبر اولیاء اللہ، جن اور ان کے علاوہ سب اپنے وجود وبقاء میں اللہ کے محتاج ہیں اور ہر حاجت اسی سے مانگتے ہیں اور وہ ہر لمحہ کسی نہ کسی شان میں ہوتا ہے۔ ساری کائنات کا نظام اسی کے ہاتھ میں ہے اور یہ نظم و نسق مسلسل بلا انقطاع چل رہا ہے اس طرح ہر لمحہ بیشمار شئون و افعال اس کی ذات سے وابستہ ہیں۔ جس ذات بےچون و چگون کے سب محتاج وسائل ہیں اور جس کی بےپایاں نعمتوں کے بوجھ کے نیچے سب دبے پڑے ہیں وہی سب کا کارساز اور وہی برکات کا سرچشمہ ہے۔ یوم سے مراد مطلق وقت ہے۔ ای کل وقت وحین یحدث امورا ویجدد احوالا کما روی انہ (علیہ السلام) تلا ھا فقیل لہ وما ذلک الشان فقال من شانہ ان یغفر ذنبا ویفرج کر با ویرفع قوما ویضع آخرین (مدارک ج 4 ص 109) ۔
Ayahs 55:31–34

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

ہم جلد فارغ ہونے والے13 ہیں تمہاری طرف سے اے دو بھاری قافلو

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے گروہ جنوں کے اور انسانوں کے اگر تم سے ہو سکے کہ نکل بھاگو آسمانوں اور زمین کے کناروں سے تو نہیں نکل سکنے کے بدون سند کے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے

13:۔ ” سنفرغ لکم۔ الایۃ “ یہ تخویف کے لیے تمہید ہے۔ یہ ایک کام سے دوسرے کام میں مشغول ہونے سے کنایہ ہے اور یہاں اس سے محض تہدید مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک شغل دوسرے شغل سے مانع نہیں ہے۔ یعنی اے جن و انس میں عنقریب ہی تمہیں سزا دینے والا اور تم سے انتقام لینے والا ہوں۔ ” یمعشر الجن۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے اے جن وانس اگر تم میں یہ قدرت و استطاعت موجود ہے کہ تم موت سے اور میرے عذاب سے بچنے کے لیے زمین و آسمان کی سرحدوں کو پار کر کے کسی محفوظ مقام میں پہنچ جاؤ تو ذرا نکل کر دکھاؤ تو سہی، لیکن یادرکھو ! خدا کے مقابلے میں قوت و شوکت اور قہر و غلبہ کے بغیر تم کہیں نہیں جاسکتے مگر یہ قول و غلبہ تمہیں کہاں سے نصیب ہوگا اس لیے جہاں بھی جاؤ گے خدا کے ملک ہی میں رہو گے اور پکڑے جاؤ گے۔
Ayahs 55:35–36

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

چھوڑے جائیں14 تم پر شعلے آگ کے صاف، اور دھواں ملے ہوئے، پھر تم بدلہ نہیں لے سکتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے

14:۔ ” یرسل علیکما۔ الایۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ اے جن و انس کے منکرین، قیامت کے دن تم پر بھڑکتی آگ کے شعلے مسلط کیے جائیں گے اور تمہارے سروں پر پگھلا ہوا تانبہ ڈالا جائیگا اور تم کسی بھی حیلے سے اس المناک عذاب سے اپنے کو محفوظ نہیں رکھ سکو گے نہ کوئی تمہارا خود ساختہ سفارشی تمہاری کوئی مدد کرسکے گا۔ لامحالہ تمہیں یہ عذاب چکھنا ہی ہوگا۔ ای فلا تمتنعان من اللہ ولا یکون لکم ناصر (خازن ج 7 ص 7) ۔
Ayahs 55:37–38

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پھر جب پھٹ15 جائے آسمان تو ہوجائے گلابی جیسے نری (تیل کی تلچھٹ)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے

15:۔ ” فاذا نشقت۔ الایۃ “ وردۃ، گلاب کا پھول۔ الدھان، سرخ چمڑا۔ قیامت کے دن جب آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اس وقت وہ شدت حرارت سے گلاب کے پھول کی مانند بلکہ اس سے بھی زیادہ سرخ رنگ کے چمڑے کی طرح ہوجائیگا۔ ورۃ کالدھان دونوں کان کی خبریں ہیں۔ یا کالدھان، وردۃ کی صفت ہے۔ (روح) یہ ہولناک منظر قیامت بپا ہونے کے وقوت ہوگا۔