54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsجواھر القرآن

Ayah 54:1

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

پاس آ لگی2 قیامت اور پھٹ گیا چاند

ٖ 2:۔ ” اقتربت الساعۃ۔ تا۔ فما تغن النذر “ یہ تخویف اخروی کے لیے تمہید اور زجر مع شکوی ہے۔ یعنی جس طرح چاند دوٹکڑے ہوگیا اسی طرح تم بھی فنا ہوجاؤگے اور جس طرح چاند کے دونوں ٹکڑے دوبارہ مل گئے اسی طرح تم بھی دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے۔ ” انشق القمر “ سے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا معجزہ مراد ہے جو مشرکین مکہ کے مطالبے پر اللہ نے ظاہر فرمایا۔ جب مشرکین نے اس کا مطالبہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ ان کو یہ معجزہ دکھایا جائے شاید وہ ایمان لے آئیں چناچہ اللہ تعالیٰ چودہویں رات کے چاند کو دو ٹکڑے کرکے توحید و رسالت کی سچائی پر ایک نہایت ہی روشن اور واضح دلیل قائم فرما دی۔ انشق القمر وذلک علی عہد رسول اللہ ﷺ قبل الہجرۃ بنحو خمس سنین فقد صح من روایۃ الشیخین وابن جریر عن انس ان اھل مکۃ سالوہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ان یریہم ایۃ فاراھم القمر شقتین حتی راہ احراء بینہما (روح ج 27 ص 74) ۔ وکانت لیلۃ البدر، فسال رسول اللہ ﷺ ربہ ان یعطیہ ما قالوا فانشق القمر فرقتین (قرطبی ج 17 ص 127) ۔
Ayah 54:2

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور اگر وہ دیکھیں3 کوئی نشانی تو ٹلا جائیں اور کہیں یہ جادو ہے پہلے سے چلا آتا

3:۔ ” وان یروا۔ الایۃ “ مستمر، مضبوط اور پختہ یا چلتا ہوا۔ مستمر، قوی شدید یعلو کل سحر (مظہری ج 9 ص 135) ۔ ای مار ذاھب یزول ولایبقی (مدارک ج 4 ص 152) ۔ مشرکین کا عناد و تعنت اور ضد و حسد اس حد کو پہنچ چکا تھا کہ ایسا حیرت انگیز معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور اسے بہت مضبوط اور لاجواب جادو قرار دیا۔ ان کی تو عادت ہی یہی تھی کہ جب کوئی معجزہ دیکھتے اسے چلتا ہوا جادو قرار دیتے اور کہتے کہ یہ کوئی پائیدار چیز نہیں ابھی اس کا اثر زائل ہونے والا ہے۔
Ayah 54:3

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور جھٹلایا اور چلے4 اپنی خوشی پر اور ہر کام ٹھہرا رکھا ہے وقت پر

ٖف 4:۔ ” وکذبوا۔ الایۃ “ ان سرکشوں نے ایسے عظیم معجزے کو بھی جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے ہی دوڑے، لیکن ان کی تکذیب سے اللہ کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکا ہے کہ دین حق کو غالب اور اپنے پیغمبر ﷺ کے مشن کو کامیاب فرمائے اور دشمنان اسلام کو ذلیل و رسوا کرے اسی لیے اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ اپنے منتہا کو پہنچ کر رہے گا۔ ای وکل امر من الامور منتہ الی غایۃ لیستقر علیہا لا محالۃ ومن جمل تھا امر النبی ﷺ فسیصیر الی غایۃ یتبین عدنھا حقیقۃ وعلو شانہ (روح ج 27 ص 78) ۔
Ayahs 54:4–5

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور پہنچ چکے ہیں5 ان کے پاس احوال جن میں ڈانٹ ہوسکتی ہے

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

پوری عقل کی بات ہے پھر ان میں کام نہیں کرتے ڈر سنانے والے

5:۔ ” ولقد جاءھم “ مزدجر، رک جانے کا مقام اور جائے عبرت۔ ” حکمۃ بالغۃ یہ ما سے بدل ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ بدل من ما او علی ھو حکمۃ (مدارک ج 4 ص 103) ۔ یعنی ان معاندین کے پاس قرآن میں گذشتہ سرکش قوموں کے عبرتناک انجام کے اس قدرت واقعت آچکے ہیں کہ ان میں کافی سامانِ عبرت ہے اور جو شخص اخلاص کے ساتھ سرکشی اور عناد سے باز آنا چاہے اس کے لیے ان واقعات میں زجر و تہدید کا کافی مواد موجود ہے اور وہ سراپا حکمت و دانش ہے اور اس کی ہر بات حکمت زجر کی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ یعنی القران حکمۃ تامۃ قد بلغت الغایۃ فی الزجر (معالم و خازن ج 6 ص 274) ۔ ” فما تغن النذر “ مصدر ہے۔ بمعنی الانذار۔ یعنی جو لوگ ایسے عظیم معجزات دیکھتے اور قرآن ایسی حکمت سے لبریز کتاب سننے اور گذشتہ سرکش قوموں کا عبرتناک انجام جاننے کے باوجود ایمان نہیں لاتے اب ان کو تبلیغ وانذار سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ ” فتول عنہم “ یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلیہ ہے یعنی آپ نے تبلیغ و انذار کا حق ادا کردیا ہے اور مشرکین پر حجت خداوندی قائم فرما دی ہے اب مزید وعظ و نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اس لیے اب آپ ان سے اعراض کریں یعنی ای شیء تگنی النذر عمن کتب اللہ علیہ الشقاوۃ وکتم علی قلبہ (ابن کثیر ج 4 ص 263) ۔ فتول عنہم لعلمک ان الانذار یغنی فیہم (مدارک ج 4 ص 103) ۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” فاعرض عمن تولی عن ذکرنا “ (النجم رکوع 2) ۔
Ayahs 54:6–8

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

سو تو ہٹ آ ان کی طرف سے جس دن پکارے پکارنے والاف 6 ایک ناگوار چیز کی طرف

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

آنکھیں جھکائے نکل پڑے قبروں سے جیسے ٹڈی پھیلی ہوئی

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

دوڑتے جائیں اس پکارنے والے کے پاس کہتے جائیں منکر یہ دن مشکل آیا

6:۔ ” یوم یدع “ یہ تخویف اخروی ہے اور ظرف یخرجون متاخر کے ساتھ متعلق ہے۔ اور ” خشعا ابصارہم “ جملہ یخرجون کی ضمیر سے حال ہے۔ نکر، ایک دہشتناک چیز جس سے پہلے کبھی واسطہ نہ پڑا ہو قیامت کا ہول اور خوف وہراس مراد ہے (مدارک) اور داعی سے مراد حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہیں (روح) ۔ جس دن حضرت اسرائیل (علیہ السلام) صورت پھونکیں گے اور سب کو میدان حشر میں قیامت کے ہولناک اور دہشت انگیز منظر کی طرف بلائیں گے تو سب لوگ قبروں سے نکل آئیں گے، دہشت و خوف سے ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور وہ ٹڈی دل کی طرح زمین پر پھیلے ہوں گے اور بلانے والے کی طرف دوڑ رہے ہوں گے کفار و مشرکین اس وقت پکار اٹھیں گے کہ آج کا دن نہایت ہی دشوار اور کٹھن ہے کیونکہ انہیں اپنا انجام نظر آجائے گا۔ قیامت کا دن بلاشبہ کفار کے لیے نہایت شدید ہوگا لیکن مومنین اس دن کی شدت سے محفوظ ہوں گے اگرچہ منظر قیامت کی ہولناکی سے وقتی گھبراہٹ ان پر بھی طاری ہوجائیگی۔ وفیہ اشارۃ الی ان ذلک الیوم یوم شدید علی الکافرین لا علی المومنین (خازن ج 6 ص 274) ۔
Ayah 54:9

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ Open ayah 54:9 in the Quran reader

جھٹلا چکی ہے7 ان سے پہلے نوح کی قوم پھر جھوٹا کہا ہمارے بندہ کو اور بولے دیوانہ ہے اور جھڑک لیا اس کو

7:۔ کذبت قبلہم۔ یہ تخویف دنیوی کا پہلا نمونہ ہے۔ گذشتہ سرکش قوموں کا حال بیان کر کے معاندین قریش کو عبرت دلانا مقصود ہے۔ پہلی قوموں نے اپنے اپنے وقت کے پیغمبروں اور صحیفوں کو جھٹلایا آخر اسی جرم کی پاداش میں تباہ و برباد کردئیے گئے۔ مشرکین قریش کے پس اللہ کا آخری پیغمبر اور اس کی آخری کتاب آچکی ہے جس کا سمجھنا، ہم نے ان کے لیے آسان کردیا ہے۔ اگر وہ اپنی موجودہ روش عناد پر قائم رہے تو ان کا حشر بھی اقوام سابقہ کا سا ہوگا۔ کفار قریش سے پہلے قوم نوح ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرچکی ہے اور صرف تکذیب ہی نہیں کی بلکہ ازاراہ عناد و سرکشی ان کو تحقیر و استہزاء کا نشانہ بھی بنایا اور ان کی شان میں گستاخیاں بھی کیں انہیں دیوانہ بتایا کیونکہ وہ سینکڑوں برس سے صرف ایک ہی بات (اللہ کی توحید) کی رٹ لگا رہا ہے اس کی عقل ٹھکانے نہیں رہی، معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے جن معبودوں کی مخالفت کرتا ہے انہوں نے ناراض ہو کر اس کی عقل و فہم سلب کرلی ہے۔ عیاذا باللہ تعالی۔ جس طرح قوم عاد کے طاغیوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) سے کہا تھا۔ ان نقول الا اعتراک بعض الھتنا بسوء (ہود رکوع 5) ۔ قال مجاھد وازدجر استطیر جنونا (ابن کثیر، بحر) ۔
Ayahs 54:10–12

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ Open ayah 54:10 in the Quran reader

پھر پکارا اپنے رب کو8 کہ میں عاجز ہوگیا ہوں تو بدلہ لے

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ Open ayah 54:11 in the Quran reader

پھر ہم نے کھول دئیے دہانے آسمان کے پانی ٹوٹ کر برسنے والے سے

وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ Open ayah 54:12 in the Quran reader

اور بہا دئیے زمین سے چشمے پھر مل گیا سب پانی ایک کام پر جو ٹھہر چکا تھا

8:۔ ” فدعا ربہ “ جب نوح (علیہ السلام) اپنی قوم سے مایوس ہوگئے تو اللہ سے دعا کی کہ میں ان کے عناد و تعنت کی وجہ سے مغلوب ہوچکا ہوں اور اب وہ ایمان نہیں لائیں گے، اس لیے اب ان کو ہلاک کردے اور ان سے انتقام لے لے، کیونکہ میں تو ان سے انتقام نہیں لے سکتے۔ ففتحنا ابواب السماء الخ تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دئیے اور پرنالوں کی طرح آسمان سے پانی بہنے لگا۔ آسمان کے دروازے کھولنا کثرت بارش سے کنایہ ہے۔ اور زمین سے پانی کے چشمے جاری کردئیے۔ فالتقی الماء الخ۔ زمین و آسمان کا پانی مل کر اس اندازے کو پہنچ گیا جو اللہ نے مقرر فرمایا تھا یعنی پانی کی سطح اس قدر بلند ہوگئی جتنی اللہ کو منظور تھ۔ یا علی تعلیلیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان کا پانی اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے مل گیا جو اللہ نے پہلے سے مقدر کر رکھا تھا یعنی قوم نوح (علیہ السلام) کی ہلاکت اور تباہی۔ او علی امر قدرہ اللہ تعالیٰ وکتبہ فی اللوح المحفوظ وھو ھلاک قوم نوح بالطوفان و (علی) علیہ للتعلیل (روح ج 27 ص 82) ۔
Ayahs 54:13–14

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ Open ayah 54:13 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو سوار کردیا9 ایک تختوں اور کیلوں والی پر

تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ Open ayah 54:14 in the Quran reader

بہتی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے بدلہ لینے کو اس کی طرف سے جس کی قدر نہ جانی تھی

9:۔ ” وحملناہ “ دسر، دسار کی جمع ہے یعنی میخیں، تختوں اور میخوں والی سے مراد کشتی ہے جو لکڑی کے تختوں کو میخوں سے باہر جوڑ کر تیار کی گئی تھی۔ باعیننا ہماری آنکھوں کے سامنے یعنی ہماری حفاظت اور نگرانی میں (بیضاوی، مدارک) ۔ نوح اور اس کے ساتھ ایمان والوں کو ہم نے کشتی میں سوار کردیا جو ہماری حفاظت اور نگرانی میں چل رہی تھی، اس طرح ان کو طوفان سے محفوظ رکھا اور تمام مشرکین کو غرق کردیا یہ ہم نے ان سے اس شخص کا انتقام لیا جس کی انہوں نے ناشکری کی تھی۔ اس سے مراد نوح (علیہ السلام) ہیں، کیونکہ ہر پیغمبر اپنی قوم کے لیے اللہ کی نعمت ہوتا ہے جس کی قدر دانی یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے اور اسکی اطاعت کی جائے۔ ای فعلنا ذلک جزاء لنوح (علیہ السلام) فانہ کان نعمۃ انعمہا اللہ تعالیٰ علی قومہ فکفروھا وکذا کل نبی نعمۃ من اللہ تعالیٰ علی امتہ (روح ج 27 ص 83) ۔
Ayahs 54:15–17

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:15 in the Quran reader

اور اس کو ہم نے رہنے10 دیا نشانی کے لیے، پھر کوئی ہے سوچنے والا

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:16 in the Quran reader

پھر کیسا تھا میرا عذاب اور میرا کھڑ کھڑانا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:17 in the Quran reader

اور ہم نے آسان کردیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا

10:۔ ولقد ترکناھا ہم نے اس قصے کو عبرت و نصیحت کی ایک دلیل اور نشانی بنادیا، کیا ہے کوئی اس سے عبرت حاصل کرنے والا ؟ ” نذر “ مصدر ہے بمعنی انذار اور استفہام تعظیم و تعجیب کیلئے یعنی میرا ڈر اور میرا عذاب کس قدر ہولناک اور عبرت آموز ہے۔ ” ولقد یسرنا القران۔ الایۃ “ چاروں قصوں کے بعد یہ مذکور ہے گویا ہر قصہ کے بعد ولقد جاءھم من الانباء۔ الایۃ “ کا مضمون یاد دلایا اور متنبہ فرمایا کہ ہر قصہ اپنی جگہ عبرت آموزی میں کافی اور مستقل ہے ہم نے قرآن کو ان کی زبان میں نازل کرکے، اس میں دلائل، اخبار امم ماضیہ اور وعدہ ووعید ذکر کر کے پندو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے، کیا ہے کوئی جو اس سے نصیحت حاصل کرے اور اس کے انوار و برکات سے اپنا سینہ روشن کرلے ؟
Ayahs 54:18–22

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:18 in the Quran reader

جھٹلایا عاد نے11 پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا کھڑ کھڑانا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ Open ayah 54:19 in the Quran reader

ہم نے بھیجی ان پر ہوا تند ایک نحوست کے دن جو چلے گئی

تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ Open ayah 54:20 in the Quran reader

اکھاڑ مارا لوگوں کو گویا وہ جڑیں ہیں کھجور کی اکھڑی پڑی

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:21 in the Quran reader

پھر کیسا رہا میرا عذاب اور میرا کھڑ کھڑانا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:22 in the Quran reader

اور ہم نے آسان کردیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا

11:۔ ” کذبت عاد “ یہ تخویف دنیوی کا دوسرا نمونہ ہے۔ قوم عاد کا انجام بھی نہایت ہی عبرتناک ہے۔ ہم نے کس طرح پیغمبر بھیج کر ان کو ڈرایا۔ اور تکذیب و انکار پر پھر کس قدر ہولناک عذاب سے ان کو ہلاک کیا۔ صرصر، نہایت تند و تیز طوفان باد، یوم نحسن مستمر وہ دن اس قوم کے لیے دائمی بدبختی کا دن تھا کیونکہ اس دن سے لے کر قیامت تک عالم برزخ کے عذاب میں رہیں گے اور اس کے بعد عذاب جہنم میں ہمشیہ کیلئے داخل ہوں گے۔ مستمر، یوم کی صفت ہے یا نحس کی۔ نخل اسم جنس ہے اس لیے مذکر و مونث دونوں طرح مستعمل ہے باعتبار لفظ مذکر ہے جیسا کہ یہاں ہے ” نخل منقعر “ اور باعتبار معنی مونث ہے جیسا کہ سورة الحاقہ میں ہے ” کانہم اعجاز نخل خاویۃ “۔ منقعر، اکھڑا ہوا۔ ہم نے قوم عاد پر نہایت ہی تند و تیز طوفان ہوا کو مسلط کیا اور وہ دن ان کی دائمی بد بختی کا دن ثابت ہوا۔ ہوا کا طوفان ایسا تیز اور زور دار تھا کہ انسانوں کو زمین سے اٹھا اٹھا کر پھینک رہا تھا اور وہ کھجور کے اکھڑے ہوئے تنوں کی طرح ہوا میں اڑ اڑ کر گر رہے تھے۔ ” فکیف کان عذابی۔ تا فھل من مد کر “ ہمار اعذاب کیسا ہونلاک تھا، اس طرح ہم قرآن میں گذشتہ قوموں کے احوال بیان کرتے ہیں تاکہ کوئی ان سے عبرت حاصل کرے قرآن سے پند و نصیحت سیکھنا آسان ہے لیکن کوئی سیکھنے والا تو ہو۔
Ayahs 54:23–24

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:23 in the Quran reader

جھٹلایا ثمود نے ڈر سنانے والوں کو12

فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ Open ayah 54:24 in the Quran reader

پھر کہنے لگے کیا ایک آدمی ہم میں کا اکیلا ہم اس کے کہے پر چلیں گے تو ہم غلطی میں پڑے اور سودا میں

12:۔ ” کذبت ثمود “۔ یہ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ ہے۔ النذر نذیر کی جمع ہے تمام انبیاء (علیہم السلام) کا چونکہ پیغام ایک ہی ہے اس لیے ایک پیغمبر کی تکذیب گویا سب کی تکذیب ہے۔ فان تکذیب احدہم وھو صالح (علیہ السلام) ھنا تکذیب للکل لاتفاقہم علی اصول الشرائع (روح ج 27 ص 87) ۔ بشرا کا ناصب محذوف علی شریطۃ التفسیر ہے (مدارک، روح) سُعُر، جنون اور دیوانگی (قرطبی) ۔ قوم ثمود کے سرکش اور مغرور سرداروں نے کہا کیا ہم اپنی قوم کے ایک بشر کو پیغامبر مان لیں اور اس کے حکمبردار بن جائیں ؟ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارا یہ فعل سراسر غلط ہوگا اور یہ کھلی دیوانگی ہوگی کہ ہم ایک بشر کے پیروکار اور فرمانبردار بن جائیں، کیونکہ اس میں ہماری صریح توہین وتذلیل ہے اور یہ سب سے بڑا خسارہ ہے۔ یقولون لقد خبنا وخسرنا ان سلمنا کلنا قیادنا لواحد منا (ابن کثیر ج 4 ص 265) ۔
Ayahs 54:25–26

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ Open ayah 54:25 in the Quran reader

کیا اتری13 اسی پر نصیحت ہم سب میں سے کوئی نہیں یہ جھوٹا ہے بڑائی مارتا ہے

سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ Open ayah 54:26 in the Quran reader

اب جان لیں گے کل کو کون ہے جھوٹا بڑائی مارنے والا

ٖف 13:۔” ء القی الذکر “ اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کیا یہ صالح ہی رہ گیا تھا کہ اس پر وحی بھیجی جاتی حالانکہ ہم میں بہت سے بڑے لوگ موجود ہیں جو صالح (علیہ السلام) کے مقابلے میں مہبط وحی بننے کے زیادہ مستحق ہیں اس لیے وہ العیاذ باللہ۔ غلط بیانی کر رہا ہے اور ہم پر بڑائی چاہتا ہے۔ وہ کند ذہن دنیوی دولت اور شان و شوکت کو استحقاق نبوت کی دلیل سمجھتے تھے ” سیعلمون غدا۔ الایۃ “ اس سے پہلے قیل مقدر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے فرمایا، کل جب ان پر عذاب آئیگا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کذاب اور متکبر کون ہے۔ حکایۃ لما قالہ سبحانہ وتعالیی لصالح (علیہ السلام) وعدا لہ ووعیدہ لقومہ (روح ج 27 ص 88) ۔
Ayahs 54:27–30

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ Open ayah 54:27 in the Quran reader

ہم بھیجتے ہیں14 اونٹنی ان کے جانچنے کے واسطے سو انتظار کر ان کا اور سہتارہ

وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ Open ayah 54:28 in the Quran reader

اور سنا دے ان کو کہ پانی کا بانٹا ہے ان میں ہر باری پر پہنچنا چاہیے

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ Open ayah 54:29 in the Quran reader

پھر پکارا انہوں نے اپنے رفیق کو پھر ہاتھ چلایا اور کاٹ ڈالا

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:30 in the Quran reader

پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا کھڑ کھڑانا

14:۔ ” انا مرسلوا الناقۃ “ ہم اونٹنی کو ان کے ابتلاء و امتحان کے لیے بھیجنے والے ہیں، آپ انتظار کریں اور ان کی ایذاؤں پر صبر کریں اور دیکھیں وہ اونٹنی سے کیا سلوک کرتے ہیں۔ ” ونبئہم ان الماء۔ الایۃ “ ، ” شرب “ پانی کا حصہ یا پانی پینے کی باری۔ اور آپ ان کو مطلع کردیں کہ کنوئیں کے پانی پر اب باری مقرر ہوگی اور ہر فریق اپنی نوبت میں حاضر ہو کر پانی حاصل کرے گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیے گی اور اس کی باری کے دن تم لوگ اپنے مویشیوں کو پانی نہیں پلاؤ گے اور تمہاری نوبت کے دن میں اونٹنی پانی نہیں پیے گی۔ ” فنادوا صاحبہم۔ الایۃ “ لیکن زیادہ عرصہ تک وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور اونٹنی کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا اور ایک جوان کو بلا کر اس کام پر آمادہ کیا چناچہ اس نے اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ کر اس کو قتل کردیا۔ فتعاطی فاجترا علی تعاطی الامر العظیم غیر مکترث او فتعاطی الناقۃ فعقرھا او فتعاطی السیف (مدارک ج 4 ص 100) ۔ فکیف کان عذابی ونذر۔
Ayahs 54:31–32

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ Open ayah 54:31 in the Quran reader

ہم نے بھیجی ان پر15 ایک چنگھاڑ پھر رہ گئے جیسے روندی ہوئی باڑ کانٹوں کی

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ Open ayah 54:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسان کردیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا

15:۔ ” انا ارسلنا علیہم۔ الایۃ “ ہم نے ان پر ایک دلدوز چیخ بھیجی جس سے وہ روندے ہوئے خشک چارے کی مانند چورہ چورہ ہوگئے۔ ” ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر “۔
Ayahs 54:33–36

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ Open ayah 54:33 in the Quran reader

جھٹلایا لوط کی قوم نے16 ڈر سنانے والوں کو

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ Open ayah 54:34 in the Quran reader

ہم نے بھیجی ان پر آندھی پتھر برسانے والی سوائے لوط کے گھر کے، ان کو ہم نے بچا دیا پچھلی رات سے،

نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ Open ayah 54:35 in the Quran reader

فضل سے اپنی طرف کے ہم یوں بدلہ دیتے ہیں اس کو جو حق مانے

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ Open ayah 54:36 in the Quran reader

اور وہ ڈرا چکا تھا ان کو ہماری پکڑ سے پھر لگے مکرانے ڈرانے کو

16:۔ ” کذبت قوم لوط “ یہ تخویف دنیوی کا چوتھا نمونہ ہے۔ ” حاصب “ پتھر جو قوم لوط کی بستیوں پر برسائے گئے۔ قوم لوط (علیہ السلام) نے بھی انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی تو ہم نے ان کی بستیوں کو الٹ کر ان پر پتھروں کی بارش کی اور اس سے پہلے صبح صبح ہی لوط (علیہ السلام) اور مؤمنوں کو بستی سے نکل جانے کا حکم دے کر ان کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ یہ ان پر ہمارا انعام و احسان تھا، کیونکہ وہ ہمارے شکر گزار بندے تھے اور شکر کرنے والوں کو ہم ایسی جزاء دیا کرتے ہیں۔ ” ولقد انذرھم۔ الایۃ “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا۔ لیکن انہوں نے ان کے انذار کو جھٹلایا اور اس میں شک کیا اور اس پر یقین نہ لائے۔ ای شکوا فیما انذرھم بہ الرسول ولم یصدقوہ (قرطبی ج 17 ص 144) ۔
Ayahs 54:37–40

وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:37 in the Quran reader

اور اس سے لینے لگے اس کے مہمانوں کو17 پس ہم نے مٹا دیں ان کی آنکھیں اب چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ Open ayah 54:38 in the Quran reader

اور پڑا ان پر صبح کو سویرے عذاب جو ٹھہر چکا تھا

فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ Open ayah 54:39 in the Quran reader

اب چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ Open ayah 54:40 in the Quran reader

اور ہم نے آسان کردیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا

17:۔ ” ولقد راودوہ۔ الایۃ “ جب حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس خوبصورت نوجوانوں کی شکلوں میں فرشتے آئے تو قوم لوط کے بدکردار لوگوں نے ان مہمانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی خاطر حضرت لوط (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا وہ ان کے کام میں حائل نہ ہوں اور اپنے مہمانوں کی ان سے حفاظت نہ کریں جب وہ بری نیت سے ان کے گھر میں گھس آئے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے ان پر اپنا بازو مارا جس سے وہ سب اندھے ہوگئے اور ہم نے فرمایا ابھی وہ عذاب تمہیں چکھنا ہے جس سے لوط (علیہ السلام) تمہیں ڈراتے تھے۔ ” ولقد صبحہم۔ الایۃ “ چناچہ علی الصباح ان پر وہ عذاب آپہنچا اور ان کو ختم کر کے چھوڑا۔ ” فذوقوا عذابی ونذر “ اب اس عذاب کا مزہ چکھو جس سے لوط (علیہ السلام) تمہیں ڈرایا کرتے تھے۔ ای ما انذرتکم بہ علی لسان لوط من العذاب (مظہری ج 9 ص 141) ۔ ” ولقد یسرنا “۔ الایۃ۔ ہم نے قرآن کو پند و نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت سیکھے ؟