Ayahs 53:1–22:۔ ” والنجم۔ تا۔ الکبری “ یہ تمہید ہے برائے اثبات و صداقت رسول اللہ ﷺ ۔ ” ما ضل “ جواب قسم ہے۔ ” ضلال “ یعنی راستہ نہ ملنا اور ” غوایۃ “ راستہ ملنے کے بعد بھٹک جانا۔ الضلال ضد الھدایۃ والھی ضد الرشد یعنی ھو مھتد راشد (مظہری ج 9 ص 104) ۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ نیچے گرتا ہے یعنی غروب ہوتا ہے۔ محمد ﷺ غلط راہ پر نہیں ہیں، بلکہ راہ راست پر قائم ہیں۔ یعنی ستارے کا نیچے آنا شاہد ہے کہ نبی کریم ﷺ پر آسمان سے فرشتہ اترتا اور وحی لاتا ہے اور آپ کا یہ فرمانا کہ مجھ پر وحی آتی ہے غلط نہیں اور نہ بعید از قیاس ہے۔
Ayahs 53:3–43:۔ ” وما ینطق۔ الایۃ “ اللہ کی طرف سے آپ جو قرآن پیش کرتے ہیں وہ اپنی رائے اور خواہش سے بنا کر نہیں لاتے، بلکہ اللہ کی طرف سے آپ پر اس کی باقاعدہ وحی ہوتی ہے۔ ای ما یصدر نطقہ فما اتاکم بہ من جھتہ عز وجل کالقران او من القران عن ھوی نفسہ ورایہ اصلا (روح ج 17 ص 46) ۔ ” ان ھو۔ الایۃ “ ھو سے مراد قرآن ہے یعنی یہ قرآن وھی ہے جو اللہ کی طرف سے آپ کے پاس بھیجی جاتی ہے۔ (بیضاوی، روح، وغیرہما) ۔
Ayahs 53:5–64:۔ ” علمہ شدید القوی “ شدید القوی مضبوط قوتوں والا، مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں جن کی قوتوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے قوم لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو اٹھا کر بلندی سے الٹا کر پھینک دیا اور ملا اعلی سے زمین تک کا سفر آنکھ جھپکنے میں طے کرلیتے تھے۔ اور ان کی دلدوز چیخ سے قوم ثمود کے جگر پھٹ گئے (قرطبی) ۔ ” ذو مرۃ “ عقل و فہم میں کامل یا حسین و جمیل اور خوش منظر و طویل القامۃ ذومنظر حسن (مدارک ج 4 ص 147) ۔ ذو ھیئۃ حسنۃ قیل ھو جسم طویل حسن (بحر ج 8 ص 157) ۔ ذو مرۃ حصافۃ فی عقلہ ورایہ (بیضاوی) ۔ حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن آپ نے اپنے پاس سے نہیں بنایا ہے۔ بلکہ جبریل (علیہ السلام) نے ایسے شدید و قوی عقیل وفہیم اور حسین و جمیل فرشتہ نے اللہ کی طرف سے آپ پر اتارا ہے۔
Ayahs 53:7–95:۔ ” فاستوی “ یہ غار حراء کے پاس پیش آنے والے واقعہ کی طرف اشارہ ہے ” الافق الاعلی “ آسمان کا وہ حصہ جو دور سے زمین کے ساتھ ملا ہوا نظر آتا ہے۔ ” قاب “ وہ فاصلہ جو کمان کے وسط سے وتر تک ہوتا ہے اس طرح ہر کمان میں صرف ایک قاب ہوا۔ اس لیے ترکیب میں قلب ماننے کی ضرورت نہیں جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں قابی قوس تھا۔ عن مجاھد و الحسن ان قاب القوس ما بین وترھا و مقبحہا، ولا حاجۃ الی القلب (روح ج 27 ص 48) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں یہ اصل میں ” قاب قوس “ تھا پھر اس کو تثنیہ کیا گیا اور جب مرکب کا تثنیہ بنایا جائے تو علامت تثنیہ کبھی صرف ایک حرف کے ساتھ اور کبھی دونوں جزؤوں کے ساتھ لگائی جاتی ہے یہاں علامت تثنیہ دوسرے جزء کے ساتھ لگائی جاتی ہے یہاں علامت تثنیہ دوسرے جزء کے ساتھ لگائی گئی ہے (رضی) ۔ اس طرح اس کا اصل ” قابی قوسین “ ماننے کی ضرورت نہیں اہل عرب کا طریقہ تھا کہ جب دو آدمی آپس میں دوستی اور بھائی چارہ بناتے تو اپنی اپنی کمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیتے اس طرح کہ ایک کا قاب دوسرے کے قاب پر منطبق ہوجاتا اور پھر ان کو جدا کرکے ان سے ایک ایک تیر چلاتے جس سے ان کا مقصد یہ ہوتا کہ آج وہ دونوں بھابی ہیں اور ایک کی رضا دوسرے کی رضا ہے اور ایک کی ناراضی دوسرے کی ناراضی ہے۔ (روح) ۔ ” او “ بمعنی ” بل “ ہے (مدارک، روح) ۔ یعنی جبریل (علیہ السلام) اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں افق آسمانی پر سیدھے کھڑے ہوئے نمودار ہوئے۔ آنحضرت ﷺ نے جب ان کو دیکھا تو بےہوش ہوگئے۔ جبریل (علیہ السلام) نے انسانی شکل میں آگے بڑھے اور آپ کے قریب سے قریب تر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ دو کمانوں کی مقدار، بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہوگئے اور آپ کو سینے سے لگا کر دبایا جب آپ ہوش میں آئے تو فرمایا اے جبریل ! میرے تو خیال میں بھی نہیں تھا کہ اللہ کی کوئی مخلوق ایسی شکل و صورت پر بھی ہے۔ یہ پہلی وحی کے بعد کا واقعہ ہے۔ وکانت ھذہ الرویۃ الاولی فی اوائل البعثۃ بعد ماجاءہ جبریل (علیہ السلام) اول مرۃ فاوحی اللہ الیہ صدر سورة (اقرا) ثم فتر الوحی۔ حتی تبدی لہ جبریل ور سول اللہ ﷺ بالابطح فی صورتہ التی خلقہ اللہ علیہا (ابن کثیر ج 4 ص 248) ۔ آنحضرت ﷺ نے جبریل (علیہ السلام) کو اپنی زندگی میں دو بار اس کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک بار زمین میں جس کا زیر تفسیر آیتوں میں ذکر ہے اور ایک بار آسمان میں جس کا ذکر آگے ” ولقد راہ نزلۃ اخری “ میں آرہا ہے آپ کے علاوہ کسی پیغمبر نے جبریل (علیہ السلام) کو اصلی صورت میں نہیں دیکھا۔ قیل ما راٰہ احد من الانبیاء فی صورتہ غیر محمد علیہ الصلوۃ والسالم مرتین، مرۃ فی السماء و مرۃ فی الارض (بیضاوی) ۔
Ayahs 53:10–126:۔ ” فاوحی “ اوحی کا فاعل جبریل (علیہ السلام) ہے۔ ” عبدہ “ کی ضمیر مجرور ذات باری تعالیٰ سے کنایہ ہے (فاوحی) جبریل (علیہ السلام) (الی عبدہ) الی عبداللہ (مدارک ج 4 ص 148) ۔ جبریل نے اللہ کے عظیم الشان اور جلیل القدر بندے کو وحی پہنچائی۔ وحی کا ابہام تفخیم وتعظیم کے لیے (روح، قرطبی) ۔ ” ماکذب الفؤاد۔ الایۃ “ آپ نے اپنی آنکھوں سے جس چیز کا مشاہدہ کی آپ کے دل نے اسے پہچان لیا کہ یہ جبریل امین ہے آپ کے دل نے یہ نہیں کہا کہ میں نے اس کو پہچانا نہیں۔ حاصل یہ ہے کہ آپ نے جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں پورے یقین اور وثوق سے دیکھا ہے۔ اور اس بارے میں آپ کے دل میں کوئی شک و شبہ واقع نہیں ہوا۔ یعنی انہ راہ بعینہ وعرفہ بقلبہ ولم یشک فی ان ماراہ حق (مدارک) ۔ ” افتمارونہ۔ الایۃ “ اس میں خطاب مشرکین سے ہے جو کہتے تھے کہ یہ سب خواب و خیال ہے بیدار میں اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ ” تمارونہ “ مراء، سے ہے ای تجادلونہ (روح) ۔ یعنی جس چیز کا محمد ﷺ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرچکے ہیں کیا اس چیز کے بارے میں تم اس سے جھگڑتے اور بحث کرتے ہو ؟ کوئی مشکوک اور مشتبہ بات ہوتی تو بحث وجدال کی کوئی گنجائش بھی تھی لیکن یہ ایک مشاہدہ تھا جو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا تھا۔
Ayahs 53:13–177:۔ ” ولقد راہ “ یہ جبریل (علیہ السلام) کو دوسری بار اصلی صورت میں دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ شب معراج میں پیش آیا۔ عند اور اذ ظروف رای سے متعقلق ہیں۔ ” سدرۃ المنتہی “ بیری کے مانند ساتویں آسمان پر ایک درخت ہے جس کا پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہے۔ اسی کے قریب جبریل (علیہ السلام) کا مقام ہے اور یہی اس کے پرواز کی منتہا ہے۔ مایغشی سے اللہ کا نور اور فرشتے مراد ہیں۔ اس پر اس قدرت فرشتے تھے کہ دخت ان میں چھپ گیا تھا۔ غشیہا نور الرب او الملائکۃ تقع علیہا کما یقع الغربان علی الشجرۃ (قرطبی ج 17 ص 96) ۔ رسول اللہ ﷺ نے جبریل امین کو اس کی اصلی صورت میں صرف زمین پر ایک ہی بار نہیں دیکھا بلکہ دوسری بار آسمان میں سدرۃ المنتہی کے پاس بھی اس کو اصلی صورت میں دیکھا ہے، وہاں سدرۃ المنتہی کے پاس ہی جنۃ الماوی بھی ہے جو متقین کا مقام ہے۔ اس وقت سدرۃ المنتہی نور ربی اور بجلی الٰہی سے جگمگا رہا تھا اور اس پر فرشتوں کا اس قدر جھرمٹ تھا کہ درخت ان کے نیچے چھپ گیا تھا وہاں بھی آپ نے جبریل کو صاف صاف دیکھا اس کے دیکھنے میں آپ کی نگاہ نہ ادھر ادھر ہٹی اور نہ اس سے آگے بڑھ کر کسی دوسری چیز کی طرف اٹھی۔ گویا یہاں بھی آپ نے جبریل (علیہ السلام) کو پورے یقین و وثوق سے دیکھا۔ قال ابن عباس ای ما اعدل یمینا ولا شمالا ولا تجاوز الھد الذی رای (ابن کثیر، قرطبی) ۔ ای اثبت ما راہ اثباتا مستیقنا صحیحا من غیر ان یزیغ بصرہ او یتجاوزہ (کشاف) ۔
Ayah 53:188:َ ” لقد رای۔ الایۃ “ اس کے علاوہ بھی آپ نے بہت سے قدرت کے بڑے بڑے اور عظیم الشان نشانات کا مشاہدہ کیا۔ ان تمام باتوں سے معلوم ہوا کہ آپ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں، کیونکہ یہ مشاہدات صرف ایک پیغمبر ہی کو نصیب ہوسکتے ہیں اور غیر پیغمبر تو ان کی تاب ہی نہیں لاسکتا اور جبریل امین آپ پر اللہ کی طرف سے وحی لاتے ہیں، اس لیے آپ کی رسالت پر ایمان لاؤ اور اللہ کی وحی کو مانو اور اس پر عمل کرو۔
Ayahs 53:19–209:۔ ” افرایتم “ تمہید کے بعد سورت کے پہلے دعوے کا ذکر ہے یعنی حاجات و مصائب میں ان خود ساختہ معبودوں کو غائبانہ مت پکارو۔ جب ثابت ہوگیا کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ پر وحی آتی ہے تو اس وحی ربانی کو مانو جو یہ کہتی ہے کہ مصائب و حاجات میں معبودانِ باطلہ کو مت پکارو۔ اللات، اس میں دو قراءتیں ہیں۔ اول بتخفیف تاء۔ دوم، بتشدید تاء، پہلی صورت میں یہ ” لوی “ سے مشتق ہے جس کے معنی لپٹنے اور گھومنے کے ہیں۔ مشرکین اس بات کے پاس عبادت کے لیے اعتکاف کرتے اور اس کا طواف کرتے تھے اس لیے وہ اس نام سے موسم کیا گیا۔ والاصل لویۃ بزنۃ فعلۃ من لوی لانھم کانوا یلوون علیہ و یعتکفون للعبادۃ، او یلتون علیہ ای یطوفون مخفف بحذف الیاء وبدالت واوہ الفا، وعوض عوض عن لالیاء تاء فصارت کتاء اخت وبنت (روح ج 27 ص 55) ۔ دوسری قراءت کے مطابق یہ لَتَّ یَلُتُّ کا اسم فاعل ہوگا اور اس کے معنی ہوں گے گھولنے والا۔ عرب میں ایک آدمی تھا حج کے موسم میں حاجیوں کو گھی میں ستو ملا کر کھلاتا تھا اور اللات اس لیے لوگ اس کو اچھا سمجھتے تھے جب وہ فوت ہوگیا تو اس کی شکل کا بت بنا کر اس کی پوجا پاٹ شروع کردی اور اسے پکارنے لگے۔ اللات بالتشدید علی انہ سمی بہ لانہ صورۃ رجل کان یلت السویق بالسمن ویطعم الحاج (بیضاوی) ۔ ” العزی “ یہ ایک شیطانہ (مادہ جن) تھی جو وادی نخلہ میں واقع کی کر کے تین درختوں میں رہتی تھی، وہاں مشرکین نے ایک عبادت گاہ بھی بنا رکھی تھی اور عزی کے نام پر کئی بت بھی تراش کر مختلف جگہوں میں رکھ لیے تھے۔ مشرکین جب وادی نخلہ میں عزی کی عبادت گاہ میں اس کی عبادت اور پکار کے لیے آتے تو وہ شیطانہ ان سے باتیں بھی کرتی تھی۔ وکانت بوادی نخلۃ الشامیۃ فوق ذات عرق فبنوا علیہا بیتا وکانوا یسمعون منہا الصوت۔ عن ابن عباس کانت العزی شیطانۃ تاتی ثلاث سمرات ببطن نخلۃ (قرطبی ج 17 ص 99) ۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید کو حکم دیا کہ وہ ان تینوں درختوں کو کاٹ ڈالیں چناچہ جب وہ دو درختوں کو کاٹ کر تیسرے کو کاٹنے لگے تو اس سے ایک ڈائن نمودار ہوئی جس کے بال پراگندہ تھے اور واویلا کرنے لگی۔ حضرت خالد بن ولید نے اسے قتل کردیا۔ (روح، خازن، قرطبی) ۔ ” مناۃ “ یہ ایک بت تھا جس کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع تھا۔ مشرکین اس کی قربان گاہ پر اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے قربانیاں دیتے اور اس کی برکت سے بارش طلب کرتے تھے۔ کانوا یریقون عندہ الدماء یتقربون بذلک الیہ (قرطبی ج 17 ص 101) ۔ ایک قراءت میں مناءۃ ہے۔ ومناءۃ مکی مفعلۃ من النوء کانہم کانوا یستمطرون عندھا الانواء تبرکا بھا (مدارک ج 4 ص 149) ۔ ” افرایتم “ بمعنی اخبرونی ہے یعنی مجھے بتاؤ تو سہی یہ لات و عزی اور منات جن کو تم پکارتے ہو کیا وہ تمہارے نفع نقصان کا اختیار کر کھتے ہیں ؟ کیا وہ قادر و متصرف ہیں ؟ کہ تم نے ان کو عبادت اور پکار میں خدا کا شریک بنا رکھا ہے۔ افرایتم ھذہ الالہۃ ھل نفعت او ضرت حتی کون شرکاء للہ (قرطبی ج 17 ص 102) ۔ اخبرونی عن الھتکم ھل لہا شیء من القدرۃ والعظمۃ التی وصف بہا رب العزۃ فی الای السابقۃ وقیل المعنی اظننتم ان ھذہ الاصنام التی تعبدونہا تنفعکم (روح ج 27 ص 56) ۔ استفہام انکاری ہے یعنی وہ نہ قادر و متصرف ہیں نہ نفع و نقصان کے مختار، اس لیے مصائب و حاجات میں ان کو مت پکارو۔
Ayahs 53:21–2210:۔ ” الکم الذکر “ یہ سورت کے دوسرے دعوے کا بیان ہے یعنی اللہ کی بارگاہ میں کوئی شفیع غالب نہیں۔ مشرکین اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے لیکن اس کے ساتھ ہی فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب ہیں جس طرح ایک باپ کو بیٹیاں محبوب ہوتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ فرشتوں کی سفارش کو ہرگز رد نہیں کرتا۔ فرمایا یہ تقسیم تو سراسر بےانصافی پر مبنی اور عدل و انصاف سے ہٹی ہوئی ہے، کیونکہ وہ جس چیز کو خود ناپسند کرتے ہیں اس کی نسبت خدا کی طرف کرنے میں کوئی باک محسوس نہ کرتے۔ اس لیے ان کا یہ کہنا غلط ہے اور بےانصافی پر مبنی ہے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں اور اس کی بارگاہ میں شفیع قاہر ہیں۔
Ayah 53:2311:۔ ” انھی “ یہ پہلے دعوے کا اعادہ ہے بطریق لف و نشر مرتب۔ یہ معبودانِ باطلہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اپنی خواہشات کے مطابق تجویز کر رکھے ہیں۔ ان کو معبود، کارساز، حاجت روا کہنا محض تمہارے الفاظ ہیں لیکن حقیقت میں وہ ان صفات سے سراسر عاری ہیں۔ وہ نہ معبود و کارساز ہیں، نہ شفیع و حاجت روا ان کو ان ناموں سے موسوم کرنا صریح گمراہی ہے۔ کیونکہ ان خود ساختہ معبودوں کے معبود ہونے پر اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ماجعل اللہ علی الوھیتہا واستحقاقہا للعبادۃ حجۃ (مظہری ج 9 ص 118)
12:۔ ” ان یتبعون “ خطاب سے غیبت کی طرف التفات ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سفہاء لائق خطاب ہی نہیں ہیں جیسا کہ بعد میں ارشاد ہے۔ ” فاعرض عن من تولی الخ “ ان معبودان باطلہ کو ان صفات سے پکارنے کے لیے مشرکین کے پاس کوئی دلیل نہیں وہ محض ظن وتخمین سے اور، باپ دادا کی دیکھا دیکھی اور خواہشاتِ نفس کی پیروی میں یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ ” ولقد جاءھم۔ الایۃ “ حالانکہ ان کے پاس اللہ کی طرف سے ہدایت آچکی ہے۔ اللہ کا پیغمبر ﷺ اور اللہ کی کتاب کے سامنے رشد و ہدایت کی روشنی کے مینار ہیں، مگر وہ ان سے روشنی حاصل کرنے کے بجائے اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑتے ہیں۔
Ayah 53:2413:۔ ” ام للانسان۔ الایۃ “ ” ام “ منقطعہ ہے اور استفہام انکار کے لیے ہے (بیضاوی) ۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ انسان جس چیز کی آرزو اور تمنا کرے وہ اسے مل جائے یا اس کی تمنا کے مطابق ہوجائے لہذا یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ مشرکین اپنی خواہشات سے لات و منات اور عزی وغیرہا کو معبود، کارساز، حاجت روا اور سفارشی بنا لیں تو ان کے بنانے سے وہ یہ سب کچھ بن جائیں اور ان کی یہ تمنا اور آرزو پوری ہوجائے کہ یہ معبود خدا کی بارگاہ میں ان کی سفارش کریں اور قرب خداوندی کا وسیلہ بنیں۔ ای لیست الاشیاء والشھوات تحصل بالامانی بل اللہ الامر وقولکم ان الہتکم تشفع و تقرب زلفی لیس لکم ذلک (بحر ج 8 ص 163) ۔ والمراد نفی ان یکون للکفرۃ ما کانوا یطمعون فیہ من شفاعۃ الالہۃ والظفر بالحسنی عند اللہ تعالیٰ یوم القیامۃ (روح ج 27 ص 58) ۔
Ayah 53:2514: ” فللہ الاخرۃ والاولی “ یہ ماقبل کی علت ہے یعنی دنیا اور آخرت کے تمام امور و معاملات اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص اور اسی کے ہاتھ میں ہیں اور وہی بلا شرکت غیرے ان میں متصرف و مختار ہے، تو پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ کے فیصلے کے خلاف ان کی یہ تمنا پوری ہو کہ ان کے خود ساختہ معبود خدا کی بارگاہ میں ان کی سفارش کریں گے۔
Ayah 53:2615:۔ ” وکم من ملک۔ الایۃ “ یہ سورت کے دوسرے دعوے کا اعادہ ہے۔ اللہ کے بیشمار فرشتے جو آسمانوں میں رہتے ہیں اور ہر وقت اللہ کی عبادت میں مصروف اور اس کی اطاعت پر کمر بستہ ہیں، اس قرب و تقدس کے باوجود وہ بھی اللہ کے اذن کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتے، اس لیے وہ بھی شفیع قاہر نہیں ہیں بلکہ اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔ فرشتے صرف ان لوگوں کی شفاعت کریں گے جن کی شفاعت اللہ کو پسند ہوگی اور وہ صرف اہل توحید ہیں جن سے گناہ سردزد ہوئے۔ مشرکین کے حق تو فرشتوں کو شفاعت کی اجازت ہی نہیں ملے گی۔ لمن یشاء ویرضی ای من اھل التوحید (معالم و خازن ج 6 ص 264) ۔
Ayahs 53:27–28ف 16: ” ان الذین “ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کی صفات سے متصف کرتے ہیں اور کہتے ہیں فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ عیاذاً باللہ۔ ان کا یہ دعوے سراسر بےدلیل اور ان کی جہالت و سفاہت پر مبنی ہے، وہ محض ایک خیال باطل اور وہم فاسد کے پیچھے دوڑ رہے ہیں جو انہوں نے اپنے مشرک باپ داد سے حاصل کیے ہیں۔ بھلا وہم و خیال سے بھی حقیقت ثابت ہوسکتی ہے ؟ حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے تو یقینی اور قطعی دلیلوں کی ضرورت ہے۔
Ayah 53:2917:۔ ” فاعرض۔ الایۃ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے اور مشرکین کے لیے زجر ہے۔ ” ذکر “ سے مراد قرآن ہے (روح) ۔ جو لوگ قرآنی تعلیمات سے اعراض کرتے ہیں، توحید و رسالت اور حشر و نشر کے منکر ہیں ان سے اعراض کریں آپ حق تبلیغ ادا کرچکے ہیں لیکن یہ لوگ محض ضدوعناد کی وجہ سے انکار و جحود پر تل گئے ہیں اور آخرت کے مقابلہ میں دنیوی زندگی ہی کو اصل زندگی سمجھتے ہیں۔ ان کا مبلغ علم ہی یہی ہے ان کی عقل و فہم کی رسائی بس یہیں تک ہے۔ ان کی نظریں دنیائے فانی کی چہل پہل، رونق و آرائش اور چند روزہ عیش و تنعم پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہیں اور عالم آخرت ان کی گناہوں سے اوجھل ہے ایسے لوگوں کو آپ جتنی تبلیغ کریں گے اس سے ان کے عناد و تعنت میں مزید اضافہ ہوگا، اس لیے آپ ان سے اعراض فرمائی۔
Ayah 53:3018:۔ ” ان ربک “ یہ جملہ معترضہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ سب کو اچھی طرح جانتا ہے جو لوگ گمراہی پر مصر ہیں اور ہدایت کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔ وہ ان کو بھی جانتا ہے اور وہ بھی اس کے علم میں جو ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ لوگ قبیل اول سے ہیں، اس لیے آپ ان کی خاطر اپنی جان نہ ماریں اور مشقت نہ اٹھائیں۔ ھو جل شانہ المبالغ فی العلم بمن لا یرعوی عن الضلال ابدا، وبمن یقبل الاھتداء فی الجملۃ لا غیرہ سبحانہ فلا تتعب نفسک فی دعوتہم ولا تبالغ فی الحرص علیہا فانہم من القبیل الاول (روح ج 27 ص 60) ۔
Ayahs 53:31–3219:۔ ” وللہ ما فی السموات وما فی الارض “ یہ جملہ معترضہ برائے بیان توحید یہ ساری کائنات فرش سے لے کر عرش تک اللہ کی مخلوق و مملوک ہے وہی اس میں متصرف و مختار ہے اور تصرف و اختیار میں کوئی اس کا شریک نہیں، وہ اپنے ارادے اور اپنی مرضی سے جو چاہتا ہے کرتا ہے، کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی جرات نہیں اور نہ کوئی اس کی بارگاہ میں شفیع غالب ہے۔
20:۔ ” لیجزی الذین “ لام عاقبت کیلئے ہے اور یہ اعلم بمن ضل کے ساتھ اور یجزی الذین احسنوا، اعلم بمن اھتدی کے ساتھ متعلق ہے بطریق لف و نشر مرتب۔ اللہ تعالیٰ گمراہوں کو اور ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے جس کا انجام یہ ہے کہ وہ گمراہوں اور برے لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا دے گا اور نیک لوگوں کو ان کے اچھے کاموں کی ضرور جزا دے گا۔ ” الذین یجتنبون۔ الایۃ “ یہ الذین احسنوا سے بدل ہے یا اس کی صفت ہے یعنی محسنین وہ لوگ ہیں جو کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے کلی اجتناب کرتے ہیں، لیکن صغائر اور معمولی لغزشیں ان سے سرزد ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بخشش و رحمت اس قدرت وسیع ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچنے والوں کے صغیرہ گناہوں کو محض اپنی مہربانی سے معاف فرما دیتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ شرک سے بچنے والوں کے چاہے تو کبائر بھی معاف فرما دے۔ ھو اعلم بکم۔ الایۃ “ اللہ تعالیٰ تم سب کو اس وقت سے جانتا ہے جب اس نے تمہارے جد اعلی آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا، پھر تم اپنی ماؤں کے رحموں میں بصورت جنین ہوتے اس وقت بھی وہ تم کو جانتا ہے یعنی وہ تمہاری ساری حقیقت سے باخبر ہے اور تمہاری کوئی چیز اور تمہارا کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں اس لیے تم خود اپنی بزرگی اور تقوی و طہارت کے دعوے نہ کرو۔ جو لوگ واقعی متقی ہیں اور اپنے اللہ کے احکام کی پابندی کر کے اپنے ظاہر و باطن کو رذائل و خبائث سے پاک کرچکے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے اسے کسی کے بتانے کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 53:33–3421:۔ ” افرایت۔ تا۔ یری “ یہ معاندین کے لیے زجر ہے۔ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی۔ شروع میں وہ آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھتا اور وعظ و نصیحت سنتا تھا اور اسلام سے متاثر ہوچلا تھا۔ قرآن کی تعریف بھی کرتا تھا۔ بعض، مشرکین نے اس کو حق گوئی اور اسلام میں رغبت کا طعنہ دیا اور کہا اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر انہیں گمراہ قرار دیتا ہے اس نے جواب دیا میں تو اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہوں اس پر اس مشرک نے کہا عذاب سے تمہیں بچانے کی میں ذمہ داری لیتا ہوں۔ چناچہ وہ پھر گیا اور زبان سے جو حق بات کہتا تھا اس سے رک گیا۔ کان الولید مدح القران ثم امسک عنہ فنزل (واعطی قلیلا) ای من الخیر بلسانہ (واکدی) ای قطع ذلک وامسک عنہ (قرطبی ج 17 ص 111) ۔
Ayah 53:3522:۔ ” اعندہ۔ الایۃ “ کیا وہ غیب جانتا ہے اور پردہ غیب سے ورے دیکھ رہا ہے اور اسے معلوم ہوگیا ہے کہ وہ کسی کی سفارش اور حمایت سے اللہ کے عذاب سے بچ جائیگا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی وہ غیب نہیں جانتا اور فرشتوں کی شفاعت سے یا کسی کی ضمانت و حمایت کی بناء پر عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکتا۔
Ayahs 53:36–3723:۔ ” ام لم ینبا۔ تا۔ ما غشی “ یہ دلیل نقلی ہے۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں سے ” ان لاتزر وازرۃ “ سے لے کر ” اظلم وا طغی “ تک دونوں صحیفوں کا مشترکہ بیان ہے اور والمؤتفکۃ۔ الایۃ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں نہیں کیونکہ یہ قوم لوط کی بستیاں ہیں جو صحف ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد تباہ ہوئیں۔ ” الذی وفی “ وہ ابراہیم جس نے اللہ کے احکام کو پورا کیا اور ان تمام عہود و مواعید سے عہد برآ ہوئے جو اللہ نے ان سے لیے تھے۔