52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 52:1–4

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم ہے طور کی2

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور لکھی ہوئی کتاب کی

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

کشادہ ورق میں

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی

2:۔ ” والطور “ یہ دعوی سورت پر پہلی نقلی دلیل ہے از موسیٰ (علیہ السلام) یعنی وہ کوہ طور بھی شاہد ہے کہ حشر و نشر اور جزاء وسزا حق ہے۔ جہاں موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل ہوئی تھی کہ ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیہا لتجزی کل نفس بما تسعی (طہ رکوع 1) ۔ یہ ذکر مکان اور ارادہ مکین کے قبیل سے ہے۔ ” و کتاب مسطور فی رق منشور “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے از کتب سابقہ۔ ” رق “ باریک چمڑا وغیرہ جس پر وہ لکھی جاتی ہیں۔ یعنی کتب سابقہ بھی شاہد ہیں کہ جزاء و سزا واقع ہوگی کیونکہ ان میں بھی یہ مضمون نازل کیا جاچکا ہے۔ ” والبیت المعمور “ یہ دلیل وحی بیت معمور ساتویں آسمان پر خانہ کعبہ کے بالمقابل فرشتوں کا عبادت خانہ ہے جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے عبادت کیلئے آتے ہیں۔ جو ایک بار آچکے پھر قیامت تک ان کی باری نہیں آئیگی (صحیحین) یعنی بیت اللہ بھی گواہ ہے جہاں رسول اللہ ﷺ پر ہر وحی نازل ہوئی تھی یعنی بیت معمور میں بھی یہی حکم ہوا تھا۔
Ayahs 52:5–6

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت کی3

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور ابلتے ہوئے دریا کی

3:۔ ” والسقف المرفوع “ یہ پہلی عقلی دلیل ہے اور سقف مرفوع سے آسمان بلند مراد ہے یعنی آسمان بلند جو تم سب کو محیط ہے، بھی گواہ ہے کہ تم احاطہ سے نکل کر بھاگ نہیں سکتے۔ تائید : ” یمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموات والارض فانفذوا، لاتنفذوان الا بسلطان (رکوع 2) ۔ ” والبحر المسجور “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ ” المسجور “ پانی سے لبریز۔ قال قتادۃ البحر المسجور المملوء وھذا معروف من اللغۃ رجحہ الطبری (طبری، بحر) ۔ یہ پانی سے بھرا ہوا سمندر بھی گواہ ہے کہ جس طرح اس نے تم کو ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے، اسی طرح قیامت کے دن اللہ کا عذاب تم کو ہر جانب سے گھیر لے گا۔
Ayahs 52:7–8

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

بیشک عذاب4 تیرے رب کا ہو کر رہے گا

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

اس کو کوئی نہیں ہٹانے والا

4:۔ ” ان عذاب “ یہ مذکورہ بالا پانچ شواہد بصورت اقسام کا جواب ہے یعنی حشر نشر کے بعد جزاء و سزا بھی ہوگی اور اللہ کے عذاب سے کوئی بھاگ نہیں سکے اور نہ کوئی کسی سے عذاب کو ہٹا ہی سکے گا۔
Ayahs 52:9–12

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن لرزے آسمان کپکپا کر5

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پھریں پہاڑ چل کر

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

سو خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کو

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو باتیں بناتے ہیں کھیلتے ہوئے

5:۔ ” یوم تمور “ یہ تخویف اخروی ہے۔ تمہور، تدور و تضطرب (ابن کثیر، روح) ۔ آسمان گھومے گا اور لڑ کھڑا اٹھے گا اور پھر یزہ ریزہ ہو کر زمین پر گر پڑے گا۔ ” یوم “ فویل مؤخر کیساتھ متعلق ہے۔ یعنی جب آسمان چکنا چور ہو کر گر پڑیں گے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل کر زمین کے ساتھ ہموار ہوجائیں گے، اس دن توحیدد، قیامت اور دیگر اعتقادیات کو جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت و تباہی ہوگی جنہوں نے اپنی زندگیاں بےہودگیاں اور خرافات میں گنوادیں اور ہمیشہ تائید باطل اور تکذیب حق میں مشغول و منہمک رہے۔
Ayahs 52:13–15

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن کہ دھکیلے جائیں دوزخ کی طرف دھکیل کر6

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

یہ ہے وہ آگ جس کو تم جھوٹ جانتے تھے

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

اب بھلا یہ جادو ہے یا تم کو نہیں سوجھتا

6:۔ ” یوم یدعون “ یدعون، انہیں دھکا دے کر پھینکا جائیگا۔ یدفعون الیھا بعنف (بیضاوی) ۔ ھذہ النار، سے پہلے فیقال لہم مقدر ہے (مدارک) جس دن جھٹلانے والوں کو دھکے دے دے کر جہنم میں پھینکا جائے گا اس وقت ان سے کہا جائیگا یہ وہی جہنم ہے جس سے ہمارے پیغمبر (علیہم الصلوۃ والسلام) تمہیں ڈراتے تھے لیکن تم اس کو نہ مانتے تھے۔ ” افسحر ھذا۔ الایۃ “ اب بتاؤ کیا یہ بھی جادو ہی ہے اور تمہاری نظر بندی کردی گئی ہے جس کی وجہ سے تمہیں یہ دوزخ نظر آرہا ہے، لیکن حقیقت میں کچھ بھی نہیں ؟ جس طرح دنیا میں تم معجزات ِ انبیاء (علیہم السلام) کو جادو اور نظر بندی سے تعبیر کیا کرتے تھے کیا یہ جہنم بھی تمہیں نظر نہیں آرہا ؟ جس طرح دنیا میں دلائل ومعجزات دیکھ کر بھی تم کہا کرتے تھے کہ ہمیں تو کچھ سنائی نہیں دیتا اور نہ ہمیں کچھ نظر ہی آتا ہے۔ یہ بطور استہزاء و تہکم ان سے کہا جائیگا۔ یعنی اب بھی کہوناں کہ یہ سب جادو ہے اور ہمیں کچھ نظر نہیں آتا۔ کنتم تقولون للوحی ھذا سحرا فھذا المصداق ایضا سحر (ام انتم لا تبصرون) ھذا ایضا کم اکنتم لا تبصرون فی الدنیا ما یدل علیہ و تقریع و تہکم (بیضاوی) ۔
Ayah 52:16

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

چلے جاؤ اس7 کے اندر پھر تم صبر کرو یا نہ صبر کرو تم کو برابر ہے وہی بدلہ پاؤ گے جو کچھ تم کرتے تھے

ٖف 7:۔ ” اصلوھا۔ الایۃ “ اب صبر کرو یا بےصبری سے واویلا کرو اور چیخو چلا، تمہارے لیے برابر ہے اس سے تمہیں کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اب تو تمہیں اس عذاب جہنم میں داخل ہونا ہی ہوگا۔ اس میں تم سے کوئی زیادتی اور بےانصافی نہیں کی گئی یہ تمہارے اپنے ہی اعمال یعنی کفر و شرک اور عناد و تکذیب کی سزا ہے جن میں تم عمر بھر لگے رہے۔
Ayahs 52:17–20

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

جو ڈرنے والے ہیں وہ باغوں8 میں ہیں اور نعمت میں

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

میوے کھاتے ہوئے جو ان کو دیے ان کے رب نے اور بچایا ان کے رب نے دوزخ کے عذاب سے

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

کھاؤ اور پیو رچتا ہوا بدلہ ان کاموں کا جو تم کرتے تھے

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

تکیہ لگائے بیٹھے تختوں پر برابر بچھے ہوئے قطار باندھ کر اور بیاہ دیں ہم نے ان کو حوریں بڑی آنکھوں والیاں

8:۔ ” ان المتقین “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ شرک و تکذیب سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچنے والے قیامت کے دن جنت کے باغوں میں اور انواع و اقسام نعمت میں مصروف عیش ہوں گے۔ ” فاکھین “ اللہ کی دی ہوئی عزت و کرام اور انعامات میں بےپایاں میں خوش و خرم ہوں گے اور جہنم کے عذاب سے بھی محفوظ ہوں گے۔ ” کلوا واشربوا “ اس سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہے۔ ان سے کہا جائیگا کہ جنت کے ماکولات و مشروبات میں سے جو چاہو کھاؤ اور پیوا یہاں کی ہر چیز خوشگوار اور صحت افزا ہے۔ یہ تمہارے اعمال صالحہ کا انعام ہے۔ ” متکئین “ یہ ” کلوا “ کی ضمیر سے حال ہے۔ حال من الضمیر فی کلوا واشربوا (مدارک ج 4 ص 45) ۔ قطار در قطار تختوں پر عزت و اکرام اور راحت و آرام سے تکیہ لگائے۔ حور، حوراء کی جمع ہے یعنی ایسی آنکھوں والی جس کی سیاہ جگہ کی سیاہی اور سفید جگہ کی سفیدی بہت زیادہ ہو۔ عین، عیناء کی جمع ہے یعنی موٹی آنکھوں والی۔ یعنی جنت میں ہم ایسی حسین و جمیل حوروں کو ان کی بیویاں بنا دیں گے۔ حاصل یہ کہ جنت میں ان کو ہر قسم کی لذت و عیش حاصل ہوگی۔
Ayah 52:21

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ یقین لائے9 اور ان کی راہ پر چلی ان کی اولاد ایمان سے پہنچا دیا ہم نے ان تک ان کی اولاد کو اور گھٹایا نہیں ہم نے ان سے ان کا کیا ذرا بھی ہر آدمی اپنی کمائی میں پھنسا ہے

9:۔ ” والذین امنوا۔ الایۃ “ ما التناھم ای ما نقصناھم (خازن، روح) ۔ یعنی ہم کم نہیں کریں گے۔ جو مؤمنین اپنے ایمان اور عمل کی وجہ سے جنت کے بہت اونچے درجات میں ہوں گے ہم ان کی اولاد جو ایمان وعمل میں ان کا اتباع کرتی رہی، لیکن ان کے رتبے کو نہ پہنچ سکی، ہم ان کو بھی جنت میں ان کے آباء و اجداد کے درجات میں جگہ دے دیں گے۔ اور اس کی وجہ سے ان کے آباء و اجداد کے درجہ و رتبہ میں کسی قسم کی کمی نہیں کریں گے اور نہ ان کے کسی عمل کا ثواب ہی کم کریں گے لیکن ہر کافر و مشرک اپنے اعمال مشرکانہ کی وجہ سے جہنم میں گرا ہوگا خواہ اس کے ماں باپ کتنے ہی نیک اور صالح ہوں۔ مشرک اور کافر اولاد کو ماں باپ کی نیکی سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ کل امرئ کافر بما عمل من الشرک مرتھن فی النار (معالم ج 6 ص 251) ۔ قال الجمہور وابن عباس وابن جبیر وغیرھما ان المومنین الذین اتبعتہم ذریتہم فی الایمان یکونون فی مراتب ابائہم وان لم یکوانوا فی التقوی والاعمال مثلہم کر امۃ لابائہم فب ایمان متعلق بقولہ واتبعتہم (بحر ج 8 ص 48) ۔ ” بایمان “ کے ” اتبعتہم “ کے ساتھ متعلق ہونے کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے ” ومن صلح من ابائہم وازواجہم وذریاتہم “ (مؤمن رکوع 1) ۔
Ayahs 52:22–23

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور تار لگا دیا ہم نے ان پرف 10 میووں کا اور گوشت کا جس چیز کو جی چاہے

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

جھپٹتے ہیں وہاں پیالہ نہ بکنا ہے اس شراب میں اور نہ گناہ میں ڈالنا

10:۔ ” وامددناہم “ اہل جنت کے لیے مزید نعمتوں کا ذکر ہے۔ مذکورہ نعمتوں کے علاوہ ہم ان کو ان کی مرضی اور خواہش کے میوہ جات اور مختلف انواع گوشت بھی مہیا کریں گے اور وہاں شراب طہور کے ساغر پہ ساغر چلیں گے۔ وہ شراب ایسی پاکیزہ ہوگی جو نشہ اور بد مزگی سے مبرا ہوگی۔ اور اس کے پینے سے کوئی بےہودگی، کوئی لغو بات اور کوئی گناہ کی چیز ظاہر نہیں ہوگی جیسا کہ دنیا کی شراب بےہودگی اور گناہ کا سرچشمہ ہے۔ ای لا یکون فیھا ما یوثمہم ولا یجری بینہم مافیہ لغو واثم کما یجری بین شربۃ الخمر فی الدنیا (خازن ج 6 ص 251) ۔
Ayah 52:24

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور پھرتے11 ہیں ان کے پاس چھو کرے ان کے گویا وہ موتی ہیں اپنے غلاف کے اندر

11:۔ ” ویطوف۔ الایۃ “ وہاں ان کی خدمت کیلئے ایسے نوجوان موجود ہوں گے جو حسن و جمال میں ایسے سچے اور آبدار موتیوں کی طرح ہوں گے جنہیں چھپا کر رکھا گیا ہو، اور انسانی ہاتھوں نے ان کو چھو تک نہ ہو۔
Ayah 52:25

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور منہ کیا بعضوں نے12 دوسروں کی طرف آپس میں پوچھتے ہوئے

12:۔ ” واقبل بعضہم “ یہ اہل جنت کی باہمی گفتگو ہے جس میں وہ اللہ کے انعام و اکرام کا اعتراف اور اس کے احسان کا شکر کریں گے۔ ” یتساءلون “ آپس میں گفتگو کریں گے اور دنیا کے بعض احوال کا ذکر کریں گے۔ وہ کہیں گے دنیا میں تو ہم بہت ہی خائف تھے اور ہمیں ڈر تھا کہ ہم بڑے گنہگار ہیں، اللہ کے عذاب سے کس طرح بچیں گے۔ ” فمن اللہ۔ الایۃ “ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم گنہگاروں پر کتنا بڑا احسان فرمایا کہ محض اپنی رحمت سے ہمارے گناہ معاف فرما دئیے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچالیا۔
Ayahs 52:26–28

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

بولے ہم بھی تھے اس سے13 پہلے اپنے گھروں میں ڈرتے رہتے

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

پھر احسان کیا اللہ نے ہم پر اور بچا دیا ہم کو لو کے عذاب سے

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

ہم پہلے سے پکارتے تھے اس کو بیشک وہی ہے نیک سلوک والا مہربان

13:۔ ” انا کنا من۔ الایۃ “ یہ ماقبل کی علت ہے اور بیان توحید ہے علی سبیل الترقی از سورة سابقہ اور ثمرہ توحید۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمارے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں جہنم سے بچا لیا۔ اس لیے کہ ہم دنیا میں صرف حاجات و مصائب میں اسی کو پکارتے تھے اور اس کی پکار میں کسی کو شریک نہیں کرتے تھے۔ یہ عذاب سے محفوظ رہنا توحید پر قائم رہنے ہی کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا ہی محسن و مہربان ہے۔
Ayah 52:29

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

اب تو سمجھا دے کہ تو اپنے رب14 کے فضل سے نہ جنوں سے خبر لینے والا ہے اور نہ دیوانہ

14:۔ ” فذکر۔ الایۃ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ فرمایا آپ وعظ و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھیں اور مشرکین کے آپ کو کاہن اور مجنون کہنے افسردہ خاطر نہ ہوں۔ آپ اللہ کی مہربانی سے نہ کاہن ہیں نہ مجنون آپ پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، اس لیے آپ اپنے فرض منصبی کو ادا فرماتے رہیں۔
Ayahs 52:30–32

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں یہ شاعر ہیں15 ہم منتظر ہیں اس پر گردش زمانہ کے

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

تو کہہ تم منتظر رہو کہ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں یہی سکھلاتی ہیں ان کو یا یہ لوگ شرارت پر ہیں

15:۔ ” ام یقولون “ یہ شکوی ہے۔ ” ریب المنون “ حوادث زمانہ یا حادثہ موت (خازن، مدارک) ۔ معاندین کبھی تو کہتے ہیں کہ وہ شاعر ہے جب تک زندہ ہے اس کے اشعار کو عروج ہے اور ہم اس کی موت کے منتظر ہیں جونہی اس نے آنکھیں بن دکیں یہ سارا کھیل ختم ہوجائیگا۔ ” قل تربصوا۔ الایۃ “ جواب شکوی ہے۔ آپ فرما دیجئے ہاں تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی انتظار کرتا ہوں موت تو سب پر آئیگی، لیکن، تمہیں معلوم ہوجائیگا کہ عزت کی موت کس کی ہوگی اور ذلت ورسوائی کی موت کس کے حصے میں آئیگی چناچہ ان معاندین نے میدان بدر میں دیکھ لیا کہ آخر ذلت و رسوائی ان ہی کیلئے مقدر تھی (مظہری، خازن) ۔ ” ام تامرھم۔ الایۃ “۔ مشرکین عقل و فہم کے مدعی تھے اور اپنے کو حلماء (عقلاء) کہتے تھے۔ ” ام “ منقطعہ ہے بمعنی ” بل “ یعنی کیا ان کی عقلیں انہیں اس تضاد بیانی پر آمادہ کرتی ہیں کہ پیغمبر (علیہ السلام) کو کبھی کاہن و مجنون اور کبھی شاعر کہتے ہیں۔ نہیں ! بلکہ یہ لوگ سرکشی اور عناد میں حد سے گزر چکے ہیں اور یہ سب بےہودگیاں ان کے عناد و استکبار اور طغیان وعدوان سے ناشی ہیں۔
Ayahs 52:33–34

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

یا کہتے ہیں یہ قرآن خود بنا لایا16 کوئی نہیں پر وہ یقین نہیں کرتے

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

پھر چاہیے کہ لے آئیں کوئی بات اسی طرح کی اگر وہ سچے ہیں

16:۔ ” ام یقولون تقولہ “ یہ بھی شکوی ہے کبھی کہتے ہیں اس نے یہ قرٓان اپنے پاس سے بنا لیا ہے، یہ بات نہیں، بلکہ وہ چونکہ ایمان نہیں لانا چاہتے، اسلیے محض ضد وعناد سے ایسی باتیں کرتے ہیں۔ فلکفرہم وعنادھم یرمونہ بھذہ المطاعن مع علمہم ببطلان قولہم وانہ لیس بمتقول لعجز العرب عنہ (مدارک ج 4 ص 146) ۔ ” فلیاتوا بحدیث۔ الایۃ ‘] یہ جواب شکوی ہے۔ اگر وہ اس دعوے میں سچے ہیں کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے اپنے پاس سے بنایا ہے۔ تو وہ بھی ایسا ہی کلام بنا کرلے آئیں۔ اگر محمد صلی اللہ علی ہو سلم محض اہل زبان ہونے کی وجہ سے ایسا کلام بنا سکتے ہیں تو یہ بھی اہل زبان ہیں۔ ایسا کلام بنا سکتے ہیں تو یہ بھی اہل زبان ہیں۔ ایسا کلام بنا کرلے آئیں، لیکن یہ بات ان کی طاقت وقدرت سے باہر ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور کسی بشر کا ساختہ نہیں۔
Ayahs 52:35–36

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا وہ بن گئے ہیں آپ ہی آپ17 یا وہی ہیں بنانے والے

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

یا انہوں نے بنایا آسمانوں کو اور زمین کو، کوئی نہیں پر وہ یقین نہیں کرتے

17:۔ ” ام خلقوا۔ تا۔ مرکوم “ زجرات ہیں، مشرکین کو ان کے ضد وعناد پر متنبہ کیا گیا ہے۔ ” من غیر شیء “ ای من اجل لاشیء من العبادۃ والمجازاۃ (مظہری ج 9 ص 99) ۔ کیا انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ انہیں عبادت اور جزاء وسزا کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ انہیں بالکل ہی بےمقصد پیدا کیا گیا ہے ؟ اور اسی وجہ سے نیک کاموں میں انہیں کوئی رغبت نہیں یا وہ خود ہی کو اپنا خالق سمجھتے ہیں ؟ اور اس لیے اپنے خالق کا حق نہیں پہچانتے۔ ” ام خلقوا السموات الخ “ کیا زمین و آسمان کو خود انہوں نے پیدا کیا ہے اور اس لیے خالق حقیقی کا شکر اور اس کی عبادت نہیں ؟ بل، بلکہ وہ یقین لانا چاہتے ہی نہیں۔ اس لیے دلائل قدرت میں غور و فکر ہی نہیں کرتے تاکہ بات ان کی سمجھ میں آجائے (مدارک) یعنی ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں مانتے۔
Ayahs 52:37–38

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ہیں خزانے تیرے رب کے18 یا وہی داروغہ ہیں

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر سن آتے ہیں تو چاہیے لے آئے جو سنتا ہے ان میں ایک سند کھلی ہوئی

18:۔ ” ام عندھم “ کیا وہ اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں۔ کیا اللہ کی رحمت، نبوت اور رزق وغیرہ ان کے ہاتھ میں ہے یا وہ خدائی خزانوں کے نگران اور تقسیم کنندگان ہیں کہ جسے چاہیں جو چیز چاہیں دیں اور جسے چاہیں نہ دیں۔ کیا وہ محمد ﷺ کی نبوت کا اس لیے انکار کرتے ہیں کہ نبوت کی تقسیم ان کے ہاتھ میں ہے اور انہوں نے آپ کو نبوت نہیں دی ؟ نہیں انکار محض عنادًا ہے۔ ” ام لہم سلم الخ “ یہ آنحضرت ﷺ کی موت کے منتظر ہیں اور انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ آپ کی وفات ان سے پہلے ہوگی۔ کیا انہوں نے آسمان میں سیڑھی لگا رکھی ہے اور وہ آسمان پر چڑھ کر فرشتوں کی باتیں اور ان پر اللہ کی طرف سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہاں سے سن لیتے ہیں اور انہیں اس طرح معلوم ہوچکا ہے کہ آپ کی وفات ان سے پہلے ہوگی ؟ (مدارک) ۔ اگر واقعی ایسا ہے تو ان میں سے جو وہاں سے سن کر آیا ہے وہ اس کا ثبوت پیش کرے۔
Ayahs 52:39–40

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اس کے یہاں بیٹیاں19 ہیں اور تمہارے یہاں بیٹے

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

کیا تو مانگتا ہے ان سے کچھ بدلہ، سو ان پر تاوان کا بوجھ ہے

19:۔ ” ام لہ البنات۔ الایۃ “ یہ ان کی جہالت و حماقت کا بیان ہے کہ بیٹیوں کو اپنے لیے تو پسند نہیں کرتے، لیکن فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں اور ان کو خدا کی بارگاہ میں سفارشی سمجھ کر پکارتے ہیں۔ ” ام تسئلہم اجرا۔ الایۃ “ کیا ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ آپ تعلیم وتبلیغ اور وعظ و نصیحت پر ان سے تنخواہ یا کوئی معاوضہ مانگتے ہیں ؟ اور انہیں اس تاوان کے بوجھ تلے دب جانے کا اندیشہ ہے کہ اگر مان لیا تو تنخواہ دینی پڑے گی۔ بات اصل وہی ہے کہ عناد و طغیان کی وجہ سے نہیں مانتے۔