51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 51:1–6

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

ف 2 قسم ہے ان ہواؤں کی جو بکھیرتی ہیں اڑا کر

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر چلنے والیاں نرمی سے

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر بانٹنے والیاں حکم سے

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

بیشک جو وعدہ کیا ہے تم سے سو سچ ہے

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور بیشک انصاف ہونا ضرور ہے

2:۔ ” والذاریات ذروا۔ تا۔ فالمقسمت امرا “ یہ حشر و نشر اور جزاء پر شاہد ہے۔ قسم ہے ہواؤں کی جو اٹھاتی اور پھیلاتی ہیں۔ پھر بوجھ (پانی بادلوں کی شکل میں) کو اٹھاتی اور آہستہ آہستہ چلتی ہیں پھر اللہ کے حکم سے امر الٰہی کو تقسیم کرتی ہیں۔ یعنی کہیں بارش برستی ہے اور کہیں اولے پڑتے ہیں۔ ” انما توعدون۔ تا۔ لواقع “ یہ جواب قسم ہے جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے یعنی حشر و نشر وہ حق ہے اور قیامت کے دن جزاء وسا ضرور ہوگی۔ ” انما توعدون لصادق “ پہلے دو قسموں سے متعلق ہے یعنی جس طرح ہوا بادلوں کو اٹھاتی ہے اسی طرح تم بھی اٹھائے جاؤ گے یہ دنیا میں حشر و نشر کا ایک نمونہ ہے۔ ” ان الدین لواقع “ یہ دوسری دونوں قسموں سے متعلق ہے جسطرح ہوائیں بادلوں کو لے کر چلتی ہیں اور اللہ کے حکم سے کہیں باران رحمت ہوتی ہے اور کہیں اولے پڑتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن جزاء و سزا ہوگی مومنوں پر بارش کی طرح اللہ کی رحمت ہوگی اور کافروں پر اولوں کی طرح اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ یہ دنیا میں جزا و سزا کا نمونہ ہے۔
Ayah 51:7

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

قسم ہے آسمان جال دار کی3

3:۔ ” والسماء ذات الحبک “ زینت و آرائش یا ستارے (بیضاوی، مدارک) ۔ جواب قسم محذوف ہے۔ ای انکم لتحشرون۔ اس آسمان کی قسم جس پر ستاروں کی زینت و آرائش کا جال بچھا ہے تم ضرور مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے۔ یہ حشر و نشر پر شاہد ہے یعنی جس طرح رات کو آسمان پر اچانک ستارے نمودار ہوجاتے ہیں اسی طرح تم بھی اچانک زمین سے نکل آؤ گے۔ یہاں تک دعوی ثبوت قیامت و جزا و سزا مکمل ہوگیا۔
Ayahs 51:8–9

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

تم پڑ رہے ہو4 ایک جھگڑے کی بات میں

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے باز رہے وہی جو پھیرا گیا

4:۔ ” انکم لفی “ یہ زجر ہے کافروں کے لیے جو ایسے واضح نمونے دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے یہ لوگ ایک مختلف بات پر قائم ہیں کو حشر و نشر میں شک کرتا ہے اور کوئی اس کا انکار کرتا ہے وہ خود کسی ایک متفق علیہ اور باہم موافق بات پر قائم نہیں ہیں۔ ہر وق شخص جس کو اللہ نے حق سے پھیر دیا ہے وہ قیامت پر ایمان لانے سے بھی پھیر دیا گیا ہے۔ انہم فی قول مختلف فو وقوعہ فمنہم شاک و منہم جاحد ثم قال یؤفک عن الاقرار بامر القیامۃ من ھو المافوک (مدارک ج 4 ص 139) ۔
Ayahs 51:10–14

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

مارے پڑے5 اٹکل دوڑانے والے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

وہ جو غفلت میں ہیں بھول رہے

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کب ہے دن انصاف کا

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

جس دن وہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

چکھو مزا اپنی شرارت کا یہ ہے جس کی تم جلدی کرتے تھے

5:۔ ” قتل الخراصون۔ تا۔ تستعجلون “ یہ منکرین قیامت کے لیے تخویف اخروی ہے۔ قتل، لعن الخراصون۔ جھوٹے اور ظن وتخمین سے حکم لگانے والے۔ غمرۃ جہالت و غفلت، یفتنون، آگ میں جلائے جائیں گے (مظہری، روح، مدارک) قیامت کو محض ظن وتخمین سے جھٹلانے والے جو جہالت و غفلت میں بےہوش و بیخبر پڑے ہیں ملعون اور خدا کی رحمت سے محروم ہیں۔ اور محض استہزاء و انکار کی غرض سے سوال کرتے ہیں کہ جزاء وسزا کا دن کب آئیگا۔ یوم کا عامل مقدر ہے۔ قی ھو کائن یعنی الجزاء (بحر) ۔ یعنی جزا وسزا لا محالہ اس دن ہونے والی ہے جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے اور ان سے کہا جائیگا آج اپنے کیے کی سزا چکھو یہ وہی عذاب ہے جس کے جلدی آنے کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔ ” ذوقوا “ سے پہلے یقال لہم محذوف ہے۔
Ayahs 51:15–19

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

البتہ ڈرنے والے6 باغوں میں ہیں اور چشموں میں ہیں

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

اور چشموں میں لیتے ہیں جو دیا ان کو ان کے رب نے وہ تھے اس سے پہلے نیکی والے

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

وہ تھے رات کو تھوڑا سوتے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور صبح کے وقتوں میں معافی مانگتے

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مال میں حصہ تھا مانگنے والوں کا اور ہارے ہوئے کا

6:۔ ” ان المتقین۔ تا۔ والمحروم “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور رفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا بیان ہے یعنی شرک نہ کرو، ظلم نہ کرو اور احسان کرو۔ المتقین، شرک سے بچنے والے۔ یہ امر اول کا بیان ہے۔ یہ لوگ جنت کے باغوں اور چشموں میں ہوں گے اور وہاں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو حاصل کریں گے اور ان سے متمتع ہوں گے۔ ” انہم کانوا قبل ذلک محسنین “ یہ امر دوم کا بیان ہے یعنی وہ اس سے پہلے دنیا میں ظلم نہیں کرتے تھے۔ ” کانوقا قلیلا۔ الایۃ “ ” ما “ زائدہ ہے وہ رات کو اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے اور نیند کم کیا کرتے تھے۔ ” وباالاسحار۔ الایۃ “ اور بوقت سحر اٹھ اٹھ کر خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگا کرتے تھے۔ ” وفی اموالہم ا۔ الایۃ “ اور ان کے مال میں ہر سائل اور سوال نہ کرنے والے پر محتاج کا حصہ تھا یعنی محتاجوں اور مسکینوں پر احسان کیا کرتے تھے۔
Ayahs 51:20–23

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین لانے والوں7 کے واسطے

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہارے اندر سو کیا تم کو سوجھتا نہیں

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور آسمان میں ہے روزی تمہاری اور جو تم سے وعدہ کیا گیا

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

سو قسم ہے رب آسمان اور زمین کی کہ یہ بات تحقیق ہے جیسے کہ تم بولتے ہو

7:۔ ” وفی الارض۔ تا۔ تنطقون “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ زمین میں اور خود تمہاری جانوں میں بھی یقین لانے والوں کے لیے دلائل موجود ہیں تم غور و فکر کر کے انہیں سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ؟ اللہ نے زمین کو کیسی قدرت و حکمت سے پیدا فرمایا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” وفی السماء رزقکم الخ “ یعنی آسمان سے باران رحمت نازل فرماتا ہے جس سے مختلف انواع و اقسام کا رزق پیدا ہوتا ہے۔ ” وما توعدون “ یعنی اولے بھی آسمان ہی سے گرتے ہیں۔ ” فورب السماء۔ الایۃ “ زمین و آسمان کے رب کی قسم حشر و نشر اسی طرح حق ہے جس طرح تم بولتے اور منہ سے الفاظ نکالتے ہو اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جاؤ گے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یا مطلب یہ ہے کہ بولتے وقت جس طرح تمہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ تم بول رہے ہو اسی طرح حشر و نشر بھی قطعی اور یقینی ہے۔ کما انہ لا شک لکم فی انکم تنطقون ینبغی ان لا تشکوا فی تحقق ذلک (بیضاوی) ۔
Ayahs 51:24–28

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

کیا پہنچی ہے تجھ کو بات8 ابراہیم کے مہمانوں کی جو عزت والے تھے

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب اندر پہنچے اس کے پاس تو بولے سلام وہ بولا سلام ہے یہ لوگ ہیں اوپرے

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر دوڑا اپنے گھر کو تو لے آیا ایک بچھڑا گھی میں تلا ہوا

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

پھر ان کے سامنے رکھا کہا کیوں تم کھاتے نہیں

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

پھر جی میں گھبرایا ان کے ڈر سے بولے تو مت ڈر اور خوشخبری دی اس کو ایک لڑکے ہشیار کی

8:۔ ” ھل اتاک۔ تا۔ العذاب الالیم “ یہ تخویف دنیوی کے پان نمونوں میں سے پہلا نمونہ ہے اصل نمونہ تو قوم لوط (علیہ السلام) کی ہلاکت ہے اور اس سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اس کی تمہید ہے۔ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا قصہ اس کی تمہید ہے۔ کیا ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا قصہ آپ تک نہیں پہنچا ؟ یہ معزز مہمان فرشتے تھے جو خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں ان کے پاس آئے۔ ” اذ دخلوا۔ الایۃ “ جب وہ مہمان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور دل کہا یہ اجنبی ہیں معلوم نہیں کون ہیں۔ خیال آیا پہلے ان کے کھانے پینے کا انتظام کرلیا جائے بعد میں ان کا اتہ پتہ معلوم کرلیا جائیگا۔ ” فراغ الی اھلہ الخ “ چناچہ فورًا گھر تشریف لے گئے اور بہت جلد ایک موٹا تازہ بچھڑا بھون تل کرلے آئے۔ اور ان کے سامنے رکھ دیا۔ لیکن جب دیکھا کہ وہ کھانے کے لیے بچھڑے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے، تو فرمایا تم کھاتے کیوں نہیں ؟ اور دل میں ڈرے بھی کیونکہ اس زمانے کا دستور تھا جو شخص کسی کو نقصان پہنچانا چاہتا یا اس کے یہاں چوری کرنے کا ارادہ رکھتا تھا وہ اس کے گھر کی روٹی نہیں کھاتا تھا تاکہ نمک حرامی نہ ہو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سمجھے کہ شاید یہ کسی برے ارادے سے آئے ہوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس عظمت شان کے باوجود غیب دان نہ تھے جب تک فرشتوں نے بتایا نہیں، ہم اللہ کے فرشتے ہیں اور ساتھ ہی ایک ذی علم فرزند کی خوشخبری بھی دیدی۔ یہ فرزند حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔
Ayahs 51:29–30

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

پھر سامنے سے آئی اس کی عورت بولتی ہوئی9 پھر پیٹا اپنا ماتھا اور کہنے لگی کہیں بڑھیا بانجھ

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

وہ بولے یوں ہی کہا تیرے رب نے وہ جو ہے وہی ہے حکمت والا خبردار

9:۔ ” فاقبلت امراتہ “۔ صرۃ، چیخ، اونچی آواز۔ جب یہ خوشخبری حضرت سارہ (علیہا السلام) نے سنی تو چیخ کر بولیں اور تعجب سے ہاتھ کی انگلیاں منہ پر رکھیں کہ میں مرگئی ! ! ! میں بڑھیا اور بانجھ ہو کر بچہ جنوں گی ؟ ” یویلتیء الد وانا عجوز وھذا بعلی شیخا “ ضرب باطراف اصابعہا جبھ تھا فعل التعجب (مدارک ج 4 ص 141) ۔ جہلائے شیعہ اس سے ماتم ثابت کرتے ہیں جو سراسر جہالت و حماقت ہے۔ ماتم شیعہ سے حضرت سارہ کے اس فعل کو ادنی تعلق بھی نہیں۔ ماتم اظہار غم واندوہ کے لیے میت پر کیا جاتا ہے لیکن حضرت سارہ کا فعل بیٹے کی خوشخبری سن کر اظہار تعجب کے لیے تھا۔ نیز ماتم میں منہ اور سینہ پیٹا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے عورتوں کی عادت کے مطابق ہاتھ تیزی سے منہ پر رکھ کر تعجب کیا تھا۔ ” قالوا کذالک۔ الایۃ “ فرشتوں نے مائی صاحبہ کو جواب دیا بی بی ! تیرے رب نے یوں ہی فرمایا ہے کہ آپ کے اسی حالت میں فرزند ہوگا وہ بڑی حکمتوں کا مالک اور سب کچھ جاننے والا ہے اور ایک بوڑھے خاوند سے ایک بانجھ عورت کے فرزند پیدا کرسکتا ہے اس کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں۔
Ayahs 51:31–34

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

بولا10 پھر کیا مطلب ہے تمہارا اے بھیجے ہوؤ

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

وہ بولے ہم کو بھیجا ہے ایک گناہ گار قوم پر

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

کہ چھوڑیں ہم ان پر پتھرمٹی کے

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

نشان پڑے ہوئے تیرے رب کے یہاں سے حد سے نکل چلنے والوں کے لیے

10:۔ ” قال فما خطبکم “ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا اے اللہ کے فرستادو ! تم کس مہم پر جا رہے ہو ؟ ” قالوا انا ارسلنا الخ “ کہا ہمیں ایک مجرم قوم (قرم لو ط) کی طرف بھیجا گیا ہے۔ تاکہ ان حدود سے تجاوز کرنے والوں پر مٹی کی پختہ اینٹوں کی بارش برسائی جن پر ان کے نام لکھے ہوں اور اس طرح ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ مسومۃ معلمۃ علی کل واحد منہا اسم من یھلک بہ (مظہری ج 9 ص 87) ۔
Ayahs 51:35–37

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پھر بچا نکالا ہم نے جو تھا وہاں11 ایمان والا

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

پھر نہ پایا ہم نے اس جگہ سوائے ایک گھر کے مسلمانوں سے

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور باقی رکھا ہم نے اس میں نشان ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں عذاب دردناک سے

11:۔ ” فاخرجنا۔ الایۃ “ عذاب نازل کرنے سے پہلے ہم نے قوم لوط کی بستیوں سے مومنوں کو باہر نکال لیا۔ ” فما وجدنا فیھا۔ الایۃ “ ان بستیوں میں مسلمان تھے کتنے ؟ سو ایک گھر والوں کے ہم نے کوئی مسلمان وہاں نہیں پایا اور وہ بھی لوط (علیہ السلام) کا گھر تھا۔ ” وترکنا فیھا ایۃ۔ الایۃ “ میں عذاب کی بعض نشانیاں باقی رہنے دیں، تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔ نشانی سے مراد وہ پتھر ہیں جو ان پر برسائے گئے ہیں یا ساہ رنگ کا بدبو دار پانی مراد ہے جو ان بستیوں میں پھیل گیا۔ (ابن کثیر، مظہری) یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس دردناک عذاب ہی کو ڈرنے والوں کے لیے عبرت و نصیحت کی علامت بنا دیا۔ (خازن و معالم) ۔
Ayahs 51:38–40

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور12 نشانی ہے موسیٰ کے حال میں جب بھیجا ہم نے اس کو فرعون کے پاس دے کر کھلی سند

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

پھر اس نے منہ موڑ لیا اپنے زور پر اور بولا یہ جادوگر ہے یا دیوانہ

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

پھر پکڑا ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پھر پھینک دیا ان کو دریا میں اس پر لگا الزام

12:۔ ” وفی موسیٰ “۔ یہ تخویف دنیوی کا دوسرا نمونہ اور فیھا پر معطوف ہے ای وترکنا فی موسیٰ ایۃ (روح، مدارک) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو ہم نے عبرت و نصیحت کا سامان بنا دیا۔ جب ہم نے ان کو فرعون کے پاس دلائل واضحہ اور معجزات قاہرہ دے کر بھیجا تو اس نے اپنے اراکین سلطنت اور لاؤ لشکر سمیت انکار و اعراض کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر اور مجنون کہنے لگا۔ معجزات و خوارق دیکھ کر کہنے لگا یہ تو جاوگر ہے اور جب توحید اور حشر و نشر کی باتیں سنیں جو اس کی عقل ناقص سے بالا تر تھیں تو انہیں مجنون قرار دے دیا۔ (مظہری) ۔ ” فاخذناہ۔ الایۃ “ چنانچہم نے اس کو، اس کے ارکانِ دولت کو اور اس کے لاؤ لشکر کو پکڑ کر دریا میں ڈال کر غرق کردیا۔ فرعون اپنے کفر وعناد اور غرور و استکبار کی وجہ سے تھا ہی قابل ملامت اور لائق مذمت چناچہ اس کو دنیا میں بھی اس کی سزا مل گئی۔