50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsجواھر القرآن

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ف 2 قسم ہے اس قرآن بڑی شان والے کی

2:۔ ” ق، والقرآن المجید “ یہ ترغیب مع زجر ہے۔ ” المجید “ ذو المجد والشرف (مدارک، روح) ۔ بزرگی اور شرف والا۔ ایسا کلام، جو صفات جلالیہ کا حامل ہے اور جس سے صاحب کلام کا جلال و جبروت اور کبریائی و عظمت نمایا ہے جواب قسم محذوف ہے۔ اخفش، مبرد اور زجاج کے نزدیک ” لتبعثن “ (خازن) ۔ ابو حیان کے نزدیک انک جئتہم منذرا بالبعث (بحر ج 8 ص 120) ۔ حضرت شیخ (رح) کے نزدیک انک لرسول حق وان الساعۃ لاتیۃ۔ یعنی یہ صفات جلالیہ کا حامل قرآن شاہد ہے کہ قیامت ضرور آئیگی اور آپ سچے رسول ہیں۔
Ayahs 50:2–3

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ انکو تعجب ہوا3 کہ آیا ان کے پاس ڈر سنانے والا انہی میں سے ہوگا تو کہنے لگے منکر یہ تعجب کی چیز ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مر چکیں اور ہوجائیں مٹی یہ پھر آنا بہت دور ہے

3:۔ ” بل عجبوا “ یہ شکوی ہے۔ بل، اضراب کے لیے ہے۔ اور اس کا معطوف علیہ محذوف ہے ای فشکوا بل عجبوا الخ، یعنی انکا انکار کسی شب ہے پر مبنی نہیں کیونکہ شب ہے کی گنجائش ہی نہیں بلکہ انہیں تعجب ہے کہ انہی میں سے ایک بشر ان کے پاس رسول بنا کر بھیجدیا گیا ہے۔ ” فقال الکافرون الخ “ یہ ان کے تعجب کی تفسیر اور محل تعجب کا بیان ہے۔ جب کفار سے کہا گیا کہ تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کہنے لگے یہ تو بڑی ہی حیرت انگیز بات ہے۔ ” ءاذا متنا الخ “ ، اذا کی جزاء مقدر ہے ای نحشر (الشیخ) ۔ یا نرجع (روح) ۔ کیا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو پھر بھی اٹھائے جائیں گے ؟ یہ بات تو بالکل ناممکن اور غیر معقول ہے اور عقل و امکان سے بہت دور ہے۔ بعید عن العقل (الشیخ) ۔ بعید عن الامکان (بیضاوی، روح) ۔
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

ہم کو4 معلوم ہے جتنا گھٹاتی ہے زمین ان میں سے اور ہمارے پاس کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے

4:” قد علمنا۔ الایۃ “ یہ جواب شکوی ہے۔ یہ کفار کے اس استبعاد کا رد ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو پھر کس طرح زندہ ہوں گے۔ فرمایا مردوں کے اجساد کے جو حصے زمین کھاجاتی ہے وہ ہمیں خوب معلوم ہیں کوئی ذرہ ہمارے عہم سے باہر نہیں۔ اس لیے ان کو دوبارہ زندہ کرلینا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں ای ما تاکل الارض من لحومہم ودمائہم و عظامہم لایعزب عن علمنا شیء (معالم و خازن ج 6 ص 234) ۔ رد لاتبعادھم الرجع لان من لطف علمہ حتی علم ماتنقص الارض من اجساد الموتی وتاکلہ من لحومہم وعظامہم کان قادرا علی رجعہم احیا کما کانوا (مدارک ج 4 ص 134) ۔ ہمارے پاس ایک ایسی کتاب بھی ہے جس میں تمام تفاصیل اشیاء اور اعمال بنی آدم محفوظ ہیں۔ اس سے مراد لوح محفوظ اور علم الٰہی ہے حاصل یہ ہے کہ ہر چیز علم الٰہی میں موجود ہے۔
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

کوئی نہیں پر جھٹلاتے ہیں5 سچے دین کو جب ان تک پہنچا سو وہ بڑ رہے ہیں الجھی ہوئی بات میں

5:۔ ” بل کذبوا۔ الایۃ “ یہ ” بل عجبوا “ سے اضراب ہے۔ الحق الامر الظاھر البین اور اس سے مراد بعث بعد الموت ہے المراد بالحق الاخبار بالبعث (روح ج 26 ص 175) ۔ ” مریج “ مضطرب، ملبس، مختلط (خازن، روح) ۔ مریج، فاسد یقال مرجت اما نات الناس ای فسدت (صراح۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ انہوں نے حشر و نشر پر نہ صرف تعجب و حیرت کا اظہار کیا ہے بلکہ اس واضح اور روشن حقیقت کا صاف صاف انکار کیا ہے اور وہ اس بارے میں مضطرب اور متردد ہیں کبھی شک و تعجب کا ظاہر کرتے ہیں اور کبھی صاف انکار کردیتے ہیں یا وہ ایک غلط اور باطل خیال پر قائم ہیں۔
Ayahs 50:6–8

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے6 آسمان کو اپنے اوپر کیسا ہم نے اس کو بنایا اور رونق دی اور اس میں نہیں کوئی سوراخ

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو پھیلایا اور ڈالے اس میں بوجھ اور اگائی اس میں ہر ہر قسم کی رونق کی چیز سمجھانے کو

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

اور یاد دلانے کو اس بندہ کے لیے جو رجوع کرے

6:۔ ” افلم ینظرو۔ تا۔ واحیینا بہ بلدۃ میتا “ یہ ثبوت قیامت اور حشر نشر پر پہلی اور مفصل عقلی دلیل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ان تمام امور پر قادر ہے، وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” افلم ینظروا الی السماء الخ “ یہ عالم علوی سے استدلال ہے۔ کیا ان منکرین نے اپنے اوپر آسمان کی طرف کبھی نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس خوبی سے محکم بنایا اور ستونوں کے بغیر اسے تھام رکھا ہے۔ اور جگمگاتے ستاروں سے اسے زینت و آرائش بخشی ہے اور اس میں کوئی سوراخ و اور شگاف نہیں۔ ” والارض مددناھا۔ الایۃ “ یہ عالم سفلی کی طرف اشارہ ہے اور زمین کو ہم نے کس طرح بچھا دیا ہے اور اس پر پہاڑ رکھ دئیے ہیں تاکہ اس میں اضطراب پیدا نہ ہو اور اس میں ہم نے ہر قسم کا تروتازہ سزہ پیدا کیا جس سے زمین کی خوبصورتی اور رونق میں اضافہ ہوگیا۔ ” تبصرۃ وذکری۔ الایۃ “ یہ مذکورہ بالا افعال کی علت ہے یعنی ہم نے یہ سب کچھ اس لیے کیا ہے تاکہ خدا کی طرف رجوع کرنے والے اور سمجھنے کا ارادہ کر ھنے والے ہر بندے کو سمجھائیں اور نصیحت کریں۔
Ayahs 50:9–11

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور اتارا ہم نے7 آسمان سے پانی برکت کا پھر اگائے ہم نے اس سے باغ اور اناج جس کا کھیت کاٹا جاتا ہے

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور کھجوریں لمبی ان کا خوشہ ہے تہ پر تہ

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

روزی دینے کو بندوں کے اور زندہ کیا ہم نے اس ایک مردہ دیس کو یونہی ہوگا نکل کھڑے ہونا

7:۔ ” ونزلنا من السماء “ یہاں پھر عام علوی کا ذکر ہے۔ ” مبارکا “ کثیر المنافع۔ ” الحصید “ کھیتی جو پکنے کے بعد کاٹی جاتی جاتی ہے۔ ” باسقات “ ، بلند۔ ” طلع نضید “ پھل کے تہ بتہ گچھے، اور ہم نے آسمان سے مینہ برسایا جس میں بیشمار برکات و منافع ہیں اور اس کے ذریعے سے لہلہاتے باغات اور مختلف اقسام کے غلوں کے سرسبز و شاداب کھیت پیدا کیے اور کھجور کے بلند وبالا درخت پیدا کیے۔ پھل کے تہ بتہ خوشوں سے لدے ہوتے ہیں۔ یہ سب بندوں کی روزی کا سامان ہے۔ ” واحیینا بہ الخ “ یہاں پھر عالم سفلی سے دلیل لائی گئی ہے اور اس بارانِ رحمت سے ہم مردہ اور بنجر زمین میں جان ڈال دیتے ہیں اور اسے زرخیز اور قابل کاشت بنا دیتے ہیں۔ ” کذلک الخروج “ یہ سورت کا مرکزی دعوی ہے۔ جس طرح بارش سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اسی طرح مردے زندہ ہو کر زمین سے نکلیں گے۔ ای کما حییت ھذہ البلدۃ المیتۃ کذلک تخرجون احیاء بعد موتکم (مدارک ج 4 ص 134) ۔
Ayahs 50:12–14

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

جھٹلا چکے8 ہیں ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم ان سب نے جھٹلایا رسولوں کو پر ٹھیک پڑا میرا ڈرانا

8:۔ ” کذبت قبلھم۔ تا۔ فحق وعید “ یہ تخویف دنیوی ہے برائے مکذبین رسل و منکرین قیامت۔ اور یہ ” بل کذبوا بالحق “ سے متعلق ہے یعنی اقوام گذشتہ کی طرح کفار قریش بھی قیامت اور حشر و نشر کا انکار کر رہے ہیں۔ جس طرح ان سرکش قوموں پر اللہ کا عذاب آیا۔ اسی طرح کفار قریش پر بھی آئے گا۔ ” اصحاب الرس “ یہ لوگ ایک کنوئیں پر آباد تھے اور بت پرستی کرتے تھے۔ ان کی طرح حضرت حنظلہ بن صفوان (علیہ السلام) مبعوث ہوئے (بیضاوی، روح) ۔ اصحاب الایکۃ، ان کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ ” قوم تبع “ تبع حمیری مراد ہے جو ایمان لا چکا تھا، لیکن اس کی دعوت اور کوشش کے باوجود اس کی قوم ایمان نہ لائی۔ ” کل کذب الرسل الخ “ ان میں سے ہر قوم نے اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا اور ان کے آوردہ پیغام توحید اور حشر و نشر وغیرہ کا انکار کیا تو وعدہ عذاب ان پر ثابت ہوگیا اور ان کو مختلف انواع عذاب سے دنیا میں تباہ وبرباد کردیا گیا۔
Ayah 50:15

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

اب کیا ہم تھک گئے پہلی بار بنا کر9 کوئی نہیں ان کو دھوکا ہے ایک نئے بنانے میں

9:َ ” افعیینا۔ الایۃ “ یہ زجر ہے۔ منکرین قیامت، بعث بعد الموت کو نہیں مانتے۔ کیا ان کا خیال ہے کہ ہم مخلوق کو پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے اور اب دوبارہ پیدا کرنے کی ہم میں قدرت باقی نہیں رہی ؟ بل ھم فی لبس الخ، نہیں یہ بات نہیں، ہماری قدرت میں تو کوئی فرق نہیں آیا۔ بلکہ وہ خود ہی دوسری پیدائش یعنی بعث بعد الموت کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور اسے بعید از قیاس سمجھے بیٹھے ہیں۔
Ayahs 50:16–18

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے بنایا انسان کو10 اور ہم جانتے ہیں جو باتیں آتی رہتی ہیں اس کے جی میں اور ہم اس سے نزدیک ہیں دھڑکتی رگ سے زیادہ

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب لیتے جاتے ہیں دو لینے والے داہنے بیٹھا اور بائیں بیٹھا

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

نہیں بولتا کچھ بات جو نہیں ہوتا اس کے پاس ایک راہ دیکھنے والا تیار

ٖ 10:۔ ” ولقد خلقنا۔ تا۔ وتقول ھل من مزید “۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ نفسہ کے بعد نحاسبہ مقدر ہے قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ یعنی ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم اس کے دل کے وساوس و خطرات کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہم اس کا محاسبہ کریں گے۔ حبل الورید میں اضافت بیانی ہے اور اس سے مراد رگ حیات ہے جو سر سے شروع ہو کر حلق سے گذرتی ہوئی دل تک پہنچتی ہے۔ ” اذ یتلقی میں اذ، اقرب سے متعلق ہے۔ یعنی جب آدمی کے دائیں بیٹھے ہوئے کراماً کاتبین اس کی باتیں لکھ رہے ہوتے ہیں اس وقت ہم اس کی رگ حیات سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں۔ ” ما یلفظ من قول الخ “ آدمی جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے اسے لکھنے کیلئے ایک نگران ہر وقت تیار ہوتا ہے۔ نیک بات ہو تو صاحب الیمین (دائیں جانب والا) اور اگر گناہ کی بات ہو تو صاحب الشمال (بائیں جانب والا) لکھ لیتا ہے۔
Ayahs 50:19–21

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور وہ آئی بیہوشی موت کی11 تحقیق یہ وہ ہے جس سے تو ٹلتا رہتا تھا

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور پھونکا گیا صور یہ ہے دن ڈرانے کا

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور آیا ہر ایک جی اس کے ساتھ ہے ایک ہانکنے والا اور ایک احوال بتلانے والا

11:۔ ” وجاءت۔ الایۃ “ یہ سکرات الموت کا منظر ہے۔ ذلک سے پہلے یقال لہ مقدر ہے۔ بالھق ای حقیقۃ الامر (بیضاوی) ۔ یعنی موت کی شدت حقیقۃ اور واقعۃ ضرور آئے گی اس وقت منکرین بعث سے کہا جائے گا کہ یہی وہ موت ہے جس سے تم بھاگتے تھے اور جو قیامت اور حشر و نشر کا دیباچہ ہے۔ ” ونفخ فی الصور الخ “ اس کے بعد صورت پھونکا جائیگا اور یہ وعید عذاب کے پورا ہونے کا دن ہوگا۔ اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے جس سے ساری مخلوق ایک دم جی اٹھے گی۔ ” وجاءت کل نفس۔ الایۃ “ اس کے بعد ہر شخص میدانِ حشر میں حاضر ہوگا اور ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے ایک اسے میدان حشر کی طرف لے کر جائیگا اور دوسرا اس کے اعمال کا گواہ ہوگا۔ ایک حدیث میں ہے اس سے نیکیاں اور برائیاں لکھنے والے دو فرشتے مراد ہیں ایک سائق ہوگا اور دوسرا شہید۔ وفی حدیث اخرجہ ابو نعیم فی الحلیۃ عن جابر مرفوعا تصریح بان ملک الحسنات و ملک السیئات احدھما سائق والاخر شہید (روح ج 26 ص 183) ۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

تو بیخبر رہا12 اس دن سے اب کھول دی ہم نے تجھ پر سے تیری اندھیری سو تیری نگاہ آج تیز ہے

12:۔ ” لقد کنت۔ الایۃ “ اس سے پہلے ” یقال لہ “ مقدر ہے (روح) ۔ ھذا سے کتاب اعمال (حضرت الشیخ) یا یوم حشر مراد ہے مجرم کے ہاتھ میں اس کا اعمالنامہ تھما کر اس سے کہا جائیگا کہ تو اب تک اس سے بیخبر رہا یا یوم حشر سے غافل رہا آج ہم نے تیری آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا ہے اور تیری نظر تیز ہوچکی ہے اور تو اپنا اعمالنماہ خود پڑھ سکتا ہے اور شدائد حشر اور انواع عذاب کا خود مشہادہ کر رہا ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر کافر کو بھی بصیرت حاصل ہوجائے گی اور وہ حق کو مان لیں گے لیکن باوجود کل احد یکون یوم القیامۃ مستبصرا حتی الکفار فی الدنیا یکونون یوم القیامۃ علی الاستقامۃ لکن لاینفعہم ذلک (ابن کثیر ج 4 ص 325) ۔
Ayahs 50:23–25

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور بولا فرشتہ اس کے13 ساتھ والا یہ ہے جو میرے پاس تھا حاضر

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

ڈال دو تم دونوں دوزخ میں ہر ناشکر مخالف کو

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

نیکی سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا شبہ ڈالنے والا

13:۔ ” وقال قرینۃ۔ الایۃ “ قرین سے مراد فرشتہ ہے جو آدمی کے اعمال پر مؤکل ہے وہ کافر کا اعمالنامہ پیش کر کے عرض کرے گا کہ میرے پاس تو یہی اس کے اعمال ہیں جو کمی بیشی کے بغیر حاضر ہیں۔ ” القیا فی جہنم “ بعض کے نزدیک القیا صیغہ واحد ہے اور الف نون ثقیلہ سے مبدل ہے۔ اور بعض کے نزدیک تثنیہ تکرار کے لیے ہے برائے افادہ تاکید (روح) اور بعض کے نزدیک صیغہ تثنیہ ہے لیکن خطاب واحد کو ہے کیونکہ عرب عام طور پر واحد کو صیغہ تثنیہ سے خطاب کرتے ہیں (ابن کثیر) ۔ امام ابن جریر اور دیگر حضرات کے نزدیک خطاب تثنیہ سائق اور شہید سے ہے (ابن جریر) ۔ اور حضرت الشیخ قدس سرہ فرماتے ہیں تثنیہ حقیقت پر محمول ہے اور اس سے تکرار وغیرہ مراد نہیں بلکہ اس سے وہ دونوں فرشتے مراد ہیں جو سر اور پاؤں سے پکڑ کر اسے دوزخ میں پھینکیں گے جیسا کہ ارشاد ہے۔ یعرف المجرمون بسیماھم فیؤخذ بالنواصی والاقدام (الرحمن رکوع 2) ، للہ در الشیخ (رح) افاد فادجاد۔ ” عنید “ سرکشی۔ ” مناع للخیر “ اسلام سے شدت کے ساتھ روکنے والا۔ ” معتد “ بےانصاف حدود حق سے تجاوز کرنے والا اور توحید کا منکر۔ ” مریب، اللہ کی وحدانیت اور حشر و نشر میں شک کرنے والا اور دوسروں کو شبہات میں ڈالنے والا (ابن کثیر، بیضاوی، مظہری، خازن) ۔ ان دونوں فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان بھیڑوں کو جہنم کے سخت ترین عذاب میں ڈال دو ۔ یہ ان تمام برائیوں سے بڑھ کر خدا کے ساتھ شرک بھی کیا کرتے تھے۔
Ayahs 50:26–27

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے ٹھہرایا14 اللہ کے ساتھ اور کو پوجنا سو ڈال دو اس کو سخت عذاب میں

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

بولا شیطان اس کا ساتھی، اے رب ہمارے میں نے اس کو شرارت میں نہیں ڈالا پر یہ تھا راہ کو بھولا دور پڑا ہوا

14:۔ ” الذی جعل۔ الایۃ “۔ مسئلہ توحید کا ذکر ہے علی سبیل الترقی بنسبت سورة سابقہ یعنی جس نے اللہ کے سوا کسی اور کو معبود اور کارساز بنایا اور غیر اللہ سے متصرف و مختار جان کر حاجات میں مصائب میں پکارا اسے سخت ترین عذاب میں پھینک دو ۔ ” قال قرینہ۔ الایۃ “ یہاں قرین سے شیطان مراد ہے یہ ایک کلام مقدر کا جواب ہے۔ کافر معذرت کرے گا کہ بارے الٰہا ! میرا کوئی قصور نہیں، مجھے تو شیطان نے گمراہ کیا ہے تو شیطان (قرین) جواب دے گا ہمارے پروردگار ! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، بلکہ وہ خود گمراہ تھا اور راہ ہدایت سے کوسوں دور تھا (مدارک، روح) ۔
Ayahs 50:28–29

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

فرمایا جھگڑا نہ کرو15 میرے پاس اور میں پہلے ہی ڈرا چکا تھا تم کو عذاب سے

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

بدلتی نہیں بات میرے پاس اور میں ظلم نہیں کرتا بندوں پر

15:۔ ” قال لا تختصموا حکم ہوگا اب مت جھگڑو، اب جھگڑنے سے کوئی فائدہ نہیں، میں تم سب کیلئے دنیا ہی میں عذاب کا فیصلہ کرچکا ہوں۔ اس سے لاملئن جہنم منک وممن تبعک منہم اجمعین (سورۃ ص) مراد ہے (خازن، روح) ۔ اس لیے تم سب تابع و متبوع جہنم میں جاؤ گے۔ ” مایبدل القول لدی۔ الایۃ “ میرے یہاں فیصلے تبدیل نہیں ہوا کرتے۔ میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ ابلیس کی پیروی کرنے والوں کو جہنم کا ایندھن بناؤں گا اور میں بندوں پر ظلم بھی نہیں کرتا اور کسی کو ناکردہ گناہ کی سزا نہیں دیتا ہوں۔ حضرت شیخ (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں ” القول “ میں الف لام عہد خارجی کے لیے ہے اور اس سے ” القیا فی جہنم الخ “ والا قول مراد ہے یعنی میں ان مجرموں کو جہنم میں ڈالنے کا حکم دے چکا ہوں اور اب اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

جس دن ہم کہیں دوزخ کو16 تو بھر چکی اور وہ بولے کچھ اور بھی ہے

16:۔ ” یوم نقول۔ الایۃ “ یوم فعل مقدرا انذر کا مفعول ہے یا ظلام سے متعلق ہے یعنی اس دن سے لوگوں کو ڈرا دیا جس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا کفار و مشرکین سے تیرا پیٹ بھر گیا ہے اور تو سیر ہوگئی ہے اور وہ عرض کرے گی میرا پیٹ تو ابھی نہیں بھرا کیا ابھی مزید کفار و مشرکین ہیں ؟ اس دن ہم بندوں سے بےانصافی نہیں کریں گے اور کسی کو بلا قصور سزا نہیں دیں گے۔
Ayahs 50:31–32

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور نزدیک لائی جائے گے17 بہشت ڈرنے والوں کے واسطے دور نہیں

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہ ہے جس کا وعدہ ہوا تھا تم سے ہر ایک رجوع رہنے والے یاد رکھنے والے کے واسطے

17:۔ ” وازلفت۔ تا۔ ولدینا مزید “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” غیر بعید “ مصدر محذوف کی صفت ہے اور ازلفت کا مفعول مطلق ہے برائے تاکید۔ ای ازلافا غیر بعید (روح) ۔ جو لوگ شرک اور معاصی سے بچنے والے ہیں جنت بالکل ان کے قریب اور سامنے کردی جائیگی۔ ” ھذا ما توعدون۔ الایۃ “ اس سے پہلے ” ویقال لہم “ مقدر ہے اور ان سے کہا جائیگا یہ ہے وہ جنت جس کا تم میں سے ہر اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور اپنی گناہوں کو یاد کر کے توبہ کرنے والے کے لیے وعدہ کیا جاتا تھا۔ قال لی مجاھد : الا انبئک بالاواب الحفیظ ؟ ھو الرجل یذکر ذنبہ اذا خلا فیستغفر اللہ تعالیٰ منہ۔ (روح ج 26 ص 189) ۔
Ayahs 50:33–35

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو ڈرا رحمان سے18 ن دیکھے اور لایا دل رجوع ہونے والا

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

چلے چاؤ اس میں سلامت یہ دن ہمیشہ رہنے کا

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان کے واسطے وہ جو وہاں چاہیں گے اور ہمارے پاس کچھ زیادہ بھی ہے

18:َ ” من خشی۔ الایۃ “ یہ المتقین یا اواب سے بدل ہے (بحر، روح) ۔ اس صورت میں ادخلوھا سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہوگا یا مبتدا ہے اور ادخلوھا بتقدیر یقال لہم اس کی خبر ہے (مدارک) ۔ یا منادی ہے اور حرف نداء محذوف ہے ای یا من خشی الرحمن الخ، اور ادخلوھا الخ، مقصود بالنداء ہے (الشیخ (رح) تعالیٰ ) ۔ ” بالغیب “ یعنی اللہ کو دیکھے بغیر اس کے عذاب سے ڈرتا رہا یعی خشی عقابہ وھو غائب من اللہ تعالیٰ یعنی فی الدنیا حین لم یرہ (مظیر ج 9 ص 73) ۔ ” قلب منیب “ اللہ کی طرف رجوع وانابت کرنے والا دل۔ یعنی یہ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو بغیر دیکھے خدا کے عذاب سے ڈرتے رہے اور اللہ ہی سے لو لگائے رکھی، اس کے اوامر کی اطاعت کرتے رہے اور معاصی مجتنب رہے۔ ” بسلام “ یعنی جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہاں عذاب اور ہر فکر و غم سے محفوظ و سلامت رہوگے، جنت کی نعمتیں زوال سے محفوظ ہوں گی اور تم موت سے محفوظ ہوگے۔ ” ذلک یوم الخلود “ اس طرح آج کا دن خلود اور دائمی زندگی کی ابتداء ہے۔ ” لہم ما یشاؤون۔ الایۃ “ جنت میں انہیں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے بلکہ وہاں اور بھی بیشمار نعمتیں ہوں گی جو ان کے وہم و خیال اور ان کی خواہش سے باہر ہوں گی۔
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور کتنی تباہ کرچکے ہم ان سے پہلے جماعتیں19 کہ ان کی قوت زبردست تھی ان سے پھر لگے کریدنے شہروں میں کہیں ہے بھاگ جانے کو ٹھکانہ

19:۔ ” وکم اھلکنا یہ تخویف دنیوی ہے۔ بطشا، قت یا شدید گرفت۔ نقبوا فی البلاد، انہوں نے مختلف حیلوں اور تدبیروں سے شہروں پر قبضہ جمایا اور ان کو تابع کرلیا۔ اس صورت میں ھل من محیص علیحدہ جملہ ہوگا یعنی انہوں نے شہروں کو تو تابع کرلیا۔ لیکن کیا ہمارے عذاب سے بھی بچ سکے ؟ یا مطلب یہ ہے کہ ہمارے عذاب کے وقت اس سے بچنے کے لیے بہت حیلے کیے، لیکن کیا ہمارے عذاب سے خلاصی ہوئی ؟ اب یہ جملہ ما قبل کے ساتھ مرتبط ہوگا۔ دور درواز شہروں کے سفر کرتے رہے۔ سارو فیہا یبتغون الارزاق والمتاجر والمکاسب اکثر مما تخاطقتم انتم بھا ؟ (ابن کثیر ج 4 ص 229) ۔ مکہ والوں سے پہلے ہم نے بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ہے جو قوت و شوکت میں ان سے زیادہ تھیں اور ذرائع دولت بھی ان کے پاس زیادہ تھے اور عذاب سے بچنے کے لیے بھی انہوں نے بہت بھاگ دوڑ کی اور بہت حیلے کیے تو کیا کسی چیز نے قوت و شوکت نے، مال و دولت نے یا حیلہ سازی نے ان کو اللہ کی قضاء سے اور اس کے عذاب سے بچا لیا استفہام انکاری ہے یعنی کوئی چیز بھی ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔
Ayah 50:37

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

اس میں سوچنے کی جگہ ہے20 اس کو جس کے اندر دل ہے یا لگائے کان دل لگا کر

20:۔ ” ان فی ذلک۔ الایۃ “۔ قلب، عقل۔ القی السمع، غور سے سا۔ اقوام گذشتہ کی تباہی میں ہر اس شخص کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو صاحب عقل وہوش ہو اور دل کو حاضر کر کے غور سے سننے کا عادی ہو (خازن) ۔
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے بنائے21 آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں اور ہم کو نہ ہوا کچھ تکان

21:۔ ” ولقد خلقنا۔ الایۃ “ یہ ثبوت قیامت کے لیے دوسری اور مختصر عقلی دلیل ہے۔ لغوب، تھکاوٹ۔ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان جو مخلوق ہے سب کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس سے ہمیں کسی قسم کی تھکن اور کمزوری لاحق نہیں ہوئی۔ جو ذات قادر و توانا ساری کائنات کو پیدا کر کے بھی نہ تھکے اور کمزور نہ ہو مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ من قدر علی خلق العالم فھو قادر علی بعثہم والانتقام منہم (مظہری ج 9 ص 75) ۔
Ayahs 50:39–40

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

سو تو سہتا رہ جو22 وہ کہتے ہیں اور پاکی بولتا رہ خوبیاں اپنے رب کی پہلے سورج کے نکلنے سے اور پہلے ڈوبنے سے

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور کچھ رات میں بول اس کی پاکی اور پیچھے سجدہ کے

22:۔ ” فاصبر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ طلوع آفتاب سے قبل نماز فجر، غروب آفتاب سے قبل نماز ظہر اور عصر، اور من اللیل نماز مغرب اور عشاء اور ادبار السجود، فرائض کے بعد سنن و نوافل (خازن، مظہری، مدارک وغیرہ) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت صرف دو نمازیں فجر اور عصر اور رات کو نماز تہجد مشروع تھی قبل طلوع الشمس سے نماز فجر، قبل الغروب سے نماز عصر، من اللیل سے نماز تہجد اور ادبار السجود سے نوافل مراد ہیں۔ یعنی مشرکین کی بےتکی باتوں اور ان کے بےجا مطاعن و اعتراضات پر آپ صبر کریں اور اللہ کی تسبیح وتحمید بجا لاتے رہیں۔” سبح بحمد ربک “ میں عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے توحید کا بیان ہے۔