Ayah 49:12:۔ یا ایہا الذین امنوا لاتقدموا۔ الایۃ “ بشارت فتح کے بعد آداب وقوانین کا بیان ہے تاکہ نظم و نسق درست رہے۔ یہ پہلا قانون ہے جو باقی قوانین کی بنیاد اور اساس ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیشقدمی نہ کرو یعنی اللہ و رسول کے احکام کی مخالفت نہ کرو بلکہ ان کی اطاعت کرو۔ المراد النھی عن مخالفۃ الکتاب والسنۃ (روح ج 26 ص 123) ۔ اور اللہ سے ڈرو یعنی اس کے احکام کی مخالفت نہ کرو اور اس کی اطاعت کرو۔ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے تمہارے اقوال وافعال سے وہ اچھی طرح باخبر ہے، وہ مطیع وعاصی کو خوب جانتا ہے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء اور سزا دے گا۔ یہ قانون تمام قوانین کا اصل الاصول ہے کیونکہ تمام قوانین اللہ و رسول کے احکام ہی تو ہیں۔
Ayah 49:23:۔ ” یا ایہا الذین امنوا لا ترفعوا “ یہ دوسرا قانون ہے اور اس میں رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کرنے اور آپ کی مجلس میں باہم باتیں کرنے کا ادب سکھایا گیا ہے فرمایا جب تم پیغمبر (علیہ السلام) سے گفتگو کرو تو تمہاری آواز آپ کی آواز سے اونچی نہ ہونے پائے، بلکہ تمہاری آواز آپ کی آواز سے پست رہے۔ نیز جب تم آپ ﷺ کی مجلس میں باہم باتیں کرو اور تمہاری آوازیں آپ کی مجلس میں بلند نہ ہونے پائیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ آپ سے خطاب کرتے وقت بلند آواز سے باتیں نہ کرو۔ جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے اونچی آواز میں باتیں کرتے ہو اور آپ کو آپ کے نام سے بھی نہ پکارو بلکہ اوصاف سے پکارو۔ جس طرح بادشاہوں کے درباروں میں آوازیں بلند نہیں کی جاتیں۔ یہ بادشاہوں کے درباروں میں آوازیں بلند نہیں کی جاتیں۔ یہ بادشاہوں کے درباروں کے آداب میں سے ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ جو بادشاہوں کے بھی مقتداء ہیں یہ بات آپ کی مجلس کے بھی آداب میں سے ہے۔ یعنی لاترفعوا اصواتکم عندہ ولا تنادوہ کا ینادی بعضکم بعضا بان تخاطبوہ باسمہ او کنیتہ بل یجب علیہ تبجیلہ و تعظیمہ ومراعاۃ ادابہ وخفض الصوت بحضرتہ وخطابہ بالنبی والرسول ونحو ذالک (مظہری ج 9 ص 41) ۔ کانہ قیل لا ترفعوا اصواتکم فوق صوتہ اذا نطق و نطقتم ولا تجہروا لہ بالقول اذا سکت وتکلمتم (روح ج 26 ص 135) ۔ ” ان تحبط الخ “ یہ ماقبل کی علت ہے اور لا ترفعوا اور لاتجہروا کا علی سبیل التنازع مفعول لہ ہے۔ وان تحبط مفعول لہ والعامل فیہ ولا تجھروا علی مذھب البصریین فی الاختیار ولا ترفعوا علی مذھب الکوفیین فی الاختیار (بحر ج 8 ص 106) ۔ مقصد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے سامنے رفع اصوات اور شور و غوغا سے آپ کی اذیت کا اندیشہ ہے اور آپ کو اذیت دینا کفر اور حبط اعمال کا موجب ہے۔ گویا یہ نہی سد ذریعہ کے طور پر ہے اور یہ ضروری نہیں کہ رفع صورت اور ہر جہر موجبِ ایذاء رسول ہو۔ کیونکہ یہ صرف اسی وقت ہوگا جب رفع صوت اہانت و استخفاف کے طور پر ہو۔ انھی عن الفعل المعلل باعتبار التادیۃ لان فی الجھر والرفع استخفافا قد یؤدی الی الکفر المحیط وذلک اذا انضم الیہ قصد الاھانۃ وعدم المبالاۃ (بیضاوی) ۔ فورد النھی عما ھو مظنۃ لاذی النبی ﷺ سواء وجد ھذا المعنی او لا ھدما للذریعۃ وحسما للمادۃ (روح، ج 26 ص 136) ۔
Ayah 49:34:۔ ” ان الذین یغضون “ یہ آواز پست رکھنے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ ” امتحن اللہ الخ “ اللہ نے ان کے دلوں کو امتحان و ابتلا میں ڈال کر غل و غش اور کھوٹ سے پاک اور کھرا کر کے ان کو تقوی اور خوف خدا کے لیے مخصوص کردای ہے۔ قال الفراء ای اخلصہا للتوقوی وقال ابن عباس طھرھم من کل قبیح، وجعل فی قلوھم الخوف من اللہ والتقوی (قرطبی ج 16 ص 308) ۔ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی مجلس کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کے سامنے آواز پست رکھتے ہیں ان کے دلوں کو اللہ نے تقوی سے لبریز کردیا ہے اور آداب رسول اللہ ﷺ کی مجلس کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کے سامنے آواز پست رکھتے ہیں ان کے دلوں کو اللہ نے تقوی سے لبریز کردیا ہے اور آداب رسول ﷺ کا پاس اور لحاظ ان کے دلوں کی اسی قلبی کیفیت ہی کا نتیجہ ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے گناہوں کی معافی ہے اور ان کے لیے بہت بڑا اجر وثواب ہے۔
Ayahs 49:4–55:۔ ” ان الذین ینادونک “ یہ دیہاتیوں کی ایک جماعت پر زجر ہے۔ بنی تمیم کے اعرابیوں کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوا۔ جب وہ لوگ مسجد نبوی میں پہنچے اس وقت آپ اپنے کسی حجرے میں تشریف فرما تھے انہوں نے آپ کی حجرہ شریفہ سے باہر تشریف آوری کا انتظار کیے بغیر ہی باہر سے یا محمد اخرج الینا کہنا شروع کردیا۔ یعنی اے محمد ! آپ باہر آئیں۔ ان کی تنبیہہ کیلئے یہ آیتیں نازل ہوئیں (روح) جو لوگ حجروں سے باہر کھڑے ہو کر آوازیں دیتے ہیں ان میں اکثر نادان ہیں اور آداب نبوت سے بیخبر ہیں۔ اگر وہ ذرا صبر و تحمل سے کام لیتے اور آپ کی باہر تشریف آوری کا انتظار کرتے تو یہ ان کے لیے بہت بہتر بات تھی جس کی وجہ سے ان کا وقار اور ان کی عزت بھی قائم رہتی اور وہ ثواب کے مستحق بھی ہوتے۔ لیکن بیخبر ی اور نادانی میں جب کسی سے کوئی گناہ ہوجائے اور علم کے بعد انسان اس سے اجتناب کرے، تو اللہ تعالیٰ پہلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ یہ اس کی انتہائی رحمت اور مہربانی ہے۔
Ayah 49:66:۔ ” یا ایہا الذین امنوا ان جاء کم “ یہ تیسرا قانون ہے کہ جب تمہیں کسی قوم کے بارے میں مخالفت کی خبر ملے تو اس کے خلاف کسی قسم کی جنگی کارروائی کرنے سے پہلے اس خبر کی پوری تحقیق کرلو ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کسی قوم کو نقصان پہچنا دو اور بعد میں تمہیں اپنے کیے پر نادم و پشیمان ہونا پڑے۔ ” ان تصیبوا ای لئلا تصیبوا او کراھیۃ ان تصیبوا “ (روح) ۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ولید بن عقبہ ؓ کو بنی مصطلق میں صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب بنی مصطلق کو ان کی آمد کا علم ہوا تو وہ استقبال کے لیے گاؤں سے باہر نکل آئے۔ اسلام سے پہلے ان کے اور ولید بن عقبہ ؓ کے درمیان مخالفت تھی۔ انہوں نے سمجھا شاید یہ لوگ مجھے مارنے پر آمادہ ہیں چناچہ وہیں سے واپس آ کر آنحضرت ﷺ سے سارا ماجر بیان کیا لیکن تحقیق حال کے بعد حقیقت اس کے برعکس نکلی اور ولید بن عقبہ کو محض غلط فہمی ہوئی تھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ غلط نتیجہ نکالا کہ اس آیت میں ولید بن عقبہ کو فاسق کہا گیا ہے۔ لیکن یہ بات کئی وجوہ سے درست نہیں۔ اول اس لیے کہ جن روایتوں میں ولید بن عقبہ کا نام مذکور ہے ان میں سے کوئی روایت بھی صحیح اور جرح سے خالی نہیں وہ سب روایتیں منقطع ہیں (العواصم۔ حواشی از محب الدین خطیب) ۔ دوم صحیح روایت سے ثابت ہے کہ فتح مکہ کے دن ولید بن عقبہ خورد سالہ بچوں میں تبریک کی خاطر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیے گئے، آپ نے سب کے سروں پر ہاتھ پھیرا مگر ان کے سر پر ہاتھ نہ پھیرا، کیونکہ ان کے سر میں خلوق (ایک قسم کی خوشبو) لگی تھی اور وہ آپ کو ناپسند تھی۔ جو شخص فتح مکہ کے دن بچوں میں شامل ہے وہ چند ماہ بعد اس قابل کس طرح ہوگیا کہ اسے بنی مصطلق میں عامل بنا کر بھیجدیا گیا۔ عن الولید بن عقبۃ قال لما فتح رسول اللہ ﷺ مکۃ جعل اھل مکۃ یاتونہ بصبیانہم فیمسح علی رؤوسہم و یدعو لھم فجیئ بی الیہ وانی مطیب بالخلوق ولم یمسح علی راسی ولم یمنعہ من ذلک الا ان امی خلقنی بالخلوق فلم یمسنی من اجل الخلوق (مسند احمد ج 4 ص 23، سنن ابی داؤود ج 2 ص 576) ۔ سوم اس لیے کہ یا ایہا الذین امنوا میں خطاب عام مومنین سے ہے اور فاسق سے بھی عام فاسقین مراد ہیں اور فاسق کا ذکر مبالغہ فی الحکم کے لیے ہے یہ مقصود نہیں کہ جس قصہ میں اس کا نزول ہوا ہے اس سے متعلق شخص کو فاسق کہا گیا ہے لہذا اس سے حضرت ولید ؓ کا فاسق ہونا لازم نہیں آتا۔ افادہ الشیخ تھانوی (رح) تعالی۔
Ayahs 49:7–8ٖف 7:۔ ” واعلموا ان فیکم “ یہ پہلے قانون سے متعلق ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت نہ کرو۔ آپ پر تمہاری اطاعت ضروری نہیں، بلکہ تم پر آپ کی اطاعت لازم و فرض ہے۔ اگر پیغمبر (علیہ السلام) تم میں سے ہر ایک کے مشورے پر عمل کرنے لگیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے بعض خلاف صواب مشوروں پر عمل کرنے کی وجہ سے تم کئی مشقتوں میں پڑجاؤ گے۔ تم میں اللہ کا رسول موجود ہے اس لیے تم آپ کے احکام کی پیروی کرو اور اپنی ہر بات منوانے پر زور نہ دو ۔ جب آنحضرت ﷺ کو بنی مصطلق کے ارتداد کی خبر ملی جو خلاف واقع تھی۔ اس وقت بہت سے صحابہ ؓ نے یہ رائے دی کہ فورًا ان پر چڑھا کرنی چاہئے، لیکن آپ نے پہلے کشف حقیقت اور تحقیق حال کا حکم فرمایا اس آیت میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ ” ولکن اللہ الخ ‘ ان کی طرف سے اس فوری اقدام کے مشورے کا عذر بیان کیا گیا ہے کہ ایمان سے فرط محبت اور کفر و عصیان سے دلی نفرت کی وجہ سے انہوں یہ مشورہ دیا تھا مگر حقیقت میں صحیح اقدام وہی تھا جس کا پیغمبر (علیہ السلام) نے حکم دیا تھا کہ تحقیق حال سے پہلے حملہ نہ کیا جائے۔ و معنی الایۃ لکن ما صدر منکم من ترک التثبت انما کان لحبکم الایمان و بغضکم الکفر فلا لوم علیکم ولا اثم (مظہری ج 9 ص 47) ، استدراج ببیان عذرھم وھو ان فرط حبہم الایمان وکراھتہم الکفر حملہم علی ذلک (بیضاوی) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ” لکن “ موضوع لہ کے اعتبار سے ماقبل کے ساتھ مرتبط نہیں ہوسکتا اس لیے سیاق وسباق کے اعتبار سے معنی یہ ہوگا کہ لیکن اللہ تعالیٰ کو تمہارے دلوں میں ایمان کو محبوب بنانا اور تمہیں کفر اور فسوق و عصیان سے متنفر کرنا مقصود ہے اس لیے اس نے تم پر پیغمبر (علیہ السلام) کی اطاعت فرض کی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت صحابہ کرام ؓ کے نہایت بلند مناقب بیان فرمائے ہیں۔ ایمان کو ان کے دلوں کا محبوب بنادیا اور ایمان سے ان کے دلوں کو منور و مزین فرمادیا۔ اور ان کے دلوں کو کفر اور فسوق و عصیان سے متنفر کردیا۔ پھر فرمایا یہ لوگ ہی در حقیقت رشد و ہدایت کی راہ پر گامزن ہیں۔ اور یہ ان پر اللہ کا فضل و انعام ہے کہ اس نے ان کو ایمان کے اس بلند مقام پر فائز فرمایا یہ سب کچھ ان کے ایمان واخلاص، اطاعت و جاں نثاری اور ظاہر و باطن کی سچائی کا ثمرہ ہے کیونکہ اللہ تعالیی سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔
Ayah 49:98:۔ ” وان طائفتان “ یہ چوتھا قانون ہے پیغمبر (علیہ السلام) کی اطاعت کے بعد تم پر لازم ہے کہ تم مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی کوشش کرو، تاکہ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق قائم رہے اگر مسلمانوں کی دو جماعتوں میں لڑائی جھگڑا ہوجائے تو ان کے درمیان صلح صفائی کرا دو ۔ اگر دونوں میں ایک جماعت پند و نصیحت کو قبول نہیں کرتی اور صلح پر آمادہ نہیں ہوتی، بلکہ ناحق زیادتی پر اتر آتی ہے تو اس باغی جماعت سے یہاں تک قتال کرو کہ وہ اللہ کے حکم یعنی صلح پر آمادہ ہوجائے۔ اگر باغی جماعت صلح پر آمادہ ہوجائے تو دونوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور کسی پر زیادتی نہ ہونے دو ۔ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
Ayah 49:109:۔ ” انما المؤمنون “ یہ ماقبل سے متعلق ہے اور اصلاح احوال کی ترغیب و تلقین ہے تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں ان کے درمیان اسلامی اخوت کا جو رشتہ ہے وہ ناقابل انقطاع ہے۔ اس لیے اگر دو مسلمان بھائیوں کے درمیان کبھی تلخی پیدا ہوجائے تو اس کی اصلاح کرنے کوشش کرو اور اس سے ہوا دینے کی کوشش نہ کرو۔ اور ہمیشہ خدا سے ڈرتے رہو اور مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے میں کبھی کوتاہی اور سستی نہ کرو تاکہ تم پر اللہ کی رحمت نازل ہو۔
Ayah 49:1110:۔ ” یا ایہا الذین امنوا لایسخر۔ الایۃ “ یہ پانچواں قانون ہے جس میں معاشرت کے کئی آداب ذکر کیے گئے ہیں۔ اول یہ کہ مردوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی تحقیر و توہین نہ کریں اور ان کا مذاق نہ اڑائیں اور نہ ان کے عیوب و نقائص کو اس انداز میں بیان کریں جس سے ان کی تحقیر ہو اور وہ لوگوں کے لیے ہنسی مذاق بن جائیں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جن کا وہ مذاق اڑائیں وہ ایمان و عمل صالح کی وجہ سے خدا کے نزدیک ان سے بہتر ہوں۔ اسی طرح عورتوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی مسلمان بہنوں کا مذاق نہ اڑائیں ہوسکتا ہے کہ جن کی تحقیر کر رہی ہوں وہ اللہ کے نزدیک ان سے بہت بہتر ہوں۔ اور جو اپنے سے بہتر ہو اس کو حقیر سمجھنا بہ بڑا جرم ہے، بلکہ ایک مسلمان کی یہ شان ہی نہیں۔ دوم ” ولا تلمزوا انفسکم “ انفسکم سے مومنین مراد ہیں گویا تمام مسلمان ایک جان کی مانند ہیں اور جو شخص اپنے مسلمابھائی کو طعنہ دیتا ہے گویا وہ خود اپنی ذات کو طعنہ دے رہا ہے یعنی ایک دوسرے کو طعنے مت دو ۔ اور اگر کسی میں کوئی عیب دیکھو تو اچھے طریقے سے اس کی اصلاح کرو۔ ” لایغتب بعضکم بعضا “ او اشارۃ لان المؤمنین کنفس واحدۃ فمتی عاب المؤمن المؤمن فکانہ عاب نفسہ (روح ج 26 ص 153) ۔ سوم ” ولا تنابزوا بالالقاب “ اپنے بھائیوں کو برے ناموں سے نہ بلاؤ اور نہ ان کے ناموں کو بگاڑو کسی شخص کو ایسے لقب سے پکارنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو یا اس کے نام کو بگاڑنا جائز اور حرام ہے۔ والنبز لقب السوء والتلقیب المنھی عنہ ھو مایتداخل المدعو بہ کراھۃ لکونہ تقصیرا بہ وذما لہ واما ما یجبہ فلا باس بہ (مدارک ج 4 ص 130) ۔ وہ لقب بہت ہی برا ہے جس سے ایک مسلمان کو یاد کیا جائے جو ایمان کے بعد قائل کے فسق کا موجب ہو یعنی جس کی وجہ سے کہنے والا فاسق ہوجائے اس لیے مسلمانوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اور جن لوگوں نے ان مذکورہ بالا تینوں افعال مذمومہ سے توبہ نہ کی وہ ظالم اور بےانصاف ہیں اور اپنے آپ کو عذاب خداوندی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
Ayah 49:1211:۔ ” یا ایہا الذین امنوا اجتنبوا۔ الایۃ “ یہ چھٹا قانون ہے۔ اس میں بھی تین آداب معاشرت مذکور ہیں۔ اول یہ کہ بدگمانی سے اجتناب کرو اور محض ظن وتخمین کی بناء پر کوئی حکم نہ لگاؤ اور نہ کسی کو الزام دو ، کیونکہ بعض گمان غلط اور موجب گناہ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ایسے قرائن موجود ہوں جو ظن کو غالب اور یقین کے قریب کردیں اور اس کے خلاف کوئی قرینہ بھی موجود نہ ہو تو اس پر عمل کیا جائیگا۔ باقی صلحاء امت خصوصًا صحابہ کرام ؓ کے ساتھ تو ہر حال میں حسن ظن رکھنے کا حکم ہے۔ ان کے بارے میں بدگمانی کرنا جائز نہیں۔ دوم : ” ولا تجسسوا “ یعنی ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے عیوب و نقائص نہ تلاش کرو اور ان کے پوشیدہ احوال کی جستجو نہ کرو۔ والمراد ھھنا لاتبحثوا عن عیوب الناس ولا تتبعوا عوراتھم حتی لا یظھر علیکم ماسترہ اللہ منہا (مظہری ج 9 ص 54) سوم ” ولا یغتب بعضکم بعضا “ اور پس پشت کسی کی برائی اور غیبت نہ کرو۔ مسلمان بھائی کی پیٹھ پیچھے برائی کرنا اور اس کی عزت و آبرو کو پامال کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھالیا۔ جس طرح تم اس کو ناپسند کرو گے اس طرح مسلمان بھائی کی غیبت اور پس پشت بد گئی سے بھی نفرت کرو۔ اللہ کے ان احکام کی تعمیل کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو، جو لوگ اس کی اطاعت کرتے اور اس کی نافرمانی سے بچتے ہیں ان پر وہ بہت ہی مہربان ہے اور جو گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ان کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ لانہ تعالیٰ تو اب رحیم لمن اتقی واجتنب مانھی عنہ وقاب مما فرط منہ (روح ج 26 ص 159) ۔
Ayah 49:1312:۔ ” یا ایہا الناس۔ الایۃ “ یہ ساتواں قانون ہے۔ اس میں نسبی تفاخر سے منع فرمایا کہ اللہ کی بارگاہ میں عزت و کرام کا مدار حسب و نسب نہیں بلکہ ایمان وتقوی اور عمل صالح ہے۔ شعوب، شعب کی جمع ہے یعنی بڑا خاندان جس کے نیشے کئی چھوٹے چھوٹے قبیلے ہوں۔ قبائل، قبیلۃ کی جمع ہے یعنی بڑے خاندان کی شاخیں، کسی انسان کو کسی انسان پر آدمی اور انسان ہونے کی حیثیت سے کوئی امتیاز حاصل نہیں۔ کیونکہ سب ایک ہی ماں باپ یعنی آدم و حواء (علیہما السلام) کی اولاد ہیں باقی رہے قبیلے اور خاندان تو وہ محض اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ باہمی جان پہچان ہو، صلہ رحمی کا احساس ہو اور وراثت و ولدیت کا سلسلہ قائم رہے۔ اس لیے شعوب و قبائل عظمت و حقارت کا سبب نہیں ہیں اور نہ ان کی وجہ سے تفاخر کرنا چاہیے۔ ای جعلناکم کذلک لیعرف بعضکم بعضا فصلوا الارحام و تبینوا الانساب والتوارث، لا لتفاخروا بالاباء وا لقبائل (روح ج 26 ص 162) ۔ باقی رہا خدا کے یہاں شرف و کرامت اور فضل و عظمت کا مدار تو وہ خاندانی اور نسبی امتیاز پر نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت اور ایمان وتقوی پر ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوگا وہی اس کی بارگاہ میں سب سے زیادہ مکرم و محترم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سب کے ظاہری اعمال اور باطنی احوال سے اچھی طرح باخبر ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کس کا باطن ظاہر کے مطابق ہے اور صحیح معنوں میں کون متقی اور پرہیز گار ہے۔
Ayah 49:1413:۔ ” قالت الاعراب۔ الایۃ “ یہ ان اعراب پر شکوی ہے جو اپنے ایمان کے اظہار سے رسول اللہ ﷺ کو ممنون کرنا چاہتے تھے۔ فرمایا تم لوگ ایمان کامل کا دعوی نہ کرو، البتہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں کیونکہ تم نے ابھی صرف ظاہری طور پر ہی اسلام وانقیاد کا اعتراف کیا ہے اور ابھی تک ایمان ویقین تمہارے دل کی گہرائیوں میں نہیں اترا۔ یہ آیت بنی اسد بن خزیمہ کی ایک جماعت کے حق میں نازل ہوئی جو قحط سے متاثر ہو کر مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کا اظہار کیا، لیکن ان کے دل دولت ایمان سے خالی تھے۔ انہوں نے اموال غنیمت اور دنیوی منافع کی خاطر اسلام کا اظہار کیا تھا اور آپ پر احسان دھرنے کیلئے کہنے لگے کہ عرب کے تمام قبائل نے آپ سے لڑائی کی ہے مگر صرف ہم ہی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے جدا و قتال کے بغیر ہی آپ کی اطاعت کو اور دین اسلام کو قبول کرلیا ہے (روح، ابن کثیر، خازن، معالم) ۔ ” وان تطیعوا۔ الایۃ “ اگر تم اپنے دلوں کو نفاق اور دنیوی اغراض سے پاک کر کے پورے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو تمہیں اپنے عملوں کا پورا پورا اجر وثواب ملے گا اور اس سے پہلے تم سے جو کو تاہیاں اور نافرمانیاں ہوئی ہیں اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو تمہیں اپنے عملوں کا پورا پورا اجر وثواب ملے گا اور اس سے پہلے تم سے جو کو تاہیاں اور نافرمانیاں ہوئی ہیں ان سے اللہ تعالیٰ درگذر فرمائیگا۔
Ayah 49:1514:۔ ” انما المومنون۔ الایۃ “ ان اعراب کے ادعائے ایمان کے مقابلے میں مومنین کاملین کی صفات کا ذکر ہے۔ صرف زبانی اظہار ایمان سے آدمی مومن نہیں بن جاتا، بلکہ مؤمنین کاملین تو وہ ہیں جو دل و جان سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اور پھر توحید و رسالت اور تمام ضروریات دین کے بارے میں ان کے دلوں میں کوئی شک و شبہ یا کھٹکا پیدا نہ ہو۔ اور جب کبھی ضرورت پیش آجائے تو اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنے میں پیش پیش ہوں۔ یہ لوگ ہیں حقیقت میں سچے اور پکے مومن۔ ای ھم الذین ایمانھم ایمان صدق وحق (مدارک ج 4 ص 133) ۔
Ayah 49:1615:۔ ” قل اتعلمون۔ الایۃ “ زجر برائے اعراب۔ آپ ان سے فرما دیں کیا تم ” امنا “ (ہم ایمان لے آئے ہیں) کہہ کر خدا کو بتانا چاہتے ہو کہ تم ایمان لا چکے ہو ؟ تا کیا اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے اور جسے ہر بات معلوم ہے، وہ تمہارے دلوں کے پوشیدہ نفاق کو نہیں جانتا ؟ وہ خوب جانتا ہے کہ تمہارا یہ دعوائے ایمان محض زبانی ہے اور تمہارے دلوں میں ابھی تک ایمان نہیں اترا۔
Ayah 49:1716:۔ ” یمنون علیک۔ الایۃ “ یہ بھی زجر ہے۔ یہ اعرابی اپنے اسلام لانے سے آپ کو اپنا ممنون احسان بنانا چاہتے ہیں۔ آپ فرما دیں اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ رکھو، بلکہ اگر واقعی تم ادعائے ایمان میں سچے ہو، تو پھر تو اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان ہے جس نے تمہیں ایمان لانے کی توفیق دی، اس لیے تم مجھ پر احسان رکھنے کے بجائے تمہیں اللہ کا شکر بجا لانا چاہئے جو تمہیں کفر سے نکال کر اسلام میں لے آیا۔
Ayah 49:1817:۔ ” ان اللہ۔ الایۃ “ ٓآخر میں مسئلہ توحید کا علی وجہ الترقی بیان ہے۔ سورة محمد میں فرمایا ” لا الہ الا اللہ “ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کے بعد سورة فتح میں فرمایا ” تسبحوہ “ یعنی معبود وہی ہے کس کو اس کا شریک نہ بناؤ اور یہاں سورة حجرات میں فرمایا ” ان اللہ یعلم۔ الایۃ “ یعنی عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا معبود اور کارساز بھی وہی ہے۔ کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ بناؤ اور حاجات و مشکلات میں اس کے سوا کسی کو غائبانہ مت پکارو۔
سورة حجرات میں آیت توحید، +1 ۔ ” ان اللہ یعلم غیب السموات والارض، واللہ بصیر بما تعملون “ نفی شرک اعتقادی۔
سورة حجرات ختم ہوئی