48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsجواھر القرآن

Ayah 48:1

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

ہم نے فیصلہ کردیا2 تیرے واسطے صریح

2:۔ پہلا حصہ : ” انا فتحنا “ سنہ 6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے ہیں، کچھ لوگ سر منڈا رہے ہیں اور کچھ بال چھوٹے کرا رہے ہیں۔ آپ نے یہ خواب صحابہ ؓ کو سنایا تو وہ بہت خوش ہوئے اس کے بعد ماہ ذیقعدہ میں آپ صحابہ کرام ؓ کی ایک بہت بڑی جماعت کے ساتھ زیارت بیت اللہ کے ارادے سے روانہ ہوئے مقام حدیبیہ میں موجود صحابہ ؓ کی تعداد چودہ سو تھی۔ جب آپ یہاں پہنچے تو آپ نے حضرت عثمان بن عفان ؓ کو اپنا پیغام دے کر مکہ روانہ فرمایا تاکہ وہ آپ کا پیغام قریش کو پہنچائیں۔ پیغام یہ تھا کہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیت اللہ کی زیارت کے لیے آیات ہوں، لڑائی اور جنگ کی خاطر نہیں آیا ہوں، اس لیے تم مزاحمت نہ کرنا۔ قریش نے زیارت بیت اللہ کی اجازت نہ دی اور حضرت عثمان ؓ سے کہا اگر تم چاہو تو بیت اللہ کا طواف کرسکتے ہو، لیکن انہوں نے جواب دیا کہ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے بغیر اکیلا طواف کرلوں۔ چناچہ حضرت عثمان طوف کے بغیر واپس چلے گئے۔ آخر قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو، آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کی شرطیں یہ تھیں۔ 1 ۔ مشرکین کا کوئی آدمی اگر مسلمانوں کے پاس چلا جائے تو اسے واپس کردیا جائے گا۔ 2:۔ اگر کوئی مسلمان مشرکین کے پاس پہنچ جائے تو وہ واپس نہیں کریں گے۔ 3 ۔ مسلمان امسال بیت اللہ کی زیارت نہیں کرسکیں گے، بلکہ آئندہ سال آئیں گے اور شرط یہ ہے کہ ہتھیاروں کے بغیر مکہ میں داخل ہوں۔ صلح کی شرائط بظاہر مسلمانوں کی کمزوری ظاہر کر رہی تھیں۔ اس لیے اکثر مسلمانوں کے چہرے اداس ہوگئے۔ صلح کے بعد جب آپ مقام حدیبیہ سے روانہ ہوئے تو راستے میں یہ سورت نازل ہوئی (روح، خازن، معالم وغیرہ) ۔ ” انا فتحنا “ یہ پہلی بشارت ہے ای حکمنا لک بالفتح۔ یعنی ہم نے آپ کو عظیم الشان فتح عطا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور فتح مبین سے فتح مکہ مراد ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو ایک شاندار فتح عطاء فرمائی ہے اور اس سے صلح حدیبیہ مراد ہے۔ صلح حدیبیہ حقیقت میں ایک عظیم الشان فتح تھی جو فتح مکہ کا سبب بنی اور جس کی بناء پر مشرکین کو مسلمانوں کے اندر رہ کر ان کے احوال واطوار کا مطالعہ و مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور اسلام کی خوبیاں ان کے دلوں میں جاگزیں ہوگئیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ سے لے کر فتح مکہ تک دو سالوں میں اس قدر لوگ اسلام میں داخل ہوئے کہ فتح مکہ میں آپ کے ہمراہیوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ تھی۔ قال الزھری لم یکن فتح اعظم من صلح الحدیبیۃ اختلط المشرکون بالمسلمین و سمعوا کلامہم وتمکن الاسلام فی قلوبھم واسلم فی ثلاث سنین خلق کثیر وکثر بہم سواد الاسلام (روح ج 26 ص 84) ۔ قال الزھری لقد کان الحدیبیۃ اعظم الفتوح وذلک ان النبی ﷺ جاء الیھا فی الف واربعمائۃ فلما وقع الصلح مشی الناس بعضہم فی بعض وعلموا وسمعوا عن اللہ، فما اراد احدا الاسلام الا تکن منہ، فما مضت تلک السنتا الا والمسلمون قد جاء وا الی مکۃ فی عشرۃ الاف (قرطبی ج 16 ص 261) ۔
Ayahs 48:2–3

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ معاف کرے تجھ کو اللہ جو آگے ہوچکے تیرے گناہ3 اور جو پیچھے رہے اور پورا کر دے تجھ پر اپنا احسان اور چلائے تجھ کو سیدھی راہ

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور مدد کرے تیری اللہ زبردست مدد

3:۔ ” لیغفر لک “۔ ذنب (گناہ) سے اس کا حقیقی معنی مراد نہیں، کیونکہ گناہ کا صدور انبیاء (علیہم السلام) سے محال ہے۔ اس لیے ذنب سے یہاں ترک اولی مراد ہے، کیونکہ آنحضرت ﷺ کے مقام عالی کے اعتبار سے وہ ذنب ہے اگرچہ حقیقت میں ذنب نہیں۔ از قبیل حسنات الابرار سیئات المقربین یا وہ امور مراد ہیں جنہیں آنحضرت ﷺ اپنی نظروں میں ذنب (گناہ) سمجھتے تھے اگرچہ وہ حقیقت میں گناہ نہ تھے بلکہ خلاف اولی بھی نہ تھے۔ والمراد بالذنب ما فرط من خلاف الاولی بالنسبۃ الی مقامہ (علیہ الصلوۃ والسلام) فھو من قبیل حسنات الابرار سیئات المقربین وقد یقال المراد ما ھو ذنب فی نظرہ العالی ﷺ وان لم یکن ذنبا ولا خلاف الاولی عندہ تعالیٰ (روح ج 26 ص 91) ۔ حضرت علامہ انور شاہ کا شمیری (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ذنب سے مراد الزام ہے یعنی آپ پر لگائے گئے مشرکین ومنافقین کے تمام جھوٹے الزامات سے بری اور پاک فرمائے۔ ” لیغفر “ میں لام ارادہ کا ہے اور اس کے بعد فعل ” اراد “ اور ” ان “ مصدریہ مقدر ہے۔ ای اراد غفر ان ذنوبک اور یہدیک میں ہدایت سے معنی موضوع لہ مراد نہیں، بلکہ اثبات علی الہدایۃ مراد ہے ای لیثبتک علی الہدایۃ یعنی آپ کو راہ راست پر قائم رکھے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ای یثبتک علی الہدی الی ان یقبضک الیہ (قرطبی ج 16 ص 263) ۔ یا لام برائے عاقبت یا علت غائیہ ہے (روح، جلالین) ۔ اتمام نعمت سے دین کا غلبہ، اسلام کی ملک بھر میں نشر و اشاعت اور آئندہ معرکوں میں فتح و نصرت اور دیگر دینی و دنیوی نعمتیں مراد ہیں (بحر، روح) ۔ ” نصرا عزیزا “ ایسی مدد جس سے آپ کو دشمن پر غلبہ حاصل ہوجائے اور آپ کو کوئی مغلوب نہ کرسکے (مدارک، روح) یعنی یہ فتح مبین ہم نے آپ کو اس لیے عطا فرمائی ہے تاکہ اس سے آپ کو یہ چاروں مقصد حاصل ہوجائیں۔ اس کی خاطر آپ نے جو مصائب و شدائد برداشت کیے ہیں ان کی بدولت آپ کے تمام گناہ (بتفسیر مذکور) معاف کردئیے جائیں اور اس کے نتیجہ میں دین اسلام کو اور آپ کے دشمنوں پر غلطہ عطا کیا جائے اور آپ کو صراط مستقیم پر قائم و دائم رکھا جائے اور اس کے اندرون پردہ آپ کی اس طرح مدد و نصرت کی جائے کہ آئندہ آپ ہی غالب رہیں اور آپ پر کوئی غلبہ نہ پا سکے (بحر، روح، قرطبی وغیرہ)
Ayah 48:4

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے اتارا4 اطمینان دل میں ایمان والوں کے تاکہ اور بڑھ جائے ان کو ایمان اپنے ایمان کے ساتھ اور اللہ کے ہیں سب لشکر5 آسمانوں کے اور زمین کے اور اللہ ہے خبردار حکمت والا

4:۔ ” ھو الذی “ یہ دوسری بشارت ہے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ہی نے اس صلح کے ذریعے تمہارے دلوں کو سکون و اطمینان کی نعمت عطا کی اور تمہیں ثابت قدم رکھا یعنی انتہائی جوش و خروش اور مشرکین کے خلاف فرط غیظ کے باوجود تمہارے دلوں کو مضبوط کردیا اور تمہیں جنگ کرنے سے باز رکھا۔ جس کا ثمرہ یہ ہوگا کہ اس کی وجہ سے مشرکین کے دلوں پر تمہاری جرات و شجاعت کا رعب بیٹھ جائیگا۔ تائید : ” سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب “ (انفال رکوع 2) ” لیزدادوا ایمانا مع ایمانہم یہ دوسری بشارت کا ثمرہ ہے۔ ہم نے ایمان والوں کے دل میں سکون و اطمینان اس لیے ڈال دیا تاکہ ان کے یقین و ایمان میں مزید قوت و شدت پیدا ہوجائے اور وہ دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہ سکیں۔ یقینا مع یقینہم برسوخ العقیدۃ و اطمینان النفس علیہا (بیضاوی) ۔ 5:۔ ” وللہ جنود السموات “ یہ جملہ معترضہ ہے۔ یہ ترغیب الی الجہاد اور بشارت فتح کی طرف اشارہ ہے یعنی زمین و آسمان کی تمام فوجیں اللہ کے قبضے میں اور اس کے حکم کے تابع ہیں اور وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ وہ مومنوں کے دلوں میں سکون و اطمینان نازل فرما سکتا اور ان کو فتح دے سکتا ہے۔
Ayah 48:5

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

تاکہ پہنچا دے6 ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں نیچے بہتی ہیں ان کے نہریں ہمیشہ رہیں ان میں اور اتار دی ان پر سے ان کی برائیاں اور یہ ہے اللہ کے یہاں بڑی مراد ملنی

6:۔ ” لیدخل۔ الایۃ “ یہ دوسری بشارت کا دوسرا ثمرہ ہے۔ اللہ نے مومنوں کے دلوں میں سکون و طمانیت کا جذبہ پیدا کیا تاکہ وہ ثابت قدم رہیں اور جم کر دشمن کا مقابلہ کریں اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت کی پر تکلف اور دائمی نعمتیں عطا فرمائے اور ان کے سارے گناہ معاف کرے اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ دوزخ سے بچ کر جنت میں داخل ہوجائے۔ ” من زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز “ (ال عمرن 185) ۔ یا اس سے مراد وہ مومنین ہیں جو اس صلح کے دوران ایمان لائیں گے یعنی ہم نے مومنوں کے دلوں میں لڑائی نہ کرنے کا خیال مضبوط کردیا تاکہ صلح ہوجائے اور اس طرح اللہ بہت سے مشرکین کو اسلام کی توفیق دے کر جنت میں داخل فرمائے۔
Ayahs 48:6–7

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور تاکہ عذاب کرے7 دغا باز مردوں کو اور دغا باز عورتوں کو اور شرک والے مردوں کو اور شرک والی عورتوں کو جو اٹکلیں کرتے ہیں اللہ پر بری اٹکلیں انہی پر پڑے پھیر مصیبت کا اور غصہ ہوا اللہ ان پر اور لعنت کی ان کو اور تیار کی ان کے واسطے دوزخ اور بری جگہ پہنچے

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور اللہ کے ہیں سب لشکر آسمانوں کے اور زمین کے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا

7:۔ ” ویعذب المنفقین۔ الایۃ “ یہ ” یدخل “ پر معطف ہے اور دوسری بشارت کا تیسرا ثمرہ اور وہ منافقوں اور مشرکوں کے دلوں کو تمہارے خلاف غیظ و حسد سے بھر دے گا اور ساتھ ہی ان پر تمہاری بہادری اور تمہارے ثبات و استقلال کا ان کے دلوں پر رعب طاری کردے گا اور تمہارے ہاتھوں ذلت آمیز شکست دے کر ان کو رسوا کن سزا دے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا سے بد گمانی کرتے ہیں۔ اور جن کا خیال یہ ہے کہ اللہ اپنے پیغمبر (علیہ السلام) اور مومنوں کی مدد نہیں کرے گا لیکن اس بدگمانی کا نتیجہ خود ان ہی کو بھگتنا پڑے گا۔ دنیا میں اللہ ان کو اپنے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب و مقہور فرمائے گا اور وہ اللہ کے غضب و لعنت کا مورد بنیں گے اور ان کا دائمی ٹھکانا جہنم میں ہوگا جو نہایت برا ٹھکانا ہے۔ ” وللہ جنود السموات والارض “۔ یہ سابقہ جملہ معترضہ کا اعادہ ہے برائے تاکید۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی فوجوں کا مالک ہے اور سب پر غالب اور حکمت کا بادشاہ ہے وہ منافقوں اور مشرکوں کو مغلوب و رسوا اور اہل ایمان کا غالب و معزز کرسکتا ہے۔ فلو اراد اھلاک المنافقین والمشرکین لم یعزہ ذلک ولکن یوخرھم الی اجل مسمی (قرطبی ج 16 ص 266) ۔
Ayahs 48:8–9

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

ہم نے تجھ کو بھیجا8 احوال بتانے والا اور خوشی اور ڈر سنانے والا

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ تم لوگ یقین لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کی مدد کرو اور اس کی عظمت رکھو اور اس کی پاکی بولتے رہو صبح اور شام

8:۔” انا ارسلنک۔ الایۃ “ ایمان اور نصرت پیغمبر (علیہ السلام) کی ترغیب ہے شاہد کے معنی بتانے والے اور بیان کرنے والے کے ہیں (شاہ ولی اللہ و شاہ عبدالقادر) نہ حاضر و ناظر۔ لہذا اس سے آنحضرت ﷺ کے علم غیب پر استدلال درست نہیں۔ ” لتومنوابالل “ امام ابن کثیر اور ابو عمرو کی قراءت میں چاروں افعال بصیغہ غائب ہیں اس صورت میں مفہوم واضح ہے۔ باقی ائمہ قراءت کی روایتوں میں چار افعال بصیغہ کطاب ہیں۔ ” لتومنوا الخ “ میں خطاب رسول خدا ﷺ اور امت سے ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء “ (طلاق رکوع 1) ۔ یہ تغلیب مخاطب علی الغائب کے قبیل سے ہے اور آنحضرت ﷺ بھی اپنی رسالت پر ایمان لانے کے مکلف ہیں۔ الخطاب للنبی ﷺ وامتد کقولہ سبحانہ (یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء) وھو من باب التغلیب غلب فیہ المخاطب علی الغیب فیفید ان النبی (علیہ الصلوۃ والسلام) مخاطب بالایمان برسالتہ کالامۃ وھو کذلک (روح ج 26 ص 95) ۔ ” تعزروہ یعنی اس کی مدد کرو ” توقروہ “ یعنی اس کی تعظیم کرو، دونوں جگہ ضمیر غائب رسول اللہ ﷺ سے کنایہ ہے اور اس میں خطاب سے غیبت کی طرف التفات ہے اور ” تسبحوہ “ میں ضمیر غائب لفظ جلالت کی طرف راجع ہے یہ توحید اور رسالت کا بیان ہے ہم نے آپ کو بیان کرنے والا اور بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے تاکہ سب لوگ اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائیں، اس کی تسبیح و تقدیس کریں اور شرک سے اس کی پاکیزگی بیان کریں اور اللہ کے رسول پر ایمان لائیں اور مشرکین کے مقابلے میں اس کی مدد کریں اور اس کا اکرام و احترام کریں۔ آپ کے اکرام و احترام کے کچھ آداب سورة حجرات میں آرہے ہیں۔ یہ احکام پہلی دونوں بشارتوں پر مبنی ہیں یعنی جب اللہ نے تمہیں مذکورہ بالا دو بشارتیں دی ہیں تو تم اس کا شکر کرو اس کی تسبیح و تنزیہ میں رطب اللسان رہو اور اس کو ہر شریک سے پاک سمجھو اور عبادت اور پکار میں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ بناؤ اور پیغمبر خدا ﷺ کی مدد کرو اور آپ کی تعظیم بجا لاؤ، کیو کہ یہ سارے انعامات آپ ہی کی وساطت سے تمہیں ملے ہیں۔ نیز ” تسبحوہ “ میں مسئلہ توحید بطور ترقی مذکور ہے۔ سورة محمد ﷺ میں فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی پکار کے لائق کوئی نہیں اور سورة فتح میں فرمایا ” وتسبحوہ “ یعنی پکار میں اس کو شریکوں سے پاک سمجھیں۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

تحقیق جو لوگ9 بیعت کرتے ہیں تجھ سے وہ بیعت کرتے ہیں اللہ سے اللہ کا ہاتھ ہے اوپر ان کے ہاتھ کے پھر جو کوئی قول توڑے سو توڑتا ہے اپنے نقصان کو اور جو کوئی پورا کرے اس چیز کو جس پر اقرار کیا اللہ سے تو وہ اس کو دے گا بدلہ بہت بڑا

9:۔ ” ان الذین “ یہ جہاد اور بیعت میں ثابت قدم رہنے کی ترغیب ہے۔ بیعت سے بیعت رضوان مراد ہے جس کا ذکر آرہا ہے جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں حقیقت میں وہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں۔ کیونکہ اس بیعت اور اطاععت پیغمبر (علیہ السلام) سے اصل مقصود اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “ (النساء پ 5) ۔ ” ید اللہ فوق ایدیہم “ یہ پہلے مضمون کی دوسری تعبیر ہے اور اسی کی تاکید ہے بطریق تخییل، کیونکہ اللہ تعالیٰ جوارح سے منزہ ہے اور مفہوم یہ ہے کہ عقد بیعت حقیت میں اللہ سے ہے۔ لما قال سبحانہ (انما یبایعون اللہ) اکدہ علی طریقۃ التخییل فقال تعالیٰ (ید اللہ فوق ایدیہم) وانہ سبحانہ منزہ عن الجوارح و صفت الاجسام وانما المعنی تقریر ان عقد المیثاق مع الرسول ﷺ کعقدہ مع اللہ تعالیٰ من غیر تفاوت بینھما (مدارک ج 4 ص 120، روح ج 26 ص 96، بحر ج 8 ص 91 بحوالہ کشاف) ۔ گویا یہ عقد بیعت کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ یہ ایک نہایت ہی پختہ اور محکم عقد ہے جس کی پاسداری نہایت ضروری اور لابدی ہے۔ اب جو شخص اس بیعت کو توڑے گا اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور وہی اس جرم کی سزا پائے گا اور اجر ایفاء سے محروم رہے گا اور جو اس عہد پر قائم رہے گا اسے اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
Ayah 48:11

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

اب کہیں گے تجھ سے پیچھے رہ جانے والے10 گنوار ہم کام میں لگے رہ گئے اپنے مالوں کے، اور گھر والوں کے سو ہمارا گناہ بخشوا وہ کہتے ہیں اپنی زبان سے جو ان کے دل میں نہیں تو کہہ کس کا کچھ بس چلتا ہے11 اللہ سے تمہارے واسطے اگر وہ چاہے تمہارا نقصان یا چاہے تمہارا فائدہ بلکہ اللہ ہے تمہارے سب کاموں سے خبردار

10:۔ ” سیقول “ یہاں سے لے کر ” لایفقہون الا قلیلا “ تک ان منافقین پر زجر ہے جو صلح حدیبیہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ ” المخلفون “ یعنی جو لوگ اللہ کے قہر سے پیچھے چھوڑ دئیے گئے۔ اور رفاقت پیغمبر (علیہ السلام) سے مھروم کردئیے گئے۔ جب آپ اس سفر سے واپس مدینہ پہنچیں گے تو منافقین آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر ساتھ نہ جانے کے لیے کئی بہانے تراشیں گے مثلا کہیں گے کہ حضرت ہمارے اموال اور اہل و عیال کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا اس لیے ہم آپ کے ہمراہ نہ جاسکے، بیشک ہم سے یہ گناہ سرزد ہوا ہے، اب آپ بھی ہم پر راضی ہوجائیں اور اللہ سے بھی ہمارے لیے معافی کی درخواست کریں۔ تائید : ” یقولون ان بیوتنا عورۃ، وماھی بعورۃ “ احزاب رکوع 2) ۔ ” یقولون بالسنتہم “ جو بہانے وہ زبان سے بیان کر رہے ہیں وہ حقیقت کے خلاف ہیں۔ نہ جانے کی اصل وجہ انہوں نے دلوں میں چھپا رکھی ہے، لیکن زبانوں سے اس کے خلاف کہہ رہے ہیں۔ اصل وجہ کا ذکر اگلی آیات میں آرہا ہے۔ 11:۔ ” قل فن یملک “ یہ مفسِّر اور مفسَّر کے درمیان منافقین کے خیال کر رد کرنے کے لیے جملہ معترضہ ہے۔ فمن یملک لم من اللہ ای من عذاب اللہ۔ یعنی نفع و ضرر اللہ کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ تمہیں ضرر (تکلیف) میں ڈالنا چاہے تو اس سے تمہیں کون بچا سکتا ہے ؟ تمہار یہ خیال غلط ہے کہ اگر تم جہاد میں شریک نہ ہوگے تو تکلیف و مشقت سے بچ جاؤ گے (وہ گھروں میں بٹھ رہنے والوں کو بھی مبتلائے عذاب کرسکتا ہے اور اگر وہ تمہیں نفع دینا چاہے تو بھی اسے کوئی روک نہیں سکتا، وہ میدان جہاد میں تیروں کی بارش میں بھی حفاظت کرسکتا ہے، وہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور پوری پوری جزا دے گا۔ اس تقریر سے معلوم ہوا کہ ” اراد بکم نفعا “ سے پہلے من یمنع النفع مقدر ہے بقرینہ سیاق۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔
Ayah 48:12

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

کوئی نہیں تم نے تو خیال کیا تھا کہ پھر کر نہ آئے گا12 رسول اور مسلمان اپنے گھر کبھی اور کھب گیا تمہارے دل میں یہ خیال اور اٹکل کی تم نے بری اٹکلیں اور تم لوگ تھے تباہ ہونے والے

12:۔ ” بل ظننتم۔ الایۃ “ یقولون بالسنتہم لخ کیلئے بمنزلہ تفسیر ہے۔ ان کے دلوں میں کچھ اور ہے لیکن زبانوں سے کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ اصل میں یہ لوگ اس خیال کی بناء پر سفر عمرہ میں آپ کے ہمراہ نہیں گئے تھے کہ مشرکی کے تمام قبائل مل کر پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کا وہیں خاتمہ کردیں گے اور ان میں سے کوئی بھی اپنے گھروں کو زندہ سلامت واپس نہیں آسکے گا۔ اس لیے اگر ہم بھی ان کے ہمراہ گئے تو وہیں مارے جائیں گے۔ اور اس خیال کو انہوں نے نہایت معقول سمجھا اور یہ بات ان کے دلوں میں جاگزیں ہوگئی اور وہ اس بدگمانی میں مبتلا ہوگئے کہ اللہ پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کی مدد نہیں کرے گا۔ اصل میں یہ لوگ تباہ شدہ اور عذاب الٰہی کے مستوجب ہیں۔ یہ سارے شکوک ان کے فساد عقیدہ اور سوء نیت سے پیدا ہو رہے تھے۔ ” قوما بورا “ ھالکین لفساد عقیدتکم وسوء نیتکم مستوجبین سخطہ تعالیٰ و عقابہ جل شانہ (روح ج 26 ص 100) ۔
Ayahs 48:13–14

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو کوئی یقین نہ لائے13 اللہ پر اور اس کے رسول پر تو ہم نے تیار رکھی ہے منکروں کے واسطے دہکتی آگ

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور اللہ کے لیے ہے راج آسمانوں کا اور زمین کا بخشے جس کو چاہے اور عذاب میں ڈالے جس کو چاہے اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان

13:۔ ” ومن لم یومن۔ الایۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ان پیچھے رہ جانے والوں کی طرفح جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائیں ان کے لیے ہم نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے کیونکہ وہ کفر ہیں اور کافروں کی یہی سزا ہے۔ ” وللہ ملک السموات۔ الایۃ “ زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کائنات میں وہی متصرف و مختار ہے۔ وہ ایمان والوں اور معافی مانگنے والوں کو معاف فرماتا اور کفار و مشرکین اور منافقین کو سزا دیتا ہے اور وہ ایسا مہربان ہے کہ توبہ کرنے والوں کو معاف فرما کر ان پر مزید مہربانیاں فرماتا ہے۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

اب کہیں گے پیچھے رہ گئے ہوئے14 جب تم چلو گے غنیمتیں لینے کو چھوڑو ہم بھی تمہارے ساتھ چاہتے ہیں کہ بدل دیں کہا اللہ کا تو کہہ دے تم ہمارے ساتھ ہرگز نہ چلو گے یونہی کہہ دیا اللہ نے پہلے سے پھر اب کہیں گے نہیں تم تو جلتے ہو ہمارے فائدہ سے کوئی نہیں پر وہ نہیں سمجھتے ہیں مگر تھوڑا سا

14:۔ ” سیقول المخلفون “ یہ بھی منافقین کے لیے زجر ہے۔ ” مغانم “ سے غنائم خیبر مراد ہیں جن کا اللہ تعالیٰ بیعۃ الرضوان میں شریک ہونے والوں سے وعدہ فرمایا تھا جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ ” واثابہم فتحا قریبا ومغانم کثیرۃ یاخذونہا “ اور کلام اللہ سے یہی وعدہ الٰہی مراد ہے۔ معناہ ان یغیروا وعدہ لاھل الحدیبیۃ بغنیمۃ خیبر وذلک انہ وعدہم ان یعوضہم من مغانم مکۃ خیبر اذا قفلوا مراد عین لا یصیبون منہا شیئا۔ قالہ مجاھد وقتادۃ وعلیہ علمۃ اھل التاویل (بحر ج 8 ص 93) ۔ یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی غیر متلو کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی ہو کہ غنائم خیبر خالصۃً اہل حدیبیہ کے لیے ہیں اور مخلفین کا ان میں کوئی حصہ نہیں۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یعنی جب آپ غزوہ خیبر کے لیے روانہ ہوں گے تو منافقین اہل خیبر کی کمزوری کے پیش نظر آپ کے ساتھ اس غزوے میں شریک ہونے کی درخوست کریں گے کہ حضرت ! ہمیں بھی اس مہم میں اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت مرحمت فرمائیے اصل میں یہ درخواست اخلاص پر مبنی نہیں ہوگی بلکہ اس سے ان کا مقصد محنت و مشقت کے بغیر مال غنیمت حاصل کرنا ہوگا وہ اللہ کے اس فیصلے کو بدلنا چاہتے ہیں کہ غنائم خیبر صرف اہل حدیبیہ کے لیے ہیں۔ جب وہ درخواست کریں، تو آپ ان سے فرما دیں کہ تم اس غزوے میں ہمارے ساتھ ہرگز نہیں جاسکو گے یعنی تمہیں ہمارے ساتھ جانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائیگی کیونکہ الہ تعالیٰ ہماری حدیبیہ سے واپسی سے پہلے ہی یہ فیصلہ فرما چکا ہے کہ غنائم خیبر اہل حدیبیہ کے ساتھ مختص ہیں۔ ای من قبل رجوعنا من الحدیبیۃ ان غنیمۃ خیبر لمن شہد الحدیبیۃ خاصۃ (قرطبی ج 16 ص 271) ۔ ” فسیقولون الخ “ جب آپ ان کو ساتھ جانے کی اجازت نہیں دیں گے تو وہ ازراہ جہالت تم پر حسد کا طعن دھریں گے کہ اصل میں تم ہمارا حسد کرتے ہو کہ مبادا یہ لوگ مال غنیمت میں ہمارے ساتھ حصہ دار بن جائیں۔ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ منافقین محض جہل و نادانی کی وجہ سے تمہیں حسد کا طعن دیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں شریک نہ کرنے کا خود ہی فیصلہ فرما چکا ہے۔ مگر یہ کم فہم اسے سمجھتے نہیں۔ سوائے دنیوی حرص و لالچ کے انہیں سوجھتا ہی کچھ نہیں۔
Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

کہہ دے پیچھے رہ جانے والے15 گنواروں سے آئندہ تم کو بلائیں گے ایک قوم پر بڑے سخت لڑنے والے تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہوں گے پھر اگر حکم مانو گے دے گا تم کو اللہ بدلہ اچھا اور اگر پلٹ جاؤ گے جیسے پلٹ گئے تھے پہلی بار دے گا تم کو ایک عذاب دردناک

ٖ 15:۔ ” قل للمخلفین “ حدیبیہ میں شریک نہ ہونے والوں کو غزوہ خیبر میں شریک ہونے سے روکدیا گیا کیونکہ اس میں شرکت سے ان کے ایمان کا امتحان نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے ان سے وعدہ کیا گیا کہ عنقریب ہی تہیں ایک نہایت ہی جنگجو اور بہادر قوم کے مقابلے میں جہاد کے لیے دعوت دی جائیگی تاکہ تم ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلیں او بمعنی الی ان ہے اور اس قوم سے اہل طائف مراد ہیں جن کا آپ نے سنہ 8 ہجری میں غزوہ حنین کے بعد محاصرہ کیا تھا۔ یا اس سے ہوازن اور ثقیف مراد ہیں جن سے مقام حنین میں جنگ ہوئی۔ اگر تم نے اس وقت اطاعت کی اور جہاد میں شریک ہوگئے تو اللہ تمہیں بہت اچھی جزا دے گا اور اگر حدیبیہ کی طرح اس میں بھی شریک نہ ہوئے تو تمہیں سخت ترین سزا دے گا۔ چناچہ غزوہ خیبر کے بعد جن منافقین نے نفاق سے توبہ کرلی اور مخلصانہ ایمان لے آئے وہ ان بعد والے غزوات میں شریک ہوئے۔ اور کوئی منافق ان میں شریک نہ ہوا۔ ان الذین غزوا بعد لم یغزوا حتی اخصوا ولم یبقوا منافقین۔ واللہ تعالیٰ اعلم (روح ج 26 ص 102) ۔
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

اندھے پر16 تکلیف نہیں اور نہ لنگڑے پر تکلیف اور نہ بیمار پر تکلیف اور جو کوئی حکم مانے اللہ کا اور اسکے رسول کا اس کو داخل کرے گا باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں اور جو کوئی پلٹ جائے اس کو عذاب دے گا دردناک

16:۔ ” لیس علی الاعمی “ یہ لوگ معذوف ہونے کی وجہ سے زجر و عتاب سے مستثنی ہیں۔ اندھے، لنگڑے اور بیمار۔ جو لوگ پورے اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں ان کے لیے جنت کی دائمی اور ابدی نعمتیں ہیں اور جو اطاعت سے اعراض کریں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Ayahs 48:18–19

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

تحقیق اللہ خوش ہوا17 ایمان والوں سے جب بیعت کرنے لگے تجھ سے اس درخت کے نیچے پھر معلوم کیا جو ان کے جی میں تھا پھر اتارا ان پر اطمینان اور انعام دیا ان کو ایک فتح نزدیک

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت غنیمتیں جن کو وہ لیں گے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا

17:۔ ” لقد ؓ “ حصہ اول کے مضامین میں سے بشارت مؤمنین کا اعادہ ہے۔ اور ” المومنین “ سے وہ صحابہ کرام ؓ مراد ہیں جنہوں نے مقام حدیبیہ کے ایک درخت کے نیچے رسول خدا ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، یہ بیعت، بیعۃ الرضوان کے نام سے مشہور ہے، کیونکہ اس بیعت میں شریک ہونے والوں کے لیے اللہ کی رضا اور خوشنودی کا پروانہ نازل ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو اہل مکہ کے پاس اپنا پیغام دے کر بھیجا تھا۔ ان کی واپسی میں دیر ہوگئی اور یہ خبر پھیل گئی کہ مشرکین نے حضرت عثمان ؓ کو شہید کردیا ہے جب یہ خبر آنحضرت ﷺ پہنچی تو فرمایا قتل عثمان کا فوری بدلہ لیے بغیر ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ چناچہ آپ نے تمام صحابہ ؓ کو بیعت کے بلایا اور کی کر کے درخت کے نیچے چودہ سو جاں نثاروں سرفروشوں نے پورے اخلاص کے ساتھ میدان جہاد میں ثبات و استقلال بلکہ جان تک دے دینے پر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ قال رسول اللہ ﷺ لانبرح حتی نناجز القوم ودعا الناس الی البیعۃ۔ فبایعوہ علی ان یناجزوا قریشا ولا یفرو تحت الشجرۃ وکان سمرۃ وکان عدد المبایعین الفار واربعمائۃ (مدارک ج 4 ص 122) ۔ ” ما فی قلوبہم “ یعنی ان کا ایمان واخلاص، صدق نیت، دین سے محبت اور مشرکین کے مقابلے میں شدت و جلاوت (روح) ۔ ” السکینۃ “ اطمینان اور ربط قلب۔ ” فتحا قریبا “ فتح خیبر، مغانم کثیرۃ، غنائم خیبر (بحر، روح، قرطبی، کبیر) اللہ تعالیٰ کو اصحاب شجرۃ کی، ایمان و اخلاص، صدق نیت اور جذبہ جاں نثاری کے ساتھ پیغمبر (علیہ السلام) کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی ادا اس قدر پسند آئی کہ ان کے لیے اپنی رضاء و خوشنودی کا پروانہ نازل فرما کر ان کے اہل جنت ہونے کا اعلان فرما دیا۔ کیونکہ آخرت میں رضائے الٰہی کا مظہر اور مقام جنت ہی ہے۔ آخرت میں اہل جنت کو جو سب سے بڑی نعمت حاصل ہوگی وہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے جس کا دوسرے مرمنوں کے لیے جنت میں داخل ہونے کے بعد اعلان ہوگا مگر صحابہ کرام ؓ کے لیے رضائے خداوندی کا اعلان دنیا ہی میں کردیا گیا۔ فیالہ من شرف۔ اور دنیا میں بھی انہیں ایک فتح قریب اور بہت سے اموال غنیمت (فتح خیبر اور غنائم خیبر) عطا کرنے کا وعدہ فرمایا۔ اور یہ وعدہ بہت جلد یعنی ماہ صفر سنہ 7 ہجری میں پورا ہوا۔ اہل شجرہ سے اللہ تعالیٰ یہ یہ رضا مندی کوئی وقتی نہ تھی، بلکہ دائمی تھی، کیونکہ اس کی بنیاد ان کے ایمان واخلاص پر تھی اور ایمان واخلاص کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صفت لازمہ بنا دیا تھا جو زندگی بھر ان سے جدا نہیں ہوسکتی جیسا کہ آگے آرہا ہے ” والزمہم کلمۃ التقوی “ (فتح رکوع 3) ۔ اور سورة حجرات رکوع 1 میں فرمایا ” ولکن اللہ حبب الیکم الایمان وزینہ فی قلوبکم۔ الایۃ “ یہی وجہ ہے کہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اس بیعت میں شریک تھے ان میں سے کوئی ایک بھی دوزخ میں نہیں جائیگا۔ لا یدخل النار انشاء اللہ من اصحاب الشجرۃ احد من الذی بایعوا تحتھا (صحیح مسلم ج 2 ص 303) ۔ امام نووی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ آپ کا انشاء اللہ کہنا محض بطور تبرک تھا نہ کہ بطور شک اس لیے علماء اہل سنت نے کہا ہے کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب شجرہ میں سے قطعاً اور یقینا کوئی بھی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا۔ قال العلماء معناہ لا یدخلہا اھد منہم قطعا کما صرح بہ فی الحدیث الذی قبلہ حدیث حاطب، وانما قال انشاء اللہ للتبرک لا للشک (نووی شرح صحیح مسلم ج 2 ص 303) ۔ ” مغانم “ ، فتحہا پر معطوف ہے یا اس کا ناصب وعدکم محذوف ہے۔ بقرینہ مابعد۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ ” وکان اللہ عزیزا حکیما “ اگر اللہ چاہتا تو صلح کے بجائے تمہیں قریش سے بھڑا کر غالب کرسکتا تھا، لیکن اس نے صلح کرادی جو اس کی حکمت بالغہ کی رو سے لڑائی کی نسبت اسلام اور اہل اسلام کے لیے زیادہ مفید اور نافع تھی۔ چناچہ ہوا بھی ایسا ہی کما مر۔ اس موقع پر حضرت عثمان ؓ کو جو اعزازات نصیب ہوئے وہ کسی اور کو نہ مل سکے اول یہ کہ یہ بیت ان کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے لی گئی۔ دوم یہ کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کو حضرت عثمان ؓ کے ایمان واخلاص اور ان کے جذبہ ایثار و قربانی پر اس قدر اعتماد تھا کہ اپنے بائیں ہاتھ کو حضرت عثمان ؓ کا ہاتھ قرار دے کر اپنے دائیں ہاتھ پر ان کی طرف سے خود بیعت فرمائی، کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ اگر وہ یہاں زندہ موجود ہوتے تو ضرور بیعت کرتے اس طرح ان کو وہاں موجود نہ ہونے کے باوجود بیعۃ الرضوان کی فضیلت حاصل ہوگئی۔
Ayahs 48:20–21

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

وعدہ کیا ہے تم سے اللہ نے18 بہت غنیمتوں کا کہ تم ان کو لو سو جلدی پہنچا دی تم کو یہ غنیمت اور روک دیا لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے اور تاکہ ایک نمونہ ہو قدرت کا مسلمانوں کے واسطے اور چلائے تم کو سیدھی راہ

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور ایک فتح اور جو تمہارے بس میں نہ آئی وہ اللہ کے قابو میں ہے اور اللہ ہر چیز کرسکتا ہے

18:۔ ” وعدکم اللہ “ یہاں مغانم کثیرۃ سے وہ تمام اموال غنیمت مراد ہیں جو قیامت تک مسلمانوں کو حاصل ہوتے رہیں گے۔ ھی علی ما قال ابن عباس و مجاھد و جمہور المفسرین ما وعد اللہ تعالیٰ المومنین من الغنائم الی یوم القیامۃ (روح ج 26 ص 109) ۔ اور ھذہ سے غنائم خیبر کی طرف اشارہ ہے۔ ایدی الناس، ناس سے اہل خیبر اور ان کے حلفاء بنی اسد و غطفان مراد ہیں۔ اہل خیبر کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا ایسا رعب ڈال دیا کہ انہیں مقابلے کی ہمت نہ ہوئی اور جب ان کے حلفاء بنی اسد و غطفان ان کی مدد کے لیے آئے تو وہ بھی مرعوب اور خوفزدہ ہو کر واپس چلے گئے (خازن، مدارک) ۔ یا اس سے اہل مکہ کے اسی آدمیوں کی وہ جماعت مراد ہے جو حدیبیہ کے دن ہتھیاروں سے لیس ہو کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوئی۔ مسلمانوں نے ان کو پکڑ لیا اور آپ نے انہیں معافی دے کر چھوڑ دیا (روح) ۔ ” ولتکون “ کا معطوف علیہ محذوف ہے ای لتنتفعوا ولتکون (روح) ۔ ” واخری “ یہ ھذہ پر معطوف ہے اور اس کا موصوف مقدر ہے ای مغانم اخری (مدارک، روح) ۔ غنائم خیبر جو بہت جلد تمہارے ہاتھ میں آنے والی ہیں ان کے علاوہ کچھ اور غنائم ہیں جن پر تاحال تم قابض نہیں ہو سکے لیکن وہ اللہ کے احاطہ اختیار وقدرت میں ہیں اور وہ ان پر بھی تمہیں قابض فرمائیگا۔ اس سے وہ فتوحات مراد ہیں جو خیبر کے بعد ہوئیں مثلا حنین وغیرہ (قرطبی، روح) ۔ ہم نے پروانہ خشونشودی عطا کرنے کے علاوہ تمہیں دنیوی نعمتوں سے بھی مالا مال کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے چناچہ تمہیں بہت سے اموال غنیمت ملنے کا وعدہ دیا ہے جن میں سے یہ غنائم خیبر تو بہت جلدی تمہیں مل جائیں گے اور اہل خیبر اور ان کے حلفاء کے ہاتھ تم سے روک دئیے جائیں گے اور وہ تم سے لڑنے کی جرات نہیں کرسکیں گے تاکہ تم ان غنائم سے فائدہ اٹھاؤ اور ایمان والوں کیلئے یہ صدق پیغمبر (علیہ السلام) کی دلیل ہو اور تاکہ تمہیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے۔ اور کچھ اور غنائم ہیں جن پر تم ابھی تک قابض نہیں ہوسکے وہ اللہ کے احاطہ قدرت میں ہیں ان پر بھی وہ تمہیں قابض فرمائیگا، کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
Ayahs 48:22–23

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر لڑتے تم سے19 کافر تو پھیرتے پیٹھ پھر نہ پاتے کوئی حمایتی اور نہ مددگار

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

رسم پڑی ہوئی اللہ کی جو چلی آتی ہے پہلے سے اور تو ہرگز نہ دیکھے گا اللہ کی رسم کو بدلتے

19:۔ ” ولو قاتلکم الذین کفروا سے اہل مکہ مراد ہیں۔ صلح کے بجائے اگر کفار مکہ آپ سے برسر پیکار ہوجاتے تو انہیں شکست فاش ہوتی اور وہ میدان میں جم کر لرنے کے بجائے پیٹھ پھیر کر میدان سے بھاگ نکلتے اور کوئی مدد گا اور حمایتی ان کو ذلت آمیز شکست سے نہ بچا سکتا۔ ” سنۃ اللہ۔ الایۃ “ یہ اللہ تعالیٰ کا دستور قدیم ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے پیغمبروں کو دشمنوں پر غالب فرمایا کرتا ہے اور اس کا یہ دستور بدل نہیں سکتا۔ جیسا کہ د سری جگہ ارشاد ہے۔ ” کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی “ (المجادلہ رکوع 3) ۔
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے روک20 رکھا ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے بیچ شہر مکہ کے بعد اس کے کہ تمہارے ہاتھ لگا دیا ان کو اور ہے اللہ جو کچھ تم کرتے ہو دیکھتا

20:۔ ” وھو الذی کف۔ الایۃ “ بطن مکہ سے مقام حدیبیۃ مراد ہے اور یہ اہل مکہ کے ان ستر اسی آدمیوں کی طرف اشارہ ہے جو ہتھیار پہن کر مقام حدیبیہ میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ مسلمانوں نے ان کو پکڑ لیا، حضرت پیغمبر خدا ﷺ نے ان کی اس حرکت سے درگذر فرمایا اور انہیں چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ یعنی اس میں بھی الہ تعالیٰ کی لطیف حکمت تھی کہ اس نے مقام ھدیبیہ میں لڑائی نہیں ہونے دی حالانکہ مشرکین حملہ آور ہوچکے تھے اور تم ان پر غلبہ و قبضہ بھی حاصل کرچکے تھے، کیونکہ اگر لڑائی ہوجاتی تو پھر صلح معرض وجود میں نہ آتی تجو بیشمار دینی برکات اور دنیوی منافع کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ یہ جنگ کو روکنے کی پہلی حکمت تھی۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جو منکر ہوئے اور روکا تم کو21 مسجد حرام سے اور نیاز کی قربانی کو بھی بند پڑی ہوئی اس بات سے کہ پہنچے اپنی جگہ تک اور اگر نہ ہوتے کتنے ایک مرد ایمان والے اور کتنی عورتیں ایمان والیاں جو تم کو معلوم نہیں یہ خطرہ کہ تم ان کو پیس ڈالتے پھر تم ان کی وجہ سے خرابی پڑجاتی بیخبر ی سے کہ اللہ کو داخل کرنا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہے اگر وہ لوگ ایک طرف ہوجاتے تو آفت ڈالتے ہم منکروں پر عذاب دردناک کی

21:۔ ” ھم الذین والھدی ‘ ” کم “ ضمیر خطاب پر معطوف ہے۔ معکوفا، الھدی سے حال ہے یعنی رکی ہوئی۔ ” ان یبلغ محلہ “ یہ الھدی سے بدل الاشتمال ہے (روح) ان مشرکین نے تمہیں بیت اللہ تک پہنچنے سے روکا۔ اور قربانی کے جانور جو مقام حدیبیہ میں رکے ہوئے تھے ان کو قربان گاہ یعنی مقام منی میں پہنچنے سے روکا۔ اس لحاظ سے مشرکین مکہ مجرم اور ظالم ہیں، اور اس لائق نہیں تھے کہ انہیں معاف کیا جاتا اور ان سے جنگ نہ کیجاتی لیکن مکہ میں کچھ ایسے مسلمان مرد اور عورتیں موجود تھیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے، بصورت قتال وہ بیچارے بھی جنگ میں کچل دئیے جاتے اور بعد میں تمہیں اس پر افسوس اور پشیمانی لاحق ہوتی۔ اگر یہ مسلمان ان میں نہ ہوتے تو تمہیں اہل مکہ سے بھڑا کر تمہارے ہاتھوں ان کو قتل و قید کی صورت میں ہم دردناک سزا دیتے۔ یہ جنگ کو روکنے کی دوسری حکمت تھی۔ رجال مؤمنون الخ “ موصوف مبدل منہ، لم تعلموھم صفت، ” ان تطئوھم “ بدل الاشتمال ہے یعنی مکہ میں ان کا ہونا بایں معنی کہ تمہارے پاؤں تلے ان کے کچلے جانے کا احتمال نہ ہوتا۔ فتصیبکم الخ، تمہارے ان کو روندنے کی وجہ سے تمہیں دلی رنج ہوتا۔ اور تم تکلیف و مشقت میں پڑجاتے۔ ” لوتزیلوا “ یہ بعد عہد کی وجہ سے ” لولا رجال الخ “ کا اعادہ ہے اور ” لعذبنا “ لولا، کا جواب ہے اور ” لیدخل اللہ الخ “ درمیان میں ترک عذاب کی علت کا بیان ہے اور اس کا متعلق محذوف ہے۔ کفہا لیدخل، یا ترکنا العذاب لیدخل، یہ کف قتال کی تیسری حکمت ہے، یعنی جنگ کو روک کر اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ میں سے بہت بڑی تعداد کو اسلام کی توفیق عطاء فرما کر اپنی رحمت میں لے لیا۔ (من الروح والمدارک) ۔
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جب رکھی منکروں نے22 اپنے دلوں میں کدنادانی کی ضد پھر اتارا اللہ نے اپنی طرف کا اطمینان اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر اور قائم رکھا ان کو ادب کی بات پر اور وہی تھے اس کے لائق اور اس کام کے اور ہے اللہ ہر چیز سے خبردار

22:۔ ” اذ جعل۔ الایۃ “ ظرف ” عذبنا “ سے متعلق ہے یعنی اگر ہم نے ان کو عذاب دینا ہوتا تو ہم مسلمانوں کے ہاتھوں کو ان سے نہ روکتے اور ان کو اس وقت عذاب دیتے جب وہ جاہلیت کا کبر و غرور دلوں میں لیے غیر شریفانہ حرکات پر اتر آتے تھے، لیکن ہم نے ان کی نخوت اور حمیت جاہلیت کی وجہ سے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کو اشتعال میں آنے نہیں دیا اور ان کے دلوں پر سکون و اطمینان نازل کر کے ان کو پر وقار بنا دیا اور جنگ کرنے کا خیال ان کے دلوں سے نکال دیا اور کلمہ تقوی کو ان کے لیے لازم کردیا اور ان کے دلوں میں اس کو جاگزیں کردیا۔ کیونکہ وہ اس کلمہ تقوی کے سب سے زیادہ مستحق اور اہل تھے اس لیے ان کو اس کے اختیار کرنے کی توفیق دیگئی اور مشرکین کو اس کے اختیار سے محروم کرددیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ کون اس کا مستحق ہے اور کون اس کا ہل نہیں۔ کلمۃ التقوی سے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کلمہ کے اختیار کرنے اور اس پر قائم رہنے کا حکم دیا، اس لیے انہوں نے مشرکین کے متکبرانہ رویے کے جواب میں سکون و وقار سے کام لیا اور کوئی ناشائستہ حرکت نہ کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے انہیں جوابی کارروائی کرنے کا کوئی حکم نہیں تھا۔ المراد بالزامہم ایاھا ثباتہم علیہا بترک الحمیۃ (مظیر ج 9 ص 34) ۔ یا کلمۃ التقوی سے جنگ نہ کرنے کا عزم مراد ہے یعنی اللہ نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون و اطمینان ڈال دیا اور ان کو آمادہ پیکار نہ ہونے دیا۔ کیونکہ مسلمان ہی سکینہ و وقار کے لائق اور طمانیت قلب کے مستحق تھے۔
Ayah 48:27

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

اللہ نے23 سچ دکھلایا اپنے رسول کو خواب تحقیق کہ تم داخل ہو رہو گے مسجد حرام میں اگر اللہ نے چاہا آرام سے بال مونڈتے ہوئے اپنے سروں کے اور کترتے ہوئے بےکھٹکے پھرجانا وہ جو تم نہیں جانتے پھر مقرر کردی اس سے ورے ایک فتح نزدیک

23:۔ ” لقد صدق “ یہ ایک شبہہ کا جواب ہے، شبہہ یہ تھا کہ حضرت رسول خدا ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ مع صحابہ کرام ؓ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور سر منڈائے اور بال کٹوائے آپ نے یہ خواب صحابہ ؓ کے سامنے بیان کیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ یہ خواب آپ نے سفر عمرہ سے پہلے دیکھا تھا، اس لیے صحابہ ؓ نے یہی سمجھا کہ آپ کا خواب اسی سال پورا ہوگا۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا آپ کو مع صحابہ کرام ؓ مقام حدیبیہ سے واپس ہونا پڑا تو جواب ارشاد فرمایا کہ اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو سچا خواب دکھایا تھا اور وہ خواب لا محالہ پورا ہو کر رہے گا۔ اراہ الریا الصادقۃ (روح) ۔ تم نے یہ سمجھ لیا کہ خواب اسی سال پورا ہوگا، حالانکہ اس کیلئے سال کی کوئی تعیین نہیں کی گئی تھی۔ یہ خواب آئندہ سال پورا ہوگا اور تم سب بلا خوف ہراس، امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے اور مناسک عمرہ بغیر کسی روک ٹوک کے ادا کروگے اور مناسک عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام سے نکلنے کے لیے سر منڈاؤ گے اور بال کٹواؤ گے۔ تحلیق کو تقصیر پر مقدم کر کے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تحلیق، تقصیر سے افضل ہے۔ فعلم مالم تعلموا الخ، خواب کی تعبیر کے ظہور کی تاخیر میں جو حکمت ہے وہ تمہیں معلوم نہیں، لیکن اللہ کو معلوم ہے اور وہ یہ ہے کہ خواب کا مصداق ظاہر ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہیں بہت جلد ایک فتح عطاء فرمانا چاہتا ہے۔ اس فتح سے مراد فتح خیبر ہے جو صلح حدیبیہ سے فورًا بعد ماہ صفر میں ہوئی تاکہ اس فتح سے مسلمانوں کے دل میں سکون پیدا ہو اور موعودہ فتح عظیم (فتح مکہ) کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ وھو فتح خیبر لتستروح الیہ قلوب المومنین الی ان یتیسر الفتح الموعود (مدارک ج 4 ص 124) ۔
Ayah 48:28

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بھیجا24 اپنا رسول سیدھی راہ پر اور سچے دین پر تاکہ اوپر رکھے اس کو ہر دین سے اور کافی ہے اللہ حق ثابت کرنے والا

24:۔ ” ھو الذی “ جواب شبہہ کے بعد توحید اور اتباع رسول کی ترغیب۔ ” الہدی “ توحید۔ ” دین الحق ‘ دین اسلام (مدارک) ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو پیغام توحید اور دین اسلام دے کر بھیجا ہے تاکہ توحید اور دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب و فائق کرے۔ اور اللہ تعالیٰ اس وعدے پر خود شاہد ہے اور وہ اس وعدے کو ضرور پورا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا اور اس کی جھلک خود رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی زندگی میں دیکھ لی۔ دین اسلام نے گذشتہ ادیان کو منسوخ کردیا، اسلام کو علمی اور دلائل کے اعتبار سے باقی دینوں پر غالب فرمایا اور جس غیر مسلم قوم نے مسلمانوں سے ٹکر لی اسے مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب و مقہور کردیا۔ لعلیہ علی جنس الدین کلہ بنسخ ماکان حقا و اظہار فساد ماکان باطلا او بتسلیط المسلمین علی اھلہ اذا ما من اھل دین الا وقد قہرہم المسلمون (بیضاوی) ۔ دین اسلام کو اللہ نے اس اعتبار سے بھی باقی تمام دینوں پر غالب فرمایا کہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں مثلا عبادت، معاشرت، معیشت سیاست، حکومت، عدالت وغیرہ کے مسائل کا جو حل اسلام نے پیش کیا ہے وہ ہر لحاظ سے باقی تمام ازموں کے پروگرام سے بہتر اور سب پر فائق ہے۔ اسلامی نظام حیات کی باقی نظامہائے زندگی پر برتری اور فوقیت عقل و تجربہ کی روشنی میں ثابت ہوچکی ہے۔
Ayah 48:29

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد25 رسول اللہ کا اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں زور آور ہیں26 کافروں پر نرم دل ہیں آپس میں تو دیکھے ان کو رکوع میں اور سجدہ میں27 ڈھونڈھتے ہیں اللہ کا فضل اور اس کی خوشی نشانی ان کی ان کے منہ پر ہے سجدہ کے اثر سے یہ شان ہے ان کی تورات میں اور مثال ان28 کی انجیل میں جیسے کھیتی نے نکالا اپنا پٹھا پھر اس کی کمر مضبوط کی پھر موٹا ہوا، پھر کھڑا ہوگیا اپنی نال پر خوش لگتا ہے کھیتی والوں کو تاکہ جلائے ان سے جی کافروں کا وعدہ کیا ہے29 اللہ نے ان سے جو یقین لائے ہیں اور کیے ہیں کام بھلے معافی کا اور بڑے ثواب کا

25:۔ ” محمد رسول اللہ “ جس عظیم الشان رسول کی وساطت سے دین حق کو غلبہ عطا کرنا ہے اس کے اسم گرامی کی تصریح اور ان جاں نثار اور سرفروش صحابہ کرام ؓ کے فضائل و مناقب کا بیان جنہوں نے پیغمبر خدا ﷺ کی معیت میں دین اسلام کو پھیلانے اور اس کو باقی دینوں پر غالب کرنے کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دی تاکہ آنے والی نسلیں ان کے نقش قدم پر چلیں اور اپنے اندر ایسی صفات پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ ” محمد “ مبتدا مقدر کی خبر ہے اور ” رسول اللہ “ عطف بیان ہے یا نعت یا بدل۔ اور یہ جملہ ” ھو الذی ارسل رسولہ۔ الایۃ “ کا بیان ہے۔ ای ھو او ذلک الرسول المرسل بالھدی و دین الھق محمد، علی ان الاسم الشریف خبر مبتدا محذوف و (رسول اللہ) عطف بیان او نعت او بدل، والجملۃ استئناف مبین لقولہ تعالیٰ (ھو الذی ارسل رسولہ) وھذا ھو الوجہ الارجح الانسب بالمساق کما فی الکشف (روح ج 26 ص 123) ۔ 26:۔ ” والذین معہ “ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس سے وہ صحابہ مراد ہیں جو صلح حدیبیہ میں آپ کے ہمراہ تھے۔ قال ابن عباس : اھل الحدیبیۃ اشداء علی الکفار، ای غلاظ علیہم کالاسد علی فریستہ (قرطبی ج 16 ص 292) ۔ یعنی وہ کافروں پر اس طرح سخت گیر ہیں جس طرح شیر اپنے شکار پر۔ لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے تمام صحابہ ؓ مراد ہیں۔ وقال الجمہور جمیع اصحابہ ﷺ و ؓ (روح) ۔ وکون الصفات فی جملۃ اصحاب النبی ﷺ ھو الاشبہ (قرطبی) ۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ کی شان یہ ہے کہ کافروں پر وہ بہت سخت ہیں، دین کے معاملے میں کفار کیلئے رافت و رحمت کا جذبہ ان کے دامنگیر نہیں ہوتا، جب وہ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو کفر کی حمایت میں میدان کارزار میں اپنے سامنے دیکھتے ہیں تو شیر کی طرح ان پر جھپٹ پڑتے ہیں، لیکن آپس میں ایک دوسرے کیلئے نہایت مہربان اور رحمدل ہیں۔ اسلام نے ان کو ایک ایسی دینی برادری اور اخوت کے سلسلے میں جوڑ دیا ہے کہ ان کی باہمی محبت و الفت اور شفقت و رحمت حقیقی بھائیوں کی محبت و شفقت سے بھی زیادہ مضبوط اور گہری ہے اور زمانہ جاہلیت کی عداوتیں اور دشمنیاں ان کے دلوں سے حرف غلط کی محو ہوچکی ہیں۔ اس آیت نے ان لوگوں کی آرزوؤں کو خاک میں ملا دیا جو بےاصل اور باطل تاریخی روایتوں کی بناء پر صحابہ ؓ کے درمیان باہمی بغض و عداوت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رغم انف الروافض الذین یزعمون ان اصحاب محمد کانوا یتباغضون بینہم (مظہری ج 9 ص 36) ۔ 27:۔ ” تراہم رکعا “ یہ صحابہ ؓ کی کثرت نماز کی طرف اشارہ ہے کہ تو اکثر ان کو نماز میں مصروف پائیگا۔ اور ھر نماز سے ان کا مقصود ریاکاری نہیں، بلکہ وہ اللہ کے فضل و رحمت اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے نمازیں پڑھتے ہیں۔ یہ ان کے صدق نیت اور اخلاص باطن کی شہادت ہے۔ صحابہ کرام ؓ کا مقام کس قدر بلند ہے کہ خود اللہ تعالیٰ گواہی دے رہا ہے کہ وہ جو کچھ رہے ہیں محض میری رضا جوئی اور خوشنودی کی خاطر کر رہے ہیں، وکفی بذلک شرفا۔ ” سیماھم الخ “ ان کے صدق واخلاص کی علامات ان کے چہروں میں، کثرتِ سجود اور عبادت پر مداومت کی برکت سے، نورانیت، وقار اور خشوع و تواضع کی صورت میں نمایاں ہیں۔ قال قوم ھو السمت الھسن والخشوع والتواضع وھی الروایۃ الوالبی عن ابن عباس (مظہری) ۔ اس سے ماتھے کا وہ نشان مراد نہیں جو اکثر نمازیوں کی پیشانیوں پر نمودار ہوجاتا ہے جسے عرف عام میں ماتھے کا محراب کہتے ہیں کیونکہ، یہ نشان کوئی حقیقی علامت نہیں ہے۔ ” ذلک مثلہم الخ “ صحابہ ؓ کے یہ اوصاف جو اوپر بیان کیے گئے ہیں اسی طرح تورات میں بھی مذکور ہیں۔ 28:۔ ” ومثلہم فی الانجیل “ یہ صحابہ کرام ؓ کے لیے ایک تمثیل ہے۔ ” کزرع “ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ ای ھم کزرع، یعنی ان کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کھیت میں ایک پودا پھوٹتا ہے پھر کچھ دنوں کے بعد اس کا کمزور تنا مضبوط ہوجاتا ہے، پھر آہستہ آہستہ تنا اس قدر موٹا ہوجاتا ہے کہ پودا اس پر کھڑا ہوجاتا ہے تو کاشتکار اور کھیت کے مالک اسے دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ یہی مثال صحابہ ؓ کی ہے کہ ابتداء اسلام میں بہت کم تھے پھر ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ایک نہایت مضبوط اور مستحکم جماعت معرض وجود میں آگئی جسے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ خوش ہوتے۔ وھو مثل ضربہ اللہ تعالیٰ للصحابۃ ؓ بدء الاسلام ثم کثروا واستحکموا فترقی امرہم یوما فیوما بحیث اعجب الناس (روح ج 26 ص 127) ۔ ” یغیظ الخ “ اس کا متعلق محذوف ہے۔ ای فعل اللہ ھذا لمحمد ﷺ و اصحابہ یغیظ بہم الکفار (قرطبی ج 16 ص 295) ۔ اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو ضعف کے بعد قوت عطاء فرمائی اور قلت کے بعد ان کی جماعت میں اس قدر اضافہ فرمایا کہ وہ ایک ناقابل تسخیر قوت بن گئے، تاکہ کفار و مشرکین حسد اور غیظ و غضب کی آگ میں جل اٹھیں۔ 29:۔ ” وعد اللہ۔ الایۃ “ یہ صحابہ ؓ کے لیے بشارت اخروی ہے اور ” منہم “ میں ” من “ بعضیہ نہیں، بلکہ مؤکدہ ہے یا بیانیہ۔ من مؤکدۃ للکلام و المعنی وعدہم اللہ کلہم مغفرۃ واجرا عظیما۔ (قرطبی ج 16 ص 296) ۔ ابن عطیۃ وقولہ منہم، لبیان الجنس ولیست للتبعیض لانہ وعد مدح الجمیع۔ (بحر ج 8 ص 103) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ جس شخص کے دل میں کسی صحابی کے بارے میں ذرّہ بھر بغض ہوگا۔ وہ ” لیغیظ بہم الکفار “ کا مصداق ٹھہرے گا۔ قال مالک من اصبح من الناس فی قلبہ غیظ من اصحاب رسول اللہ ﷺ فقد اصابتہ ھذہ الایۃ۔ (روح ج 26 ص 228) ۔ تمام صحابہ ؓ عدول و ثقات ہیں، ان کی دیانت شک و شبہ سے بالا ہے، وہ سارے کے سارے اولیاء اللہ اور انبیاء (علیہم السلام) کے بعد اللہ کی ساری مخلوق سے برگزیدہ ہیں۔ اہل سنت کا یہی مسلک ہے۔ فالصحابۃ کلہم عدول، اولیا اللہ تعالیٰ واصفیائہ و خیرتہ من ائمۃ ھذہ الامۃ (قرطبی ج 16 ص 299) ۔ سورة فتح میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” انا ارسلنک شاھدا و مبشرا۔ تا۔ وتسبحوہ بکرۃ واصیلا “۔ نفی شرک ہر قسم 2 ۔ ” قل فمن یملک لکم من اللہ۔ الایۃ “ نفی شرک فی التصرف۔ 3 ۔ ” وللہ ملک السموات والارض۔ الایۃ “ نفی شرک فی التصرف۔ سورة الفتح ختم ہوئی