47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsجواھر القرآن

Ayah 47:1

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جو لوگ کہ منکر ہوئے2 اور روکا اوروں کو اللہ کی راہ سے کھو دیے اللہ نے ان کے کام

2:۔ حصہ اول تقابل احوال مومنین و کفار و حکم قتال :۔ ” الذین کفروا۔ الایۃ بیان حال مشرکین۔ ” صدوا “ لازم و متعدی دونوں طرح مستعمل ہے۔ خود اللہ کی راہ سے رک گئے اور اس پر نہ چلے یا دوسروں کو اللہ کی راہ پر چلنے سے روک دیا۔ اللہ کی راہ سے مراد اسلام ہے۔ ای اعرضوا عن الاسلام و سلوک طریقۃ او منعوا غیرھم عن ذلک علی ان صد لازم او متعد (روح ج 26 ص 36) ۔ جن لوگوں نے توحید کا انکار کیا، قبول اسلام سے اعراض کیا یا اور دل کو توحید اور اسلام سے روکا ان کے اعمال رائیگاں ہیں۔ ان سے مراد اہل مکہ ہیں۔ قال ابن عباس و مجاھد، ھم اھل مکۃ کفروا بتوحید اللہ، و صدوا انفسہم والموؤمنین عن دین اللہ وھو الالاسلام بنھیہم عن الدخول فیہ (قرطبی ج 16 ص 223) ۔ حاصل یہ ہے کہ مشرکین کی نیکیاں حق سے اعراض اور شرک کی وجہ سے برباد ہیں اور مومنوں کی برائیاں ایمان اور اعمال صالحہ کی برکت سے معاف ہوں گی۔
Ayah 47:2

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو3 یقین لائے اور کیے بھلے کام اور مانا اس کو جو اترا محمد ﷺ پر اور وہی ہے سچا دین ان کے رب کی طرف سے ان پر سے اتاریں ان کی برائیاں اور سنورا ان کا حال

3:۔ ” والذین امنوا۔ الایۃ “ مقابلے میں مومنین کے حال کا ذکر اور بشارت ہے۔ اور جو لوگ اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائے اور نیک کام کیے اور محمد ﷺ پر جو کچھ بھی نازل کیا گیا ہے (قرآن اور تمام دیگر احکام) سب پر ایمان لائے، ہر بات پر آپ کی تصدیق کی اور کسی چیز میں آپ کی مخالفت نہ کی۔ آپ پر جو کچھ بھی نازل کیا گیا ہے وہ سراپا حق ہے اور اللہ کی طرف سے ہے۔ ایسے لوگوں کے اللہ تعالیی گناہ معاف فرمائیگا اور دنیا وآخرت میں ان کے احوال و معاملات درست کرے گا۔
Ayah 47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ جو4 منکر ہیں وہ چلے جھوٹی بات پر اور جو یقین لائے انہوں نے مانی سچی بات اپنے رب کی طرف سے یوں بتلاتا ہے اللہ لوگوں کو ان کے احوال

4:۔ ” ذلک بان۔ الایۃ “ یہ بطریق لف و نشر مرتب ماقبل کی علت ہے۔ باء سببیہ ہے اور اس کا متعلق محذوف ہے یعنی مشرکین کی نیکیوں کا ضائع ہونا اس لیے ہے کہ انہوں نے حق سے اعراض کر کے باطل کا اتباع کیا اور مومنوں کے گناہوں کا معاف ہونا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے باطل سے منہ موڑ کر حق کو قبول کیا اور اس کی پیروی کی۔ ای ذلک کائن بسبب اتباع الاولین الباطل، واتباع الاخرین الحق۔ (روح ج 26 ص 38) ۔ یا باء ” لتستیقنوا “ سے متعلق ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ یعنی تمہیں یقین ہوجائے کہ مختلف جزاء اس لیے دی جائے گی کہ کفار نے باطل کی پیروی کی اور مومنوں نے حق کا اتباع کیا۔ اس لیے کفار کے اعمال برباد اور مومنوں کے گناہ معاف ہوں گے اس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کو سمجھانے کے لیے فریقین (مومنین و کفار) کے احوال بیان فرماتا ہے۔
Ayah 47:4

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

سو جب تم مقابل ہو منکروں کے5 تو مارو گردنیں یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو ان کو تو مضبوط باندھ لو قید پھر یا احسان کیجیو اور یا معاوضہ لیجیو جب تک کہ رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار یہ سن چکے اور اگر چاہے اللہ تو بدلہ لے ان سے پر جانچنا چاہتا ہے تمہارے ایک سے دوسرے کو اور جو لوگ مارے گئے اللہ کی راہ میں تو نہ ضائع کرے گا وہ ان کے کیے کام

5:۔ ” فاذا لقیتم۔ الایۃ “ بیان احوال فریقین کے بعد جہاد کا حکم دیا گیا۔ ” فضرب “ یہ اصل میں فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے جسے حذف فعل کے بعد اس کے مفعول بہ کی طرف مضاف کردیا گیا ہے۔ ای فاضربوا الرقاب ضربا (مدارک ج 4 ص 113) ۔ اور ضرب رقاب (گردنیں مارنا) قتل سے کنایہ ہے (بحر) ، اے ایمان والو ! مذکورہ بیان سے جب تمہیں معلوم ہوگیا کہ مشرکین توحید کے دشمن اور شرک و باطل کے پجاری ہیں اور دوسروں کو بھی اسلام و توحید سے روکتے ہیں تو دنیا میں ان سے وہی معاملہ کرو جس کے وہ مستحق ہیں۔ جب میدان جنگ میں ان سے آمنا سامنا ہوجائے تو انہیں ہرگز معاف نہ کرو، جہاد میں کمزوری نہ دکھاؤ، ہمت نہ ہارو بلکہ مرد بنو اور میدان جہاد میں مشرکین کی کثیر تعداد کو تہ تیغ کرچکو تو جو باقی بچیں ان کو قید کرلو اور مضبوطی سے انہیں باندھ لو اس کے بعد تمہیں اکتیار ہے چاہو تو ان پر احسان کر کے بلا فدیہ انہیں آزاد کردو یا ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دو ۔ یہ احکام جہاد اس وقت تک نافذ رہیں گے جب تک کہ مشرکین مغلوب و مقہور ہو کر ہتھیار نہ ڈال دیں، اور کفر کی قوت و شوکت ختم نہ ہوجائے۔ ” منا “ اور ” فداء “ دونوں مفعول مطلق ہیں اور ان کے افعال مقدر ہیں۔ ای فاما تمنون منا واما تفدون فداء (روح ج 26 ص 39) ۔ ” تضع الحرب “ الحرب سے اھل الحرب مراد ہیں۔ یعنی لڑنے والے کفار و مشرکین ہتھیار ڈال دیں اور ضعیف و مغلوب ہو کر جنگ کرنے سے باز رہیں۔ ” ذلک “ ای الامر ذلک الذی ذکرت و بینت (قرطبی ج 16 ص 229) ۔ یعنی حکم وہی ہے جو پہلے بیان ہوچکا ہے اگر اللہ چاہتا تو ویسے ہی کسی آفت ناگہانی سے ان کو ہلاک کر کے ان سے انتقام لے لیتا، لیکن جہاد کا حکم دے کر وہ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ کون جہاد میں شریک ہوتا ہے اور کون اس سے جی چراتا ہے۔ نیز جہاد کرنے والوں کو وہ دنیا و آخرت میں اجر وثواب دینا چاہتا ہے۔ ” والذین قتلوا الخ “ یہ ترغیب الی الجہاد کی پہلی علت ہے اور شہدا کے لیے بشارت دنیویہ ہے۔ جو لوگا للہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجائیں گے ان کے اعمال ضائع نہیں ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں ہر نیک عمل کی احسن جزاء عطا فرمائے گا۔
Ayahs 47:5–6

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

ان کو راہ دے گا اور6 سنوارے گا ان کا حال

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور داخل کرے گا ان کو بہشت میں جو معلوم کرا دی ہے ان کو

6:۔ ” سیہدیہم “ شہداء کے لیے بشارت اخرویہ۔ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو وہ جنت کی راہ دکھائیگا بقرینہ ویدخلہم الجنۃ الخ، کیونکہ شہید ہوجانے کے بعد ہدایت کا معروف معنی تو مراد ہو ہی نہیں سکتا۔ یا مطلب یہ ہے کہ منکر و نکیر کے سوال کے وقت درست جواب تلقین فرمائے گا اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جہاں ہر ایک کو اپنا اپنا مقام معلوم ہوگا۔ ہر آدمی کسی سے پوچھے بغیر ہی اپنی منزل میں چلا جائے گا گویا وہ اپنے اس گھر کو پہلے ہی سے جانتا ہے (سیہدیہم) الی طریق الجنۃ او الی الصواب فی جواب منکر و نکیر (ویصلح بالہم) یرضی خصماءھم ویقبل اعمالہم (مدارک ج 4 ص 114) ۔
Ayah 47:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے ایمان والو7 اگر تم مدد کرو گے اللہ کی تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور جما دے گا تمہارے پاؤں

ف 27: ” یا ایہا الذین۔ الایۃ “ بیان حال مؤمنین دشمن کے مقابلے میں ایمان والوں کی فتح و ظفر کا راز بیان فرمایا۔ اللہ کی مدد کرنے سے مجازاً اللہ کے دین اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کرنا مراد ہے (روح) اے ایمان والو ! اگر تم مال و جان سے اللہ کے دین اور اللہ کے سول کی مدد کروگے، اور محض رضائے الٰہی اور اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جہاد کروگے، تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا دشمن کے مقابلے میں تمہیں ثبات و استقلال عطا فرمائیگا اور فتح و ظفر سے تمہیں ہمکنار فرمائے گا۔
Ayahs 47:8–9

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ منکر ہوئے8 وہ گرے منہ کے بل اور کھو دیے ان کے کیے کام

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ ان کو پسند نہ ہوا جو اتارا اللہ نے پھر اکارت کردیے ان کے کیے کام

8:۔ ” والذین کفروا۔ الایۃ “ بیان حال کفار، مومنین کے مقابلے میں کفار کے لیے دنیا میں قتل وہلاکت اور آخرت میں رسوا کن عذاب ہے اور ان کے اعمال بیکار و رائیگاں ہیں۔ ” ذلک بانہم الخ “ یہ مشرکین کے انجام کا سبب ہے۔ ان کا یہ انجام اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے توحید اور دیگر احکام پر مشتمل اللہ کی کتاب کو نفرت و کراہیت کی نگاہوں سے دیکھا اس لیے ان کے تمام اعمال ضائع کردئیے اگر ان کے اعمال کے ساتھ ایمان کی دولت بھی ہوتی، تو ان پر اجر وثواب ملتا۔ ” ما انزل اللہ من القران لما فیہ من التوحید وسائر الاحکام المخالفۃ لما الفوہ واشتہیتہ انفسہم الامارۃ (روح ج 26 ص 45) ۔
Ayahs 47:10–11

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا وہ پھرے نہیں9 ملک میں کہ دیکھیں کیسا ہوا انجام ان کا جو ان سے پہلے تھے ہلاکی ڈالی اللہ نے ان پر اور منکروں کو ملتی رہتی ہیں ایسی چیزیں

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ رفیق ہے ان کا جو یقین لائے اور یہ کہ جو منکر ہیں ان کا رفیق نہیں کوئی

9:۔ ” افلم یسیروا۔ الایۃ “ احوال مشرکین و تخویف دنیوی ہے۔ یہ سرکش لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے ہیں کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں تاکہ اپنے سے پہلے سرکش لوگوں کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے۔ اللہ نے ان کو اور ان کے اہل و عیال اور اموال کو تباہ کردیا۔ ان کی سرکشوں کے لیے ایسے انجام بد کی بہت سی مثاللیں ہیں۔ گذشتہ اقوام متمردہ کی ہلاکت و تباہی میں ان کے لیے بیشمار عبرتیں ہیں۔ ” ذلک “ معاملہ اسی طرح ہے۔ ” بان اللہ الخ “ یہ لیستیقنوا کے متعلق ہے اور ترغیب الی الجہاد کی دوسری علت ہے یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں کا مددگار ہے اور کافروں کا کوئی یار و مددگار نہیں۔
Ayahs 47:12–13

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

مقرر اللہ10 داخل کرے گا ان کو جو یقین لائے اور کیے بھلے کام باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں اور جو لوگ منکر ہیں برت رہے ہیں اور کھاتے ہیں جیسے کہ کھائیں چوپائے اور آگ ہے گھر ان کا

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور کتنی تھیں بستیاں جو زیادہ تھیں زور میں اس تیری بستی سے جس نے تجھ کو نکالا ہم نے ان کو غارت کردیا پھر کوئی نہیں ان کا مددگار

10:۔ ” ان اللہ “ بشارت اخرویہ وہ بیان احوال مؤمنین۔ جو مؤمنین زیور عمل صالح سے آراستہ ہوں گے ان کو اللہ تعالیٰ جنت کے ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن میں نہریں جاری ہوں گی ” والذین کفروا “ تخویف اخروی مع بیان احوال مشرکین۔ کفار آخرت سے ایسے غافل ہیں کہ ہر وقت دنیوی منافع حاصل کرنے اور عیش اڑانے میں مشغول ہیں اور چوپایوں کی طرف فکر آخرت اور انجام و عاقبت سے بیخبر ہو کر کھانے پینے میں منہمک رہتے ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ” وکاین من قریۃ۔ الایۃ “ یہ مشرکین کے لیے تخویف دنیوی ہے اور ضمناً آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ قریۃ سے مجازاً اہل قریہ مراد ہیں۔ بہت سی بستیاں جن میں سے ہر بستی والے آپ کی اس بستی (مکہ) والوں سے زیادہ طاقت ور تھے جنہوں نے آپ کو اس بستی سے نکالا ہے ہم نے ان کو ہلاک کردیا مگر ان کا کوئی یار و مددگار ان کی مدد کو نہ آیا۔ آپ گھبرائیں نہیں آخر کار ان سرکشوں کی بھی جڑ کاٹ دی جائیگی اور انجام کار غلبہ آپ ہی کو نصیب ہوگا۔
Ayah 47:14

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا ایک جو چلتا ہے واضح راستہ پر11 اپنے رب کے برابر ہے اس کے جس کو بھلا دکھلایا اس کا برا کام اور چلتے ہیں اپنی خواہشوں پر

11:۔ ” افمن کان “ بیان حال اہل ایمان و اہل طغیان۔ وہ مومن جس کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے ایک واضح بیان (قرآن) موجود ہے اور وہ اس کی روشنی میں چلتا اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے کیا وہ اس مشرک کے برابر ہوسکتا ہے جو کفر و شرک کو اچھا اور نیک کام سمجھتا ہو اور خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرتا ہو، توحید اور حق کو جھٹلاتا ہو۔ استفہام انکاری ہے یعنی یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

احوال اس بہشت کا جس کا وعدہ12 ہوا ہے ڈرنے والوں سے اس میں نہریں ہیں پانی کی جو بو نہیں کر گیا اور نہریں ہیں دودھ کی جس کا مزہ نہیں پھرا اور نہریں ہیں شراب کی جس میں مزہ ہے پینے والوں کے واسطے اور نہریں ہیں شہد کی جھاگ اتارا ہوا اور ان کے لیے وہاں سب طرح کے میوے ہیں اور معافی ہے ان کے رب سے یہ برابر ہے اس کے جو سدا رہے آگ میں اور پلایا جائے ان کو کھولتا پانی تو کاٹ نکالے ان کی آنتیں

12:۔ ” مثل الجنۃ “ بشارت اخرویہ اور نعیم جنت کی صفت کا بیان ہے۔ متقی اور پرہیز گار لوگوں کیلئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت اور اس کی نعمتوں کا حال یہ ہے کہ اس میں بہنے والی پانی کی نہروں کا پانی ہمیشہ خوش رنگ اور خوش ذائقہ رہے گا اور اس کے رنگ و بو میں کبھی تبدیلی نہیں آئیگی۔ اسی طرح ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گے جس کا مزہ کبھی نہیں بگڑے گا۔ حالانکہ دنیا کا دودھ تھوڑی دیر میں متغیر ہوجاتا ہے۔ جنت میں شراب کی بھی نہریں جاری ہوں گی لیکن دنیوی شرابوں کے برعکس جنت کی شراب نہایت لذیذ اور پر لطف ہوگی، بدبو، بد مزگی اور نشہ سے پاک ہوگی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہوں گی جو ہر قسم کے فضلات اور کثافت سے پاک صاف ہوگا۔ مشروبات کے علاوہ کھانے کیلئے ہر قسم کے پھل اور میوے ہوں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے گناہوں پر پردہ ڈال دیا جائیگا ان پر نہ مؤاخذہ ہوگا اور نہ کبھی ان سے ان کا ذکر ہی کیا جائیگا تاکہ وہ شرمسار نہ ہوں اور ان کے عیش و سکون میں فرق نہ آئے۔ ” کمن ھو خالد الخ “ یہ حال کفار و تخویف اکرو۔ ایک وہ شخص ہے جسے جنت میں مذکورہ بالا نعمتیں نصیب ہوں گی کیا ایسا سعادتمند انسان اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور جسے وہاں پینے کے لیے سخت ترین گرم پانی دیا جائیگا جو پیتے ہی اس کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔
Ayah 47:16

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور بعض ان میں13 ہیں کہ کان رکھتے ہیں تیری طرف یہاں تک کہ جب نکلیں تیرے پاس سے کہتے ہیں ان کو جن کو علم ملا ہے کیا کہا تھا اس شخص نے ابھی یہ وہی ہیں جن کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اللہ نے اور چلے ہیں اپنی خواہشوں پر

13:۔ ” ومنہم۔ الایۃ “ زجر وبیان حال منافقین۔ منافقین بھی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور عدم توجہ اور بےاعتنائی سے آپ کی باتیں سنتے اور جب آپ کی مجلس سے اٹھ کر آتے تو اہل علم صحابہ ؓ سے بطور استہزاء و تمسخر سوال کرتے کہ ابھی ابھی آپ نے کیا فرمایا ہے ؟ میں اچھی طرح سن نہیں سکا۔ علی جہۃ الاستہزاء ای انا لم التفت الی قولہ (قرطبی ج 16 ص 238) ۔ فرمایا اصل بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے تعنت وعناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی ہے اور ان کو توفیق ہدایت سے محروم کردیا ہے، اس لیے وہ آپ کے کلام ہدایت التیام کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور خواہشات نفسانیہ کے پیروکار بن چکے ہیں، اس لیے ہر بری بات اور ہر برے کام کی طرف فورًا متوجہ ہوجاتے ہیں۔
Ayah 47:17

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ راہ پر آئے ہیں ان کو اور بڑھ گئی اس سے سوجھ14 اور ان کو اس سے ملا بچ کر چلنا

14:۔ ” والذین اھتدوا “ بیان حال مؤمنین۔ اور جو لوگ ہدایت قبول کرچکے ہیں جب وہ آپ کی خدمت میں حاجر ہو کر آپ سے کلام الٰہی اور آپ کا وعظ و نصیحت سنتے ہیں تو ان کی بصیرت اور ان کے علم و یقین کو تقویت ملتی ہے اور انہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطاء ہوتی ہے۔ زادھم ھدی ای بصیرۃ وعلما، (مدارک ج 4 ص 116) ۔
Ayah 47:18

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

اب یہی انتظار کرتے ہیں قیامت کا15 کہ آکھڑی ہوں ان پر اچانک سو آچکی ہیں اس کی نشانیاں پھر کہاں نصیب ہوگا ان کو جب وہ آپہنچے ان پر سمجھ پکڑنا

15:۔ ” فھل ینظرون “ تخویف دنیوی۔ جو امور عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا موجب تھے وہ تو سب سامنے آچکے مثلا قرآن، معجزات وغیرہ، لیکن ان منافقین اور مشرکین نے عبرت حاصل نہیں کی اور ہدایت کو قبول نہیں کیا اب صرف ایک چیز باقی رہ گئی ہے کہ اچانک قیامت آجائے مگر علامات تو قیامت کی بھی ظاہر ہوچکی ہیں مثلاً بعثت حضرت خاتم النبیین ﷺ وعلیہم اجمعین اور شق قمر، لیکن اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ضد و حسد اور بغض وعناد کی وجہ سے ایمان نہ لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ ” قال المفسرون من اشراط الساعۃ انشقاق القمر و بعثۃ رسول اللہ ﷺ (خازن ج 6 ص 179، ابن کثیر ج 4 ص 177) ۔ ” انی لھم “ خبر مقدم ہے اور ” ذکراھم “ مبتدا موخر اور ” اذا جاءتہم “ جملہ معترضہ (روح) یعنی جب قیامت آپہنچے گی تو پھر وہ کس طرح عبرت حاصل کریں گے اس وقت تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

سو تو جان لے کہ16 کسی کی بندگی نہیں سوائے اللہ کے اور معافی مانگ اپنے گناہ کے واسطے اور ایماندار مردوں اور عورتوں کے لیے اور اللہ کو معلوم ہے باز گشت تمہاری اور گھر تمہارا

16:۔ ” فاعلم انہ “ بنیادی دعوی اور مسئلہ توحید کا ذکر ہے جس کی خاطر جہاد فرض ہے یعنی اس بات کا دل سے یقین کر اور اس یقین پر قائم رہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود اور الٰہ نہیں۔ اس کے سوا کوئی مالک و مختار، عالم الغیب اور دعا پکار کے لائق نہیں۔ ” واستغفر لذنبک “ آنحضرت ﷺ چونکہ معصوم ہیں اس لیے استغفار سے یہاں گناہوں سے معافی مانگنا مراد نہیں بلکہ اس سے تواضع، کسرِ نفس کا اظہار اور قصور کا اعتراف مراد ہے۔ الاستغفار کنایۃ عن عما یلزمہ من التواضع و ھضم النفس والاعتراف بالتقصیر لانہ ﷺ معصوم او مغفور (روح ج 26 ص 55) ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ روزانہ سو بار استغفار کرتے تھے۔ جیسا کہ صحاح ستہ میں موجود ہے۔ وانی لاستغفر اللہ کل یوم مائۃ مرۃ (نسائی، ترمذی، ابو داؤود، ابن ماجہ) ۔ یا اس سے زلات (معمولی لغزشیں) اور امور خلاف اولی مراد ہیں جو حقیقت میں گناہ نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دنیوی انجام اور اخروی مقام کو خوب جانتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے اور تمہارا کوئی حال اس سے پوشیدہ نہیں، اس لیے ہر حال میں اس سے ڈرو۔
Ayah 47:20

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ایمان والے17 کیوں نہ اتری ایک سورت پھر جب اتری ایک سورت جانچی ہوئی اور ذکر ہوا اس میں لڑائی کا تو تو دیکھتا ہے ان کو جن کے دل میں روگ ہے تکتے ہیں تیری طرف جیسے تکتا ہے کوئی بیہوش پڑا ہوا مرنے کے وقت سو خرابی ہے ان کی

17:۔ ” ویقول الذین “ یہ سورت کا دوسرا حصہ ہے اور منافقین کے احوال کا بیان ہے ایمان والوں کی یہ خواہش اور آرزو تھی کہ قرآن میں جہاد کا حکم نازل ہوتا کہ وہ جہاد کر کے مشرکین سے انتقام لیں، اللہ کے دین کو سربلند کریں اور اجر وثواب حاصل کریں تو جب کوئی ایسی سورت نازل ہوتی جس میں واضح اور غیر مبہم الفاظ میں جہاد و قتال کا حکم ہوتا، تو منافقوں پر سکتہ طاری ہوجاتا اور وہ آنحضرت ﷺ کی طرف اس طرح دیکھتے جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہو اور اس کے اوسان خطا ہوچکے ہوں، کیونکہ بظاہر مسلمانوں میں شامل ہونے کی وجہ سے ان کیلئے دو ہی راستے ہیں یا تو بادل ناخواستہ جہاد میں شریک ہو کر جن مشرکین کے ساتھ ان کی دلی ہمدردیاں ہیں، ان سے لڑیں یا پھر جہاد میں شریک نہ ہوں اور منافقت کا الزام لے کر ذلیل ورسوا ہوں (روح، بحر، قرطبی) ۔ ” فاولی لہم “ یہ کلمہ بد دعاء کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ھو فی الاصل دعاء علیہم بان یرجع امرھم الی الھلاک، والمراد اھلکہم اللہ تعالیٰ الا ان الترکیب مبتدا و خبر (روح ج 26 ص 67) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ” الذین امنوا “ سے مخلص مومنین مراد ہیں اور ” الذین فی قلوبہم مرض “ سے منافقین مراد ہیں۔ لیکن حضرت شیخ (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” الذین امنوا “ سے ” امنوا باللسان “ یعنی منافقین مراد ہیں۔ منافقین بطور منافقت فرضیت جہاد کی آرزو کا اظہار کرتے تھے۔
Ayah 47:21

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

حکم ماننا ہے اور بھلی بات کہنی18 پھر جب تاکید ہو کام کی تو اگر سچے رہیں اللہ سے تو ان کا بھلا ہے

18:۔ ” طاعۃ “ معطوف مع معطوف علیہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے ای طاعۃ وقول معروف خیر لہم او امثل (روح ج 26 ص 68، بحر ج 8 ص 81) ۔ ان کے لیے بہتر اور اچھا تو یہی تھا کہ وہ مخلصین کی طرح اطاعت کو اپنا شعار بناتے اور دل سے سچی بات کہتے اور زبانوں سے جہاد کی سچی آرزو کا اظہار کرتے۔ ” فاذا عزم “ یہ شرط ہے اور جملہ شرطیہ ” فلو صدقوا الخ “ اس کی جزا ہے۔ ” صدقوا “ سچ کہتے۔ صدق بمعنی راست گفتن وراست کردن (صراح) ۔ یعنی جب معاملہ پختہ ہوگیا اور جہاد کا اعلان ہوگیا تھا تو اس وقت اگر یہ لوگ قول و فعل میں راستبازی اختیار کرتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔
Ayah 47:22

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

پھر تم سے یہ بھی توقع ہے19 کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو خرابی ڈالو ملک میں اور قطع کرو اپنی قرابتیں

19:۔ ” فھل عسیتم “ خطاب منافقین سے ہے۔ جب تم پر جہاد فرض کردیا گیا جو بیشمار دینی فوائد رکھتا ہے مثلاً اللہ کے دین کی سربلندی، باطل کی شکست اور ثواب آخرت وغیرہ مگر اس سے تم نے اعراض کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم محض دنیا پرست ہو تو کیا پھر تم سے یہی توقع کی جائے کہ اگر تمہیں حکومت مل جائے تو تم زمین میں شر و فساد بپا کرو، رعایا کی حق تلفی کرو اور ان پر ظلم ڈھاؤ اور اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی پامال کرو۔
Ayah 47:23

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

ایسے لوگ ہیں جن پر20 لعنت کی اللہ نے پھر کردیا ان کو بہرا اور اندھی کردیں ان کی آنکھیں

20:۔ ” اولئک “ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے اپنی رحمت سے دور کر کے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا کر انہیں ہدایت سے محروم کردیا ہے انہیں حق سننے سے بہرہ کردیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے وہ انفس وآفاق میں بیشمار دلائل توحید دیکھتے ہیں، لیکن ان میں اور ایک نابینا میں کوئی فرق نہیں جیسے نابینا راہ نہیں دیکھ سکتا اسی طرح وہ بھی راہ ہدایت نہیں دیکھتے۔
Ayahs 47:24–25

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

کیا دھیان نہیں کرتے21 قرآن میں یا دلوں پر لگ رہے ہیں ان کے قفل

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک جو لوگ الٹے پھرگئے اپنی پیٹھ پر بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی ان پر سیدھی راہ شیطان نے بات بنائی ان کے دل میں اور دیر کے وعدے کئے

21:۔ ” افلا یتدبرون “ یہ منافقین پر زجر ہے کیا یہ لوگ قرا ان کی آیات بینات میں غور و تدبر ہی نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں اور وہ ایسے بےشعور ہیں کہ ان میں تدبر و تفکیر کی صلاحیت ہی نہیں۔ اگر یہ لوگ حکم جہاد میں ذرا غور سے کام لیتے تو جہاد کے دینی اور دنیوی فوائد ان پر واضح ہوجاتے۔ ” ان الذین ارتدوا۔ الایۃ “ منافقین اسلام کا اقرار کرنے کے بعد جہاد میں شرکت نہیں کرتے اور اپنے قول واقرار سے پھرے جاتے ہیں شیطان نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ جہاد میں جاؤ گے تو قتل ہوجاؤ گے اور ان کی امیدوں میں یہ کہہ کر اضافہ کیا کہ گھر میں رہو گے تو زیادہ عرصہ تک زندہ رہو گے اس لیے چھوڑو جہاد کو۔ المعنی وعدھم بالبقاء الطویل (روح ج 26 ص 75) ۔
Ayah 47:26

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ انہوں نے کہا ان22 لوگوں سے جو بیزار ہیں اللہ کی اتاری کتاب سے ہم تمہاری بات بھی مانیں گے بعضے کاموں میں اور اللہ جانتا ہے ان کا مشورہ کرنا

22:۔ ” ذلک بانھم۔ الایۃ “ ” الذین کرھوا الخ “ سے یہود اور مشرکین مراد ہیں۔ منافقوں نے جب ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیا تو انہوں نے یہود اور مشرکین کو یقین دلایا کہ اگرچہ بظاہر ہم مسلمان ہیں لیکن مسلمانوں کے ساتھ مل کر تم سے نہیں لڑیں گے بلکہ جب موقع پائیں گے تمہاری مدد کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی ان سرگوشیوں اور خفیہ سازوں کو خوب جانتا ہے۔
Ayahs 47:27–28

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

پھر کیسا ہوگا حال23 جب کہ فرشتے جان نکالیں گے ان کی مارتے جاتے ہوں ان کے منہ پر اور پیٹھ پر

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ وہ چلے اس راہ جس سے اللہ بیزار ہے اور ناپسند کی اس کی خوشی پھر اس نے اکارت کردیے ان کے کام

23:۔ ” فکیف اذا “ یہ تخویف دنیوی ہے جب فرشتے ان کی جانیں قبض کریں گے تو ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں کو خوب پیٹیں گے اور جس موت اور مار سے بھاگے تھے اس کا خوب مزہ چکھیں گے۔ ” ذلک بانھم۔ الایۃ “ مرتے وقت یہ ہولناک سزا انہیں اس لیے دی جائیگی کہ انہوں نے کفر و شرک اور عصیان و طغیان کی ر اہ اختیار کی جو سراسر اللہ کے غضب اور اس کی ناراضی کا باعث تھی اور اللہ کی خوشنودی ورضا جوئی کا راستہ ترک کیا اس لیے ان کے سب اعمال بیکار کردئیے گئے آخرت کی زندگی میں ان کو ان سے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔
Ayahs 47:29–30

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا خیال رکھتے ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے24 کہ اللہ ظاہر نہ کر دے گا ان کے کینے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تجھ کو دکھلاویں وہ لوگ سو تو پہچان تو چکا ہے ان کو ان کے چہرہ سے اور آگے پہچان لے گا بات کے ڈھب سے اور اللہ کو معلوم ہیں تمہارے سب کام

24:۔ ” ام حسب۔ الایۃ “ منافقین پر زجر ہے۔ ان کا یہ خیال غلط ہے کہ اسلام پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کے خلاف ان کے دلوں میں جو کینہ و عداوت پوشیدہ ہے اللہ اس کو ظاہر نہیں کرے گا اور ان کے مکر و فریب اور ان کی منافقت کا پردہ چاک نہیں کرے گا۔ ضرور کرے گا اور ایسے حالات پیدا فرمائے گا کہ ان کا خبث باطن خود کھل کر سامنے آجائے ” ولو نشاء۔ الایۃ “ اگر ہم چاہیں تو منافقین کو آپ کے سامنے کردیں اور آپ ان کو دیکھ کر ان کی صورتیں پہچان لیں کہ یہ منافق ہیں لیکن ابھی اس قسم کے دو ٹوک فیصلے کو ہماری حکمت مقتضی نہیں ویسے آپ ان کو ان کے انداز گفتگو سے پہچان لیں گے کیونکہ منافق خواہ کتنی ہی چاپلوسی کرے اور چکنی چپڑی باتیں کرے اس کے کلام میں وہ خلوص نہیں پیدا ہوسکتا جو ایک مخلص مومن کی سیدھی سادھی باتوں میں پایا جاسکتا ہے۔
Ayah 47:31

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور البتہ ہم تم کو جانچیں گے تاکہ معلوم کرلیں25 جو تم میں لڑائی کرنے والے ہیں اور قائم رہنے والے اور تحقیق کرلیں تمہاری خبریں

25:۔ ” ولنبلونکم۔ الایۃ “ ہم حکم جہاد سے تمہاری آزمائش کرنا چاہتے ہیں اور ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ کون تم میں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتے ہیں کہ کون تم میں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتا اور راہ حق میں مصائب برداشت کرنا چاہتا ہے اور کون ایسا نہیں کرنا چاہتا اس سے بھی مخلص و منافق میں امتیاز ہوجائیگا اور مخلص و منافق کے عمل سے اس کی اندرون دل کیفیت ظاہر ہوجائیگی۔ یعنی انا نامرکم بالجھاد حتی یظہر المجاھد و یبین من یبادر منکم و یصبر علیہ من غیرہ (خازن ج 6 ص 184) ۔
Ayah 47:32

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہوئے اور روکا انہوں نے اللہ کی راہ سے26 اور مخالف ہوگئے رسول سے بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی ان پر سیدھی راہ نہ بگاڑ سکیں گے اللہ کا کچھ اور وہ اکارت کر دے گا ان کے سب کام

26:۔ ” ان الذین کفروا “ یہ آخر سورت میں پھر احوال مشرکین کا ذکر ہے۔ جو لوگ راہ ہدایت کے بالکل واضح اور روشن ہوجانے کے بعد بھی توحید کا انکار کرتے اور اسلام سے لوگوں کو روکتے ہیں اور پیغمبر خدا ﷺ کی عداوت میں حد سے گذر چکے ہیں اور آپ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں، وہ اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکٰں گے وہ سراسر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسلام پیغمبر اسلام اور اہل ایمان کے خلاف ان کے تمام منصوبوں کو ناکام کر کے ان کی تمام آرزوؤں کو خاک میں ملا دے گا۔ (سیحبط اعمالہم) التی عملوھا فی مشاقۃ الرسول ای سیبطلہا فلا یصلون منہا الی اغراضہم (مدارک ج 4 ص 118) ۔
Ayah 47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے ایمان والو حکم پر چلو اللہ کے27 اور حکم پر چلو رسول کے اور ضائع مت کرو اپنے کیے ہوئے کام

27:۔ ” یا ایہا الذین امنوا۔ الایۃ “ یہ تشجیع علی القتال ہے۔ امر جہاد میں اللہ اور رسول کے احکام کی پیروی کرو۔ جہاد میں اور راہ دین میں اپنی مرضی اور صوابدید پر نہ چلو، بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایات پر چلو اور ان کے احکام کی اطاعت کرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر کے اور اپنی مرضی سے کام کر کے اپنی محنت اور اپنے عمل کو برباد نہ کرو۔ اس آیت سے فقہاء نے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ اگر کوئی شخص نفلی نماز یا روزہ شروع کر کے توڑ دے تو ان کی قضاء لازم ہے۔ (مظہری وغیرہ) ۔ اگر صرف ” لاتبطلوا اعمالکم “ کے الفاظ سے یہ استنباط کیا جائے تب درست ہے۔ لیکن آیت کا سیاق وسباق اس کا متحمل نہیں۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔
Ayah 47:34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہوئے28 اور روکا لوگوں کو اللہ کی راہ سے پر مرگئے اور وہ منکر ہی رہے تو ہرگز نہ بخشے گا ان کو اللہ

28:۔ ” ان الذین کفروا۔ الایۃ “ بیان حال مشرکین مع تخویف اخروی۔ جن لوگوں نے خود کفر و شرک اختیار کیا اور دوسروں کو اسلام سے روکا اور پھر اسی کفر و شرک کی حالت میں مرگئے تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہرگز معاف نہیں فرمائیگا اور وہ لامحالہ جہنم کے درائمی عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

سو تم بودے نہ ہوئے جاؤ اور لگو پکارنے صلح29 اور تم ہی رہو گے غالب اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور نقصان نہ دے گا تم کو تمہارے کاموں میں

29:۔ ” فلا تھنوا۔ الایۃ “ یہ ایمان والوں کو جہاد میں ثابت قدم رہنے کی ترغیب ہے۔ تدعوا، تھنوا پر معطوف ہے یعنی جہاد میں سستی اور بزدلی مت دکھاؤ اور دب کر صلح کا ہاتھ مشرکین کی طرف مت بڑھاؤ۔ جب تک تمہارا پلہ بھاری ہے ہمت نہ ہارو، اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے، وہ تمہاری محنت کو ضائع نہیں کرے گا، بلکہ تمہیں ثابت قدم فرما کر تمہیں فتح و غلبہ عطا کرے گا۔ لیکن اگر صورت حال ایسی پیش آجائے کہ مادی اعتبار سے مسلمان کفار کے مقابلے میں کمزور ہوں اور صلح میں اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہو تو صلح کرلینے میں مضائقہ نہیں۔ ” فاما اذا الکفار فیھم قوۃ وکثرہ بالنسبۃ الی جمع المسلمین ورای الامام فی المھادنۃ والمعاھدۃ مصلحۃ فلہ ان یفعل ذلک کما فعل رسول اللہ ﷺ حین صدرہ کفار قریش عن مکۃ دعوہ الی الصلح ووضع الحرب الخ۔ (ابن کثیر ج 4 ص 180) ۔
Ayahs 47:36–37

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

یہ دنیا کا جینا تو کھیل ہے اور تماشا30 اور اگر تم یقین لاؤ گے اور بچ کر چلو گے، دے گا تم کو تمہارا بدلہ اور نہ مانگے گا تم سے مال تمہارے

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر مانگے تم سے وہ مال پھر تم کو تنگ کرے تو بخل کرنے لگو اور ظاہر کر دے تمہارے دل کی خفگیاں

30:۔ ” انما الحیوۃ الدنیا “ راہ خدا میں کرچ کرنے کی ترغیب ہے۔ یہ دنیا تو محض ایک کھیل تماشا ہے اور آخرت کے مقابلے میں کوئی چیز ہی نہیں اگر تم ایمان وتقوی اختیار کرو گے اور اس کھیل تماشے سے بچ کر رہو گے، تو اللہ تمہیں نہایت عمدہ اجر دے گا اور وہ تم سے سارا مال بھی طلب نہیں فرماتا۔ بلکہ سارے مال میں سے تھوڑا سا حصہ طلب کرتا ہے اور وہ بھی تمہارے ہی فائدے میں خرچ ہوتا ہے۔ ” ان یسئلکموھا الخ “۔ یحفکم، یسئلکموھا پر معطوف ہے۔ یہ بھی اللہ کی مہربانی ہے کہ یہ سب کچھ اسی نے دیا ہے مگر پھر بھی سارا مال خرچ کرنے کا حکم نہیں فرماتا۔ اور اگر وہ تمہیں سارا مال خرچ کرنے کا حکم دے بھی دے، تو کوئی بھی اس پر عمل نہ کرے گا بلکہ بخل کر کے اپنی تنگدلی کا مظاہرہ کرے گا۔ الا ماشاء اللہ۔
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

سنتے ہو تم لوگ تم کو بلاتے ہیں کہ خرچ کرو31 اللہ کی راہ میں پھر تم میں کوئی ایسا ہے کہ نہیں دیتا اور جو کوئی نہ دے گا سو نہ دے گا آپ کو اور اللہ بےنیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم پھر جاؤ گے تو بدل لے گا اور لوگ تمہارے سوا پھر وہ نہ ہوں گے تمہاری طرح کے

31:۔ ” ھا انتم “ زجر برائے منافقین۔ تمہیں جب اللہ کی راہ میں کرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے بعض بخل کرتے ہیں حالانکہ اپنے ہی فائدے کے کام میں کرچ کرنا ہے۔ اس لیے جو خرچ نہیں کرتا وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور خرچ نہ کر کے بہت سے دینی اور دنیوی فوائد سے محروم رہتا ہے۔ اور اللہ جو خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس سے یہ نہ سمجھو کہ وہ تمہارے مال کا محتاج ہے، وہ تو بےنیاز ہے اور تم سب محتاج اور ضرورتمند ہو اور وہ تمہاری حاجات و ضروریات ہی میں تمہیں خرچ نہ کرو، تو وہ تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو کھڑا کردے گا جو تمہاری طرح بخیل نہ ہوگی اور فرخدلی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے گی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ان مصالح کی تکمیل فرما لے گا، لیکن تم اس کار خیر میں حصہ لینے کی سعادت سے محروم ہوجاؤ گے۔ سورة محمد ﷺ کی خصوصیات اور اس میں آیات توحید 1 ۔ مومنوں اور کافروں کی صفات کا تقابل۔ 2 ۔ ترغیب الی الجہاد اور اس کی علتیں۔ 3 ۔ فاعلم انہ لا الہ الا اللہ۔ نفی شرک ہم انواع و اثبات ہمہ صفات کارسازی برائے اللہ تعالیٰ جل شانہ و عز برہانہ۔ سورة محمد ﷺ ختم ہوئی