46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 46:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

اتارنا کتاب کا ہے2 اللہ زبردست حکمت والے کی طرف سے

2:۔ ” تنزیل الکتاب۔ الایۃ “ تمہید مع ترغیب ہے۔ تنزیل الکتاب مبتدا اور من اللہ العزیز الحکیم خبر ہے۔ یہ عظیم الشان کتاب عزت و عظمت کے مالک شہنشاہ کی طرف سے ہے جس کا کوئی حکم اور کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں، اس لیے اسے مانو اور اس پر عمل کرو۔
Ayah 46:3

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے جو بنائے آسمان اور زمین3 اور جو ان کے بیچ میں ہے سو ٹھیک کام پر اور ایک ٹھہرے وعدہ پر اور جو لوگ منکر ہیں وہ ڈر کو سن کر منہ پھیر لیتے ہیں

3:۔ ” ما خلقنا السموات۔ یہ توحید پر عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ساری مخلوق کو ہم نے یونہی بیکار پیدا نہیں کیا ہر چیز کو اظہار حق (توحید) کیلئے پیدا کیا ہے، کیونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور اس کی صفت کارسازی پر دلالت کرتا ہے۔ وفیہ من الدلالۃ علی وجود الصانع وصفات کمالہ وابتناء افعالہ علی حکم بالغۃ (روح ج 26 ص 4) ۔ اس کائنات کی ہر چیز کی ایک انتہاء ہے۔ یہ کائنات اظہار حق کے لیے سمجھانے اور عبرت دلانے کے لیے پیدا کی گئی ہے اور اس کے لیے آخر فنا ہے اسے ہمیش قائم رکھنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ اس میں یہود کے قول لولا عزیر لما خلقت السموات والارض اور نصاری کے قول لولا عیسیٰ لما خلقت السموات والارض کا بھی رد ہے۔ نیز شیعوں کی کود ساختہ حدیث لولا علی لما خلقت السموات، اور موضوع حدیث لولاک لما خلقت الافلاک، بھی اس آیت کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اظہار حق کی خاطر پیدا فرمایا ہے۔ لولاک لما خلقت الافلاک کی اگر یہ توجیہہ کی جائے کہ اگر آپ کو خاتم النبیین بنا کر آپ پر آخری کتاب نازل کر کے آپ کے ذریعے توحید کی تکمیل اور تمام ادیان باطلہ پر دین حق کا اظہار مقصود نہ ہوتا تو میں کچھ بھی پیدا نہ کرتا۔ تو معنی درست ہوتا، لیکن یہ الفاظ بہر حال موضوع ہیں۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ عن العارف الرومی قدس سرہ۔ ” والذین کفروا لخ “ یہ زجر ہے، لیکن کفار اس کائنات میں غور نہیں کرتے اور اس عالم کے فنا کے بعد آنے والی قیامت جس سے ان کو ڈرایا جاتا ہے اس سے اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو جن کو پکارتے ہو4 اللہ کے سوا دکھلاؤ تو مجھ کو انہوں نے کیا بنایا زمین میں یا ان کا کچھ ساجھا ہے آسمانوں میں لاؤ میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی علم جو چلا آتا ہو اگر ہو تم سچے

4:۔ ” قل ارایتم۔ الایۃ “ اس آیت میں مشرکین سے دو قسم کی دلیلوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مشرکین ! تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو کیا ان کی الوہیت اور پکار کے لائق ہونے پر تمہارے پاس کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہے تو پیش کرو۔ عقلی دلیل کا مطالبہ ” ارونی ماذا خلقوا الخ “ مجھے دکھاؤ تو سہی انہوں نے زمین کا کوئی حصہ پیدا کیا ہے یا آسمانوں کے پیدا کرنے میں ان کا کوئی عملی دخل ہے ؟ اگر وہ کسی ایک چیز کے بھی خالق نہیں تو پکارے جانے کے لائق بھی نہیں۔ نقلی دلیل از کتب سابقہ وانبیاء سابقین (علیہم السلام) کا مطالبہ : ” ایتونی بکتب الخ “ اگر دلیل عقلی نہیں تو کتب سابقہ میں سے کوئی ایک حوالہ ہی پیش کر دو یا اولین کے علوم میں سے کوئی عملی ثبوت ہی مہیا کردو جس سے غیر اللہ کو پکارنے کا جواز نکلتا ہو۔ والمراد نفی استحقاق الہتہم للعبودیۃ علی اتم وجہ (روح ج 26 ص 5) ای لا دلیل لکم لا نقل یا ولا عقل یا علی ذلک (ابن کثیر ج 4 ص 154) ۔
Ayah 46:5

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ5 گمراہ کون جو پکارے اللہ کے سوا ایسے کو کہ نہ پہنچے اس کی پکار کو دن قیامت تک اور ان کو خبر نہیں ان کے پکارنے کی

5:۔ ” ومن اضل “ یہ سابقہ آیت میں مذکور مطالبہ پورا کرنے میں ناکامی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے جب کسی عقلی یا نقلی دلیل سے یہ ثابت نہیں کہ جن کو مشرکین اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ پکاریں سنتے اور حاجات برابری کرسکتے ہیں۔ تو اس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ وہ شخص سب سے بڑٓ گمراہ ہے جو ایسوں کو پکارے جو قیامت تک بھی اس کی حاجت برآری نہ کرسکیں، بلکہ اسکی دعا اور پکار سے سراسر ہوں ہی ببے خبر۔ ” واذا خشر الناس۔ الایۃ “ پکارنے والوں کی پکار سے مزعومہ معبودوں کی بیخبر ی اور اس فعل پر ان کی ناراضی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن میدان حشر میں جب سب لوگ جمع ہوں گے تو جن مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کو دنیا میں پکارا گیا، وہ پکارنے والوں کے سخت خلاف ہوں گے اور پکارنے والوں کو جھٹلائیں گے اور ان کی عبادت سے بیزاری اور براءت کا اعلان کریں گے۔ مکذبین قائلین تبرانا الیک ماکانوا یانا یعبدون (مظہری ج 8 ص 394) ۔ تائید : 1 فکفی باللہ شہیدا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغفلین (یونس رکوع 3) ۔ 2 ۔ یوم یحشرہم جمیعا ثم یقول للملئکۃ اھؤلاء ایاکم کانوا یعبدون قالوا سبحانک انت ولینا من دونہم بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بہم مؤمنون۔ (سبا رکوع 5) ۔ 3 ۔ ان تدعوہم لا یسمعوا دعاء کم ولو سمعوا ماستجابوا لکم۔ یوم القیمۃ یکفرون بشرککم (فاطر رکوع 2) ۔
Ayahs 46:6–7

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگ جمع ہوں گے وہ ہوں گے ان کے دشمن اور ہوں گے ان کے پوجنے سے منکر

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب6 سنائی جائیں ان کو ہماری باتیں کھلی کھلی کہتے ہیں منکر سچی بات کو جب ان تک پہنچی یہ جادو ہے صریح

6:۔ ” واذا تتلی۔ الایۃ “ یہ شکوی ہے جب مشرکین کو قرآن کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جو سراپا حق و صداق ہیں اور جن کا مثل پیش کرنا قوت بشر سے باہر ہے تو وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے یعنی وہ آیتوں میں غور و فکر کر کے ان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ سنتے ہی بلا تامل محض ضد وعناد سے ان کو جادو کا نام دے دیتے ہیں۔ انھم لم یتاملوا ما یتلی علیہہم، بل بادروا اول سماعہ الی نسبتہ الی السحر عنادا وظلما (بحر ج 8 ص 56) ۔
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں7 یہ بنا لایا ہے تو کہہ اگر میں بنا لایا ہوں تو تم میرا بھلا نہیں کرسکتے اللہ کے سامنے ذرا بھی اس کو خوب خبر ہے8 جن باتوں میں تم لگ رہے ہو وہ کافی ہے حق بتانے والا میرے اور تمہارے بیچ اور وہی ہے بخشنے والا مہربان

7:۔ ” ام یقو ون افتراہ “ یہ بھی شکوی ہے اور اس میں مشرکین کا پہلے سے بھی شنیع قول ذکر کیا گیا ہے یعنی یہ جادو بھی نہیں، بلکہ یہ خدا کی ذات پر افتراء ہے۔ اس میں محمد ﷺ نے خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کردی ہیں جو اس نے نہیں فرمائیں۔ العیاذ باللہ۔ ” قل ان افتریتہ الخ “ یہ اس شکوے کا جواب ہے اور ضمناً دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی میں جو کچھ کہتا ہوں اپنے پاس سے نہیں کہتا ہوں بلکہ وحی سے کہتا ہوں۔ اگر بالفرض میں نے اللہ پر افتراء کیا ہے تو وہ جلد ہی مجھے اس کی سزا دے گا۔ لیکن تم میں سے کوئی بھی مجھے اس کی گرفت سے نہیں بچا سکے گا۔ تو کیا میں جان بوجھ کر خدا پر افترا کرکے اس کے عذاب کو دعوت دے رہا ہوں، حالانکہ کوئی ایسے اقدام کی ہمت نہیں کرسکتا۔ جبکہ کسی طرف سے مدد کی کوئی توقع بھی نہ ہو۔ ای لاتقدرون ان تردوا عنی چیئا من عذاب اللہ فکیف اجترئ علی اللہ واعرض نفسی للعقاب من غیر توقع نفع ولا دفع ضرر من قبلکم (مظہری ج 8 ص 395) ۔ 8:۔ ” ھو اعلم “ جس جھگڑے میں تم پڑے ہوئے وہ اس سے جو تمہارا مقصد ہے اسے اللہ خوب جانتا ہے۔ قرا ان کو جادو یا افتراء کہنا یہ تو محض باتیں ہیں ان سے تمہارا مقصد تکذیب ہے۔ میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کافی اور بہتر شاہد ہے جو میری صداقت اور تمہاری تکذیب کی شہادت رہا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ وہ منکرین کو فورًا کیوں نہیں پکڑتا تو یہ اس کی شان غفران و رحمت ہے کہ وہ مجرموں کو مہلت دیتا ہے تاکہ انہیں غور و فکر کا مزید موقع مل جائے۔ انکار بسیار کے بعد بھی جو مان لے اور سچی توبہ کرلے وہ اس کے گناہ معاف فرما کر اسے اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

تو کہہ میں کچھ9 نیا رسول نہیں آیا اور مجھ کو معلوم نہیں کیا ہونا ہے مجھ سے اور تم سے میں اسی پر چلتا ہوں جو حکم آتا ہے مجھ کو اور میرا کام تو یہی ہے ڈر سنا دینا کھول کر

ٖف 9:۔ ” قل ما کنت۔ الایۃ “ میں کوئی نئی بات لے کر نہیں آیا، نہ انبیاء سابقین (علیہم السلام) کی تعلیمات کے خلاف کوئی چیز میں نے پیش کی۔ میں نے وہی دعوت توحید پیش کی ہے جو پہلے پیغمبروں کی دعوت تھی یعنی لست مبتدعا لامر یخالف امورھم بل جئت بما جاء وا بہ من الدعوۃ الی التوحید (روح ج 26 ص 8) ۔ ” وما ادری ما یفعل بی الخ “ یل دلیل وحی پر سوال کا جواب ہے۔ سوال یہ تھا کہ اگر تم پر وحی آتی ہے تو ہمیں بتاؤ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے، تو جواب دیا گیا کہ مجھے تو ابھی تک اپنے بارے میں بھی علم نہیں کہ دنیا میں میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے، کیونکہ اس بارے میں ابھی تک کوئی وحی نہیں آئی۔ نمیدانم چہ کردہ شود بامن و شمادر دنیا (فتح الرحمن) ۔ عن الحسن، وما ادری ما یفعل بی ولا بکم فی الدنیا (قرطبی ج 16 ص 186) ۔ قال ابو جعفر وھذا اصح قول واحسنہ لا یدری ﷺ ما یلحقہ وایاھم من مرض وصحۃ ورخص وغلاء وغنی وفقر (ابن جریر) ۔ آپ کو اپنا اخروی انجام تو بالیقین معلوم تھا اس لیے یہاں وہ مراد نہٰں۔ عن الحسن اما فی الاخرۃ فمعاذ اللہ تعالیٰ ، قد علم ﷺ ما یلحقہ الجنۃ (روح ج 26 ص 9) ۔ ” ان اتبع الخ “ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا، جو کچھ بھی کہتا یا کرتا ہوں وہ وحی ربانی کے اتباع ہی میں کرتا ہوں اور میرا کام یہ ہے کہ میں تمہیں اللہ کا پیغام پہنچاؤ اور نہ ماننے والوں کو اس کے عذاب سے ڈراؤ۔ اس تقریر سے معلوم ہوگیا کہ یہ یہ آیت محکم ہے اور اسے منسوخ ماننے کی ضرورت ہی نہیں۔ منسوخ ماننے کی ضرورت اس صورت میں پیش آسکتی ہے کہ آیت سے امور آخرت مراد ہوں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے ایک روایت ہے لیکن یہ قول اکثر محققین کے نزدیک روایت و درایت دونوں پہلوؤں سے ضعیف ہے (کبیر) ۔
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو10 اگر یہ آیا ہو اللہ کے یہاں سے اور تم نے اس کو نہیں مانا اور گواہی دے چکا ایک گواہ بنی اسرائیل کا ایک ایسی کتاب کی پھر وہ یقین لایا اور تم نے غرور کیا بیشک اللہ راہ نہیں دیتا گناہ گاروں کو

ٖ 10:۔ ” قل ارایتم۔ الایۃ۔ یہ زجر ہے اور ایک عالم بنی اسرائیل سے پہلی دلیل نقلی تفصیلی کا بیان ہے۔ ان کان، شرط کی جزاء محذوف ہے۔ ” فمن اض (رح) منکم “ (روح) اور شاہد بنی اسرائیل سے عبداللہ بن سلام مراد نہیں کیونکہ وہ مدینہ میں اسلام لائے تھے اور یہ سورت مکیہ ہے، بلکہ اس سے مراد تو بادشاہ حبشہ ہے جو اپنے ملک ہی میں مسلمان ہوگیا تھا یا وہ یہودی مراد ہے جو مکہ میں کسی کام کو آیا اور آپ پر ایمان لے آیا تھا۔ لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک شاہد سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں اور یہ آیت مدنیہ ہے اگرچہ باقی تمام سورت مکیہ ہے (روح۔ قرطبی۔ ابن کثیر۔ مدارک وغیرہ) ۔ یعنی یہ بتاؤ اگر یہ قرآن فی الواقع اللہ کی طرف سے ہو اور پھر بھی تم اس کا انکار کرو اور بنی اسرائیل کا علم بھی اس کی سچائی کی گواہی دے اور اس پر ایمان بھی لے آئے، لیکن تم اسے ماننے اور اس پر ایمان لانے سے استکبار ہی کرتے رہو تو خود ہی بتاؤ تم سے بڑا گمراہ کون ہوگا۔ کیونکہ تم محض ضد وعناد کی وجہ سے انکار کر رہے ہو اور ایسے ظالموں اور بےانصافوں کو اللہ تعالیٰ قبول ہدایت کی توفیق ہی نہیں دیتا۔
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کہنے لگے11 منکر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ نہ دوڑتے اس پر ہم سے پہلے اور جب راہ پر نہیں آئے اس کے بتلانے سے تو یہ اب کہیں گے یہ جھوٹ ہے بہت پرانا

11:۔ ” وقال الذین۔ الایۃ “ یہ بھی شکوی ہے۔ للذین امنوا ای فی شانہم (روح) ۔ مشرکین اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ دین برکات، دنیوی عزت وشان اور مال و دولت کے تابع ہوتی ہیں اسلیے وہ ایمان والے غرباء کے بارے میں کہتے تھے کہ اگر قرآن پر ایمان لانا کوئی خیر و برکت کا کام ہوتا تو یہ غرباء اسے قبول کرنے میں ہم پر سبقت نہ لیجاتے، بلکہ ہم ان سے پہلے اسے قبول کرتے۔ ” و اذ لم یھتدوا بہ الخ “ اور وہ چونکہ قرآن پر ایمان لانے کی توفیق سے محروم کردیتے گئے ہیں، اس لیے کہتے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔ یعنی پہلے لوگوں کی بنائی ہوئی باتیں ہیں جنہیں محمد ﷺ نے اپنا لیا ہے۔ یعنی اختلق ھذا اھل الزمان السابق ثم تلقاہ منہم محمد (مظہری ج 8 ص 401) ۔
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کتاب12 موسیٰ کی تھی راہ ڈالنے والی اور رحمت اور یہ کتاب ہے اس کی تصدیق کرتی عربی زبان میں تاکہ ڈر سنائے گناہ گاروں کو اور خوشخبری نیکی والوں کو

12:۔ ” ومن قبلہ۔ الایۃ “ یہ دوسری تفصیلی نقلی دلیل ہے از تورات۔ یہ مسئلہ توحید کوئی نیا مشئلہ نہیں جسے قرآن نے بیان کیا ہو بلکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تورات میں بھی یہی مسئلہ ذکر کیا گیا تھا جو اپنے زمانے میں دین کی رہنما تھی اور اللہ کی رحمت کا باعث تھی جیسا کہ ارشاد ہے ” واتینا موسیٰ الکتاب وجعلناہ ھدی لبنی اسرائیل ان لا تتخذوا من دونی وکیلا (بنی اسرائیل رکوع 1) ۔ اور یہ کتاب یعنی قرآن بھی مسئلہ توحید اور دیگر اصول دین میں تورات کی تصدیق کر رہا ہے اور فصیح وبلیغ عربی زبان میں مشرکین کو اللہ کے عذاب سے ڈراتا اور ایمان والوں کو جنت کی خوش خبری دیتا ہے۔
Ayah 46:13

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

مقرر جنہوں نے13 کہا رب ہمارا اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے

13:۔ ” ان الذین۔ الایۃ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا اور زندگی بھر اس پر قائم رہے اور اس کے عملی تقاضے پورے کرتے رہے قیامت کے دن وہ ہر قسم کے خوف وہراس اور اندوہ و غم سے محفوظ رہیں گے، ان کا ٹھکانہ جنت میں ہوگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ انعام و اکرام انہیں ایمان و عمل کی جزا کے طور پر حاصل ہوگا۔
Ayahs 46:14–15

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

وہ لوگ ہیں بہشت والے سدا رہیں گے اس میں بدلہ ہے ان کاموں کا جو کرتے تھے

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے حکم کردیا انسان کو14 اپنے ماں باپ سے بھلائی کا پیٹ میں رکھا اس کو اس کی ماں نے تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سے اور حمل میں رہنا اس کا اور دودھ چھوڑنا تیس مہینوں میں ہے یہاں تک کہ جب پہنچا اپنی قوت کو اور پہنچ گیا چالیس برس کو کہنے لگا اے رب میرے میری قسمت میں کر کہ شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر اور یہ کہ کروں نیک کام جس سے تو راضی ہو اور مجھ کو دے نیک اولاد میری میں نے توبہ کی تیری طرف اور میں ہوں حکم بردار

14:۔ ” ووصینا الانسان “ یہ بھی بشارت اخرویہ میں داخل ہے۔ انسان پر اپنے ماں باپ کا بھی حق ہے۔ اگر کوئی شخص والدین کے کہنے پر جوانی میں بلکہ چالیس برس کی عمر میں بھی شرک سے توبہ کر کے توحید کو قبول کرلے تو بھی اس کی توبہ قبول ہوگی اور وہ اہل جنت میں شامل ہوجائے گا انسان کو ہم نے والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا اور پھر والدہ کا تو بہت ہی زیادہ حق ہے۔ کیونکہ وہ ایام حمل میں بچے کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھاتی ہے، پھر پیدائش کے وقت بھی مشقت برداشت کرتی ہے اور پھر اس کے بعد اڑھائی سال تک اسے دودھ پلاتی اور اسے ہاتھوں میں اٹھا کر کھلاتی ہے۔ وقال ابو حنیفۃ ؓ المراد بہ الحمل بالاکف (مدارک ج 4 ص 108) ۔ امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک حمل سے اصطلاحی معنی مراد ہے۔ اور تیس ماہ میں اقل مدت حمل چھ ماہ اور اکثر مدت رضاع دو سال کا ذکر ہے (مدارک) ۔ اس کی بنا ایک خبر واحد پر ہے جو حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے۔ اور بعض کے نزدیک یہاں حمل اور رضاع دونوں کی مدت تیس تیس ماہ مراد ہے جو خلاف متبادر ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ کا قول راجح ہے۔ ” حتی اذا بلغ “ اس کے بعد زندہ رہا۔ یہاں تک کہ جوانی کو بلکہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا تو اب اللہ تعالیی سے یوں دعا مانگتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھے ہمت دے اور توفیق عطاء فرما کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی ہیں، نیز مجھے توفیق عطاء فرما کہ میں نیک کام کروں جن پر تو راضی ہو۔ اور میری اولاد کو نیک اور صالح بنا۔ میں اب تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ ” اولئک الذین نتقبل۔ الایۃ “ ایسے لوگوں کے نیک اعمال کو ہم قبول کرلیتے ہیں اور ان کے گناہوں سے در گذر فرما کر انہیں اہل جنت میں شامل کرلیتے ہیں یہ ایک سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 46:16–17

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم قبول کرتے ہیں بہتر سے بہتر کام جو کئے ہیں اور معاف کرتے ہیں ہم برائیاں ان کی رہنے والے جنت کے لوگوں میں سچا وعدہ جو ان سے کیا جاتا تھا

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس شخص نے کہا اپنے ماں باپ کو15 میں بیزار ہوں تم سے کیا مجھ کو وعدہ دیتے ہو کہ میں نکالا جاؤں گا قبر سے اور گزر چکی ہیں بہت جماعتیں مجھ سے پہلے اور وہ دونوں فریاد کرتے ہیں اللہ سے کہ اے خرابی تیری تو ایمان لے آ بیشک وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے پھر کہتا ہے یہ سب نقلیں ہیں پہلوں کی

15:۔ ” والذی قال “ یہ زجر مع تخویف اخروی ہے۔ مؤمن بیٹے کے ذکر کے بعد والدین کے اس بیٹے کا ذکر ہے جو والدین کے کہنے پر ایمان نہیں لاتا اور شرک و کفر پر قائم رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اس شخص کا ذکر ہے جو والدین کے کہنے پر ایمان لے آئے یعنی ایک بیٹا تو وہ ہے جو والدین کے کہنے پر ایمان لے آئے اور ایک وہ ہے جو والدین کی مشفقانہ پند و نصیحت کے جواب میں نہایت گستاخانہ رویہ اختیار کر کے کہتا ہے تم نے مجھے کس قدر دق کر رکھا ہے، تم کہتے ہو کہ میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے قرنوں کے قرن گذر چکے ہیں، لیکن آج تک کسی مردے کو زندہ ہوتے تو ہم نے نہیں دیکھا۔ ” وھما یستغیثان اللہ “ ایک طرف گستاخ بیٹے کی معاندانہ گفتگو ہے، لیکن دوسری طرف والدین نہایت دلسوزی سے اس کو ایمان کی طرف بلاتے اور اللہ سے دعاء مانگتے ہیں کہ اسے ہدایت کی توفیق عطاء فرمائے اور اسے مسلسل ایمان کی دعوت دئیے جا رہے ہیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت ضرور آئیگی لیکن وہ کہے جا رہا ہے کہ یہ وعدہ قیامت اگلے لوگوں کی خود ساختہ باتوں میں سے ایک ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔
Ayah 46:18

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں16 کہ جن پر ثابت ہوئی بات عذاب کی شامل اور فرقوں میں جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے جنوں کے اور آدمیوں کے بیشک وہ تھے ٹوٹے میں پڑے

16:۔ ” الئک الذین۔ الایۃ “ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہے کہ ان کو جہنم کا ایندھن بنایا جائے گا جن و انس کی ان سرکش اور معاند امتوں کے ساتھ جو پہلے گذر چکی ہیں۔ یہ لوگ بہت بڑے خسارے میں ہیں۔ فی امم ای مع امم (قرطبی) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ظرف کا متعلق یدخلون مقدر ہے۔ اللہ کے فیصلے سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ ارشاد ہے جو ابلیس سے خطاب کر کے فرمایا۔ ” لاملئن جھنم منک و ممن تبعک منہم اجمعین “ (روح) ۔
Ayah 46:19

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر فرقہ کے کئی درجے ہیں اپنے کئے17 کاموں کے موافق اور تاکہ پورے دے ان کو کام ان کے اور ان پر ظلم نہ ہوگا

17:۔ ” ولکل درجات “ یہ دونوں فریقوں سے متعلق ہے۔ مومنین اور کفار میں سے ہر ایک کے لیے اس کے اعمال خیر اور افعال شر کے مطابق جزاء و سزا کے مختلف درجات و منازل ہوں گے۔ منازلِ جنت بھی اعمال حسنہ کی کمی بیشی کے مطابق بلندو پست ہوں گے۔ اسی طرح درکاتِ عذاب بھی گناہوں کی کثرت و قلت کے مطابق مختلف ہوں گے۔ تفاوت درجات و درکات عین عدل و انصاف ہے کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دی جائے اور کسی پر زیادتی نہ ہونے پائے۔ اور نہ کسی کی حق تلفی ہی ہو۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن لائے جائیں گے18 منکر آگ کے کنارہ پر ضائع کیے تم نے اپنے مزے دنیا کی زندگانی میں اور ان کو برت چکے اب آج سزا پاؤ گے ذلت کا عذاب بدلہ اس کا جو تم غرور کرتے تھے ملک میں ناحق اور اس کا جو تم نافرمانی کرتے تھے

18:۔ ” ویوم یعرض۔ الایۃ “ تخویف اخروی۔ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین کو دوزخ میں ڈالا جائیگا تو ان سے کہا جائیگا کہ تم عیش و عشرت کی تمام لذتوں سے دنیا میں لطف اندوز ہوچکے ہو اور احکام الٰہیہ سے باغی ہو کر ان سے پورا پورا فائدہ اٹھا چکے ہو۔ اس لیے اب آخرت میں تمہارے لیے کوئی راحت و لذت نہیں۔ دنیا میں تم نے قبول حق سے استکبار کیا اور محض وساوس شیطانیہ اور شبہات واہیہ کے درپے ہو کر توحید کو ٹھکرایا اور خدا کی نافرمانیوں اور فسق و فجور پر کمر بستہ رہے۔ اس لیے آج تمہیں ان بد اعمالیوں کا بدلہ ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب کی شکل میں دیا جائیگا۔
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور یاد کر19 عاد کے بھائی کو جب ڈرایا اپنی قوم کو احقاف میں اور گزر چکے تھے ڈرانے والے اس کے آگے سے اور پیچھے سے کہ بندگی نہ کرو کسی کی، اللہ کے سوا میں ڈرتا ہوں تم پر آفت سے ایک بڑے دن کی

19:۔ ” واذکر اخا عاد “ یہ تیسری تفصیلی نقلی دلیل ہے از ہود (علیہ السلام) مع تخویف دنیوی۔ ” الاحقاف “ حقف کی جمع ہے جس کے معنی ریت کے ٹیلے کے ہیں۔ قوم عاد ریت کے ٹیلوں پر سکونت پذیر تھی۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کا پیغام پہنچایا۔ اور اسے اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ قوم ہود سے پہلے اور اس کے بعد جتنے بھی اللہ کی طرف سے پیغمبر آئے سب نے اپنی اپنی قوم کو یہی دعوت دی۔ ” ان لا تعبدوا الا اللہ “ کہ اللہ کے سوا کسی کو حاجات میں غائبانہ مت پکارو۔ اگر پیغام توحید کو ٹھکراؤ گے تو ایک بہت بڑے اور دردناک عذاب کا خطرہ ہے۔
Ayah 46:22

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

بولے کیا تو آیا ہے20 ہمارے پاس کہ پھیر دے ہم کو ہمارے معبودوں سے، سو لے آ ہم پر جو وعدہ کرتا ہے اگر ہے تو سچا

20:۔ ” قالوا اجئتنا “ قوم کے سرکش افراد نے نہایت معاندانہ جواب دیا کہ اے ہود ! کیا تو ہمیں ہمارے معبود سے ہٹانے کے لیے آیات ہے ؟ تو خوب سن لے ہم ان کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور جس عذاب کی تو ہمیں دھمکیاں دیتا ہے اگر سچا ہے تو اسے لے آ۔ دیر کیوں کر رہا ہے۔ قال انما العلم۔ الایۃ۔ ہود (علیہ السلام) نے فرمایا۔ عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں، مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ عذاب کب آئیگا، اس کی آمد کا معین وقت صرف اللہ ہی کو معلوم ہے، البتہ میرا کام یہ ہے کہ میں خدا کا پیغام تم تک پہنچاؤ وہ میں نے پہنچا دیا، لیکن تم ایسے نادان ہو اور جاہلوں کی سی باتیں کرتے ہو اور مجھ سے ایسے مطالبے کرتے ہو جو نہ میرے فرائض میں شامل ہیں اور نہ میرے بس اور اختیار میں ہیں شانکم الجہل ومن آثار ذلک انکم تقترحون علی ما لیس من وظائف الرسل من الاتیان بالعذاب (روح ج 26 ص 25) ۔
Ayahs 46:23–24

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

کہا یہ خبر تو اللہ ہی کی ہے اور میں تو پہنچا دیتا ہوں جو کچھ بھیج دیا میرے ہاتھ لیکن میں دیکھتا ہوں تم لوگ نادانی کرتے ہو

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب دیکھا اس کو ابر21 سامنے آیا ان کے نالوں کے بولے یہ ابر ہے ہم پر برسے گا کوئی نہیں یہ تو وہ چیز ہے جس کی تم جلدی کرتے تھے، ہوا ہے جس میں عذاب ہے دردناک

21:۔ ” فلما راوہ “ جب عذاب کا وقت آگیا اور سیاہ بادل کی صورت میں اس کے آثار نمودار ہونے لگے اور بادل ان کی وادیوں پر منڈلانے لگے تو وہ بہت خوش ہوئے کیونکہ عرصہ سے بارش نہیں ہوئی تھی اس لیے بادلوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ بادل آگئے ہیں اور آج خوب بارش ہوگی۔ ” بل ھو ما استعجلتم بہ “ تو زبان حال نے ان سے کہا نہیں نہیں، یہ باران تحمت لے کر نہیں آئے، بلکہ ان بادلوں میں وہ عذاب ہے جس کے جلدی آنے کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔ یہ ایک ہولناک طوفان باد ہے جو اللہ کے قہر و عذاب کو لے کر آرہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہر چیز کو تہس نہس کرتا چلا جائیگا، چناچہ وہ اس طرح مٹ مٹا گئے کہ ان کے مکانوں کے سوا کوئی چیز وہاں نظر نہیں آتی تھی مجرموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ قوم ہود پر جب ہمارا عذاب آیا تو جن معبودانِ باطلہ کو وہ پکارا کرتے تھے ان میں سے کسی نے بھی ان کی مدد نہ کی اور اللہ کے عذاب سے ان کو نہ چھڑایا۔
Ayahs 46:25–26

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

اکھڑ پھینکے ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے پھر کل کو رہ گئے کہ کوئی نظر نہیں آتا تھا سوائے ان کے گھروں کے یوں ہم سزا دیتے ہیں گناہ گار لوگوں کو

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے مقدور22 دیا تھا ان کو ان چیزوں کا جن کا تم کو مقدور نہیں دیا اور ہم نے ان کو دیے تھے کان اور آنکھیں اور دل پھر کام نہ آئے ان کے کان ان کے اور آنکھیں ان کی اور نہ دل ان کے کسی چیز میں اس لیے کہ منکر ہوتے تھے اللہ کی باتوں سے الٹ پڑی ان پر جس بات سے کہ وہ ٹھٹھا کرتے تھے

22:۔ ” ولقد مکنا ھم۔ الایۃ “ یہ اہل مکہ کی طرف التفات ہے۔ ان نافیہ ہے۔ اے اہل مکہ ! قوم ہود کو ہم نے جو دنیوی قوت و دولت اور شان و شوکت دی تھی وہ تمہیں نہیں دی، وہ تم سے زیادہ طاقتور اور دولت مند تھے، ان کو ہم نے سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچنے کے لیے دل دئیے۔ لیکن ان نعمتوں سے انہٰں کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ کانوں سے انہوں نے حق بات کو نہ سنا اور آنکھوں سے خدا کی قدرت ووحدانیت کے تکوینی دلائل کو بغور نہ دیکھا اور دلوں کو معرفت خداوندی کی تحصیل میں استعمال نہ کیا، اس لیے ان ساری قوتوں کے باوجود وہ دولت ایمان سے محروم رہے اور اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس عذاب کا وہ مذاق اڑاتے تھے آخر اس کی لپیٹ میں آکر اور ہلاک ہو کر رہے۔ مکہ والو ! تم بھی قوم عاد کی ڈگر پر چل رہے ہو، یاد رکھو تمہارا بھی وہی حشر ہوگا۔
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور ہم غارت کرچکے ہیں23 جتنی تمہارے آس پاس ہیں بستیاں اور طرح طرح پھیر کر سنائیں ان کو باتیں تاکہ وہ لوٹ آئیں

23:۔ ” ولقد اھلکنا “ تخویف دنیوی۔ یہ بھی مکہ والوں ہی سے خطاب ہے گرد و نواح سے قوم ہود، قوم ثمود اور اصحاب حجر وغیرہ کی بستیاں مراد ہیں۔ ہم نے ان کے پاس اپنے پیغمبر بھیجے اور گوناگوں طریقوں سے ان کو سمجھایا۔ مگر وہ شرک و کفر سے باز نہ آئے اور آخر ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ ” فلولا نصرھم۔ الایۃ “ یہ سورت کا مقصودی مضمون ہے۔ اس میں مشرکین کی اس بات کا جواب ہے کہ ہم نے مان لیا کہ ہمارے معبود سنتے نہیں اور ان کو پکارنا جائز نہیں، لیکن ان کے پکارنے میں تاثیر اور برکت ضرور ہے، کیونکہ ان کو پکارنے سے کاموں میں برکت ہوجاتی ہے تو جواب دیا گیا کہ جن لوگوں نے معبودانِ جائز نہیں، لیکن ان کے پکارنے میں تاثیر اور برکت ضرور ہے، کیونکہ ان کو پکارنے سے کاموں میں برکت ہوجاتی ہے تو جواب دیا گیا کہ جن لوگوں نے معبودانِ باطلہ کو قرب کداوندی کا وسیلہ اور ذریعہ بنا رکھا تھا اور مصائب و حاجات میں ان کو پکارتے تھے۔ جب ہم نے ان کو پکڑا تو انہوں نے ان کی کوئی مدد نہ کی اور نہ ان کی پکار سے ان پر کوئی تاثیر و برکت ہی ظاہر ہوئی، بلکہ دور دور تک ان کے خود ساختہ کارسازوں کا نام و نشان تک نہ ملا یہ ایک محض جھوٹ تھا اور خود ساختہ بات تھی کہ وہ کارساز ہیں اور ان کی پکار میں برکت ہے۔ ھلا نصرھم الہتہم التی تقربوابھا بزعہم الی اللہ لتشفع لہم حیث قالوا ھؤلاء شفعاءنا عند اللہ، ومعتہم من الہلاک الواقع بہم (قرطبی ج 16 ص 209) ۔
Ayahs 46:28–29

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پھر کیوں نہ مدد پہنچی ان کو ان لوگوں کی طرف سے جن کو پکڑا تھا اللہ سے ورے معبود بڑے درجے پانے کو کوئی نہیں گم ہوگئے ان سے اور یہ جھوٹ تھا ان کا اور جو اپنے جی سے باندھتے تھے

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جس وقت متوجہ کردیئے ہم نے تیری طرف کتنے لوگ جنوں میں سے24 سننے لگے قرآن پھر جب وہاں پہنچ گئے بولے چپ رہو پھر جب ختم ہوا الٹے پھرے اپنی قوم کو ڈر سناتے ہوئے

24:۔ ” واذ صرفنا “ یہ چوتھی تفصیلی نقلی دلیل ہے از جنات۔ جنات نے بھی کلام الٰہی سن کر اس کو مان لیا اور اللہ کی توحید پر ایمان لے آئے اور واپس جا کر اپنی قوم کو بھی تبلیغ کرنے لگے اور دلائل عقل ونقل اور وحی سے قوم کے سامنے مسئلہ بیان کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ سوق عکاظ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں وادی نخلہ میں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت جو سات یا نو افراد پر مشتمل تھی وہاں سے گذری، جب تلاوت قرآن کی آواز ان کے کانوں میں پڑی تو نہایت خاموشی سے اسے سننے لگے (ابن کثیر) جب تلاوت ختم ہوئی تو ان کے سینے نور ایمان سے روشن ہوچکے تھے اس لیے اب وہ واپس پہنچ کر ازراہ خیر خواہی و ہمدردی اپنی قوم کو بھی اسلام کی دعوت دینے لگے۔
Ayah 46:30

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

بولے اے قوم ہماری ہم نے سنی25 ایک کتاب جو اتری ہے موسیٰ کے بعد سچا کرنے والی سب اگلی کتابوں کو سجھاتی ہے سچا دین اور ایک راہ سیدھی

25:۔ ” قالوا یقومنا “ جنات نے اپنی قوم کو ہر قسم کے دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ” انا سمعنا کتابا “ یہ دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے اور ” انزل من بعد موسیٰ “ یہ دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے اور ” یہدی الی الحق الخ “ یہ دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے یہ جن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں سے تھے اس لیے انہوں نے ان کا نام لیا۔ (روح) اے ہماری قوم ! ہم ایک ایسی عظیم کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوئی ہے اور پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور عقائد حقہ اور سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ ” یقومنا اجیبوا۔ الایۃ “ اے ہماری قوم ! اللہ کے اس داعی قرآن کو مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ ” ومن لا یجب داعی اللہ۔ الایۃ “ جو شخص اللہ کے داعی کو قبول نہیں کرے گا وہ کھلا گمراہ ہے اور عذاب جہنم کا مستحق ہے، وہ نہ تو کہیں بھاگ کر اللہ کے عذاب سے بچ سکتا ہے اور نہ کوئی اس کا حامی و ناصر اور اس کا کوئی خود ساختہ معبود و کارساز ہی اس کو اللہ کی گرفت سے چھڑا سکتا ہے۔
Ayahs 46:31–33

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے قوم ہماری مانو اللہ کے بلانے والے کو اور اس پر یقین لاؤ کہ بخشے تم کو کچھ تمہارے گناہ اور بچا دے تم کو ایک عذاب دردناک سے

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو کوئی نہ مانے گا اللہ کے بلانے والے کو تو وہ نہ تھکا سکے گا بھاگ کر زمین میں اور کوئی نہیں اس کا اس کے سوا مددگار وہ لوگ بھٹکتے ہیں صریح

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے26 کہ وہ اللہ جس نے بنائے آسمان اور زمین اور نہ تھکا ان کے بنانے میں وہ قدرت رکھتا ہے کہ زندہ کرے مردوں کو کیوں نہیں وہ ہر چیز کرسکتا ہے

26:۔ ” اولم یروا۔ الایۃ “ یہ قیامت اور بعث بعد الموت پر عقلی دلیل ہے۔ استفہام انکاری ہے کیا وہ اس بات کو نہیں جانتے اور اس میں غور نہیں کرتے جس خدائے ذوالجلال مالک صفات کمال نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھک ہار کر بیٹھ نہیں گیا اور نہ اس کی قوت و طاقت میں اس سے کوئی ضعف ہی پیدا ہوا ہے۔ فان قدرتہ ذاتیۃ لاینقص ولا ینقطع بالایجاد ابد الابدین (مظہری ج 8 ص 416) ۔ کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ ” بلی “ کیوں نہیں، نہ صرف مردوں کو زندہ کرنے پر بلکہ وہ تو ایسی قدرت کاملہ کا مالک ہے کہ ہر چیز پر قادر ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
Ayah 46:34

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس دن سامنے لائیں27 منکروں کو آگ کے کیا یہ ٹھیک نہیں کہیں گے کیوں نہیں قسم ہے ہمارے رب کی کہا تو چکھو عذاب بدلہ اس کا جو تم منکر ہوتے تھے

27:۔ ” ویوم یعرض “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن جب کافروں کو دوزخ میں داخل کیا جائیگا تو ان سے کہا جائیگا کہ دنیا میں تم اس عذاب کا انکار کیا کرتے تھے اور وعدہ عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے اب بتاؤ کیا یہ عذاب برحق نہیں ہے اور وہ وعدہ عذاب سچا نہیں تھا ؟ ” قالوا بلی وربنا “ اس کے جواب میں کافر کہیں گے کہ کیوں نہیں، ہمارے پروردگار کی قسم وہ سراپا حق ہے، پھر آواز آئیگی اچھا اب اپنے کفر و انکار کا مزہ چکھو۔
Ayah 46:35

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

سو تو ٹھہرا رہ جیسے ٹھہرے رہے ہیں ہمت والے28 رسول اور جلدی نہ کر ان کے معاملہ میں یہ لوگ29 جس دن دیکھ لیں گے اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ ہے جیسے ڈھیل نہ پائی تھی مگر ایک گھڑی دن کی یہ پہنچا دینا ہے، اب وہی غارت ہوں گے جو لوگ نافرمان ہیں

28:۔ ” فاصبر۔ الایۃ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ اولوالعزم انبیاء سے حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) مراد ہیں (ابن کثیر) آنحضرت ﷺ مشرکین کی مسلسل مخالفت اور ان کے معاندانہ رویہ سے سخت آزردہ خاطر تھے اور آپ کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ان پر عذاب نازل ہو تو آپ کو تسلی دی گئی کہ آپ حوصلہ کریں اور اولو العزم پیغمبروں کی طرح صبر و تحمل سے کام لیں اور ان معاندین کے لیے فوری عذاب کی دعا نہ فرمائیں۔ ان پر عذاب ضرور آئیگا لیکن اپنے وقت پر آئیگا۔ ای لاتدع علی کفار قریش بنزول العذاب علیہم فانا بہم فی وقتہ لا محالۃ، کانہ ضجر و ضاق قلبہ بکثرۃ مخالفات قومہ فاحب ان ینزل العذاب بمن ابی منہم فامر بالصبر وترک الاستعجال (مظہری ج 8 ص 418) ۔ 29:۔ ” کانہم یوم یرونہا “ یہ معاندین دنیا میں بھی عذاب کا مزہ چکھیں گے اور قیامت بھی تو کوئی دور نہیں جب وہ سخت ترین عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے جب وہ قیامت کے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے تو انہیں دنیا کا آرام و سکون بھول جائیگا اور انہیں دنیا کی زندگی محض یک روزہ معلوم ہوگی اور انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ دنیا میں وہ صرف ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ ” بلاغ “ ای ھذا بلاغ، یہ تمام حوامیم کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ مضامین جو تمہیں سنائے گئے ہیں یہ کافی دعوت و تبلیغ ہے اور ان سے اتمام حجت ہوچکی ہے اب اس کے بعد نہ ماننے والے فساق وفجار اور خدا کے باغیوں کیلئے دنیا میں تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ سورة احقاف میں آیات توحید 1 ۔ ” قل ارایتم ما تدعون من دون اللہ “ تا ” وھم عن دعائہم غافلون “ (رکوع 1) ۔ نفی شرک اعتقادی 2 ۔ ” قل ما کنت بدعا من الرسل۔ الایۃ ‘ نفی علم غیب از نبی کریم ﷺ 3 ۔ ” الا تعبدوا الا اللہ “ (رکوع 3) ۔ نفی شرک فی العبادۃ۔ 4 ۔ ” فلولا نصرہم الذین اتخذوا من دون اللہ “ الایۃ۔ (رکوع 4) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ سورة الاحقاف ختم ہوئی