45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsجواھر القرآن

Ayah 45:1
Ayah 45:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اتارنا2 کتاب کا ہے اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے حکمتوں والا

2:۔ ” تنزیل الکتاب۔ الایۃ “ یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ یہ حکمنامہ اس شہنشاہ کا ہے جو سب پر غالب اور حکمت والا ہے، جس کا ہر حکم اور ہر فعل حکمت بالغہ کا آئینہ دار ہوتا ہے، اسے مانو اور اس پر عمل کرو۔
Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں میں3 اور زمین میں بہت نشانیاں ہیں ماننے والوں کے واسطے

3:۔ ” ان فی السموات “ تا ” فبای حدیث بعد اللہ وایاتہ یومنون “ یہ توحید پر پہلی عقلی ہے۔ علی سبیل التدریج۔ اس میں درجہ بدرجہ ایسے امور بیان کیے گئے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اس عظیم الشان سورت کا مضمون یہ ہے کہ نفس آسمان و زمین ہی ایمان والوں کے لیے اللہ کی قدرت ووحدانیت پر کافی دلیل ہیں۔ زمین و آسمان میں عجائب المخلوقات اور کائنات کی ہر چیز ایک مستقل دلیل ہے۔ ان انفسہما لایات لما فیہما من فنون الدلالۃ علی القادر الحکیم جل شانہ (روح ج 25 ص 139) لایات لدلالات علی وحدانیتہ (مدارک ج 4 ص 101) ۔ پھر آسمان کا ستونوں کے بغیر محض اس کے حکم سے قائم رہنا اور زمین کا فضا میں کسی ظاہری سہارے کے بغیر معلق رہنا یہ سب اس کی وحدانیت اور قدرت کے دلائل ہیں جیسا کہ فرمایا ” ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ “ (روم رکوع 3) ۔
Ayahs 45:4–5

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہارے بنانے میں4 اور جس قدر پھیلا رکھے ہیں جانور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو یقین رکھتے ہیں

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور بدلنے میں رات دن کی اور جو اتاری اللہ نے آسمان روزی پھر زندہ کردیا اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد اور بدلنے میں ہواؤں کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو سمجھ سے کام لیتے ہیں

4:۔ ” وفی خلقکم۔ الایۃ “ اس سے بڑھ کر تم خود اپنی پیدائش کو دیکھو کہ کس طرح اس نے اپنی قدرت کاملہ سے تمہیں ایک قرطہ آب سے پیدا فرمایا اور پھر زمین میں بیشمار انواع و اقسام کے چوپائے پھیلا دئیے ماننے والوں کے لیے اس میں کھلے دلائل ہیں۔ ” واختلاف الیل والنھار۔ الایۃ “ پھر اس سے آگے بڑھو اور رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے اور ان کے گھٹنے بڑھنے میں غور وفکر کرو اور دیکھو وہ آسمان سے مینہ برسا کر خشک اور ناکارہ زمین کو زرخیز بنا دیتا ہے اور ہوائیں اس کے حکم سے چلتی ہیں عقل و دانش رکھنے والوں کے لیے ان تمام چیزوں میں توحید الٰہی اور قدرت خداوندی کے عظیم الشان نشانات موجود ہیں۔ رزق سے مراد بارش ہے بطریق تسمیۃ الشیء باسم المسبب من رزق من مطر سماہ مطرا لانہ سببہ (بیضاوی) ۔
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

ف 5 یہ باتیں ہیں اللہ کی ہم سناتے ہیں تجھ کو ٹھیک ٹھیک پھر کونسی بات کو اللہ اور اس کی باتوں کو چھوڑ کر مانیں گے

5:۔ ” تلک ایت اللہ۔ الایۃ “ یہ اللہ کی وحدانیت کے دلائل وبراہین ہیں جو ہم آپ کو سنا رہے یہ سراپا حق وصدق ہیں اور ان میں کوئی بات غلط اور باطل نہیں۔ اگر یہ معاندین ان آیات کو دیکھ سن کر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر وہ کونسا بیان ہے اور وہ کون سے دلائل ہیں جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ اس سے واضح تر کوئی بیان نہیں اور ان سے مضبوط تر کوئی دلیل نہیں ای ھذہ ایات اللہ، ای حججہ وبراہینہ الدالۃ علی وحدانیتہ وقدرتہ (قرطبی ج 16 ص 158) ۔ لا بیان ازید من ھذا البیان ولا ایۃ ادال من ھذہ الایۃ (روح ج 25 ص 142) ۔
Ayahs 45:7–8

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

خرابی ہے ہر جھوٹے گناہ گار کے لیے6

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

کہ سنتا ہے باتیں اللہ کی اس کے پاس پڑھی جاتی ہیں، پھر ضد کرتا ہے غرور سے گویا سنا ہی نہیں سو خوشخبری سنا دے اس کو ایک عذاب دردناک کی،

6:۔ ” ویل لکل افاک “ یہ زجر ہے مع تخویف اخروی۔ اس بہت بڑے جھوٹے اور مجرم کے لیے ویل (ہلاکت یا جہنم کی ایک وادی) ہے جو اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے لیکن غرور و استکبار سے ان کی پرواہ نہیں کرتا اور اپنے کفر وعناد پر قائم رہتا ہے اور آیات الٰہیہ سے اس طرح اعراض کرتا ہے گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں ایسے معاندین و مستکبرین کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے یہ عذاب اس کے غرور و استکبار، کفر پر اصرار اور آیات الٰہیہ سے اعراض کی سزا ہے۔
Ayahs 45:9–10

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب7 خبر پائے ہماری باتوں میں سے کسی کی، اس کو ٹھہرائے ٹھٹھا ایسوں کو ذلت کا عذاب ہے

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

پرے ان کے دوزخ ہے اور کام نہ آئیگا ان کے جو کمایا تھا ذرا بھی اور نہ وہ کہ جن کو پکڑا تھا اللہ کے سوائے رفیق اور ان کے واسطے بڑا عذاب ہے

7:۔ ” واذا علم “ یہ زجر ثانی ہے۔ ہماری آیتوں کو ماننا تو درکنار جب ہماری آیت میں سے کوئی آیت اس تک پہنچ جاتی ہے تو اس سے استہزاء کرتا ہے۔ ایسے بدبختوں کے لیے ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب تیار ہے۔ ” من ورائہم جہنم “ یہ لوگ دنیا کی عیش میں اور کفر و طغیان میں منہمک ہیں، لیکن اس سے غافل اور بیخبر ہیں کہ ان کے آگے ان کے لیے جہنم ہے جس کے عذاب سے ان کو نہ تو معبودان باطلہ کی پکار بچا سکے گی اور نہ ان کے خود ساختہ کارساز اور سفارشی ہی ان کو اس سے نجات دلا سکیں گے اور نہ دنیا میں کائی ہوئی دولت ہی وہاں کچھ کام آئیگی۔ ” ماکسبوا “ سے مال واولاد مراد ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک اس میں غیر اللہ کی پکار ماوی اللہ کی نذر و منت بھی داخل ہے۔ اور ” ماتخذوا من دون اللہ من اولیاء “ سے معبودان باطلہ مراد ہیں۔ ای ولا تغنی عنہم الاہۃ التی عبدوھا من دون اللہ شیئا (ابن کثیر ج 4 ص 1448، معالم و خازن ج 6 ص 151) ۔ یہ تخویف اخروی، مقصود سورت سے متعلق ہے یعنی تمہارے خود ساختہ معبود اور سفارشی آخرت میں تمہیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ سجھا دیا8 اور جو منکر ہیں اپنے رب کی باتوں سے ان کے لیے عذاب ہے ایک بلا کا دردناک

8:۔ ” ھذا ھدی “ الایۃ۔ ھذا یا تو اس سورت میں مذکورہ بالا مضامین کی طرف اشارہ ہے یا اس سے قرآن مراد ہے۔ جمہور مفسرین نے یہی لکھا ہے یہ قرآن سراپا رشد و ہدایت ہے۔ ” والذین کفروا الخ “ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات بینات کا انکار کرتے ہیں ان کے لیے سخت ترین اور دردناک عذاب کی سزا ہے۔
Ayahs 45:12–13

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے بس میں کردیا9 تمہارے دریا کو چلیں اس میں جہاز اس کے حکم سے اور تاکہ تلاش کرو اس کے فضل سے اور تاکہ تم حق مانو

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور کام میں لگا دیا تمہارے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں سب کو اپنی طرف سے اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو دھیان کرتے ہیں

9:۔ ” اللہ الذی سخر “ تا ” لقوم یتفکرون “ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے بطور ترقی۔ پہلی دلیل میں عجائب قدرت اور غرائب فطرت کا ذکر تھا اب اس سے اگلا درجہ ذکر فرمایا کہ اس نے ساری کائنات کیا علوی کیا سفلی پیدا فرما کر اپنے حکم و اختیار سے تمہارے کام میں لگا رکھی ہے دریاؤ اور سمندروں کو اس نے اپنے حکم سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے کہ اس میں کشتیاں چلتی ہیں تاکہ اپنا سامان اور مال تجارت ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا کر نفع کماؤ اور اس انعام الٰہی پر اس کا شکر بجا لاؤ۔ اس کے علاوہ زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے سب ہی اللہ کے حکم سے تمہاری خدمت میں مصروف ہے۔ جمیعا اور منہ دونوں ما فی السموات وما فی الارض سے حال ہیں (مدارک، روح) ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان تمام اشیاء کو مسخر کیا ہے اور یہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے اور وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ اور یہ سب اسی کا انعام و احسان ہے۔ جمیعا منہ یعنی ان ذالک فعلہ وخلقہ و احسان منہ و انعام (قرطبی ج 16 ص 160) ۔ والمعنی سخر ھذہ الاشیاء جمیعا کائنۃ منہ وحاصلۃ من عندہ یعنی انہ سبحانہ مکونہا وموجدھا بقدرتہ و حکمتہ ثم سخرھا لخلقہ (روح ج 25 ص 145، بحر ج 8 ص 45) ۔ اس میں سوچ بچار کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ، قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت کے بیشمار نشانات موجود ہیں۔
Ayahs 45:14–15

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

کہہ دے ایمان والوں کو10 درگز کریں ان سے جو امید نہیں رکھتے اللہ کے دنوں کی تاکہ وہ سزا دے ایک قوم کو بدلہ اس کا جو کماتے تھے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جس نے بھلا کام کیا تو اپنے واسطے اور جس نے برا کیا سو اپنے حق میں پھر اپنے رب کی طرف پھیرے جاؤ گے

10:۔ ” قل للذین۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ یغفروا ای یعفوا ویصفحوا (روح) ۔ لایرجون لا یاملون او لایخافون (قرطبی) ۔ او لایعتقدون (الشیخ قدس سرہ) ۔ ایام اللہ سے مجازا وقائع و حوادث مراد ہیں جو اللہ اپنے دشمنوں پر لاتا ہے (بحر) لیجزی کا متعلق محذوف ہے۔ لتاتین ایام اللہ (الشیخ (رح)) ۔ یا یہ یغفروا سے متعلق ہے۔ (روح) ۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں سے فرما دیں کہ وہ ان لوگوں سے نزاع وجدال نہ کریں بلکہ درگذر کریں جو دنیا میں اللہ کے عذاب کی توقع ہی نہیں رکھتے یا اس کے آنے پر ان کا ایمان ہی نہیں اللہ کا عذاب مختلف وقائع و حوادث کی شکل میں ضور آئے گا تاکہ ان منکرین کو ان کے کیے کی سزا دی جائے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ایمان والے درگذر کریں تاکہ اللہ ان مجادلین کو سزا دے۔ ” من عمل صالح فلنفسہ “ جو شخص نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے ہی لیے کرتا ہے اور اس کا فائدہ اسی کو ہوتا ہے۔ ” ومن اساء فعیہا “ اور جو بارے کام کرے ان کا وبال اور نقصان بھی اسی کو ہوتا ہے۔ پھر آخرت میں سب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزاء سزا دے گا۔
Ayahs 45:16–17

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے دی بنی11 اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور پیغمبری اور کھانے کو دیں12 ستھری چیزیں اور بزرگی دی ان کو جہان پر

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور دیں ان کو کھلی باتیں دین کی پھر انہوں نے پھوٹ جو ڈالی تو سمجھ آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے بیشک تیرا رب فیصلہ کرے گا ان میں قیامت کے دن جس بات میں وہ جھگڑتے تھے

11:۔ ” ولقد اتینا “ تا ” یختلفون “ یہ توحید پر دلیل نقلی ہے۔ ہم نے بنی اسرائیل کو ایک عظیم الشان کتاب (تورات) عطا فرمائی اور ان میں بادشاہ پیدا کیے جو لوگوں پر حکم چلاتے اور ان کے امور و معاملات کے فیصلے کرتے تھے اور ہم نے ان میں بہت سے انبیاء (علیہم السلام) مبعوث کیے جو تورات ہی کے مطابق اپنی امتوں کو تبیغ کرتے اور دین کی تعلیم دیتے تھے تورات جو تمام انبیاء بنی اسرائیل کے لیے دستور العمل تھی اس میں ہم نے یہی حکم دیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا۔ ” واتینا موسیٰ الکتب وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل ان لا تتخذوا من دونی وکیلا “ (بنی اسرائیل رکوع 1) ۔ 12:۔ ” ورزقناھم “ بنی اسرائیل پر ہم نے پایاں احسانات کیے۔ انواع و اقسام کی حلال اور حوشگوار روزی عطاء کی جیسا کہ من وسلوی وغیرہ اور اس وقت کی تمام اقوام عالم پر ان کو روحانی اور مادی لحاظ سے فوقیت دی۔ ” واتینہم بینت من الامر “ اور دین کے معاملے میں ہم نے ان کو واضح دلائل وبراہین دے کر امور دین کو خوب روشن کردیا۔ لیکن دین کے واضح علم کے باوجود بعد میں دنیا پرست علماء نے محض حسد وعناد کی وجہ سے تورات کی اصل تعلیم (توحید) کو بدل ڈالا اور بنی اسرائیل میں توحید کے بارے میں اختلاف کی ایک وسیع خلیج پیدا کردی اور ہر فریق اپنے باطل نظریات کو برحق قرار دینے لگا۔ اس اختلاف کا آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان باطل پرستوں کو جہنم میں ڈال کر فرمائے گا۔ یعنی ان کا آخری فیصلہ عذاب جہنم ہوگا اب بھی آخری کتاب قرآن مجید نازل ہوچکا ہے جس میں مسئلہ توحید دلائل عقل و نقل اور وحی سے مدلل، واضح اور روشن ہوچکا ہے اس لیے اب جو لوگ اس مسئلہ میں اختلاف کریں گے وہ بھی محض حسد و ضد اور عناد و مکابرہ کی وجہ سے کریں گے۔
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر تجھ کو رکھا ہم نے ایک راستہ پر13 دین کے کام کی سوا تو اسی پر چل اور مت چل خواہشوں پر نادانوں کی

13:۔ ” ثم جعلناک علی شریعۃ۔ تا۔ رحمۃ لقوم یومنون “ یہ سورت کا مقصودی دعوی ہے اور اس شبہ کا جواب ہے کہ ہم نے مان لیا کہ ہمارے معبود شفیع غالب نہیں اور ہماری پکاریں بھی نہیں سنتے لیکن ہم ان کو صرف اس لیے پکارتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا، ہمارے پیر اور رہنما ایسا کرتے چلے آئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ہماری پکار ان کو سنوا دے اور وہ ہماری سفارش کردیں تو بہتر ورنہ ہماری دعا اور پکار بےکار جائیگی۔ تو اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ جب دلائل عقل و نقل سے ثابت ہوچکا کہ سب کچھ ننے اور جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی تو صرف اسی کو پکارو اور غیر اللہ کو مت پکارو۔ نیز ہم نے دین اسلام کی راہ واضح اور روشن کر کے اس پر آپ کو گامزن کردیا ہے آپ اسی پر گامزن رہیں اور اس سے سر مو ادھر ادھر نہ ہوں اور ان نادانوں اور خواہشات کے بندوں کی خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرتے ہوئے غیر اللہ کو نہ پکاریں۔ تائیدات : ” واذا قیل لہم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما الفینا علیہ اباءنا۔ الایۃ (البقرہ رکوع 21) ۔ 2 ۔ “ ولا تتبعوا اھواء قوم قد ضلوا من قبل واضلوا کثیرا وضلوا عن سواء السبیل (مائدہ رکوع 10) ۔ 3 ۔ واذا قیل لہم تعالوا الی ما انزل اللہ والی الرسول قالوا حسبنا ما وجدنا علیہ آباءنا (مائدہ رکوع 14) ۔ 4 ۔ ” واذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما وجدنا علیہ آباءنا “ (لقمان رکوع 3) ۔ 5 ۔ ” ذلکم اللہ ربکم لہ الملک، والذین تدعون من دونہ ما یملکون من قطمیر، ان تدعوھم لایسمعوا دعاء کم ولو سمعوا ماستجابوا لکم ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم ولا ینبئک مثل خبیر (فاطر کو ع 2) ۔ 6 ۔ ام اتیناہم کتابا من قبلہ فھم بہ مستمسکون بل قالوا انا وجدنا آباءنا علی امتہ وانا علی آثارہم مہتدون (زخرف رکوع 2) ۔ 7 ۔ ” ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لا یستجیب لہ الی یوم القیمۃ وھم عن دعائہم غفلون (احقاف رکوع 1) ۔ 8 ۔ واتل علیہم نبا ابراہیم اذا قال لابیہ وقومہ ما تعدبون۔ قالوا نعبد اصناما فنظل لہا عکفین۔ قال ھل یسمعونکم اذ تدعون۔ او ینفعونکم او یضرون۔ قالو بل وجدنا اباءنا کذلک یفعلون (شعرا رکوع 5) ۔ 9 ۔ ان الذین تدعون من دون اللہ عباد امثالکم فادعوھم فلیستجیبوا لکم ان کنتم صدقین۔ (اعراف رکوع 24) ۔
Ayahs 45:19–20

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

وہ ہرگز کام نہ آئیں گے تیرے14 اللہ کے سامنے ذرا بھی اور بےانصاف ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اللہ رفیق ہے ڈرنے والوں کا

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ سوجھ کی باتیں ہیں لوگوں کے واسطے اور راہ کی اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین لاتے ہیں

14:َ ” انہم لن یغنوا۔ الایۃ “ جو لوگ اپنی خواہشات نفسانیہ اور آراء باطلہ کے بندے ہیں ان کی پیروسی سے کچھ بھی نفع نہیں ہوگا نہ ان کے اتباع سے اللہ کی راہ نصیب ہوگی اور نہ اتباع باطل کے خدائی عذاب ہی سے وہ بچا سکیں گے۔ ایمان والوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ ان ظالموں سے تعلق رکھیں اور ان کی پیروی کریں۔ ان مشرکین کی دوستی ان کے ہم جنس مشرکوں ہی سے ہوسکتی ہے اور وہی ان کے پیچھے چلیں گے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” انما اتخذتم من دون اللہ اوثانا مودۃ مودۃ بینکم فی الحیوۃ الدنیا (عنکبوت رکوع 3) ۔ متقی اور شرک سے بچنے والے لوگوں کی محبت کا مرکز ذات باری تعالیٰ ہے اس لیے انہیں اسی کے ارشادات کی اطاعت و تعمیل کرنی چاہیے۔ ” ھذا بصائر للناس۔ الایۃ “ یہ قرآن یا مذکورہ بالا احکام لوگوں کے قلوب واذہان میں روشنی اور نور ہدایت پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں اور ماننے والوں کیلئے سراپا ہدایت اور رحمت خداوندی ہیں۔ ایمان والوں کو ان کی پیروی کرنی چاہئے اور بندگان نفس امارہ کی خواہشات اور ان کے خود تراشیدہ دین سے اجتناب کرنا چاہئے۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا خیال رکھتے ہیں جنہوں نے15 کمائی ہیں برائیاں کہ ہم کردیں گے ان کو برابر ان لوگوں کی جو کہ یقین لائے اور کیے بھلے کام ایک سا ہے ان کا جینا اور مرنا برے دعوے ہیں جو کرتے ہیں

15:۔ ” ام حسب الذین۔ ا لایۃ “ یہ زجر و شکوی ہے استفہام انکار ہے۔ ” اجترحوا، اکتسبوا سواء، کاف بمعنی مثل سے بدل ہے اور محیاھم ومماتھم، سواء بمعنی مستو کا فاعل ہے (بحر، روح، مدارک) ۔ جو لوگ دین حق سے اعراض کر کے ہمہ تن عصیات و طغیان میں مصروف ہیں کیا ان کا خیال یہ ہے کہ ہم ان کو ان کے ایمان والوں کے برابر کردیں گے جو ہر وقت اللہ کا طاعت میں منہمک ہیں یعنی ہم ان کی دنیوی اور اخروی زندگی ایک جیسی بنا دیں گے۔ ان کا یہ فیصلہ نہایت برا اور ان کا یہ خیال غلط ہے اور انہیں یہ خیال کبھی بھی اپنے دل میں نہیں لانا چاہئے۔ مومن و کافر اور مطیع و عاصی برابر نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ مومن دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں اللہ کی رحمت کا مورد ہے لیکن مشرک، دنیا میں اگرچہ اللہ کی رحمت سے حصہ پاتا ہے مگر آخرت میں رحمت الٰہیہ سے بالکلیہ محروم ہوگا۔ نیز دنیا میں بھی دونوں کی زندگیاں یکساں نہیں۔ ایک کی زندگی اللہ تعالیٰ کی محبت و اطاعت میں گذرتی ہے اور دوسرا اپنی ساری زندگی اللہ کی نافرمانی اور ناشکری میں گذار دیتا ہے۔ والمعنی انکار ان یستوی المسیئون والمحسنون محیا وان یستو وا مماتا لافتراق احوالہم احیاء حیث عاش ھؤلاء علی القیام بالطاعات واولئک علی اقتراف السیئات، ومماتا حیث مات ھؤلاء علی البشری بالرحمۃ والکرامۃ واولئک علی الیاس من الرحمۃ والندامۃ (مدارک ج 4 ص 104) ۔
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور بنائے اللہ نے آسمان16 اور زمین جیسے چاہئیں اور تاکہ بدلہ پائے ہر کوئی اپنی کمائی کا اور ان پر ظلم نہ ہوگا

16:َ ” وخلق اللہ۔ الایۃ “ یہ توحید کی تیسری عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیی نے زمین و آسمان اور اس ساری کائنات کو اظہار حق کے لیے پیدا فرمایا ہے تاکہ کائنات کو اظہار حق کے لیے پیدا فرمایا ہے تاکہ کائنات کا ذر ذرہ اس کی قدرت کاملہ اور اس کی صفات کارسازی پر دلالت کرے اور اس طرح اس کی وحدانیت پر ذرہ کائنات سے ظاہر ہو۔ بالھق لیدل علی قدرتہ (مدارک ج 4 ص 104) ۔ ای لید علی وجودہ وقدرتہ وصفات کمالہ (مظہری ج 8 ص 386) ۔ ” ولتجزی کل نفس الخ “ یہ تخویف اخروی ہے اور بالحق پر معطوف ہے (روح) اس کائنات کو پیدا کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے تاکہ بندوں کا امتحان ہو اور ان میں نیکو کار اور بدکار کے درمیان امتیاز ہوجائے اور ہر ایک کو اس کے عمال کے مطابق جزاء سزا دی ئجائے اور کسی کی حق تلفی نہ ہو اور کسی پر زیادتی نہ ہونے پائے۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا دیکھ تو17 جس نے ٹھہرا لیا اپنا حاکم اپنی خواہش کو اور راہ سے بچلا دیا اس کو اللہ نے جانتا بوجھتا اور مہر لگا دی اس کے کان پر اور دل پر اور ڈال دی اس کی آنکھ پر اندھیری پھر کون راہ پر لائے اس کو اللہ کے سوا سو کیا تم غور نہیں کرتے

17:۔” افرایت۔ الایۃ “۔ یہ زجر ہے۔ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو محض اپنی خواہش نفس کا بندہ ہو جو دلیل عقل و نقل کے بغیر محض خواہش نفس سے غیر اللہ کو پکارتا ہے گویا اس نے اپنی خواہش ہی کو معبود بنا رکھا ہے۔ علی علم، اضلہ کی ضمیر منصوب سے حال ہے یعنی طریق ہدایت کو جانتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ جن کو وہ پکار رہا ہے وہ اس کی پکار نہیں سنتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو باوجود اس علم کے کہ جن کو وہ پکار رہا ہے وہ اس کی پکار نہیں سنتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو باوجود اس علم کے کہ جن کو وہ پکارتا ہے وہ سنتے نہیں، گمراہ کردیا ہو اور اس کے کانوں پر اور اس کے دل پر مہر جباریت لگا دی ہو اور اس کی آنکھوں پر پر دو ڈال دیا ہو، تو بتائیے اسے اب کون راہ راست پر لاسکتا ہے۔ یعنی اس کے راہ راست پر آنے کی کوئی صورت نہیں کیونکہ اس کی ضد اور اس کے عناد و مکابرہ کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے قہر کی زد میں آچکا ہے اور اس پر مہر جباریت لگ چکی ہے اور اسے توفیق ہدایت اور قبول حق سے محروم کردیا گیا ہے۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں18 اور کچھ نہیں بس یہی ہے ہمارا جینا دنیا کا ہم مرتے ہیں اور پوجتے ہیں اور ہم جو مرتے ہیں سو زمانہ سے اور ان کو کچھ خبر نہیں اس کی محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں

18:۔ ” وقالوا ماھی۔ تا۔ یظنون “ یہ شکوی اولی ہے۔ یہ حشر و نشر کے بھی منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ زندی صرف یہی دنیا کی زندگی ہی ہے اس زندگی کے ختم ہوجانے کے بعد اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم دیکھ رہے کہ کچھ لوگ مر رہے ہیں اور کچھ لوگ پیدا ہورہے ہیں بس یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا اور ہماری موت تو حوادثت زمانہ اور نازل دہر کا نتیجہ ہے۔ یہ مشرکین کے ایک گروہ کا خیال ہے جو تمام وقائع و حوادث کو وقت اور زمانے کی طرف منسوب کرتے تھے۔ وھؤلاء معترفون بوجود اللہ تعالیٰ فہم غیر الدھریۃ۔ والکل یقول باستقلال الدھر بالتاثیر (روح ج 25 ص 103) ۔ یہ لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ محض بےعلمی سے ناشی ہے۔ ان کے پاس کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں۔ محض ظن وتخمین سے دعوی کر رہے ہیں۔
Ayahs 45:25–26

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب سنائی جائیں ان کو19 ہماری آیتیں کھلی کھلی اور کچھ دلیل نہیں ان کی مگر یہی کہ کہتے ہیں لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو، اگر تم سچے ہو

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

تو کہہ کہ اللہ ہی جلاتا ہے تم کو پھر مارے گا تم کو پھر اکٹھا کرے گا تم کو قیامت کے دن تک اس میں کچھ شک نہیں پر بہت لوگ نہیں سمجھتے

19:۔ ” واذا تتلی۔ الایۃ “ یہ دوسرا شکوی ہے جب اللہ تعالیٰ کی آیات بینات ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور ان میں کہیں حشر و نشر کا ذکر آجاتا ہے تو اس کے انکار کیلئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ کٹ حجتی کے طور پر کہنے لگتے ہیں کہ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ واقعی ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے تو ہمارے اطمینان کے لیے ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے دکھلا دو ۔ ” قل اللہ یحییکم۔ الایۃ “ یہ دونوں شکو وں کا جواب ہے کہ دنیا میں پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور عمر ختم ہوجانے کے بعد مارتا بھی وہی ہے اور تمام حوادث دہر اسی کے اختایر و تصرف میں ہیں اور جب قیامت قائم ہونے کا وقت آئے گا جس کی آمد میں کوئی شک نہیں تو تم سب کو زندہ کر کے میدان حشر میں جمع کردے گا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے اور اس پر یقین نہیں کرتے حالانکہ یہ حقیقت ہے۔ باقی رہا ان کے مطالبے پر ان کے باپ دادا کو زندہ کرنا تو اللہ تعالیٰ اگرچہ اس پر بھی قادر ہے لیکن قیامت سے پہلے ان کو زندہ کرنا اس کی حکمت تشریعیہ کے خلاف ہے۔
Ayahs 45:27–29

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں20 اور جس دن قائم ہوگی قیامت اس دن خراب ہوں گے جھوٹے

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تو دیکھے ہر فرقہ کو کہ بیٹھے ہیں گھٹنوں کے بل ہر فرقہ بلایا جائے اپنے اپنے دفتر کے پاس آج بدلہ پاؤ گے جیسا تم کرتے تھے

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا دفتر ہے بولتا ہے تمہارے کام ٹھیک ہم لکھواتے جاتے تھے جو کچھ تم کرتے تھے

20:۔ ” وللہ ملک السموات والارض “ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے اور دلائل سابقہ کا خلاصہ ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے۔ اور ساری کائنات میں بلا شرت غیرے صرف وہی متصرف و مختار ہے، لہذا اس کے سوا کسی کو مت پکارو۔ ” ویوم تقوم الساعۃ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے اور جب قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پرست (کفار و مشرکین) ۔ بہت بڑے نقصان اور خسارے میں رہیں گے کیونکہ انہیں جہنم میں دھکیل دیا جائیگا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی سب سے بڑا خسارہ ہے ” وتری کل امۃ جاثیۃ۔ قیامت کے دن تم ہر ملت کے لوگوں کو دیکھو گے کہ خوف وہراس کی وجہ سے گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہیں اور ہر امت کے لوگوں کو ان کے صحائف اعمال کی طرف بلایا جائیگا کہ ادھر آؤ اور اپنے اعمالنامے خود ہی پڑھو، آج تمہیں تمہارے اعمال کی جزاء دی جائیگی۔ ھذا کتابنا ینطق الخ، ہماری یہ کتاب تم پر سچی گواہی دے گی، کیونکہ جب تم دنیا میں کوئی بجا لاتے تھے، ہم اسی وقت فرشتوں سے لکھواتے جا رہے تھے۔
Ayah 45:30

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

سو جو لوگ یقین لائے ہیں اور21 بھلے کام کیے سو ان کو داخل کرے گا ان کا رب اپنی رحمت میں یہ جو ہے یہی ہے صریح مراد ملنی

21:۔ ” فاما الذین امنوا۔ الایۃ “ یہ بشارت اخرویہ ہے لیکن مومنین صالحین کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی رحمت میں پناہ دے گا، ان کے گناہ معاف فرمائیگا اور انہیں جنت میں داخل کرے گا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہوجانا ہی نمایاں کامیابی ہے جو مومنین کو حاصل ہوگی۔
Ayahs 45:31–32

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جو منکر ہوئے22 کیا تم کو سنائی نہ جاتی تھیں باتیں میری پھر تم نے غرور کیا اور ہوگئے تم لوگ گناہ گار

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہیے کہ وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں تم کہتے تھے ہم نہیں سمجھتے کیا ہے قیامت، ہم کو آتا تو ہے ایک خیال سا اور ہم کو یقین نہیں ہوتا اور کھل جائیں

22:۔ ” واما الذین کفروا۔ تا۔ ولاھم یستعتبون “ یہ تخویف اخروی ہے جس میں کچھ تفصیلات بھی مذکور ہیں۔ ” افلم تکن “ سے پہلے ” فیقال لہم “ محذوف ہے۔ قیامت کے دن اللہ کی طرف سے کفار و مشرکین سرزنش اور توبیخ کے طور پر کہا جائیگا : کیا دنیا میں تمہیں میری آیتیں نہیں سنائی جاتی تھیں، لیکن غروروتکبر سے انکا اناکر کی طرف سے کفار و مشرکین سے سرزنش اور توبیخ کے طور پر کہا جائیگا :۔ کیا دنیا میں تمہیں میری آیتیں نہیں سنائی جاتی تھیں، لیکن غرور وتکبر سے انکا انکار کرتے تھے اور تم عادی مجرم اور مشرک تھے، میرے پیغمبروں کی تبلیغ اور ان کے وعظ و نصیحت کے باوجود تم شرک اور دوسرے جرائم سے باز نہیں آتے تھے۔ مجرمین ای مشرکین تکسبون المعاصی (قرطبی ج 16 ص 176) ۔ ” واذا قیل۔ الایۃ “ اور جب تم سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ ضرور بالضرور تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور قیامت لا محالہ آئیگی، اس میں کوئی شک نہیں، تو تم انتہائی سرکشی سے کہا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے، تمہارے بار بار کہنے سے ہمارے دلوں میں ایک معمولی اور کمزور سا خیال تو کبھی آجاتا ہے لیکن اس کا یقین ہمیں کبھی نہیں آیا ان نظن الا ظنا ضعیفا (روح، بحر) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے بارے میں ہمارے دلوں میں سوائے شک اور تردد کے اور کوئی چیز نہیں اور اس میں ہمیں ایسا تردد ہے کہ ایسا تردد کسی اور چیز میں نہیں (روح) ۔
Ayahs 45:33–34

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

ان پر برائیاں23 ان کاموں کی جو کیے تھے اور الٹ پڑے ان پر وہ چیز جس پر ٹھٹھا کرتے تھے

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور حکم ہوگا کہ آج ہم تم کو بھلا دیں گے جیسے تم نے بھلا دیا تھا اپنی اس دن کی ملاقات کو اور گھر تمہارا دوزخ ہے اور کوئی نہیں تمہارا مددگار

23:۔ ” وبدا لہم۔ الایۃ “ سیئات بد اعمالیوں کے نتائج یعنی بد اعمالیوں کی سزائیں ظاہر ہوجائیں گی اور استہزاء اور تمسخر کی سزا ان پر نازل ہوگی۔ وقیل الیوم ننسکم الخ، چونکہ نسیان کے حقیقی معنی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف محال ہے، اس لیے مجازا عذاب میں چھوڑ دینا مراد ہے از قبیل تسمیۃ المسبب باسم السبب یعنی جس طرح تم نے قیامت کے دن بارگاہ ایزدی میں پیشی کو بھلا دیا تھا اس سے بالکل ہی غافل ہوگئے تھے، اسی طرح آج ہم تمہیں دائمی عذاب میں داخل کریں گے اور ہمیشہ کے لیے تمہیں اس میں چھوڑ دیں گے، اس طرح جہنم تمہارا دائمی ٹھکانا ہوگا اور آج کوئی تمہارا یار و مددگار اور ناصر و گمگسار نہیں جو تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ تم پر اس واسطے کہ24 تم نے پکڑا اللہ کی باتوں کو ٹھٹھا اور بہکے رہے دنیا کی زندگانی پر سو آج نہ ان کو نکالنا منظور ہے وہاں سے اور نہ ان سے مطلوب ہے توبہ

24:۔ ” ذلکم بانکم اتخذتم۔ الایۃ “ یہ دائمی عذاب تمہیں اس لیے نصیب ہوا کہ تم اللہ کی آیتوں کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑاتے اور ان پر لایعنی اعتراضات کیا کرتے تھے اور دنیوی زندگی کی ظاہری شان و شوکت میں ایسے کھو گئے کہ اسی ہی کو اصل زندگی سمجھنے لگے اور آخرت کا انکار کردیا، اس لیے آج ان کو اس دائمی عذاب میں جھونک دیا جائے گا جس سے وہ کبھی نہ نکل سکیں گے اور نہ ان کو ایمان وعمل اور توبہ سے اللہ کو راضی کرنے ہی کا موقع میسر آسکے گا۔ ای لایطلب منھم ان یرضوا ربھم بالتوبۃ لغوات او انہ (مظہری ج 8 ص 392) ۔
Ayahs 45:36–37

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

سو اللہ ہی کے واسطے ہے سب خوبی جو رب ہے آسمانوں25 کا اور رب ہے زمین کا رب سارے جہان کا

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور اسی کے لئے بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا

25:َ ” فللہ الحمد رب السموات۔ الایتیں “ فاء تفریعیہ ہے۔ اور یہ پانچویں عقلی دلیل ہے اور دلیل چہارم پر متفرع ہے۔ جب زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے تو تمام صفات کارسازی کا مالک بھی وہی ہے، زمین و آسمان اور ساری کائنات کا خالق ومالک اور سب کا پروردگار وہی ہے، ساری کائنات میں برتری، بڑائی عظمت اور شان کبریائی اسی کا حصہ ہے اس میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ وہ سب پر غالب ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ سورة جاثیہ کی خصوصیات اور اس میں آیات توحید 1 ۔ ” وفی خلقکم وما یبث من دابۃ “ تا ” ایت لقوم یعقلون (رکوع 1) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 2 ۔ ” اللہ الذی سخر لکم البحر “ تا ” ان فی ذلک لایات لقوم یتفکرون (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 3 ۔ وللہ ملک السموات والارض (رکوع 4) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 4 ۔ ” فللہ الحمد رب السموات “ تا ” وھو العزیز الحکیم “ (رکوع 4) ۔ نفی شرک فی التصرف و اثبات تمام صفات کارسازی برائے اللہ تعالی۔ سورة جاثیہ ختم ہوئی