44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 44:1–2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے اس کتاب واضح کی2

2:۔ ” والکتب المبین “ یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ کتاب سے یا تو قرآن مراد ہے۔ اس صورت میں قرآن کو لیلہ مبارکہ میں نازل کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس رات میں قرآن کا نازل کرنا شروع ہوا۔ وقال غیر واحد المراد ابتداء انزالہ فی تلک اللیلۃ علی التجوز (روح ج 25 ص 111) ۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس برکت والی رات میں سارا قرآن لوح مھفوظ سے یکبارگی آسمان دنیا پر اترا اور وہاں سے تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت تیئس سال میں اتار لیکن اس بات میں جو حدیث ذکر کی جاتی ہے وہ قوی نہیں یا سورت مراد ہے جیسا کہ فرمایا ” یتلوا صحفا مطہرۃ فیہا کتب قیمۃ “ (البینہ) یہاں ” کتب “ سے سورتیں مراد ہیں۔ اس صورت میں ” انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ “ میں تاویل کی ضرورت نہ ہوگی اور مطلب یہ ہوگا کہ اس سورت کو ہم نے برکت والی رات میں نازل کیا ہے۔ تیسری توجیہہ یہ ہے کہ الکتاب سے سورت کا دعوی مراد ہے۔ یعنی انا انزلنا ھذا الحکم للاتی فی لیلۃ مبارکۃ فعلیکم ان تاتتمروا بہ وننذرکم من مخالفتہ فی ھذہ اللیلۃ افرق عذاب من لم یومن بہذا الحکم وانزلنا ھذا الحکم رحمۃ بکم وھو انہ ہو السمیع لکل شیء العلیم بکل شیء لا غیر (الشیخ (رح) تعالیٰ ) ۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے یہ حکم بھیجا ہے، اس کی برکات کے آثار ہمیشہ کے لیے باقی ہیں چناچہ لیلۃ القدر جس میں نزول قرآن کا آغاز ہوا ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے، سال میں جب وہ رات آتی ہے تو آثار رحمت کا ظہور ہوتا ہے۔ ” والکتب المبین “ قسم ہے اور جواب قسم محذوف ہے ای مابقی موضع شبہۃ یعنی کتاب جو حق کو واضح اور روشن کرنے والی ہے اس پر شاہد ہے کہ مسئلہ توحید ہر پہلو سے عیاں ہوچکا ہے اور اب کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ یا انا انزلناہ الخ، جواب قسم مذکور ہے (روح وغیرہ) یا یہ جملہ معترضہ ہے برائے بیان عظمت قرآن اور انا کنا منذرین جواب قسم ہے۔ قال ابن عطیۃ لا یحسن وقوع القسم علیہ ای علی انا انزلناہ وھو اعتراض یتضمن تفخیم الکتاب ویکون الذی وقع علیہ القسم ان کنا منذرین انتہی (بحر ج 8 ص 32) ۔ قرآن مجید میں جو قسمیں وارد ہوئی ہیں ان سے مقصود دلائل و شواہد ہیں جنہیں بصورت اقسام ذکر کیا گیا ہے۔ ان الایمان لتی حلف اللہ تعالیٰ بھا کلھا دلائل اخرجہا فی صورۃ الایمان مثالہ قول القائل لمعنمہ وحق نعمک الکثیرۃ انی لا ازال اشکرک فیذکر النعم وھی سبب مفید لدوام الشکر۔ (کبیر) ۔
Ayah 44:3

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو اتارا ایک برکت کی رات میں3 ہم ہیں کہہ سنانے والے

3:۔ ” لیلۃ مبارکۃ “ جمہور کے نزدیک لیلہ مبارکہ (برکت والی رات) سے لیلۃ القدر (شب قدر) مراد ہے جو رمضان میں آتی ہے بقرینہ انا انزلناہ فی لیلۃ القدر (القدر) و شہر رمضان الذی انزل فیہ القران (اکبقرہ ع 23) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ لیلۃ البراءت یعنی شعبان کی پندرہویں رات مراد نہیں۔ قال ابوبکر بن العربی وجمعہور العلماء علی انھا لیلۃ القدر و منہم من قال انہا لیلۃ النصف من شعبان وھو باطل لان اللہ تعالیٰ قال فی کتابہ الصادق القاطع شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن (قرطبی ج 16 ص 127) ۔ ھی لیلۃ القدر علی ما روی عن ابن عباس وقتادۃ وابن جبیر و مجاھد وابن زید والحسن وعلیہ اکثر المفسرین والظواھر معہم (روح ج 25 ص 110) ۔ شب براءت کے بارے میں فضائل کی جو حدیثیں وارد ہیں ان میں سے بہت کم پایہ ثبوت کو پہنچتی ہیں اور باقی سب بےاصل ہیں بعض علماء نے تو سب ہی کو غیر ثابت قرار دیا ہے۔ ولیس فی لیلۃ النصف من شعبان حدیث یعول علیہ لا فی فضلہا ولا فی نسخ الاجال فیہا فلا تلتفتوا الیھا (قرطبی ج 16 ص 128) ۔ ” انا کنا منذرین “ اس کتاب کے انزال سے مقصود انذار ہے یعنی لوگوں کو پیغام توحید سنانا اور نہ ماننے والوں کو عذاب الٰہی سے خبردار کرنا۔ لیلۃ القدر امت محمدیہ کی خصوصیت ہے (موطا مالک، بحر، ابن کثیر) ۔ اور جمہور کے نزدیک یہ رات ہمیشہ رمضان ہی میں ہوتی ہے، پہلے یہ رات متعین تھی لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تعیین اٹھا لی یعنی اب وہ رات ہمیشہ رمضان کی ایک متعین تاریخ کو نہیں ہوا کرے گی بلکہ رمضان کے عشرہ اخیر میں دائر رہے گی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کی 21، 23، 25، 27 اور 29 میں تلاش کرو (ابن کثیر 4 ص 533) ۔
Ayah 44:4

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اسی میں4 جدا ہوتا ہے ہر کام جانچا ہوا

4:۔ ” فیہا یفرق “ اس رات میں ہر اہم معاملہ مثلاً آجال موت، ارزاق وغیرہ قحط اہل مکہ اور جنگ بدر میں ان کی رسوائی بھی ایسے امور میں داخل ہے ایسے اہم امور جو پہلے ہی سے اس سال کے لیے مقدر ہوتے ہیں وہ ان فرشتوں پر ظاہر کردئیے اور انہیں لکھوا دئیے جاتے ہیں جن کے وہ فرائض ہوں۔ ومعنی یفرق یفصل ویکتب کل امر من ارزاق العباد وآجالہم (مدارک ج 4 ص 97) ۔ ومعنی ھذا ان اللہ یظہر لملائکتہ یامرہم بفعل ماھو من وظیفتہم بان یکتب لھم ماقدرہ فی تلک السنۃ ویعرفہم ایاہ (خازن ج 7 ص 271، القدر) ۔ صرف بڑے بڑے امور ملائکہ کے حوالے کیے جاتے ہیں تمام امور چھوٹے بڑے امور مراد نہیں، کیونکہ فرشتوں کو تمام امور کا علم نہیں ہوتا۔ اس میں تخویف دنیوی کا پہلو بھی ہے کہ ہم نے یہ حکمنامہ برکت والی رات میں نازل کیا ہے۔ اب بھی اگر انہوں نے نہ مانا تو انہیں دنیا ہی میں عذاب دیا جائیگا اور یہ رات ایسی ہے کہ اس میں بڑے بڑے امور طے ہوتے ہیں مثلاً قحط اور قوموں کی تباہی وغیرہ، اس لیے مشرکین کو ڈرنا چاہیے اور دعوے کو مان لینا چاہیے۔ چناچہ مشرکین مکہ نے نہ مانا اور ان پر قحط سالی کا اور جنگ بدر میں قتل، قید و بند اور ذلت و رسوائی کا عذاب مسلط کیا گیا۔ ” امر حکیم “ محکم اور اٹل حکم جو واپس نہ ہوسکے۔ الحکیم بمعنی المحکم لانہ لا یبدل ولا یغیر بعد ابرازہ للملائکۃ (علیہم السلام) (روح ج 25 ص 113) ۔
Ayah 44:5

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

حکم ہو کر ہمارے پاس سے5 ہم ہیں بھیجنے والے6

5:۔ ” امرا من عندنا “ امرا منصوب علی الاختصاص ہے اور اس سے مقصود ان طے شدہ امور کی اہمیت و عظمت کا اظہار ہے۔ یعنی اس سے ہر عظیم اور اہم امر مراد ہے جو ہماری حکمت و تدبیر کے مطابق ہو۔ الزمخشری ” امر “ نصب علی الاختصاص جعل کل امر جزلا فخما بان وصفہ بالحکیم، ثم زادہ جزالۃ وکسبہ فخامۃ بان قال اعنی بھذا الامر امرا حاصلا من عندنا، کائنا من لدنا، وکما اقتضاہ علمنا وتدبیرنا (قرطبی ج 16 ص 129) ۔ 6:۔ ” انا کنا مرسلین “ اس کا تعلق یا تو ” والکتب المبین “ سے ہے بایں معنی کہ ہم ہی اس کتاب کے ساتھ اپنے پیغمبر کو بھیجنے والے ہیں جو تیرے پروردگار کی طرف سے محض رحمت ہے۔ یا یہ ” لیلۃ مبارکۃ “ سے متعلق ہے یعنی اس رات میں فرشتوں کو نئے فرائض سونپ کر اپنے اپنے کام پر بھیجتے ہیں یا ” مرسلین “ سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنے بندوں کے پاس انبیاء ورسل بھیجتے رہے ہیں بندوں پر رحمت کے لیے تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ رحمۃ مفعول بہ ہے۔ مرسلین کا یہ مفعول لہ یا مفعول مطلق ہے فعل محذوف کا مفعول لہ علی معنی انا انزلنا القران لان من شاننا وعادتنا ارسال الرسل بالکتب الی عبادنا لاجل الرحمۃ علیہم (مدارک ج 4 ص 97) ۔ وجوزوا فی رحمۃ ان یکون مصدرا ای رحمنا رحمۃ، وان یکون مفعولا بمرسلین والرحمۃ توصف بالارسال (بحر ج 7 ص 33) ۔ ایک قراءت میں ” رحمۃ “ بالرفع ہے اس صورت میں وہ مبتدا محذوف کی خبر ہوگی۔ وقرا الحسن رحمۃ علی تلکھی رحمۃ (قرطبی ج 16 ص 129) ۔ یعنی یہ کتاب تیرے رب کی طرف سے رحمت ہے۔
Ayah 44:6

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

رحمت سے تیرے رب کی وہی ہے سننے جاننے والاف 7

7:۔ ” انہ ہو السمیع العلیم “ یہ سورت کا مقصود دعوی ہے اور مشرکین کے ایک شب ہے کا جواب ہے۔ جیسا کہ ربط میں ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 44:7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

رب آسمانوں کا8 اور زمین کا اور جو کچھ ان کے بیچ ہے اگر تم کو یقین ہے

8:۔ ” رب السموات “ اس میں دو قراءتیں ہیں۔ اول جر اس صورت میں یہ ” من ربک “ سے بدل ہے۔ دوم رفع اس صورت میں یہ ان کی دوسری خبر ہوگی یا مبتدا محذوف کی خبر ہوگی۔ ای ھو رب السموات الخ۔ اس قراءت پر لا الہ الا ھو یحییٰ ویمیت اور ربکم ورب اباء کم الاولین، سب اِنَّ کی خبریں ہوں گی یا جمل مستانفہ یا مبتداءات محذوفہ کی خبریں ہوں گی اور پہلی قراءت پر یہ جمل مستانفہ ہیں یا مبتداءات محذوفہ کی خبریں (کل ذلک من الروح) ۔ وہ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا مالک ہے اگر واقعی تمہارا اس پر ایمان ہے جیسا کہ تم اس کا اقرار کرتے ہو اور تمہارا اقرار ایمان وایقان سے ناشی ہے تو پھر اس سے جو مدعا ثابت ہوتا ہے اسے بھی تمہیں ماننا چاہئے کہ اس کے سوا کوئی متصرف و کارساز اور عالم لغیب نہیں۔ ان ھذا الرب ھو السمیع العلیم الذی انتم مقرون بہ و معترفون بانہ رب السموات والارض وما بینہما ان کان اقرار کم عن علم وایقان (مدارک ج 4 ص 97) ۔
Ayah 44:8

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

کسی کی بندگی نہیں سوائے اس کے9 جِلاتا ہے اور مارتا ہے رب تمہارا اور رب تمہارے اگلے باپ دادوں کا

9:۔ ” لا الہ الا ھو۔ الایۃ “ صفات بالا سے جو متصف ہے وہی الٰہ ہے، وہی متصرف و کارساز اور عالم الغیب ہے۔ زندگی اور موت اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ تمہارا بھی مالک و کارساز ہے اور تمہارے باپ دادا کا مالک اور کارساز بھی وہی تھا جب سب کا مالک و خالق وہی ہے، تو اس کے سوا کوئی کارساز اور غیب داں بھی نہیں۔
Ayah 44:9

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

کوئی نہیں وہ دھوکے میں ہیں کھیلتے10

10:۔ ” بل ھم فی شک یلعبون “ یہ مقدر سے استدراک ہے۔ ای مابقی موضع شبہۃ۔ یعنی ان کو چاہئے تھا کہ مان لیتے کیونکہ مسئلہ اس قدر واضح ہوچکا ہے کہ شک و شبہہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی لیکن وہ پھر بھی نہیں مانتے، بلکہ شک و تردد میں لعب و استہزاء کر رہے ہیں یعنی اس طرح استہزاء کر ہے ہیں گویا انہیں مسئلہ میں ابھی شک ہے۔ ای داخلین فی صورۃ الشک قالہ الشیخ (رح) تعالی۔
Ayah 44:10

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

سو تو انتظار کر اس دن کا11 کہ لائے آسمان دھواں صریح

11:۔ ” فارتقب “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ دخان سے قحط مراد ہے کیونکہ بھوکے آدمی کو شدت جوع سے فضا میں بادل اور آنکھوں کے سامنے ہوائیاں اڑتی نظر آتی ہیں۔ جب مشرکین قریش عناد و تمرد میں حد سے بڑھ گئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان پر بد دعا کی کہ اے اللہ ! ان پر یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کے قحط کی طرح قحط مسلط فما دے تو ان پر ایسا شدید قحط ڈالا گیا کہ وہ مردار تک کھانے پر مجبور ہوگئے۔ یعنی اگر وہ نہیں مانتے تو آپ اس وقت کا انتظار فرمائی جب ان پر سخت قحط مسلط کردیا جائے گا۔ قال عبداللہ انما کان ھذا لان قریشا لما استعصت علی النبی ﷺ دعا علیہم بسنین کسنی یوسف، فاصابہم قحط وجھد حتی اکلوا العظام، فجعل الرجل ینظر الی السماء فیری ما بینہ وبینھا کھیئۃ الدخان من الجہد (قرطبی ج 16 ص 131) ۔
Ayah 44:11

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو گھیر لیوے لوگوں کو12 یہ ہے عذاب دردناک

12:۔ ” یغشی الناس “ یعنی وہ قحط تمام مشرکین کو اپنی لپیٹ میں لے لیگا اور وہ کہیں گے یہ تو بڑا ہی دردناک عذاب ہے یا ادخال الٰہی ہے اللہ کا ارشاد ہے کہ یہ ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ ای یقولون ھذا الخ او یقال لہم ھذا (روح) ۔ جب مشرکین مارے بھوک کے مردار اور ہڈیاں کھانے لگے تو ابو سفیان نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر صلہ رحمی کا واسطہ دیا اور عہد کیا کہ آگر یہ عذاب اٹھا لیا جائے تو ہم سب ایمان لے آئیں گے۔ ” ربنا اکشف عنا العذاب الخ “ ای یقولون۔ لما اشتد لقحط بقریش مشی ابو سفیان الی رسول اللہ ﷺ و ناشدہ الرحم وواعدہ ان دعا لہم وزوال مالہم امنوا (روح ج 25 ص 119) ۔
Ayahs 44:12–13

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اے رب کھول دے ہم پر سے یہ آفت ہم یقین لاتے ہیں

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

کہاں ملے ان کو سمجھنا13 اور آچکا ان کے پاس رسول کھول کر سنانے والا،

13:۔ ” انی لہم الذکری “ مشرکین کے نفاق اور ان کی دروغ گوئی کا بیان ہے۔ یعنی وہ جھوٹا عہد کر رہے ہیں اس سے ان کا مقصود صرف عذاب ہٹوانا ہے۔ صرف اتنی سی بات سے وہ کس طرح نصیحت حاصل کریں گے حالانکہ ان کے پاس مسئلہ توحید کو کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آچکا ہے۔ وہ اس کے وعظ و ارشاد سے متاثر نہیں ہوئے، بلکہ اس سے اعراض کیا اور کبھی کہتے ہیں وہ کسی سے سیکھ کر آتا ہے اور کبھی اسے دیوانہ کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں۔ ایسے معاندین سے راہ راست پر آنے کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ ” انا کاشفوا العذاب “ اچھا ہم کچھ وقت کے لیے عذاب اٹھا لیتے ہیں لیکن تم حسب وعدہ ایمان نہیں لاؤ گے، بلکہ کفر ہی پر قائم رہو گے، چناچہ آنحضرت ﷺ کی دعاء سے بارش ہوئی اور قحط دور ہوگیا، لیکن مشرکین ایمان نہ لائے۔ ” یوم نبطش الخ “ یہ دنیوی عذاب کے آخری فیصلے کا اعلان ہے اور اس سے یوم بدر کا عذاب مراد ہے۔ (مدارک، بحر وغیرہ) یعنی بدر کے دن جب ہم ان کو بڑی سخت گرفت میں لیں گے اس دن ان سے انتقام لے کر چھوڑیں گے۔ ” یوم نبطش “ کا ناصب مقدر ہے۔ ای ننتقم جس پر انا منتقمون قرینہ ہے۔ یوم نبطش ظرف لفعل دل علیہ انا منتقمون (بیضاوی) ۔
Ayahs 44:14–17

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر اس سے پیٹھ پھیری اور کہنے لگے سکھایا ہوا ہے باؤلا

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

ہم کھولے دیتے ہیں یہ عذاب تھوڑی مدت تک تم پھر وہی کرو گے

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن پکڑیں گے ہم بڑی پکڑ تحقیق ہم بدلہ لینے والے ہیں

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور جانچ چکے ہیں ہم ان سے پہلے14 فرعون کی قوم کو اور آیا ان کے پاس رسول عزت والا

14:۔ ” ولقد فتنا “ تا ” مافیہ بلاء مبین “ یہ تخویف دنیوی کا ایک نمونہ ہے۔ اور ” فارتقب یوم الخ “ سے متعلق ہے جس طرح ان سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو دنیا ہی میں سرکشی کی سزا ملی اسی طرح ان کو بھی دنیا میں سزا ملے گی۔ ان سے پہلے ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو آزمایا یعنی اپنے احکام کی اطاعت کا حکم دیا اور ان کے پاس ایک نہایت معزز رسول یہ پیغام لے کر آیا کہ اے اللہ کے بندو، جو حقوق تم پر واجب ہیں میری طرف ادا کرو۔ اس صورت میں عباد اللہ منادی ہوگا اور حرف ندا مقدر ہوگا۔ حقوق واجبہ سے ایمان اور قبول دعوت مراد ہے۔ ادوا الی ھق اللہ تعالیٰ من الایمان و قبول الدعوۃ یا عباد اللہ علی ان مفعول (ادو) محذوف وعباد منادی (روح ج 25 ص 121) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو اس صورت میں عباد اللہ، ادوا کا مفعول ہوگا اور اس سے مراد وہ اسرائیلی ہیں جنہیں قوم فرعون نے غلام بنا رکھا تھا اطلقوھم وسلم وھم الی، والمراد بھم بنو اسرائیل الذین کان فرعون مستعبدھم (ایضا) انی لکم رسول امین۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور اس کی وحی پر امین ہوں، اس لیے میری پند و نصیحت کو قبول کرو اور مسئلہ توحید کو مان لو اور سرکشی اور غرور و استکبار نہ کرو اور اللہ کے احکام مت ٹھکراؤ۔ میں تمہارے پاس ایسے دلائل واضحہ لے کر آیا ہوں جو میرے دعوے کی سچائی کا کھلا ثبوت ہیں۔
Ayahs 44:18–20

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

کہ حوالے کرو میرے بندے خدا کے میں تمہارے پاس آیا ہوں بھیجا ہوا معتبر

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور یہ کہ چڑھے نہ جاؤ اللہ کے مقابل میں لاتا ہوں تمہارے پاس سند کھلی ہوئی

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور میں پناہ لے چکا ہوں اپنے رب اور تمہارے رب کی15 اس بات سے کہ تم مجھ کو سنگسار کرو

15:۔ ” وانی عذت “ اس سے پہلے ادماج ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا سرکشی نہ کرو تو انہوں نے ان کو قتل کرنے کی دھمکی دی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا۔ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لیتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرسکو۔ مطلب یہ ہے کہ میں اپنے رب کی حفاظت میں ہوں۔ تم مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ لما قال ان لا تعلوا علی اللہ، توعدوہ بالقتل، فقال ذلک (روح) وان لم تؤمنوا الخ اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے ہو تو مجھ سے الگ ہوجاؤ اور میرے ساتھ کوئی سر و کار نہ رکھو اور میری ایذاء رسانی سے باز آجاؤ یہانتک کہ اللہ تعالیٰ خود ہی حق و باطل کا فیصلہ فرما دے۔ کیا ایک ناصح مہربان کی یہی جزا ہے کہ اسے ستایا جائے کونوا بمعزل منی وانا بمعزل منکم الی ان یحکم اللہ بیننا (قرطبی ج 16 ص 135) ولا تتعرضوا لی بشرکم واذاکم فلیس جزاء من دعا کم الی ما فیہ فلاحکم ذلک (مدارک ج 4 ص 98) ۔
Ayahs 44:21–22

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم نہیں یقین کرتے مجھ پر تو مجھ سے پرے ہوجاؤ

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

پھر دعا کی اپنے رب سے16 کہ یہ لوگ گناہگار ہیں

16: فدعا ربہ۔ جب فرعون اور اس کی قوم تکذیب پر مصر ہوگئی اور عناد و سرکشی سے باز نہ آئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے ان کی شکایت کی یہ لوگ سخت مجرم ہیں اور اپنے جرم شرک سے باز آنے والے نہیں ہیں اس لیے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ مجرمون مشرکون (جلالین) ان ھؤلاء قوم مجرمون تناھی امرھم فی الکفر وانت اعلم بہم فافعل بھم مایستحقونہ (روح ج 25 ص 122) ۔ ” فاسر بعبادی الخ “ اس سے پہلے حذف ہے یہ قاعدہ ہے جب گذشتہ زمانے کے امر کی حکایت کی جائے تو اس سے پہلے قلنا یا کوئی اور مناسب فعل محذوف ہوتا ہے۔ ای فاجبنا دعاءہ واوحینا الیہ ان اسر بعبادی (قرطبی ج 16 ص 136) ۔ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے حکم دیا کہ میرے بندوں، مومنین بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات نکل جاؤ، تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔ فرعون لاؤ لشکر سمیت تمہارے پیچھے تمہیں پکڑنے کے لیے نکلے گا۔
Ayahs 44:23–24

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

پھر لے نکل رات سے میرے بندوں کو البتہ تمہارا پیچھا کریں گے

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور چھوڑ جا دریا کو تھما ہوا17 البتہ وہ لشکر ڈوبنے والے ہیں

17:۔ ” واترک البحر رھوا “۔ رھوا ساکنا (بحر، روح، قرطبی) ۔ اس سے پہلے اندماج ہے ینی القضہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر دریا کے کنارے پہنچا تو اللہ کے حکم سے اس پر اپنی لاٹھی ماری جس سے اس میں بارہ خشک راستے بن گئے، جب وہ ان راستوں سے گذر کر پار ہوگئے اس وقت فرعون بھی لاؤ لشکر کے ساتھ دریا پر پہنچ گیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا تاکہ وہ دریا پر دوبارہ لاٹھی ماریں تاکہ وہ جاری ہوجائے اور فرعون آگے نہ بڑھ سکے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ دریا کو ابھی ساکن ہی رہنے دو ، کیونکہ ہم فرعون کے لشکر کو انہی راستوں میں گھیر کر غرق کرنا چاہتے ہیں۔
Ayah 44:25

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

بہت سے چھوڑ گئے باغ18 اور چشمے

18:۔ ” کم ترکوا “ فرعونی کس قدر عمدہ باغات اور چشمے، سرسبز و شاداب کھیتیاں، عالیشان محلات اور عیش و عشرت کا سامان چھوڑ گئے جس میں وہ خوش و خرم زندگی بسر کرتے تھے۔ ” کذلک “ بات یونہی ہے اور ہم نافرمانوں اور سرکشوں سے ایسا ہی معاملہ کیا کرتے ہیں۔ ” واورثناھا الخ “ قوما آخرین سے بنی اسرائیل مراد ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ اس کی تصریح موجود ہے۔ کذلک واورثناھا بنی اسرائیل (شعراء رکوع 4) ۔ یعنی فرعون کی حکومت اور تمام دولت کا ہم نے بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ بنی اسرائیل ملک شام سے مصرف کی طرف واپس آئے ہوں جیسا کہ قتادہ اور حسن رحمہما اللہ نے کہا ہے ان بنی اسرائیل رجعوا الی مصر بعد ھلاک فرعون (بحر ج 8 ص 36) ۔ باقی یہ اعتراض کہ بنی اسرائیل کی مصر میں واپسی کا ذکر تاریخوں میں نہیں ملتا، قابل التفات نہیں، کیونکہ کتب تاریخ میں کذب وتحریف کا امکان ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان سراپا حق ہے۔ ولا اعتبار بالتواریخ فالکذب فیہا کثیر و کلام اللہ صدق، قال تعالیٰ فی سورة الشعراء کذلک واورثناھا بنی اسرائیل (بحر) وقالوا لا اعتبار بالتواریخ وکذا الکتب التی بیدا الیہود الیوم لما ان الکذب فیہا کثیر و حسبنا کتاب اللہ تعالیٰ وھو سبحانہ اصدق القائلین وکتابہ جل و علا مامون من تحریف المحرفین (روح ج 25 ص 124) ۔
Ayahs 44:26–29

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیتاں اور گھر خاصے

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور آرام کا سامان جس میں باتیں بنایا کرتے تھے

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

یونہی ہوا اور وہ سب ہاتھ لگا دیا ہم نے ایک دوسری قوم کے

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پھر نہ رویا ان پر آسمان19 اور زمین اور نہ ملی ان کو ڈھیل

19:۔ ” فما بکت “ یہ کنایہ ہے اس سے کہ فرعون کی ہلاکت کوئی اہم اور بڑا حادثہ نہیں ہے، بلکہ ایک حقیر اور معمولی سی بات تھی ان کی ہلاکت سے کوئی فرق نہیں آیا۔ مجاز عن عدم الاکتراث بھلاکہم والاعتداد بوجودھم (بیضاوی) ۔
Ayah 44:30

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور ہم نے بچا نکالا20 بنی اسرائیل کو ذلت کی مصیبت سے

20:۔ ” ولقد نجینا “ فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کر کے ہم نے بنی اسرائیل کو اس رسوا کن اور ذلت آمیز عذاب سے نجات دی جو وہ فرعون کے ہاتھوں برداشت کرتے تھے۔ بیشک فرعون نہایت سرکش، مغرور اور حد سے زیادہ ظالم و جائر تھا۔ من فرعون کا متعلق محذوف ہے اور یہ ماقبل سے ھال ہے۔ حال من المھین بمعنی واقعا من جبھتہ (بیضاوی) ۔ ” ولقد اخترنہم الخ “ اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس وقت کی تمام اقوام پر شرف و فضیلت عطا فرمائی، ان کو یہ امتیاز ان کے ایمان وعمل اور صبر و استقلال کی وجہ سے حاصل ہوا۔ ” علی علم “ یعنی ہم نے ان کو مستحق جان کر یہ شرف عطا کیا۔ ” واتیناہم الخ “ یہ مزید انعامات کا ذکر ہے جو بنی اسرائیل پر کیے گئے۔ ہم نے بنی اسرائیل کو ایسے نشانات دئیے جن میں انعام و احسان کا پہلو نمایاں اور امتحان و ابتلاء کی صورت واضح تھی مثلاً دریا میں راستے بنانا۔ بادلوں کا ان پر سایہ کرنا، من وسلوی کا اتارنا وغیرہ یہ انعامات تھے اور ان میں ان کا امتحان بھی مقصود تھا کہ وہ کس طرح ان کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ” بلاء مبین “ نعمۃ ظاھرۃ او اختیار ظاھر لننظر کیف تعملون “ (مدارک ج 4 ص 99) ۔
Ayahs 44:31–34

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

جو فرعون کی طرف سے تھی بیشک وہ تھا چڑھ رہا حد سے بڑھ جانے والا

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور ان کو ہم نے پسند کیا جان بوجھ کر جہان کے لوگوں سے

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور دیں ہم نے ان کو نشانیاں جن میں تھی مدد صریح

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں21

21:۔ ” ان ھؤلاء “ یہ اہل مکہ کی طرف التفات اور شکوی ہے۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ بس اس پہلی زندگی کے ختم ہوجانے سے قصہ تمام ہوجائیگا اور اس کے بعد پھر کوئی زندگی نہیں ہوگی اور ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائیگا۔ یعنی یہ جو پہلے آنے والی موت ہے اس کو تو ہم مانتے ہیں، لیکن اس کے بعد جو دوسری زندگی بتائی جاتی ہے اسے ہم نہیں مانتے۔ اب یہ اعتراض نہ رہا کہ کفار موت کو تو مانتے تھے اور انکار دوسری حیاتی کا کرتے تھے اس لیے ” انھی الا حیاتنا الاولی “ کہنا چاہئے تھا۔ ” فاتوا بابائنا الخ “ خطاب رسول اللہ ﷺ اور مومنین سے ہے یعنی اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے ہمیں دکھا دو تو ہم مان لیں گے۔
Ayahs 44:35–37

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

اور کچھ نہیں ہمارا یہی مرنا ہے پہلا اور ہم کو پھر اٹھنا نہیں

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

بھلا لے تو آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر تم سچے ہو

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

بھلا یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور جو22 ان سے پہلے تھی ہم نے ان کو غارت کردیا بیشک وہ تھے گناہ گار

22:۔ ” ا ھم خیر “ کیا یہ مشرکین مکہ قوم تبع اور ان سے پہلے مشرکین سے بہتر ہیں ؟ نہیں۔ یہ بھی عذاب کے مستحق ہیں اور جس طرح ان اقوام سابقہ کو ہلاک کیا گیا ان کو بھی ہلاک کیا جائیگا۔ ھذا استفہام انکار، ای انھم مستحقون فی ھذا القول العذاب اذ لیسوا خیر من قوم تبع والامم المہلکۃ، واذا اھلکنا اولئک فکذا ھؤلاء (قرطبی ج 16 ص 144) ۔ جب ہم نے قوم تبع اور ان سے پہلے مشرکین کو اس لیے ہلاک کیا کہ وہ مجرم تھے۔ تعلیل لاھلاکہم ای (ھلکناھم بسبب کو نہم مجرمین فلیحذر کفار قریش الاھلاک لاجرامہم (روح ج 25 ص 130) ۔ تبع حمیری کا اصل نام اسعد یا سعد تھا اور کنیت ابو کرب تھی۔ یہ نیک اور صالح آدمی تھا، شرک سے بیزر اور توحید پرست تھا۔ اپنے زمانے کے علماء سے اس نے سنا تھا کہ مکہ میں حضرت خاتم النبیین ﷺ پید اہوں گے اور مدینہ (یثرب) آپ کا دار الہجرت ہوگا تو وہ اسی وقت آپ پر ایمان لے آیا۔ اس نے بیت اللہ کا حج کیا اور وہ پہلا شخص ہے جس نے بیت اللہ کو غلاف پہنایا اور اپنے جانشینوں کو وصیت کی کہ اس کے بعد ہر سال، خانہ کعبہ کو غلاف پہنچایا جائے (قرطبی، روح وغیرہ) تبع کی زندگی کے بعد اس کی قوم مشرک ہوگئی، اسی قوم کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 44:38

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے جو بنایا آسمان23 اور زمین اور جو ان کے بیچ ہے کھیل نہیں بنایا

23:۔ ” وما خلقنا السموات “ یہ توحید پر دلیل عقلی ہے۔ ہم نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو محض کھیل کے طور پر بےمقصد نہیں پیدا کیا، بلکہ اس ساری کائنات کو ایک نہایت اہم مقصد کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ مقصد اظہار حق ہے تاکہ اس کائنات کے ذرے ذرے سے اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کاملہ پر استدلال کی اجائے لیکن اکثر لوگ جاہل ہیں اور اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ بالحق ای لاظہار الحق۔ تائید : (1) ھل من خالق غیر اللہ (فاطر رکوع 1) ۔ 2 ۔ ” لو اردنا ان نتخذ لھوا لا تخذناہ من لدنا ان کنا فاعلین۔ بل نقذف بالحق علی الباطل، فیدمغہ فاذا ھو زاھق “ (انبیاء رکوع 2) ۔
Ayahs 44:39–40

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ان کو تو بنایا ہم نے ٹھیک کام پر بہت لوگ نہیں سمجھتے

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

تحقیق فیصلہ کا دن24 وعدہ ہے ان سب کا

24:۔ ” ان یوم الفصل “ یہ تخویف اخروی ہے۔ سب کے حساب کتاب اور جزاء و سزا کے لیے فیصلے کا دن مقرر ہے جس میں حق و باطل اور محق و مبطل کے درمیان آخری فیصلہ کیا جائیگا۔ ” یوم لایغنی مولی الخ “ اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا اور نہ ان کا کوئی حامی و ناصر ہی ہوگا جو انہیں اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے۔ البتہ جن پر اللہ تعالیی کی رحمت ہوگی وہ عفو و مغفرت سے یا نیک لوگوں کی شفاعت کے باعث عذاب سے بچ جائیں گے۔ یہ ” ینصرون “ کی ضمیر سے بدل ہے یا استثناء منقطع ہے اور اس سے مراد مؤمنین ہیں الا من رحم اللہ بالعفو و قبول الشفاعۃ فیہ و محلہ الرفع علی البدل من الواو او النصب علی الاستثناء (روح، بیضاوی) ۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب پر غالب اور مہربان ہے جسے وہ عذاب دینا چاہے اسے کوئی چھڑا نہیں سکتا اور جسے چاہے اپنی مہربانی سے معاف کردے۔