Ayahs 43:2–42:۔ ” والکتب المبین “ یہ تمہید مع ترغیب ہے اور قرآن کی عظمت شان کا بیان ہے۔ واؤ قسمیہ ہے ور جواب محذوف ہے ای انک لمن المرسلین او انک لرسول صادق، اور، انا جعلناہ الخ، استیناف ہے یعنی یہ واضح اور روشن کتاب اس پر شاہد ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ قالہ الشیخ (رح) یا انا جعلناہ الخ۔ جواب قسم مذکور ہے۔ یعنی یہ کتاب جو واضح اور فسیح وبلیغ عربی زبان میں ہے بذات خود اس پر شاہد ہے کہ ہم نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم اسے اپنی مادری زبان میں اچھی طرح سمجھ سکو۔ (روح) ۔ گویا یہ قرآن خود ہی اپنا شاہد ہے۔ (ع) آفتا بآمد دلیل آفتاب۔ تائید : ” لکن اللہ یشہد بما انزل الیک انزلہ بعلمہ “ قسم کی دو قسمیں ہیں 1 ۔ جس میں مقسم بہ کو مافوق الاسباب قادر اور عالم الغیب سمجھ کر قسم کھائی جاتی ہے اور اس میں یہ تصور ہوتا ہے کہ اگر اس کی مخالفت کی گئی تو وہ ضرر پہنچائے گا یہ قسم غیر اللہ کی جائز نہیں۔ 2 ۔ مقسم بہ کو جواب قسم پر بطور شاہد پیش کیا جاتا ہے یہاں قسم اسی قبیل سے ہے اور یہ قسم غیر اللہ کی جائز ہے۔ ” وانہ فی ام الکتب الخ “ ام الکتاب سے لوح محفوط مراد ہے یعنی قرآن کی عظمت شان کا یہ حال ہے کہ لوح محفوظ میں وہ تمام کتابوں پر فائق اور حاکم ہے اور ہر قسم کی لفظی اور معنوی فساد و خلل سے پاک ہے۔ وھذا فیہ تشریف للقران وترفیع بکونہ لدیہ علیا علی جمیع الکتب وعالیا عن وجوہ الفساد حکیما ای حاکما علی سائر الکتب او محکما بکونہ فی غایۃ البلاغۃ والفصاحۃ وصحۃ المعانی (بحر ج 8 ص 5) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ لوح محفوط میں اس قرآن کا نام علی حکیم ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔
Ayah 43:53:۔ ” افنضرب عنکم۔ الایۃ “ یہ زجر ہے اور الذکر سے یا قرآن مراد ہے یا دعوت توحید یا تذکرہ و تخویف (کبیر، بحر) اور صفحا، نضرب کا مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ وکذا فی الروایۃ کنتم سے پہلے لام اجلیہ مقدر ہے ای لان کنتم (بیضاوی) ۔ مطلب یہ ہے کہ کیا ہم قرآن کا نازل کرنا بند کردیں اور تمہیں توحید کی دعوت دینا چھوڑ دیں محض اس وجہ سے کہ تم انصاف کی حدوں کو پھاند چکے ہو اور ضد وعناد پر اتر آئے ہو اور خداوندِ قادر وقیوم کے لیے نائب تجویز کرنے لگے ہو ؟ یا ” صفحا “ مفعول لہ ہے۔ مفعول لہ علی معنی افنعزل عنکم انزال القران والزام الحجۃ بہ اعراضا عنکم (بحر ج 8 ص 6) اور استفہام انکار ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا، بلکہ ہم تمہیں توحید کی دعوت دینگے اور نہ ماننے کی صورت میں سزا بھی دیں گے۔ وھذا استفہام علی سبیل الانکار یعنی نا لانترک ھذا الاعذار والانذار بسبب کو کم مسرفین۔ بل نلزمکم العمل وندعوکم الی الدین ونواخذکم متی اخللتم بالواجب وقد متم علی القبیح (کبیر ج 7 ص 430) ۔
Ayahs 43:6–84:۔ ” وکم ارسلنا “ تا ” مثل الاولین “۔ یہ تخویف دنیوی ہے اور اس سے مقصود ترغیب ہے۔ مشرکین مکہ کا انکار کوئی نئی بات نہیں، ان سے پہلے بھی ہم نے گذشتہ امتوں میں پیغمبر بھیجے۔ ان کے پاس جو پیغمبر بھی آیا انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اس کا تمسخر اڑایا تو ہم نے شرک کے ان متمرد اور سرکش سرغنوں کو تباہ و برباد کردیا جو ان مشرکین قریش سے زیادہ سخت گیر، ان سے زیادہ طاقتور اور ان سے کہیں بڑے اور مضبوط جتھے والے تھے امم سابقہ کی مثال گذر چکی ہے اس لیے مشرکین قریش کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان پر بھی ویسا ہی عذاب نازل نہ ہوجائے جیسا کہ گذشتہ سرکش قوموں پر عذاب نازل نہ ہوجائے جیسا کہ گذشتہ سرکش قوموں پر نازل ہوا۔ ای فلیحذر قریش ان یحل بھم مثل ماحل بالاولین مکذبی الرسل من العقوبۃ (بحر ج 8 ص 6) ۔
Ayah 43:95:۔ ” ولئن سالتہم۔ الایۃ “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ یعنی اللہ کی توحید اور اس کے شریک اور نائب متصرف سے منزہ ہونے پر ایک ایسی حقیقت سے استدلال کیا گیا ہے جسے مشرکین قریش تسلیم کرتے اور اس کا اعتراف کرتے تھے۔ یعنی ان سے پوچھو تو سہی کہ زمین و آسمان کا خالق اور موجد کون ہے ؟ تو صاف اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ جو سب پر غالب اور سب کچھ جاننے والا ہے وہی زمین و آسمان کا خالق ہے۔ جب تم نے تسلیم کرلیا کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا خالق اور موجد اللہ تعالیٰ ہی ہے اور ساری کائنات کی ایجاد میں اس کا کوئی شریک اور معاون و مشیر نہیں ہے، تو معبودانِ باطلہ کو اس کائنات کے اندر تصرف و اختیار میں خدا کے شریک اور نائب ماننا تمہارے پہلے اقرار وعتراف کے خلاف ہے۔ جب ایجاد کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں، تو تصرف و اختیار میں اس کا نائب بھی کوئی نہیں۔ ” خلقہن العزیز الحکیم “ یہ مشرکین کے جواب کی تعبیر بالمعنی ہے یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے یہی الفاظ کہے ہیں، کیونکہ دوسری جگہ ” لیقولن اللہ “ وارد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین زمین و آسمان کی تخلیق کو اس ذات کی طرف منسوب کریں گے جو ان صفات سے متصف ہے۔
Ayahs 43:10–116:۔ ” الذی جعل لکم “ تا ” ماترکبون “ یہ پہلی عقلی دلیل پر تنویر ہے۔ یعنی یہ تمام اوصاف اسی خالق کائنات کے ساتھ مختص ہیں اور یہ سب کام وہی کرسکتا ہے، اس کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا۔ ” الذی جعل لکم الرض مہدا الخ “ اس نے زمین کو ہمارے لیے آرام و راحت کی جگہ بنادیا جس سے ہمیں ہر ضرورت اور ہر آسائش آسانی سے میسر ہوسکتی ہے۔ اس پر چلنا پھرنا، مکانات عمیر کرنا، کھیتی باڑی کرنا، نہریں کھودنا سب کچھ آسان ہے اور پھر زمین میں راستے بنا دئیے جن کے ذریعے سے ہم بآسانی سفر طے کرسکتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے۔ ” والذی نزل من السماء ماء الخ “ وہی آسمان سے باران رحمت نازل فرم اکر بےکار اور خش زمین کو زرخیز بنا کر اسے حیات نو بخشتا ہے اس لیے کون ہے جو یہ کام کرسکتا ہے ؟ ” کذلک تخرجون “ یہ جملہ معترضہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو زرخیز کرسکتا ہے، اسی طرح وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ گویا یہ دلیل جس طرح اللہ کے متصرف و کارساز اور قدیر و حکیم ہونے پر دلالت کرتی ہے اسی طرح اس دلیل سے حشر و نشر بھی ثابت ہوتا ہے۔
Ayah 43:127:۔ ” والذی خلق الازواج۔ الایۃ “ اسی ہی نے مخلوق کی یہ تمام انواع و اقسام پیدا کی ہیں، جو رنگ میں، بو میں، ذائقے میں اور جنس میں مختلف اور گوناگوں ہیں۔ قال ابن عباس جانور پید اکیے تاکہ تم خشکی اور تری کا سفر آرام اور آسانی سے کرسکو۔ ان تمام افعال وصفات میں اللہ تعالیٰ یکتا اور منفرد ہے اور وہی تنہا متصرف و کارساز ہے، اس لیے کوئی اس کا نائب نہیں۔
Ayah 43:138:۔ ” لتستوا علی ظہورہ “ اس میں مذکورہ بالا نعمت کا شکر ادا کرنے کے طریق کی تعلیم دی۔ یہ سواری کے چوپائے اس لیے پیدا کیے تاکہ جب تم ان پر سواری کرو، تو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو اور زبان سے اس کی یوں تسبیح و تقدیس کرو کہ وہ ہر شریک اور نائب سے اور ہر نقص و عیب سے پاک اور منزہ ہے جس نے یہ دیو ہیکل اور گرانڈیل چوپائے ہمارے تابع کردئیے ہیں، حالانکہ ہم میں ان کو اپنے تابع اور اپنے قبضے میں کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ جانوروں پر سواری کرتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہئے یعنی سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین، وانا الی ربنا لمنقلبون۔
Ayah 43:149:۔ ” وانا الی ربنا لمنقلبون “ یہ سب کچھ اللہ نے اس لیے پیدا کیا ہے، تاکہ تم ان کو دیکھو اور ان میں غور و فکر کرو اور سمجھ لو کہ سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اور آخر کار سب اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور قیامت کے دن اس کی عدالت میں حاضر ہونے والے ہیں۔ اس سورت میں دو دعوے مذکور ہیں۔ اول یہ کہ متصرف و کارساز اور خالق کائنات اللہ تعالیٰ ہی۔ دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نائب نہیں۔ یہاں تک ایک دعوی ثابت ہوگیا کہ سب کچھ پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پہلا جزء مشرکین کے اعتراف سے اور دوسرا جزء دلیل عقلی پر لائی گئی تنویر سے دوسرا دعوی آگے دلائل نقلیہ سے ثابت کیا جائے گا۔
Ayah 43:1510:۔ ” وجعلوا لہ “ تا ” عقبۃ المکذبین “ شکوی ہے۔ مشرکین کے اعتراف (دلیل عقلی) سے اور پھر دلیل پر تنویر سے ثابت ہوگیا کہ ہر چیز کا خالق اور سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اب مشرکین مکہ پر شکوی کیا گیا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں اور اس کے نائب متصرف مانتے تھے۔ جزءا ای ولدا، ولد کو جزء سے تعبیر کیا گیا اور مراد اس سے نائب متصرف ہے نہ کہ حقیقی ولد جیسا کہ کئی جگہوں میں اس مضمون کو اتخاذ ولد (بیٹا بنا لینا) سے تعبیری کیا گیا ہے۔ ای قالوا الملائکۃ بنات اللہ (مدارک ج 4 ص 87) ۔ یا جزء کے معنی برابر اور ہمسر کے ہیں۔ امام قتادہ فرماتے ہیں۔ جزء سے معبود غیر اللہ مراد ہے۔ حاصل یہ ہے کہ اس اعتراف کے باوجود کہ ساری کائنات کا خالق اللہ ہے، پھر بھی مشرکین اس کی مخلوق کو اور اس کے بندوں کو اس کی عبادت و تعظیم میں اور اس کی صفات میں اس کا شریک بناتے ہیں۔ جزءا ای عدلا ؟ عن قتادۃ یعنی ما عبد من دون اللہ عز و جل (قرطبی ج 16 ص 69) ۔ وقال قتدۃ جزءا ای ندا (بحر ج 8 ص 8) ۔ بیشک انسان نہایت ہی نا شکگر گذار ہے اور اس کی ناشکر گذاری بالکل واضح اور ظاہر ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کو اور ساری کائنات کے بادشاہ کو بھی اپنی صفات میں یگانہ اور وحدہٗ لا شریک لہ نہیں مانتا اور العیاذ باللہ اسے نائبین کا محتاج سمجھتا ہے۔
Ayahs 43:16–1711:۔ ” ام تخذ مما یخلق۔ الایۃ “ استفہام انکاری ہے برائے تعجب۔ کیا تمہارے خیال باطل کے مطابق اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں منتخب کرلیں اور بیٹوں کو تمہارے لیے مختص کردیا ہے۔ یہ مشرکین کی جہالت و سرکشی پر اظہار تعجب ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف ایک ایسی چیز (بیٹیوں) کی نسبت کی جسے وہ خود نہایت ہی حقیر اور ذلیل سمجھتے ہیں ” واذا بشر احدہم الخ “ یہ ان کی حماقت و جہالت کا مزید بیان ہے۔ ضرب ای جعل مثلا ای صفۃ او حالا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ یا مثلاً بمعنی شبھا ہے۔ ای بالجنس الذی جعلہ لہ مثلا ای شبھا (مدارک ج 4 ص 88) ۔ اور ان مشرکین کا اپنا حال یہ ہے کہ جس جنس (اناث) کو انہوں نے خداوند تعالیٰ کے مماث و مشابہ قرار دیا ہے اور اس کی طرف جس کی نسبت کی ہے جب وہ ان میں سے کسی کے گھر آ وارد ہو اور اسے یہ خبر ملے کہ اس کے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو حزن و ملال اور تاسف و ندامت سے اس کا چہرہ اتر جاتا اور وہ غم واندوہ میں ڈوب جاتا ہے۔
Ayah 43:1812:۔ ” او من ینشا فی الحلیۃ۔ الایۃ “ یہ بھی مشرکین کے قول کی مزید شناعت و قباحت کا بیان ہے۔ کیا انہوں نے اس جنس کو خدا کی طرف منسوب کیا ہے جس کی نشو ونما زیوروں میں ہوتی ہے یعنی بیٹیاں اور یہ ان کے ناز اور ضعیف ہونے کی دلیل ہے اور لڑائی جھگڑے میں وہ اپنے مدعا پر واضح دلیل اور، روشن برہان پیش نہیں کرسکتیں یہ ان کے عقلی اور ذہنی نقصان کی علامت ہے۔ مشرکین کا یہ قول کس قدر قبیح اور گستاخانہ ہے کہ انہوں نے ایک اخس و اذل جنس کو خدا کی طرف منسوب کیا اور اسے خدا کا نائب متصرف ٹھہرایا۔
Ayah 43:1913:۔ ” وجعلوا الملئکۃ۔ الایۃ “ یہ اعادہ ہے اور ” وجعلوا لہ من عبادہ جزءا “ کی تفسیر ہے۔ ان ظالموں نے فرشتوں کے بارے میں یہ کہا کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور عبادت گذار بندے ہیں۔ بندگی اور فرزندی میں تضاد و اضح ہے جو بندہ ہو وہ فرزند اور ولد نہیں ہوسکتا۔ نیز جو خود ہر وقت اللہ کی عبادت و اطاعت میں لگا رہے وہ اس لائق نہیں ہوسکتا کہ اسے خدا کا نائب سمجھا جائے اور اس کی عبادت کی جائے۔ والعباد جمع عبد وھو الزم فی الحجاج مع اھل العناد لتضاد بین العبودیۃ والولاد (مدارک ج 4 ص 88) ۔ ” وذکر العباد مدح لھم، ای کیف عبدوا من ھو فی نہایۃ العبادۃ (قرطبی ج 16 ص 73) ۔ ” اشھدوا خلقہم الخ “ کیا فرشتوں کی پیدائش کے وقت وہ وہاں حاضر اور موجود تھے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے ان کے اناث ہونے کا مشاہدہ کیا ہے ؟ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہے، لیکن وہ ظن وتخمین سے ایک بات کہے جارہے ہیں جس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ فرشتوں کے بارے میں ان کا یہ بیان کہ وہ اناث (عورتیں) ہیں جس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ فرشتوں کے بارے میں ان کا یہ بیان کہ وہ اناث (عورتیں) ہیں لکھا جا چکا ہے اور قیامت کے دن ان سے اس پر باز پرس ہوگی۔ یہ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 43:2014:۔ ” وقالوا لوشاء “ یہ شکوی ہے۔ جب مشرکین لاجواب ہوجاتے ہیں تو مشیت خداوندی کی آڑ لیتے ہیں کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو ہم فرشتوں کی عبادت نہ کرتے اور انہیں خدا کے نائب نہ بناتے۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو ہمیں اس سے زبردستی روک دیتا جب وہ ہمارے اور ان کی عبادت کے درمیان حائل نہیں ہوا، تو معلوم ہوا کہ وہ اس پر خوش ہے۔ ” مالہم بذلک من علم الخ “ یہ جواب شکوی ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کا ارادہ کسی فعل کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا، کیونکہ اس کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ حسن و قبح اور خیر و شر سب اس کے ارادے ہی سے ہو رہا ہے اس کے ارادے کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعے سے اور دلائل انفس و آفاق سے حق و باطل کو واضح کر کے ہر انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے دونوں میں سے ایک کو منتخب کرلے تاکہ امتحان و ابتلاء کا تقاضا پورا ہو، لیکن اس کی رضا اور خوشنودی صرف نیک کاموں ہی سے متلعق ہے۔ باقی رہا کسی فعل کے جواز کی دلیل کا سوا، تو دلیل، عقل و نقل اور وحی ہی سے پیش کی جاسکتی ہے۔ اور ان مشرکین کے پاس شرک کے حق میں ان تینوں دلیلوں میں سے کوئی بھی دلیل موجود نہیں۔ مالہم بذلک من علم الخ۔ اس میں دلیل عقلی کی نفی کی گئی ہے کہ ان کے پاس فرشتوں کے معبود اور نائب خدا ہونے پر کوئی عقلی دلیل موجود نہیں، وہ جو کچھ کہتے ہیں محض اٹکل اور تخمین ہی سے کہتے ہیں۔ ای یقولون قولا باطلا بالظن والتخمین (مظہری ج 8 ص 343) ۔
Ayahs 43:21–2215:۔ ” ام اتینہم کتابا۔ الایۃ “ اس میں دلیل نقلی کی نفی کی گئی ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی ان کے پاس کتب سابقہ میں بھی کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے تمسک کر کے وہ فرشتوں کو معبود ٹھہراتے ہوں۔ بان یعبدوا غیر اللہ تعالٰٰ و ینسبوا الیہ الولد (جامع البیان ص 420) ۔ ” بل قالو الخ “ دلیل عقلی اور نقلی کی نفی کے بعد دلیل وحی خود بخود منتفی ہوجاتی ہے، کیونکہ وحی ربانی بھی ان کے خلاف ہے۔ اس لیے ہر طرف سے لاجواب ہو کر وہ کہتے ہیں ہمارے پاس عقل و نقل اور وحی کی تو کوئی دلیل نہیں جس کا تم مطالبہ کرتے ہو، بلکہ ہم نے یہ عقیدہ اور عمل اپنے باپ دادا سے اخذ کیا ہے۔ ہم نے ان کو اسی دین اور طیرقہ پر پایا ہے وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور ان کی عبادت و تعظیم بجا لاتے تھے اور ان کو نائب خدا اور عند اللہ شفیع غالب سمجھتے تھے، اس لیے ہم بھی، آنکھیں بند کر کے ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
Ayahs 43:23–2416:۔ ” وکذلک ما ارسلنا۔ الایۃ “ یہ متعلق بہ شکوی ہے اور تخویف دنیوی کی تمہید ہے۔ گذشتہ امتوں کا حال بعینہ مشرکین مکہ کی طرح ہے کہ ان کے پاس جو بھی اللہ کی طرف سے اللہ کی توحید کا داعی آیا، اسے یہی جواب دیا گیا۔ جب اللہ کا پیغمبر انہیں توحید کی دعوت دیتا اور اس کے عذاب سے ڈراتا، تو دولت و طاقت کے نشے میں مست، سرکش اور معاند طبقہ ان کی دعوت کے جواب میں کہتا، تیری بات تو ہم ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہم نے اپنے باپ دادا کو جس دین اور طریقے پر پایا ہے ہم اسی کی پیروی کریں گے اور اسی راہ پر گامزن رہیں گے۔ ” قال اولو جئتکم “ اس کے جواب میں پیغمبر (علیہ السلام) انہیں کہتے : میں تمہارے سامنے ایک ایسا دین پیش کر رہا ہوں جو تمہارے باپ دادا کے دین سے اچھا اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت و رہنمائی کے عین مطابق ہے، تو کیا پھر تم اس کے مقابلے میں اپنے باپ دادا کے جھوٹے دین ہی کو مانو گے ؟ تو اس کے جواب میں مشرکین نہایت سرکشی اور بیباکی سے کہتے جو دین تم لے کر آئے ہو اس کو ہم کسی حال میں بھی نہیں مانیں گے اور اس کا تو ہم انکار ہی کریں گے۔
Ayah 43:2517:۔ ” فانتقمنا منہم۔ الایۃ “۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ جب ان کفار و مشرکین نے عناد و تعنت اور سرکشی کی انتہاء کردی، دعوت توحید کو ٹھکرایا، انبیاء (علیہم السلام) کو ایذا دی اور ان کا تمسخر اڑایا، تو ہم نے گوناگوں مصائب و آفات سے اور مکتلف انواع عذاب سے دنیا ہی میں ان کو تہس نہس کر کے ان سے انتقام لے لیا۔ اب دیکھ لو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ مشرکین قریش کو بھی کو اس قسم کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ اور آپ کو ان کی تکذیب کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ اس میں آپ کیلئے ایک گونہ تسلی ہے۔ تسلیۃ لہ ﷺ و ارشاد الی عدم الاکثرات بتکذیب قومہ ایاہ (علیہ الصلوۃ والسلام) (روح ج 25 ص 76) ۔
Ayahs 43:26–2718:۔ ؎” واذا قال ابراہیم “ پہلی دلیل نقلی تفصیلی از حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ ” الا الذی ‘ میں استثناء منقطع ہے (مدارک و بحر) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو جد الانبیاء اور مشرکین قریش کے جد اعلی تھے ان کی تعلیم یہ تھی کہ انہوں نے اپنے باپ آز اور اپنی قوم کے سامنے واشگاف الفاظ میں اعلان فرما دیا تھا کہ تم جن معبودان باطلہ کی عبادت و تعظیم بجالاتے ہو اور جنہیں حاجات و مشکلات میں غائبانہ پکارتے ہو، میں ان سب سے سخت بیزار ہوں۔ التہ وہ ذات پاک جس نے مجھے پیدا کیا ہے میں اسی کی عبادت کرتا ہوں اور اسی ہی کو حاجات میں پکارتا ہوں۔ وہی مجھے اس ہدایت پر قائم رکھے ہے۔ ” سیہدین “ میں سین تاکید کے لیے ہے، استقبال کے لیے نہیں (روح) ۔ یہدین ای یثبتنی علی الہدایۃ (مدارک) ۔
Ayah 43:2819:۔ ” وجعلھا کلمۃ۔ الایۃ “ ضمیر مؤنث کلمہ توحید یا دعوت سے کنایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے توحید کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں دوام وبقاء عطا فرمایا کہ ان کی اولاد میں توحید باقی رہے گی اور ان کی اولاد میں انبیاء اور علماء ہوتے رہیں گے جو توحید کی تبلیغ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ پر نبوت ختم ہوجائے گی، لیکن توحید کی دعوت و تبلیغ کام علماء کے ذریعے سے قیامت تک جاری رہے گا، تاکہ شرک کرنے والے ان کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر شرک سے باز آجائیں۔ والضمیر لمنصوب لکلمۃ التوحید اعنی لا الہ الا اللہ کما روی عن قتادۃ ومجاہد والسدی (روح ج 25 ص 77) ۔ فی عقبہ ای فی ذریتہ، فلا یزال فیہم من یوحد اللہ و یدعوالی توحیدہ (بحر ج 8 ص 12) ۔
Ayahs 43:29–3020:۔ ” بل متعت ھؤلاء “ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں توحید کو اللہ تعالیٰ نے قائم ودائم کردیا تو پھر یہ مشرکین مکہ جو ان کی اولاد میں سے ہی، یہ کیونکر مشرک ہوگئے ؟ کیا توحید کے بارے میں ان کے دلوں میں شبہات ہیں ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ توحید پر ایسے واضح اور روشن دلائل قائم ہوجانے کے بعد کوئی جائے شبہہ ہی ہے۔ قرآن تمام شبہات کو دور کرتا ہے بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے مال و متاع اور ساز و سامان سے مالا مال کردیا اور وہ دنیوی عیش اور لذت میں محو ہو کر توحید سے منحرف ہوگئے یہاں تک کہ اب پھر ان کے پاس حق (قرآن) کی دعوت پہنچ گئی اور توحید کو واضح اور روشن کرنے والا پیغمبر حضرت محمد ﷺ آگیا۔ آپ اسی دعوت ابراہیمیہ کو لے کر آئے ہیں۔ الحق ای القرا و رسول ای محمد (علیہ السلام) (مدارک ج 4 ص 89) ۔ ای محمد ﷺ بالتوحید والاسلام الذی ھو اصل دین ابراہیم وھو الکلمۃ التی بقاھا اللہ فی عقبہ (قرطبی ج 16 ص 82) ۔ ” ولما جاءھم الحق الخ “ اور جب قرآن آگیا جو انہیں خواب غفلت سے بیدار کرنے والا اور دعوت توحید کا حامل ہے، تو تحقیر وعناد کے لہجے میں کہنے لگے تو یہ جادو ہے، اور ہم اسے نہیں مانتے۔
Ayahs 43:31–32ف 21:۔ ” وقالوا لولا نزل “ یہ شکوی ہے۔ یہ مشرکین کی جہالت اور ان کے عناد و انکار کی ایک اور طرح ہے۔ وہ اپنی جہالت و نادانی سے یہ سمجھتے تھے کہ اول تو کوئی بشر پیغمبر ہو ہی نہیں سکتا اور اگر اللہ کو یہی منظور تھا کہ وہ کسی انسان و بشر ہی کو یہ رتبہ عطاء فرمائے تو اس کے لیے کوئی ایسا آدمی منتخب ہونا چاہئے جو دنیاوی اعتبار سے بہت بڑا آدمی ہو یعنی اس کے پاس دولت زیادہ ہو اور وہ دنیوی شان و شوکت اور وجاہت میں سب پر فرائق ہو۔ اس لیے یہ قرآن محمد ﷺ پر کیوں نازل ہوا جس کے پاس دولت ہے نہ جائیداد اور مکہ و طائف دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ ہوا ؟ ” اھم یقسمون “۔ یہ جواب شکوی ہے ” لیتخذ “ میں لام برائے عاقبت ہے۔ یعنی دنیا میں ان کی روزی تو ہمارے ہاتھ میں ہے اور روزی کی یہ تقسیم ہم ہی نے کی کسی کو زیادہ اور کسی کو کم تاکہ ہم امتحان لیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکثر مالدار اس امتحان میں ناکام رہے اور بجائے اللہ کا شکر کرنے کے غریبوں اور مسکینوں کا مذاق اڑانے لگے۔ ان کی روزی تو میرے قبضے میں ہے، تو کیا میری رحمت جس کا فرد اعلی نبوت ہے ان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے تقسیم کریں اور جسے چاہیں دیدیں۔ استفہام انکار ہے ان کا یہ خیال باطل ہے جس طرح روزی اور تمام خزائن رحمت اس کے اپنے ہی قبضے میں ہیں اسی طرح نبوت بھی اس کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے محض اپنی رحمت سے نبوت کیلئے منتخب فرما لے۔ تائید : ” اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “ (انعام، رکوع 15) ۔ المراد بہا النبوۃ وھو الانسب کما قیل وعلیہ اکثر المفسرین (روح ج 25 ص 78) ۔ ” و رحمۃ ربک خیر مما یجمعون “ اور اللہ کی رحمت و برکت، ایمان اور توفیق ہدایت اور جنت دنیا کے مال و متاع سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔
Ayahs 43:33–3422:۔ ” ولولا ان یکون “ یہ ” قالوا لولا نزل ھذا القران الخ “ (شکوی) سے متعلق ہے۔ ” امۃ واحدۃ “ سے امت کافرہ مراد ہے۔ لولا کراھۃ ان یجتمعوا علی الکفر و یطبقوا علیہ (مدارک ج 4 ص 90) ۔ ” سقفا “ چھتیں، یہ ” سقف “ کی جمع ہے۔ ” معاج “ سیڑھیاں۔ ” سررا “ سریر کی جمع ہے۔ بمعنی چارپائی، پلنگ، زخرف، سونا۔ الزخرف ھنا الذھب عن ابن عباس وغیرہ (قرطبی ج 16 ص 87) اور ” زخرفا “ فعل محذوف کا مفعول ہے۔ ای ولا عطیناھم زخرفا۔ قالہ الشیخ (رح) تالی۔ ان آیتوں میں دولت دنیا کی قلت و حقارت کا بیان ہے جس پر مغرور ہو کر مشرکین کہتے ہیں کہ وحی ان پر کیوں نازل نہ ہوئی، حالانکہ دنیا کی دولت اور زر و جواہر آخرت کے مقابلہ میں بالکل بےقدر اور ہیچ ہیں۔ سونا چاندی اور دنیوی زینت و آرائش ہمارے نزدیک اس قدر حقیر اور بےقدر ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ کافروں کو عیش و تنعم میں دیکھ کر سب کفر ہی پر جمع ہوجائیں گے، تو ہم کافروں پر سونا چاندی بارش کی طرح برسا دیتے، ان کے گھروں کی چھتیں، اور چھتوں پر چرھنے کی سیڑھیاں، ان کے گھروں کے دروازے اور ان کے پلنگ غرضیکہ ہر چیز چاند کی ہوتی اور انہیں ہم سونا بھی اس قدر عطا کردیتے کہ وہ چاہتے تو یہ تمام چیزیں سونے کی بنوا لیتے۔ حاصل یہ ہے کہ اگر سب لوگوں کے کفر پر جمع ہوجانے کا احتمال نہ ہوتا تو یہ حقیر اور ناچیز دولت دنیا بدترین مخلوق (کفار و مشرکین) پر ہر لحاظ سے مکمل طور پر وسیع کردیجاتی، لیکن اسی وجہ سے کفار پر کامل توسیع نہیں کی گئی۔ استیناف مبین لحقارۃ متاع الدنیا ودناءۃ قدرہ عنداللہ عزوجل، والمعنی ان حقارۃ شانہ بحیث لولا کراھۃ ان یجتمع الناس علی الکفر ویطبقوا علیہ لاعطیناہ علی اتم وجہ من ھو شر الخلائق وادناھم منزلۃ فکراھۃ الاجتامع علی الکفرھی المانعۃ من تمتیع کل کافر والبسط علیہ (روح ج 25 ص 79) ۔
Ayah 43:3523:۔ ” وان کل ذلک۔ الایۃ “ یہ ماقبل کا ثمرہ ہے۔ ان نافیہ اور لما بمعنی الا ہے۔ (بحر ج 8 ص 15) یہ سب کچھ چند روزہ دنیوی زنگی کی فانی متاع اور ایک عارضی نفع ہے اور دار آخرت کی دائمی اور لازوال نعمتیں ان لوگوں کے لیے مکصوص ہیں جنہوں نے تقوی کو اپنا شعار بنایا۔ شرک اور تمام معاصی سے اجتناب کیا اور امر الٰہی کی تعمیل میں سرگرم رہے۔
Ayahs 43:36–3824:۔ ” ومن یعش “ یہ زجر مع تخویف اخروی ہے اور مشرکین کے نہ ماننے کی وجہ کا بیان ہے۔ جو شخص جان بوجھ کر اللہ کے قرآن سے اندھا بن جائے گا اور محض ضد وعناد کی وجہ سے اس کا انکار کرے، تو ہم اس سے قبول حق کی صلاحیت سلب کرلیتے ہیں اور شیاطین کو ان پر مسلط کرلیتے ہیں اور شیاطین کو ان پر مسلط کردیتے ہیں جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتے اور انہیں راہ توحید سے گمراہ کرتے ہیں مختلف حیلوں سے اور جھوٹی آزوئیں دلا کر انہیں غیر اللہ کی عبادت اور پکار پر اکساتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت ایفتہ ہیں اور سیدھی راہ پر چل رہے ہیں ہیں۔ ” حتی اذا جاءنا الخ “ یعنی اب تو مشرکین آنکھیں بند کر کے شیاطین کی پیروی کر رہے ہیں اور حق کو نہیں مانتے اور اللہ کی توحید سے اعراض کرتے ہوئے اس کے لیے نائب تجویز کرتے ہیں، لیکن جب قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر ہوں گے اور ان پر حقیقت حال واضح ہوجائے گی، تو ہر کافر اپنے شیطان قرین سے کہے گا اے کاش دنیا میں، میں تیرا منہ بھی نہ دیکھتا، میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصل ہوتا، تو کیسا ہی بد ترین ساتھی تھا۔ تو نے مجھے گمراہ کر کے میری عاقبت برباد کردی۔
Ayah 43:3925:۔ ” ولن ینفکم۔ الایۃ “ اذ ظلمت، مضمون جملہ کی علت ہے اور جملہ کے درمیان واقع ہے۔ اور ” انکم فی العذاب مشترکون “ جملہ بتاویل مفرد، لن ینفع کا فاعل ہے۔ (مدارک) ۔ قیامت کے دن مشرکین کی تمنا کریں گے کہ وہ شیاطین جن و انس جنہوں نے انہیں گمراہ کیا ہے انہیں بھی ان کے ساتھ عذاب میں شریک کیا جائے۔ ان سے کہا جائے گا چونکہ تم خود بھی ظالم اور مشرک ہو، اس لیے اس سے تمہیں کچھ بھی فائدہ نہ ہوگا۔ کہ تمہارے ساتھ تمہارے پیشوایان شرک بھی شریک عذاب ہوں، کیونکہ ان کے شریک ہونے سے تم عذاب سے بچ نہیں جاؤ گے اور نہ تمہارے عذاب میں کوئی تخفیف ہی ہوگی۔ یعنی لاینفعکم الاشتراک فی العذاب ولا یخفف الاشتراک عنکم العذاب لان لکل واحد من الکفار والشیاطین الحظ الاوفر من العذاب۔ (معالم و خازن ج 6 ص 135) ۔
Ayah 43:4026:۔ ” افانت نسمع “ الایۃ۔ یہ زجر ہے حضرت رسول خدا ﷺ مشرکین کو توحید کی کی دعوت دینے میں انتہائی کوشش فرماتے اور افہام و تفہیم کا ہر ممکن طریقہ اختیار کرتے مگر ان کی طرف سے انکار و جحود کے سوا کچھ بھی ظاہر نہ ہوتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ حق سے اعراض کی انتہا کو پہنچ چکے ہوں جن سے مہر جباریت کی وجہ سے حق سمجھنے کی صلاحیتیں ہی سلب کرلی گئی ہوں اور وہ کھلی اور خود اختیار کردہ گمراہی میں مستغرق ہوں، کیا آپ ان کو راہ راست پر لاسکتے ہیں ؟ استفہام انکاری ہے۔ یہ لوگ حق سننے سے بہرے اور دیکھنے سے اندھے ہوچکے ہیں، اس لیے وہ ہدایت کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔