Ayahs 43:41–4227:۔ ” فاما نذھبن بک۔ الایتیں “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہ معاندین اور کفر و شرک کے سرغنے دنیا میں بھی ہماری گرفت سے نہیں بچ سکتے ہم انہیں ان کے عناد و تعنت اور انکار و جحود کی دنیا ہی میں سخت سزا دیں گے اور اگر دنیا میں ہم نے کسی مصلحت سے کسی معاند و سرکش کو نہیں پکڑا تو آخرت کے عذاب سے تو کسی حال میں نہیں بچ سکے گا، اگر ہم آپ کو دنیا سے اٹھا لیں اور آپ کے سامنے ان کو عذاب نہ دیں تو بھی ان سے دنیا یا آخرت میں انتقام لے کر چھوڑیں گے اور اگر ہم چاہیں کہ ان پر آنے والا عذاب آپ کو دکھا دیں اور آپ ان کو بچشم خود عذاب میں مبتلا دیکھ لیں، تو ہم ایسا بھی کرسکتے۔ جیسا کہ جنگ بدر کے موع پر قتل ور قید و بند کا جو عذاب اللہ نے مشرکین پر مسلط فرمایا، اسے آنحضرت ﷺ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھا، بلکہ اپنے ہاتھوں سے اس کی تکمیل فرمائی۔ قال ابن عباس قد اراہ اللہ ذلک یوم بدر (قرطبی ج 16 ص 92) ۔
Ayahs 43:43–44ٖ 28:۔ ” فاستمسک۔ الایتین “ یہ دلیل وحی ہے۔ معاندین اگر نہیں مانتے، تو آپ اس سے غمگین نہ ہوں اور اس سے آپ کو یہ وہم بھی نہ ہو کہ شاید آپ صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ آپ اللہ کی وحی سے تمسک کریں اور دعوت توحید کو نہ چھوڑیں، آپ سیدھی راہ پر ہیں، آپ کا دین سچا اور آپ کی دعت سراپا حق ہے اور معاندین اس لیے نہیں مانتے کہ ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے ” وانہ لذکر لک۔ الایۃ “ ذکر کے معنی شرف کے ہیں یا پندو نصیحت یعنی یہ قرآن آپ کیلئے اور آپ کی قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے کیونکہ یہ قرآن ان کی زبان میں اور انہی میں سے ایک فرد پر نازل ہوا ہے۔ اس لیے انہیں چاہئے کہ وہ اس کو مان لیں تاکہ دنیا و آخرت میں اس کی برکات سے بہرہ یاب ہوسکیں۔ یہ قرآن آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے پند و نصیحت اور صحیفہ موعظت ہے جو تمام بنیادی عقائد اور ضروری شراع و احکام پر مشتمل ہے۔ قیامت کے دن قرآن کے بارے میں تم سب سے سوال ہوگا کہ تم نے اس سے کیا برتاؤ کیا، اس پر عمل کرنے کا حق ادا کیا یا نہیں ؟ یعنی القران شرف لک ولقومک من قریش، اذ نزل بلغتہم وعلی رجل منہم (قرطبی ج 16 ص 93) ۔ قال الحسن القوم ھنا امتہ والمعنی وانہ لتذکرۃ وموعظۃ (بحر ج 8 ص 18) ۔
Ayah 43:4529:۔ ” واسئل من ارسلنا۔ الایۃ “ دلیل نقلی تفصیلی کے دلیل نقلی اجمالی ہے از جملہ انبیاء سابقین علیہم الصلوہ والسلام یعنی اپنے جد اعلی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حال تو تم نے سن لیا کہ وہ توحید کے بہت بڑے داعی تھے۔ اب یہ بتاؤ کیا دیگر انبیاء سابقین (علیہم السلام) میں سے کسی کو ہم نے غیر اللہ کی عبادت اور پکار کا حکم دیا تھ ؟ یعنی ہم نے تو اس کا حکم نہیں دیا تاھ پھر تم نے یہ مسئلہ کہاں سے نکال لیا ؟ انبیاء (علیہم السلام) سے سوال کرنے سے حقیقۃ سوال کرنا مراد نہیں، بلکہ مجازاً ان سے سوال کرنا مراد ہے جس کی دو صورتیں ہیں۔ اول یہ کہ ان کی اصل اور غیر محرف کتابوں اور ان کے صحیفوں کی روشنی میں ان کے ادیان کی تحقیق و جستجو کرو۔ کیا ان میں کہیں غیر اللہ کی عبادت اور پکار کا کوئی حکم یا جواز موجود ہے ؟ لیس المراد بسوؤال الرسل حقیقۃ السؤوال ولکنہ مجاز عن النظر فی ادیانہم والفحص عن مللھم ھل جاءت عبادۃ اولاوثان قط فی ملت من ملل الابیاء (مدارک ج 4 ص 91) ۔ دوم یہ کہ گذشتہ پیغمبروں کی امتوں اور ان کے انصاف پسند علماء (مؤمنین اہل کتاب) سے دریافت کیا کرو ان کے دینوں میں غیر اللہ کی عبادت اور پکار کی اجازت ہے ؟ وقال اکثر المفسرین معناہ واسئل امم من ارسلنا من قبلک وعلماء دینہم یعنی مومنی اھل الکتاب وھذا قول ابن عباس فی سائر الروایات ومجا اھد وقتادۃ والضحاک والسدی والحسن والمقاتلین (مطہری ج 8 ص 353) ۔ اس سے اہل بدعت کا استدلال باطل ہوگیا کہ اس آیت میں تمام انبیاء (علیہم السلام) سے سوال کرنے کا حکم ہے اور سوال اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ وہ سب آپ کے پاس موجود ہوں تو اس سے ثابت ہوا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) سے سوال کرنے حکم ہے اور سوال اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ وہ سب آپ کے پاس موجود ہوں تو اس سے ثابت ہوا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) حاضر و ناظر تھے۔ گذشتہ تفصیل سے اس استدلال کا بطلان ظاہر ہے کیونکہ اس آیت میں انبیاء (علیہم السلام) سے حقیقۃ سوال کرنا مقصود نہیں بلکہ ان کی غیر محرف کتابوں اور ان کی امتوں کے حق پسند علماء سے تحقیق کرنا مقصود ہے۔
Ayahs 43:46–4830:۔ ” ولقد ارسلنا موسیٰ “ یہ دوسری دلیل نقلی تفصیلی ہے۔ از موسیٰ (علیہ السلام) اور ” لولانزل ھذا القران الخ “ سے متعلق ہے۔ جس طرح مشرکین عرب آپ پر ازراہ عناد و مکابرہ اعتراض کرتے ہیں، اسی طرح کے اعتراضات فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کیے تھے۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دلائل و معجزات دے کر فرعون اور اس کے ارکانِ سلطنت کے پاس بھیجا، جب وہ ہماری آیت کے ساتھ ان کے پاس آئے تو وہ ان کو دیکھتے ہی استہزاء و تمسخر کے انداز میں ہنسنے لگے اور معجزات کو جادو کہنے لگے ” وما نریہم من ایۃ الخ “ ہم نے ان کو ایک سے ایک بڑھ کر اپنے نشانات اور معجزات دکھائے اور انہیں مختلف اقسام عذاب میں گرفتار کیا تاکہ وہ انکار وجحود سے باز آجائیں۔ والمراد وصف الکل بالکبر کقولک رایت رجالا بعضہم افضل من بعض (بیضاوی) ۔
Ayahs 43:49–5031:۔ ” وقالوا یا ایہا اساحر۔ الایۃ “۔ ان کے عناد و استکبار کی تنہاء تھی کہ جب وہ کسی عذاب میں مبتلا ہوجاتے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر پکارتے اور کہتے اپنے رب کو پکار کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے کہ اگر یہ ایمان لے آئیں تو ان سے عذاب ہٹا لیا جائیگا۔ اس لیے اللہ سے دعا مانگ کہ اس عذاب کو ہٹا لے تو ہم پختہ عہد کرتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئیں گے اور ہدایت قبول کرلیں گے۔ ای بما اخبرنا عن عہدہ الیک انا ان امنا کشف عنا، فسلہ یشف عنا (اننا لمھتدون) ای فیما یستقبل (قرطبی ج 16 ص 68) فلما کشفنا عنہم۔ الایۃ “ یہ بار بار ان کی عہد شکنی کا بیان ہے۔ ہر عذاب کے بعد وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پختہ عہد کرتے کہ اگر یہ عذاب ہم سے اٹھا لیا جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے، لیکن جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ تعالیٰ عذاب کو اٹھا لیتا تو وہ اپنا عہد پورا نہ کرتے اور ایمان لانے کے بجائے اپنے گذشتہ کفر و طغیان پر قائم رہتے۔ ” ینکثون “ ینقضون العہد بالایمان ولا یفون بہ (مدارک ج 4 ص 92) ۔
Ayahs 43:51–5232:۔ ” ونادی فرعون “ تا ” مقترنین “ فرعون کے غرور و استکبار اور اس کی تعلی کا بیان ہے۔ فرعون نے جب دیکھا کہ بار بار موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے عذاب ہٹ جاتا ہے، تو اسے خطرہ لاحق ہوا کہیں اس کی قوم کے دلوں میں اس کی عظمت نہ بیٹھ جائے اور ان کے دل اس کی طرف مائل نہ ہوجائیں اس لیے اپنی ساری رعیت میں یہ اعلان کرایا تاکہ اس کی حکومت و سلطنت اور شان و شوکت کا رعب قوم کے دلوں پر مضبوط ہوجائے۔ اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اس کو ترجیح دیں۔ میری قوم کے لوگو ! کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں ملک مصر کا مطلق العنان حکمران ہوں اور یہ نہریں میرے حکم سے چل رہی ہیں۔ کیا میں جو اس وسیع سلطنت کا بادشاہ اور اس ملک میں پورے اختیارات کا مالک ہوں، تمہارے لیے بہتر ہوں، یا یہ موسیٰ جو میرے مقابلہ میں نہایت حقیر اور ناچیز ہے اور اپنے مدعا پر واضح اور روشن حجت بھی پیش نہیں کرسکتا۔ یا صاف اور روانی سے بول بھی نہیں سکتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں معمولی سی لکنت باقی تھی لیکن فرعون نے مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے اور اپنی بات میں زور پیدا کرنے کے لیے ” ولا یکاد یبین “ کہہ دیا۔ یا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مدعا پر واضح برہان نہیں لاسکتا اس صورت میں بھی یہ کلام محض عناد و مکابرہ پر مبنی ہے۔ لایبین حجتہ الدالۃ علی صدقہ فیما یدعی۔ (بحر ج 8 ص 23) ۔
Ayah 43:5333:۔ فلولا القی علیہ۔ الایۃ “ اما مجاہد فرماتے ہیں اس زمانے کا دستور تھا کہ جس شخص کو سرداری کیلئے منتخب کرتے اسے سونے کے کنگن اور سونے کا طوق پہناتے یہ چیز سیادت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ فرعون نے کہا اگر واقعی اللہ نے موسیٰ کو رسالت کے لیے چنا ہے جیسا کہ اس کا خیال ہے تو یہ تو بہت بڑی سیادت ہے پھر اس کو اس کے خدا نے سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے ؟ گویا جو پیگمبر ہو اسے دنیوی شان و شوکت بھی حاصل ہونی چاہئے جیسا کہ مشرکین عرب کا خیال تھا کہ رسالت مکہ اور طائف کے کسی بڑے رئیس کو ملنی چاہئے تھی۔ یا اگر وہ واقعی خدا کا رسول ہے تو فرشتوں کی ایک جماعت ہر وقت اس کے ساتھ رہتی۔ وہ اس کی تصدیق کرتے اور اس کے مخالفوں کے مقابلے میں اس کی مدد کرتے۔
Ayahs 43:54–5634:۔ ” فاستخف قومہ “ فرعون نے اپنی قوم کو جاہل اور خفیف العقل پایا اور انہیں گمراہی پر اکسایا، تو ساری قوم اس کے پیچھے چل پڑی وہ سب تھے ہی فاسق اور بدکردار اس لیے فورًا ہی انہوں نے اس کا طاعت قبول کرلی اور اس کے اشاروں پر ناچنے لگے۔ استکف عقولہم فدعا ہم الی الضلالۃ فاستجابوا لہ (ابن کثیر ج 4 ص 130) ۔ ” فلما اسفونا انتقمنا “ جب فرعون اور اس کی قوم نے عناد و مکابرہ اور غرور و استکبار سے دعوت توحید کو ٹھکرا کر، ہمارے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ایمان والوں کو ہولناک اذیتیں پہنچا کر اور حق والوں کا تمسخر اڑا کر ہمارے غیظ و غضب کو دعوت دی تو ہم نے ان سب کو دریا میں غرق کر کے ان سے انتقام لیا۔ ” فجعلنہم سلفا۔ الایۃ “ اور ان کو بعد میں آنیوالے کفار و مشرکین کے لیے قصہ پارینہ اور عبرت و موعظمت کا ایک نمونہ اور ضرب المثل بنا دیا۔ تاکہ بعد میں آنیوالے ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ یعنی جعلنا المتقدمین الماضین عبرۃ وموعظۃ لمن یجئ من بعدہم (خازن ج 6 ص 138) ۔ حدیثا عجیب الشان سائرا مسیر المثل یضرب بہم الامثال ویقال مثلکم مثل قوم فرعون (مدارک ج 4 ص 92) ۔
Ayahs 43:57–6035:۔ ” ولما ضرب ابن مریم مثلا “ تا ” من عذاب یوم الیم “ ” یصدون “ یصیحون و یضحکون (بحر، جلالین) ۔ یعنی شور مچاتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ جب عیسیٰ ابن مریم کی مثال بیان کی جاتی ہے، تو آپ کی قوم یعنی مشرکین قریش مارے خوشی کے آپ سے باہر ہوجاتے ہیں ہنستے اور شور مچاتے ہیں۔ ان آیتوں کا ماقبل سے ربط چار طرح پر ہے۔ سب سے زیادہ مناسب شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) کا قول ہے، کیونکہ اس کے مطابق اس آیت کا ماقبل سے ربط واضح تر ہے۔” واسئل من ارسلنا من قبلک الخ “ سے ثابت ہوگیا کہ کسی پیغمبر کی شریعت میں غیر اللہ کی عبادت کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبود (لائق عبادت) نہیں۔ اس پر مشرکین نے اعتراض کیا کہ نصاری عیسیٰ (علیہ السلام) کی پرستش کرتے ہیں، اگر حقیقت میں وہ بھی عبادت کے لائق نہیں تھے، جیسا کہ ہمارے معبودوں کے بارے میں تم کہتے ہو تو ہم راضی ہیں کہ ہمارے معبود اور عیسیٰ (علیہ السلام) ایک ہی جگہ میں ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے شب ہے کا ازالہ فرمایا (فتح الرحمن) ۔ جواب شبہہ آگے آرہا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی عبادت کا کسی کو حکم نہیں دیا تھا، بعد میں باغیوں نے ان کی عبادت کا کسی کو حکم نہیں دیا تھا، بعد میں باغیوں نے ان کی عبادت شروع کردی۔ دوم یہ ہے کہ جب آیت ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم انتم لھا واردون “ (انبیاء رکوع 7) نازل ہوئی، تو عبداللہ بن الزبعری نے کہا اگر یہ صحیح ہے کہ تمام معبود غیر اللہ بھی جہنم میں جائیں گے، تو نصاری عیسیٰ (علیہ السلام) کی اور یہود عزیر (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں تو کیا وہ بھی دوزخ میں جائیں گے ؟ اس تمثیل پر مشرکین بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے ہیں یا عیسیٰ (علیہ السلام) اور اگر عیسیٰ عمبود ہونے کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے (عیاذا باللہ) تو ہمارے معبود اگر جہنم میں چلے گئے تو کوئی بات نہیں ہمیں منظور ہے ای الھتنا خیر عندک ام عیسیٰ علیہ السلام، فان کان فی النار تلتکن الھتنا معہ (بیضاوی) ۔ اس کا جواب سورة انبیاء کی محولہ بالا آیات کے متصل بعد ہی مذکور ہے کما مر ملاحظہ ہو تفسیر سورة انبیاء کی محولہ بالا آیات کے متصل بعد ہی مذکور ہے کما مر ملاحظہ ہو تفسیر سورة انبیا ص 725 حاشیہ 71 ۔ مشرکین نے یہ تمثیل حق سمجھنے اور حق و باطل میں تمیز کرنے کے لیے نہیں بیان کی، بلکہ محض جدال و مخاصمت کی غرض سے بیان کی ہے اور یہ لوگ ہیں ہی نہایت جھگڑالو۔ ” ان ھو الا عبد الخ “ عیسیٰ (علیہ السلام) ہمارے نہایت ہی عظیم المرتبت رفیع المنزلت بندے ہیں جن پر بڑے بڑے احسانات اور ان کو بغیر باپ پیدا کر کے بنی اسرائیل کے لیے ان کی ذات کو ایک اعجوبہ روزگار اور ضرب المثل بنا دیا مگر اس کے باوجود وہ معبودیت کے مستحق نہیں۔ تھے فھو مرفوع المنزلۃ علی القدر لکن لیس لہ من استحقاق المعبودیۃ من نصیب (روح ج 25 ص 93) ۔ سوم مشرکین کہتے ہیں ہم تو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ہمارے معبود فرشتے ہیں تو کیا ہمارے معبود اچھے ہیں یا عیسیٰ ؟ اتو اگر وہ معبود اور ابن اللہ ہوسکتا ہے تو ہمارے معبود بطریق اولی خدا کی بیٹیاں ہیں۔ اٰلھتنا الملائکۃ خیر ام عیسیٰ (علیہ السلام) فاذا جاز ان یعبدو یکون ابن اللہ کانت الھتنا اولی بذلک (بیضاوی) اس کا جواب دیا گیا کہ ” ول نشاء لجعلنا۔ الایۃ “ یعنی فرشتہ ہونا یا فرشتوں کے بعض آثار کا حامل ہونا تو معبود ہونے کی کوئی دلیل نہیں اگر ہم چاہیں تو تمہیں ہلاک کر کے زمین میں تمہاری جگہ فرشتے پیدا کردیں۔ ” منکم “ بدلکم (مدارک) ۔ اس صورت میں یہ تخویف دنیوی ہے یا اگر چاہیں تو تمہاری نسل سے فرشتے پیدا کردیں۔ موضح قرآن میں ” یعنی عیسیٰ میں آثار فرشتوں کے سے تھے، اس سے معبود نہیں ہوتا، اگر چاہیں تمہاری نسل سے ایسے لوگ پیدا کیریں “ لجعلنا منکم ای لخلقنا منکم ای من الانس (مظیر ج 8 ص 359) ۔ فرشتے بھی چونکہ مخلوق ہی ہیں، اس لیے معبود نہیں ہوسکتے۔ چہارم شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں۔ مشرکین نبی کریم ﷺ سے کہتے کہ تم ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہو، لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آتا ہے تو ان کو خوبی سے یاد کرتے ہو حالانکہ لوگ (انصاری) ان کی بھی پوجا کرتے ہیں۔ اس کا جواب دیا گیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں کو اپنی عبادت کا حکم نہیں دیا وہ تو توحید ہی کی تعلیم دیتے تھے اور قابل مذمت وہ معبود ہے جو اپنی عبادت آپ کرائے۔
Ayahs 43:61–6236:۔ ” وانہ لعلم للساعۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا قیامت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ پیدا کرسکتا ہے وہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا آخری زمانے میں نزول قرب قیامت کی علامت ہے۔ وقال ابن عباس و مجاھد وقتادۃ والحسن والسدی والضحاک وابن زید ای وان خروجہ لعلم للساعۃ یدل علی قرب قیامہا اذ خروجہ شرط من اشراطہا وھو نزولہ من السماء فی اخرا لزمان (بحر ج 8 ص 25) ۔ قیامت میں شک مت کرو وہ ضرور آنے والی ہے اور میری شریعت اور میرے احکام کی پیروی کرو یہی سیدھی راہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا مقولہ ہے یا واتبعون سے پہلے قل مقدر ہے اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اعلان کریں کہ توحید میں اور تمام شرائع میں میرا اتباع کرو یہی صراط مستقیم اور سیدھا راستہ ہے۔ واتبعون واتبعوا ھدای او شرعی (بیضاوی) ۔ وقل لھم اتبعون علی التوحید ھذا الذی امرکم بہ صراط مستقیم (جلالین) واتبعون ای فی التوحید وفیما ابلغکم عن اللہ (قرطبی ج 16 ص 107) اور دیکھنا شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، اس سے خبردار رہنا، کہیں وہ تم کو اس سیدھی راہ سے ہٹا کر شرک و ضلالت کی راہ پر نہ ڈالدے۔
Ayah 43:6337:۔ ” ولما جاء عیسیٰ “ تا ” ھذا صراط مستقیم “ تیسری دلیل نقلی تفصیلی از حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نیز جواب شبہہ مشرکین۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کے پاس دلائل واضحہ اور معجزات قاہرہ لے کر آئے، تو فرمایا میں تمہارے پاس ایک ایسی کتاب (انجیل) لے کر آیا ہوں جو علم و حکمت سے لبریز اور شرائع و احکام الٰہیہ کی ترجمان ہے اور میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تورات کے جن مسائل میں تم باہم مختلف ہوچکے ہو ان کو واضح کروں اور ان میں صحیح فیصلے سے تمہیں آگاہ کروں۔ بالحکمۃ ای الانجیل کما قال القشیری والم اور دی (روح ج 25 ص 96) ۔ ” بالحکمۃ “ ای بالانجیل والشرائع (مدارک ج 4 ص 94) ۔ اس لیے اللہ سے ڈرو، میری مخالفت نہ کرو اور میری اطاعت کرو۔
Ayah 43:6438:۔ ” ان اللہ ربی۔ الایۃ “ یہ مشرکین کے شب ہے کا جواب ہے۔ نیز یہ وہ حکم ہے جس میں انہوں نے بنی اسرائیل کو اپنی اطاعت کا حکم دیا تھا۔ یہ ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم کہ اللہ تعالیٰ میرا اور تم سب کا مالک و کارساز ہے۔ اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو اور حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو، اس کی عبادت اور پکارو میں کسی کو شریک نہ بناؤ۔ یہی صراط مستقم اور سیدھی راہ ہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کسی کو بھی اپنی عبادت کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ بعد میں مفسد اور گمراہ پادریوں نے ان کی عبادت کی اور لوگوں کو اس شرک کی تعلیم بھی دی۔ بیان لما امرھم بالطاعۃ فیہ وھو اعتقاد التوحید والتعبد بالشرائع (ھذا) ای ھذا التوحید والتعبد بالشرائع (صراط مستقیم) لایضل سال کہ (روح ج 25 ص 97) ۔
Ayah 43:6539:۔ ” فاختلف الاحزاب۔ الایۃ “۔ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے خود اپنی عبادت کا حکم نہیں دیا تھا تو پھر انہیں کیوں پکارا گیا، تو جواب دیا گیا کہ ان کے رفع کے بعد ان کے متبعین میں اختلاف پڑگیا اور وہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور ان میں سے بعض فرقوں نے ان کو معبود بنا لیا تو ایسے ظالموں کے لیے دردناک عذاب سے ہلاکت و تباہی ہے۔
Ayahs 43:66–6740:۔ ” ھل ینظرون “ یہ مشرکین قریش کے لیے تخویف اخروی ہے۔ یہ مشرکین ایمان نہیں لاتے۔ وہ قیامت کے انتظار میں ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے۔ تمام مشرکین جو دنیا میں نہایت ہی گہرے دوست ہیں قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے اور ایک دوسرے کو طعن و ملامت کریں گے اور ہر ایک گمراہی کی ذمہ داری دوسرے پر ڈالے گا۔ یعادی بعضہم بعضا ویلعن بعضہم بعضا (قرطبی ج 16 ص 109) ۔ البتہ ایمان والوں کی باہمی دوستی قائم رہے گی اور اس میں کوئی فرق رونما نہیں ہوگا۔ ” الا المتقین “ استثناء منقطع ہے اور الا بمعنی لکن ہے۔
Ayahs 43:68–7041:۔ ” یعباد لا خوف “ تا ” تاکلون “ بشارت اخرویہ ہے۔ قیامت کے دن جب میدان حشر میں سب لوگ جمع ہوں گے تو سب پریشان اور گھبرائے ہوں اس وقت اللہ کی طرف سے منادی کرنے والا اعلان کرے گا کہ اے میرے بندو ! تم پر آج کوئی کونہیں اور نہ تمہیں کوئی غم ہوگا، آج تم ہر قسم کے خوف و ہراس اور غم واندوہ سے آزاد ہو۔ یہ اعلان سن کر کافر بھی اس کے امیدواروں میں شامل ہوجائیں گے اس کا دوسرا اعلان ہوگا۔ ” الذین امنوا بایاتنا وکانوا مسلمین “ یعنی میرے وہ بندے خوف و غم سے آزاد ہیں جو دنیا میں میری وحدانیت اور تمام ایمانیات پر ایمان لائے اور میرے فرمانبردار رہے۔ یہ اعلان سن کر کفار مایوس ہوجائیں گے اور ایمان والے اللہ کی رحمت کے امیدوار ہوں گے۔ اس وقت انہیں حکم ہوگا۔ ” ادخلوا الجنۃ۔ الایۃ “ تم اور تمہاری مومن بیویاں خوش و خرم جنت میں داخل ہوجاؤ (کبیر، خازن، مدارک) ۔
Ayahs 43:71–7342:۔ ” یطاف علیہم “ جنت میں خوبرو غلمان ان کی خدمت میں ہوں گے اور کھانے پینے کی اشیاء سونے کی پلیٹوں اور پیالوں میں انہیں پیش کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ انہیں جنت میں ہر وہ چیز میسر ہوگی جس کی ان کے دلوں میں خواہش پیدا ہوگی اور جس چیز کو دیکھنے کا ان کی آنکھوں کو شوق ہوگا اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ ان پر موت آئیگی اور نہ جنت کی نعمتیں ہی فنا ہوں گی۔ اہل جنت سے کہا جائے گا دنیا میں جو تم نیک عمل کرتے رہے یہ جنت اور تمام نعمتیں اسی وجہ سے تمہیں عطا ہوئیں۔ اس میں تمہارے لیے بیشمار انواع و اصناف کے میوے اور پھل ہیں جو کبھی ختم نہ ہوں گے خواہ کس قدر تم کھاؤ جس قدر تم کھاؤ گے اس سے دگنے اور پیدا ہوجائیں گے۔ فاکہۃ کثیرۃ بحسب الانواع والاصناف۔ ووعن النبی ﷺ لاینزع رجل فی الجنۃ من ثمرھا الانبت مثلاھا مکانہا (ابو السعود ج 7 ص 454) ۔
Ayahs 43:74–7743:۔ ” ان المجرمین “ تا ” انکم ماکثون “ یہ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے، جہنم کا عذاب نہ کبھی ختم ہوگا اور نہ اس میں کوئی تخفیف اور کمی ہی ہوگی اور وہ عذاب میں نجات سے مایوس ہو کر خاموش ہوں گے جس طرح ایک آدمی مایوس اور نامید ہو کر خاموش ہوجاتا ہے۔ والمبلس الیائس الساکت سکوت یائس من فرج (کبیر ج 7 ص 455) ۔ اس دائمی عذاب میں مبتلا کر کے ہم نے ان پر کوئی زیادتی اور ان سے کوئی بےانصافی نہیں، بلکہ دنیا میں ہمارے احکام کی خلاف ورزی کر کے انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور یہ عذاب ان کے اپنے ہی گناہوں کی سزا ہے۔ جب وہ ہر طرف سے ناامید ہوجائیں گے تو خازن جہنم سے التجاء کریں گے کہ اللہ کی بارگاہ میں درخواست کرے کہ وہ موت سے ہمارا خاتمہ کردے تاکہ ہم اس عذاب اور مصیبت سے بچ جائیں، تو وہ جواب دے گا کہ موت تمہیں نہیں آئیگی کیونکہ موت تو عذاب سے نجات کی ایک صورت ہے اور تمہارے لیے نجات نہیں ہے۔ انما لا یفعلہ لانہ نجاۃ ولا نجاۃ لکم (مہائمی ج 2 ص 259) ۔
Ayah 43:7844:۔” لقد جئنا کم “ التفات بسوئے اہل مکہ۔ ہم نے اپنا رسول تمہارے پاس حق و صداقت کا پیغام (توحید و شرائع دین) دے کر بھیجا ہے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق کو پسند نہیں کرتے اور توحید اور خدائے واحد کی عبادت اور پکار کے مقابلے میں غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اما الحق المعہود الذی ھو التوحید او القران فکلہم کارھون لہ مشمئزون منہ (ابو السعود ج 7 ص 454) ۔
Ayahs 43:79–8045:۔ ” ام ابرموا امرا “ یہ زجر ہے۔ یہ مشرکین مکہ ایک کام کا پختہ فیصلہ کرچکے ہیں یعنی وہ رسول ﷺ کو ایذا دینے اور دین اسلام کو مٹانے کا منصوبہ بنا چکے ہیں، لیکن ہم ان کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملانے، پیغمبر (علیہ السلام) کو ان کے ناپاک ہاتھوں سے محفوظ رکھنے اور دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ ” ام یحسبوان الخ “ کیا ان کا خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو نہیں جانتے اور سنتے ؟ کیوں نہیں ؟ ہم سنتے ہیں اور خوب جانتے ہیں اور اس کے علاوہ ہمارے فرشتے (کراما کاتبین) بھی ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور ان کی ہر بات لکھ رہے ہیں۔ اس لیے ان کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا ہم نے پیغمبر (علیہ السلام) کو ان کی نظروں سے بچا کر صحیح سلامت مدینہ پہنچایا اور پھر جنگ بدر میں مسلمانوں اور فرشتوں کے ہاتھوں مشرکین کو ذلت و رسوائی سے قتل کرایا اور بعض کو قیدی بنایا۔ کچھ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اور ان میں اکثر اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے۔